আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৭৩ টি
হাদীস নং: ১০২১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاک مٹی خشک مٹی ہے
(١٠٢٢) (الف) سیدنا حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” لوگوں پر مجھے تین چیزوں کے ساتھ فضیلت دی گئی، ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئی ہیں اور ہمارے لیے تمام زمین مسجد بنائی گئی ہے اور اس کی مٹی ہمارے لیے پاک کر دیگئی ہے اور ایک اور خوبی کا ذکر کیا ۔ “
(ب) ابوبکر بن ابی شیبہ سے منقول روایت میں یہ اضافہ ہے ” اگر ہم پانی نہ پائیں۔ “
(ج) ابو مالک سے روایت ہے کہ اس کی مٹی ہمارے لیے پاک کر دیگئی ہے۔
(ب) ابوبکر بن ابی شیبہ سے منقول روایت میں یہ اضافہ ہے ” اگر ہم پانی نہ پائیں۔ “
(ج) ابو مالک سے روایت ہے کہ اس کی مٹی ہمارے لیے پاک کر دیگئی ہے۔
(۱۰۲۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ ہَارُونَ
ح قَالَ وَأَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((فُضِّلْتُ عَلَی النَّاسِ بِثَلاَثٍ : جُعِلَتْ صُفُوفُنَا کَصُفُوفِ الْمَلاَئِکَۃِ ، وَجُعِلَتْ لَنَا الأَرْضُ کُلُّہَا مَسْجِدًا وَجُعِلَتْ تُرْبَتُہَا لَنَا طَہُورًا))۔ وَذَکَرَ خَصْلَۃً أُخْرَی ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ وَزَادَ فِی الْحَدِیثِ : إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَائَ ۔
وَرَوَاہُ أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی مَالِکٍ فَقَالَ : ((وَجُعِلَ تُرَابُہَا لَنَا طَہُورًا))۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۵۲۲]
ح قَالَ وَأَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((فُضِّلْتُ عَلَی النَّاسِ بِثَلاَثٍ : جُعِلَتْ صُفُوفُنَا کَصُفُوفِ الْمَلاَئِکَۃِ ، وَجُعِلَتْ لَنَا الأَرْضُ کُلُّہَا مَسْجِدًا وَجُعِلَتْ تُرْبَتُہَا لَنَا طَہُورًا))۔ وَذَکَرَ خَصْلَۃً أُخْرَی ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ وَزَادَ فِی الْحَدِیثِ : إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَائَ ۔
وَرَوَاہُ أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی مَالِکٍ فَقَالَ : ((وَجُعِلَ تُرَابُہَا لَنَا طَہُورًا))۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۵۲۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاک مٹی خشک مٹی ہے
(١٠٢٣) سیدنا حذیفہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمیں لوگوں پر تین چیزوں کی فضیلت دی گئی ہے، ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئیں ہیں اور زمین ہمارے لیے مسجد بنائی گئی ہے اور اس کی مٹی پاک کردی گئی ہیں اور سورة بقرہ کی آخری آیت خزانوں کے گھر عرش کے نیچے سے عطا کی گئی ہے جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی اور نہ ہی میرے بعد کسی کو دی جائے گی۔
(ب) حدیث عفان اسی روایت کے معنی میں ہے، ” اس کی مٹی ہمارے لیے پاک کردی ہے۔ “
(ب) حدیث عفان اسی روایت کے معنی میں ہے، ” اس کی مٹی ہمارے لیے پاک کردی ہے۔ “
(۱۰۲۳) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِکٍ الأَشْجَعِیُّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ الأَہْوَازِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی مَالِکٍ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ -: ((فُضِّلْنَا عَلَی النَّاسِ بِثَلاَثٍ : جُعِلَتْ صُفُوفُنَا کَصُفُوفِ الْمَلاَئِکَۃِ ، وَجُعِلَتِ الأَرْضُ لَنَا مَسْجِدًا وَجُعِلَ تُرَابُہَا طَہُورًا ، وَأُعْطِیتُ ہَذِہِ الآیَۃُ مِنْ آخِرِ سُورَۃِ الْبَقَرَۃِ مِنْ بَیْتِ کَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ یُعْطَ أَحَدٌ مِنْہُ قَبْلِی ، وَلاَ یُعْطَی أَحَدٌ مِنْہُ بَعْدِی))۔
لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی کَامِلٍ وَحَدِیثُ عَفَّانَ بِمَعْنَاہُ وَقَالَ : ((وَجُعِلَ تُرَابُہَا لَنَا طَہُورًا))۔
[صحیح۔ أخرجہ احمد ۵/۲۸۳]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ الأَہْوَازِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی مَالِکٍ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ -: ((فُضِّلْنَا عَلَی النَّاسِ بِثَلاَثٍ : جُعِلَتْ صُفُوفُنَا کَصُفُوفِ الْمَلاَئِکَۃِ ، وَجُعِلَتِ الأَرْضُ لَنَا مَسْجِدًا وَجُعِلَ تُرَابُہَا طَہُورًا ، وَأُعْطِیتُ ہَذِہِ الآیَۃُ مِنْ آخِرِ سُورَۃِ الْبَقَرَۃِ مِنْ بَیْتِ کَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ یُعْطَ أَحَدٌ مِنْہُ قَبْلِی ، وَلاَ یُعْطَی أَحَدٌ مِنْہُ بَعْدِی))۔
لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی کَامِلٍ وَحَدِیثُ عَفَّانَ بِمَعْنَاہُ وَقَالَ : ((وَجُعِلَ تُرَابُہَا لَنَا طَہُورًا))۔
[صحیح۔ أخرجہ احمد ۵/۲۸۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاک مٹی خشک مٹی ہے
(١٠٢٤) سیدنا علی بن أبی طالب (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مجھے وہ چیز دی گئی ہے جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی، ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! وہ کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میری مدد رعب کے ساتھ کی گئی ہے اور مجھے زمین کی چابیاں دی گئی ہیں اور میرا نام احمد رکھا گیا ہے اور مٹی میرے لیے پاک کردی گئی ہے اور میری امت بہترین امت بنائی گئی ہے۔ “
(۱۰۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ أَنَّہُ سَمِعَ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((أُعْطِیتُ مَا لَمْ یُعْطَ أَحَدٌ مِنَ الأَنْبِیَائِ))۔ فَقُلْنَا : مَا ہُوَ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ فَقَالَ : ((نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، وَأُعْطِیتُ مَفَاتِیحَ الأَرْضِ ، وَسُمِّیْتُ أَحْمَدَ ، وَجُعِلَ لِی التُّرَابُ طَہُورًا ، وَجُعِلَتْ أُمَّتِی خَیْرَ الأُمَمِ))۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ احمد ۱/۹۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاک مٹی خشک مٹی ہے
(١٠٢٥) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ بہترین مٹی کھیتی والی زمین کی مٹی ہے۔
(۱۰۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنْ قَابُوسٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَطْیَبُ الصَّعِیدِ أَرْضُ الْحَرْثِ۔
[ضعیف۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱۷۰۲]
[ضعیف۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱۷۰۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاک مٹی خشک مٹی ہے
(١٠٢٦) ابن عباس (رض) کہتے ہیں ” العَّصِیْدُ “ سے مراد کھیتی والی زمین کیمٹی ہے۔
(۱۰۲۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِکِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ بِصُورٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ کَعْبٍ الْحَلَبِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ عَنْ قَابُوسِ بْنِ أَبِی ظَبْیَانَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : الصَّعِیدُ الْحَرْثُ حَرْثُ الأَرْضِ۔ [أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱۷۰۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کے وقت ہاتھوں سے مٹی کو جھاڑنا جب ہاتھوں میں غبار رہ جائے تو تمام چہرے کا مسح کیا جائے
(١٠٢٧) سیدنا عمار (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ کو یہ کفایت کر جائے گا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ مٹی میں زمین پر مارا، پھر فرمایا : اس طرح اور اس میں پھونک ماری ، پھر اپنے چہرے اور ہاتھوں کا جوڑوں تک مسح کیا ۔ اس میں بازوؤں کا ذکر نہیں ہے۔
(۱۰۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ سَمِعَ ذَرَّ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَتَی رَجُلٌ عُمَرَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَقَالَ فِیہِ عَنْ عَمَّارٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -: ((إِنَّمَا کَانَ یُجْزِئُکَ))۔
وَضَرَبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -بِیَدِہِ الأَرْضَ إِلَی التُّرَابِ ، ثُمَّ قَالَ : ہَکَذَا ۔ فَنَفَخَ فِیہَا وَمَسَحَ وَجْہَہُ وَیَدَیْہِ إِلَی الْمِفْصَلِ ، وَلَیْسَ فِیہِ الذِّرَاعَانِ۔
مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ بْنِ الْحَجَّاجِ۔ [صحیح]
وَضَرَبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -بِیَدِہِ الأَرْضَ إِلَی التُّرَابِ ، ثُمَّ قَالَ : ہَکَذَا ۔ فَنَفَخَ فِیہَا وَمَسَحَ وَجْہَہُ وَیَدَیْہِ إِلَی الْمِفْصَلِ ، وَلَیْسَ فِیہِ الذِّرَاعَانِ۔
مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ بْنِ الْحَجَّاجِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی اور مٹی نہ ملنے کا حکم
(١٠٢٨) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے اسمائ (رض) سے ہار عاریتاً لیا تو وہ گم ہوگیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چند صحابہ کرام کو اس کی تلاش میں بھیجا ، انھیں نماز کا وقت ہوگیا، انھوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھی، جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو اس واقعہ کی شکایت کی۔ چناں چہتیمم کی آیت نازل ہوئی۔ اسید بن حضیر (رض) نے کہا : اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزا دے۔ اللہ کی قسم ! آپ کی وجہ سے کوئی (مشکل) معاملہ پیش نہیں آیا مگر اللہ نے اس میں نکلنے کا راستہ بنادیا اور مسلمانوں کے لیے اس میں برکت عطا کردی ۔
(۱۰۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّہَا اسْتَعَارَتْ قِلاَدَۃً مِنْ أَسْمَائَ فَہَلَکَتْ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -نَاسًا مِنْ أَصْحَابِہِ فِی طَلَبِہَا ، فَأَدْرَکَتْہُمُ الصَّلاَۃُ فَصَلَّوْا بِغَیْرِ وُضُوئٍ ، فَلَمَّا أَتَوُا النَّبِیَّ -ﷺ -شَکَوْا ذَلِکَ إِلَیْہِ ، فَنَزَلَتْ آیَۃُ التَّیَمُّمِ ، فَقَالَ أُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ : جَزَاکِ اللَّہُ خَیْرًا ، فَوَاللَّہِ مَا نَزَلَ بِکِ أَمْرٌ قَطُّ إِلاَّ جَعَلَ اللَّہُ لَکَ مِنْہُ مَخْرَجًا ، وَجَعَلَ لِلْمِسْلِمِینَ فِیہِ بَرَکَۃً۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ۔
فَہَؤُلاَئِ الصَّحَابَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ حِینَ عَدِمُوا مَائً جُعِلَ طَہُورًا لَہُمْ صَلَّوْا بِحَقِّ الْوَقْتِ ، وَشَکَوْا ذَلِکَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ -فَلَمْ یُنْکِرْہُ ، کَذَلِکَ غَیْرُہُمْ إِذَا عَدِمُوا الْمَائَ وَالتُّرَابَ۔ [صحیح
فَہَؤُلاَئِ الصَّحَابَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ حِینَ عَدِمُوا مَائً جُعِلَ طَہُورًا لَہُمْ صَلَّوْا بِحَقِّ الْوَقْتِ ، وَشَکَوْا ذَلِکَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ -فَلَمْ یُنْکِرْہُ ، کَذَلِکَ غَیْرُہُمْ إِذَا عَدِمُوا الْمَائَ وَالتُّرَابَ۔ [صحیح
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی اور مٹی نہ ملنے کا حکم
(١٠٢٩) سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : جس چیز سے میں تم کو منع کر دوں، پس اس سے بچو اور جس چیز کا تم کو حکم دوں اپنی طاقت کے مطابق اس کو کرو۔ بیشک تم میں سے پہلے لوگ کثرت سوال اور نبیوں سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے۔
(ب) سیدنا عمر اور ابن مسعود (رض) کا مؤقف ہے کہ جسے پانی اور مٹی نہ ملے وہ نماز نہ پڑھے، ان کے نزدیک جنبی کے لیے طہارت کا ذریعہ صرف پانی ہے، جب کسی کو پانی نہ ملے تو ان کے نزدیک وہ نماز نہ پڑھے۔
(ب) سیدنا عمر اور ابن مسعود (رض) کا مؤقف ہے کہ جسے پانی اور مٹی نہ ملے وہ نماز نہ پڑھے، ان کے نزدیک جنبی کے لیے طہارت کا ذریعہ صرف پانی ہے، جب کسی کو پانی نہ ملے تو ان کے نزدیک وہ نماز نہ پڑھے۔
(۱۰۲۹) قَالَ وَقَدْ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَۃَ الْخُزَاعِیُّ حَدَّثَنَا لَیْثٌ عَنْ یَزِیدَ یَعْنِی ابْنَ الْہَادِ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَأَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -یَقُولُ : ((مَا نَہَیْتُکُمْ عَنْہُ فَاجْتَنِبُوہُ ، وَمَا أَمَرْتُکُمْ بِہِ فَافْعَلُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ، فَإِنَّمَا أَہْلَکَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ کَثْرَۃُ مَسَائِلِہِمْ وَاخْتِلاَفِہِمْ عَلَی أَنْبِیَائِہِمْ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی خَلَفٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ۔
وَمُقْتَضَی مَذْہَبِ عُمَرَ وَابْنِ مَسْعُودٍ فِیمَنْ لَمْ یَجِدْ مَائً وَلاَ تُرَابًا أَنْ لاَ یُصَلِّی فَإِنَّہُمَا لَمْ یَرَیَا لِلْجُنُبِ طَہُورًا إِلاَّ الْمَائَ فَإِذَا لَمْ یَجِدْہُ قَالاَ لاَ یُصَلِّی۔ وَکَذَلِکَ فِیمَا۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۱۳۲۷]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی خَلَفٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ۔
وَمُقْتَضَی مَذْہَبِ عُمَرَ وَابْنِ مَسْعُودٍ فِیمَنْ لَمْ یَجِدْ مَائً وَلاَ تُرَابًا أَنْ لاَ یُصَلِّی فَإِنَّہُمَا لَمْ یَرَیَا لِلْجُنُبِ طَہُورًا إِلاَّ الْمَائَ فَإِذَا لَمْ یَجِدْہُ قَالاَ لاَ یُصَلِّی۔ وَکَذَلِکَ فِیمَا۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۱۳۲۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی اور مٹی نہ ملنے کا حکم
(١٠٣٠) سیدنا ابو وائل کہتے ہیں کہ ابو موسیٰ (رض) نے سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) سے کہا : اگر وہ پانی نہ پائے وہ نماز نہیں پڑھے گا، سیدنا عبداللہ (رض) نے کہا : جی ہاں، اگر میں ایک ماہ بھی پانی نہ پاؤں تو نماز نہیں پڑھوں گا ۔ اگر میں ان کو اس میں رخصت دوں تو جب ان میں سے کوئی ایک سردی محسوس کرے یعنی اس طرح تیمم کرے گا اور نماز پڑھ لے گا ۔ میں نے کہا : سیدنا عمر (رض) سے عمار (رض) کا قول کہاں گیا ؟ انھوں نے کہا : میں نہیں دیکھتا کہ سیدنا عمر (رض) نے عمار (رض) کے قول پر قناعت کی ہو۔
(۱۰۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ أَبُو الْحُسَیْنِ یَعْنِی الْجُرْجَانِیَّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ یَعْنِی ابْنَ خَالِدٍ الْفَارِضَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ أَبِی وَائِلٍ قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَی لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ : إِنْ لَمْ یَجِدِ الْمَائَ لاَ یُصَلِّی؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ : نَعَمْ إِنْ لَمْ أَجِدِ الْمَائَ شَہْرًا لَمْ أُصْلِّ ، لَوْ رَخَّصْتُ لَہُمْ فِی ہَذَا کَانَ إِذَا وَجَدَ أَحَدُہُمُ الْبَرْدَ قَالَ ہَکَذَا یَعْنِی التَّیَمُّمَ وَصَلَّی۔ قُلْتُ : فَأَیْنَ قَوْلُ عَمَّارٍ لِعُمَرَ؟ قَالَ : إِنِّی لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنِعَ بِقَوْلِ عَمَّارٍ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ بِشْرِ بْنِ خَالِدٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۳۹]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ بِشْرِ بْنِ خَالِدٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۳۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم میں نیت کرنا
(١٠٣١) سیدنا عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ ” اے لوگو ! اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور آدمی کے لیے وہی ہے جو اس نے نیت کی، جس نے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس کی ہجرت دنیا کی طرف ہے کہ اس کو حاصل کرلے گا یا عورت کی طرف کہ اس سے شادی کرلے گا تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔
(ب) سلیمان بن حرب کی حدیث میں ” أَیُّہَا النَّاسُ “ کے الفاظ نہیں ہے۔
(ب) سلیمان بن حرب کی حدیث میں ” أَیُّہَا النَّاسُ “ کے الفاظ نہیں ہے۔
(۱۰۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ الْمُؤَمِّلِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ الْوَاشِحِیُّ أَبُو أَیُّوبَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی عَلِیٍّ الْحَافِظُ الْمِہْرَجَانِیُّ وَأَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ الْمِہْرَجَانِیُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ وَمُسَدَّدٌ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّیْثِیِّ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ-ﷺ- یَقُولُ: ((أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّیَّۃِ، وَإِنَّمَا لاِمْرِئٍ مَا نَوَی، فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہُ إِلَی اللَّہِ وَرَسُولِہِ فَہِجْرَتُہُ إِلَی اللَّہِ وَرَسُولِہِ ، وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہُ إِلَی دُنْیَا یُصِیبُہَا أَوِ امْرَأَۃٍ یَتَزَوَّجُہَا فَہِجْرَتُہُ إِلَی مَا ہَاجَرَ إِلَیْہِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ لَیْسَ فِی حَدِیثِ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ : أَیُّہَا النَّاسُ ۔ وَالْبَاقِی سَوَائٌ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۳۸]
وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی عَلِیٍّ الْحَافِظُ الْمِہْرَجَانِیُّ وَأَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ الْمِہْرَجَانِیُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ وَمُسَدَّدٌ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّیْثِیِّ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ-ﷺ- یَقُولُ: ((أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّیَّۃِ، وَإِنَّمَا لاِمْرِئٍ مَا نَوَی، فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہُ إِلَی اللَّہِ وَرَسُولِہِ فَہِجْرَتُہُ إِلَی اللَّہِ وَرَسُولِہِ ، وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہُ إِلَی دُنْیَا یُصِیبُہَا أَوِ امْرَأَۃٍ یَتَزَوَّجُہَا فَہِجْرَتُہُ إِلَی مَا ہَاجَرَ إِلَیْہِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ لَیْسَ فِی حَدِیثِ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ : أَیُّہَا النَّاسُ ۔ وَالْبَاقِی سَوَائٌ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۳۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پہلے چہرے ، پھر ہاتھوں سے شروع کرنا
(١٠٣٢) نافع نے بیان کیا کہ میں سیدنا ابن عمر (رض) کے ساتھ ابن عباس (رض) کی طرف کسی کام کیلئے گیا، جب آپ (رض) نے اپنی حاجت کو پورا کر لیاتو انھوں نے یہ حدیث بیان کی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ کی کسی گلی میں قضائے حاجت یا پیشاب کے لیے نکلے، ایک شخص نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر مارا، اپنے چہرے کا ایک مرتبہ مسح کیا، پھر دوسری مرتبہ ہتھیلیوں کو مارا اور اپنے بازوؤں کا کہنیوں تک مسح کیا اور فرمایا : مجھے کسی نے منع نہیں کیا تھا کہ میں تیرے سلام کا جواب دوں مگر میرا وضو نہیں تھا یا فرمایا : میں طاہر نہیں تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، قریب تھا کہ وہ گلی میں چھپ جاتا۔
(۱۰۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِیُّ وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ یَعْنِی الْعَبْدِیَّ عَنْ نَافِعٍ قَالَ : انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فِی حَاجَۃٍ لاِبْنِ عُمَرَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَضَی ابْنُ عُمَرَ حَاجَتَہُ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَکَانَ مِنْ حَدِیثِہِ یَوْمَئِذٍ أَنْ قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فِی سِکَّۃٍ مِنَ السِّکَکِ ، وَقَدْ خَرَجَ مِنْ غَائِطٍ أَوْ مِنْ بَوْلٍ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ ، فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ السَّلاَمَ حَتَّی إِذَا کَادَ الرَّجُلُ أَنْ یَتَوَارَی مِنَ السِّکَّۃِ ضَرَبَ بِیَدَیْہِ عَلَی الْحَائِطِ ، فَمَسَحَ وَجْہَہُ ثُمَّ ضَرَبَ بِیَدَیْہِ ضَرْبَۃً أُخْرَی فَمَسَحَ ذِرَاعَیْہِ ، ثُمَّ رَدَّ عَلَی الرَّجُلِ السَّلاَمَ وَقَالَ : ((إِنَّہُ لَمْ یَمْنَعْنِی أَنْ أَرُدَّ عَلَیْکَ السَّلاَمَ إِلاَّ أَنِّی لَمْ أَکُنْ عَلَی طُہْرٍ))۔ لَفْظُ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَہُوَ أَتَّمُہُمَا۔ [منکر]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دائیں جانب سے شروع کرنا مستحب ہے
(١٠٣٣) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دائیں طرف سے کام (کی ابتدا) کرنا بہت اچھا لگتا تھا، مثلاً جوتا پہننے میں ، کنگھی کرنے میں ، وضو کرنے میں اور اپنے تمام کاموں میں۔
(۱۰۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ أَخْبَرَنِی أَشْعَثُ بْنُ سُلَیْمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -یُعْجِبُہُ التَّیَمُّنُ فِی تَنَعُّلِہِ وَتَرَجُّلِہِ وَطُہُورِہِ، وَفِی شَأْنِہِ کُلِّہِ۔
لَفْظُ حَدِیثِ الْحَوْضِیِّ وَحَدِیثِ بِشْرِ بْنِ عُمَرَ بِمَعْنَاہُ وَقَالَ عَنْ عَنْ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح]
لَفْظُ حَدِیثِ الْحَوْضِیِّ وَحَدِیثِ بِشْرِ بْنِ عُمَرَ بِمَعْنَاہُ وَقَالَ عَنْ عَنْ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی کو تیمم کافی ہے اگر اسے پانی نہ ملے
(١٠٣٤) عمران بن حصین خزاعی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو دیکھا جو الگ بیٹھا ہوا تھا ۔ اس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی، آپ نے فرمایا : ” اے فلاں ! کس چیز نے تم کو منع کیا تھا کہ لوگوں کے ساتھ نماز پڑھو ؟ اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں جنبی تھا اور پانی نہیں تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مٹی کو لازم پکڑتا وہ تجھے کافی تھی۔
(۱۰۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ یَعْنِی ابْنَ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا عَوْفٌ عَنْ أَبِی رَجَائٍ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ الْخُزَاعِیُّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -رَأَی رَجُلاً مُعْتَزِلاً لَمْ یُصَلِّ فِی الْقَوْمِ فَقَالَ : ((یَا فُلاَنُ مَا مَنَعَکَ أَنْ تُصَلِّیَ فِی الْقَوْمِ؟))۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَصَابَتْنِی جَنَابَۃٌ وَلاَ مَائَ ۔ فَقَالَ : ((عَلَیْکَ بِالصَّعِیدِ فَإِنَّہُ یَکْفِیکَ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۴۱]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۴۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی کو تیمم کافی ہے اگر اسے پانی نہ ملے
(١٠٣٥) ابن عبد الرحمن بن ابزیٰ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر (رض) بن خطاب کی خدمت میں حاضر ہوا ، انھیں سیدنا عمار بن یاسر (رض) نے کہا : آپ کو یاد ہے جب ہم ایک سریہ میں تھے، ہم جنبی ہوگئے تو میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا، پھر ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے ۔ ہم نے یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تجھ کو اس طرح کافی تھا اور تیمم کا طریقہ بیان کیا۔ “
(۱۰۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ ذَرٍّ عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی عَنْ أَبِیہِ قَالَ : شَہِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَہُ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ : تَذْکُرُ إِذْ کُنَّا فِی سَرِیَّۃٍ فَأَجْنَبْنَا فَتَمَرَّغْنَا فِی التُّرَابِ ، فَأَتَیْنَا النَّبِیَّ -ﷺ -فَذَکَرْنَا ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : ((إِنَّمَا کَانَ یَکْفِیکَ ہَذَا))۔ وَوَصَفَ ذَلِکَ یَعْنِی التَّیَمُّمَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی أَکْثَرِ النُّسَخِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ۔ [صحیح]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی أَکْثَرِ النُّسَخِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی کو تیمم کافی ہے اگر اسے پانی نہ ملے
(١٠٣٦) سیدنا عمار (رض) سے روایت ہے کہ میں ” رمل “ جگہ میں جنبی ہوگیا تو میں چوپائے کی طرح لوٹ پوٹ ہوا، پھر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تجھ کو تیمم کافی تھا۔ “
(۱۰۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ نَاجِیَۃَ بْنِ کَعْبٍ عَنْ عَمَّارٍ قَالَ : أَجْنَبْتُ فِی الرَّمْلِ فَتَمَعَّکْتُ تَمَعُّکَ الدَّابَّۃِ ، ثُمَّ أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ -فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ : ((کَانَ یَکْفِیکَ مِنْ ذَلِکَ التَّیَمُّمُ))۔ [صحیح لغیرہٖ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی کو تیمم کافی ہے اگر اسے پانی نہ ملے
(١٠٣٧) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے کہ جب یہ آیت { وَلاَ جُنُبًا إِلاَّ عَابِرِی سَبِیلٍ حَتَّی تَغْتَسِلُوا } مسافر کے متعلق نازل ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کوئی شخص جنبی ہوجائے اور وہ پانی نہ پائے تو تیمم کرے اور نماز پڑھے ۔ جب پانی مل جائے تو غسل کرلے۔
(۱۰۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُوالْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ: شُجَاعُ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِاللَّہِ وَلَیْسَ ہُوَ الْمَسْعُودِیُّ عَنِ الْمِنْہَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ : أُنْزِلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ فِی الْمُسَافِرِ {وَلاَ جُنُبًا إِلاَّ عَابِرِی سَبِیلٍ حَتَّی تَغْتَسِلُوا} قَالَ : إِذَا أَجْنَبَ فَلَمْ یَجِدِ الْمَائَ تَیَمَّمَ وَصَلَّی حَتَّی یُدْرِکَ الْمَائَ ، فَإِذَا أَدْرَکَ الْمَائَ اغْتَسَلَ۔ [صحیح لغیرہٖ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حائضہ اور نفاس والی عورتوں کو تیممکافی ہے اگر ان کا خون بند ہوجائے اور پانی نہ ملے
(١٠٣٨) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا : ہم ” رمل “ جگہ میں تھے اور ہم میں حائضہ، جنبی اور نفاس والی عورتیں موجود تھیں۔ ہم پر چار ماہ ایسے آئے کہ ہم نے پانی نہیں پایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مٹی کو لازم پکڑتے یعنی تیمم کرتے۔ “
(ب) اس حدیث میں مثنی راوی قوی نہیں ہے۔ (ج) یہ روایت حجاج بن ارطاۃ نے بیان کی ہے۔ صرف سند میں اختلاف ہے یعنی عن عمرو عن أبیہ عن جدہ۔ اس میں اس شخص کے متعلق سوال ہے جس کے پاس پانی نہ ہو، کیا وہ اپنی بیوی سے مجامعت کرسکتا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔
(ب) اس حدیث میں مثنی راوی قوی نہیں ہے۔ (ج) یہ روایت حجاج بن ارطاۃ نے بیان کی ہے۔ صرف سند میں اختلاف ہے یعنی عن عمرو عن أبیہ عن جدہ۔ اس میں اس شخص کے متعلق سوال ہے جس کے پاس پانی نہ ہو، کیا وہ اپنی بیوی سے مجامعت کرسکتا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔
(۱۰۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ یَعْنِی الثَّوْرِیَّ عَنِ الْمُثَنَّی بْنِ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : جَائَ أَعْرَابِیُّ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فَقَالَ : إِنَّا نَکُونُ فِی الرَّمْلِ وَفِینَا الْحَائِضُ وَالْجُنُبُ وَالنُّفَسَائُ ، فَیَأْتِی عَلَیْنَا أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ لاَ نَجِدُ الْمَائَ ۔ قَالَ : ((عَلَیْکَ بِالتُّرَابِ))۔ یَعْنِی التَّیَمُّمَ۔
ہَذَا حَدِیثٌ یُعْرَفُ بِالْمُثَنَّی بْنِ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرٍو۔ (ج) وَالْمُثَنَّی غَیْرُ قَوَّیٍّ۔
وَقَدْ رَوَاہُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ عَنْ عَمْرٍو إِلاَّ أَنَّہُ خَالَفَہُ فِی الإِسْنَادِ فَرَوَاہُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ وَاخْتَصَرَ الْمَتْنَ فَجَعَلَ السُّؤَالَ عَنِ الرَّجُلِ لاَ یَقْدِرُ عَلَی الْمَائِ أَیُجَامِعُ أَہْلَہُ؟ قَالَ : ((نَعَمْ))۔
[ضعیف۔ أخرجہ أبو یعلیٰ ۵۸۷۰]
ہَذَا حَدِیثٌ یُعْرَفُ بِالْمُثَنَّی بْنِ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرٍو۔ (ج) وَالْمُثَنَّی غَیْرُ قَوَّیٍّ۔
وَقَدْ رَوَاہُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ عَنْ عَمْرٍو إِلاَّ أَنَّہُ خَالَفَہُ فِی الإِسْنَادِ فَرَوَاہُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ وَاخْتَصَرَ الْمَتْنَ فَجَعَلَ السُّؤَالَ عَنِ الرَّجُلِ لاَ یَقْدِرُ عَلَی الْمَائِ أَیُجَامِعُ أَہْلَہُ؟ قَالَ : ((نَعَمْ))۔
[ضعیف۔ أخرجہ أبو یعلیٰ ۵۸۷۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حائضہ اور نفاس والی عورتوں کو تیممکافی ہے اگر ان کا خون بند ہوجائے اور پانی نہ ملے
(١٠٣٩) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ کچھدیہاتی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ہم ریت والے علاقے میں ہوتے ہیں، ہم پانی پر قدرت نہیں رکھتے اور نہ ہی تین ماہ یا چار ماہ تک پانی نہیں پاتے ( ابو ربیع کو شک ہے) اور ہمارے اندر نفاس والی عورتیں، حائضہ اور جنبی ہوتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” زمین (مٹی) کو لازم پکڑو۔ “
(ب) ابو ربیع سمان ضعیف ہے۔
(ب) ابو ربیع سمان ضعیف ہے۔
(۱۰۳۹) وَرَوَاہُ أَبُو الرَّبِیعِ السَّمَّانُ : أَشْعَثُ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ أَعْرَابًا أَتَوُا النَّبِیَّ -ﷺ -فَقَالُوا: یَارَسُولَ اللَّہِ إِنَّا نَکُونُ فِی ہَذِہِ الرِّمَالِ، لاَ نَقْدِرُ عَلَی الْمَائِ، وَلاَ نَرَی الْمَائَ ثَلاَثَۃَ أَشْہُرٍ أَوْ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ -شَکَّ أَبُو الرَّبِیعِ- وَفِینَا النُّفَسَائُ وَالْحَائِضُ وَالْجُنُبُ۔ قَالَ: ((عَلَیْکَ بِالأَرْضِ))۔
أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ السَّمَّانُ فَذَکَرَہُ۔ (ج) وَأَبُو الرَّبِیعِ السَّمَّانُ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف جدًا]
أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ السَّمَّانُ فَذَکَرَہُ۔ (ج) وَأَبُو الرَّبِیعِ السَّمَّانُ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف جدًا]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حائضہ اور نفاس والی عورتوں کو تیممکافی ہے اگر ان کا خون بند ہوجائے اور پانی نہ ملے
(١٠٤٠) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے اس شخص کے متعلق روایت ہے جو اپنے اونٹوں میں الگ رہتا تھا۔ سفیان کہتا ہے کہ مثنی بن صباح نے عمرو بن شعیب سے نقل کیا ہے کہ عمرو بن دینار کہتے ہیں : میں نے جابر بن زید کو کہتے ہوئے سنا کہ علی کہتے ہیں کہ میں نے سفیان سے کہا کہ شعبہ نے اس طرح جابر (رض) سے نقل کیا ہے۔ انھوں نے کہا : شعبہ حفاظ اور اہل صدق میں سے ہے، اس کی مراد باطل نہ تھی۔ (ج) شیخ کہتے ہیں کہ اس روایت کو ابن ابی عروبہ سے ضعیف سند کے ساتھبیان کیا گیا ہے۔
(۱۰۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی قَالَ سَمِعْتُ عَلِیَّ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یَقُولُ قُلْتُ لِسُفْیَانَ : إِنَّ أَبَا الرَّبِیعِ رَوَی عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فِی الرَّجُلِ یَعْزُبُ فِی إِبِلِہِ۔
فَقَالَ سُفْیَانُ : إِنَّمَا جَائَ بِہَذَا الْمُثَنَّی بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، وَإِنَّمَا قَالَ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَیْدٍ یَقُولُہُ۔ قَالَ عَلِیٌّ قُلْتُ لِسُفْیَانَ : إِنَّ شُعْبَۃَ رَوَاہُ ہَکَذَا عَنْ جَابِرٍ۔ فَقَالَ : إِنَّ شُعْبَۃَ کَانَ مِنْ أَہْلِ الْحِفْظِ وَالصِّدْقِ وَلَمْ یَکُنْ مِمَّنْ یُرِیدُ الْبَاطِلَ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ وَابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ إِنَّمَا سَمِعَہُ مِنْ أَبِی الرَّبِیعِ عَنْ عَمْرٍو کَذَلِکَ رَوَاہُ سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ۔ وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ ضَعِیفٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن عدی فی الکامل ۱/۳۷۸]
فَقَالَ سُفْیَانُ : إِنَّمَا جَائَ بِہَذَا الْمُثَنَّی بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، وَإِنَّمَا قَالَ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَیْدٍ یَقُولُہُ۔ قَالَ عَلِیٌّ قُلْتُ لِسُفْیَانَ : إِنَّ شُعْبَۃَ رَوَاہُ ہَکَذَا عَنْ جَابِرٍ۔ فَقَالَ : إِنَّ شُعْبَۃَ کَانَ مِنْ أَہْلِ الْحِفْظِ وَالصِّدْقِ وَلَمْ یَکُنْ مِمَّنْ یُرِیدُ الْبَاطِلَ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ وَابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ إِنَّمَا سَمِعَہُ مِنْ أَبِی الرَّبِیعِ عَنْ عَمْرٍو کَذَلِکَ رَوَاہُ سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ۔ وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ ضَعِیفٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن عدی فی الکامل ۱/۳۷۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حائضہ اور نفاس والی عورتوں کو تیمم کافی ہے اگر ان کا خون بند ہوجائے اور پانی نہ ملے
(١٠٤١) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ کچھ دیہاتی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور عرض کیا : ہم ریت والی جگہ میں ہوتے ہیں اور ہم پانی سے دو ، تین ماہ دور رہتے ہیں اور ہمارے اندر جنبی اور حائضہ ہوتیں ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مٹی کو لازم پکڑو۔ “
(۱۰۴۱) أَخْبَرَنَاہُ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِیلِ الصُّوفِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَلَمَۃَ الأَفْطَسُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : جَائَ الأَعْرَابُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ -فَقَالُوا : إِنَّا نَکُونُ بِالرَّمْلِ وَإِنَّا نَعْزُبُ عَنِ الْمَائِ الشَّہْرَیْنِ وَالثَّلاَثَۃَ ، وَفِینَا الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ۔ فَقَالَ : ((عَلَیْکُمْ بِالتُّرَابِ))۔
عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَلَمَۃَ الأَفْطَسُ ضَعِیفٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف۔ جدًا أخرجہ ابن عدی ۴/۱۹۶]
عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَلَمَۃَ الأَفْطَسُ ضَعِیفٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف۔ جدًا أخرجہ ابن عدی ۴/۱۹۶]
তাহকীক: