আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৭৩ টি
হাদীস নং: ১০৪১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی پانی کے بغیر اپنی بیوی سے جماع کر کے تیمم کرسکتا ہے
(١٠٤٢) سیدنا ابو قلابہ بنی عامر قبیلے کے ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں کہ میں اسلام میں داخل ہوا تو میرے دین نے مجھے فکر میں ڈال دیا، میں ابو ذر (رض) کے پاس آیا۔ ابو ذر (رض) نے کہا : مدینہ کی آب وہوا کو میں نے اپنے لیے ناموافق پایا، مجھ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹ اور بکریوں کا حکم دیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کا پیشاب پی۔ حماد کہتے ہیں : مجھے شک ہے کہ اس میں پیشاب کا بیان ہے یا نہیں ۔ ابوذر (رض) نے کہا : میں پانی سے دور تھا اور میرے ساتھ میری بیوی تھی میں جنبی ہوگیا تو میں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی، میں دوپہر کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کے ساتھ مسجد کے سایہ میں تشریف فرما تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابو ذر ! میں نے کہا : جی اے اللہ کے رسول ! میں ہلاک ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کس چیز نے تجھے ہلاک کردیا ؟ میں نے کہا : میں پانی سے دور تھا اور میری بیوی میرے ساتھ تھی، میں جنبی ہوگیا ۔ میں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے پانی لانے کا حکم دیا، سیاہ رنگ کی لونڈی برتن لے کر آئی جس میں پانی چھلک رہا تھا۔ میں نے اونٹ کی اوٹ میں پردہ کیا اور غسل کیا، پھر میں آیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو ذر ! پاک مٹی پاک کرنے والی ہے اگرچہ تجھے دس سال بھی پانی نہ ملے۔ جب پانی مل جائے تو اپنی جسمپر ڈالو۔
(۱۰۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ یَعْنِی ابْنَ سَلَمَۃَ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بِنَی عَامِرٍ قَالَ : دَخَلْتُ فِی الإِسْلاَمِ فَہَمَّنِی دِینِی فَأَتَیْتُ أَبَا ذَرٍّ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : إِنِّی اجْتَوَیْتُ الْمَدِینَۃَ ، فَأَمَرَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -بِذَوْدٍ وَبِغَنَمٍ ، فَقَالَ لِی : ((اشْرَبْ مِنْ أَلْبَانِہَا))۔ قَالَ حَمَّادٌ وَأَشُکُّ فِی : أَبْوَالِہَا ۔ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : فَکُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَائِ وَمَعِی أَہْلِی ، فَتُصِیبُنِی الْجَنَابَۃُ فَأُصَلِّی بِغِیْرِ طُہُورٍ ، فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ -بِنِصْفِ النَّہَارِ وَہُوَ فِی رَہْطٍ مِنْ أَصْحَابِہِ وَہُوَ فِی ظِلِّ الْمَسْجِدِ فَقَالَ : أَبُو ذَرٍّ؟ ۔ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، ہَلَکْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ : ((وَمَا أَہْلَکَکَ؟))۔ قُلْتُ : إِنِّی کُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَائِ وَمَعِی أَہْلِی ، فَتُصِیبُنِی الْجَنَابَۃُ ، فَأُصَلِّی بِغِیْرِ طُہُورٍ ، فَأَمَرَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -بِمَائٍ ، فَجَائَ تْ بِہِ جَارِیَۃٌ سَوْدَائُ بِعُسٍّ یَتَخَضْخَضُ مَا ہُوَ بِمَلآنَ ، فَتَسَتَّرْتُ إِلَی بَعِیرٍ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((یَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّ الصَّعِیدَ الطَّیِّبَ طَہُورٍ وَإِنْ لَمْ تَجِدِ الْمَائَ إِلَی عَشْرِ سِنِینَ ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَائَ فَأَمِسَّہُ جِلْدَکَ))۔
[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۳۳]
[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۳۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی پانی کے بغیر اپنی بیوی سے جماع کر کے تیمم کرسکتا ہے
(١٠٤٣) عمرو بن شعیب اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : کوئی شخص کسی دور جگہ میں ہو جہاں پانی نہ ہو تو کیا وہ اپنی بیوی سے جماع کرلے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں۔
(۱۰۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ -فَقَالَ : الرَّجُلُ یَغِیبُ لاَ یَقْدِرُ عَلَی الْمَائِ أَیُصِیبُ أَہْلَہُ ؟ قَالَ : ((نَعَمْ))۔
وَمِثْلُ ہَذَا بِالشَّوَاہِدِ یَقْوَی۔
وَحَدِیثُ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ الثَّابِتُ عَنْہُمَا شَاہِدٌ لِہَذَیْنِ۔ [منکر۔ أخرجہ احمد ۲/۲۲۵]
وَمِثْلُ ہَذَا بِالشَّوَاہِدِ یَقْوَی۔
وَحَدِیثُ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ الثَّابِتُ عَنْہُمَا شَاہِدٌ لِہَذَیْنِ۔ [منکر۔ أخرجہ احمد ۲/۲۲۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی پانی کے بغیر اپنی بیوی سے جماع کر کے تیمم کرسکتا ہے
(١٠٤٤) معاویہ بن حکیم اپنے چچا سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں پانی سے دور ہوتا ہوں اور میرے ساتھ میری اہلیہ ہوتی ہے کیا میں اس سے جماع کرسکتا ہوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہاں “ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں کئی مہینے غائب رہتا ہوں (یعنی گھر سے باہر رہتا ہوں) ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگرچہ تو تین سال بھی رہے۔ اس کے چچا کا نام حکیم بن معاویہ نمیری تھا۔
(۱۰۴۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ : مُوسَی بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ یَعْنِی ابْنَ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ یَعْنِی ابْنَ بَشِیرٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حَکِیمٍ عَنْ عَمِّہِ : قَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَغِیبُ عَنِ الْمَائِ وَمَعِی أَہْلِی أَفَأُصِیبُ مِنْہَا؟ قَالَ : ((نَعَمْ))۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَغِیبُ أَشْہُرًا۔ فَقَالَ : ((وَإِنْ مَکَثْتَ ثَلاَثَ سِنِینَ))۔ یُقَالُ عَمُّہُ حَکِیمُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ النُّمَیْرِیُّ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی پانی کے بغیر اپنی بیوی سے جماع کر کے تیمم کرسکتا ہے
(١٠٤٥) ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ وہ اپنی لونڈی کے پاس گئے، پھر انھوں نے تیمم کیا اور تیمم کی حالت میں ہی نماز پڑھائی۔
(۱۰۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ أَصَابَ مِنْ جَارِیَتِہِ وَأَنَّہُ تَیَمَّمُ فَصَلَّی بِہِمْ وَہُوَ مُتَیَمِّمٌ۔
وَأَمَّا غَسْلُ الْفَرْجِ وَالْکَلاَمُ فِی رُطُوبَۃِ فَرْجِ الْمَرْأَۃِ فَقَدْ نَقَلْنَاہُ فِی کِتَابِ الصَّلاَۃِ فِی بَابِ الأَنْجَاسِ۔
[صحیح۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱/۳۶]
وَأَمَّا غَسْلُ الْفَرْجِ وَالْکَلاَمُ فِی رُطُوبَۃِ فَرْجِ الْمَرْأَۃِ فَقَدْ نَقَلْنَاہُ فِی کِتَابِ الصَّلاَۃِ فِی بَابِ الأَنْجَاسِ۔
[صحیح۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱/۳۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کے بعد پانی مل جائے تو جنبی غسل کرے اور بےوضو وضو کرے
(١٠٤٦) عمران بن حصین (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں ساری رات چلے۔ رات کے آخری حصے میں ہم منزل پر پہنچے۔ ہم پڑاؤ کے لیے ٹھہر گئے اور مسافر کے لیے اس سے میٹھی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ہمیں سورج کی گرمی نے بیدار کیا جو پہلے بیدار ہوا وہ فلاں اور فلاں تھا (سیدنا عوف (رض) نے ان کا نام بھی لیا ہے) پھر چوتھے سیدنا عمر بن خطاب (رض) تھے، جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوتے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی بھی بیدار نہیں کرتا تھا بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود ہی بیدار ہوتے۔ اس لیے کہ ہم نہیں جانتے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نیند میں کیا نئی بات ہوتی تھی۔ راوی کہتا ہے : جب عمر (رض) بیدار ہوئے اور دیکھا جو لوگوں سے معاملہ پیش آیا تو ایک موٹا آدمی تھا۔ اس نے تکبیر اونچی آواز سے کہی، وہ تکبیر کہتا رہا اور اپنی آواز بلند کرتا رہا۔ یہاں تک کہ اس کی آواز پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوگئے، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوئے ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی جو ہمارے ساتھ واقعہ پیش تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی نقصان کی بات نہیں (عوف (رض) کو شک ہے ضَیْر کے الفاظ کہے یا ضَرَرَ کے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوچ کرو ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوچ کیا اور تھوڑی دیرچلے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اترے، پانی منگوایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا اور نماز کے لیے اذان کہی اور لوگوں کو نماز پڑھائی ۔ جب نماز سے پھرے تو دیکھا ایک شخص الگ بیٹھا ہوا تھا اس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے فلاں ! آپ کو کس چیز نے منع کیا تھا کہ آپ لوگوں کے ساتھ نماز پڑھتے ؟ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں جنبی تھا اور پانی نہیں تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مٹی کو لازم پکڑ وہ تجھے کافی ہے۔ راوی کہتا ہے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے لوگوں نے پیاس کی شکایت کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اترے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فلاں کو بلایا ( عوف (رض) نے ان کا نام بھی لیا ہے) اور علی (رض) کو بلایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم دونوں جاؤ ہمارے لیے پانی تلاش کرو ۔ ہم چلے اچانکہم ایسی عورت کے پاسپہنچے جو اپنے اونٹ پر دو مٹکوں کے درمیان تھی ۔ انھوں نے کہا : پانی کہاں ہے ؟ اس نے کہا : کل اس وقت پانی کی جگہ کو میں نے چھوڑا، ہماری جماعت پیچھے ہے۔ عبد الوہاب کہتے ہیں : یعنی وہ پیاسے ہیں، ان دونوں نے اس کو کہا : تم ہمارے ساتھ آؤ۔ اس نے کہا : کہاں ؟ انھوں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں۔ اس نے کہا : یہ وہی ہے جس کو صابی کہا جاتا ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں وہی جو تو مراد لے رہی ہے۔ تو چل وہ دونوں اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لے آئے اور انھوں نے اس کی باتیں بیان کیں اور اس کو اونٹ پر بیٹھنے کے لیے کہا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک برتن منگوایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مٹکوں کے منہ سے پانی نکلا، پانی میں کلی کی اور دوبارہ اس کو مٹکوں میں لوٹا دیا۔ پھر ان کے منہ کو بند کردیا اور اس کے پانی کے نکلنے کے سوراخ کو کھول دیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو فرمایا : پیو اور پلاؤ تو جس نے چاہا پیا اور جس نے چاہا پلایا اور آخر میں جس شخص کو جنابت تھی اس کو ایک برتن میں پانی دیا اور کہا : اپنے بدن پر اس پانی کو بہاؤ، وہ عورت اس کیفیت کو دیکھ رہی تھی اور اپنے پانی کے ساتھ ہونے والی حالت بھی دیکھ رہی تھی ۔ راوی کہتا ہے : قسم ہے اس شخص نے ضرورت کے مطابق پانی استعمال کیا اور یہیدکھائی دیتا تھا کہ وہ برتن پہلے سے زیادہ بھرا ہوا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس عورت کے لیے کچھ کھانے پینے کی اشیاء جمع کی جائیں تو انھوں نے اس کے لیے آٹا اور ستو جمعکر کے اس کے لیے کھانے کا سامان تیار کردیا اور اس کھانے کو کپڑے میں ڈال کر اس کے سامنے رکھ دیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس عورت کو مخاطب کر کے فرمانے لگے : اللہ کی قسم ! تو جانتی ہے تیرے پانی کو ہم نے کم نہیں کیا لیکن اللہ نے ہم کو پلایا۔ یہ عورت اپنے علاقے میں کچھ دیر سے پہنچی تو اہل قبیلہ نے کہا : کس چیز نے تجھے دیر کروائی تو اس عورت نے حیرت زدہ ہو کر کہا : دو آدمی میرے پاس آئے اور مجھے اس صابی (نعوزب اللہ) کے پاس لے گئے ۔ پھر اس عورت نے سارا واقعہ سنالیا اور کہنے لگی : قسم ہے یہ اس علاقے میں سب سے بڑا جادو گر ہے یا سچا رسول ہے۔ راوی کہتا ہے : بعد میں مسلمان ان کے علاقہ کے ارد گرد مشرکین پر حملہ کرتے تھے تو ان کے علاقے ہاتھ تک نہ لگاتے تھے تو اس عورت نے قبیلے والوں کہا : یہ قوم جان بوجھ کر تم کو چھوڑتے ہیں۔ کیا تم کو پسند نہیں کہ تم مسلمان ہو جاؤقوم ان کی بات مان کر تمام کے تمام مسلمان ہوگئی۔
(۱۰۴۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِی جَمِیلَۃَ عَنْ أَبِی رَجَائٍ الْعُطَارِدِیِّ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ : کُنَّا فِی سَفَرٍ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ -وَإِنَّا سِرْنَا لَیْلَۃً حَتَّی إِذَا کُنَّا فِی آخِرِ اللَّیْلِ وَقَعْنَا فِی تِلْکَ الْوَقْعَۃِ -وَلاَ وَقْعَۃَ أَحْلَی عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْہَا قَالَ -فَمَا أَیْقَظَنَا إِلاَّ حَرُّ الشَّمْسِ ، وَکَانَ أَوَّلَ مِنَ اسْتَیْقَظَ فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ -یُسَمِّیہِمْ عَوْفٌ -ثُمَّ کَانَ الرَّابِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ وَکَانَ النَّبِیُّ -ﷺ -إِذَا نَامَ لَمْ یُوقِظْہُ أَحَدٌ حَتَّی یَکُونَ ہُوَ الْمُسْتَیْقِظَ ، لأَنَّا لاَ نَدْرِی مَا یَحْدُثُ لَہُ فِی نَوْمِہِ -قَالَ -فَلَمَّا اسْتَیْقَظَ عُمَرُ وَرَأَی مَا أَصَابَ النَّاسَ -وَکَانَ رَجُلاً أَجْوَفَ جَلِیدًا -کَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَہُ بِالتَّکْبِیرِ قَالَ فَمَا زَالَ یُکَبِّرُ وَیَرْفَعُ صَوْتَہُ بِالتَّکْبِیرِ حَتَّی اسْتَیْقَظَ لِصَوْتِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -فَلَمَّا اسْتَیْقَظَ شَکَوْنَا إِلَیْہِ الَّذِی أَصَابَنَا فَقَالَ : ((لاَ ضَیْرَ)) أَوْ ((لاَ ضَرَرَ))۔ شَکَّ عَوْفٌ فَقَالَ : ((ارْتَحِلُوا))۔ فَارْتَحَلَ النَّبِیُّ -ﷺ - وَسَارَ غَیْرَ بَعِیدٍ فَنَزَلَ ، فَدَعَا بِوَضُوئٍ فَتَوَضَّأَ وَنَادَی بِالصَّلاَۃِ ، وَصَلَّی بِالنَّاسِ ، فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلاَتِہِ إِذَا رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ لَمْ یُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ فَقَالَ : ((مَا مَنَعَکَ یَا فُلاَنُ أَنْ تُصَلِّیَ مَعَ الْقَوْمِ؟))۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَصَابَتْنِی جَنَابَۃٌ وَلاَ مَائَ ۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((عَلَیْکَ بِالصَّعِیدِ فَإِنَّہُ یَکْفِیکَ))۔ قَالَ : فَسَارَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -فَشَکَا إِلَیْہِ النَّاسُ الْعَطَشَ قَالَ فَنَزَلَ فَدَعَا فُلاَنًا -یُسَمِّیہِ عَوْفٌ -وَدَعَا عَلِیًّا فَقَالَ : ((اذْہَبَا فَابْتَغِیَا لَنَا الْمَائَ))۔ فَانْطَلَقَا فَإِذَا ہُمَا بِامْرَأَۃٍ بَیْنَ مَزَادَتَیْنِ أَوْ سَطِیحَتَیْنِ مِنْ مَائٍ عَلَی بَعِیرٍ لَہَا قَالَ فَقَالاَ لَہَا : أَیْنَ الْمَائُ؟ قَالَتْ : عَہْدِی بِالْمَائِ أَمْسِ ہَذِہِ السَّاعَۃَ ، وَنَفَرُنَا خُلُوفٌ -قَالَ عَبْدُ الْوَہَّابِ : یَعْنِی عِطَاشٌ - قَالَ فَقَالاَ لَہَا : انْطَلِقِی إِذًا۔ فَقَالَتْ : إِلَی أَیْنَ؟ فَقَالاَ : إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ قَالَتْ : ہُوَ الَّذِی یُقَالُ لَہُ الصَّابِئُ؟ قَالاَ : ہُوَ الَّذِی تَعْنِینَ فَانْطَلِقِی۔ قَالَ : فَجَائَ ا بِہَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -وَحَدَّثَاہُ الْحَدِیثَ ، فَاسْتَنْزَلَہَا عَنْ بَعِیرِہَا ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -بِإِنَائٍ فَأَفْرَغَ فِیہِ مِنْ أَفْوَاہِ الْمَزَادَتَیْنِ أَوِ السَّطِیحَتَیْنِ ، فَمَضْمَضَ فِی الْمَائِ وَأَعَادَہُ فِی أَفْوَاہِ الْمَزَادَتَیْنِ أَوِ السَّطِیحَتَیْنِ ثُمَّ أَوْکَأَ أَفْوَاہَہُمَا ، وَأَطْلَقَ الْعَزَالِیَ ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ : ((اشْرَبُوا اسْتَقُوا))۔ فَاسْتَقَی مَنْ شَائَ ، وَشَرِبَ مَنْ شَائَ۔
قَالَ وَکَانَ آخِرَ ذَلِکَ أَنْ أَعْطَی الَّذِی أَصَابَتْہُ الْجَنَابَۃُ إِنَائً مِنْ مَائٍ فَقَالَ : اذْہَبْ فَأَفْرِغْہُ عَلَیْکَ ۔ وَہْیَ قَائِمَۃٌ تُبْصِرُ مَا یُفْعَلُ بِمَائِہَا قَالَ وَایْمُ اللَّہِ مَا أَقْلَعَ عَنْہَا حِینَ أَقْلَعَ وَإِنَّہُ یُخَیَّلُ إِلَیْنَا أَنَّہَا أَمْلأُ مِنْہَا حِینَ ابْتَدَأَ فِیہَا ، فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ -: ((اجْمَعُوا لَہَا))۔ فَجَمَعُوا لَہَا مِنْ بَیْنِ دُقَیِّقَۃٍ وَسُوَیِّقَۃٍ حَتَّی جَمَعُوا لَہَا طَعَامًا ، وَجَعَلُوہُ فِی ثَوْبِہَا فَحَمَلُوہُ وَوَضَعُوہُ بَیْنَ یَدَیْہَا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((تَعْلَمِینَ وَاللَّہِ إِنَّا مَا رَزَأْنَا مِنْ مَائِکِ شَیْئًا ، وَلَکِنَّ اللَّہَ ہُوَ الَّذِی سَقَانَا))۔ قَالَ : فَأَتَتْ أَہْلَہَا وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَلَیْہِمْ فَقَالُوا لَہَا : مَا حَبَسَکِ یَا فُلاَنَۃُ؟ قَالَتْ : الْعَجَبُ أَتَانِی رَجُلاَنِ فَذَہَبَا بِی إِلَی ہَذَا الصَّابِئِ ، فَفَعَلَ بِمَائِی کَذَا وَکَذَا لِلَّذِی کَانَ ، فَوَاللَّہِ إِنَّہُ لأَسْحَرُ مِنْ بَیْنِ ہَذِہِ وَہَذِہِ أَوْ إِنَّہُ لَرَسُولُ اللَّہِ حَقًّا۔ قَالَ : فَکَانَ الْمُسْلِمُونَ یُغِیرُونَ عَلَی مَنْ حَوْلِہَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ وَلاَ یُصِیبُونَ الصِّرْمَ الَّذِی ہِیَ فِیہِ ، فَقَالَتْ یَوْمًا لِقَوْمِہَا : إِنَّ ہَؤُلاَئَ الْقَوْمَ عَمْدًا یَدَعُونَکُمْ ، ہَلْ لَکُمْ فِی الإِسْلاَمِ؟ فَأَطَاعُوہَا فَجَائُوا جَمِیعًا فَدَخَلُوا فِی الإِسْلاَمِ۔
مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ حَدِیثِ عَوْفٍ۔
قَالَ وَکَانَ آخِرَ ذَلِکَ أَنْ أَعْطَی الَّذِی أَصَابَتْہُ الْجَنَابَۃُ إِنَائً مِنْ مَائٍ فَقَالَ : اذْہَبْ فَأَفْرِغْہُ عَلَیْکَ ۔ وَہْیَ قَائِمَۃٌ تُبْصِرُ مَا یُفْعَلُ بِمَائِہَا قَالَ وَایْمُ اللَّہِ مَا أَقْلَعَ عَنْہَا حِینَ أَقْلَعَ وَإِنَّہُ یُخَیَّلُ إِلَیْنَا أَنَّہَا أَمْلأُ مِنْہَا حِینَ ابْتَدَأَ فِیہَا ، فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ -: ((اجْمَعُوا لَہَا))۔ فَجَمَعُوا لَہَا مِنْ بَیْنِ دُقَیِّقَۃٍ وَسُوَیِّقَۃٍ حَتَّی جَمَعُوا لَہَا طَعَامًا ، وَجَعَلُوہُ فِی ثَوْبِہَا فَحَمَلُوہُ وَوَضَعُوہُ بَیْنَ یَدَیْہَا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((تَعْلَمِینَ وَاللَّہِ إِنَّا مَا رَزَأْنَا مِنْ مَائِکِ شَیْئًا ، وَلَکِنَّ اللَّہَ ہُوَ الَّذِی سَقَانَا))۔ قَالَ : فَأَتَتْ أَہْلَہَا وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَلَیْہِمْ فَقَالُوا لَہَا : مَا حَبَسَکِ یَا فُلاَنَۃُ؟ قَالَتْ : الْعَجَبُ أَتَانِی رَجُلاَنِ فَذَہَبَا بِی إِلَی ہَذَا الصَّابِئِ ، فَفَعَلَ بِمَائِی کَذَا وَکَذَا لِلَّذِی کَانَ ، فَوَاللَّہِ إِنَّہُ لأَسْحَرُ مِنْ بَیْنِ ہَذِہِ وَہَذِہِ أَوْ إِنَّہُ لَرَسُولُ اللَّہِ حَقًّا۔ قَالَ : فَکَانَ الْمُسْلِمُونَ یُغِیرُونَ عَلَی مَنْ حَوْلِہَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ وَلاَ یُصِیبُونَ الصِّرْمَ الَّذِی ہِیَ فِیہِ ، فَقَالَتْ یَوْمًا لِقَوْمِہَا : إِنَّ ہَؤُلاَئَ الْقَوْمَ عَمْدًا یَدَعُونَکُمْ ، ہَلْ لَکُمْ فِی الإِسْلاَمِ؟ فَأَطَاعُوہَا فَجَائُوا جَمِیعًا فَدَخَلُوا فِی الإِسْلاَمِ۔
مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ حَدِیثِ عَوْفٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کے بعد پانی مل جائے تو جنبی غسل کرے اور بےوضو وضو کرے
(١٠٤٧) عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ ایک رات وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سفر میں تھے۔ جب صبح ہونے کے قریب تھی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑاؤ ڈالا۔ تمام لوگ سو گئے یہاں تک کہ سورج بلند ہونے لگا، سب سے پہلے سیدنا ابوبکر (رض) کی آنکھ کھلی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی بیدار نہ کرتا تھا ۔ یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود جاگتے، پھر سیدنا عمر (رض) اٹھے تو وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر کے قریب بیٹھ کر اونچی آواز سے تکبیر کہنے لگے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ سورج چمک رہا ہے تو فرمایا : یہاں سے کوچ کرو، صحابہ کرام نے وہاں سے کوچ کیا یہاں تک کہ سورج سفید ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑاؤ ڈالا اور نماز پڑھی، اسی دوران ایک شخص نے ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تم نے نماز کیوں نہیں پڑھی تو اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں جنبی ہوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ تم تیمم کر کے نماز پڑھو اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے چند شہسواروں کے ساتھ پانی ڈھونڈنے کے لیے بھیجا، اس حال میں کہ ہم شدید پیاسے تھے۔ ابھی ہم پانی کی تلاش میں تھے کہ ایک عورت پر نظر پڑی، جس کے سر پر دو مشکیزے تھے ۔ ہم نے اس سے پوچھا : پانی کہاں ہے ؟ اس نے کہا : اوہ یہاں پانی کہاں سے آیا ۔ ہم نے کہا : تمہاری علاقے اور پانی کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ تو اس نے کہا : ایک دن اور ایک رات۔ صحابہ نے کہا : تو ہمارے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چل۔ اس نے کہا : کیا رسول اللہ کے پاس ؟ ہم نے اس سے کچھ گفتگو نہ کی اور اسے آپ کے پاس لے آئے، اس نے پھر وہی بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے دہرائی اور یہ بھی کہا کہ لوگ میرے انتظار میں ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے دونوں مشکیزوں کو اتروایا اور ان کا منہ کھول کر اس میں لعاب ڈالا تو ہم چالیس پیاسے لوگوں نے اس قدر پیا کہ ہم سیر ہوگئے اور تمام برتن بھر لیے اور اس جنبی کو بھی غسل کروادیا، لیکن ہم نے کسی بھی جانور کو پانی نہ پلایا اور مشکیزے پانی کی کثرت کی وجہ سے چھلکنے لگے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں کہا، جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ ! تو ہم نے روٹی کے ٹکڑے اور کھجور جمع کر کے ایک تھیلے میں آپ کی خدمت میں پیش کردیے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت سے کہا : یہ لے جاؤ اور اہل خانہ کو کھلاؤ۔
(۱۰۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخَوَارِزْمِیُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ النَّیْسَابُورِیُّ وَہُوَ أَخُو أَبِی عَمْرِو بْنِ حَمْدَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِیرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا رَجَائٍ یَقُولُ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ : أَنَّہُ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فِی مَسِیرٍ فَأَدْلَجُوا لَیْلَتَہُمْ حَتَّی إِذَا کَانُوا فِی وَجْہِ الصُّبْحِ عَرَّسَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -فَغَلَبَتْہُمْ أَعْیُنُہُمْ حَتَّی ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ ، فَکَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَیْقَظَ مِنْ مَنَامِہِ أَبُو بَکْرٍ ، وَکَانَ لاَ یُوقِظُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -مِنْ مَنَامِہِ أَحَدٌ حَتَّی یَسْتَیْقِظَ النَّبِیُّ -ﷺ -فَاسْتَیْقَظَ عُمَرُ فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِہِ فَجَعَلَ یُکَبِّرُ وَیَرْفَعُ صَوْتَہُ حَتَّی اسْتَیْقَظَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -فَلَمَّا اسْتَیْقَظَ رَأَی الشَّمْسَ قَدْ بَزَغَتْ قَالَ : ((ارْتَحِلُوا))۔ فَسَارَ بِنَا حَتَّی ابْیَضَّتِ الشَّمْسُ ، فَنَزَلَ فَصَلَّی ، فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَلَمْ یُصَلِّ مَعَنَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : ((یَا فُلاَنُ مَا مَنَعَکَ أَنْ تُصَلِّیَ مَعَنَا؟))۔ قَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّمَا أَصَابَتْنِی جَنَابَۃٌ۔ فَأَمَرَہُ أَنْ یَتَیَمَّمَ بِالصَّعِیدِ ثُمَّ صَلَّی ، وَعَجَلَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -فِی رُکُوبٍ بَیْنَ یَدَیْہِ لِطَلَبِ الْمَائِ ، وَکُنَّا قَدْ عَطِشْنَا عَطَشًا شَدِیدًا ، فَبَیْنَمَا نَحْنُ نَسِیرُ إِذَا نَحْنُ بِامْرَأَۃٍ سَادِلَۃٍ رِجْلَیْہَا بَیْنَ مَزَادَتَیْنِ ، فَقُلْنَا لَہَا : أَیْنَ الْمَائُ؟ فَقَالَتْ : أَیْہَاہْ أَیْہَاہْ لاَ مَائَ ۔ فَقُلْنَا : کُمْ بَیْنَ أَہْلِکِ وَبَیْنَ الْمَائِ؟ قَالَتْ : یَوْمٌ وَلَیْلَۃٌ۔ قُلْنَا : انْطَلِقِی إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ فَقَالَتْ : وَمَا رَسُولُ اللَّہِ؟ فَلَمْ نُمَلِّکْہَا مِنْ أَمْرِہَا شَیْئًا حَتَّی اسْتَقْبَلْنَا بِہَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -فَحَدَّثَتْہُ بِمِثْلِ الَّذِی حَدَّثَتْنَا غَیْرَ أَنَّہَا حَدَّثَتْہُ أَنَّہَا مُؤْتِمَۃٌ ، فَأَمَرَ بِمَزَادَتَیْہَا فَمَجَّ فِی الْعَزْلاَوَیْنِ الْعُلْیَاوَیْنِ ، فَشَرِبْنَا عِطَاشًا أَرْبَعِینَ رَجُلاً حَتَّی رَوِینَا وَمَلأْنَا کُلَّ قِرْبَۃٍ مَعَنَا وَإِدَاوَۃٍ ، وَغَسَلْنَا صَاحِبَنَا غَیْرَ أَنَّا لَمْ نَسْقِ بَعِیرًا وَہِیَ تَکَادُ تَنُضُّ مِنَ الْمِلْئِ ، ثُمَّ قَالَ لَنَا : ((ہَاتُوا مَا عِنْدَکُمْ))۔ فَجَمَعْنَا لَہَا مِنَ الْکِسَرِ وَالتَّمْرِ حَتَّی صَرَّ لَہَا صُرَّۃً فَقَالَ لَہَا : ((اذْہَبِی فَأَطْعِمِی ہَذَا عِیَالَکِ ، وَاعْلَمِی أَنَّا لَمْ نَرْزَأْ مِنْ مَائِکِ شَیْئًا))۔ فَلَمَّا أَتَتْ أَہْلَہَا قَالَتْ : لَقَدْ لَقِیتُ أَسْحَرَ النَّاسِ أَوْ ہُوَ نَبِیٌّ کَمَا زَعَمُوا۔ فَہَدَی اللَّہُ ذَلِکَ الصِّرْمَ بِتِلْکَ الْمَرْأَۃِ فَأَسْلَمَتْ وَأَسْلَمُوا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِیدِ عَنْ سَلْمِ بْنِ زَرِیرٍ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِیدِ عَنْ سَلْمِ بْنِ زَرِیرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کے بعد پانی مل جائے تو جنبی غسل کرے اور بےوضو وضو کرے
(١٠٤٨) سیدنا عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص سے فرمایا : تجھے نماز پڑھنے سے کس چیز نے منع کیا تھا ؟ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں جنبی تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مٹی سے تیمم کر، جب فارغ ہوجائے تو نماز پڑھ اور پانی مل جائے تو غسل کر۔ “
(۱۰۴۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ وَہُوَ ابْنُ بُکَیْرٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ النَّاجِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو رَجَائٍ الْعُطَارِدِیُّ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ لِلرَّجُلِ : ((مَا مَنَعَکَ أَنْ تُصَلِّیَ؟))۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَصَابَتْنِی جَنَابَۃٌ۔ قَالَ : ((فَتَیَمَّمْ بِالصَّعِیدِ فَإِذَا فَرَغْتَ فَصْلِّ ، فَإِذَا أَدْرَکْتَ الْمَائَ فَاغْتَسِلْ))۔ وَذَکَرُوا الْحَدِیثَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کے بعد پانی مل جائے تو جنبی غسل کرے اور بےوضو وضو کرے
(١٠٤٩) ناجیہ بن کعب کہتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود اور عمار (رض) نے اس شخص کے متعلق بحث و تکرار کی جو جنبی ہوگیا تھا اور پانی نہیں ملا تھا، سیدنا ابن مسعود (رض) نے فرمایا : وہ نماز نہیں پڑھے گا جب تک اسے پانی نہ ملے اور سیدنا عمار (رض) نے فرمایا : میں اونٹوں (کے باڑے) میں تھا ۔ میں جنبی ہوگیا ۔ میرے پاس پانی نہیں تھا۔ میں (مٹی میں) لوٹ پوٹ ہواجی سے چوپایہ کرتا ہے، پھر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (یہ واقعہ) ذکر کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” پاک مٹی سے تیمم کافی تھا جب تجھے پانی مل جائے تو غسل کرلے۔ “
(۱۰۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مِہْرَانَ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ نَاجِیَۃَ بْنِ کَعْبٍ قَالَ : تَمَارَی ابْنُ مَسْعُودٍ وَعَمَّارٌ فِی الرَّجُلِ تُصِیبُہُ الْجَنَابَۃُ وَلاَ یَجِدُ الْمَائَ ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : لاَ یُصَلِّی حَتَّی یَجِدَ الْمَائَ ۔ وَقَالَ عَمَّارٌ : کُنْتُ فِی الإِبِلِ فَأَصَابَتْنِی جَنَابَۃٌ ، فَلَمْ أَقْدِرْ عَلَی الْمَائِ فَتَمَعَّکْتُ کَمَا تَتَمَعَّکُ یَعْنِی الدَّوَابَّ ، ثُمَّ أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ -فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ، فَقَالَ: ((إِنَّمَا کَانَ یَکْفِیکَ مِنْ ذَلِکَ التَّیَمُّمُ بِالصَّعِیدِ، فَإِذَا قَدَرْتَ عَلَی الْمَائِ اغْتَسَلْتَ))۔[صحیح لغیرہٖ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کے بعد پانی مل جائے تو جنبی غسل کرے اور بےوضو وضو کرے
(١٠٥٠) سیدنا ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مال غنیمت جمع ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوذر ! میں جنبی ہوگیا تو پانچ یا چھ دن ٹھہرا رہا، پھر میں رسول اللہ کے پاس آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابو ذر ! میں خاموش ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے ابو ذر ! تیری ماں تجھے گم پائے تیری ماں کیلئے ہلاکت ہو۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لونڈی کو بلایا وہ پانی کا ایک برتن لے کر آئی، اس نے مجھے اپنے کپڑے کے ساتھ پردہ کیا اور میں نے پالان سے پردہ کیا، پھر میں نے غسل کیا گویا مجھ سے پہاڑہٹ گیا ہو، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” پاک مٹی مسلمان کا وضو ہے، اگرچہ دس سال نہ ملے اور جب تجھے پانی مل جائے اپنے جسم پر بہا ، یہ بہتر ہے۔
(۱۰۵۰) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ : اجْتَمَعَتْ غُنَیْمَۃٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فَقَالَ : یَا أَبَا ذَرٍّ ابْدُ فِیہَا ۔ فَبَدَوْتُ إِلَی الرَّبَذَۃِ ، فَکَانَتْ تُصِیبُنِی الْجَنَابَۃُ فَأَمْکُثُ الْخَمْسَ وَالسِّتَّ ، فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -فَقَالَ : ((أَبُو ذَرٍّ))۔ فَسَکَتُّ فَقَالَ : ((ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ أَبَا ذَرٍّ ، لأُمِّکَ الْوَیْلُ))۔ فَدَعَا بِجَارِیَۃٍ فَجَائَ تْ بِعُسٍّ مِنْ مَائٍ ، فَسَتَرَنِی بِثَوْبِی ، وَاسْتَتَرْتُ بِالرَّاحِلَۃِ فَاغْتَسَلَتُ ، فَکَأَنِّی أَلْقَیْتُ عَنِّی جَبَلاً ، فَقَالَ : ((الصَّعِیدُ الطَّیِّبُ وَضُوئُ الْمُسْلِمِ وَلَوْ إِلَی عَشْرِ سِنِینَ ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَائَ فَأَمْسِسْہُ جِلْدَکَ فَإِنَّ ذَلِکَ خَیْرٌ))۔ [صحیح لغیرہٖ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کے بعد پانی مل جائے تو جنبی غسل کرے اور بےوضو وضو کرے
(١٠٥١) خالد حذاء نے اسی طرح بیان کیا ہے فرماتے ہیں : میں نے ابو ذر (رض) سے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس صدقہ کی بکریاں اکٹھی ہوئیں۔ ابوذر (رض) نے ” ابل “ اور ” ویل “ کا ذکر نہیں کیا۔ باقی اسی کے معنی میں ہے۔
(۱۰۵۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ … فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ وَقَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ یَقُولُ: اجْتَمَعَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -غَنَمٌ مِنْ غَنَمِ الصَّدَقَۃِ۔ وَلَمْ یَذْکُرِ الإِبِلَ وَالْوَیْلَ وَالْبَاقِی بِمَعْنَاہُ۔
[صحیح لغیرہٖ]
[صحیح لغیرہٖ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کر کے نماز شروع کی اور دوران نماز پانی نظر آجائے (تو کیا کرے)
ہمارے بعض اصحاب نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان کے عموم سے دلیل لی ہے : وہ نماز سے نہ پلٹے جب تک آواز یا بو نہ پالے اور سیدنا ابو سعید خدری (رض) کی حدیث کے عموم سے بھی دلیللی ہے۔ ” کوئی چیز نماز کو ختم نہیں کرتی اور تم جہاں تک ممکن ہو انھیں دور کرو۔ “
ہمارے بعض اصحاب نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان کے عموم سے دلیل لی ہے : وہ نماز سے نہ پلٹے جب تک آواز یا بو نہ پالے اور سیدنا ابو سعید خدری (رض) کی حدیث کے عموم سے بھی دلیللی ہے۔ ” کوئی چیز نماز کو ختم نہیں کرتی اور تم جہاں تک ممکن ہو انھیں دور کرو۔ “
(١٠٥٢) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وضوصرف آواز سے یا بدبو سے ٹوٹتا۔
(ب) اس مسئلہ میں اس حدیث اور سیدنا ابو سعید (رض) والی روایت سے استدلال درست نہیں۔
(ب) اس مسئلہ میں اس حدیث اور سیدنا ابو سعید (رض) والی روایت سے استدلال درست نہیں۔
(۱۰۵۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -قَالَ : ((لاَ وُضُوئَ إِلاَّ مِنْ صَوْتٍ أَوْ رِیحٍ))۔
وَالاِسْتِدْلاَلُ بِہَذَا الْحَدِیثِ فِی ہَذِہِ الْمَسْأَلَۃِ لاَ یَصِحُّ وَلاَ بِحَدِیثِ أَبِی سَعِیدٍ۔ [صحیح]
وَالاِسْتِدْلاَلُ بِہَذَا الْحَدِیثِ فِی ہَذِہِ الْمَسْأَلَۃِ لاَ یَصِحُّ وَلاَ بِحَدِیثِ أَبِی سَعِیدٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کر کے نماز شروع کی اور دوران نماز پانی نظر آجائے (تو کیا کرے)
ہمارے بعض اصحاب نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان کے عموم سے دلیل لی ہے : وہ نماز سے نہ پلٹے جب تک آواز یا بو نہ پالے اور سیدنا ابو سعید خدری (رض) کی حدیث کے عموم سے بھی دلیللی ہے۔ ” کوئی چیز نماز کو ختم نہیں کرتی اور تم جہاں تک ممکن ہو انھیں دور کرو۔ “
ہمارے بعض اصحاب نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان کے عموم سے دلیل لی ہے : وہ نماز سے نہ پلٹے جب تک آواز یا بو نہ پالے اور سیدنا ابو سعید خدری (رض) کی حدیث کے عموم سے بھی دلیللی ہے۔ ” کوئی چیز نماز کو ختم نہیں کرتی اور تم جہاں تک ممکن ہو انھیں دور کرو۔ “
(١٠٥٣) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” نماز کو حدث ختم کرتی ہے اور میں تم سے شرم محسوس نہیں کرتا (مسئلہ بیان کرنے میں) جس سے رسول اللہ نے شرم نہیں کی۔ حدث یہ ہے کہ بغیر آواز کے یا آواز کے ساتھ کوئی چیز خارج ہو۔
(۱۰۵۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ عَلِیٍّ عَنْ أَبِی سِنَانٍ : ضِرَارِ بْنِ مُرَّۃَ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ عَلِیٍّ أَنَّہُ قَالَ عَلَی الْمِنْبَرِ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ : ((لاَ یَقْطَعُ الصَّلاَۃَ إِلاَّ الْحَدَثُ))۔ وَلاَ أَسْتَحْیِیکُمْ مِمَّا لَمْ یَسْتَحِی مِنْہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -وَالْحَدَثُ أَنْ تَفْسُو أَوْ تَضْرُطَ۔
تَفَرَّدَ بِہِ حَبَّانُ بْنُ عَلِیٍّ الْعَنَزِیُّ۔ [ضعیف۔ أخرجہ عبد اللہ فی زوائد المسند ۱/۱۳۸]
تَفَرَّدَ بِہِ حَبَّانُ بْنُ عَلِیٍّ الْعَنَزِیُّ۔ [ضعیف۔ أخرجہ عبد اللہ فی زوائد المسند ۱/۱۳۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر نماز کے لیے تیمم کرنا
(١٠٥٤) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ہر نماز کے لیے تیمم کیا جائے گا، اگرچہ وہ بےوضو نہ ہوا ہو۔
(۱۰۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَامِرٍ یَعْنِی الأَحْوَلَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : یَتَیَمَّمُ لِکُلِّ صَلاَۃٍ وَإِنْ لَمْ یُحَدِّثْ۔ إِسْنَادُہُ صَحِیحٌ۔ (ت) وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ [حسن۔ أخرجہ المؤلف فی المعرفۃ ۳۳۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر نماز کے لیے تیمم کرنا
(١٠٥٥) سیدنا علی (رض) فرماتے ہیں کہ ہر نماز کے لیے تیمم کرے گا۔
(۱۰۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ یَعْنِی ابْنَ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : یَتَیَمَّمُ لِکُلِّ صَلاَۃٍ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الدارقطنی ۱/۱۸۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر نماز کے لیے تیمم کرنا
(١٠٥٦) سیدنا قتادۃ (رض) سے روایت ہے کہ سیدنا عمرو بن عاص (رض) جب بےوضو ہوتے تو ہر نماز کے لیے تیمم کرتے اور سیدنا قتادہ (رض) اسی کو بطور دلیل لیتے تھے۔
(۱۰۵۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ یَعْنِی الْحَنْظَلِیَّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَۃَ : أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ کَانَ یُحْدِثُ لِکُلِّ صَلاَۃٍ تَیَمُّمًا۔ وَکَانَ قَتَادَۃُ یَأْخُذُ بِہِ۔ وَہَذَا مُرْسَلٌ۔ [ضعیف۔ أخرجہ عبد الرزاق ۸۳۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر نماز کے لیے تیمم کرنا
(١٠٥٧) سیدنا ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ آدمی ایک تیمم سے ایک نماز پڑھے، پھر دوسری نماز کے لیے نیا تیمم کرے۔ (ب) علی کہتے ہیں کہ حسن بن عمارہ ضعیف ہے۔ (ج) میں کہتا ہوں کہ ابو یحییٰ حمانی نے حسن بن عمارہ سے روایت کیا ہے۔
(۱۰۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْفَارِسِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَۃَ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مِنَ السُّنَّۃِ أَنْ لاَ یُصَلِّیَ الرَّجُلُ بِالتَّیَمُّمِ إِلاَّ صَلاَۃً وَاحِدَۃً ، ثُمَّ یَتَیَمَّمَ لِلصَّلاَۃِ الأُخْرَی۔
قَالَ عَلِیٌّ: الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَۃَ ضَعِیفٌ۔
قُلْتُ: وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو یَحْیَی الْحِمَّانِیُّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَۃَ۔ [باطل]
قَالَ عَلِیٌّ: الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَۃَ ضَعِیفٌ۔
قُلْتُ: وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو یَحْیَی الْحِمَّانِیُّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَۃَ۔ [باطل]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر نماز کے لیے تیمم کرنا
(١٠٥٨) سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک تیمم کے ساتھ ایک نماز پڑھی جائے۔ (ب) اسی طرح اس حدیث کو ابن زنجویہ نے عبدالرزاق سے، اس نے حسن سے روایت کیا ہے اور حسن بن عمارہ قابل حجت نہیں۔
(۱۰۵۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَۃَ عَنِ الْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ عَنْ مُجَاہِدِ بْنِ جَبْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ : لاَ یُصَلِّی بِالتَّیَمُّمِ إِلاَّ صَلاَۃً وَاحِدَۃً۔
وَہَکَذَا رَوَاہُ ابْنُ زَنْجَوَیْہِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنِ الْحَسَنِ۔ وَالْحَسَنُ بْنُ عُمَارَۃَ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ۔ [باطل]
وَہَکَذَا رَوَاہُ ابْنُ زَنْجَوَیْہِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنِ الْحَسَنِ۔ وَالْحَسَنُ بْنُ عُمَارَۃَ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ۔ [باطل]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد تیمم کرنا
(١٠٥٩) سیدنا ابو امامہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ نے مجھے تمام انبیاء پر فضیلت دی ہے یا فرمایا : میری امت دوسری امتوں پر چار وجہ سے فضیلت رکھتی ہے : اللہ نے مجھے تمام لوگوں کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا اور اس نے تمام زمین میرے لیے اور میری امت کیلئے پاک اور مسجد بنادی ہے، میری امت میں سے جہاں بھی آدمی نماز کا وقت پالے تو اس کے پاس اس کی مسجد اور وضو ہے اور میں رعب سے مدد کیا گیا ہوں جو میرے آگے ایک ماہ کی مسافت سے چلتا ہے جو میرے دشمنوں کے دلوں میں رعب ڈالا جاتا ہے اور میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئی ہیں۔
(۱۰۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ : ہِلاَلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَیَّاشٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ سَیَّارٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ أَنَّ نَبِیَّ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ : ((إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ فَضَّلَنِی عَلَی الأَنْبِیَائِ))۔ أَوْ قَالَ : ((أُمَّتِی عَلَی الأُمَمِ بِأَرْبَعٍ : أَرْسَلَنِی إِلَی النَّاسِ کَافَّۃً ، وَجَعَلَ الأَرْضَ کُلَّہَا لِی وَلأُمَّتِی طَہُورًا وَمَسْجِدًا فَأَیْنَمَا أَدْرَکَتِ الرَّجُلَ مِنْ أُمَّتِی الصَّلاَۃُ فَعِنْدَہُ مَسْجِدُہُ وَعِنْدَہُ طَہُورِہِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ یَسِیرُ بَیْنَ یَدَیَّ مَسِیرَۃَ شَہْرٍ یُقْذَفُ فِی قُلُوبِ أَعْدَائِی ، وَأُحِلَّتْ لِی الْغَنَائِمُ))۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی الأَشْعَثِ۔ [حسن۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۱/۸]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ سَیَّارٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ أَنَّ نَبِیَّ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ : ((إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ فَضَّلَنِی عَلَی الأَنْبِیَائِ))۔ أَوْ قَالَ : ((أُمَّتِی عَلَی الأُمَمِ بِأَرْبَعٍ : أَرْسَلَنِی إِلَی النَّاسِ کَافَّۃً ، وَجَعَلَ الأَرْضَ کُلَّہَا لِی وَلأُمَّتِی طَہُورًا وَمَسْجِدًا فَأَیْنَمَا أَدْرَکَتِ الرَّجُلَ مِنْ أُمَّتِی الصَّلاَۃُ فَعِنْدَہُ مَسْجِدُہُ وَعِنْدَہُ طَہُورِہِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ یَسِیرُ بَیْنَ یَدَیَّ مَسِیرَۃَ شَہْرٍ یُقْذَفُ فِی قُلُوبِ أَعْدَائِی ، وَأُحِلَّتْ لِی الْغَنَائِمُ))۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی الأَشْعَثِ۔ [حسن۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۱/۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد تیمم کرنا
(١٠٦٠) عمرو بن شعیب اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ تبوک کے سال رات کو نماز کے ساتھ قیام کیا۔ پھر لمبی حدیث بیان کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” رات مجھ کو پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو بھی عطا نہیں ہوئیں۔۔۔ میرے لیے زمین مسجد اور وضو کا ذریعہ بنادی گئی ہے، جہاں نماز کا وقت ہوجائے، میں مسح کروں گا اور نماز پڑھ لوں گا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پانچویں چیز جو مجھ سے کہی گئی آپ سوال کریں، ہر نبی نے سوال کیا میں نے اپنا سوال قیامت تک کے لیے مؤخر کردیا ہے وہ تمہارے لیے ہوگا (یعنی امت کے لیے) اور وہ (سفارش) ہر اس شخص کے لیے جو لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہوگا۔
(۱۰۶۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی یَعْنِی ابْنَ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ الْہَادِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -عَامَ غَزْوَۃِ تَبُوکَ قَامَ مِنَ اللَّیْلِ یُصَلِّی فَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ قَالَ : ((لَقَدْ أُعْطِیتُ اللَّیْلَ خَمْسًا مَا أُعْطِیَہِنَّ أَحَدٌ کَانَ قَبْلِی))۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ : ((وَجُعِلَتْ لِی الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَہُورًا أَیْنَمَا أَدْرَکَتْنِی الصَّلاَۃُ تَمَسَّحْتُ وَصَلَّیْتُ قَالَ وَالْخَامِسَۃُ قِیلَ لِی سَلْ فَإِنَّ کُلَّ نَبِیٍّ قَدْ سَأَلَ ، فَأَخَّرْتُ مَسْأَلَتِی إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ، فَہِیَ لَکُمْ وَلِمَنْ شَہِدَ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ))۔ [حسن۔ أخرجہ احمد ۲/۲۲۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৬০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلاش کے باوجود پانینہ ملے (تو کیا کرے)
(١٠٦١) حذیفہ (رض) بن یمان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمیں لوگوں پر تین چیزوں سے فضیلت دی گئی ہے، ساری زمین ہمارے لیے مسجد بنائی گئی ہے اور اس کی مٹی ہمارے لیے پاک کردی گئی ہے، جب ہم پانی نہ پائیں۔ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئی ہیں اور سو رہ بقرہ کی آخری آیات خزانے کے گھر عرش کے نیچے سے دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دیگئیں اور نہ ہی میرے بعد۔
(۱۰۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ حَبِیبِ بْنِ الشَّہِیدِ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((فُضِّلْنَا عَلَی النَّاسِ بِثَلاَثٍ : جُعِلَتْ لَنَا الأَرْضُ کُلُّہَا مَسْجِدًا ، وَجُعِلَ تُرَابُہَا لَنَا طَہُورًا إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَائَ ، وَجُعِلَتْ صُفُوفُنَا کَصُفُوفِ الْمَلاَئِکَۃِ ، وَأُوتِیتُ ہَؤُلاَئِ الآیَاتِ مِنْ آخِرِ سُورَۃِ الْبَقَرَۃِ مِنْ بَیْتِ کَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ یُعْطَ مِنْہُ أَحَدٌ قَبْلِی ، وَلاَ أَحَدٌ بَعْدِی))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنِ ابْنِ فُضَیْلٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ فِی الثَّالِثَۃِ : وَذَکَرَ خَصْلَۃً أُخْرَی فَلَمْ یُفَسِّرْہَا۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۵۲۲]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنِ ابْنِ فُضَیْلٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ فِی الثَّالِثَۃِ : وَذَکَرَ خَصْلَۃً أُخْرَی فَلَمْ یُفَسِّرْہَا۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۵۲۲]
তাহকীক: