আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬৭৩ টি

হাদীস নং: ১০৮১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پگڑیوں اور پٹیوں پر مسح کرنے کا بیان
(١٠٨٢) سیدنا علی بن ابی طالب (رض) فرماتے ہیں کہ میرے بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی تو میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق سوال پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پٹیوں پر مسح کرو۔ (ب) عمرو بن خالد واسطی حدیث وضع کرنے میں معروف تھا، امام احمد، یحییٰ بن معین اور دوسرے ائمہ حدیث نے اسے کذاب کہا ہے۔ وکیع بن جراح نے وضع حدیث کی طرف اسے منسوب کیا ہے۔ (ج) اس کی متابعت عمر بن موسیٰ بن وجیہ سے ہے، زید بن علی نے بھی اس کی مثل روایت کیا ہے۔ (د) عمر بن موسیٰ متروک ہے اور احادیث وضع کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس میں ان کے دھوکے سے محفوظ رکھے۔ (ر) زید بن علی سے ایک دوسری مجہول سند سے روایت ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں (س) ابو ولید بیان کرتا ہے کہ خالد بن یزید مکی دوسری اسناد سے زید بن علی سے اور وہ علی سے مرسل روایت بیان کرتا ہے۔ ابو ولید ضعیف ہے۔ (ص) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس باب میں کوئی حدیث ثابت نہیں۔ (ط) اس باب میں صحیح ترین حدیث عطاء بن ابی رباح کی ہے جو پہلے گزر چکی ہے، وہ بھی قوی نہیں۔ تابعین فقہاء اور ان کے بعد والوں نے سیدنا ابن عمر (رض) سے پٹی پر مسح کرنا روایت کیا ہے۔ واللہ اعلم
(۱۰۸۲) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعْدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِیلِ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ السَّخْتِیَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سَالِمٍ الْقَدَّاحُ حَدَّثَنِی إِسْرَائِیلُ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: انْکَسَرَتْ إِحْدَی زَنْدَیَّ فَسَأَلْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ: ((امْسَحْ عَلَی الْجَبَائِرِ))۔

عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِیُّ مَعْرُوفٌ بِوَضْعِ الْحَدِیثِ کَذَّبَہُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَیَحْیَی بْنُ مَعِینٍ وَغَیْرُہُمَا مِنْ أَئِمَّۃِ الْحَدِیثِ، وَنَسَبَہُ وَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ إِلَی وَضْعِ الْحَدِیثِ قَالَ: وَکَانَ فِی جِوَارِنَا فَلَمَّا فُطِنَ لَہُ تَحَوَّلَ إِلَی وَاسِطٍ۔

وَتَابَعَہُ عَلَی ذَلِکَ عُمَرُ بْنُ مُوسَی بْنِ وَجِیہِ فَرَوَاہُ عَنْ زَیْدِ بْنِ عَلِیٍّ مِثْلَہُ۔

وَعُمَرُ بْنُ مُوسَی مَتْرُوکٌ مَنْسُوبٌ إِلَی الْوَضْعِ وَنَعُوذُ بِاللَّہِ مِنَ الْخِذْلاَنِ۔

وَرُوِیَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ مَجْہُولٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ عَلِیٍّ وَلَیْسَ بِشَیْئٍ۔

وَرَوَاہُ أَبُو الْوَلِیدِ : خَالِدُ بْنُ یَزِیدَ الْمَکِّیُّ بِإِسْنَادٍ آخَرَ عَنْ زَیْدِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ عَلِیٍّ مُرْسَلاً۔

(ج) وَأَبُو الْوَلِیدِ ضَعِیفٌ۔

وَلاَ یَثْبُتُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -فِی ہَذَا الْبَابِ شَیْئٌ۔

وَأَصَحُّ مَا رُوِیَ فِیہِ حَدِیثُ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ الَّذِی قَدْ تَقَدَّمَ وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ وَإِنَّمَا فِیہِ قَوْلُ الْفُقَہَائِ مِنَ التَّابِعِینَ فَمَنْ بَعْدَہُمْ مَعَ مَا رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِی الْمَسْحِ عَلَی الْعِصَابَۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

[موضوع۔ أخرجہ ابن ماجہ ۶۵۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پگڑیوں اور پٹیوں پر مسح کرنے کا بیان
(١٠٨٣) یوسف مکی سے روایت ہے کہ ہمارے ایک ساتھی کو احتلام ہوگیا اور وہ زخمی تھا، اس نے اپنے سینے پر پٹی باندھی ہوئی تھی، ہم نے عبید بن عمیر سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : غسل کرے اور کپڑے پر مسح کرے یا فرمایا : سینے پر مسح کرے۔
(۱۰۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرٍو -أَظُنُّہُ ابْنَ مُرَّۃَ -عَنْ یُوسُفَ الْمَکِّیِّ قَالَ : احْتَلَمَ صَاحِبٌ لَنَا وَبِہِ جِرَاحَۃٌ وَقَدْ عَصَبَ صَدْرَہُ ، فَسَأَلْنَا عُبَیْدَ بْنَ عُمَیْرٍ فَقَالَ : یَغْتَسِلُ وَیَمْسَحُ الْخِرْقَۃَ ، أَوْ قَالَ یَمْسَحُ صَدْرَہُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پگڑیوں اور پٹیوں پر مسح کرنے کا بیان
(١٠٨٤) سلیمان تمیمی کہتے ہیں : میں نے طاؤس سے زخمی شخص کے متعلق سوال کیا کہ وہ وضو یا جنابت سیغسل کا ارادہ رکھتا ہے اور اس نے پٹی باندھی ہوئی ہے تو انھوں نے فرمایا : اگر وہ ڈرتا ہے (کہ موت واقع ہوجائے گی تو) کپڑے پر مسح کرلے اور اگر نہیں ڈرتا تو غسل کرلے۔
(۱۰۸۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ یَعْنِی ابْنَ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ قَالَ : سَأَلْتُ طَاوُسًا عَنِ الْخَدْشِ یَکُونُ بِالرَّجُلِ فَیُرِیدُ الْوُضُوئَ أَوِ الاِغْتِسَالَ مِنَ الْجَنَابَۃِ ، وَقَدْ عَصَبَ عَلَیْہِ خِرْقَۃً فَقَالَ : إِنْ کَانَ یَخَافُ فَلْیَمْسَحْ عَلَی الْخِرْقَۃِ، وَإِنْ کَانَ لاَ یَخَافُ فَلْیَغْسِلْہَا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پگڑیوں اور پٹیوں پر مسح کرنے کا بیان
(١٠٨٥) ابوبکر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء بن ابی رباح اور مجاہد بن جبر اور طاؤس سے اس شخص کے متعلق سوال کیا جس کی انگلی زخمی ہوچکی تھی، انھوں نے فرمایا : اس کو جو خون لگا ہے اس کو دھوئے گا پھر اس پر پٹی باندھے گا پھر پٹی پر مسح کرے گا جب وضو کرے گا اور اگر اس سے خون جاری ہوجائے اور ظاہر ہوجائے تو دوسری پٹی بدل دے گا، پھر اس پر مسح کرے گا جب وضو کرے گا۔
(۱۰۸۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَائَ بْنَ أَبِی رَبَاحٍ وَمُجَاہِدَ بْنَ جَبْرٍ وَطَاوُسًا یَقُولُونَ فِی رَجُلٍ أَصَابَ إِصْبَعَہُ جُرْحٌ فَقَالُوا : یَغْسِلُ مَا أَصَابَہُ مِنْ دَمِہِ ثُمَّ یَعْصِبُہَا ، ثُمَّ یَمْسَحُ عَلَی الْعِصَابِ إِذَا تَوَضَّأَ ، فَإِنْ نَفَذَ مِنْہَا الدَّمُ حَتَّی یَظْہَرَ فَلْیُبْدِلْہَا بِأُخْرَی ، ثُمَّ یَمْسَحُ عَلَیْہَا إِذَا تَوَضَّأَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پگڑیوں اور پٹیوں پر مسح کرنے کا بیان
(١٠٨٦) (الف) ہشام بن حسان فرماتے ہیں کہ ایک شخص حسن کے پاس آیا اور سوال کیا، میں سن رہا تھا ، کہنے لگا : اس کی ران یا پنڈلی ٹوٹ گئی ہے اور وہ جنبی ہوگیا ہے تو (کیا کرے ؟ ) آپ نے اس کو پٹیوں پر مسح کرنے کا حکم دیا۔

(ب) عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ مجھے طاعون کا شدید زخم تھا اور میں جنبی ہوگیا، میں نے ابو مجلز سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : مسح کر تجھے یہی کافی ہے۔
(۱۰۸۶) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ عَبْدِالأَعْلَی بْنِ عَبْدِ الأَعْلَی الْبَصْرِیِّ أَنَّ ہِشَامَ بْنَ حَسَّانَ حَدَّثَہُ: أَنَّ رَجُلاً أَتَی الْحَسَنَ فَسَأَلَہُ وَأَنَا أَسْمَعُ فَقَالَ : انْکَسَرَتْ فَخِذُہُ أَوْ سَاقُہُ فَتُصِیبُہُ الْجَنَابَۃُ۔ فَأَمَرَہُ أَنْ یَمْسَحَ عَلَی الْجَبَائِرِ۔

قَالَ وَحَدَّثَنَا سَعْدَانُ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَیْرٍ قَالَ : کَانَ بِی جُرْحٌ شَدِیدٌ مِنَ الطَّاعُونِ وَأَصَابَتْنِی جَنَابَۃٌ ، فَسَأَلْتُ أَبَا مِجْلَزٍ فَقَالَ : امْسَحْ فَإِنَّہُ یَکْفِیکَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پگڑیوں اور پٹیوں پر مسح کرنے کا بیان
(١٠٨٧) اشعث فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم نخعی سے سوال کیا کہ میرا ہاتھ ٹوٹ گیا اور اس پر کپڑے کی باریک اور موٹی پٹی لکڑی کے ساتھ بندھی ہوتی ہیبعض اوقات میں جنبی ہوجاتا ہوں ؟ انھوں نے فرمایا : اس پر پانی کے ساتھ مسح کر، اللہ تعالیٰ عذر قبول فرماتا ہے۔
(۱۰۸۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ یَعْنِی ابْنَ مُسْلِمٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِی شَیْبَانُ عَنْ أَشْعَثَ قَالَ : سَأَلْتُ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیَّ فَقُلْتُ: انْکَسَرَتْ یَدِی وَعَلَیْہَا خِرْقَتُہَا وَعِیدَانُہَا وَجَبَائِرُہَا ، فَرُبَّمَا أَصَابَتْنِی جَنَابَۃٌ۔ فَقَالَ : امْسَحْ عَلَیْہَا بِالْمَائِ، فَإِنَّ اللَّہَ تَعَالَی یَعْذِرُ بِالْمَعْذِرَۃِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پگڑیوں اور پٹیوں پر مسح کرنے کا بیان
(١٠٨٨) قتادہ (رض) سے روایت ہے کہ زخم یا ٹوٹی ہوئی چیز پر پٹیاں نہیں رکھیں جائیں گی، اگر یہ زخم وضو کی جگہ پر ہو، جب تک کہ نماز جیسا وضو کرے اور اس زخم کی جگہ کو دھولے جس سے خون ظاہر ہوا ہے۔
(۱۰۸۸) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ عَنْ سَعِیدٍ عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ : لاَ تُوضَعُ الْعِصَابُ وَالْجَبَائِرُ عَلَی الْجُرْحِ وَالْکَسْرِ إِذَا کَانَ فِی مَوْضِعِ الْوُضُوئِ حَتَّی یَتَوَضَّأَ وُضُوئَ ہُ لِلصَّلاَۃِ وَیَغْسِلَ مَوْضِعَ ذَلِکَ الْجُرْحِ لِمَا ظَہَرَ مِنْ دَمِہِ۔[ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تندرست مقیم فرائض جنازہ اور عید کے لیے وضو کرے گا ، تیمم نہیں کرے گا
(١٠٨٩) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم میں کسی کی نماز قبول نہیں ہوتی، جب وہ بےوضو ہوجائے جب تک وضونہ کرلے۔ “
(۱۰۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((لاَ تُقْبَلُ صَلاَۃُ أَحَدِکُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّی یَتَوَضَّأَ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ

وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تندرست مقیم فرائض جنازہ اور عید کے لیے وضو کرے گا ، تیمم نہیں کرے گا
(١٠٩٠) ابو ملیح اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ بغیر وضو کے نماز قبول نہیں کرتا اور نہ ہی خیانت کیے ہوئے مال سے صدقہ قبول کرتا ہے۔
(۱۰۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی الْمَلِیحِ یَعْنِی ابْنَ أُسَامَۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ : ((لاَ یَقْبَلُ اللَّہُ صَلاَۃً بِغَیْرِ طُہُورٍ ، وَلاَ صَدَقَۃً مِنْ غُلُولٍ))۔ أَبُو الْمُلَیْحِ ہُوَ ابْنُ أُسَامَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ الْہُذَلِیُّ۔[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৯০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تندرست مقیم فرائض جنازہ اور عید کے لیے وضو کرے گا ، تیمم نہیں کرے گا
(١٠٩١) سالم کہتے ہیں کہ میں اور عبدالرحمن بن ابی بکر سعد بن ابی وقاص کا جنازے پڑھنے کے لیے نکلے ، ہم عائشہ (رض) کے حجرے سے گزرے تو عبد الرحمن نے پانی منگوایا، میں نے سیدہ عائشہ (رض) کو فرماتے ہوئے سنا : اے عبد الرحمن ! مکمل وضو کر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کے لیے آگ کی ہلاکت ہے۔
(۱۰۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِیُّ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو حُذَیْفَۃَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ أَخْبَرَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنِی سَالِمٌ مَوْلَی الْمَہْرِیِّ قَالَ : خَرَجْتُ أَنَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ إِلَی جَنَازَۃِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ فَمَرَرْتُ أَنَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَی حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ فَدَعَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِوَضُوئٍ فَسَمِعْتُ عَائِشَۃَ تُنَادِیہِ : یَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَسْبِغِ الْوُضُوئَ فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -یَقُولُ : ((وَیْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ))۔

لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ وَزَادَ أَبُو سَعِیدٍ فِی حَدِیثِہِ : فَأَمَرَتْ لَہُ عَائِشَۃُ بِوَضُوئٍ وَقَالَتْ لَہُ۔

[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ احمد ۶/۴۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৯১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تندرست مقیم فرائض جنازہ اور عید کے لیے وضو کرے گا ، تیمم نہیں کرے گا
(١٠٩٢) سیدنا حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے لیے اس کی مٹی وضو (کا ذریعہ) بنائی گئی ہے جب ہم پانی نہ پائیں۔
(۱۰۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ عَنْ رِبْعِیِّ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((جُعِلَتْ لِی تُرْبَتُہَا طَہُورًا إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَائَ))

رَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۱۵۲۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৯২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تندرست مقیم فرائض جنازہ اور عید کے لیے وضو کرے گا ، تیمم نہیں کرے گا
(١٠٩٣) (الف) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : پاک آدمی ہی نماز جنازہ پڑھے۔

(ب) امام مالک نافع سے روایت کرتے ہیں کہ آپ سے نماز جنازہ کے لیے تیمم کے متعلق جو منقول ہے اس میں احتمال ہے کہ یہ سفر میں ہو جب پانی پاس نہ ہو۔

(ج) ابن عمر (رض) کی تیمم والی حدیث کی سند میں ضعف ہے جسے ہم نے کتاب المعرفہ میں بیان کیا ہے۔

(د) وہ روایت جو مغیرہ بن زیادہ عن عطاء عن ابن عباس ہے وہ ان سے صحیح سند سے ثابت نہیں۔ یہ صرف امام عطاء کا قول ہے۔ (س) اسی طرح ابن جریج نے امام عطاء کا قول نقل کیا ہے۔ اس پر امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین نے مغیرہ بن زیاد کا انکار کیا ہے۔ اس نے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مرفوع حدیث بیان کی ہے یہ انتہائی سنگین غلطی ہے۔
(۱۰۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : شَرِیکُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ الْحَسَنِ الإِسْفَرَائِینِیُّ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْبَیْہَقِیُّ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ قَالَ : لاَ یُصَلِّی عَلَی الْجَنَازَۃِ إِلاَّ وَہُوَ طَاہِرٌ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ۔ وَالَّذِی رُوِیَ عَنْہُ فِی التَّیَمُّمِ لِصَلاَۃِ الْجَنَازَۃِ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ فِی السَّفَرِ عِنْدَ عَدَمِ الْمَائِ۔

وَفِی إِسْنَادِ حَدِیثِ ابْنِ عُمَرَ فِی التَّیَمُّمِ ضَعْفٌ ذَکَرْنَاہُ فِی کِتَابِ الْمَعْرِفَۃِ

وَالَّذِی رَوَی الْمُغِیرَۃُ بْنُ زِیَادٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی ذَلِکَ لاَ یَصِحُّ عَنْہُ ، إِنَّمَا ہُوَ قَوْلُ عَطَائٍ ، کَذَلِکَ رَوَاہُ ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ مِنْ قَوْلِہِ ، وَہَذَا أَحَدُ مَا أَنْکَرَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَیَحْیَی بْنُ مَعِینٍ عَلِی الْمُغِیرَۃِ بْنِ زِیَادٍ ، وَقَدْ رَفَعَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ -وَہُوَ خَطَأٌ قَدْ بَیَّنَاہُ فِی الْخِلاَفِیَّاتِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৯৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر نے پانی نہ ملنے پر اول وقت میں تیمم کرکے نماز ادا کرلی پھر آخری وقت میں پانی مل گیا تو نماز کا اعادہ نہیں کرے گا
(١٠٩٤) سیدنا ابی سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ دو آدمی سفر پر نکلے کہ نماز کا وقت ہوگیا، ان کے پاس پانی نہیں تھا۔ دونوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز ادا کی، پھر انھوں نے آخری وقت میں پانی پا لیا۔ ایک نے دوبارہ نماز لوٹائی اور دوسرے نے نہیں، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ کو سارا واقعہ ذکر کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو فرمایا : جس نے نماز نہیں لوٹائی تھی تو نے سنت کو پا لیا ہے اور تجھ کو تیری نماز کافی ہے اور اس شخص سے کہا : جس نے وضو کیا اور دوبارہ نماز لوٹائی کہ تمہارے لیے دوہرا اجر ہے۔
(۱۰۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الأَسَدِیُّ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا عُمَیْرُ بْنُ مِرْدَاسٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نَافِعٍ عَنِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ بَکْرِ بْنِ سَوَادَۃَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ

عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ : خَرَجَ رَجُلاَنِ فِی سَفَرٍ فَحَضَرَتِ الصَّلاَۃُ وَلَیْسَ مَعَہُمَا مَائٌ ، فَتَیَمَّمَا صَعِیدًا طَیِّبًا فَصَلَّیَا ، ثُمَّ وَجَدَا الْمَائَ فِی الْوَقْتِ ، فَأَعَادَ أَحَدُہُمَا الصَّلاَۃَ وَالْوُضُوئَ وَلَمْ یُعِدِ الآخَرُ ، ثُمَّ أَتَیَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -فَذَکَرَا ذَلِکَ لَہُ ، فَقَالَ لِلَّذِی لَمْ یُعِدْ : ((أَصَبْتَ السُّنَّۃَ وَأَجْزَأَتْکَ صَلاَتُکَ))۔ وَقَالَ لِلَّذِی تَوَضَّأَ وَأَعَادَ : ((لَکَ الأَجْرُ مَرَّتَیْنِ))۔

وَرَوَاہُ غَیْرُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نَافِعٍ عَنِ اللَّیْثِ عَنْ عُمَیْرِ بْنِ أَبِی نَاجِیَۃَ عَنْ بَکْرِ بْنِ سَوَادَۃَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -مُرْسَلاً۔ [صحیح۔ أخرجہ أبو داؤد ۳۳۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৯৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر نے پانی نہ ملنے پر اول وقت میں تیمم کرکے نماز ادا کرلی پھر آخری وقت میں پانی مل گیا تو نماز کا اعادہ نہیں کرے گا
(١٠٩٥) حضرت عمیر بن ابی ناجیہ نے اس کو نقل کیا ہے، اسی طرح عمیر کی کتاب میں ہے اور درست یہ ہے کہ وہ عمیرہ بن ابی ناجیہ ہیں۔
(۱۰۹۵) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ اللَّیْثِ عَنْ عُمَیْرِ بْنِ أَبِی نَاجِیَۃَ فَذَکَرَہُ کَذَا فِی کِتَابِی عُمَیْرٍ وَالصَّوَابُ عُمَیْرَۃُ بْنُ أَبِی نَاجِیَۃَ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الحاکم ۱/۲۸۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৯৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر نے پانی نہ ملنے پر اول وقت میں تیمم کرکے نماز ادا کرلی پھر آخری وقت میں پانی مل گیا تو نماز کا اعادہ نہیں کرے گا
(١٠٩٦) (الف) ابو داؤد فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں ابوسعید کا ذکر وہم ہے، وہ محفوظ نہیں بلکہ مرسل ہے۔

(ب) شیخ فرماتے ہیں : اس میں ایک تیسرا اختلاف بھی ہے۔
(۱۰۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ : ذِکْرُ أَبِی سَعِیدٍ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ وَہْمٌ وَلَیْسَ بِمَحْفُوظٍ ہُوَ مُرْسَلٌ۔

قَالَ الشَّیْخُ : وَفِیہِ اخْتِلاَفٌ ثَالِثٌ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৯৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر نے پانی نہ ملنے پر اول وقت میں تیمم کرکے نماز ادا کرلی پھر آخری وقت میں پانی مل گیا تو نماز کا اعادہ نہیں کرے گا
(١٠٩٧) سیدنا عطاء بن یسار (رض) سے روایت ہے کہ دو آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے تھے اور پھر اسی کے ہم معنی بیان کیا ہے۔
(۱۰۹۷) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ بَکْرِ بْنِ سَوَادَۃَ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ مَوْلَی إِسْمَاعِیلَ بْنِ عُبَیْدٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ رَجُلَیْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ -بِمَعْنَاہُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۳۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৯৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر نے پانی نہ ملنے پر اول وقت میں تیمم کرکے نماز ادا کرلی پھر آخری وقت میں پانی مل گیا تو نماز کا اعادہ نہیں کرے گا
(١٠٩٨) سیدنا نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) نے مدینہ سے ایک یا دو میل کے فاصلے پر تیمم کیا، عصر کی نماز پڑھی اور تشریف لے آئے، جب کہ سورج بلند ہوچکا تھا اور نماز دوبارہ نہیں لوٹائی۔
(۱۰۹۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ حَاتِمٍ الزَّاہِدُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُعْشُمٍ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ نَافِعٍ قَالَ: تَیَمَّمَ ابْنُ عُمَرَ عَلَی رَأْسِ مِیلٍ أَوْ مِیلَیْنِ مِنَ الْمَدِینَۃِ فَصَلَّی الْعَصْرَ فَقَدِمَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ وَلَمْ یُعِدِ الصَّلاَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ الحاکم ۱/۲۸۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৯৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر نے پانی نہ ملنے پر اول وقت میں تیمم کرکے نماز ادا کرلی پھر آخری وقت میں پانی مل گیا تو نماز کا اعادہ نہیں کرے گا
(١٠٩٩) عبدالرحمن بن ابی الزناد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے اپنے کئی فقہاء کو دیکھا جو اسی کے قائل تھے، ان میں سے سعید بن مسیب اور مدینہ کے سات فقہاء اور کچھ اور لوگ تھے جو کہتے تھے : جس نے تیمم کیا اور نماز پڑھی، پھر پانی پایا اور نماز کا وقت تھا یا ختم ہوچکا تھا بہرحال اس پر نماز کا لوٹانا واجب نہیں ہے وہ اگلی نمازوں کے لیے وضو کرے گا اور غسل کرے گا اور جنابت سے تیمم اور وضو کرنا برابر ہے۔
(۱۰۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الرَّفَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ وَعِیسَی بْنُ مِینَائَ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَانَ مَنْ أَدْرَکْتُ مِنْ فُقَہَائِنَا الَّذِینَ یُنْتَہَی إِلَی قَوْلِہِمْ مِنْہُمْ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ فَذَکَرَ الْفُقَہَائَ السَّبْعَۃَ مِنَ الْمَدِینَۃِ وَذَکَرَ أَشْیَائَ مِنْ أَقَاوِیلِہِمْ وَفِیہَا وَکَانُوا یَقُولُونَ : مَنْ تَیَمَّمَ فَصَلَّی ثُمَّ وَجَدَ الْمَائَ وَہُوَ فِی وَقْتٍ أَوْ فِی غَیْرِ وَقْتٍ فَلاَ إِعْادَۃَ عَلَیْہِ ، وَیَتَوَضَّأُ لِمَا یَسْتَقْبِلُ مِنَ الصَّلَوَاتِ وَیَغْتَسِلُ ، وَالتَّیَمُّمُ مِنَ الْجَنَابَۃِ وَالْوُضُوئُ سَوَائٌ۔ وَرُوِّینَاہُ عَنِ الشَّعْبِیِّ وَالنَّخَعِیِّ وَالزُّہْرِیِّ وَغَیْرِہِمْ۔

[ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۳۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৯৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کے ساتھ نماز جلدی ادا کرنا جب یقین ہو کہ نماز کے وقت میں پانی نہیں ملے گا
(١١٠٠) (الف) ام فروہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا : کونسے اعمال افضل ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز اول وقت میں ادا کرنا۔
(۱۱۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْخُزَاعِیُّ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ عَنْ بَعْضِ أُمَّہَاتِہِ عَنْ أُمِّ فَرْوَۃَ قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -أَیُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ : ((الصَّلاَۃُ فِی أَوَّلِ وَقْتِہَا))۔

قَالَ الْخُزَاعِیُّ فِی حَدِیثِہِ عَنْ عَمَّۃٍ لَہُ یُقَالُ لَہَا أُمِّ فَرْوَۃَ قَدْ بَایَعَتِ النَّبِیَّ -ﷺ -: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -سُئِلَ۔ (ت) وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَا قَدْ مَضَی۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ أبو داؤد ۴۲۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১০০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی ملنے کی امید پر نماز آخری وقت تک موقوف کرنا
(١١٠١) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے کہ جب کوئی شخصسفر میں جنبی ہو جائیتو نماز کے آخری وقت تک رکا رہے، پھر اگر وہ پانی نہ پائے تو تیمم کرے اور نماز پڑھے۔
(۱۱۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ حَدَّثَنَا مُعَلَّی حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ : إِذَا أَجْنَبَ الرَّجُلُ فِی السَّفَرِ تَلَوَّمَ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ آخِرِ الْوَقْتِ ، فَإِنْ لَمْ یَجِدِ الْمَائَ تَیَمَّمَ وَصَلَّی۔

الْحَارِثُ الأَعْوَرُ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱۶۹۹]
tahqiq

তাহকীক: