আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৭৩ টি
হাদীস নং: ১১২১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستعمل پانی پاک ہوتا ہے
(١١٢٢) سیدنا ابن عباس (رض) اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو برتن میں غسل کرتا ہے اور اسے اس پانی سے جو برتن میں ڈالا تھا چھینٹے پڑجاتے ہیں وہ پانی پاک ہی لیکن وہ پاک نہیں کرسکتا۔
(۱۱۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَمَاہِرِ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : فِی الرَّجُلِ یَغْتَسِلُ فِی الإِنَائِ فَیَنْتَضِحُ مِنَ الَّذِی یَصُبُّ عَلَیْہِ فِی الإِنَائِ قَالَ : إِنَّ الْمَائَ طَہُورٌ وَلاَ یُطَہِّرُ۔ [لغیرہٖ۔ أخرجہ عبد الرزاق ۲۵۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر عضو کے لیے نیا پانی لیا جائے گا اور مستعمل پانی سے طہارت درست نہیں
(١١٢٣) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چلو بھرا اور کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر چلو بھرا اور اپنا چہرہ دھویا، پھر چلو بھرا اور دایاں ہاتھ دھویا، پھر چلو بھرا اور اپنا بایاں ہاتھ دھویا، پھر کچھ پانی لیا اور سر کا مسح کیا، اپنی درمیان والی انگلیوں سے کانوں کے اندرونی حصہ کا مسح کیا اور انگوٹھوں سے کانوں کے بیرونی حصہ کا بھی، پھر چلو بھرا اور اپنا دایاں پاؤں دھویا ، پھر چلو بھرا اور اپنا بایاں قدم دھویا۔
(۱۱۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ الأَہْوَازِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -تَوَضَّأَ فَغَرَفَ غَرْفَۃً ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْہَا ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَۃً فَغَسَلَ وَجْہَہُ ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَۃً فَغَسَلَ یَدَہُ الْیُمْنَی ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَۃً فَغَسَلَ یَدَہُ الْیُسْرَی ثُمَّ أَخَذَ شَیْئًا مِنْ مَائٍ فَمَسَحَ بِہِ رَأْسَہُ وَقَالَ بِالْوُسْطَیَیْنِ مِنْ أَصَابِعِہِ فِی بَاطِنِ أُذُنَیْہِ وَالإِبْہَامَیْنِ مِنْ وَرَائِ أُذُنَیْہِ ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَۃً فَغَسَلَ قَدَمَہُ الْیُمْنَی ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَۃً فَغَسَلَ قَدَمَہُ الْیُسْرَی۔
[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ النسائی ۱۰۲]
[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ النسائی ۱۰۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر عضو کے لیے نیا پانی لیا جائے گا اور مستعمل پانی سے طہارت درست نہیں
(١١٢٤) حبان بن واسع کے باپ نے عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی سے سنا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کلی کی، پھر ناک جھاڑا، پھر تین مرتبہ چہرا دھویا اور تین مرتبہ دایاں ہاتھ اور تین مرتبہ بایاں، پھر نئے پانی سے سر کا مسح کیا اور اپنے پاؤں کو دھوکر صاف کیا۔
(۱۱۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ حَسَنٍ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ سَعِیدٍ الأَیْلِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنِی ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ حَبَّانَ بْنَ وَاسِعٍ حَدَّثَہُ أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ زَیْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِیَّ یَذْکُرُ : أَنَّہُ رَأَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -تَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ ثُمَّ اسْتَنْثَرَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَلاَثًا وَیَدَہُ الْیُمْنَی ثَلاَثًا ، وَالأُخْرَی ثَلاَثًا ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِہِ بِمَائٍ غَیْرِ فَضْلِ یَدِہِ وَغَسَلَ رِجْلَیْہِ حَتَّی أَنْقَاہُمَا۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ سَعِیدٍ وَأَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ وَہَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ۔ [صحیح]
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنِی ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ حَبَّانَ بْنَ وَاسِعٍ حَدَّثَہُ أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ زَیْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِیَّ یَذْکُرُ : أَنَّہُ رَأَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -تَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ ثُمَّ اسْتَنْثَرَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَلاَثًا وَیَدَہُ الْیُمْنَی ثَلاَثًا ، وَالأُخْرَی ثَلاَثًا ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِہِ بِمَائٍ غَیْرِ فَضْلِ یَدِہِ وَغَسَلَ رِجْلَیْہِ حَتَّی أَنْقَاہُمَا۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ سَعِیدٍ وَأَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ وَہَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر عضو کے لیے نیا پانی لیا جائے گا اور مستعمل پانی سے طہارت درست نہیں
(١١٢٥) سیدنا ربیع بنت معوذ بن عفرائ فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پانی والا برتن لے کر آئی، جس میں ایک مد یا ایک مد اور تہائی پانی آتا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو ڈال، میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پانی بہایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے چہرے اور بازوؤں کو کہنیوں تک دھویا اور نیا پانی لیا۔ پھر اپنے سر کے اگلے اور پچھلے حصہ کا مسح کیا اور تین مرتبہ اپنے پاؤں کو دھویا۔
(۱۱۲۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِیُّ حَدَّثَنَا الْہَیْثَمُ بْنُ جَمِیلٍ الأَنْطَاکِیُّ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ عَنِ الرُّبَیِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَائَ قَالَتْ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -بِمِیضَأَۃٍ تَسَعُ مُدًّا أَوْ مُدًّا وَثُلُثًا فَقَالَ : اسْکُبِی ۔ قَالَتْ : فَسَکَبْتُ عَلَیْہِ ، فَغَسَلَ وَجْہَہُ وَذِرَاعَیْہِ إِلَی مِرْفَقَیْہِ ، وَأَخَذَ مَائً جَدِیدًا فَمَسَحَ رَأْسَہُ مُقَدَّمَہُ وَمُؤَخَّرَہُ ، وَغَسَلَ قَدَمَیْہِ ثَلاَثًا۔
ہَکَذَا رَوَاہُ شَرِیکُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَہُوَ مُوَافِقٌ لِلرِّوَایَۃِ الصَّحِیحَۃِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ۔
وَرُوِیَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ مَا یُشْبِہُ خِلاَفَہُ وَیُشْبِہُ مُوَافَقَتَہُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ أبو داؤد ۱۲۶]
ہَکَذَا رَوَاہُ شَرِیکُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَہُوَ مُوَافِقٌ لِلرِّوَایَۃِ الصَّحِیحَۃِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ۔
وَرُوِیَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ مَا یُشْبِہُ خِلاَفَہُ وَیُشْبِہُ مُوَافَقَتَہُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ أبو داؤد ۱۲۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر عضو کے لیے نیا پانی لیا جائے گا اور مستعمل پانی سے طہارت درست نہیں
(١١٢٦) (الف) ربیع سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ میں بچے ہوئے پانی سے اپنے سر کا مسح کیا۔
(ب) عبداللہ بن داؤد وغیرہ ثوری سے نقل کرتے ہیں کہ بعض نے کہا : آپ اپنے ہاتھوں کی تری سے ہی مسح کرتے تھے، یعنی جب آپ کسی دوسرے عضو کو دھونے کے لیے پانی لیتے تو اسے اس پر بہاتے اور پھر باقی ماندہ ہاتھوں کی تری سے مسح کرتے۔ عبداللہ بن محمد بن عقیل حافظ حدیث نہیں تھے۔ محدثین ان کو روایات کو قابل حجت کے جواز کو سمجھنے میں مختلف فیہ ہیں۔ (ج) یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ ابن عقیل کی احادیث قابل حجت نہیں۔ (د) امام ترمذی نے امام بخاری (رح) نے ابن عقیل کے متعلق پوچھا تو انھوں نے کہا : میں نے احمد بن حنبل، اسحاق بن ابراہیم اور حمیدی کو دیکھا، وہ اس کی احادیث کو قابل حجت سمجھتے تھے۔ (ر) ابودرداء عن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) والی روایت کی سند ضعیف ہے۔ (س) سیدنا علی، ابن عباس، ابن مسعود، عائشہ اور انس بن مالک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے غسل کے متعلق اس کے ہم معنی روایت کرتے ہیں لیکن ان کی اسانید ضعیف ہیں۔ خلافیات میں اس کی مکمل وضاحت ہے۔ (ط) امام ابوداؤد مراسیل میں علاء بن زیاد کے واسطے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ آپ نے غسل کیا اور کندھے پر تھوڑی سی خشک جگہ تھی جہاں پانی نہیں پہنچا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے سر کے بالوں سے پانی لے کر وہاں کندھے پر نچوڑ دیا، پھر ہاتھ کے ساتھ اس کو مل دیا۔ یہ روایت منقطع ہے۔
(ب) عبداللہ بن داؤد وغیرہ ثوری سے نقل کرتے ہیں کہ بعض نے کہا : آپ اپنے ہاتھوں کی تری سے ہی مسح کرتے تھے، یعنی جب آپ کسی دوسرے عضو کو دھونے کے لیے پانی لیتے تو اسے اس پر بہاتے اور پھر باقی ماندہ ہاتھوں کی تری سے مسح کرتے۔ عبداللہ بن محمد بن عقیل حافظ حدیث نہیں تھے۔ محدثین ان کو روایات کو قابل حجت کے جواز کو سمجھنے میں مختلف فیہ ہیں۔ (ج) یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ ابن عقیل کی احادیث قابل حجت نہیں۔ (د) امام ترمذی نے امام بخاری (رح) نے ابن عقیل کے متعلق پوچھا تو انھوں نے کہا : میں نے احمد بن حنبل، اسحاق بن ابراہیم اور حمیدی کو دیکھا، وہ اس کی احادیث کو قابل حجت سمجھتے تھے۔ (ر) ابودرداء عن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) والی روایت کی سند ضعیف ہے۔ (س) سیدنا علی، ابن عباس، ابن مسعود، عائشہ اور انس بن مالک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے غسل کے متعلق اس کے ہم معنی روایت کرتے ہیں لیکن ان کی اسانید ضعیف ہیں۔ خلافیات میں اس کی مکمل وضاحت ہے۔ (ط) امام ابوداؤد مراسیل میں علاء بن زیاد کے واسطے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ آپ نے غسل کیا اور کندھے پر تھوڑی سی خشک جگہ تھی جہاں پانی نہیں پہنچا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے سر کے بالوں سے پانی لے کر وہاں کندھے پر نچوڑ دیا، پھر ہاتھ کے ساتھ اس کو مل دیا۔ یہ روایت منقطع ہے۔
(۱۱۲۶) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ دَاوُدَ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ عَقِیلٍ عَنِ الرُّبَیِّعِ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -مَسَحَ بِرَأْسِہِ مِنْ فَضْلِ مَائٍ کَانَ فِی یَدِہِ۔
ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دَاوُدَ وَغَیْرِہِ عَنِ الثَّوْرِیِّ وَقَالَ بَعْضُہُمْ بِبَلَلِ یَدَیْہِ۔
وَکَأَنَّہُ أَرَادَ أَخَذَ مَائً جَدِیدًا فَصَبَّ بَعْضَہُ وَمَسَحَ رَأْسَہُ بِبَلَلِ یَدَیْہِ۔
وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ لَمْ یَکُنْ بِالْحَافِظِ وَأَہْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِیثِ مُخْتَلِفُونَ فِی جَوَازِ الاِحْتِجَاجِ بِرِوَایَاتِہِ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِیُّ قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ یَقُولُ : ابْنُ عَقِیلٍ لاَ یُحْتَجُّ بِحَدِیثِہِ۔
وَقَالَ أَبُو عِیسَی : سَأَلْتُ الْبُخَارِیَّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ فَقَالَ : رَأَیْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَإِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاہِیمَ وَالْحُمَیْدِیَّ یَحْتَجُّونَ بِحَدِیثِہِ وَہُوَ مُقَارِبُ الْحَدِیثِ۔
وَقَدْ رُوِیَ فِیہِ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -وَإِسْنَادُہُ ضَعِیفٌ
وَرُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَعَائِشَۃَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -فِی الْغُسْلِ شَیْئٌ فِی مَعْنَاہُ ، وَلاَ یَصِحُّ شَیْئٌ مِنْ ذَلِکَ لِضَعْفِ أَسَانِیدِہِ وَقَدْ بَیَّنْتُہُ فِی الْخِلاَفِیَّاتِ
وَأَصَحُّ شَیْئٍ فِیہِ مَا رَوَاہُ أَبُو دَاُودَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَیْدٍ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ زِیَادٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -: أَنَّہُ اغْتَسَلَ فَرَأَی لُمْعَۃً عَلَی مَنْکِبِہِ لَمْ یُصِبْہَا الْمَائُ ، فَأَخَذَ خَصْلَۃً مِنْ شَعَرِ رَأْسِہِ فَعَصَرَہَا عَلَی مَنْکِبِہِ ، ثُمَّ مَسَحَ یَدَہُ عَلَی ذَلِکَ الْمَکَانِ۔ وَہَذَا مُنْقَطِعٌ۔
[ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۱۳۰]
ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دَاوُدَ وَغَیْرِہِ عَنِ الثَّوْرِیِّ وَقَالَ بَعْضُہُمْ بِبَلَلِ یَدَیْہِ۔
وَکَأَنَّہُ أَرَادَ أَخَذَ مَائً جَدِیدًا فَصَبَّ بَعْضَہُ وَمَسَحَ رَأْسَہُ بِبَلَلِ یَدَیْہِ۔
وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ لَمْ یَکُنْ بِالْحَافِظِ وَأَہْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِیثِ مُخْتَلِفُونَ فِی جَوَازِ الاِحْتِجَاجِ بِرِوَایَاتِہِ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِیُّ قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ یَقُولُ : ابْنُ عَقِیلٍ لاَ یُحْتَجُّ بِحَدِیثِہِ۔
وَقَالَ أَبُو عِیسَی : سَأَلْتُ الْبُخَارِیَّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ فَقَالَ : رَأَیْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَإِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاہِیمَ وَالْحُمَیْدِیَّ یَحْتَجُّونَ بِحَدِیثِہِ وَہُوَ مُقَارِبُ الْحَدِیثِ۔
وَقَدْ رُوِیَ فِیہِ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -وَإِسْنَادُہُ ضَعِیفٌ
وَرُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَعَائِشَۃَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -فِی الْغُسْلِ شَیْئٌ فِی مَعْنَاہُ ، وَلاَ یَصِحُّ شَیْئٌ مِنْ ذَلِکَ لِضَعْفِ أَسَانِیدِہِ وَقَدْ بَیَّنْتُہُ فِی الْخِلاَفِیَّاتِ
وَأَصَحُّ شَیْئٍ فِیہِ مَا رَوَاہُ أَبُو دَاُودَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَیْدٍ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ زِیَادٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -: أَنَّہُ اغْتَسَلَ فَرَأَی لُمْعَۃً عَلَی مَنْکِبِہِ لَمْ یُصِبْہَا الْمَائُ ، فَأَخَذَ خَصْلَۃً مِنْ شَعَرِ رَأْسِہِ فَعَصَرَہَا عَلَی مَنْکِبِہِ ، ثُمَّ مَسَحَ یَدَہُ عَلَی ذَلِکَ الْمَکَانِ۔ وَہَذَا مُنْقَطِعٌ۔
[ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۱۳۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر عضو کے لیے نیا پانی لیا جائے گا اور مستعمل پانی سے طہارت درست نہیں
(١١٢٧) (الف) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : کوئی شخص کھڑے پانی میں غسل جنابت نہ کرے، لوگوں نے کہا : اے ابوہریرہ ! کیسے کرے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : اس پانی کو الگ کسی برتن میں لے لے۔
(۱۱۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَی ہِشَامِ بْنِ زُہْرَۃَ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((لاَ یَغْتَسِلُ أَحَدُکُمْ فِی الْمَائِ الدَّائِمِ وَہُوَ جُنُبٌ))۔ فَقَالَ : کَیْفَ یَفْعَلُ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ؟ قَالَ : یَتَنَاوَلُہُ تَنَاوُلاً۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ سَعِیدٍ وَأَبِی الطَّاہِرِ وَأَحْمَدُ بْنُ عِیسَی کُلِّہِمْ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ کَذَا رُوِیَ بِہَذَا الإِسْنَادِ۔
وَہُوَ مَحْمُولٌ عَلَی مَائٍ دَائِمٍ یَکُونُ أَقَلَّ مِنْ قُلَّتَیْنِ ، فَإِذَا اغْتَسَلَ فِیہِ صَارَ مُسْتَعْمَلاً ، فَلاَ یُمْکِنُ غَیْرُہُ أَنْ یَتَطَہَّرَ بِہِ ، فَأَمَرَ بِأَنْ یَتَنَاوَلَہُ تَنَاوُلاً لِئَلاَ یَصِیرَ مَا یَبْقَی فِیہِ مُسْتَعْمَلاً وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ وَہَکَذَا مَعْنَی مَا
[صحیح۔ أخرجہ مسلم ۲۸۳]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ سَعِیدٍ وَأَبِی الطَّاہِرِ وَأَحْمَدُ بْنُ عِیسَی کُلِّہِمْ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ کَذَا رُوِیَ بِہَذَا الإِسْنَادِ۔
وَہُوَ مَحْمُولٌ عَلَی مَائٍ دَائِمٍ یَکُونُ أَقَلَّ مِنْ قُلَّتَیْنِ ، فَإِذَا اغْتَسَلَ فِیہِ صَارَ مُسْتَعْمَلاً ، فَلاَ یُمْکِنُ غَیْرُہُ أَنْ یَتَطَہَّرَ بِہِ ، فَأَمَرَ بِأَنْ یَتَنَاوَلَہُ تَنَاوُلاً لِئَلاَ یَصِیرَ مَا یَبْقَی فِیہِ مُسْتَعْمَلاً وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ وَہَکَذَا مَعْنَی مَا
[صحیح۔ أخرجہ مسلم ۲۸۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر عضو کے لیے نیا پانی لیا جائے گا اور مستعمل پانی سے طہارت درست نہیں
(١١٢٨) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص کھڑے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے اور نہ اس میں غسل جنابت کرے۔
(۱۱۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی ہُوَ ابْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((لاَ یَبُولَنَّ أَحَدُکُمْ فِی الْمَائِ الدَّائِمِ وَلاَ یَغْتَسِلْ فِیہِ مِنَ الْجَنَابَۃِ))۔ ہَکَذَا رَوَاہُ ابْنُ عَجْلاَنَ عَنْ أَبِیہِ بِہَذَا اللَّفْظِ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابو داؤد ۷۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر عضو کے لیے نیا پانی لیا جائے گا اور مستعمل پانی سے طہارت درست نہیں
(١١٢٩) سیدنا ابی ہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع کیا کہ کچھ اس میں جنابت کا غسل کیا جائے۔
(۱۱۲۹) وَرُوِیَ عَنْہُ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -: أَنَّہُ نَہَی أَنْ یُبَالَ فِی الْمَائِ الدَّائِمِ ، وَأَنْ یُغْتَسَلَ فِیہِ مِنَ الْجَنَابَۃِ
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ فَذَکَرَہُ۔ وَقَدْ قِیلَ عَنْہُ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَلَی لَفْظٍ آخَرَ۔
[صحیح لغیرہٖ]
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ فَذَکَرَہُ۔ وَقَدْ قِیلَ عَنْہُ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَلَی لَفْظٍ آخَرَ۔
[صحیح لغیرہٖ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر عضو کے لیے نیا پانی لیا جائے گا اور مستعمل پانی سے طہارت درست نہیں
(١١٣٠) (الف) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا کہ پھر اس سے غسل جنابت کیا جائے۔
(۱۱۳۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -نَہَی أَنْ یُبَالَ فِی الْمَائِ الدَّائِمِ ، ثُمَّ یُغْتَسَلَ مِنْہُ لِلْجَنَابَۃٍ۔
ہَذَا اللَّفْظُ ہُوَ الَّذِی أُخْرِجَ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ ہَذَا الْحَدِیثِ : ثُمَّ یُغْتَسَلَ مِنْہُ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یُخَرَّجْ فِیہِ لِلْجَنَابَۃِ۔ [صحیح لغیرہٖ]
ہَذَا اللَّفْظُ ہُوَ الَّذِی أُخْرِجَ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ ہَذَا الْحَدِیثِ : ثُمَّ یُغْتَسَلَ مِنْہُ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یُخَرَّجْ فِیہِ لِلْجَنَابَۃِ۔ [صحیح لغیرہٖ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر عضو کے لیے نیا پانی لیا جائے گا اور مستعمل پانی سے طہارت درست نہیں
(١١٣١) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : تم میں سے کوئی بھی کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے اور اس سے غسل کرے۔
(۱۱۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجَ یُحَدِّثُ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ إِنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -یَقُولُ : لاَ یَبُولَنَّ أَحَدُکُمْ فِی الْمَائِ الدَّائِمِ ثُمَّ یَغْتَسِلُ مِنْہُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُوالزِّنَادِ عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری۲۳۶]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُوالزِّنَادِ عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری۲۳۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر عضو کے لیے نیا پانی لیا جائے گا اور مستعمل پانی سے طہارت درست نہیں
(١١٣٢) سیدنا ابوہریرہ (رض) نے مرفوعا بیان کیا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص کھڑے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اس سے غسل کرے۔
(۱۱۳۲) أَخْبَرَنَاہُ أَبُوالْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُوجَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَفَعَہُ قَالَ: ((لاَ یَبُولَنَّ أَحَدُکُمْ فِی الْمَائِ الدَّائِمِ ثُمَّ یَغْتَسِلُ مِنْہُ))۔ وَکَذَلِکَ ثَبَتَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔
[صحیح]
[صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر عضو کے لیے نیا پانی لیا جائے گا اور مستعمل پانی سے طہارت درست نہیں
(١١٣٣) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی بھی کھڑے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اس سے وضو یاغسل کرے۔
(۱۱۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ التَّاجِرُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ ہِشَامٍ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((لاَ یَبُولَنَّ أَحَدُکُمْ فِی الْمَائِ الدَّائِمِ ثُمَّ یَتَوَضَّأُ أَوْ یَغْتَسِلُ مِنْہُ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَرِیرٍ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : ثُمَّ یَغْتَسِلُ مِنْہُ ۔ لَمْ یَشُکَّ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَوْفٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ مَرْفُوعًا۔ [صحیح]
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ ہِشَامٍ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((لاَ یَبُولَنَّ أَحَدُکُمْ فِی الْمَائِ الدَّائِمِ ثُمَّ یَتَوَضَّأُ أَوْ یَغْتَسِلُ مِنْہُ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَرِیرٍ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : ثُمَّ یَغْتَسِلُ مِنْہُ ۔ لَمْ یَشُکَّ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَوْفٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ مَرْفُوعًا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر عضو کے لیے نیا پانی لیا جائے گا اور مستعمل پانی سے طہارت درست نہیں
(١١٣٤) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص کھڑے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اس سے وضو کرے۔
(۱۱۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ عَوْفٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔
قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -قَالَ : ((لاَ یَبُولَنَّ أَحَدُکُمْ فِی الْمَائِ الدَّائِمِ ثُمَّ یَتَطَہَّرُ مِنْہُ))۔
وَخَالَفَہُمَا أَیُّوبُ السَّخْتِیَانِیُّ فَرَوَاہُ عَنْ مُحَمَّدٍ مَوْقُوفًا عَلَی أَبِی ہُرَیْرَۃ۔ [صحیح]
قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -قَالَ : ((لاَ یَبُولَنَّ أَحَدُکُمْ فِی الْمَائِ الدَّائِمِ ثُمَّ یَتَطَہَّرُ مِنْہُ))۔
وَخَالَفَہُمَا أَیُّوبُ السَّخْتِیَانِیُّ فَرَوَاہُ عَنْ مُحَمَّدٍ مَوْقُوفًا عَلَی أَبِی ہُرَیْرَۃ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر عضو کے لیے نیا پانی لیا جائے گا اور مستعمل پانی سے طہارت درست نہیں
(١١٣٥) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی بھی کھڑے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے ، پھر اس سے غسل کرے۔
(۱۱۳۵) أَخْبَرَنَاہُ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ أَیُّوبَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: لاَ یَبُولَنَّ أَحَدُکُمْ فِی الْمَائِ الدَّائِمِ ثُمَّ یَغْتَسِلُ مِنْہُ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ یَزِیدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ مَوْقُوفًا۔
وَرَوَاہُ ہَمَّامُ بْنُ مُنَبِّہٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَرْفُوعًا۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱/۱۵]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ یَزِیدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ مَوْقُوفًا۔
وَرَوَاہُ ہَمَّامُ بْنُ مُنَبِّہٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَرْفُوعًا۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱/۱۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر عضو کے لیے نیا پانی لیا جائے گا اور مستعمل پانی سے طہارت درست نہیں
(١١٣٦) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کھڑے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کیا جائے جو چلتا نہ ہو کہ پھر اس سے غسل کرے۔
(۱۱۳۶) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((لاَ یُبَالُ فِی الْمَائِ الدَّائِمِ الَّذِی لاَ یَجْرِی ثُمَّ یُغْتَسَلُ مِنْہُ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ (ت) وَکَذَلِکَ ثَبَتَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَعَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ احمد ۲/۴۹۴]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ (ت) وَکَذَلِکَ ثَبَتَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَعَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ احمد ۲/۴۹۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر عضو کے لیے نیا پانی لیا جائے گا اور مستعمل پانی سے طہارت درست نہیں
(١١٣٧) سیدنا ابی ہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص کھڑے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اس سے وضو کرے یا پیے۔
(۱۱۳۷) وَرُوِیَ عَنْ عَطَائِ بْنِ مِینَا عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ : ((لاَ یَبُولَنَّ أَحَدُکُمْ فِی الْمَائِ الدَّائِمِ ثُمَّ یَتَوَضَّأُ مِنْہُ أَوْ یُشْرَبُ))۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَطَائِ بْنِ مِینَا … فَذَکَرَہُ۔
[حسن۔ أخرجہ ابن خزیمۃ ۶۶]
أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَطَائِ بْنِ مِینَا … فَذَکَرَہُ۔
[حسن۔ أخرجہ ابن خزیمۃ ۶۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر عضو کے لیے نیا پانی لیا جائے گا اور مستعمل پانی سے طہارت درست نہیں
(١١٣٨) سیدنا ابن عباس (رض) سے آٹھ آدمیوں کے متعلق سوال کیا گیا جو ایک حوض میں غسل کرتے ہیں اور ان میں سے ایک جنبی ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : پانی پاک ہے اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
(۱۱۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْمَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ ثَمَانِیَۃِ رَہْطٍ اغْتَسَلُوا مِنْ حَوْضٍ وَاحِدٍ ، أَحَدُہُمْ جُنُبٌ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّ الْمَائَ لاَ یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ۔
وَہَذَا إِنْ کَانُوا یَتَنَاوَلُونَہُ تَنَاوُلاً فَجَائِزٌ ، وَإِنْ کَانُوا انْغَمَسُوا فِیہِ وَالْمَائُ قُلَّتَانِ فَصَاعِدًا فَجَائِزٌ أَیْضًا ، وَإِنْ کَانَ أَقَلَّ فَبِانْغِمَاسِ جُنُبٍ فِیہِ یَصِیرُ مُسْتَعْمَلاً فَالأَثَرُ یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ لاَ یَصِیرُ نَجِسًا ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
وَہَذَا إِنْ کَانُوا یَتَنَاوَلُونَہُ تَنَاوُلاً فَجَائِزٌ ، وَإِنْ کَانُوا انْغَمَسُوا فِیہِ وَالْمَائُ قُلَّتَانِ فَصَاعِدًا فَجَائِزٌ أَیْضًا ، وَإِنْ کَانَ أَقَلَّ فَبِانْغِمَاسِ جُنُبٍ فِیہِ یَصِیرُ مُسْتَعْمَلاً فَالأَثَرُ یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ لاَ یَصِیرُ نَجِسًا ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر عضو کے لیے نیا پانی لیا جائے گا اور مستعمل پانی سے طہارت درست نہیں
(١١٣٩) سیدنا جابر (رض) سے روایت ہے کہ ہم میں سے کوئی شخصکنویں پر آتا اور وہ جنبی ہوتا تو وہ اس کے ایک طرف سے غسل کرلیتا تھا۔
(۱۱۳۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ یَقُولُ حَدَّثَنِی جَدِّی أَحْمَدُ بْنُ مَنِیعٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : کَانَ أَحَدُنَا یَأْتِی الْغَدِیرَ وَہُوَ جُنُبٌ فَیَغْتَسِلُ فِی نَاحِیَۃٍ مِنْہُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن عدی فی الکامل ۶/۱۲۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتے کا جھوٹا ناپاک ہے
(١١٤٠) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال جائے تو اسے انڈیل دو ، پھر اس کو سات مرتبہ دھوؤ۔
(۱۱۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ وَأَبُو النَّضْرِ بْنُ یُوسُفَ قَالاَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ حَدَّثَنَا أَبُو رَزِینٍ وَأَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((إِذَا وَلَغَ الْکَلْبُ فِی إِنَائِ أَحَدِکُمْ فَلْیُرِقْہُ ، ثُمَّ لْیَغْسِلْہُ سَبْعَ مِرَارٍ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُجْرٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۲۷۹]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُجْرٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۲۷۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتے کیبرتن کو چاٹ جانے پر سات مرتبہ دھونا
(١١٤١) (الف) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کتا کسی کے برتن سے پی جائے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ۔ (ب) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب کتا کسی برتن کو چاٹ جائے تو اسے تین ، پانچ یا سات مرتبہ دھویا جائے۔ یہ روایت ضعیف ہے۔ “ (ج) ابو الزناد کی روایت میں سات مرتبہ دھونے کا ذکر ہے جو ثقات سے منقول ہے۔
(۱۱۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو نَصْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٍ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدَۃَ السَّلِیطِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ التُّرْکُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ : ((إِذَا شَرِبَ الْکَلْبُ فِی إِنَائِ أَحَدِکُمْ فَلْیَغْسِلْہُ سَبْعَ مَرَّاتٍ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ وَغَیْرُہُ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ وَرَوَاہُ عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ الضَّحَّاکِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ عَیَّاشٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -فِی الْکَلْبِ یَلَغُ فِی الإِنَائِ : أَنَّہُ یَغْسِلُہُ ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا۔ وَہَذَا ضَعِیفٌ بِمَرَّۃٍ۔
عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ الضَّحَّاکِ مَتْرُوکٌ وَإِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ خَاصَّۃً إِذَا رَوَی عَنْ أَہْلِ الْحِجَازِ۔
وَقَدْ رَوَاہُ عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ نَجْدَۃَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ : فَاغْسِلُوہُ سَبْعَ مَرَّاتٍ ۔ کَمَا رَوَاہُ الثِّقَاتُ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۷۰]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ وَغَیْرُہُ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ وَرَوَاہُ عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ الضَّحَّاکِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ عَیَّاشٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -فِی الْکَلْبِ یَلَغُ فِی الإِنَائِ : أَنَّہُ یَغْسِلُہُ ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا۔ وَہَذَا ضَعِیفٌ بِمَرَّۃٍ۔
عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ الضَّحَّاکِ مَتْرُوکٌ وَإِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ خَاصَّۃً إِذَا رَوَی عَنْ أَہْلِ الْحِجَازِ۔
وَقَدْ رَوَاہُ عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ نَجْدَۃَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ : فَاغْسِلُوہُ سَبْعَ مَرَّاتٍ ۔ کَمَا رَوَاہُ الثِّقَاتُ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۷۰]
তাহকীক: