আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৭৩ টি
হাদীস নং: ১০০১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیدنا عمار بن یاسر (رض) سے تیمم کا منقول طریقہ
(١٠٠٢) سیدنا عمار بن یاسر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں مٹی کے ساتھ مسح (تمیم) کیا، ہم نے اپنے چہروں اور ہاتھوں کا بغلوں تک مسح کیا۔
(ب) سفیان بن عیینہ اپنی سند میں ان کے والد کے ذکر کرنے کے متعلق شک کرتے ہیں۔ کبھی وہ عن ابن دینار عن الزہر بیان کرتے ہیں اور کبھی صرف زہری سے بیان کرتے ہیں۔
(ب) سفیان بن عیینہ اپنی سند میں ان کے والد کے ذکر کرنے کے متعلق شک کرتے ہیں۔ کبھی وہ عن ابن دینار عن الزہر بیان کرتے ہیں اور کبھی صرف زہری سے بیان کرتے ہیں۔
(۱۰۰۲) وَرَوَاہُ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَۃَ الْکَعْبِیُّ بِہَمَذَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بَرْزَۃَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ بْنِ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ حَدَّثَنَا جُوَیْرِیَۃُ عَنْ مَالِکٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ قَالَ : تَمَسَّحْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -بِالتُّرَابِ فَمَسَحْنَا وُجُوہَنَا وَأَیْدِیَنَا إِلَی الْمَنَاکِبِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ عَبْدَانَ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو أُوَیْسٍ الْمَدَنِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَأَمَّا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ فَإِنَّہُ شَکَّ فِی ذِکْرِ أَبِیہِ فِی إِسْنَادِہِ وَرَوَاہُ مَرَّۃً عَنِ ابْنِ دِینَارٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَمَرَّۃً عَنِ الزُّہْرِیِّ نَفْسِہِ۔
وَرَوَاہُ صَالِحُ بْنُ کَیْسَانَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَمَّار۔ [صحیح]
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَۃَ الْکَعْبِیُّ بِہَمَذَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بَرْزَۃَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ بْنِ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ حَدَّثَنَا جُوَیْرِیَۃُ عَنْ مَالِکٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ قَالَ : تَمَسَّحْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -بِالتُّرَابِ فَمَسَحْنَا وُجُوہَنَا وَأَیْدِیَنَا إِلَی الْمَنَاکِبِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ عَبْدَانَ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو أُوَیْسٍ الْمَدَنِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَأَمَّا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ فَإِنَّہُ شَکَّ فِی ذِکْرِ أَبِیہِ فِی إِسْنَادِہِ وَرَوَاہُ مَرَّۃً عَنِ ابْنِ دِینَارٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَمَرَّۃً عَنِ الزُّہْرِیِّ نَفْسِہِ۔
وَرَوَاہُ صَالِحُ بْنُ کَیْسَانَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَمَّار۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০০২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیدنا عمار بن یاسر (رض) سے تیمم کا منقول طریقہ
(١٠٠٣) سیدنا عمار بن یاسر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اولات الجیش جگہ پر پڑاؤ ڈالا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ (رض) بھی تھیں ، ان کا ظفار گھونگوں کا بنا ہوا ہار گم ہوگیا۔
اس کی تلاش کے لیے لوگوں کو روک دیا گیا یہاں تک کہ فجر ہوگئی اور لوگوں کے پاس پانی بھی نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پاک مٹی سے طہارت کی رخصت نازل کردی ۔ صحابہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھڑے ہوئے، انھوں نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا ، پھر اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور مٹی سے کوئی چیز نہیں لی، اپنے چہروں اور ہاتھوں کا کندھوں تک مسح کیا اور ہاتھوں سے اندرونی حصیکا بغلوں تک۔ ابن شھاب کہتے ہیں : لوگوں نے اس کا اعتبار نہیں کیا اور ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا ابوبکر (رض) نے عائشہ (رض) سے کہا : اللہ کی قسم مجھے پتہ نہیں تھا کہ تو برکت (کا باعث) ہے۔
(ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کندھوں تک مسح کا جو حکم دیا تھا وہ منسوخ ہے۔ سیدنا عمار بن یاسر (رض) فرماتے ہیں کہ یہ سب سے پہلا تیمم تھا جب آیت تیمم نازل ہوئی۔ اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمامتیمم اس کے مخالف ہیں اور وہ ناسخ ہیں۔
(ج) امام شافعی (رح) ہی فرماتے ہیں کہ سیدنا عمار سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں چہرے اور ہتھیلیوں پر تیمم کرنے کا حکم دیا۔
اس کی تلاش کے لیے لوگوں کو روک دیا گیا یہاں تک کہ فجر ہوگئی اور لوگوں کے پاس پانی بھی نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پاک مٹی سے طہارت کی رخصت نازل کردی ۔ صحابہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھڑے ہوئے، انھوں نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا ، پھر اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور مٹی سے کوئی چیز نہیں لی، اپنے چہروں اور ہاتھوں کا کندھوں تک مسح کیا اور ہاتھوں سے اندرونی حصیکا بغلوں تک۔ ابن شھاب کہتے ہیں : لوگوں نے اس کا اعتبار نہیں کیا اور ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا ابوبکر (رض) نے عائشہ (رض) سے کہا : اللہ کی قسم مجھے پتہ نہیں تھا کہ تو برکت (کا باعث) ہے۔
(ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کندھوں تک مسح کا جو حکم دیا تھا وہ منسوخ ہے۔ سیدنا عمار بن یاسر (رض) فرماتے ہیں کہ یہ سب سے پہلا تیمم تھا جب آیت تیمم نازل ہوئی۔ اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمامتیمم اس کے مخالف ہیں اور وہ ناسخ ہیں۔
(ج) امام شافعی (رح) ہی فرماتے ہیں کہ سیدنا عمار سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں چہرے اور ہتھیلیوں پر تیمم کرنے کا حکم دیا۔
(۱۰۰۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ حَدَّثَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -عَرَّسَ بِأُولاَتِ الْجَیْشِ وَمَعَہُ عَائِشَۃُ زَوْجَتُہُ ، فَانْقَطَعَ عِقْدٌ لَہَا مِنْ جَزْعِ ظِفَارٍ ، فَحُبِسَ النَّاسُ ابْتِغَائَ عِقْدِہَا ذَلِکَ ، حَتَّی أَضَائَ الْفَجْرُ وَلَیْسَ مَعَ النَّاسِ مَائٌ ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -رُخْصَۃَ التَّطَہُّرِ بِالصَّعِیدِ الطَّیِّبِ ، فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فَضَرَبُوا بِأَیْدِیہِمُ الأَرْضَ ، ثُمَّ رَفَعُوا أَیْدِیَہُمْ وَلَمْ یَقْبِضُوا مِنَ التُّرَابِ شَیْئًا ، فَمَسَحُوا بِہَا وُجُوہَہُمْ وَأَیْدِیَہُمْ إِلَی الْمَنَاکِبِ وَمِنْ بُطُونِ أَیْدِیہِمْ إِلَی الآبَاطِ۔ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ : وَلاَ یَعْتَبِرُ بِہَذَا النَّاسُ وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَکْرٍ قَالَ لِعَائِشَۃَ : وَاللَّہِ مَا عَلِمْتُ أَنَّکِ لَمُبَارَکَۃٌ۔
وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ فِیہِ ابْنُ عَبَّاسٍ وَذَکَرَ ضَرْبَتَیْنِ کَمَا ذَکَرَ ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ وَیُونُسُ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی : فِی حَدِیثِ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ ہَذَا إِنْ کَانَ تَیَمُّمُہُمْ إِلَی الْمَنَاکِبِ بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فَہُوَ مَنْسُوخٌ ، لأَنَّ عَمَّارًا أَخْبَرَ أَنَّ ہَذَا أَوَّلَ تَیَمُّمٍ کَانَ حِینَ نَزَلَتْ آیَۃُ التَّیَمُّمِ ، فَکُلُّ تَیَمُّمٍ کَانَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ -بَعْدَہُ فَخَالَفَہُ فَہُوَ لَہُ نَاسِخٌ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَرُوِیَ عَنْ عَمَّارٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -أَمَرَہُ أَنْ یُیَمِّمَ وَجْہَہُ وَکَفَّیْہِ۔
[صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۲۰]
وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ فِیہِ ابْنُ عَبَّاسٍ وَذَکَرَ ضَرْبَتَیْنِ کَمَا ذَکَرَ ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ وَیُونُسُ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی : فِی حَدِیثِ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ ہَذَا إِنْ کَانَ تَیَمُّمُہُمْ إِلَی الْمَنَاکِبِ بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فَہُوَ مَنْسُوخٌ ، لأَنَّ عَمَّارًا أَخْبَرَ أَنَّ ہَذَا أَوَّلَ تَیَمُّمٍ کَانَ حِینَ نَزَلَتْ آیَۃُ التَّیَمُّمِ ، فَکُلُّ تَیَمُّمٍ کَانَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ -بَعْدَہُ فَخَالَفَہُ فَہُوَ لَہُ نَاسِخٌ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَرُوِیَ عَنْ عَمَّارٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -أَمَرَہُ أَنْ یُیَمِّمَ وَجْہَہُ وَکَفَّیْہِ۔
[صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۲۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০০৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیدنا عمار بن یاسر (رض) سے تیمم کا منقول طریقہ
(١٠٠٤) سعید بن عبد الرحمن بن ابتری اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب (رض) کے پاس آیا اور کہا : میں جنبی ہو جاؤں اور پانی نے ملے تو کیا کروں ؟ سیدنا عمار بن یاسر (رض) نے سیدنا عمر بن خطاب (رض) سے کہا : کیا آپ کو یاد نہیں ہے کہ ہم ایک سفر میں تھے ۔ میں اور آپ جنبی ہوگئے آپ نے نماز ادا نہیں کی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوگیا، پھر میں نے نماز پڑھی۔ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو یہ بات میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتلائی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے اس طرح کرنا کافی تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر مارا، اس میں پھونک ماری پھر اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کا مسح کیا۔
(۱۰۰۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الأَسَدِیُّ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ عُتَیْبَۃَ عَنْ ذَرٍّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی عَنْ أَبِیہِ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ : إِنِّی أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَائَ ۔ فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَمَا تَذْکُرُ إِنَّا کُنَّا فِی سَفَرٍ فَأَجْنَبْتُ أَنَا وَأَنْتَ ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّکْتُ فَصَلَّیْتُ ، فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ -فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ -: ((إِنَّمَا کَانَ یَکْفِیکَ ہَکَذَا))۔ فَضَرَبَ النَّبِیُّ -ﷺ -بِکَفَّیْہِ الأَرْضَ فَنَفَخَ فِیہِمَا ، ثُمَّ مَسَحَ بِہِمَا وَجْہَہُ وَکَفَّیْہِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ یَحْیَی الْقَطَّانِ وَالنَّضْرِ بْنِ شُمَیْلٍ عَنْ شُعْبَۃَ وَذَکَرَ سَمَاعَ الْحَکَمِ لِلْحَدِیثِ مِنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ نَفْسِہِ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۳۱]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ یَحْیَی الْقَطَّانِ وَالنَّضْرِ بْنِ شُمَیْلٍ عَنْ شُعْبَۃَ وَذَکَرَ سَمَاعَ الْحَکَمِ لِلْحَدِیثِ مِنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ نَفْسِہِ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۳۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০০৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیدنا عمار بن یاسر (رض) سے تیمم کا منقول طریقہ
(١٠٠٥) حکم کہتے ہیں : میں نے خراسان میں ابن عبد الرحمن بن ابزیٰ سے سنا کہ ایک شخص سیدنا عمر (رض) کے پاس آیا اور کہا : میں جنبی ہوجاؤں اور پانی نہ ملے تو کیا کروں ؟ ، ان سے سیدنا عمار (رض) نے کہا : کیا آپ کو یاد نہیں ہے کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں ایک سریہ میں تھے۔ میں اور آپ جنبی ہوگئے، آپ نے نماز نہیں پڑھی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا، پھر میں نے نماز پڑھی۔ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو یہ بات میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے اس طرح کافی تھا، پھر اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک ماری اور اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کا مسح کیا لیکن گٹوں سے آگے نہیں گزرے۔
(ب) ذر بن عبداللہ راوی کو اس کے متن میں شک ہے انھوں نے اسے مضطرب قرار دیا ہے۔
(ب) ذر بن عبداللہ راوی کو اس کے متن میں شک ہے انھوں نے اسے مضطرب قرار دیا ہے۔
(۱۰۰۵) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابَقٍ الْخَوْلاَنِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِیَادٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ قَالَ حَدَّثَنِی الْحَکَمُ عَنْ ذَرٍّ عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ الْحَکَمُ ثُمَّ سَمِعْتُہُ مِنَ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی بِخُرَاسَانَ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی عُمَرَ فَقَالَ : إِنَّہُ أَجْنَبَ فَلَمْ یَجِدِ الْمَائَ ۔ فَقَالَ لَہُ عَمَّارٌ : أَمَا تَذْکُرُ إِنَّا کُنَّا فِی سَرِیَّۃٍ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فَأَجْنَبْتُ أَنَا وَأَنْتَ ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّکْتُ فِی التُّرَابِ ثُمَّ صَلَّیْتُ ، فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ -فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : إِنَّمَا کَانَ یَکْفِیکَ ہَکَذَا ۔ ثُمَّ ضَرَبَ بِیَدِہِ إِلَی الأَرْضِ ثُمَّ نَفَخَ فِیہِمَا ، وَمَسَحَ وَجْہَہُ وَکَفَّیْہِ ثُمَّ لَمْ یُجَاوِزِ الْکُوعَ۔
وَرَوَاہُ سَلَمَۃُ بْنُ کُہَیْلٍ عَنْ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُرْہِبِیِّ إِلاَّ أَنَّہُ شَکَّ فِی مَتْنِہِ وَاضْطَرَبَ فِیہِ۔ [صحیح]
وَرَوَاہُ سَلَمَۃُ بْنُ کُہَیْلٍ عَنْ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُرْہِبِیِّ إِلاَّ أَنَّہُ شَکَّ فِی مَتْنِہِ وَاضْطَرَبَ فِیہِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০০৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیدنا عمار بن یاسر (رض) سے تیمم کا منقول طریقہ
(١٠٠٦) ابن عبد الرحمن بن ابزیٰ اپنیوالد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب (رض) کے پاس آیا اور کہا : میں ایک سفر میں جنبی ہوگیا ۔ مجھے پانی نہیں ملا، اس سے سیدنا عمر بن خطاب (رض) نے کہا : تو نماز نہ پڑھ۔ سیدنا عمار بن یاسر (رض) نے کہا : اے امیر المؤمنین ! کیا آپ کو یاد نہیں جب میں اور آپ ایک سر یہ میں تھے، ہم جنبی ہوگئے، ہمیں پانی نہیں ملا ۔ آپ نے نماز نہیں پڑھی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا اور ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، ہم نے یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمار ! تجھے یہی کافی تھا کہ تو اس طرح کرتا اور اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا۔ پھر اس میں پھونک ماری، اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا۔ سلمہ نے کہا : میں نہیں جانتا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکمل بازوؤں تک پہنچے ہیں یا نہیں۔ راوی کہتا ہے : سیدنا عمر (رض) نے کہا : اللہ سے ڈر ! عمار (رض) نے کہا : اے امیر المؤمنین ! اللہ نے آپ کو مجھ پر حق سے مقرر کیا ہے، کیا آپ چاہتے کہ میں اس حدیث کو بیان نہ کروں ؟ سیدنا عمر (رض) نے کہا : نہیں بلکہ ہم تیرے اس معاملے کو تیرے ہی سپرد کرتے ہیں۔
(۱۰۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سَلَمَۃَ عَنْ ذَرٍّ عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ : إِنِّی کُنْتُ فِی سَفَرٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَائَ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لاَ تُصَلِّ فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَمَا تَذْکُرُ إِذْ کُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ فِی سَرِیَّۃٍ فَأَجْنَبْنَا أَنَا وَأَنْتَ فَلَمْ نُصِبِ الْمَائَ ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّکْتُ فِی التُّرَابِ ، وَأَتَیْنَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -فَذَکَرْنَا ذَلِکَ لَہُ ، فَقَالَ : یَا عَمَّارُ إِنَّمَا کَانَ یَکْفِیکَ أَنْ تَقُولَ ہَکَذَا ۔ وَضَرَبَ بِیَدَیْہِ إِلَی الأَرْضِ ثُمَّ نَفَخَ فِیہِمَا ، فَمَسَحَ وَجْہَہُ وَیَدَیْہِ۔ قَالَ سَلَمَۃُ : لاَ أَدْرِی بَلَغَ الذِّرَاعَیْنِ أَمْ لاَ۔ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ : اتَّقِ اللَّہَ۔ فَقَالَ عَمَّارٌ : إِنْ شِئْتَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ لِمَا جَعَلَ اللَّہُ لَکَ عَلَیَّ مِنَ الْحَقِّ أَنْ لاَ أُحَدِّثَ بِہِ۔ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : بَلْ نُوَلِّیکَ مِنْ ذَلِکَ مَا تَوَلَّیْتَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০০৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیدنا عمار بن یاسر (رض) سے تیمم کا منقول طریقہ
(١٠٠٧) ابن عبد الرحمن بن ابتری نے اس کو ذکر کیا ہے۔ (ب) شعبہ کہتے ہیں کہ سلمہ کو یاد نہیں کہ ہتھیلیوں تک کا ذکر کیا یا کہنیوں تک۔ (ج) شعبہ نے سلمہ سے اس روایت کے متعلق نقل فرمایا ہے کہ انھوں نے کہا : مجھے معلوم نہیں اس میں کہنیوں کا ذکر ہے یا ہتھیلیوں کا۔
(۱۰۰۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ قَالَ سَمِعْتُ ذَرًّا یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی فَذَکَرَہُ
قَالَ شُعْبَۃُ : ثُمَّ شَکَّ سَلَمَۃُ فَلَمْ یَدْرِ إِلَی الْکَفَّیْنِ أَوْ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ۔
رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ سَلَمَۃَ ہَکَذَا قَالَ لاَ أَدْرِی فِیہِ الْمِرْفَقَیْنِ یَعْنِی أَوْ إِلَی الْکَفَّیْنِ۔
[صحیح]
قَالَ شُعْبَۃُ : ثُمَّ شَکَّ سَلَمَۃُ فَلَمْ یَدْرِ إِلَی الْکَفَّیْنِ أَوْ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ۔
رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ سَلَمَۃَ ہَکَذَا قَالَ لاَ أَدْرِی فِیہِ الْمِرْفَقَیْنِ یَعْنِی أَوْ إِلَی الْکَفَّیْنِ۔
[صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০০৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیدنا عمار بن یاسر (رض) سے تیمم کا منقول طریقہ
(١٠٠٨) شعبہ نے اس حدیث کو اسی سند سے بیان کیا ہے۔ فرماتے ہیں : پھر اس میں پھونک ماری اور اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کا کہنیوں یا بازوؤں تک مسح کیا۔ شعبہ کہتے ہیں : سلمہ کا کہنا ہے کہہتھیلیاں، چہرہ اور بازو (مسح میں شامل ہیں) ایک دن اس کو منصور نے کہا : دیکھا تو کیا کہہ رہا ہے، تیرے علاوہ کوئی بھی بازو کا ذکر نہیں کرتا۔
(۱۰۰۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ سَہْلٍ الرَّمْلِیُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنِی شُعْبَۃُ بِإِسْنَادِہِ بِہَذَا الْحَدِیثِ قَالَ : ثُمَّ نَفَخَ فِیہَا ، وَمَسَحَ بِہَا وَجْہَہُ وَکَفَّیْہِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ أَوِ الذِّرَاعَیْنِ۔ قَالَ شُعْبَۃُ : کَانَ سَلَمَۃُ یَقُولُ : الْکَفَّیْنِ وَالْوَجْہَ وَالذِّرَاعَیْنِ۔ فَقَالَ لَہُ مَنْصُورٌ ذَاتَ یَوْمٍ : انْظُرْ مَا تَقُولُ فَإِنَّہُ لاَ یَذْکُرُ الذِّرَاعَیْنِ غَیْرُکَ۔
رَوَاہُ سَلَمَۃُ بْنُ کُہَیْلٍ عَنْ أَبِی مَالِکٍ حَبِیبِ بْنِ صَہْبَانَ الْکَاہِلِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ۔ [شاذ]
رَوَاہُ سَلَمَۃُ بْنُ کُہَیْلٍ عَنْ أَبِی مَالِکٍ حَبِیبِ بْنِ صَہْبَانَ الْکَاہِلِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ۔ [شاذ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০০৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیدنا عمار بن یاسر (رض) سے تیمم کا منقول طریقہ
(١٠٠٩) عبد الرحمن بن ابزیٰ فرماتے ہیں : میں سیدنا عمر (رض) کے پاس تھا۔۔۔ سیدنا عمار (رض) نے کہا : میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو یہ بات میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تیرے لیے یہی کافی تھا کہ تو اس طرح کرتا اور اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر پھونک ماری اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا نصف بازوؤں تک مسح کیا۔ “
(۱۰۰۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَقَالَ عَمَّارٌ : فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ -فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ ، فَقَالَ : إِنَّمَا کَانَ یَکْفِیکَ أَنْ تَقُولَ ہَکَذَا ۔ وَضَرَبَ بِیَدَیْہِ إِلَی الأَرْضِ ثُمَّ نَفَخَہُمَا ثُمَّ مَسَحَ بِہِمَا وَجْہَہُ وَیَدَیْہِ إِلَی نِصْفِ الذِّرَاعِ۔
وَرَوَاہُ حُصَیْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی مَالِکٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَمَّارًا یَخْطُبُ فَذَکَرَ التَّیَمُّمَ ، فَضَرَبَ بِکَفَّیْہِ الأَرْضَ فَمَسَحَ بِہِمَا وَجْہَہُ وَکَفَّیْہِ۔ وَرَفَعَہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ حُصَیْنٍ ، وَرَوَاہُ الأَعْمَشُ مَرَّۃً عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی وَمَرَّۃً عَنْ سَلَمَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ وَقَالَ مَرَّۃً فِی مَتْنِہِ : ثُمَّ مَسَحَ وَجْہَہُ وَالذِّرَاعَیْنِ إِلَی نِصْفِ السَّاعِدِ وَلَمْ یَبْلُغِ الْمِرْفَقَیْنِ۔ [صحیح أخرجہ أبو داؤد ۳۲۲]
وَرَوَاہُ حُصَیْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی مَالِکٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَمَّارًا یَخْطُبُ فَذَکَرَ التَّیَمُّمَ ، فَضَرَبَ بِکَفَّیْہِ الأَرْضَ فَمَسَحَ بِہِمَا وَجْہَہُ وَکَفَّیْہِ۔ وَرَفَعَہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ حُصَیْنٍ ، وَرَوَاہُ الأَعْمَشُ مَرَّۃً عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی وَمَرَّۃً عَنْ سَلَمَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ وَقَالَ مَرَّۃً فِی مَتْنِہِ : ثُمَّ مَسَحَ وَجْہَہُ وَالذِّرَاعَیْنِ إِلَی نِصْفِ السَّاعِدِ وَلَمْ یَبْلُغِ الْمِرْفَقَیْنِ۔ [صحیح أخرجہ أبو داؤد ۳۲۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০০৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیدنا عمار بن یاسر (رض) سے تیمم کا منقول طریقہ
(١٠١٠) سیدنا عمار بن یاسر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تیمم کے متعلق سوال کیا تو آپ نے ایک ہی ضرب سے چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کا حکم دیا۔ (ب) قتادہ کہتے ہیں : اس کی سند میں مذکور راوی عزرہ کے ذکر پر اختلاف ہے۔
(ج) ابان قتادہ سے دوسری سند سے نقل فرماتے ہیں کہ کہنیوں تک مسح ہے۔
(ج) ابان قتادہ سے دوسری سند سے نقل فرماتے ہیں کہ کہنیوں تک مسح ہے۔
(۱۰۱۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَزْرَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَمَّارٍ أَنَّہُ قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِیَّ -ﷺ -عَنِ التَّیَمُّمِ ، فَأَمَرَنِی بِالْوَجْہِ وَالْکَفَّیْنِ ضَرْبَۃً وَاحِدَۃً۔
وَکَانَ قَتَادَۃُ یُفْتِی بِہِ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، وَرَوَاہُ عِیسَی بْنُ یُونُسَ عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ دُونَ ذِکْرِ عَزْرَۃَ فِی إِسْنَادِہِ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبَانُ بْنُ یَزِیدَ الْعَطَّارُ عَنْ قَتَادَۃَ ، وَاخْتُلِفَ عَلَیْہِ فِی ذِکْرِ عَزْرَۃَ فِی إِسْنَادِہِ۔ وَقِیلَ عَنْ أَبَانَ عَنْ قَتَادَۃَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ۔
[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن حبان ۱۳۰۳]
وَکَانَ قَتَادَۃُ یُفْتِی بِہِ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، وَرَوَاہُ عِیسَی بْنُ یُونُسَ عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ دُونَ ذِکْرِ عَزْرَۃَ فِی إِسْنَادِہِ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبَانُ بْنُ یَزِیدَ الْعَطَّارُ عَنْ قَتَادَۃَ ، وَاخْتُلِفَ عَلَیْہِ فِی ذِکْرِ عَزْرَۃَ فِی إِسْنَادِہِ۔ وَقِیلَ عَنْ أَبَانَ عَنْ قَتَادَۃَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ۔
[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن حبان ۱۳۰۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیدنا عمار بن یاسر (رض) سے تیمم کا منقول طریقہ
(١٠١١) سیدنا عمار بن یاسر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہنیوں تک (مسح کرو) ۔
(۱۰۱۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبَانُ قَالَ : سُئِلَ قَتَادَۃُ عَنِ التَّیَمُّمِ فِی السَّفَرِ فَقَالَ حَدَّثَنِی مُحَدِّثٌ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ : ((إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ))۔ [منکر۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۲۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیدنا عمار بن یاسر (رض) سے تیمم کا منقول طریقہ
(١٠١٢) (الف) ابان کہتے ہیں کہ قتادہ سے سفر میں تیمم کے متعلق سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : ابن عمر (رض) فرمایا کرتے تھے : ” کہنیوں تک “ اور حسن اور ابراہیم نخعی بھی یہی کہتے تھے، یعنی ” کہنیوں تک۔ “
(ب) عمار بن یاسر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کہنیوں تک۔ “ (ج) ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے یہ بات ذکر کی تو انھوں نے فرمایا : کیا ہی خوب (طریقہ ہے) ۔
شیخ کہتے ہیں : یہ اختلاف حدیث ابن ابزیٰ عن عمار میں ہے اور یہ اکثر سلمہ بن کہیل سے ہے جسے شک واقع ہوا ہے۔ حکم بن عتیبہ فقیہ اور حافظ ہیں، انھوں نے اس کو ذر بن عبداللہ سے اور انھوں نے سعید بن عبدالرحمن سے روایت کیا، انھوں نے سعید بن عبدالرحمن سے سنا، پھر حدیث کو بغیر شک کے بیان کیا۔ امام قتادہ کا عزرہ سے روایت کرنا اس کے موافق ہے۔ لیکن وہ حدیث جو قتادہ محدث عن شعبی بیان کرتے ہیں وہ منقطع ہے۔ اس طرح یہ حدیث دوسری سند سے بھی ثابت ہے جس کی سند صحیح ہونے میں کوئی شک نہیں۔
(ب) عمار بن یاسر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کہنیوں تک۔ “ (ج) ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے یہ بات ذکر کی تو انھوں نے فرمایا : کیا ہی خوب (طریقہ ہے) ۔
شیخ کہتے ہیں : یہ اختلاف حدیث ابن ابزیٰ عن عمار میں ہے اور یہ اکثر سلمہ بن کہیل سے ہے جسے شک واقع ہوا ہے۔ حکم بن عتیبہ فقیہ اور حافظ ہیں، انھوں نے اس کو ذر بن عبداللہ سے اور انھوں نے سعید بن عبدالرحمن سے روایت کیا، انھوں نے سعید بن عبدالرحمن سے سنا، پھر حدیث کو بغیر شک کے بیان کیا۔ امام قتادہ کا عزرہ سے روایت کرنا اس کے موافق ہے۔ لیکن وہ حدیث جو قتادہ محدث عن شعبی بیان کرتے ہیں وہ منقطع ہے۔ اس طرح یہ حدیث دوسری سند سے بھی ثابت ہے جس کی سند صحیح ہونے میں کوئی شک نہیں۔
(۱۰۱۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْقَاضِیَانِ الْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ وَأَبُو عُمَرَ : مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبَانُ قَالَ : سُئِلَ قَتَادَۃُ عَنِ التَّیَمُّمِ فِی السَّفَرِ فَقَالَ : کَانَ ابْنُ عُمَرَ یَقُولُ : إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ۔ وَکَانَ الْحَسَنُ وَإِبْرَاہِیمُ النَّخَعِیُّ یَقُولاَنَ : إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ۔
قَالَ وَحَدَّثَنِی مُحَدِّثٌ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ : إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ ۔
قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : فَذَکَرْتُہُ لأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فَعَجِبَ مِنْہُ وَقَالَ : مَا أَحْسَنَہُ۔
قَالَ الشَّیْخُ : ہَذَا الاِخْتِلاَفُ فِی مَتْنِ حَدِیثِ ابْنِ أَبْزَی عَنْ عَمَّارٍ إِنَّمَا وَقَعَ أَکْثَرُہُ مِنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ لِشَکٍّ وَقَعَ لَہُ ، وَالْحَکَمُ بْنُ عُتَیْبَۃَ فَقِیہٌ حَافِظٌ قَدْ رَوَاہُ عَنْ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ثُمَّ سَمِعَہُ مِنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ فَسَاقَ الْحَدِیثَ عَلَی الإِثْبَاتِ مِنْ غَیْرِ شَکٍّ فِیہِ وَحَدِیثُ قَتَادَۃَ عَنْ عَزْرَۃَ یُوَافِقُہُ، وَکَذَلِکَ حَدِیثُ حُصَیْنٍ عَنْ أَبِی مَالِکٍ ، وَأَمَّا حَدِیثُ قَتَادَۃَ عَنْ مُحَدِّثٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ فَہُوَ مُنْقَطِعٌ ، لاَ یُعْلَمُ مِنَ الَّذِی حَدَّثَہُ فَیُنْظَرَ فِیہِ۔
وَقَدْ ثَبَتَ الْحَدِیثُ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ لاَ یَشُکُّ حَدِیثِیٌّ فِی صِحَّۃِ إِسْنَادِہِ۔ [صحیح]
قَالَ وَحَدَّثَنِی مُحَدِّثٌ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ : إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ ۔
قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : فَذَکَرْتُہُ لأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فَعَجِبَ مِنْہُ وَقَالَ : مَا أَحْسَنَہُ۔
قَالَ الشَّیْخُ : ہَذَا الاِخْتِلاَفُ فِی مَتْنِ حَدِیثِ ابْنِ أَبْزَی عَنْ عَمَّارٍ إِنَّمَا وَقَعَ أَکْثَرُہُ مِنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ لِشَکٍّ وَقَعَ لَہُ ، وَالْحَکَمُ بْنُ عُتَیْبَۃَ فَقِیہٌ حَافِظٌ قَدْ رَوَاہُ عَنْ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ثُمَّ سَمِعَہُ مِنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ فَسَاقَ الْحَدِیثَ عَلَی الإِثْبَاتِ مِنْ غَیْرِ شَکٍّ فِیہِ وَحَدِیثُ قَتَادَۃَ عَنْ عَزْرَۃَ یُوَافِقُہُ، وَکَذَلِکَ حَدِیثُ حُصَیْنٍ عَنْ أَبِی مَالِکٍ ، وَأَمَّا حَدِیثُ قَتَادَۃَ عَنْ مُحَدِّثٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ فَہُوَ مُنْقَطِعٌ ، لاَ یُعْلَمُ مِنَ الَّذِی حَدَّثَہُ فَیُنْظَرَ فِیہِ۔
وَقَدْ ثَبَتَ الْحَدِیثُ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ لاَ یَشُکُّ حَدِیثِیٌّ فِی صِحَّۃِ إِسْنَادِہِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیدنا عمار بن یاسر (رض) سے تیمم کا منقول طریقہ
(١٠١٣) شقیق کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ اور ابو موسیٰ (رض) کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، ابو موسیٰ (رض) نے کہا : اے عبد الرحمن ! کوئی شخص جنبی ہوجائے اور پانی نہ ملے تو کیا وہ نماز پڑھے گا ؟ انھوں نے کہا : نہیں، انھوں نے پوچھا : تو آپ نے عمار (رض) کی بات جو عمر (رض) کے متعلق تھی نہیں سنی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اور آپ کو بھیجا، میں جنبی ہوگیا، میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا، پھر ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے ، ہم نے آپ کو خبر دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اس طرح کافی تھا اور اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کا ایک مرتبہ مسح کیا، انھوں نے کہا : میں نے نہیں دیکھا کہ عمر (رض) نے اس پر قناعت کی جو انھوں نے کہا۔ میں نے کہا : تم آیت { فَتَیَمَّمُوا صَعِیدًا طَیِّبًا } [النساء : ٤٣] پر کس طرح عمل کرتے تھے، انھوں نے کہا : ہم ان کو اس میں رخصت دیتے تھے ان میں سے کوئی جب ٹھنڈا پانی پاتا تو وہ مٹی سے مسح کرلیتا۔ اعمش کہتے ہیں : میں نے شقیق سے کہا تو انھوں نے اس کو ناپسند سمجھا۔
(۱۰۱۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّاغَانِیُّ فِی جُمَادَی الأُولَی سَنَۃَ ثَمَانٍ وَسِتِّینَ وَمِائَتَیْنِ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ الطَّنَافِسِیُّ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ شَقِیقٍ قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّہِ وَأَبِی مُوسَی فَقَالَ أَبُو مُوسَی : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّجُلُ یُجْنِبُ فَلاَ یَجِدُ الْمَائَ یُصَلِّی؟ قَالَ : لاَ۔ قَالَ : أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -بَعَثَنِی أَنَا وَأَنْتَ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّکْتُ بِالصَّعِیدِ ، فَأَتَیْنَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -فَأَخْبَرَنَاہُ فَقَالَ : إِنَّمَا کَانَ یَکْفِیکَ ہَکَذَا ۔ وَمَسَحَ وَجْہَہُ وَکَفَّیْہِ وَاحِدَۃً۔ فَقَالَ : إِنِّی لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنِعَ بِذَلِکَ۔ قَالَ قُلْتُ : فَکَیْفَ تَصْنَعُونَ بِہَذِہِ الآیَۃِ {فَتَیَمَّمُوا صَعِیدًا طَیِّبًا} [النسائ: ۴۳] قَالَ : إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَہُمْ فِی ہَذَا کَانَ أَحَدُہُمْ إِذَا وَجَدَ الْمَائَ الْبَارِدَ تَمَسَّحَ بِالصَّعِیدِ۔ قَالَ الأَعْمَشُ فَقُلْتُ لِشَقِیقٍ : فَمَا کَرِہَہُ إِلاَّ لِہَذَا۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الأَعْمَشِ ، وَأَشَارَ الْبُخَارِیُّ إِلَی رِوَایَۃِ یَعْلَی بْنِ عُبَیْدٍ وَہُوَ أَثْبَتُہُمْ سِیَاقَۃً لِلْحَدِیثِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیدنا عمار بن یاسر (رض) سے تیمم کا منقول طریقہ
(١٠١٤) امام شافعی (رح) سیدنا عمار بن یاسر (رض) کی حدیث کے متعلق فرماتے ہیں : عمار (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں تیمم کندھوں تک کیا تھا، آیت کے نازل ہونے کی وجہ سے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے مگر یہ منسوخ ہے لہٰذا اس روایت پر عمل جائز نہیں اس لیے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چہرے اور ہتھیلیوں پر تیمم کا حکم دیا ہے یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صرف ایک بار تیمم کرنا ہی روایت کیا گیا ہے۔
(ب) ان سے روایت بیان کرنے کے متعلق اختلاف ہے۔ ابن صمہ کی روایت میں اختلاف نہیں وہ ثابت ہے۔ جب اس روایت میں اختلاف نہیں تو اس پر عمل کرنا اولیٰ ہے؛ کیونکہ یہ مختلف فیہ دونوں روایات سے کتاب اللہ کے زیادہ موافق ہے۔ یا اس کا نام آیۃ التیمم اس لیے ہے کہ انھوں نے نماز کے وقت تیمم کیا۔ انھوں نے غایت کو اختیار کیا جس پر ” اسم ید “ واقع ہوا ہے، کیونکہ یہ ان کے لیے نقصان دہ نہیں۔ جیسے یہ وضو کرنے میں نقصان دہ نہیں۔ جب یہ مسئلہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں بتلایا : جو انھوں نے کیا ہے وہ تیمم کا کم سے کم ہے جو کفایت کر جائے گا۔ میرے نزدیک یہ معانی زیادہ اچھے ہیں، اس کی دلیل ابن شباب کی روایت ہے جو سیدنا عمار بن یاسر سے منقول ہے۔
(ج) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ سیدنا عمار بن یاسر (رض) کی روایت جس میں ہے کہ چہرے اور ہتھیلیوں کے تیمم کا ذکر ہے کو لینے سے دوسری حدیث مانع ہے جس میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے چہرے اور کلائیوں کا مسح کیا کیونکہ یہ قرآن اور قیاس کے زیادہ مشابہ ہے۔
(د) امام شافعی (رح) نے سیدنا ابن عمر (رض) سے حدیث بیان کی ہے کہ ایک ضرب چہرے کے لیے اور دوسری ضرب ہاتھوں کے لیے کہنیوں تک ہے۔
(ر) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ہمارے اصحاب کا اسی پر عمل ہے۔ تیمم کے متعلق جو کچھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا گیا ہے اگر مجھے معلوم ہوجاتا تو میں اس میں کچھ شک نہ کرتا۔ سیدنا عمار (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں کندھوں تک مسح کیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا گیا ہے کہ مسح چہرے اور ہتھیلیوں پر ہے۔
(س) گویا ان کا کہنا ہے کہ ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں کندھوں تک تیمم کیا، آپ کا حکم اس طرح نہیں ہے۔ سیدنا عمار بن یاسر کی حدیث نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے جس میں چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کا ذکر ہے۔ کہنیوں تک والی روایت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت نہیں ہے اور جو روایت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے اس پر عمل اولیٰ ہے اور اسی پر سعید بن سالم کا فتویٰ ہے۔ ہم نے پیچھے ذکر کیا ہے کہ انھیں دونوں احادیث کے ثبوت کے متعلق شک ہے جہاں دونوں کا ذکر ہے۔ سیدنا عمار (رض) کی حدیث جس میں چہرے اور ہتھیلیوں کے مسح کا ذکر ہے وہ بازوؤں پر مسح والی روایت سے زیادہ ثابت ہے اگرچہ بازوؤں والی روایت شواہد کے ساتھ ثابت ہے جس کا ہم نے دوسرے قصہ میں ذکر کیا ہے۔ عمار (رض) والی روایت ابتدائے تیمم کی ہے جب آیت نازل ہوئیتو وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیمم کا کم سے کم درجہ بتایا جو انھیں کفایت کر جائے گا۔ بازوؤں پر مسح والی روایت اس کے بعد کی ہے اور اس پر عمل مستحسن ہے؛ کیونکہ وہ کتاب، قیاس اور ابن عمر (رض) کا فعل ہے جو صحیح کے مشابہ ہے۔ سیدنا علی اور ابن عباس (رض) کے چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کی روایت ثابت ہے۔ سیدنا کی ایک روایت اس کے خلاف ہے۔
(ب) ان سے روایت بیان کرنے کے متعلق اختلاف ہے۔ ابن صمہ کی روایت میں اختلاف نہیں وہ ثابت ہے۔ جب اس روایت میں اختلاف نہیں تو اس پر عمل کرنا اولیٰ ہے؛ کیونکہ یہ مختلف فیہ دونوں روایات سے کتاب اللہ کے زیادہ موافق ہے۔ یا اس کا نام آیۃ التیمم اس لیے ہے کہ انھوں نے نماز کے وقت تیمم کیا۔ انھوں نے غایت کو اختیار کیا جس پر ” اسم ید “ واقع ہوا ہے، کیونکہ یہ ان کے لیے نقصان دہ نہیں۔ جیسے یہ وضو کرنے میں نقصان دہ نہیں۔ جب یہ مسئلہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں بتلایا : جو انھوں نے کیا ہے وہ تیمم کا کم سے کم ہے جو کفایت کر جائے گا۔ میرے نزدیک یہ معانی زیادہ اچھے ہیں، اس کی دلیل ابن شباب کی روایت ہے جو سیدنا عمار بن یاسر سے منقول ہے۔
(ج) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ سیدنا عمار بن یاسر (رض) کی روایت جس میں ہے کہ چہرے اور ہتھیلیوں کے تیمم کا ذکر ہے کو لینے سے دوسری حدیث مانع ہے جس میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے چہرے اور کلائیوں کا مسح کیا کیونکہ یہ قرآن اور قیاس کے زیادہ مشابہ ہے۔
(د) امام شافعی (رح) نے سیدنا ابن عمر (رض) سے حدیث بیان کی ہے کہ ایک ضرب چہرے کے لیے اور دوسری ضرب ہاتھوں کے لیے کہنیوں تک ہے۔
(ر) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ہمارے اصحاب کا اسی پر عمل ہے۔ تیمم کے متعلق جو کچھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا گیا ہے اگر مجھے معلوم ہوجاتا تو میں اس میں کچھ شک نہ کرتا۔ سیدنا عمار (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں کندھوں تک مسح کیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا گیا ہے کہ مسح چہرے اور ہتھیلیوں پر ہے۔
(س) گویا ان کا کہنا ہے کہ ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں کندھوں تک تیمم کیا، آپ کا حکم اس طرح نہیں ہے۔ سیدنا عمار بن یاسر کی حدیث نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے جس میں چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کا ذکر ہے۔ کہنیوں تک والی روایت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت نہیں ہے اور جو روایت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے اس پر عمل اولیٰ ہے اور اسی پر سعید بن سالم کا فتویٰ ہے۔ ہم نے پیچھے ذکر کیا ہے کہ انھیں دونوں احادیث کے ثبوت کے متعلق شک ہے جہاں دونوں کا ذکر ہے۔ سیدنا عمار (رض) کی حدیث جس میں چہرے اور ہتھیلیوں کے مسح کا ذکر ہے وہ بازوؤں پر مسح والی روایت سے زیادہ ثابت ہے اگرچہ بازوؤں والی روایت شواہد کے ساتھ ثابت ہے جس کا ہم نے دوسرے قصہ میں ذکر کیا ہے۔ عمار (رض) والی روایت ابتدائے تیمم کی ہے جب آیت نازل ہوئیتو وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیمم کا کم سے کم درجہ بتایا جو انھیں کفایت کر جائے گا۔ بازوؤں پر مسح والی روایت اس کے بعد کی ہے اور اس پر عمل مستحسن ہے؛ کیونکہ وہ کتاب، قیاس اور ابن عمر (رض) کا فعل ہے جو صحیح کے مشابہ ہے۔ سیدنا علی اور ابن عباس (رض) کے چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کی روایت ثابت ہے۔ سیدنا کی ایک روایت اس کے خلاف ہے۔
(۱۰۱۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی حَدِیثِ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ : لاَ یَجُوزُ عَلَی عَمَّارٍ إِذَا کَانَ تَیَمَّمَ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ -عِنْدَ نُزُولِ الآیَۃِ إِلَی الْمَنَاکِبِ عَنْ أَمْرِ النَّبِیِّ -ﷺ -إِلاَّ أَنَّہُ مَنْسُوخٌ إِذْ رَوَی أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -أَمَرَ بِالتَّیَمُّمِ عَلَی الْوَجْہِ وَالْکَفَّیْنِ ، أَوْ یَکُونُ لَمْ یَرْوِ عَنْہُ إِلاَّ تَیَمُّمًا وَاحِدًا ،
فَاخْتَلَفَتْ رِوَایَتُہُ عَنْہُ فَتَکُونُ رِوَایَۃُ ابْنِ الصِّمَّۃِ الَّتِی لَمْ تَخْتَلِفْ أَثْبَتُ وَإِذَا لَمْ تَخْتَلِفْ فَأَوْلَی أَنْ یُؤْخَذَ بِہَا لأَنَّہَا أَوْفَقُ لِکِتَابِ اللَّہِ تَعَالَی مِنَ الرِّوَایَتَیْنِ اللَّتَیْنِ رُوِیَتَا مُخْتَلِفَتَیْنِ أَوْ یَکُونُ إِنَّمَا سَمِعُوا آیَۃَ التَّیَمُّمِ عِنْدَ حُضُورِ صَلاَۃٍ فَتَیَمَّمُوا فَاحْتَاطُوا فَأَتَوْا عَلَی غَایَۃِ مَا یَقَعُ عَلَیْہِ اسْمُ الْیَدِ لأَنَّ ذَلِکَ لاَ یَضُرُّہُمْ کَمَا لاَ یَضُرُّہُمْ لَوْ فَعَلُوہُ فِی الْوُضُوئِ ، فَلَمَّا صَارُوا إِلَی مَسْأَلَۃِ النَّبِیِّ -ﷺ -أَخْبَرَہُمْ أَنَّہُ یَجْزِیہِمْ مِنَ التَّیَمُّمِ أَقَلُّ مَا فَعَلُوہُ، وَہَذَا أَوْلَی الْمَعَانِی عِنْدِی لِرِوَایَۃِ ابْنِ شِہَابٍ مِنْ حَدِیثِ عَمَّارٍ بِمَا وَصَفْتُ مِنَ الدَّلاَئِلِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَإِنَّمَا مَنَعَنَا أَنْ نَأْخُذَ بِرِوَایَۃِ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ فِی أَنَّ تَیَمُّمَ الْوَجْہِ وَالْکَفَّیْنِ بِثُبُوتِ الْخَبَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -: أَنَّہُ مَسَحَ وَجْہَہُ وَذِرَاعَیْہِ۔ وَأَنَّ ہَذَا أَشْبَہُ بِالْقُرْآنِ وَأَشْبَہُ بِالْقِیَاسِ فَإِنَّ الْبَدَلَ مِنَ الشَّیْئِ إِنَّمَا یَکُونُ مِثْلَہُ۔
وَرَوَی الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِیُّ عَنِ الشَّافِعِیِّ حَدِیثَ ابْنِ عُمَرَ فِی التَّیَمُّمِ ضَرْبَۃٌ لِلْوَجْہِ وَضَرْبَۃٌ لِلْیَدَیْنِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ
ثُمَّ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی الشَّافِعِیَّ : وَبِہَذَا رَأَیْتُ أَصْحَابَنَا یَأْخُذُونَ ، وَقَدْ رُوِیَ فِیہِ شَیْئٌ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -وَلَوْ أَعْلَمُہُ ثَابِتًا لَمْ أَعْدُہُ وَلَمْ أَشُکَّ فِیہِ ، وَقَدْ قَالَ عَمَّارٌ : تَیَمَّمْنَا مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ -إِلَی الْمَنَاکِبِ ، وَرُوِیَ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -الْوَجْہَ وَالْکَفَّیْنِ ،
وَکَأَنَّ قَوْلَہُ : تَیَمَّمْنَا مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ -إِلَی الْمَنَاکِبِ لَمْ یَکُنْ عَنْ أَمْرِ النَّبِیِّ -ﷺ -فَإِنْ ثَبَتَ عَنْ عَمَّارٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -الْوَجْہَ وَالْکَفَّیْنِ وَلَمْ یَثْبُتْ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ فَمَا ثَبَتَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -أَوْلَی وَبِہَذَا کَانَ یُفْتِی سَعِیدُ بْنُ سَالِمٍ ، فَکَأَنَّہُ فِی الْقَدِیمِ شَکَّ فِی ثُبُوتِ الْحَدِیثَیْنِ لِمَا ذَکَرْنَا فِی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا وَمَسْحُ الْوَجْہِ وَالْکَفَّیْنِ فِی حَدِیثِ عَمَّارٍ ثَابِتٌ وَہُوَ أَثْبَتُ مِنْ حَدِیثِ مَسْحِ الذِّرَاعَیْنِ إِلاَّ أَنَّ حَدِیثَ مَسْحِ الذِّرَاعَیْنِ أَیْضًا جَیِّدٌ بِالشَّوَاہِدِ الَّتِی ذَکَرْنَاہَا وَہُوَ فِی قِصَّۃٍ أُخْرَی ، فَإِنْ کَانَ حَدِیثُ عَمَّارٍ فِی ابْتِدَائِ التَّیَمُّمِ حَیْثُ نَزَلَتِ الآیَۃُ وَرَجَعُوا إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ -فَأَخْبَرَہُمْ أَنَّہُ یَجْزِیہِمْ مِنَ التَّیَمُّمِ أَقَلُّ مِمَّا فَعَلُوا ، فَحَدِیثُ مَسْحِ الذِّرَاعَیْنِ بَعْدَہُ فَہُوَ أَوْلَی بِأَنْ یُتَّبَعَ ، وَہُو أَشْبَہُ بِالْکِتَابِ وَالْقِیَاسِ وَہُوَ فِعْلُ ابْنِ عُمَرَ صَحِیحٌ عَنْہُ ، وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ مَسْحُ الْوَجْہِ وَالْکَفَّیْنِ وَرُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ بِخِلاَفِہِ۔ [صحیح]
فَاخْتَلَفَتْ رِوَایَتُہُ عَنْہُ فَتَکُونُ رِوَایَۃُ ابْنِ الصِّمَّۃِ الَّتِی لَمْ تَخْتَلِفْ أَثْبَتُ وَإِذَا لَمْ تَخْتَلِفْ فَأَوْلَی أَنْ یُؤْخَذَ بِہَا لأَنَّہَا أَوْفَقُ لِکِتَابِ اللَّہِ تَعَالَی مِنَ الرِّوَایَتَیْنِ اللَّتَیْنِ رُوِیَتَا مُخْتَلِفَتَیْنِ أَوْ یَکُونُ إِنَّمَا سَمِعُوا آیَۃَ التَّیَمُّمِ عِنْدَ حُضُورِ صَلاَۃٍ فَتَیَمَّمُوا فَاحْتَاطُوا فَأَتَوْا عَلَی غَایَۃِ مَا یَقَعُ عَلَیْہِ اسْمُ الْیَدِ لأَنَّ ذَلِکَ لاَ یَضُرُّہُمْ کَمَا لاَ یَضُرُّہُمْ لَوْ فَعَلُوہُ فِی الْوُضُوئِ ، فَلَمَّا صَارُوا إِلَی مَسْأَلَۃِ النَّبِیِّ -ﷺ -أَخْبَرَہُمْ أَنَّہُ یَجْزِیہِمْ مِنَ التَّیَمُّمِ أَقَلُّ مَا فَعَلُوہُ، وَہَذَا أَوْلَی الْمَعَانِی عِنْدِی لِرِوَایَۃِ ابْنِ شِہَابٍ مِنْ حَدِیثِ عَمَّارٍ بِمَا وَصَفْتُ مِنَ الدَّلاَئِلِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَإِنَّمَا مَنَعَنَا أَنْ نَأْخُذَ بِرِوَایَۃِ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ فِی أَنَّ تَیَمُّمَ الْوَجْہِ وَالْکَفَّیْنِ بِثُبُوتِ الْخَبَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -: أَنَّہُ مَسَحَ وَجْہَہُ وَذِرَاعَیْہِ۔ وَأَنَّ ہَذَا أَشْبَہُ بِالْقُرْآنِ وَأَشْبَہُ بِالْقِیَاسِ فَإِنَّ الْبَدَلَ مِنَ الشَّیْئِ إِنَّمَا یَکُونُ مِثْلَہُ۔
وَرَوَی الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِیُّ عَنِ الشَّافِعِیِّ حَدِیثَ ابْنِ عُمَرَ فِی التَّیَمُّمِ ضَرْبَۃٌ لِلْوَجْہِ وَضَرْبَۃٌ لِلْیَدَیْنِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ
ثُمَّ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی الشَّافِعِیَّ : وَبِہَذَا رَأَیْتُ أَصْحَابَنَا یَأْخُذُونَ ، وَقَدْ رُوِیَ فِیہِ شَیْئٌ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -وَلَوْ أَعْلَمُہُ ثَابِتًا لَمْ أَعْدُہُ وَلَمْ أَشُکَّ فِیہِ ، وَقَدْ قَالَ عَمَّارٌ : تَیَمَّمْنَا مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ -إِلَی الْمَنَاکِبِ ، وَرُوِیَ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -الْوَجْہَ وَالْکَفَّیْنِ ،
وَکَأَنَّ قَوْلَہُ : تَیَمَّمْنَا مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ -إِلَی الْمَنَاکِبِ لَمْ یَکُنْ عَنْ أَمْرِ النَّبِیِّ -ﷺ -فَإِنْ ثَبَتَ عَنْ عَمَّارٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -الْوَجْہَ وَالْکَفَّیْنِ وَلَمْ یَثْبُتْ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ فَمَا ثَبَتَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -أَوْلَی وَبِہَذَا کَانَ یُفْتِی سَعِیدُ بْنُ سَالِمٍ ، فَکَأَنَّہُ فِی الْقَدِیمِ شَکَّ فِی ثُبُوتِ الْحَدِیثَیْنِ لِمَا ذَکَرْنَا فِی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا وَمَسْحُ الْوَجْہِ وَالْکَفَّیْنِ فِی حَدِیثِ عَمَّارٍ ثَابِتٌ وَہُوَ أَثْبَتُ مِنْ حَدِیثِ مَسْحِ الذِّرَاعَیْنِ إِلاَّ أَنَّ حَدِیثَ مَسْحِ الذِّرَاعَیْنِ أَیْضًا جَیِّدٌ بِالشَّوَاہِدِ الَّتِی ذَکَرْنَاہَا وَہُوَ فِی قِصَّۃٍ أُخْرَی ، فَإِنْ کَانَ حَدِیثُ عَمَّارٍ فِی ابْتِدَائِ التَّیَمُّمِ حَیْثُ نَزَلَتِ الآیَۃُ وَرَجَعُوا إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ -فَأَخْبَرَہُمْ أَنَّہُ یَجْزِیہِمْ مِنَ التَّیَمُّمِ أَقَلُّ مِمَّا فَعَلُوا ، فَحَدِیثُ مَسْحِ الذِّرَاعَیْنِ بَعْدَہُ فَہُوَ أَوْلَی بِأَنْ یُتَّبَعَ ، وَہُو أَشْبَہُ بِالْکِتَابِ وَالْقِیَاسِ وَہُوَ فِعْلُ ابْنِ عُمَرَ صَحِیحٌ عَنْہُ ، وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ مَسْحُ الْوَجْہِ وَالْکَفَّیْنِ وَرُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ بِخِلاَفِہِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیدنا عمار بن یاسر (رض) سے تیمم کا منقول طریقہ
(١٠١٥) یزید بن أبی حبیب فرماتے ہیں کہ سیدنا علی اور ابن عباس (رض) تیمم کے متعلق فرماتے تھے کہ اس میں چہرہ اور ہتھیلیاں شامل ہیں۔
(۱۰۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِیسَی أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی أَیُّوبَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ أَنَّ عَلِیًّا وَابْنَ عَبَّاسٍ کَانَا یَقُولاَنَ فِی التَّیَمُّمِ : الْوَجْہَ وَالْکَفَّیْنِ۔ (ت) وَرُوِیَ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیدنا عمار بن یاسر (رض) سے تیمم کا منقول طریقہ
(١٠١٦) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے کہ دو ضربیں، ہیں : ایک ضرب چہرے کے لیے اور ایک ضرب بازوؤں کے لیے اور یہ دونوں علی (رض) سے منقطع ہیں۔ (ب) خالد بن اسحاق کہتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے تیمم کے متعلق فرمایا : ایک ضرب چہرے کے لیے اور ایک ضرب ہتھیلیوں کے لیے۔
(۱۰۱۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ وَشُجَاعٌ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ عَلِیٍّ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ : ضَرْبَتَانِ ضَرْبَۃٌ لِلْوَجْہِ وَضَرْبَۃٌ لِلذِّرَاعَیْنِ۔ وَکِلاَہُمَا عَنْ عَلِیٍّ مُنْقَطِعٌ۔
وَقَدْ حَکَاہُ الشَّافِعِیُّ فِی کِتَابِ عَلِیٍّ وَعَبْدِ اللَّہِ بَلاَغًا عَنْ ہُشَیْمٍ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ أَنَّ عَلِیًّا قَالَ فِی التَّیَمُّمِ : ضَرْبَۃٌ لِلْوَجْہِ وَضَرْبَۃٌ لِلْکَفَّیْنِ۔
وَالاِحْتِیَاطُ مَسْحُ الْوَجْہِ وَمَسْحُ الْیَدَیْنِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ خُرُوجًا مِنَ الْخِلاَفِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [ضعیف]
وَقَدْ حَکَاہُ الشَّافِعِیُّ فِی کِتَابِ عَلِیٍّ وَعَبْدِ اللَّہِ بَلاَغًا عَنْ ہُشَیْمٍ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ أَنَّ عَلِیًّا قَالَ فِی التَّیَمُّمِ : ضَرْبَۃٌ لِلْوَجْہِ وَضَرْبَۃٌ لِلْکَفَّیْنِ۔
وَالاِحْتِیَاطُ مَسْحُ الْوَجْہِ وَمَسْحُ الْیَدَیْنِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ خُرُوجًا مِنَ الْخِلاَفِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاک مٹی سے تیمم کرنا
(١٠١٧) سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مجھ کو پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں، میری مدد ایک ماہ کی مسافت سے کی گئی ہے اور میرے لیے (تمام) زمین مسجد اور پاک بنائی گئی ہے، میری امت سے جس آدمی کو بھی نماز کا وقت ملے تو وہ پڑھ لے اور غنیمتیں میرے لیے حلال کی گئیں ہیں جب کہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھیں اور مجھ کو شفاعت (کرنے کی اجازت) دی گئی ہے اور نبی کسی خاص قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا اور میں تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ (ب) صحیح مسلم میں یحییٰ بن یحییٰ اور ابوبکر بن شیبہ سے حدیث منقول ہے : ” اور میرے لیے زمین پاک، صاف اور مسجد بنادی گئی ہے۔ “
(۱۰۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ۔ قَالَ أَبُو النَّضْرِ وَحَدَّثَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا سَیَّارٌ عَنْ یَزِیدَ الْفَقِیرِ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ : ((أُعْطِیتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ أَحَدٌ قَبْلِی : نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِیرَۃَ شَہْرٍ ، وَجُعِلَتْ لِیَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَہُورًا ، فَأَیُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِی أَدْرَکَتْہُ الصَّلاَۃُ فَلْیُصَلِّ ، وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِی ، وَأُعْطِیتُ الشَّفَاعَۃَ ، وَکَانَ النَّبِیُّ یُبْعَثُ إِلَی قَوْمِہِ خَاصَّۃً وَبُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ عَامَّۃً))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ وَغَیْرِہِ عَنْ ہُشَیْمٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : ((وَجُعِلَتْ لِیَ الأَرْضُ طَیِّبَۃً طَہُورًا وَمَسْجِدًا))۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۲۸]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ وَغَیْرِہِ عَنْ ہُشَیْمٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : ((وَجُعِلَتْ لِیَ الأَرْضُ طَیِّبَۃً طَہُورًا وَمَسْجِدًا))۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۲۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاک مٹی سے تیمم کرنا
(١٠١٨) سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :۔۔۔ یہ پچھلی روایت کے ہم معنی اور انھی الفاظ سے منقول ہے۔
(۱۰۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ الذُّہْلِیُّ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ہُشَیْمُ بْنُ بَشِیرٍ عَنْ سَیَّارٍ عَنْ یَزِیدَ الْفَقِیرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ۔ وَذَکَرَ ہَذَا اللَّفْظَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاک مٹی سے تیمم کرنا
(١٠١٩) ابو امامہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مجھے چار چیزوں کے ساتھ فضیلت دی گئی ہے، میری امت کے لیے زمین مسجد اور پاک بنادی گئی ہے ، میری امت میں سے جو شخص بھی نماز کے وقت آئے اور یا وہ پانی نہ پائے تو وہ زمین کو مسجد اور وضو کا ذریعہ سمجھے اور میں تمام لوگوں کو طرف بھیجا گیا ہوں اور میں ایک ماہ کی مسافت سے رعب سے مدد کیا گیا ہوں جو میرے سامنے چلتا ہے اور میری امت کے لیے غنیمتیں حلال کی گئی ہیں۔ “
(۱۰۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ یَعْنِی ابْنَ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ یَعْنِی التَّیْمِیَّ عَنْ سَیَّارٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -قَالَ : ((فُضِّلْتُ بِأَرْبَعٍ : جُعِلَتِ الأَرْضُ لأُمَّتِی مَسْجِدًا وَطُہُورًا ، فَأَیُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِی أَتَی الصَّلاَۃَ فَلَمْ یَجِدْ مَائً وَجَدَ الأَرْضَ مَسْجِدًا وَطَہُورًا ، وَأُرْسَلْتُ إِلَی النَّاسِ کَافَّۃً ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مِنْ مَسِیرَۃِ شَہْرٍ یَسِیرُ بَیْنَ یَدَیَّ ، وَأُحِلَّتْ لأُمَّتِی الْغَنَائِمُ))۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ احمد ۵/۲۴۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاک مٹی سے تیمم کرنا
(١٠٢٠) سیدنا ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پاک مٹی مسلمان کا وضو ہے، اگرچہ دس سال بھی گزر جائیں جب پانی پائے تو اپنے جسم پر بہائے، یہ بہتر ہے۔ “
(۱۰۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا ابْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ -: ((إِنَّ الصَّعِیدَ الطَّیِّبَ وَضُوئُ الْمُسْلِمِ وَلَوْ عَشْرَ حِجَجٍ ، فَإِذَا وَجَدَ الْمَائَ فَلْیَمَسَّ بَشَرَتَہُ فَإِنَّ ذَلِکَ خَیْرٌ))۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۳۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاک مٹی سے تیمم کرنا
(١٠٢١) سیدنا ابو ذر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” پاک مٹی مسلمان کا وضو ہے اگرچہ وہ دس سال بھی پانی نہ پائے۔ “
(۱۰۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَۃَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ ہِشَامٍ وَأَحْمَدُ بْنُ بَکَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ وَہُوَ ابْنُ یَزِیدَ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ أَیُّوبَ السَّخْتِیَانِیِّ وَخَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((الصَّعِیدُ الطَّیِّبُ وَضُوئُ الْمُسْلِمِ وَإِنْ لَمْ یَجِدِ الْمَائَ عَشْرَ سِنِینَ))۔ تَفَرَّدَ بِہِ مَخْلَدٌ ہَکَذَا۔
وَغَیْرُہُ یَرْوِیہِ عَنِ الثَّوْرِیِّ عَنْ أَیُّوبَ السَّخْتِیَانِیِّ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِی ذَرٍّ وَعَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ عَنْ أَبِی ذَرٍّ کَمَا رَوَاہُ سَائِرُ النَّاسِ۔
وَرُوِیَ عَنْ قَبِیصَۃَ عَنِ الثَّوْرِیِّ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ مِحْجَنٍ أَوْ أَبِی مِحْجَنٍ عَنْ أَبِی ذَرٍّ۔[صحیح لغیرہٖ]
وَغَیْرُہُ یَرْوِیہِ عَنِ الثَّوْرِیِّ عَنْ أَیُّوبَ السَّخْتِیَانِیِّ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِی ذَرٍّ وَعَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ عَنْ أَبِی ذَرٍّ کَمَا رَوَاہُ سَائِرُ النَّاسِ۔
وَرُوِیَ عَنْ قَبِیصَۃَ عَنِ الثَّوْرِیِّ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ مِحْجَنٍ أَوْ أَبِی مِحْجَنٍ عَنْ أَبِی ذَرٍّ۔[صحیح لغیرہٖ]
তাহকীক: