আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৭৩ টি
হাদীস নং: ১০৬১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلاش کے باوجود پانینہ ملے (تو کیا کرے)
(١٠٦٢) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ بیداء جگہ پر میرا ہار گم ہوگیا اور ہم مدینہ میں داخل ہونے والے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیام کیا، اس دوران آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سر میری گود میں تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو رہے تھے، میرے والد آئے اور مجھے زو ر سے چوکا مارا اور فرمایا : آپ نے لوگوں کو ہار کی وجہ سے روک دیا ہے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوئے اور نماز کا وقت ہوگیا، انھوں نے پانی تلاش کیا مگر پانی نہ ملا تو یہ آیت تیمم { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلاَۃِ } نازل ہوئی۔ اسید بن حفیر (رض) فرماتے ہیں : اے آل أبی بکر ! تمہاری وجہ سے اللہ نے لوگوں میں برکت ڈال دی ، تم تو باعث برکت ہو۔
(۱۰۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِیسَی الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ : سَقَطَتْ قِلاَدَۃٌ لِی بِالْبَیْدَائِ وَنَحْنُ دَاخِلُو الْمَدِینَۃِ، فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -فَبَیْنَا رَأْسُہُ فِی حَجْرِی رَاقِدًا أَقْبَلَ أَبِی ، فَلَکَزَنِی لَکْزَۃً شَدِیدَۃً وَقَالَ : أَحَبَسْتِ النَّاسَ فِی قِلاَدَۃٍ؟ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -اسْتَیْقَظَ وَحَضَرَتِ الصَّلاَۃُ ، فَالْتَمَسُوا الْمَائَ فَلَمْ یُوجَدْ ، وَنَزَلَتْ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلاَۃِ} إِلَی ذِکْرِ التَّیَمُّمِ قَالَ أُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ : لَقَدْ بَارَکَ اللَّہُ لِلنَّاسِ فِیکُمْ یَا آلَ أَبِی بَکْرٍ مَا أَنْتُمْ إِلاَّ بَرَکَۃٌ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ سُلَیْمَانَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ سُلَیْمَانَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৬২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ سفر جس میں تیمم کرنا جائز ہے
(١٠٦٣) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم کسی سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلیں، یہاں تک کہ ہم بیداء یا ذات الجیش جگہ پر تھے، میرا ہار گم ہوگیا۔ اس کی تلاش میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیام کیا اور لوگ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ٹھہرے اور وہ پانی (والی جگہ) پر نہیں تھے اور نہ ان کے پاس پانی تھا۔ لوگ سیدنا ابوبکر (رض) کے پاس آئے اور عرض کیا : کیا آپ نہیں دیکھتے کہ عائشہ (رض) نے کیا کیا ؟ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور لوگوں کو ٹھہرا دیا اور وہ پانی (والی جگہ) پر نہیں ہیں اور ان کے پاس بھی پانی نہیں تھا۔ ابوبکرصدیق (رض) آئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری ران پر اپنا سر رکھ کر سوئے ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا : تو نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور لوگوں کو روک دیا ہے اور وہ پانی پر نہیں ہیں اور ان کے پاس بھی پانی نہیں۔ فرماتی ہیں : ابوبکر صدیق (رض) نے مجھے ڈانٹا جو اللہ نے چاہا کہا اور میری کھوکھ میں اپنے ہاتھ سے چوکا مارتے تھے، پھر بھی میں حرکت نہ کرتی تھی کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا سر مبارک میری ران پر رکھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو گئے یہاں تک کہ انھوں نے بغیر پانی کے صبح کی، اللہ نے تیمم کی آیت نازل کردی : { فَتَیَمَّمُوا صَعِیدًا طَیِّبًا } اسیدبن حضیر (رض) جو نقیبوں میں سے تھے ، فرمانے لگے : اے آل ابوبکر ! یہ تمہاری (وجہ سے) پہلی برکت نہیں ہے۔ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : ہم نے اونٹ کو اٹھایا جس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے ، ہم نے ہار اس کے نیچے سے پایا۔
(۱۰۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فِی بَعْضِ أَسْفَارِہِ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْبَیْدَائِ أَوْ بِذَاتِ الْجَیْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِی ، فَأَقَامَ النَّبِیُّ -ﷺ -عَلَی الْتِمَاسِہِ ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَہُ وَلَیْسُوا عَلَی مَائٍ وَلَیْسَ مَعَہُمْ مَائٌ ، فَأَتَی النَّاسُ إِلَی أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ فَقَالُوا : أَلاَّ تَرَی إِلَی مَا صَنَعَتْ عَائِشَۃُ؟ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -وَبِالنَّاسِ وَلَیْسُوا عَلَی مَائٍ ، وَلَیْسَ مَعَہُمْ مَائٌ ، فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -قَدْ نَامَ عَلَی فَخِذِی فَقَالَ : حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَالنَّاسَ وَلَیْسُوا عَلَی مَائٍ، وَلَیْسَ مَعَہُمْ مَائٌ، فَعَاتَبَنِی وَقَالَ مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ یَقُولَ، وَجَعَلَ یَطْعُنُ بِیَدِہِ فِی خَاصِرَتِی، فَلاَ یَمْنَعُنِی مِنَ التَّحَرُّکِ إِلاَّ مَکَانُ رَسُولِ اللَّہِ-ﷺ- عَلَی فَخِذِی فَنَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی أَصْبَحَ عَلَی غَیْرِ مَائٍ ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی آیَۃَ التَّیَمُّمِ {فَتَیَمَّمُوا صَعِیدًا طَیِّبًا} فَقَالَ أُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ : مَا ہِیَ أَوَّلَ بَرَکَتِکُمْ یَا آلَ أَبِی بَکْرٍ۔ قَالَتْ : فَبَعَثْنَا الْبَعِیرَ الَّذِی کُنْتُ عَلَیْہِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ۔
[صحیح]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ۔
[صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৬৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ سفر جس میں تیمم کرنا جائز ہے
(١٠٦٤) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ وہ جرف سے مربد جگہ آئے، تیمم کیا تو اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا اور عصر کی نماز پڑھی، پھر مدینہ میں داخل ہوئے اور سورج بلند تھا۔ انھوں نے نماز دوبارہ نہیں پڑھی۔
(۱۰۶۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُوزَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّہُ أَقْبَلَ مِنَ الْجُرْفِ حَتَّی إِذَا کَانَ بِالْمِرْبَدِ تَیَمَّمَ فَمَسَحَ وَجْہَہُ وَیَدَیْہِ وَصَلَّی الْعَصْرَ ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَدِینَۃِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ فَلَمْ یُعِدِ الصَّلاَۃَ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَالْجُرْفُ قَرِیبٌ مِنَ الْمَدِینَۃِ۔
قَالَ الشَّیْخُ: وَقَدْ رُوِیَ مُسْنَدًا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -وَلَیْسَ بِمَحْفُوظٍ۔ [حسن۔ أخرجہ الشافعی فی الام ۱/۴۶]
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَالْجُرْفُ قَرِیبٌ مِنَ الْمَدِینَۃِ۔
قَالَ الشَّیْخُ: وَقَدْ رُوِیَ مُسْنَدًا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -وَلَیْسَ بِمَحْفُوظٍ۔ [حسن۔ أخرجہ الشافعی فی الام ۱/۴۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৬৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ سفر جس میں تیمم کرنا جائز ہے
(١٠٦٥) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیمم کیا اور آپ ایک جگہ سے مدینہ کے گھروں کی طرف دیکھ رہے تھے جس کو ” مربد النعم “ کہا جاتا تھا۔
(۱۰۶۵) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی الْفَوَائِدِ الْکَبِیرِ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ إِمْلاَئً وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قِرَائَ ۃَ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عُبَیْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَہْدِیٍّ لَفْظًا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی رَزِینٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -تَیَمَّمَ وَہُوَ یَنْظُرُ إِلَی بُیُوتِ الْمَدِینَۃِ بِمَکَانٍ یُقَالُ لَہُ مِرْبَدُ النَّعَمِ۔ [منکر۔ أخرجہ الحاکم ۱/۲۸۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৬৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زخمی ‘ خارش زدہ اور چیچک زدہ کا تیمم کرنا جب کہ پانی استعمال کرنے سے جان جانے یا بیماری بڑھنے کا خطرہ ہو
(١٠٦٦) سیدنا ابن عباس (رض) اللہ تعالیٰ کے فرمان :{ وَإِنْ کُنْتُمْ مَرْضَی أَوْ عَلَی سَفَرٍ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب آدمی کو اللہ کے راستے میں زخم یا پھوڑا یا چیچک ہوتی ہے اور وہ جنبی ہوجاتا ہے اور ڈرتا ہے کہ اگر اس نے غسل کیا تو وہ مرجائے گا تو وہ تیمم کرلے۔ “
(۱۰۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَہُ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {وَإِنْ کُنْتُمْ مَرْضَی أَوْ عَلَی سَفَرٍ} قَالَ : ((إِذَا کَانَتْ بِالرَّجُلِ الْجِرَاحَۃُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَوِ الْقُرُوحُ أَوْ الْجُدَرِیُّ فَیُجْنِبُ فَیَخَافُ إِنِ اغْتَسَلَ أَنْ یَمُوتَ فَلْیَتَیَمَّمْ))
لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَلِیٍّ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ جَعْفَرٌ الشَّامَاتِیُّ عَنْ یُوسُفَ بْنِ مُوسَی وَکَذَلِکَ رَوَاہُ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِیُّ عَنْ جَرِیرٍ۔
[ضعیف۔ أخرجہ ابن خزیمۃ ۲۷۲]
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَہُ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {وَإِنْ کُنْتُمْ مَرْضَی أَوْ عَلَی سَفَرٍ} قَالَ : ((إِذَا کَانَتْ بِالرَّجُلِ الْجِرَاحَۃُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَوِ الْقُرُوحُ أَوْ الْجُدَرِیُّ فَیُجْنِبُ فَیَخَافُ إِنِ اغْتَسَلَ أَنْ یَمُوتَ فَلْیَتَیَمَّمْ))
لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَلِیٍّ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ جَعْفَرٌ الشَّامَاتِیُّ عَنْ یُوسُفَ بْنِ مُوسَی وَکَذَلِکَ رَوَاہُ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِیُّ عَنْ جَرِیرٍ۔
[ضعیف۔ أخرجہ ابن خزیمۃ ۲۷۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৬৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زخمی ‘ خارش زدہ اور چیچک زدہ کا تیمم کرنا جب کہ پانی استعمال کرنے سے جان جانے یا بیماری بڑھنے کا خطرہ ہو
(١٠٦٧) سیدنا ابن عباس (رض) اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو جنبی ہوجاتا ہے اور اس کو زخم ہے۔ وہ ڈرتا ہے کہ اگر اس نے غسل کیا تو مرجائے گا وہ تیمم کرے اور نماز پڑھے۔
(۱۰۶۷) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا عَطَائُ بْنُ السَّائِبٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : فِی الرَّجُلِ تُصِیبُہُ الْجَنَابَۃُ وَبِہِ الْجِرَاحَۃُ یَخَافُ إِنِ اغْتَسَلَ أَنْ یَمُوتَ قَالَ : فَلْیَتَیَمَّمْ وَلْیُصَلِّ۔
وَرَوَاہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ وَغَیْرُہُ أَیْضًا عَنْ عَطَائٍ مَوْقُوفًا ، وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَزْرَۃُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ مَوْقُوفًا۔
[ضعیف]
وَرَوَاہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ وَغَیْرُہُ أَیْضًا عَنْ عَطَائٍ مَوْقُوفًا ، وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَزْرَۃُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ مَوْقُوفًا۔
[ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৬৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زخمی ‘ خارش زدہ اور چیچک زدہ کا تیمم کرنا جب کہ پانی استعمال کرنے سے جان جانے یا بیماری بڑھنے کا خطرہ ہو
(١٠٦٨) (الف) ابن عباس (رض) چیچک والے کے متعلق فرماتے ہیں : وہ تیمم کرئے گا۔
(ب) ابن عباس (رض) نے چیچک اور اس جیسے مریض کے متعلق فرماتے ہیں : جب وہ جنبی ہوجائے تو مٹی سے تیمم کرے گا۔
(ج) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ مریض کو مٹی سے تیمم کرنے میں رخصت دی گئی ہے۔
(ب) ابن عباس (رض) نے چیچک اور اس جیسے مریض کے متعلق فرماتے ہیں : جب وہ جنبی ہوجائے تو مٹی سے تیمم کرے گا۔
(ج) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ مریض کو مٹی سے تیمم کرنے میں رخصت دی گئی ہے۔
(۱۰۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ سَأَلْتُ قَتَادَۃَ عَنِ الْمَجْدُورِ فَقَالَ سُئِلَ عَنْہَا الشَّعْبِیُّ فَقَالَ ذَہَبَ فُرْسَانُہَا قَالَ وَقَالَ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ شَیْئًا فَلَمْ یَحْفَظْہُ قَالَ شُعْبَۃُ وَأَخْبَرَنِی عَاصِمٌ یَعْنِی الأَحْوَلَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَزْرَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ فِی الْمَجْدُورِ أَنَّہُ یَتَیَمَّمُ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُوسَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُوالْقَاسِمِ عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ الْہَاشِمِیُّ بِحَلَبَ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَزْرَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی الْمَجْدُورِ وَأَشْبَاہِہِ إِذَا أَجْنَبَ قَالَ : یَتَیَمَّمُ بِالصَّعِیدِ۔
وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ وَعَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ بِإِسْنَادِہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : رُخِّصَ لِلْمَرِیضِ التَّیَمُّمُ بِالصَّعِیدِ۔ [صحیح۔ أخرجہ عبد الرزاق ۱۰۷۰]
وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُوسَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُوالْقَاسِمِ عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ الْہَاشِمِیُّ بِحَلَبَ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَزْرَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی الْمَجْدُورِ وَأَشْبَاہِہِ إِذَا أَجْنَبَ قَالَ : یَتَیَمَّمُ بِالصَّعِیدِ۔
وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ وَعَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ بِإِسْنَادِہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : رُخِّصَ لِلْمَرِیضِ التَّیَمُّمُ بِالصَّعِیدِ۔ [صحیح۔ أخرجہ عبد الرزاق ۱۰۷۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৬৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بخارجی سے امراض میں پانی ہوتے ہوئے تیمم جائز نہیں
(١٠٦٩) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بخار جہنم کی بھاپ ہے، اس کو پانی سے بجھاؤ۔ نافع کہتے ہیں : عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے تھے : اے اللہ ! اس عذاب کو ہم سے لے جا۔
(۱۰۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو عَلِیٍّ : الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ سَعِیدٍ الأَیْلِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((الْحُمَّی مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ فَأَطْفِئُوہَا بِالْمَائِ))۔ قَالَ نَافِعٌ : وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ یَقُولُ : اللَّہُمَّ أَذْہِبْ عَنَّا الرِّجْزَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ سُلَیْمَانَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ ہَارُونَ بْنِ سَعِیدٍ۔
وَرَوَتْہُ عَائِشَۃُ وَأَسْمَائُ بِنْتَا الصِّدِّیقِ وَرَوَاہُ رَافِعُ بْنُ خَدِیجٍ کُلُّہُمْ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۳۹۱]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ سُلَیْمَانَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ ہَارُونَ بْنِ سَعِیدٍ۔
وَرَوَتْہُ عَائِشَۃُ وَأَسْمَائُ بِنْتَا الصِّدِّیقِ وَرَوَاہُ رَافِعُ بْنُ خَدِیجٍ کُلُّہُمْ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۳۹۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৬৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سخت سردی یا موت کے خوف سے سفر میں تیمم کرنا
(١٠٧٠) سیدنا عمرو بن عاص (رض) فرماتے ہیں کہ غزوہ ذات السلاسل میں ٹھنڈی رات میں مجھے احتلام ہوگیا۔ میں ڈر گیا اگر میں نے غسل کیا تو مر جاؤں گا۔ میں نے تیمم کیا، پھر اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔ یہ بات میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے عمرو ! آپ نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھا دی حالانکہ آپ جنبی تھے ؟ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتادیا جس چیز نے مجھے غسل کرنے سے روک دیا تھا اور میں نے کہا : میں نے اللہ تعالیٰکا ارشاد : { وَلاَ تَقْتُلُوا أَنْفُسَکُمْ إِنَّ اللَّہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیمًا } سنا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنسے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ نہیں کہا۔
(۱۰۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ بِبَغْدَادَ قَالَ قُرِئَ عَلَی عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ حَدَّثَنَا أَبِی قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ أَیُّوبَ یُحَدِّثُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِی أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : احْتَلَمْتُ فِی لَیْلَۃٍ بَارِدَۃٍ فِی غَزْوَۃِ ذَاتِ السَّلاَسِلِ ، فَأَشْفَقْتُ إِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَہْلَکَ ، فَتَیَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّیْتُ بِأَصْحَابِی الصُّبْحَ ، فَذَکَرُوا ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ -فَقَالَ : ((یَا عَمْرُو صَلَّیْتُ بِأَصْحَابِکَ وَأَنْتَ جُنُبٌ؟))۔ فَأَخْبَرْتُہُ بِالَّذِی مَنَعَنِی مِنَ الاِغْتِسَالِ وَقُلْتُ : إِنِّی سَمِعْتُ اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی یَقُولُ {وَلاَ تَقْتُلُوا أَنْفُسَکُمْ إِنَّ اللَّہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیمًا} فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -وَلَمْ یَقُلْ شَیْئًا۔
وَرَوَاہُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ فَخَالَفَہُ فِی الإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ جَمِیعًا۔
[صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۳۴]
وَرَوَاہُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ فَخَالَفَہُ فِی الإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ جَمِیعًا۔
[صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۳۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سخت سردی یا موت کے خوف سے سفر میں تیمم کرنا
(١٠٧١) سیدنا عمرو بن عاص (رض) ایک سر یہ میں تھے۔ ان کو سخت سردیلگی اس جیسی سردی پہلے نہیں دیکھی گئی، وہ صبح کی نماز کے لیے نکلے تو کہنے لگے : اللہ کی قسم ! مجھے کل احتلام ہوگیا تھا اور میں نے اس طرح کی سردی نہیں دیکھی تھی، کیا تم نے دیکھی ہے ؟ انھوں نے کہا : نہیں، پھر انھوں نے اپنے جوڑ دھوئے اور نماز جیسا وضو کیا ۔ پھر ان کو نماز پڑھائی، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تم نے عمرو اور اس کے ساتھیوں کو کیسا پایا ؟ انھوں نے ان کی اچھی تعریف کی اور کہا : اے اللہ کے رسول ! اس نے ہم کو جنبی ہونے کی حالت میں نماز پڑھا دی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرو کی طرف پیغام بھیجا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھاتو انھوں نے سارا واقعہ بتلایا اور وہ بھی جو ان کی سردی لگی تھی، انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :{ وَلاَ تَقْتُلُوا أَنْفُسَکُمْ } اگر میں غسل کرلیتا تو مرجاتا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرو کی طرف دیکھ کر ہنسے۔
(ب) شیخ کہتے ہیں : دونوں روایات کو اس بات پر محمول کیا جائے گا کہ جو غسل کرنے کی قدرت رکھتا ہے وہ غسل کرے اور جو طاقت نہ رکھتے ہوں وہ تیمم کرلیں۔
(ب) شیخ کہتے ہیں : دونوں روایات کو اس بات پر محمول کیا جائے گا کہ جو غسل کرنے کی قدرت رکھتا ہے وہ غسل کرے اور جو طاقت نہ رکھتے ہوں وہ تیمم کرلیں۔
(۱۰۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَرَجُلٌ آخَرَ أَظُنُّہُ ابْنَ لَہِیعَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِی أَنَسٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ أَبِی قَیْسٍ مَوْلَی عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ کَانَ عَلَی سَرِیَّۃٍ وَأَنَّہُ أَصَابَہُمْ بَرْدٌ شَدِیدٌ لَمْ یُرَ مِثْلُہُ ، فَخَرَجَ لِصَلاَۃِ الصُّبْحِ فَقَالَ: وَاللَّہِ لَقَدِ احْتَلَمْتُ الْبَارِحَۃَ، وَلَکِنِّی وَاللَّہِ مَا رَأَیْتُ بَرْدًا مِثْلَ ہَذَا، ہَلْ مَرَّ عَلَی وُجُوہِکُمْ مِثْلُہُ؟ قَالُوا: لاَ۔ فَغَسَلَ مَغَابِنَہُ وَتَوَضَّأَ وُضُوئَہُ لِلصَّلاَۃِ ثُمَّ صَلَّی بِہِمْ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- سَأَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((کَیْفَ وَجَدْتُمْ عَمْرًا وَصَحَابَتَہُ؟))۔ فَأَثْنَوْا عَلَیْہِ خَیْرًا وَقَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی بِنَا وَہُوَ جُنُبٌ۔ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی عَمْرِو فَسَأَلَہُ فَأَخْبَرَہُ بِذَلِکَ، وَبِالَّذِی لَقِیَ مِنَ الْبَرْدِ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ تَعَالَی قَالَ {وَلاَ تَقْتُلُوا أَنْفُسَکُمْ} وَلَوِ اغْتَسَلْتُ مِتُّ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -إِلَی عَمْرٍو۔ أَخْرَجَہُمَا أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ ثُمَّ قَالَ : وَرَوَی ہَذِہِ الْقِصَّۃَ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِیَّۃَ قَالَ فِیہِ فَتَیَمَّمَ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ قَدْ فَعَلَ مَا نُقِلَ فِی الرِّوَایَتَیْنِ جَمِیعًا غَسَلَ مَا قَدَرَ عَلَی غَسْلِہِ وَتَیَمَّمَ لِلْبَاقِی۔ [صحیح]
قَالَ الشَّیْخُ : وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ قَدْ فَعَلَ مَا نُقِلَ فِی الرِّوَایَتَیْنِ جَمِیعًا غَسَلَ مَا قَدَرَ عَلَی غَسْلِہِ وَتَیَمَّمَ لِلْبَاقِی۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سخت سردی یا موت کے خوف سے سفر میں تیمم کرنا
(١٠٧٢) شقیق سے روایت ہے کہ میں عبداللہ اور ابو موسیٰ (رض) کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ابو موسیٰ (رض) نے کہا : اے ابو عبدالرحمن ! آدمی جنبی ہوجاتا ہے اسے پانی نہیں ملتا کیا وہ نماز پڑھے گا ؟ انھوں نے کہا : نہیں۔ اس نے کہا : کیا آپ نے عمار (رض) کا قول سیدنا عمر (رض) کے متعلق نہیں سنا کہ مجھے اور تجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھیجا، ہم جنبی ہوگئے، میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا، ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ کو بتایا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے یہ کافی تھا اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا ایک مرتبہ مسح کیا اور کہا : میں نے عمر (رض) کو نہیں دیکھا کہ انھوں نے اس پر قناعت کی۔ انھوں نے کہا : تم اس آیت { فَلَمْ تَجِدُوا مَائً فَتَیَمَّمُوا صَعِیدًا طَیِّبًا } کے ساتھ کیا کرتے ہو ؟ انھوں نے کہا : اگر ہم ان کو اس بارے میں رخصت دے دیں تو ان میں سے ہر ایک جب ٹھنڈا پانی پائے گا تو مٹی سے مسح کرے گا۔ اعمش کہتے ہیں : میں نے شقیق سے کہا کہ اسی وجہ سے انھوں نے اس کو ناپسند سمجھا ہے۔ (ب) اعمش حدیث کے متعلق کہتے ہیں کہ اسے معلوم نہیں جو عبداللہ کہا کرتے تھے، انھوں نے کہا : اگر ہم لوگوں کو اس مسئلہ میں رخصت دے دیں تو وہ جب بھی ٹھنڈا پائیں گے تو پانی کو چھوڑ کر تیمم کریں گے۔ میں نے شقیق سے کہا : اسی وجہ سے عبداللہ (رض) ناپسند کرتے تھے
(۱۰۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ: عَمْرُو بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ شَقِیقٍ قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِاللَّہِ وَأَبِی مُوسَی قَالَ أَبُومُوسَی: یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمَنِ الرَّجُلُ یُجْنِبُ فَلاَ یَجِدِ الْمَائَ أَیُصَلِّی؟ قَالَ: لاَ۔ فَقَالَ: أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ : بَعَثَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -أَنَا وَأَنْتَ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّکْتُ بِالصَّعِیدِ ، فَأَتَیْنَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرْنَاہُ فَقَالَ : ((إِنَّمَا یَکْفِیکَ ہَکَذَا))۔ وَمَسَحَ وَجْہَہُ وَکَفَّیْہِ مَسْحَۃً وَاحِدَۃً۔ وَقَالَ : إِنِّی لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنِعَ بِذَلِکَ۔ فَقَالَ : کَیْفَ تَصْنَعُونَ بِہَذِہِ الآیَۃِ {فَلَمْ تَجِدُوا مَائً فَتَیَمَّمُوا صَعِیدًا طَیِّبًا} فَقَالَ : إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَہُمْ فِی ہَذَا کَانَ أَحَدُہُمْ إِذَا وَجَدَ الْمَائَ الْبَارِدَ تَمَسَّحَ بِالصَّعِیدِ۔ قَالَ الأَعْمَشُ فَقُلْتُ لِشَقِیقٍ : فَمَا کَرِہَہُ إِلاَّ لِہَذَا۔
مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ۔
وَرَوَاہُ حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنِ الأَعْمَشِ قَالَ فِی الْحَدِیثِ : فَمَا دَرَی عَبْدُ اللَّہِ مَا یَقُولُ؟ فَقَالَ : إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَہُمْ فِی ہَذَا لأَوْشَکَ إِذَا بَرَدَ عَلَی أَحَدِہِمُ الْمَائُ أَنْ یَدَعَہُ وَیَتَیَمَّمَ۔ فَقُلْتُ لِشَقِیقٍ : فَإِنَّمَا کَرِہَ عَبْدُ اللَّہِ لِہَذَا؟ قَالَ : نَعَمْ۔ [صحیح]
مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ۔
وَرَوَاہُ حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنِ الأَعْمَشِ قَالَ فِی الْحَدِیثِ : فَمَا دَرَی عَبْدُ اللَّہِ مَا یَقُولُ؟ فَقَالَ : إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَہُمْ فِی ہَذَا لأَوْشَکَ إِذَا بَرَدَ عَلَی أَحَدِہِمُ الْمَائُ أَنْ یَدَعَہُ وَیَتَیَمَّمَ۔ فَقُلْتُ لِشَقِیقٍ : فَإِنَّمَا کَرِہَ عَبْدُ اللَّہِ لِہَذَا؟ قَالَ : نَعَمْ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جسم کے کسی حصے میں زخم ہونے کا حکم
(١٠٧٣) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص سردی میں جنبی ہوگیا ۔ اس نے پوچھاتو اسے غسل کا حکم دیا گیا، اس نے غسل کیا تو وہ فوت ہوگیا، یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انھیں کیا تھا انھوں نے تو اس کو قتلکر دیا ہے اللہ ان کو ہلاک کرے، تین مرتبہ فرمایا، اللہ نے مٹی یا تیمم کو پاک کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ یہ حدیث موصول ہے۔
(۱۰۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ حَدَّثَنِی أَبِی أَخْبَرَنِی الْوَلِیدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ أَنَّ عَطَائً حَدَّثَہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَجُلاً أَجْنَبَ فِی شِتَائٍ فَسَأَلَ فَأُمِرَ بِالْغُسْلِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ ، فَذُکِرَ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : ((مَا لَہُمْ قَتَلُوہُ قَتَلَہُمُ اللَّہُ ثَلاَثًا ، قَدْ جَعَلَ اللَّہُ الصَّعِیدَ أَوِ التَّیَمُّمَ طَہُورًا))۔
ہَذَا حَدِیثٌ مَوْصُولٌ۔ وَتَمَامُ ہَذِہِ الْقِصَّۃِ فِی الْحَدِیثِ الَّذِی أَرْسَلَہُ الأَوْزَاعِیُّ عَنْ عَطَائٍ ۔
[حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن حبان ۱۳۱۴]
ہَذَا حَدِیثٌ مَوْصُولٌ۔ وَتَمَامُ ہَذِہِ الْقِصَّۃِ فِی الْحَدِیثِ الَّذِی أَرْسَلَہُ الأَوْزَاعِیُّ عَنْ عَطَائٍ ۔
[حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن حبان ۱۳۱۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جسم کے کسی حصے میں زخم ہونے کا حکم
(١٠٧٤) عطاء بن أبی رباح نے سیدنا ابن عباس (رض) سے سنا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ایک شخص کو زخم لگا، پھر اسے احتلام ہوگیا، اسے غسل کا حکم دیا گیا، اس نے غسل کیا تو سردی سے مرگیا۔ یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” انھوں نے اس کو ہلاک کیا ہے اللہ ان کو ہلاک کرے۔ کیا جاہل کی شفاء سوال کرنا نہیں ہے۔
عطاء کہتے ہیں : ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کاش وہ اپنے جسم کو دھوتا اور سر کو چھوڑ دیتا جس جگہ اسے زخم لگا تھا۔ (ب) یہ مرسل روایت غسل کی مقتضی ہے جبکہ پہلی روایت میں تیمم کا حکم ہے۔ جنھوں نے دونوں روایات میں تطبیق دی ہے، وہ کہتے ہیں : دونوں روایات ایک دوسرے کے منافی نہیں، ان میں سے ایک روایت مرسل ہے۔
عطاء کہتے ہیں : ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کاش وہ اپنے جسم کو دھوتا اور سر کو چھوڑ دیتا جس جگہ اسے زخم لگا تھا۔ (ب) یہ مرسل روایت غسل کی مقتضی ہے جبکہ پہلی روایت میں تیمم کا حکم ہے۔ جنھوں نے دونوں روایات میں تطبیق دی ہے، وہ کہتے ہیں : دونوں روایات ایک دوسرے کے منافی نہیں، ان میں سے ایک روایت مرسل ہے۔
(۱۰۷۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ وَأَبُو سَعِیدٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ حَدَّثَنَا أَبِی قَالَ سَمِعْتُ الأَوْزَاعِیَّ یَقُولُ بَلَغَنِی عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ یُخْبِرُ : أَنَّ رَجُلاً أَصَابَہُ جُرْحٌ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -ثُمَّ أَصَابَہُ احْتِلاَمٌ ، فَأُمِرَ بِالاِغْتِسَالِ ، فَاغْتَسَلَ فَکَزَّ فَمَاتَ ، فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -فَقَالَ : ((قَتَلُوہُ قَتَلَہُمُ اللَّہُ ، أَلَمْ یَکُنْ شِفَائُ الْعِیِّ السُّؤَالَ؟))۔
قَالَ عَطَائٌ : فَبَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -سُئِلَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : ((لَوْ غَسَلَ جَسَدَہُ وَتَرَکَ رَأْسَہُ حَیْثُ أَصَابَہُ الْجُرْحُ))۔
فَہَذَا الْمُرْسَلُ یَقْتَضِی غَسْلَ الصَّحِیحِ مِنْہُ وَالأَوَّلُ یَقْتَضِی التَّیَمُّمَ ، فَمَنْ أَوْجَبَ الْجَمْعَ بَیْنَہُمَا یَقُولُ لاَ تَنَافِی بَیْنَ الرِّوَایَتَیْنِ إِلاَّ أَنَّ إِحْدَاہُمَا مُرْسَلَۃٌ۔ [حسن لغیرہٖ]
قَالَ عَطَائٌ : فَبَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -سُئِلَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : ((لَوْ غَسَلَ جَسَدَہُ وَتَرَکَ رَأْسَہُ حَیْثُ أَصَابَہُ الْجُرْحُ))۔
فَہَذَا الْمُرْسَلُ یَقْتَضِی غَسْلَ الصَّحِیحِ مِنْہُ وَالأَوَّلُ یَقْتَضِی التَّیَمُّمَ ، فَمَنْ أَوْجَبَ الْجَمْعَ بَیْنَہُمَا یَقُولُ لاَ تَنَافِی بَیْنَ الرِّوَایَتَیْنِ إِلاَّ أَنَّ إِحْدَاہُمَا مُرْسَلَۃٌ۔ [حسن لغیرہٖ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جسم کے کسی حصے میں زخم ہونے کا حکم
(١٠٧٥) سیدنا جابر (رض) سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نکلے، ہم میں سے ایک شخص کو پتھر لگا تو اس کے سر میں زخم ہوگیا، پھر اسے احتلام ہوگیا، اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا : کیا تم تیمم کرنے میں میرے لیے رخصت پاتے ہو ؟ انھوں نے کہا : ہم آپ کے لیے رخصت نہیں پاتے۔ آپ پانی پر قدرت رکھتے ہیں۔ اس نے غسل کیا تو مرگیا، جب ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس (واقعے) کی خبر دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” انھوں نے اس کو ہلاک کیا ہے اللہ ان کو ہلاک کرے، جب وہ نہیں جانتے تھے تو انھوں نے سوال کیوں نہیں کیا، جاہل کی شفا ہی سوال کرنا ہے۔ اس کو کافی تھا کہ وہ تیمم کرتا اور اپنے زخم پر پٹی باندھتا۔ موسیٰ کو شک ہے کہ اپنے زخم پر کپڑا لپیٹ لیتا، پھر اس پر مسح کرتا اور باقی سارا جسم دھو لیتا۔ یہ روایت موصول ہے، اس میں غسل، مسح اور تیمم کو جمع کردیا گیا ہے۔ سند میں یہ روایت پہلی دونوں روایات کے مخالف ہے۔
(۱۰۷۵) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْطَاکِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ خُرَیْقٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : خَرَجْنَا فِی سَفَرٍ فَأَصَابَ رَجُلاً مِنَّا حَجَرٌ فَشَجَّہُ فِی رَأْسِہِ ثُمَّ احْتَلَمَ فَقَالَ لأَصْحَابِہِ : ہَلْ تَجِدُونَ لِی رُخْصَۃً فِی التَّیَمُّمِ؟ قَالُوا : مَا نَجِدُ لَکَ رُخْصَۃً وَأَنْتَ تَقْدِرُ عَلَی الْمَائِ۔ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ -أُخْبِرَ بِذَلِکَ قَالَ : ((قَتَلُوہُ قَتَلَہُمُ اللَّہُ ، أَلاَ سَأَلُوا إِذْ لَمْ یَعْلَمُوا ، فَإِنَّمَا شِفَائُ الْعِیِّ السُّؤَالُ ، إِنَّمَا کَانَ یَکْفِیہِ أَنْ یَتَیَمَّمَ وَیَعْصِرَ أَوْ یَعْصِبَ ۔ شَکَّ مُوسَی : عَلَی جُرْحِہِ خِرْقَۃً ثُمَّ یَمْسَحَ عَلَیْہَا وَیَغْسِلَ سَائِرَ جَسَدِہِ))۔
وَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ مَوْصُولَۃٌ جُمِعَ فِیہَا بَیْنَ غَسْلِ الصَّحِیحِ وَالْمَسْحِ عَلَی الْعِصَابَۃِ وَالتَّیَمُّمِ إِلاَّ أَنَّہَا تُخَالِفُ الرِّوَایَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ فِی الإِسْنَادِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [منکر۔ أخرجہ أبوداؤد ۳۳۶]
وَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ مَوْصُولَۃٌ جُمِعَ فِیہَا بَیْنَ غَسْلِ الصَّحِیحِ وَالْمَسْحِ عَلَی الْعِصَابَۃِ وَالتَّیَمُّمِ إِلاَّ أَنَّہَا تُخَالِفُ الرِّوَایَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ فِی الإِسْنَادِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [منکر۔ أخرجہ أبوداؤد ۳۳۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جسم کے کسی حصے میں زخم ہونے کا حکم
(١٠٧٦) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جس نے اپنے جسم سے جنابت کی حالت میں ایک بال کے برابر جگہ چھوڑ دی اور اس کو نہ دھویا تو اس کے ساتھ آگ سے اس طرح اس طرح کیا جائے گا۔ علی (رض) فرماتے ہیں : اسی وجہ سے میں نے اپنے بالوں سے دشمنی کرلی ہے۔ “
(ب) یہ حدیث اور اس کے ہم معنی احادیث میں غسل کے وجوب کا حکم ہے جبکہ کتاب اللہ میں غسل کی قدرت نہ رکھنے والے کے لیے تیمم کا حکم ہے۔ کتاب اللہ کے ظاہر سے استدلال ہے کہ جب پانی نہ ملے تو تیمم کرلے۔
(ج) ابن ابی لبابہ فرماتے ہیں کہ وضو کرے گا اور تیمم کرے گا جب حالت جنابت میں پانی نہ ملے مگر اتنی مقدار میں جس سے وضو ہو سکے۔ معمر بن راشد کا بھی یہی مؤقف ہے۔ امام حسن اور زہری فرماتے ہیں : صرف تیمم کرے گا۔
(ب) یہ حدیث اور اس کے ہم معنی احادیث میں غسل کے وجوب کا حکم ہے جبکہ کتاب اللہ میں غسل کی قدرت نہ رکھنے والے کے لیے تیمم کا حکم ہے۔ کتاب اللہ کے ظاہر سے استدلال ہے کہ جب پانی نہ ملے تو تیمم کرلے۔
(ج) ابن ابی لبابہ فرماتے ہیں کہ وضو کرے گا اور تیمم کرے گا جب حالت جنابت میں پانی نہ ملے مگر اتنی مقدار میں جس سے وضو ہو سکے۔ معمر بن راشد کا بھی یہی مؤقف ہے۔ امام حسن اور زہری فرماتے ہیں : صرف تیمم کرے گا۔
(۱۰۷۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ عَنْ عَلِیٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ : ((مَنْ تَرَکَ مَوْضِعَ شَعْرَۃٍ مِنْ جَسَدِہِ مِنْ جَنَابَۃٍ لَمْ یَغْسِلْہَا فُعِلَ بِہَا مِنَ النَّارِ کَذَا وَکَذَا))۔ قَالَ عَلِیٌّ : فَمِنْ ثَمَّ عَادَیْتُ شَعَرِی۔
فَہَذَا الْحَدِیثُ وَمَا وَرَدَ فِی مَعْنَاہُ یُوجِبُ غَسْلَ الصَّحِیحِ مِنْہُ ، وَالْکِتَابُ یُوجِبُ التَّیَمُّمَ لِمَا لاَ یُقْدَرُ عَلَی غَسْلِہِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقِ۔
وَظَاہِرُ الْکِتَابِ یَدُلُّ عَلَی اسْتِعْمَالِ مَا یَجِدُ مِنَ الْمَائِ ، ثُمَّ الرُّجُوعِ إِلَی التَّیَمُّمِ إِذَا لَمْ یَجِدْہُ ، وَقَدْ رُوِیَ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ عِیسَی بْنِ یُونُسَ عَنْ عَبْدَۃَ بْنِ أَبِی لُبَابَۃَ وَیُذْکَرُ عَنْ عَبْدَۃَ بْنِ أَبِی لُبَابَۃَ أَنَّہُ قَالَ : یَتَوَضَّأُ وَیَتَیَمَّمُ فِی الْجُنُبِ لاَ یَجِدُ مِنَ الْمَائِ إِلاَّ قَدْرَ مَا یُتَوَضَّأُ بِہِ ، وَکَذَا قَالَ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ، وَکَانَ الْحَسَنُ وَالزُّہْرِیُّ یَقُولاَنِ یَتَیَمَّمُ فَقَطْ۔ [ضعیف]
فَہَذَا الْحَدِیثُ وَمَا وَرَدَ فِی مَعْنَاہُ یُوجِبُ غَسْلَ الصَّحِیحِ مِنْہُ ، وَالْکِتَابُ یُوجِبُ التَّیَمُّمَ لِمَا لاَ یُقْدَرُ عَلَی غَسْلِہِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقِ۔
وَظَاہِرُ الْکِتَابِ یَدُلُّ عَلَی اسْتِعْمَالِ مَا یَجِدُ مِنَ الْمَائِ ، ثُمَّ الرُّجُوعِ إِلَی التَّیَمُّمِ إِذَا لَمْ یَجِدْہُ ، وَقَدْ رُوِیَ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ عِیسَی بْنِ یُونُسَ عَنْ عَبْدَۃَ بْنِ أَبِی لُبَابَۃَ وَیُذْکَرُ عَنْ عَبْدَۃَ بْنِ أَبِی لُبَابَۃَ أَنَّہُ قَالَ : یَتَوَضَّأُ وَیَتَیَمَّمُ فِی الْجُنُبِ لاَ یَجِدُ مِنَ الْمَائِ إِلاَّ قَدْرَ مَا یُتَوَضَّأُ بِہِ ، وَکَذَا قَالَ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ، وَکَانَ الْحَسَنُ وَالزُّہْرِیُّ یَقُولاَنِ یَتَیَمَّمُ فَقَطْ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پگڑیوں اور پٹیوں پر مسح کرنے کا بیان
(١٠٧٧) سیدنا جابر (رض) سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نکلے، ہم میں سے ایک شخص کو پتھر لگا اور اس کے سر میں زخم ہوگیا، پھر اس کو احتلام ہوگیا، اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا : کیا تم تیمم کرنے میں میرے لیے رخصت پاتے ہو ؟ انھوں نے کہا : ہم تیرے لیے رخصت نہیں پاتے اس لیے کہ تو پانی (استعمال کرنے) پر قدرت رکھتا ہے۔ اس نے غسل کیا تو مرگیا۔ جب ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس (واقعہ) کی خبر دی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انھوں نے اس کو قتل کیا ہے اللہ ان کو قتل کرے، جب وہ نہیں جانتے تھے تو انھوں نے سوال کیوں نہیں کیا، جاہل کی شفا ہی سوال کرنا ہے۔ اس کو کافی تھا کہ وہ تیمم کرتا اور اپنے زخم پر پٹی باندھتا، اپنے زخم پر کپڑا لپیٹ لیتا، پھر اس پر مسح کرتا اور باقی سارا جسم دھو لیتا۔
(۱۰۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ : عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَلَبِیُّ بِأَنْطَاکِیَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ خُرَیْقٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : خَرَجْنَا فِی سَفَرٍ فَأَصَابَ رَجُلاً مِنَّا حَجَرٌ فَشَجَّہُ فِی رَأْسِہِ ، ثُمَّ احْتَلَمَ فَسَأَلَ أَصْحَابَہُ : ہَلْ تَجِدُونَ لِی رُخْصَۃً فِی التَّیَمُّمِ؟ فَقَالُوا : مَا نَجِدُ لَکَ رُخْصَۃً وَأَنْتَ تَقْدِرُ عَلَی الْمَائِ۔ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -أُخْبِرَ بِذَلِکَ فَقَالَ : ((قَتَلُوہُ قَتَلَہُمُ اللَّہُ ، أَلاَ سَأَلُوا إِذْ لَمْ یَعْلَمُوا ، إِنَّمَا شِفَائُ الْعَیِّ السُّؤَالُ ، إِنَّمَا کَانَ یَکْفِیہِ أَنْ یَتَیَمَّمَ وَیَعْصِبَ عَلَی جُرْحِہِ خِرْقَۃً ، ثُمَّ یَمْسَحَ عَلَیْہَا وَیَغْسِلَ سَائِرَ جَسَدِہِ))۔ [منکر]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پگڑیوں اور پٹیوں پر مسح کرنے کا بیان
(١٠٧٨) سیدنا ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جب زخم پر پٹی نہ ہو تو اس کے ارد گرد کو دھولے ، لیکن زخم نہ دھوئے۔
(۱۰۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ : مُوسَی بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَخْبَرَنِی ہِشَامُ بْنُ الْغَازِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : إِذَا لَمْ یَکُنْ عَلَی الْجُرْحِ عِصَابُ غَسَلَ مَا حَوْلَہُ وَلَمْ یَغْسِلْہُ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پگڑیوں اور پٹیوں پر مسح کرنے کا بیان
(١٠٧٩) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جس شخص کو زخم ہو اور اس پر پٹی بندھی ہو تو وہ وضو کرے گا اور پٹیوں پر مسح کرے گا اور پٹیوں کے اردگرد کی جگہ دھوئے گا۔
(۱۰۷۹) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ قَالَ أَخْبَرَنِی ہِشَامُ بْنُ الْغَازِ أَنَّہُ سَمِعَ نَافِعًا یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : مَنْ کَانَ لَہُ جُرْحٌ مَعْصُوبٌ عَلَیْہِ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی الْعِصَابِ ، وَیَغْسِلُ مَا حَوْلَ الْعِصَابِ۔
[حسن]
[حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پگڑیوں اور پٹیوں پر مسح کرنے کا بیان
(١٠٨٠) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ان کے پاؤں کا انگوٹھا زخمی ہوگیا، انھوں نے اس کے اوپر کوئی چیز لپیٹ لی اور اس پر مسح فرماتے تھے۔
(۱۰۸۰) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ قَالَ أَخْبَرَنِی سَعِیدٌ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ إِبْہَامَ رِجْلِہِ جُرِحَتْ فَأَلْبَسَہَا مُرَارَۃً وَکَانَ یَتَوَضَّأُ عَلَیْہَا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پگڑیوں اور پٹیوں پر مسح کرنے کا بیان
(١٠٨١) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے وضو کیا اور ان کی ہتھیلی پر پٹی بندھی ہوئی تھی، انھوں نے اس پر اور پگڑی پر مسح کیا اور اس کے علاوہ باقی اعضاء دھوئے۔ ابن عمر (رض) سے یہی روایت صحیح ہے۔ (ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ سیدنا علی (رض) سے حدیث بیان کی گئی کہ ان کی ایک کلائی ٹوٹ گئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں پیٹوں پر مسح کرنے کا حکم دیا۔ امام صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ اگر مجھے اس حدیث کی سند صحیح معلوم ہوجائے تو میں اس کے مطابق فتویٰ دوں گا۔
(۱۰۸۱) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمْزَۃَ عَنْ مُوسَی بْنِ یَسَارٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ تَوَضَّأَ وَکَفُّہُ مَعْصُوبَۃٌ فَمَسَحَ عَلَیْہَا وَعَلَی الْعِصَابِ ، وَغَسَلَ سِوَی ذَلِکَ۔ ہُوَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ صَحِیحٌ۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقَدْ رُوِیَ حَدِیثٌ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ انْکَسَرَ إِحْدَی زَنْدَیْ یَدَیْہِ فَأَمَرَہُ النَّبِیُّ -ﷺ -أَنْ یَمْسَحَ عَلَی الْجَبَائِرِ وَلَوْ عَرَفْتُ إِسْنَادَہُ بِالصِّحَّۃِ قُلْتُ بِہِ۔ یَعْنِی مَا ۔ [ضعیف]
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقَدْ رُوِیَ حَدِیثٌ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ انْکَسَرَ إِحْدَی زَنْدَیْ یَدَیْہِ فَأَمَرَہُ النَّبِیُّ -ﷺ -أَنْ یَمْسَحَ عَلَی الْجَبَائِرِ وَلَوْ عَرَفْتُ إِسْنَادَہُ بِالصِّحَّۃِ قُلْتُ بِہِ۔ یَعْنِی مَا ۔ [ضعیف]
তাহকীক: