আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬৭৩ টি

হাদীস নং: ৯৬১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تنہائی میں اگر آدمی اکیلا ہو پھر بھی پردہ کرنا افضل ہے
(٩٦٢) امام زہری سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی اس طرح غسل نہ کرے کہ اس کیپ اس انسان ہو جو اسے دیکھ رہا ہو یا اس سے بات کررہا ہو۔
(۹۶۲) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ : ((لاَ یَغْتَسِلَنَّ أَحَدُکُمْ إِلاَّ وَقُرْبُہُ إِنْسَانٌ لاَ یَنْظُرُ وَہُوَ قَرِیبٌ مِنْہُ یُکَلِّمُہُ))۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی غسل کو رات کے آخر تک مؤخر کرسکتا ہے
(٩٦٣) غضیف بن حارث (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ (رض) سے عرض کیا : مجھے بتائیں کہ رسول اللہ غسل جنابت رات کے شروع میں کرتے تھے یا اخیر رات میں ؟ انھوں نے فرمایا : بعض اوقات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کے شروع حصے میں فرماتے تھے بعض اوقات رات کے آخری حصے میں۔ میں نے کہا : اللہ اکبر تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے معاملے میں وسعت رکھی ہے۔
(۹۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ بُرْدٍ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَیٍّ عَنْ غُضَیْفِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَۃَ : أَرَأَیْتِ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -کَانَ یَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ فِی أَوَّلِ اللَّیْلِ أَمْ فِی آخِرَہُ۔ قَالَتْ : رُبَّمَا اغْتَسَلَ فِی أَوَّلِ اللَّیْلِ ، وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فِی آخِرِہِ۔ قُلْتُ : اللَّہُ أَکْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی جَعَلَ فِی الأَمْرِ سَعَۃً۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابو داؤد ۲۲۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی اگر سونا چاہے تو شرم گاہ دھو کر وضو کر کے سو جائے
(٩٦٤) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا کہ رات کو میں جنبی ہو جاؤں تو (کیا کروں) ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وضو کر اور اپنی شرمگاہ کو دھوکر سو جا۔

(ب) عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : اپنے ذکر (شرم گاہ) کو دھو اور وضو کر۔
(۹۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : ذَکَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -أَنَّہُ تُصِیبُہُ جَنَابَۃٌ مِنَ اللَّیْلِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَکَرَکَ ثُمَّ نَمْ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔

وَقَالَ الثَّوْرِیُّ وَشُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ : ((اغْسِلْ ذَکَرَکَ وَتَوَضَّأْ))۔

[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۸۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی اگر سونا چاہے تو شرم گاہ دھو کر وضو کر کے سو جائے
(٩٦٥) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا جنابت کی حالت میں کوئی سو سکتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہاں وضو کر کے۔ “
(۹۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عُثْمَانَ : سَعِیدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنْ عُبَیْدِاللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَجُلاً قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیَرْقُدُ أَحَدُنَا وَہُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ : ((نَعَمْ إِذَا تَوَضَّأَ))۔

مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ مَعَ تَسْمِیَۃِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِی السُّؤَالِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۸۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی اگر سونا چاہے تو شرم گاہ دھو کر وضو کر کے سو جائے
(٩٦٦) (الف) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب حالتِ جنابت میں سونے کا ارادہ کرتے تو نماز جیسا وضو فرماتے۔
(۹۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ وَاللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ -أَنَّہَا قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -إِذَا أَرَادَ أَنْ یَنَامَ وَہُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوئَ ہُ لِلصَّلاَۃِ قَبْلَ أَنْ یَنَامَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۸۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی اگر سونا چاہے تو شرم گاہ دھو کر وضو کر کے سو جائے
(٩٦٧) (الف) لیث بن سعد نے اسی طرح بیان کیا ہے۔

(ب) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب حالتِ جنابت میں سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنی شرم گاہ کو دھوتے اور نماز جیسا وضو کرتے، پھر سو جاتے۔
(۹۶۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ فَذَکَرَہُ … بِمِثْلِہِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ۔

وَفِی رِوَایَۃِ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -إِذَا أَرَادَ أَنْ یَنَامَ وَہُوَ جُنُبٌ غَسَلَ فَرْجَہُ وَتَوَضَّأَ وُضُوئَ ہُ لِلصَّلاَۃِ ثُمَّ نَامَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی اگر سونا چاہے تو شرم گاہ دھو کر وضو کر کے سو جائے
(٩٦٨) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب جنبی ہوتے اور آپ سونے کا ارادہ فرماتے تو آپ وضو کرتے یا تیمم کرتے۔
(۹۶۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ الْکَلْبِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَثَّامٌ یَعْنِی ابْنَ عَلِیٍّ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -إِذَا أَجْنَبَ فَأَرَادَ أَنْ یَنَامَ تَوَضَّأَ أَوْ تَیَمَّمَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی اگر سونا چاہے تو شرم گاہ دھو کر وضو کر کے سو جائے
(٩٦٩) سیدنا عبداللہ بن قیس (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ (رض) سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وتر کے متعلق سوال کیا کہ آپ وتر اول رات میں پڑھتے تھے یا رات کے آخری حصے میں ؟ فرماتی ہیں : آپ دونوں طرح کرتے تھے بعض اوقات وتر رات کے شروع میں پڑھتے اور بعض اوقات رات کے آخری حصے میں۔ میں نے کہا : تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے معاملے میں وسعت رکھی ہے، میں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رات کی قراءت کیسی تھی ؟ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو قراءت اونچی کرتے تھے یا آہستہ ؟ فرماتی ہیں : آپ دونوں طرح کرتے تھے بعض اوقات آپ نے آہستہ کی اور بعض اوقات اونچی آواز سے ۔ میں نے کہا : سب تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے معاملے میں وسعت رکھی ہے۔ پھر میں نے کہا : آپ جنابت میں کس طرح کرتے تھے، کیا آپ سونے سے پہلے غسل کرتے تھے یا غسل کرنے سے پہلے سو جاتے تھے ؟ فرماتی ہیں : آپ دونوں طرح کرتے تھے بعض اوقات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل کیا پھر سو گئے اور بعض اوقات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا پھر سو گئے۔ میں نے کہا : سب تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے معاملے میں وسعت رکھی ہے۔
(۹۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَیْسٍ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -کَیْفَ کَانَ یُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّیْلِ أَوْ آخِرِہِ؟ قَالَتْ : کُلَّ ذَلِکَ کَانَ یَفْعَلُ ، رُبَّمَا أَوْتَرَ وَرُبَّمَا أَخَّرَہُ۔ قُلْتُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی جَعَلَ فِی الأَمْرِ سَعَۃً۔ قُلْتُ : کَیْفَ کَانَتْ قِرَائَ تُہُ مِنَ اللَّیْلِ ، أَکَانَ یُسِرُّ بِالْقِرَائَ ۃِ مِنَ اللَّیْلِ أَمْ یَجْہَرُ؟ قَالَتْ : کُلَّ ذَلِکَ قَدْ کَانَ یَفْعَلُ ، رُبَّمَا أَسَرَّ وَرُبَّمَا جَہَرَ۔ قَالَ قُلْتُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی جَعَلَ فِی الأَمْرِ سَعَۃً۔ قُلْتُ: کَیْفَ کَانَ یَصْنَعُ فِی الْجَنَابَۃِ ، أَکَانَ یَغْتَسِلَ قَبْلَ أَنْ یَنَامَ؟ أَوْ یَنَامَ قَبْلَ أَنْ یَغْتَسِلَ؟ قَالَتْ : کُلَّ ذَلِکَ قَدْ کَانَ یَفْعَلُ ، رُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ ، وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ۔ قَالَ قُلْتُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی جَعَلَ فِی الأَمْرِ سَعَۃً۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنِ اللَّیْثِ إِلاَّ أَنَّہُ اخْتَصَرَ الْحَدِیثَ فَذَکَرَ قِصَّۃَ الْغُسْلِ دُونَ مَا قَبْلَہُ۔

[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی اگر سونا چاہے تو شرم گاہ دھو کر وضو کر کے سو جائے
(٩٧٠) سیدنا عبداللہ بن قیس (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ (رض) سے سوال کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنابت میں کیسے کرتے تھے، کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سونے سے پہلے غسل کرتے تھے یا غسل کرنے سے پہلے سو جاتے تھے ؟ فرماتی ہیں : آپ دونوں طرح کرتے تھے بعض اوقات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل کیا پھر سو گئے اور بعض اوقات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا پھر سو گئے، میں نے کہا : سب تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے معاملے میں وسعت رکھی ہے۔
(۹۷۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْہَیْثَمِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ کَثِیرِ بْنِ عُفَیْرٍ وَیَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُکَیْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَیْسٍ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ کَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -یَصْنَعُ فِی الْجَنَابَۃِ؟ أَکَانَ یَغْتَسِلَ قَبْلَ أَنْ یَنَامَ أَوْ یَنَامَ قَبْلَ أَنْ یَغْتَسِلَ؟ قَالَتْ : کُلَّ ذَلِکَ قَدْ کَانَ یَفْعَلُ ، رُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ ، وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ۔ قُلْتُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی جَعَلَ فِی الأَمْرِ سَعَۃً۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنِ اللَّیْثِ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۰۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی سوناچا ہے تو آدھا وضو کر کے سو جائے
(٩٧١) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) اگر حالت جنابت میں کھانے یا سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا چہرہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھو لیتے اور اپنے سر کا مسح کرلیتے پھر کھاتے یا سو جاتے۔
(۹۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ عَبْدَاللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ یَطْعَمَ أَوْ یَنَامَ وَہُوَ جُنُبٌ غَسَلَ وَجْہَہُ وَیَدَیْہِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ ، وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ ثُمَّ طَعِمَ أَوْ نَامَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مالک ۱۰۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی سوناچا ہے تو آدھا وضو کر کے سو جائے
(٩٧٢) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ سیدنا عمر (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : کیا حالتِ جنابت میں ہم میں سے کوئی سو سکتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” ہاں وضو کرے پھر سو جائے جب چاہے ۔ “ جب عبداللہ بن عمر (رض) حالتِ جنابت میں سونے کا ارادہ کرتے تو اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالتے، پھر اپنی شرمگاہ کو بائیں ہاتھ سے دھوتے، پھر اس ہاتھ کو دھوتے جس سے شرمگاہ دھوئی تھی، پھر کلی کرتے اور ناک میں پانی چڑھاتے اور اپنی آنکھوں میں چھینٹے مارتے اور اپنا چہرہ اور ہاتھ کہنیوں سمیت دھوتے اور اپنے سر کا مسح کرتے، پھر سو جاتے۔ اگر حالت جنابت میں کوئی چیز کھانے کا ارادہ کرتے تو اسی طرح کرتے۔
(۹۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُمَرَ اسْتَفْتَی النَّبِیَّ -ﷺ -فَقَالَ : ہَلْ یَنَامُ أَحَدُنَا وَہُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ : ((نَعَمْ لِیَتَوَضَّأْ ثُمَّ لِیَنَمْ حَتَّی یَغْتَسِلَ إِذَا شَائَ))۔ قَالَ : وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ إِذَا أَرَادَ أَنْ یَنَامَ وَہُوَ جُنُبٌ صَبَّ عَلَی یَدَیْہِ مَائً ثُمَّ غَسَلَ فَرْجَہُ بِیَدِہِ الشِّمَالِ ، ثُمَّ غَسَلَ یَدَہُ الَّتِی غَسَلَ بِہَا فَرْجَہُ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَنَضَحَ فِی عَیْنَیْہِ وَغَسَلَ وَجْہَہُ وَیَدَیْہِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ ثُمَّ نَامَ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَطْعَمَ شَیْئًا وَہُوَ جُنُبٌ فَعَلَ ذَلِکَ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ دُونَ فِعْلِ ابْنِ عُمَرَ۔

وَفِعْلُ ابْنِ عُمَرَ وَہُوَ الرَّاوِی لِلْخَبَرِ قَدْ یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ تَفْسِیرًا لِلْوُضُوئِ الْمَذْکُورِ فِی الْخَبَرِ إِلاَّ أَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَدْ رَوَتْ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -أَنَّہُ تَوَضَّأَ وُضُوئَ ہُ لِلصَّلاَۃِ ، وَوُضُوئُ الصَّلاَۃِ یَشْتَمِلُ عَلَی غَسْلِ الرِّجْلَیْنِ مَعَ سَائِرِ الأَعْضَائِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ وَالَّذِی رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -قَامَ مِنَ اللَّیْلِ فَقَضَی حَاجَتَہُ ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ وَیَدَیْہِ، ثُمَّ نَامَ لَیْسَ یُرِیدُ بِہِ الْوَطْئَ، وَإِنَّمَا أَرَادَ بِہِ الْحَدَثَ، وَسِیَاقُ الْحَدِیثِ یَدُلُّ عَلَی ذَلِکَ وَقَدْ مَضَی ذِکْرُہُ ، وَسَیَأْتِی تَمَامُہُ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔ [صحیح۔ أخرجہ عبد الرزاق ۱۰۷۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی آدمی کا بغیر وضو سونا مکروہ ہے
(٩٧٣) سیدنا علی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر، جنبی یا کتا ہو۔ “
(۹۷۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ إِمْلاَئً وَقِرَائَ ۃً أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِیُّ حَدَّثَنَا شُّعْبَۃُ عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُدْرِکٍ عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُجَیٍّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ عَلِیًّا یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَئِکَۃُ بَیْتًا فِیہِ صُورَۃٌ وَلاَ جُنُبٌ وَلاَ کَلْبٌ))۔

[ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۲۲۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی کے بغیر وضو و غسل کے سوجانے کا بیان
(٩٧٤) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ (بعض اوقات) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حالت جنابت میں سو جاتے تھے اور پانی نہیں چھوتے تھے۔
(۹۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنُ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -کَانَ یَنَامُ وَہُوَ جُنُبٌ وَلاَ یَمَسُّ مَائً۔ [صحیح۔ دون قولہ ’’ولا یمس مائ‘‘]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی کے بغیر وضو و غسل کے سوجانے کا بیان
(٩٧٥) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کے اول حصے میں سو جاتے اور رات کے آخری حصے میں بیدار ہوجاتے، پھر اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی بیوی کے ساتھ کوئی حاجت ہوتی تو اس کو پورا کرتے، پھر پانی چھونے سے پہلے سو جاتے، جب پہلی اذان ہوتیتو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوراًکھڑے ہوتے۔ اللہ کی قسم ! عائشہ (رض) نے نہیں کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور پانی لیا اور اللہ کی قسم ! عائشہ (رض) نے نہیں کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل کیا اور میں جانتا ہوں کہ عائشہ (رض) کی کیا مراد تھی، اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی حاجت نہ ہوتی تو نماز کی طرح وضو کرتے، پھر دو رکعتیں ادا کرتے۔
(۹۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُوخَیْثَمَۃَ۔قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ : سَأَلْتُ الأَسْوَدَ بْنَ یَزِیدَ وَکَانَ لِی جَارًا وَصَدِیقًا عَمَّا حَدَّثَتْہُ عَائِشَۃُ عَنْ صَلاَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -قَالَتْ: کَانَ یَنَامُ أَوَّلَ اللَّیْلِ وَیُحْیِی آخِرَہُ، ثُمَّ إِنْ کَانَتْ لَہُ إِلَی أَہْلِہِ حَاجَۃٌ قَضَی حَاجَتَہُ، ثُمَّ یَنَامُ قَبْلَ أَنْ یَمَسَّ مَائً، فَإِذَا کَانَ عِنْدَ النِّدَائِ الأَوَّلِ قَالَتْ وَثَبَ ، فَلاَ وَاللَّہِ مَا قَالَتْ قَامَ وَأَخَذَ الْمَائَ، وَلاَ وَاللَّہِ ما قَالَتِ اغْتَسَلَ وَأَنَا أَعْلَمُ مَا تُرِیدُ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ حَاجَۃٌ تَوَضَّأَ وُضُوئَ الرَّجُلِ لِلصَّلاَۃِ ثُمَّ صَلَّی الرَّکْعَتَیْنِ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ دُونَ قَوْلِہِ : قَبْلَ أَنْ یَمَسَّ مَائً۔ وَذَاکَ لأَنَّ الْحُفَّاظَ طَعَنُوا فِی ہَذِہِ اللَّفْظَۃِ وَتَوَہَّمُوہَا مَأْخُوذَۃٌ عَنْ غَیْرِ الأَسْوَدِ وَأَنَّ أَبَا إِسْحَاقَ رُبَّمَا دَلَّسَ فَرَأَوْہَا مِنْ تَدْلِیسَاتِہِ وَاحْتَجُّوا عَلَی ذَلِکَ بِرِوَایَۃِ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنِ الأَسْوَدِ بِخِلاَفِ رِوَایَۃِ أَبِی إِسْحَاقَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی کے بغیر وضو و غسل کے سوجانے کا بیان
(٩٧٦) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب حالت جنابت میں ہوتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سونے یا کھانے کا ارادہ رکھتے تو وضو کرتے۔
(۹۷۶) أَمَّا حَدِیثُ إِبْرَاہِیمَ فَأَخْبَرْنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا کَانَ جُنُبًا فَأَرَادَ أَنْ یَنَامَ أَوْ یَأْکُلَ تَوَضَّأَ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۵/۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی کے بغیر وضو و غسل کے سوجانے کا بیان
(٩٧٧) (الف) عبد الرحمن بن اسود کے باپ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ (رض) سے پوچھا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وضو کیسے تھا جب آپ حالت جنابت میں سونے کا ارادہ کرتے ؟ فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز جیسا وضو کرتے تھے، پھر سو جاتے تھے۔

(ج) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حالتِ جنابت میں سو جاتے تھے اور پانی کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔

(د) ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ سیدنا عمر (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا ہم میں سے کوئی حالت جنابت میں سو سکتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہاں وضو کرکے سو سکتا ہے۔ “

(ر) شیخ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابو ولید نے بیان کیا۔ میں نے ابوالعباس بن سریج سے ان دونوں حدیثوں کے متعلق پوچھا تو انھوں نے فرمایا : دونوں روایات کا ایک ہی حکم ہے۔ حدیث عائشہ (رض) میں ان کی مراد یہ تھی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غسل کے لیے پانی کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔ حدیث عمر مفسر ہے جس میں وضو کا ذکر ہے ہم اس پر عمل کرتے ہیں۔
(۹۷۷) وَأَمَّا حَدِیثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ فَأَخْبَرْنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ کَیْفَ کَانَ وُضُوئُ النَّبِیِّ -ﷺ -إِذَا أَرَادَ أَنْ یَنَامَ وَہُوَ جُنُبٌ؟ فَقَالَتْ : کَانَ یَتَوَضَّأُ وُضُوئَ ہُ لِلصَّلاَۃِ ثُمَّ یَنَامُ۔

قَالَ الشَّیْخُ : وَحَدِیثُ أَبِی إِسْحَاقَ السَّبِیعِیِّ صَحِیحٌ مِنْ جِہَۃِ الرِّوَایَۃِ وَذَلِکَ أَنَّ أَبَا إِسْحَاقَ بَیَّنَ فِیہِ سَمَاعَہُ مِنَ الأَسْوَدِ فِی رِوَایَۃِ زُہَیْرِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ عَنْہُ وَالْمُدَلِّسُ إِذَا بَیَّنَ سَمَاعَہُ مِمَّنْ رَوَی عَنْہُ وَکَانَ ثِقَۃً فَلاَ وَجْہَ لِرَدِّہِ۔ وَوَجْہُ الْجَمْعِ بَیْنَ الرِّوَایَتَیْنِ عَلَی وَجْہٍ یُحْتَمَلُ ، وَقَدْ جَمَعَ بَیْنَہُمَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ سُرَیْجٍ فَأَحْسَنَ الْجَمْعَ وَذَلِکَ فِیمَا۔

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا الْوَلِیدِ الْفَقِیہَ فَقُلْتُ : أَیُّہَا الأُسْتَاذُ قَدْ صَحَّ عِنْدَنَا حَدِیثُ الثَّوْرِیِّ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -کَانَ یَنَامُ وَہُوَ جُنُبٌ وَلاَ یَمَسُّ مَائً۔

وَکَذَلِکَ صَحَّ حَدِیثُ نَافِعٍ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُمَرَ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیَنَامُ أَحَدُنَا وَہُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ : ((نَعَمْ إِذَا تَوَضَّأَ))۔

فَقَالَ لِی أَبُو الْوَلِیدِ : سَأَلْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ بْنَ سُرَیْجٍ عَنِ الْحَدِیثَیْنِ فَقَالَ : الْحُکْمُ لَہُمَا جَمِیعًا ، أَمَّا حَدِیثُ عَائِشَۃَ فَإِنَّمَا أَرَادَتْ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -کَانَ لاَ یَمَسُّ مَائً لِلْغُسْلِ ، وَأَمَّا حَدِیثُ عُمَرَ فَمُفَسَّرٌ ذَکَرَ فِیہِ الْوُضُوئَ وَبِہِ نَأْخُذُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی جب کھانے کا ارادہ کرے
(٩٧٨) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب حالت جنابت میں ہوتے اور آپ کھانے یا سونے کا ارادہ کرتے تو وضو کرلیتے۔
(۹۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ۔ قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ وَوَکِیعٌ وَغُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَۃَ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -إِذَا کَانَ جُنُبًا فَأَرَادَ أَنْ یَأْکُلَ أَوْ یَنَامَ تَوَضَّأَ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی جب کھانے کا ارادہ کرے
(٩٧٩) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب حالت جنابت میں کھانے کا ارادہ کرتے تو اپنے ہاتھ دھوتے۔
(۹۷۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ الأَہْوَازِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ یُونُسَ عَنِ الزُّہْرِیَّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -کَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ یَأْکُلَ وَہُوَ جُنُبٌ غَسَلَ یَدَہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۲۲۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی جب کھانے کا ارادہ کرے
(٩٨٠) (الف) محمد بن صباح بزاز اسی سند سے بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ اپنے ہاتھوں کو دھوتے۔

(ب) امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ ابن وہب نے یہ روایت یونس سے نقل کی ہے جس میں ہے کہ کھانے کا ذکر سیدہ عائشہ (رض) کا فرمان ہے۔

(ج) شیخ کہتے ہیں کہ یہ روایت لیث بن سعد نے زہری سے بیان کی ہے۔
(۹۸۰) وَأَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ… فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ وَقَالَ : غَسَلَ یَدَیْہِ۔

قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَاہُ ابْنُ وَہْبٍ عَنْ یُونُسَ فَجَعَلَ قِصَّۃَ الأَکْلِ قَوْلَ عَائِشَۃَ مَقْصُورًا۔

قَالَ الشَّیْخُ : وَکَذَلِکَ رَوَاہُ اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی جب کھانے کا ارادہ کرے
(٩٨١) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب حالت جنابت میں سونے کا ارادہ فرماتے تو سونے سے پہلے نماز جیسا وضو کرتے اور جب آپ کھانے یا پینے کا ارادہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کو دھوتے، پھر کھاتے اور اگر چاہتے تو پیتے تھے۔
(۹۸۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ مَوْہِبٍ الرَّمْلِیُّ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -کَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ یَنَامَ وَہُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوئَ ہُ لِلصَّلاَۃِ قَبْلَ أَنْ یَنَامَ۔

قَالَتْ عَائِشَۃُ : وَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَأْکُلَ أَوْ یَشْرَبَ یَغْسِلُ یَدَیْہِ ثُمَّ یَأْکُلُ وَیَشْرَبُ إِنْ شَائَ ۔

وَقَدْ قِیلَ فِی ہَذَا الإِسْنَادِ غَیْرُ ہَذَا وَحَدِیثُ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ أَصَحُّ۔ [صحیح۔ أخرجہ احمد ۶/۱۱۸]
tahqiq

তাহকীক: