আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৭৩ টি
হাদীস নং: ১১০১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی کی تلاش کی حدود کا بیان
(١١٠٢) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوئے اور نماز کا وقت ہوچکا تھا، پانی تلاش کیا گیا مگر نہیں ملا تو تیمم کی آیت نازل ہوئی۔
(۱۱۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجَرْجَانِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَسْقَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ -فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَتْ : ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -اسْتَیْقَظَ وَحَضَرَتِ الصَّلاَۃُ فَالْتَمَسَ الْمَائَ فَلَمْ یُوجَدْ فَنَزَلَتْ آیَۃُ التَّیَمُّمِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ سُلَیْمَانَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ سُلَیْمَانَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی کی تلاش کی حدود کا بیان
(١١٠٣) نافع سے روایت ہے ابن عمر (رض) نے مربد النعم جگہ پر تیمم کیا اور نماز پڑھی اور وہ جگہ مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر ہے، پھر مدینہ میں داخل ہوئے اور سورج بلند تھا انھوں نے نماز نہیں لوٹائی۔
(۱۱۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ حَدَّثَنَا فُضَیْلُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ تَیَمَّمَ بِمَرْبَدِ النَّعَمِ وَصَلَّی وَہُوَ عَلَی ثَلاَثَۃِ أَمْیَالٍ مِنَ الْمَدِینَۃِ ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَدِینَۃَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ فَلَمْ یُعِدْ۔
رَوَاہُ ابْنُ عُیَیْنَۃَ وَیَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ وَرَوَاہُ یَحْیَی الأَنْصَارِیُّ وَمَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ۔
[حسن۔ أخرجہ الشافعی ۱۱۵]
رَوَاہُ ابْنُ عُیَیْنَۃَ وَیَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ وَرَوَاہُ یَحْیَی الأَنْصَارِیُّ وَمَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ۔
[حسن۔ أخرجہ الشافعی ۱۱۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی کی تلاش کی حدود کا بیان
(١١٠٤) ابن مسلم فرماتے ہیں کہ ابوعمرو اوزاعی سے کہا گیا کہ نماز کا وقت ہوگیا اور پانی راستے سے دور تھا، کیا مجھ پر واجب ہے کہ میں اس کا انتظار کروں ؟ انھوں نے کہا : مجھ کو موسیٰ بن یسار نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر (رض) سے نقل کیا کہ وہ سفر میں تھے اور نماز کا وقت ہوگیا اور پانی ان سے ایک یا دو میل کے فاصلے پر تھا، پھر وہ اس کی طرف مائل نہیں ہوئے۔
(۱۱۰۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ یَعْنِی ابْنَ مُسْلِمٍ قَالَ قِیلَ لأَبِی عَمْرٍو یَعْنِی الأَوْزَاعِیَّ : حَضَرَتِ الصَّلاَۃُ وَالْمَائُ جَائِرٌ عَنِ الطَّرِیقِ، أَیَجِبُ عَلَیَّ أَنْ أَعْدِلَ إِلَیْہِ؟ قَالَ حَدَّثَنِی مُوسَی بْنُ یَسَارٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّہُ کَانَ یَکُونُ فِی السَّفَرِ فَتَحْضُرُہُ الصَّلاَۃُ وَالْمَائُ مِنْہُ عَلَی غَلْوَۃٍ أَوْ غَلْوَتَیْنِ وَنَحْوَ ذَلِکَ، ثُمَّ لاَ یَعْدِلُ إِلَیْہِ۔[ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی کی تلاش کی حدود کا بیان
(١١٠٥) حکیم بن رزیق اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب سے بکریوں کے چرواہے کے متعلق یا ایسے چرواہے کے متعلق پوچھا، جو جنبی ہوجاتا ہے اور اس کے اور پانی کے درمیان دو یا تین میل کی مسافت ہوتی ہی تو وہ کیا کرے ؟ ابن مسیب فرماتے ہیں : ایسا شخص پاک مٹی سے تیمم کرے گا۔
(۱۱۰۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الْمُبَارَکِ یُحَدِّثُ عَنْ حَکِیمِ بْنِ رُزَیْقٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ عَنْ رَاعٍ فِی غَنَمِہِ أَوْ رَاعٍ تُصِیبُہُ جَنَابَۃٌ وَبَیْنَہُ وَبَیْنَ الْمَائِ مِیْلاَنِ أَوْ ثَلاَثَۃٌ قَالَ : یَتَیَمَّمُ صَعِیدًا طَیِّبًا۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی کی تلاش کی حدود کا بیان
(١١٠٦) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے، کہتے ہیں : پانی کو آخری وقت تک تلاش کیا کرو، اگر تم پانی نہ پاؤ تو تیمم کر کے نماز پڑھو۔
(۱۱۰۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ عُمَرَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ : اطْلُبِ الْمَائَ حَتَّی یَکُونَ آخِرُ الْوَقْتِ ، فَإِنْ لَمْ تَجِدِ مَائً تَیَمَّمْ ثُمَّ صَلِّ۔
وَہَذَا لَمْ یَصِحَّ عَنْ عَلِیٍّ۔ وَبِالثَّابِتِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَقُولُ وَمَعَہُ ظَاہِرُ الْقُرْآنِ۔ [ضعیف]
وَہَذَا لَمْ یَصِحَّ عَنْ عَلِیٍّ۔ وَبِالثَّابِتِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَقُولُ وَمَعَہُ ظَاہِرُ الْقُرْآنِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی یا بےوضوشخص اگرچہ پانی پر قادر ہو، لیکن پیاس کی وجہ سے اسے جان کا خطرہ ہے تو وہ تیمم کرسکتا ہے
(١١٠٧) سیدنا علی (رض) فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص وسیع میدان میں جنبی ہوجائے اور اس کے پاس پانی ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے کو ترجیح دے (یعنی پینے کے لیے رکھ لے) اور مٹی سے تیمم کرے۔
(۱۱۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ یَعْنِی ابْنَ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ زَاذَانَ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ : إِذَا أَجْنَبَ الرَّجُلُ فِی أَرْضِ فَلاَۃٍ وَمَعَہُ مَائٌ یَسِیرٌ فَلْیُؤْثِرْ نَفْسَہُ بِالْمَائِ وَلْیَتَیَمَّمْ بِالصَّعِیدِ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱۱۱۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی یا بےوضوشخص اگرچہ پانی پر قادر ہو، لیکن پیاس کی وجہ سے اسے جان کا خطرہ ہے تو وہ تیمم کرسکتا ہے
(١١٠٨) سیدنا علی (رض) فرماتے ہیں : جب تو جنبی ہوجائے اور وضو یا غسل کرنے کا ارادہہو، لیکنتیرے پاس پانی نہ ہو سوائے پینے والے کے پانی کے اور تجھے جان جانے کا ڈر ہو تو تیمم کرلے۔
(۱۱۰۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرِو بْنِ مَطَرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَطَائٍ عَنْ زَاذَانَ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ : إِذَا أَصَابَتْکَ جَنَابَۃٌ فَأَرَدْتَ أَنْ تَتَوَضَّأَ -أَوْ قَالَ تَغْتَسِلَ -وَلَیْسَ مَعَکَ مِنَ الْمَائِ إِلاَّ مَا تَشْرَبُ وَأَنْتَ تَخَافُ فَتَیَمَّمْ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی یا بےوضوشخص اگرچہ پانی پر قادر ہو، لیکن پیاس کی وجہ سے اسے جان کا خطرہ ہے تو وہ تیمم کرسکتا ہے
(١١٠٩) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ جب تو مسافر ہو اور جنبی ہوجائے یا تو بغیر وضو کے ہو اور تجھے ڈرہو کہ اگر تو نے پانی سے وضو کیا تو پیاس سے مرجائے گا تو وضو نہ کر بلکہ اپنی جان بچا۔
(۱۱۰۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِذَا کُنْتَ مُسَافِرًا وَأَنْتَ جُنُبٌ ، أَوْ أَنْتَ عَلَی غَیْرِ وُضُوئٍ فَخِفْتَ إِنْ تَوَضَّأْتَ أَنْ تَمُوتَ مِنَ الْعَطَشِ ، فَلاَ تُوَضَّأْہُ وَاحْبِسْ لِنَفْسِکَ۔
وَرُوِّینَاہُ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ وَعَطَائٍ وَمُجَاہِدٍ وَطَاوُسٍ وَغَیْرِہِمْ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱۱۲۰]
وَرُوِّینَاہُ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ وَعَطَائٍ وَمُجَاہِدٍ وَطَاوُسٍ وَغَیْرِہِمْ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱۱۲۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم والا وضو والوں کی امامت کرواسکتا ہے
(١١١٠) سعید (رض) سے روایت ہے کہ ابن عباس (رض) سفر میں تھے اور ان کے ساتھ چند صحابہ کرام (رض) تھے، ان میں عمار (رض) بھی تھے انھوں نے ان کو نماز پڑھائی حالانکہ وہ متیمم تھے۔
(۱۱۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ سَعِیدٍ قَالَ : کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِی سَفَرٍ مَعَہُ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ -فِیہِمْ عَمَّارٌ فَصَلَّی بِہِمْ وَہُوَ مُتَیَمِّمٌ۔
وَرُوِّینَاہُ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ وَالْحَسَنِ وَعَطَائٍ وَالزُّہْرِیِّ وَحَدِیثُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَدْ مَضَی فِی ہَذَا الْبَابِ۔
[صحیح]
وَرُوِّینَاہُ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ وَالْحَسَنِ وَعَطَائٍ وَالزُّہْرِیِّ وَحَدِیثُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَدْ مَضَی فِی ہَذَا الْبَابِ۔
[صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متیمم کا متوضی کو امامت کروانا مکروہ ہے
(١١١١) سیدنا علی (رض) سے منقول ہے کہ وہ ناپسند سمجھتے تھے کہ تیمم والا وضو والوں کی امامت کروائے۔
اس سند سے دلیل نہیں لی جاتی۔
اس سند سے دلیل نہیں لی جاتی۔
(۱۱۱۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ: أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یَؤُمَّ الْمُتَیَمِّمُ الْمُتَوَضِّئِینَ۔
وَہَذَا إِسْنَادٌ لاَ تَقُومُ بِہِ الْحُجَّۃُ۔ [ضعیف]
وَہَذَا إِسْنَادٌ لاَ تَقُومُ بِہِ الْحُجَّۃُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متیمم کا متوضی کو امامت کروانا مکروہ ہے
(١١١٢) نافع فرماتے ہیں : ایک سفر میں ابن عمر (رض) جنبی ہوگئے تو انھوں نے تیمم کیا اور مجھے حکم دیا تو میں نے ان کو نماز پڑھائی، اس لیے کہ میں وضو والا تھا۔
(۱۱۱۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ: أَصَابَ ابْنَ عُمَرَ جَنَابَۃٌ فِی سَفَرٍ فَتَیَمَّمَ، فَأَمَرَنِی فَصَلَّیْتُ بِہِ وَکُنْتُ مُتَوَضِّئًا۔
وَہَذَا مَحْمُولٌ عَلَی الاِسْتِحْبَابِ۔
وَرُوِیَ فِیہِ حَدِیثٌ ضَعِیفٌ۔ [حسن]
وَہَذَا مَحْمُولٌ عَلَی الاِسْتِحْبَابِ۔
وَرُوِیَ فِیہِ حَدِیثٌ ضَعِیفٌ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متیمم کا متوضی کو امامت کروانا مکروہ ہے
(١١١٣) سیدنا جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیمم والا آدمی وضو والوں کی امامت نہ کروائے۔ علی فرماتے ہیں : اس کی سند ضعیف ہے۔
(۱۱۱۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ رَمِیسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ مَاتِعٍ الْحِمْیَرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِیلَ الْکُوفِیُّ : أَسَدُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ بَیَانٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((لاَ یَؤُمُّ الْمُتَیَمِّمُ الْمُتَوَضِّئِینَ))۔ قَالَ عَلِیٌّ : إِسْنَادُہُ ضَعِیفٌ۔ موضوع أخرجہ الدار قطنی [۱/۱۸۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھڑے پانی میں نجاست گرجائے اور وہ دو مٹکوں سے کم ہو
(١١١٤) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کھڑے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کیا جائے، یعنی وہ پانی جو جار ی نہ ہو کہ پھر اس سے غسل کرے اور فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو وہ اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اس کو دھونہ لے اس لیے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔
(ب) زعفرانی کہتے ہیں کہ امام شافعی (رح) نے قدیم کتاب میں لکھا ہے کہ اگر نجس پانی کے ساتھ آٹا مل جائے تو وہ نہیں کھایا جاسکتا بلکہ وہ جانوروں کو کھلا دیا جائے۔
(ج) امام احمد فرماتے ہیں : عطاء اور مجاہد سے منقول ہے وہ ایسا آٹا مرغیوں کو کھلا دیتے تھے۔
(ب) زعفرانی کہتے ہیں کہ امام شافعی (رح) نے قدیم کتاب میں لکھا ہے کہ اگر نجس پانی کے ساتھ آٹا مل جائے تو وہ نہیں کھایا جاسکتا بلکہ وہ جانوروں کو کھلا دیا جائے۔
(ج) امام احمد فرماتے ہیں : عطاء اور مجاہد سے منقول ہے وہ ایسا آٹا مرغیوں کو کھلا دیتے تھے۔
(۱۱۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((لاَ یُبَالُ فِی الْمَائِ الدَّائِمِ الَّذِی لاَ یَجْرِی ثُمَّ یُغْتَسَلُ مِنْہُ))۔ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((إِذَا اسْتَیْقَظَ أَحَدُکُمْ فَلاَ یَضَعْ یَدَہُ فِی الْوُضُوئِ حَتَّی یَغْسِلَہَا ، فَإِنَّہُ لاَ یَدْرِی أَیْنَ بَاتَتْ یَدُہُ))۔
رَوَاہُمَا مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔
قَالَ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ فَإِنْ عَجَنَ بِہِ یَعْنِی بِالْمَائِ النَّجِسِ عَجِینًا لَمْ یَؤْکَلْ وَأَطْعَمَہُ الدَّوَابَّ۔
قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ : وَقَدْ رُوِّینَا عَنْ عَطَائٍ وَمُجَاہِدٍ أَنَّہُ یُطْعِمُہُ الدَّجَاجَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۲۸۲]
رَوَاہُمَا مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔
قَالَ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ فَإِنْ عَجَنَ بِہِ یَعْنِی بِالْمَائِ النَّجِسِ عَجِینًا لَمْ یَؤْکَلْ وَأَطْعَمَہُ الدَّوَابَّ۔
قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ : وَقَدْ رُوِّینَا عَنْ عَطَائٍ وَمُجَاہِدٍ أَنَّہُ یُطْعِمُہُ الدَّجَاجَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۲۸۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھڑے پانی میں نجاست گرجائے اور وہ دو مٹکوں سے کم ہو
(١١١٥) (الف) سیدنا نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر (رض) نے انھیں خبر دی کہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مقام حجر پر اترے، یہ ثمود کی زمین تھی۔ صحابہ نے ان کے کنوؤں سے پانی لیا اور آٹا گوندھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حاصل کردہ پانی بہانے کا حکم دیا اور آٹا اونٹوں کو کھلانے کا حکم دیا اور ساتھ ہی فرمایا : وہ اس پانی کو استعمال کریں جہاں وہ اونٹنی آتی تھی۔
(ب) انس بن عیاض (رح) سے روایت ہے کہ یہ پانی اگرچہ نجس نہ تھا لیکن اس کا استعمال ممنوع تھا، اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہانے کا حکم دیا اور آٹا اونٹوں کو کھلانے کا حکم دیا۔ یہ نجاست کی وجہ سے ممنوع نہ تھا۔ (بلکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم تھا)
(ب) انس بن عیاض (رح) سے روایت ہے کہ یہ پانی اگرچہ نجس نہ تھا لیکن اس کا استعمال ممنوع تھا، اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہانے کا حکم دیا اور آٹا اونٹوں کو کھلانے کا حکم دیا۔ یہ نجاست کی وجہ سے ممنوع نہ تھا۔ (بلکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم تھا)
(۱۱۱۵) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی : إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَی الأَنْصَارِیُّ وَہَارُونُ بْنُ مُوسَی الْفَرْوِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ حَدَّثَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَہُ : أَنَّ النَّاسَ نَزَلُوا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -الْحِجْرَ أَرْضَ ثَمُودَ فَاسْتَقَوْا مِنْ بِیَارِہَا وَعَجَنُوا بِہِ ، فَأَمَرَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -أَنْ یُہَرِیقُوا مَا اسْتَقَوْا وَیُطْعِمُوا الإِبِلَ الْعَجِینَ ، وَأَمَرَہُمْ أَنْ یَسْتَقُوا مِنَ الْبِئْرِ الَّتِی کَانَتْ تَرِدُہَا النَّاقَۃُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مُوسَی الأَنْصَارِیِّ
وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَنَسِ بْنِ عِیَاضٍ۔
وَہَذَا الْمَائُ وَإِنْ لَمْ یَکُنْ نَجِسًا فَحِینَ کَانَ مَمْنُوعًا مِنِ اسْتِعْمَالِہِ أَمَرَ بِإِرَاقَتِہِ وَأَمَرَ بِإِطْعَامِ مَا عُجِنَ بِہِ الإِبِلَ فَکَذَلِکَ مَا یَکُونُ مَمْنُوعًا مِنْہُ لِنَجَاسَتِہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۱۹]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مُوسَی الأَنْصَارِیِّ
وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَنَسِ بْنِ عِیَاضٍ۔
وَہَذَا الْمَائُ وَإِنْ لَمْ یَکُنْ نَجِسًا فَحِینَ کَانَ مَمْنُوعًا مِنِ اسْتِعْمَالِہِ أَمَرَ بِإِرَاقَتِہِ وَأَمَرَ بِإِطْعَامِ مَا عُجِنَ بِہِ الإِبِلَ فَکَذَلِکَ مَا یَکُونُ مَمْنُوعًا مِنْہُ لِنَجَاسَتِہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۱۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھڑے پانی میں نجاست گرجائے اور وہ دو مٹکوں سے کم ہو
(١١١٦) (الف) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آٹے کے متعلق سوال کیا گیا جس میں خون کے قطرے گرپڑے تھے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کھانے سے منع فرما دیا۔
(ب) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک لونڈی نے کسی برتن میں آٹا گوندھا تو اس کے ہاتھ کو زخم لگا، جس کی وجہ سے آٹے میں خون کے قطرے گرے، اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے نہ کھاؤ۔
(ب) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک لونڈی نے کسی برتن میں آٹا گوندھا تو اس کے ہاتھ کو زخم لگا، جس کی وجہ سے آٹے میں خون کے قطرے گرے، اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے نہ کھاؤ۔
(۱۱۱۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا ابْنُ سَلْمٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -سُئِلَ عَنْ عَجِینٍ وَقَعَ فِیہِ قَطَرَاتٌ مِنْ دَمٍ ، فَنَہَی النَّبِیُّ -ﷺ -عَنْ أَکْلِہِ۔
قَالَ الْوَلِیدُ : لأَنَّ النَّارَ لاَ تُنَشِّفُ الدَّمَ۔ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ ہَکَذَا حَدَّثَنَاہُ ابْنُ سَلْمٍ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ۔
وَإِنَّمَا یَرْوِی ہَذَا سُوَیْدٌ عَنْ نُوحِ بْنِ ذَکْوَانَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسٍ۔
قَالَ أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَاہُ صَالِحُ بْنُ أَبِی الْجِنِّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ سُلَیْمَانَ الْمَنْبِجِیُّ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ حَدَّثَنَا سُوَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ نُوحِ بْنِ ذَکْوَانَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ جَارِیَۃً لَہُمْ عَجَنَتْ لَہُمْ عَجِینًا فِی جَفْنَۃٍ فَأَصَابَتْ یَدُہَا حَدِیدَۃٌ فِی الْعَجِینِ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -فَقَالَ : ((لاَ تَأْکُلُوہُ))
قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : وَسُوَیْدٌ الَّذِی خَلَطَ فِی رِوَایَۃِ ہَذَا الْحَدِیثِ فَمَرَّۃً رَوَاہُ عَنْ نُوحٍ عَنِ الْحَسَنِ وَمَرَّۃً عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ۔
قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : وَعَامَّۃُ حَدِیثِہِ مِمَّا لاَ یُتَابِعُہُ الثِّقَاتُ عَلَیْہِ ، وَہُوَ ضَعِیفٌ کَمَا وَصَفُوہُ یَعْنِی أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَیَحْیَی بْنَ مَعِینٍ وَغَیْرَہُمَا مِنَ الأَئِمَّۃِ ضَعَّفُوا سُوَیْدًا۔ [ضعیف۔ أخرجہ الطبرانی الاوسط ۱/۸۲۳]
قَالَ الْوَلِیدُ : لأَنَّ النَّارَ لاَ تُنَشِّفُ الدَّمَ۔ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ ہَکَذَا حَدَّثَنَاہُ ابْنُ سَلْمٍ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ۔
وَإِنَّمَا یَرْوِی ہَذَا سُوَیْدٌ عَنْ نُوحِ بْنِ ذَکْوَانَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسٍ۔
قَالَ أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَاہُ صَالِحُ بْنُ أَبِی الْجِنِّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ سُلَیْمَانَ الْمَنْبِجِیُّ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ حَدَّثَنَا سُوَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ نُوحِ بْنِ ذَکْوَانَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ جَارِیَۃً لَہُمْ عَجَنَتْ لَہُمْ عَجِینًا فِی جَفْنَۃٍ فَأَصَابَتْ یَدُہَا حَدِیدَۃٌ فِی الْعَجِینِ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -فَقَالَ : ((لاَ تَأْکُلُوہُ))
قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : وَسُوَیْدٌ الَّذِی خَلَطَ فِی رِوَایَۃِ ہَذَا الْحَدِیثِ فَمَرَّۃً رَوَاہُ عَنْ نُوحٍ عَنِ الْحَسَنِ وَمَرَّۃً عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ۔
قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : وَعَامَّۃُ حَدِیثِہِ مِمَّا لاَ یُتَابِعُہُ الثِّقَاتُ عَلَیْہِ ، وَہُوَ ضَعِیفٌ کَمَا وَصَفُوہُ یَعْنِی أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَیَحْیَی بْنَ مَعِینٍ وَغَیْرَہُمَا مِنَ الأَئِمَّۃِ ضَعَّفُوا سُوَیْدًا۔ [ضعیف۔ أخرجہ الطبرانی الاوسط ۱/۸۲۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستعمل پانی پاک ہوتا ہے
(١١١٧) سیدنا ابی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوپہر کو نکلے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بطحاء نامی جگہ پر ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں ادا کیں اور اپنے آگے نیزہ گاڑا اور وضو کیا اور لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کے بچے ہوئے پانی کو ملنے لگے۔
(۱۱۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ أَبِی جُحَیْفَۃَ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -بِالْہَاجِرَۃِ فَصَلَّی بِالْبَطْحَائِ الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ ، وَنَصَبَ بَیْنَ یَدَیْہِ عَنَزَۃً وَتَوَضَّأَ فَجَعَلَ النَّاسُ یَتَمَسَّحُونَ بِوَضُوئِہِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ شُعْبَۃَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخِرَ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۴۷۳]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ شُعْبَۃَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخِرَ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۴۷۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستعمل پانی پاک ہوتا ہے
(١١١٨) سیدنا جابر (رض) فرماتے ہیں کہ جب میں مریض تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری تیمار داری کیا کرتے تھے، اس وقت مجھے ہوش نہیں تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی مجھ پر ڈالا تو مجھے ہوش آگیا، میں نیعرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میری وراثت کس کے لیے ہے، میرا وارث کلالہ ہے ؟ تو فرائض کی آیت نازل ہوئی۔
(۱۱۱۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ یَعْقُوبَ الثَّقَفِیُّ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَی وَاللَّفْظُ لِلثَّقَفِیِّ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا یَقُولُ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -یَعُودُنِی وَأَنَا مَرِیضٌ لاَ أَعْقِلُ فَتَوَضَّأَ وَصَبَّ عَلَیَّ مِنْ وَضُوئِہِ فَعَقَلْتُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ لِمَنِ الْمِیرَاثُ إِنَّمَا یَرِثُنِی کَلاَلَۃٌ ، فَنَزَلَتْ آیَۃُ الْفَرَائِضِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخِرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۹۱]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخِرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۹۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستعمل پانی پاک ہوتا ہے
(١١١٩) سیدہ میمونہ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غسل کا تذکرہ فرماتی ہیں کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فارغ ہوئے تو الگ ہوئے اور اپنے پاؤں کو دھویا۔ میں نے آپ کو کپڑا دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انکار کردیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ہاتھ سے پانی صاف کررہے تھے۔
(۱۱۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ کُرَیْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَیْمُونَۃَ فَذَکَرَتْ غُسْلَ النَّبِیِّ -ﷺ -قَالَتْ : فَلَمَّا فَرَغَ تَنَحَّی فَغَسَلَ رِجْلَیْہِ ، فَأَعْطَیْتُہُ مِلْحَفَۃً فَأَبَی فَجَعَلَ یَنْفُضُ الْمَائَ بِیَدِہِ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ زَائِدَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ زَائِدَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستعمل پانی پاک ہوتا ہے
(١١٢٠) (الف) سیدنا معاذ بن جبل (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا، جب آپ وضو کرتے تو اپنے چہرے کو کپڑے کے ایک کنارے سے صاف فرماتے۔
(ب) ابوالعباس فرماتے ہیں کہ میں نے ابورجا سے سنا کہ مجھ سے امام احمد بن حنبل نے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انھوں نے اس کو لکھ دیا۔ شیخ کہتے ہیں : اس کی سند قوی نہیں۔
(ج) یونس بن عبید سے روایت ہے کہ بسا اوقات محمد بن سیرین بھی اپنے چہرے کو صاف کرنے کے لیے تولیہ استعمال نہیں کرتے تھے۔
(ب) ابوالعباس فرماتے ہیں کہ میں نے ابورجا سے سنا کہ مجھ سے امام احمد بن حنبل نے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انھوں نے اس کو لکھ دیا۔ شیخ کہتے ہیں : اس کی سند قوی نہیں۔
(ج) یونس بن عبید سے روایت ہے کہ بسا اوقات محمد بن سیرین بھی اپنے چہرے کو صاف کرنے کے لیے تولیہ استعمال نہیں کرتے تھے۔
(۱۱۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا رِشْدِینُ یَعْنِی ابْنَ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِیَادِ بْنِ أَنْعُمٍ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَیٍّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -إِذَا تَوَضَّأَ مَسَحَ وَجْہَہُ بِطَرَفِ ثَوْبِہِ۔
قَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ سَمِعْتُ أَبَا رَجَائٍ یَقُولُ سَأَلَنِی أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَکَتَبَہُ۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَإِسْنَادُہُ لَیْسَ بِالْقَوِیِّ۔
وَقَدْ رُوِّینَا عَنْ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ أَنَّہُ قَالَ : رُبَّمَا لَمْ یَجِدْ مُحَمَّدُ بْنُ سِیرِینَ الْمِنْدِیلَ فَیَمْسَحُ وَجْہَہُ بِثَوْبِہِ۔
[ضعیف۔ أخرجہ الترمذی ۵۴]
قَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ سَمِعْتُ أَبَا رَجَائٍ یَقُولُ سَأَلَنِی أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَکَتَبَہُ۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَإِسْنَادُہُ لَیْسَ بِالْقَوِیِّ۔
وَقَدْ رُوِّینَا عَنْ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ أَنَّہُ قَالَ : رُبَّمَا لَمْ یَجِدْ مُحَمَّدُ بْنُ سِیرِینَ الْمِنْدِیلَ فَیَمْسَحُ وَجْہَہُ بِثَوْبِہِ۔
[ضعیف۔ أخرجہ الترمذی ۵۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستعمل پانی پاک ہوتا ہے
(١١٢١) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اگر کہنے والا کہے کہ کہاں سے وہ نجس نہیں ہوا ؟ تو اسے کہا جائے گا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا اور کچھ شک نہیں کہ وضو اس (پانی) سے جو کپڑے کو لگا اور اس سے کپڑا دھونے کا علم نہیں اور نہ اس نے اس کو متغیر کیا۔ مجھے معلوم نہیں کہ مسلمانوں میں سے کسی نے بھی اس کو استعمال کیا ہو۔ یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ جب پانی کو نجاست نہ لگے تو وہ ناپاک نہیں ہوتا۔
(۱۱۲۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ فَمِنْ أَیْنَ لَمْ یَکُنْ نَجِسًا؟ قِیلَ مِنْ قِبَلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -تَوَضَّأَ وَلاَ شَکَّ أَنْ مِنَ الْوُضُوئِ مَا یُصِیبُ ثِیَابَہُ وَلَمْ یُعْلَمْ غَسَلَ ثِیَابَہُ مِنْہُ وَلاَ أَبْدَلَہَا وَلاَ عَلِمْتُہُ فَعَلَ ذَلِکَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، وَکَانَ مَعْقُولاً إِذْ لَمْ تَمَسَّ الْمَائَ نَجَاسَۃٌ أَنَّہُ لاَ یَنْجُسُ۔ [صحیح]
তাহকীক: