আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৭৩ টি
হাদীস নং: ৯৮১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی جب کھانے کا ارادہ کرے
(٩٨٢) سیدنا عمار بن یاسر (رض) فرماتے ہیں کہ میں سفر سے اپنے گھر والوں کے پاس آیا تو انھوں نے مجھے زعفران لگا دی، جب میں نے صبح کی تو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، میں آپ کو سلام کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے مرحبا نہیں کہا اور نہ آپ میرے ساتھ خوش ہوئے اور فرمایا : جا اس کو اپنے آپ سے دھو دے، میں نے اپنے سے اس کو دھویا اور اس کا کچھ نشان باقی تھا۔ میں نے آپ کو سلام کیا، لیکن آپ نے مجھے مرحبا نہیں کہا اور نہ آپ میرے ساتھ خوش ہوئے اور فرمایا : جا اس کو اپنے سے دھو دے۔ میں نے پھر اپنے سے اس کو دھویا، پھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، میں آپ کو سلام کیا آپ نے میرے سلام کا جواب دیا اور مجھے مرحبا کہا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” فرشتے بھلائی کے ساتھ کافر کے جنازے میں حاضر نہیں ہوتے اور نہ ہی اس کے پاس جس کو زعفران لگی ہو اور نہ جنبی کے پاس اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنبی کو یہ رخصت دی ہے کہ جب کھانے یا سونے کا ارادہ کرے تو وضو کرلے۔
(۹۸۲) أَخْبَرَنَا الأُسْتَاذُ أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِیِّ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْمَرَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ قَالَ : قَدِمْتُ عَلَی أَہْلِی مِنْ سَفَرٍ فَضَمَّخُونِی بِالزَّعْفَرَانِ ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَلَمْ یُرَحِّبْ بِی ، وَلَمْ یَبَشَّ بِی وَقَالَ : اذْہَبْ فَاغْسِلْ ہَذَا عَنْکَ ۔ فَغَسَلْتُہُ عَنِّی فَجِئْتُہُ وَقَدْ بَقِیَ عَلَیَّ مِنْہُ شَیْئٌ ، فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَلَمْ یُرَحِّبْ بِی وَلَمْ یَبَشَّ بِی وَقَالَ : ((اذْہَبْ فَاغْسِلْ ہَذَا عَنْکَ))۔ فَغَسَلْتُہُ ثُمَّ أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَرَدَّ عَلَیَّ السَّلاَمَ وَرَحَّبَ بِی فَقَالَ : ((إِنَّ الْمَلاَئِکَۃَ لاَ تَحْضُرُ جَنَازَۃَ کَافِرٍ بِخَیْرٍ وَلاَ الْمُتَضَمِّخَ بِالزَّعْفَرَانِ وَلاَ الْجُنُبَ))۔ وَرَخَّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا أَرَادَ أَنْ یَأْکُلَ أَوْ یَنَامَ أَنْ یَتَوَضَّأَ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۴۱۷۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی جب کھانے کا ارادہ کرے
(٩٨٣) حماد نے اسی سند سے بیان کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنبی کو رخصت دی ہے کہ جب وہ کھائے یا پیے یا سوئے تو وضو کرے اور قصہ ذکر نہیں کیا۔ (ب) امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ یحییٰ بن یعمر اور عمار بن یاسر کے درمیان ایک اور شخص ہے۔
(ج) علی، ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ جنبی جب کھانے کا ارادہ کرے تو وضو کرلے۔
(ج) علی، ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ جنبی جب کھانے کا ارادہ کرے تو وضو کرلے۔
(۹۸۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیُّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -رَخَّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا أَکَلَ أَوْ شَرِبَ أَوْ نَامَ أَنْ یَتَوَضَّأَ۔ وَلَمْ یَذْکُرِ الْقَصَّۃَ۔
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : بَیْنَ یَحْیَی بْنِ یَعْمَرَ وَعَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ رَجُلٌ۔
قَالَ وَقَالَ عَلِیُّ وَابْنُ عُمَرَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو : الْجُنُبُ إِذَا أَرَادَ أَنْ یَأْکُلَ تَوَضَّأَ۔
[ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۴۶۰۱]
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : بَیْنَ یَحْیَی بْنِ یَعْمَرَ وَعَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ رَجُلٌ۔
قَالَ وَقَالَ عَلِیُّ وَابْنُ عُمَرَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو : الْجُنُبُ إِذَا أَرَادَ أَنْ یَأْکُلَ تَوَضَّأَ۔
[ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۴۶۰۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی دوبارہ (بیوی کے پاس) جانے کا ارادہ کرے
(٩٨٤) سیدنا ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب کوئی شخصرات کو اپنی بیوی کے پاس آئے پھر دوبارہ آنے کا ارادہ کرے تو وہ وضو کرلے۔ “
(۹۸۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْفَرَّائُ أَخْبَرَنَا مُحَاضِرٌ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((إِذَا أَتَی أَحَدُکُمْ أَہْلَہُ مِنَ اللَّیْلِ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ یَعُودَ فَلْیَتَوَضَّأْ بَیْنَہُمَا وُضُوئً ا))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۸/۳]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((إِذَا أَتَی أَحَدُکُمْ أَہْلَہُ مِنَ اللَّیْلِ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ یَعُودَ فَلْیَتَوَضَّأْ بَیْنَہُمَا وُضُوئً ا))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۸/۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی دوبارہ (بیوی کے پاس) جانے کا ارادہ کرے
(٩٨٥) (الف) سیدنا ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم سے کوئی دوبارہ (اپنی بیوی کے پاس) آنے کا ارادہ کرے تو وہ وضو کرلے، یہ دوبارہ لوٹنے کے لیے زیادہ چستی کا سبب ہے۔
(ب) عمر بن خطاب (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کا حکم دیا۔
(ب) عمر بن خطاب (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کا حکم دیا۔
(۹۸۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -قَالَ : ((إِذَا أَرَادَ أَحَدُکُمُ الْعَوْدَ فَلْیَتَوَضَّأْ فَإِنَّہُ أَنْشَطُ لِلْعَوْدِ))۔
وَرُوِّینَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَنَّہُ أَمَرَ بِالْوُضُوئِ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن خبان ۱۲۱۱]
وَرُوِّینَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَنَّہُ أَمَرَ بِالْوُضُوئِ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن خبان ۱۲۱۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متعدد بیویوں یا باندیوں سے جماع کے بعد ایک بار غسل کافی ہے
(٩٨٦) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک غسل سے اپنی بیویوں کے پاس جاتے تھے۔
(۹۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی شُعَیْبٍ الْحَرَّانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبِی أَخْبَرَنَا مِسْکِینُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -کَانَ یَطُوفُ عَلَی نِسَائِہِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی شُعَیْبٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ النسائی ۲۶۳]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی شُعَیْبٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ النسائی ۲۶۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متعدد بیویوں یا باندیوں سے جماع کے بعد ایک بار غسل کافی ہے
(٩٨٧) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک رات میں ایک غسل سے کئی بیویوں کے پاس گئے۔
(۹۸۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ بِلاَلٍ سَنَۃَ خَمْسٍ وَعِشْرِینَ وَثَلاَثَمِائَۃٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -طَافَ عَلَی نِسَائِہِ فِی لَیْلَۃٍ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ قَتَادَۃُ عَنْ أَنَسٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ النسائی ۲۶۳]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ قَتَادَۃُ عَنْ أَنَسٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ النسائی ۲۶۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر بیوی کے لیے ایک غسل کرنے کا بیان
(٩٨٨) سیدنا ابو رافع سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن اپنی بیویوں کے پاس گئے، اس کے پاس غسل کیا اور اس کے پاس غسل کیا (یعنی ہر بیوی کے پاس غسل کیا) میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ نے ایک غسل کیوں نہیں کیا ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ زیادہ پاکیزہ اور اچھا اور پاکی کا باعث ہے۔ “
(۹۸۸) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ عَنْ عَمَّتِہِ سَلْمَی عَنْ أَبِی رَافِعٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -طَافَ ذَاتَ یَوْمٍ عَلَی نِسَائِہِ یَغْتَسِلُ عِنْدَ ہَذِہِ وَعِنْدَ ہَذِہِ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَلاَ تَجْعَلُہُ غُسْلاً وَاحِدًا؟ قَالَ: ((ہَذَا أَزْکَی وَأَطْیَبُ وَأَطْہَرُ))۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَحَدِیثُ أَنَسٍ أَصَحُّ مِنْ ہَذَا۔ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی زَکَرِیَّا السَّیْلَحِینِیِّ : طَافَ عَلَی نِسَائِہِ أَجْمَعَ فِی لَیْلَۃٍ وَاحِدَۃٍ یَغْتَسِلُ لِکُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُنَّ غُسْلاً فَقِیلَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَہَلاَّ غُسْلاً وَاحِدًا؟ قَالَ : ہَذَا أَطْیَبُ وَأَزْکَی۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۲۱۹]
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ عَنْ عَمَّتِہِ سَلْمَی عَنْ أَبِی رَافِعٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -طَافَ ذَاتَ یَوْمٍ عَلَی نِسَائِہِ یَغْتَسِلُ عِنْدَ ہَذِہِ وَعِنْدَ ہَذِہِ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَلاَ تَجْعَلُہُ غُسْلاً وَاحِدًا؟ قَالَ: ((ہَذَا أَزْکَی وَأَطْیَبُ وَأَطْہَرُ))۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَحَدِیثُ أَنَسٍ أَصَحُّ مِنْ ہَذَا۔ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی زَکَرِیَّا السَّیْلَحِینِیِّ : طَافَ عَلَی نِسَائِہِ أَجْمَعَ فِی لَیْلَۃٍ وَاحِدَۃٍ یَغْتَسِلُ لِکُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُنَّ غُسْلاً فَقِیلَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَہَلاَّ غُسْلاً وَاحِدًا؟ قَالَ : ہَذَا أَطْیَبُ وَأَزْکَی۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۲۱۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کی رخصت کا سبب نزول
(٩٨٩) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم کسی سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم بیداء یا ذات الجیش جگہ پر پہنچے تو میرا ہار گم ہوگیا، اس کی تلاش میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیام کیا اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ قیام کیا اور وہاں پانی نہیں تھا اور نہ ان کے پاس پانی نہ تھا، لوگ سیدنا ابوبکر (رض) کے پاس آئے اور عرض کیا : آپ نہیں دیکھتے کہ عائشہ (رض) نے کیا کیا ؟ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور لوگوں کے ٹھہرا دیا اور وہ پانی (کے چشمہ وغیرہ) پر نہیں تھے اور ان کے پاس بھی پانی نہیں تھا۔ ابوبکرصدیق (رض) آئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے ران پر اپنا سر رکھے ہوئے تھے، آپ سوئے ہوئے تھے تو انھوں نے کہا : تو نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور لوگوں کو روک دیا ہے اور وہ پانی پر نہیں تھے اور ان کے پاس بھی پانی نہیں تھا، فرماتی ہیں کہ ابوبکر صدیق (رض) نے مجھے ڈانٹا جو اللہ نے چاہا کہا اور وہ میری کھوکھ میں اپنے ہاتھ سے چوکا مارتے تھے اور میں اس وجہ سے حرکت نہیں کرتی تھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا سر میری ران پر رکھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو گئے یہاں تک کہ لوگوں نے بغیر پانی کے صبح کی۔ اللہ نے تیمم کی آیت نازل کردی، انھوں نے تیمم کیا۔ اسیدبن حضیر (رض) جو نقیبوں میں سے تھے فرمانے لگے : اے آل ابوبکر ! یہ تمہاری وجہ سے پہلی برکت نہیں ہے۔ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : ہم نے اونٹ کو اٹھایا جس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے تو ہم نے ہار اس کے نیچے پایا۔
(۹۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فِی بَعْضِ أَسْفَارِہِ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْبَیْدَائِ أَوْ بِذَاتِ الْجَیْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِی ، فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -عَلَی الْتِمَاسِہِ ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَہُ وَلَیْسُوا عَلَی مَائٍ ، وَلَیْسَ مَعَہُمْ مَائٌ ، فَأَتَی النَّاسُ إِلَی أَبِی بَکْرٍ فَقَالُوا أَلاَ تَرَی مَا صَنَعَتْ عَائِشَۃُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -وَبِالنَّاسِ مَعَہُ وَلَیْسُوا عَلَی مَائٍ وَلَیْسَ مَعَہُمْ مَائٌ فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -وَاضِعٌ رَأْسَہُ عَلَی فَخِذِی قَدْ نَامَ فَقَالَ : حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -وَالنَّاسَ وَلَیْسُوا عَلَی مَائٍ ، وَلَیْسَ مَعَہُمْ مَائٌ۔ قَالَتْ : فَعَاتَبَنِی أَبُو بَکْرٍ وَقَالَ مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ یَقُولَ ، وَجَعَلَ یَطْعَنُ بِیَدِہِ عَلَی خَاصِرَتِی ، فَمَا یَمْنَعُنِی مِنَ التَّحَرُّکِ إِلاَّ مَکَانُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -عَلَی فَخِذِی ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -حَتَّی أَصْبَحَ عَلَی غَیْرِ مَائٍ ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ آیَۃَ التَّیَمُّمِ فَتَیَمَّمُوا۔ فَقَالَ أُسَیْدُ بْنُ الْحُضَیْرِ ، وَہُوَ أَحَدُ النُّقَبَائِ : مَا ہِیَ بِأَوَّلِ بَرَکَتِکُمْ یَا آلَ أَبِی بَکْرٍ۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ : فَبَعَثْنَا الْبَعِیرَ الَّذِی کُنْتَ عَلَیْہِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَہُ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الْقَعْنَبِیِّ
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ وَغَیْرِہِ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۲۷]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فِی بَعْضِ أَسْفَارِہِ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْبَیْدَائِ أَوْ بِذَاتِ الْجَیْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِی ، فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -عَلَی الْتِمَاسِہِ ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَہُ وَلَیْسُوا عَلَی مَائٍ ، وَلَیْسَ مَعَہُمْ مَائٌ ، فَأَتَی النَّاسُ إِلَی أَبِی بَکْرٍ فَقَالُوا أَلاَ تَرَی مَا صَنَعَتْ عَائِشَۃُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -وَبِالنَّاسِ مَعَہُ وَلَیْسُوا عَلَی مَائٍ وَلَیْسَ مَعَہُمْ مَائٌ فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -وَاضِعٌ رَأْسَہُ عَلَی فَخِذِی قَدْ نَامَ فَقَالَ : حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -وَالنَّاسَ وَلَیْسُوا عَلَی مَائٍ ، وَلَیْسَ مَعَہُمْ مَائٌ۔ قَالَتْ : فَعَاتَبَنِی أَبُو بَکْرٍ وَقَالَ مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ یَقُولَ ، وَجَعَلَ یَطْعَنُ بِیَدِہِ عَلَی خَاصِرَتِی ، فَمَا یَمْنَعُنِی مِنَ التَّحَرُّکِ إِلاَّ مَکَانُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -عَلَی فَخِذِی ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -حَتَّی أَصْبَحَ عَلَی غَیْرِ مَائٍ ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ آیَۃَ التَّیَمُّمِ فَتَیَمَّمُوا۔ فَقَالَ أُسَیْدُ بْنُ الْحُضَیْرِ ، وَہُوَ أَحَدُ النُّقَبَائِ : مَا ہِیَ بِأَوَّلِ بَرَکَتِکُمْ یَا آلَ أَبِی بَکْرٍ۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ : فَبَعَثْنَا الْبَعِیرَ الَّذِی کُنْتَ عَلَیْہِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَہُ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الْقَعْنَبِیِّ
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ وَغَیْرِہِ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۲۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کا طریقہ
(٩٩٠) ابو جہم کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمل کے کنویں کی طرف آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک شخص ملا، اس نے سلام کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیوار کے پاس آئے ۔ اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا پھر سلام کا جواب دیا۔
(۹۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ وَیَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَخْبَرَنَا وَقَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ حَدَّثَنِی جَعْفَرُ بْنُ رَبِیعَۃَ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ عُمَیْرٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ سَمِعَہُ یَقُولُ : أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَسَارٍ مَوْلَی مَیْمُونَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ -حَتَّی دَخَلْنَا عَلَی أَبِی الْجُہَیْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّۃِ فَقَالَ أَبُو الْجُہَیْمِ : أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -نَحْوَ بِئْرِ جَمَلٍ فَلَقِیَہُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ ، فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ حَتَّی أَقْبَلَ عَلَی الْجِدَارِ فَمَسَحَ بِوَجْہِہِ وَیَدَیْہِ ، ثُمَّ رَدَّ عَلَیْہِ السَّلاَمَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فَقَالَ وَقَالَ اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۳۰]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فَقَالَ وَقَالَ اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۳۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کا طریقہ
(٩٩١) لیث نے اسی سند سے اور اسی معنی میں بیان کیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے چہرے اور بازوؤں کا مسح کیا، پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔
(۹۹۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ : مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ وَمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : فَمَسَحَ بِوَجْہِہِ وَذِرَاعَیْہِ ثُمَّ رَدَّ عَلَیْہِ السَّلاَمَ۔ [منکر۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۷۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کا طریقہ
(٩٩٢) ابن صمہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیشاب کر رہے تھے۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا، آپ نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔ پھر آپ دیوار کی طرف کھڑے ہوئے ، اس کو لکڑی کے ساتھ کریدا جو آپ کے پاس تھی، پھر اپنے ہاتھ دیوار پر رکھے، اپنے چہرے اور بازوؤں کا مسح کیا ، پھر سلام کا جواب دیا۔
(ب) یہ روایت ابو صالح کا تب لیث کی روایت کے لیے شاہد ہے مگر منقطع ہے۔
(ج) عبدالرحمن بن معاویہ اور ابراہیم بن محمد بن ابو یحییٰ اسلمی ابو حویرث دونوں کے عادل ہونے میں محدثین کا اختلاف ہے؛ کیونکہ ان کی روایات میں کہنیوں کا ذکر ہے اور سیدنا ابن عمر (رض) کی حدیث شاہد ہے۔
(ب) یہ روایت ابو صالح کا تب لیث کی روایت کے لیے شاہد ہے مگر منقطع ہے۔
(ج) عبدالرحمن بن معاویہ اور ابراہیم بن محمد بن ابو یحییٰ اسلمی ابو حویرث دونوں کے عادل ہونے میں محدثین کا اختلاف ہے؛ کیونکہ ان کی روایات میں کہنیوں کا ذکر ہے اور سیدنا ابن عمر (رض) کی حدیث شاہد ہے۔
(۹۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِی الْحُوَیْرِثِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنِ ابْنِ الصِّمَّۃَ قَالَ : مَرَرْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -وَہُوَ یَبُولُ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ ، فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ حَتَّی قَامَ إِلَی جِدَارِ فَحَتَّہُ بِعَصًا کَانَتْ مَعَہُ ، ثُمَّ وَضَعَ یَدَیْہِ عَلَی الْجِدَارِ فَمَسَحَ وَجْہَہُ وَذِرَاعَیْہِ ثُمَّ رَدَّ عَلَیَّ۔
وَہَذَا شَاہِدٌ لِرِوَایَۃِ أَبِی صَالِحٍ کَاتِبِ اللَّیْثِ إِلاَّ أَنَّ ہَذَا مُنْقَطِعٌ۔ (ج) عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ہُرْمُزَ الأَعْرَجُ لَمْ یَسْمَعْہُ مِنِ ابْنِ الصِّمَّۃِ إِنَّمَا سَمِعَہُ مِنْ عُمَیْرٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ الصِّمَّۃِ ، وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی یَحْیَی الأَسْلَمِیُّ وَأَبُو الْحُوَیْرِثِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاوِیَۃَ قَدِ اخْتَلَفَ الْحُفَّاظُ فِی عَدَالَتِہِمَا إِلاَّ أَنَّ لِرِوَایَتِہِمَا بِذِکْرِ الذِّرَاعَیْنِ فِیہِ شَاہِدٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُمَرَ۔ [ضعیف۔ جدًا أخرجہ الشافعی ۳۱]
وَہَذَا شَاہِدٌ لِرِوَایَۃِ أَبِی صَالِحٍ کَاتِبِ اللَّیْثِ إِلاَّ أَنَّ ہَذَا مُنْقَطِعٌ۔ (ج) عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ہُرْمُزَ الأَعْرَجُ لَمْ یَسْمَعْہُ مِنِ ابْنِ الصِّمَّۃِ إِنَّمَا سَمِعَہُ مِنْ عُمَیْرٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ الصِّمَّۃِ ، وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی یَحْیَی الأَسْلَمِیُّ وَأَبُو الْحُوَیْرِثِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاوِیَۃَ قَدِ اخْتَلَفَ الْحُفَّاظُ فِی عَدَالَتِہِمَا إِلاَّ أَنَّ لِرِوَایَتِہِمَا بِذِکْرِ الذِّرَاعَیْنِ فِیہِ شَاہِدٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُمَرَ۔ [ضعیف۔ جدًا أخرجہ الشافعی ۳۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کا طریقہ
(٩٩٣) نافع نے بیان کیا کہ میں ابن عمر (رض) کے ساتھ ابن عباس (رض) کی طرف کسی کام کے لیے گیا، جب انھوں نے اپنا کام پورا کر لیاتو یہ حدیث بیان کی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ کی کسی گلی میں تھے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قضائے حاجت یا پیشاب کے لیے نکلے، ایک شخص نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ہتھیلیوں کو (زمین پر) مارا، اپنے چہرے کا ایک مرتبہ مسح کیا، پھر دوسری مرتبہ ہتھیلیوں کو مارا اور اپنے بازوؤں کا کہنیوں تک مسح کیا ، پھر فرمایا : مجھی کسی نے نہیں روکا تھا کہ میں تیرے سلام کا جواب دیتا، مگر میرا وضو نہیں تھا یا فرمایا : میں پاک نہیں تھا۔ (ب) بعض محدثین نے محمد بن ثابت عبدی پر اس کے مرفوع ہونے کا انکار کیا ہے۔ ایک جماعت کہتی ہے کہ یہ ابن عمر (رض) کا فعل ہے اور دوسرے کہتے ہیں کہ ابن عمر کا فعل صرف تیمم ہے۔ یہ واقعہ ابو جہیم بن حارث صمہ وغیرہ بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرفوعاً بیان کرتے ہیں۔
(ج) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرا اور آپ پیشاب کر رہے تھے۔ مگر یہ روایت مختصر ہے۔ یزید بن ہاد کی روایت مکمل ہے۔
(ج) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرا اور آپ پیشاب کر رہے تھے۔ مگر یہ روایت مختصر ہے۔ یزید بن ہاد کی روایت مکمل ہے۔
(۹۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الأَزْدِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِیُّ وَکَانَ صَدُوقًا وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ الأَہْوَازِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الأَزْدِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا نَافِعٌ قَالَ : انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِی حَاجَۃٍ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَلَمَّا أَنْ قَضَی حَاجَتَہُ کَانَ مِنْ حَدِیثِہِ یَوْمَئِذٍ قَالَ : بَیْنَمَا النَّبِیُّ -ﷺ -فِی سِکَّۃٍ مِنْ سِکَکِ الْمَدِینَۃِ وَقَدْ خَرَجَ النَّبِیُّ -ﷺ -مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ ، فَسَلَّمَ عَلَیْہِ رَجُلٌ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -ضَرَبَ بِکَفَّیْہِ فَمَسَحَ بِوَجْہِہِ مَسْحَۃً ، ثُمَّ ضَرَبَ بِکَفَّیْہِ الثَّانِیَۃَ فَمَسَحَ ذِرَاعَیْہِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ وَقَالَ : ((إِنَّہُ لَمْ یَمْنَعْنِی أَنْ أَرُدَّ عَلَیْکَ إِلاَّ أَنِّی لَمْ أَکُنْ عَلَی وُضُوئٍ أَوْ عَلَی طَہَارَۃٍ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ عَبْدَانَ ، وَقَدْ أَنْکَرَ بَعْضُ الْحَفَّاظِ رَفْعَ ہَذَا الْحَدِیثِ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْعَبْدِیِّ ، فَقَدْ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ نَافِعٍ مِنْ فِعْلِ ابْنِ عُمَرَ ، وَالَّذِی رَوَاہُ غَیْرُہُ عَنْ نَافِعٍ مِنْ فِعْلِ ابْنِ عُمَرَ إِنَّمَا ہُوَ التَّیَمُّمُ فَقَطْ ، فَأَمَّا ہَذِہِ الْقَصَّۃُ فَہِیَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -مَشْہُورَۃٌ بِرِوَایَۃِ أَبِی الْجُہَیْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّۃِ وَغَیْرِہِ۔
وَثَابِتٌ عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَجُلاً مَرَّ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -یَبُولُ فَسَلَّمَ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ ، إِلاَّ أَنَّہُ قَصَّرَ بِرِوَایَتِہِ وَرَوَاہُ یَزِیدُ بْنُ الْہَادِ عَنْ نَافِعٍ أَتَمُّ مِنْ ذَلِکَ۔ [منکر۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۳۰]
لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ عَبْدَانَ ، وَقَدْ أَنْکَرَ بَعْضُ الْحَفَّاظِ رَفْعَ ہَذَا الْحَدِیثِ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْعَبْدِیِّ ، فَقَدْ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ نَافِعٍ مِنْ فِعْلِ ابْنِ عُمَرَ ، وَالَّذِی رَوَاہُ غَیْرُہُ عَنْ نَافِعٍ مِنْ فِعْلِ ابْنِ عُمَرَ إِنَّمَا ہُوَ التَّیَمُّمُ فَقَطْ ، فَأَمَّا ہَذِہِ الْقَصَّۃُ فَہِیَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -مَشْہُورَۃٌ بِرِوَایَۃِ أَبِی الْجُہَیْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّۃِ وَغَیْرِہِ۔
وَثَابِتٌ عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَجُلاً مَرَّ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -یَبُولُ فَسَلَّمَ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ ، إِلاَّ أَنَّہُ قَصَّرَ بِرِوَایَتِہِ وَرَوَاہُ یَزِیدُ بْنُ الْہَادِ عَنْ نَافِعٍ أَتَمُّ مِنْ ذَلِکَ۔ [منکر۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۳۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کا طریقہ
(٩٩٤) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قضائے حاجت سے واپس آئے تو جمل کے کنویں کے پاس ایک شخص نے آپ کو سلام کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کا جواب نہیں دیا۔ پھر آپ دیوار کے پاس آئے، آپ نے ہاتھ دیوار پر رکھا، اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا، پھر اس شخص کے سلام کا جواب دیا۔
(۹۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی یَعْنِی الْبُرُلُّسِیَّ أَخْبَرَنَا حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ عَنِ ابْنِ الْہَادِ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَہُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -مِنَ الْغَائِطِ فَلَقِیَہُ رَجُلٌ عِنْدَ بِئْرِ جَمَلٍ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ ، فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -حَتَّی أَقْبَلَ عَلَی الْحَائِطِ ، فَوَضَعَ یَدَہُ عَلَی الْحَائِطِ ثُمَّ مَسَحَ وَجْہَہُ وَیَدَیْہِ ثُمَّ رَدَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -عَلَی الرَّجُلِ السَّلاَمَ۔
فَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ شَاہِدَۃٌ لِرِوَایَۃِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْعَبْدِیِّ إِلاَّ أَنَّہُ حَفِظَ فِیہَا الذِّرَاعَیْنِ وَلَمْ یُثْبِتْہَا غَیْرُہُ کَمَا سَاقَ ہُوَ وَابْنُ الْہَادِ الْحَدِیثَ بِذِکْرِ تَیَمُّمِہِ ثُمَّ رَدِّہِ جَوَابَ السَّلاَمِ، وَإِنْ کَانَ الضَّحَّاکُ بْنُ عُثْمَانَ قَصَّرَ بِہِ، وَفِعْلُ ابْنِ عُمَرَ التَّیَمُّمَ عَلَی الْوَجْہِ وَالذِّرَاعَیْنِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ شَاہِدٌ لِصِحَّۃِ رِوَایَۃِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ غَیْرُ مَنَافٍ لَہَا۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الأُشْنَانِیُّ قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِیدٍ الدَّارِمِیَّ یَقُولُ سَأَلْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ قُلْتُ : مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِیُّ؟ قَالَ : لَیْسَ بِہِ بَأْسٌ۔ کَذَا قَالَ فِی رِوَایَۃِ الدَّارِمِیِّ عَنْہُ ، وَہُوَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ غَیْرُ مُسْتَحِقٍّ لِلنَّکِیرِ بِالدَّلاَئِلِ الَّتِی ذَکَرْتُہَا ، وَقَدْ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ مِنَ الأَئِمَّۃِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ مِثْلُ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَمُعَلَّی بْنِ مَنْصُورٍ وَسَعِیدِ بْنِ مَنْصُورٍ وَغَیْرِہِمْ وَأَثْنَی عَلَیْہِ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَرَوَاہُ عَنْہُ ، وَہُوَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَشْہُورٌ۔ [حسن۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۳۱]
فَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ شَاہِدَۃٌ لِرِوَایَۃِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْعَبْدِیِّ إِلاَّ أَنَّہُ حَفِظَ فِیہَا الذِّرَاعَیْنِ وَلَمْ یُثْبِتْہَا غَیْرُہُ کَمَا سَاقَ ہُوَ وَابْنُ الْہَادِ الْحَدِیثَ بِذِکْرِ تَیَمُّمِہِ ثُمَّ رَدِّہِ جَوَابَ السَّلاَمِ، وَإِنْ کَانَ الضَّحَّاکُ بْنُ عُثْمَانَ قَصَّرَ بِہِ، وَفِعْلُ ابْنِ عُمَرَ التَّیَمُّمَ عَلَی الْوَجْہِ وَالذِّرَاعَیْنِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ شَاہِدٌ لِصِحَّۃِ رِوَایَۃِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ غَیْرُ مَنَافٍ لَہَا۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الأُشْنَانِیُّ قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِیدٍ الدَّارِمِیَّ یَقُولُ سَأَلْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ قُلْتُ : مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِیُّ؟ قَالَ : لَیْسَ بِہِ بَأْسٌ۔ کَذَا قَالَ فِی رِوَایَۃِ الدَّارِمِیِّ عَنْہُ ، وَہُوَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ غَیْرُ مُسْتَحِقٍّ لِلنَّکِیرِ بِالدَّلاَئِلِ الَّتِی ذَکَرْتُہَا ، وَقَدْ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ مِنَ الأَئِمَّۃِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ مِثْلُ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَمُعَلَّی بْنِ مَنْصُورٍ وَسَعِیدِ بْنِ مَنْصُورٍ وَغَیْرِہِمْ وَأَثْنَی عَلَیْہِ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَرَوَاہُ عَنْہُ ، وَہُوَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَشْہُورٌ۔ [حسن۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۳۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کا طریقہ
(٩٩٥) عبداللہ بن عمر (رض) کے غلام نافع فرماتے ہیں کہ میں اور عبداللہ بن عمر (رض) جرف سے آئے ۔ جب ہم مربد جگہ میں تھے تو سیدناعبداللہ بن عمر (رض) اترے، پاک مٹی سے تیمم کیا اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا کہنیوں تک مسح کیا، پھر نماز ادا کی۔
(۹۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ أَقْبَلَ ہُوَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ مِنَ الْجُرْفِ حَتَّی إِذَا کَانُوا بِالْمِرْبَدِ نَزَلَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ فَتَیَمَّمَ صَعِیدًا طَیِّبًا ، فَمَسَحَ بِوَجْہِہِ وَیَدَیْہِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ ، ثُمَّ صَلَّی۔ [صحیح۔ أخرجہ مالک ۱۲۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کا طریقہ
(٩٩٦) نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر (رض) کہنیوں تک مسح کرتے تھے۔
(۹۹۶) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَتَیَمَّمُ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ۔
[صحیح۔ أخرجہ مالک ۱۲۲]
[صحیح۔ أخرجہ مالک ۱۲۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کا طریقہ
(٩٩٧) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ تیمم کے لیے دو ضربیں ہیں : ایک ضرب چہرے کے لیے اور ایک ضرب ہتھیلیوں اور کہنیوں تک کے لیے۔ یہ روایت سیدنا ابن عمر (رض) پر موقوف ہے۔
(۹۹۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنِی نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔
قَالَ وَحَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ حَدَّثَنَا زِیَادُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَیُونُسُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : التَّیَمُّمُ ضَرْبَتَانِ : ضَرْبَۃٌ لِلْوَجْہِ ، وَضَرْبَۃٌ لِلْکَفَّیْنِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ۔
وَرَوَاہُ عَلِیُّ بْنُ ظَبْیَانَ عَنْ عُبَیْدِاللَّہِ بْنِ عُمَرَ فَرَفَعَہُ وَہُوَ خَطَأٌ، وَالصَّوَابُ بِہَذَا اللَّفْظِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفٌ۔
وَرَوَاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ أَبِی دَاوُدَ الْحَرَّانِیُّ عَنْ سَالِمٍ وَنَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔
وَرَوَاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ التَّیْمِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔
وَسُلَیْمَانُ بْنُ أَبِی دَاوُدَ وَسُلَیْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ ضَعِیفَانِ لاَ یُحْتَجُّ بِرِوَایَتِہِمَا ، وَالصَّحِیحُ رِوَایَۃُ مَعْمَرٍ وَغَیْرِہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ فِعْلِہِ۔ [صحیح]
قَالَ وَحَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ حَدَّثَنَا زِیَادُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَیُونُسُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : التَّیَمُّمُ ضَرْبَتَانِ : ضَرْبَۃٌ لِلْوَجْہِ ، وَضَرْبَۃٌ لِلْکَفَّیْنِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ۔
وَرَوَاہُ عَلِیُّ بْنُ ظَبْیَانَ عَنْ عُبَیْدِاللَّہِ بْنِ عُمَرَ فَرَفَعَہُ وَہُوَ خَطَأٌ، وَالصَّوَابُ بِہَذَا اللَّفْظِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفٌ۔
وَرَوَاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ أَبِی دَاوُدَ الْحَرَّانِیُّ عَنْ سَالِمٍ وَنَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔
وَرَوَاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ التَّیْمِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔
وَسُلَیْمَانُ بْنُ أَبِی دَاوُدَ وَسُلَیْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ ضَعِیفَانِ لاَ یُحْتَجُّ بِرِوَایَتِہِمَا ، وَالصَّحِیحُ رِوَایَۃُ مَعْمَرٍ وَغَیْرِہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ فِعْلِہِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کا طریقہ
(٩٩٨) سیدنا جابر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے آکر عرض کیا : میں جنبی ہوگیا تو میں (تمیم کے لیے) مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا، ابن عمر (رض) نے فرمایا : تو اپنے ہاتھ مٹی پر مار، اس نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے اور اپنے چہرے کا مسح کیا، پھر اپنے ہاتھوں کو (زمین پر) مارا، پھر اپنے ہاتھوں کا کہنیوں تک مسح کیا۔
(۹۹۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ بَالَوَیْہِ قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا عَزْرَۃُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ : أَصَابَتْنِی جَنَابَۃٌ وَإِنِّی تَمَعَّکْتُ فِی التُّرَابِ۔ فَقَالَ : اضْرِبْ۔ فَضَرَبَ بِیَدَیْہِ الأَرْضَ فَمَسَحَ وَجْہَہُ ، ثُمَّ ضَرَبَ بِیَدَیْہِ فَمَسَحَ بِہِمَا یَدَیْہِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ۔
کَذَا قَالَ ، وَإِسْنَادُہُ صَحِیحٌ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یُبَیَّنِ الآمِرَ لَہُ بِذَلِکَ۔ [صحیح۔ أخرجہ الدارقطنی ۱/۱۸۲]
کَذَا قَالَ ، وَإِسْنَادُہُ صَحِیحٌ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یُبَیَّنِ الآمِرَ لَہُ بِذَلِکَ۔ [صحیح۔ أخرجہ الدارقطنی ۱/۱۸۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کا طریقہ
(٩٩٩) سیدنا جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تیمم کی ایک ضرب چہرے کے لیے اور ایک ضرب دونوں ہاتھوں کے لیے کہنیوں تک ہے۔ “
(۹۹۹) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ بَالَوَیْہِ قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَنْمَاطِیُّ حَدَّثَنَا حَرَمِیُّ بْنُ عُمَارَۃَ عَنْ عَزْرَۃَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -قَالَ: ((التَّیَمُّمُ ضَرْبَۃٌ لِلْوَجْہِ وَضَرْبَۃٌ لِلْیَدَیْنِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ))۔[شاذ۔ أخرجہ الحاکم ۱/۲۸۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کا طریقہ
(١٠٠٠) ربیع بن بدر کے دادا ایک شخص سے جس کو اسلع کہا جاتا ہے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کرتا تھا، جبرائیل (علیہ السلام) آیت تیمم لے کر آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے دکھایا کہ تیمم کے لیے مسح کیسے جاتا ہے، میں نے ایک مرتبہ ہاتھ زمین پر مارا، اپنے چہرے پر مسح کیا پھر ان کو زمین پر مارا اور اپنے ہاتھوں کا کہنیوں سمیت مسح کیا۔
(ب) ربیع بن بدر ضعیف ہے۔ (ج) ہم نے یہ قول تابعین یعنی سالم بن عبداللہ، حسن بصری، شعبی اور ابراہیم نخعی سے نقل کیا ہے۔
اس روایت میں ربیع بن بدر ضعیف اور منفرد ہے۔
(ب) ربیع بن بدر ضعیف ہے۔ (ج) ہم نے یہ قول تابعین یعنی سالم بن عبداللہ، حسن بصری، شعبی اور ابراہیم نخعی سے نقل کیا ہے۔
اس روایت میں ربیع بن بدر ضعیف اور منفرد ہے۔
(۱۰۰۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ بَدْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنْ رَجُلٍ یُقَالُ لَہُ الأَسْلَعُ قَالَ : کُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِیَّ -ﷺ -فَأَتَاہُ جِبْرِیلُ بِآیَۃِ التَّیَمُّمِ ، فَأَرَانِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -کَیْفَ الْمَسْحُ لِلتَّیَمُّمِ ، فَضَرَبْتُ بِیَدِی الأَرْضَ ضَرْبَۃً وَاحِدَۃً فَمَسَحْتُ بِہِمَا وَجْہِی ، ثُمَّ ضَرَبْتُ بِہِمَا الأَرْضَ فَمَسَحْتُ یَدَی إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ۔
الرَّبِیعُ بْنُ بَدْرٍ ضَعِیفٌ إِلاَّ أَنَّہُ غَیْرُ مُنْفَرِدٍ۔ (ت) وَقَدْ رُوِّینَا ہَذَا الْقَوْلَ مِنَ التَّابِعِینَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَالْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ وَالشَّعْبِیِّ وَإِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ۔ [ضعیف۔ جدًا أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۷۹]
الرَّبِیعُ بْنُ بَدْرٍ ضَعِیفٌ إِلاَّ أَنَّہُ غَیْرُ مُنْفَرِدٍ۔ (ت) وَقَدْ رُوِّینَا ہَذَا الْقَوْلَ مِنَ التَّابِعِینَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَالْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ وَالشَّعْبِیِّ وَإِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ۔ [ضعیف۔ جدًا أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۷۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০০০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیدنا عمار بن یاسر (رض) سے تیمم کا منقول طریقہ
(١٠٠١) سیدنا عمار بن یاسر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کسی سفر میں سیدہ عائشہ (رض) کا ظفار کے گھونگوں کا بنا ہوا ہار گم ہوگیا اور اس سفر میں سیدہ عائشہ (رض) رسول اللہ کے ساتھ تھیں، سیدہ عائشہ (رض) نے اپنا ہار تلاش کیا حتی کہ آدھی رات گزر گئی، سیدنا ابوبکر (رض) آئے اور ان سے ناراض ہوئے اور کہا : تو نے لوگوں کو ایسی جگہ پر روک دیا ہے جہاں پانی بھی نہیں ہے۔ راوی کہتا ہے کہ آیت سعید (تمیم) نازل ہوئی، سیدنا ابوبکر (رض) آئے اور کہا : اللہ کی قسم ! اے بیٹی ! مجھے علم نہیں تھا کہ اس میں خیرو برکت ہے۔ عبید اللہ کہتے ہیں کہ عمار بیان کرتے ہیں : لوگ اس دن اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر مارتے اور اپنے چہروں کا مسح کرتے تھے، پھر دوبارہ مارتے اور اپنے ہاتھوں کا کندھوں اور بغلوں تک مسح کرتے ، پھر نماز پڑھتے تھے۔
(ب) ایک دوسری روایت میں معمر اور یونس بھی دو ضربوں کا ذکر کرتے ہیں کہ ابن ابی ذئب نے دو ضربوں کا ذکر کیا ہے۔
(ب) ایک دوسری روایت میں معمر اور یونس بھی دو ضربوں کا ذکر کرتے ہیں کہ ابن ابی ذئب نے دو ضربوں کا ذکر کیا ہے۔
(۱۰۰۱) أَخْبَرَنَا الأُسْتَاذُ أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ قَالَ : ہَلَکَ عِقْدٌ لِعَائِشَۃَ مِنْ جَزْعِ ظَفَارٍ فِی سَفَرٍ مِنْ أَسْفَارِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -وَعَائِشَۃُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فِی ذَلِکَ السَّفَرِ ، فَالْتَمَسْتْ عَائِشَۃُ عِقْدَہَا حَتَّی ابْتَہَرَ اللَّیْلُ ، فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ فَتَغَیَّظَ عَلَیْہَا وَقَالَ : حَبَسْتِ النَّاسَ بِمَکَانٍ لَیْسَ فِیہِ مَائٌ۔ قَالَ : فَأُنْزِلَتْ آیَۃُ الصَّعِیدِ ، فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ فَقَالَ : أَنْتَ وَاللَّہِ یَا بُنَیَّۃُ مَا عَلِمْتُ مُبَارَکَۃٌ۔ قَالَ عُبَیْدُ اللَّہِ وَکَانَ عَمَّارٌ یُحَدِّثُ : أَنَّ النَّاسَ طَفِقُوا یَوْمَئِذٍ یَمْسَحُونَ بِأَکُفِّہِمُ الأَرْضَ ، فَیَمْسَحُونَ وُجُوہَہُمْ ، ثُمَّ یَعُودُونَ فَیَضْرِبُونَ ضَرْبَۃً أُخْرَی فَیَمْسَحُونَ بِہَا أَیْدِیَہُمْ إِلَی الْمَنَاکِبِ وَالآبَاطِ ثُمَّ یُصَلُّونَ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ الأَیْلِیُّ وَاللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ وَابْنُ أَخِی الزُّہْرِیِّ وَجَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنْ عَمَّارٍ ، وَحَفِظَ فِیہِ مَعْمَرٌ وَیُونُسُ ضَرْبَتَیْنِ کَمَا حَفِظَہُمَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۲۰]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ الأَیْلِیُّ وَاللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ وَابْنُ أَخِی الزُّہْرِیِّ وَجَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنْ عَمَّارٍ ، وَحَفِظَ فِیہِ مَعْمَرٌ وَیُونُسُ ضَرْبَتَیْنِ کَمَا حَفِظَہُمَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۲۰]
তাহকীক: