আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬৭৩ টি

হাদীস নং: ১১৪১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتے کیبرتن کو چاٹ جانے پر سات مرتبہ دھونا
(١١٤٢) (الف) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کسی کے برتن میں جب کتا منہ ڈال جائے تو وہ سات مرتبہ دھونے سے پاک ہوجائے گا۔ (ب) سیدنا ابوہریرہ (رض) ، ابن عباس (رض) اور عائشہ (رض) سے کتے کے برتن کو چاٹ جانے پر سات مرتبہ دھونے کا فتویٰ ہے۔
(۱۱۴۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُوطَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((طُہُورُ إِنَائِ أَحَدِکُمْ إِذَا وَلَغَ الْکَلْبُ فِیہِ أَنْ یَغْسِلَہُ سَبْعَ مَرَّاتٍ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔

وَرُوِّینَا فِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ مُسْنَدًا وَفِیمَا ذَکَرْنَا کِفَایَۃٌ۔ وَرُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ وَعَائِشَۃَ فِی غَسْلِ الإِنَائِ مِنْ وُلُوغِ الْکَلْبِ سَبْعًا مِنْ فَتْوَاہُمْ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۲۷۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دھونے میں ایک مرتبہ مٹی شامل کرنا
(١١٤٣) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے برتن میں جب کتا منہ ڈال جائے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ اور پہلی مرتبہ مٹی سے۔
(۱۱۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُوزَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو الزَّاہِدُ قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابَقٍ الْخَوْلاَنِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((طُہُورُ إِنَائِ أَحَدِکُمْ إِذَا وَلَغَ الْکَلْبُ فِیہِ أَنْ یَغْسِلَہُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولاَہُنَّ بِالتُّرَابِ))۔

[صحیح۔ أخرجہ مسلم۲۷۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دھونے میں ایک مرتبہ مٹی شامل کرنا
(١١٤٤) ابن سیر ین نے اسی طرح بیان کیا ہے۔
(۱۱۴۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ ابْنِ عُلَیَّۃَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دھونے میں ایک مرتبہ مٹی شامل کرنا
(١١٤٥) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کتا تم میں کسی کے برتن میں منہ ڈال جائے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ اور پہلی یا آخری مرتبہ مٹی سے۔
(۱۱۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ أَیُّوبَ بْنِ أَبِی تَمِیمَۃَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ : ((إِذَا وَلَغَ الْکَلْبُ فِی إِنَائِ أَحَدِکُمْ فَلْیَغْسِلْہُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولاَہُنَّ أَوْ أُخْرَاہُنَّ بِتُرَابٍ))۔ [صحیح۔ أخرجہ الترمذی ۹۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دھونے میں ایک مرتبہ مٹی شامل کرنا
(١١٤٦) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کتا برتن میں منہ ڈال جائے تو اسے سات مرتبہ دھویا جائے اور ساتویں مرتبہ مٹی سے۔
(۱۱۴۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سِیرِینَ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ نَبِیَّ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ : ((إِذَا وَلَغَ الْکَلْبُ فِی الإِنَائِ فَاغْسِلُوہُ سَبْعَ مَرَّاتٍ السَّابِعَۃَ بِالتُّرَابِ))۔

وَقَالَ سَعِیدُ بْنُ بَشِیرٍ عَنْ قَتَادَۃَ : الأُولَی بِالتُّرَابِ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۷۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دھونے میں ایک مرتبہ مٹی شامل کرنا
(١١٤٧) قتادہ نے اسی سند سے اسی طرح بیان کیا ہے مگر وہ کہتے ہیں : پہلی مرتبہ مٹی سے دھویا جائے۔
(۱۱۴۷) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ بَشِیرٍ عَنْ قَتَادَۃَ بِإِسْنَادِہِ نَحْوَہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : الأُولَی بِالتُّرَابِ ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ الدارقطنی ۱/۶۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دھونے میں ایک مرتبہ مٹی شامل کرنا
(١١٤٨) (الف) سیدنا ابی ہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ جب کتا برتن میں منہ ڈال جائے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ اور پہلی مرتبہ مٹی سے (دھویا جائے) ۔

(ب) عبداللہ بن مغفل (رض) بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مٹی کا ذکر کرتے ہیں۔
(۱۱۴۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ خِلاَسٍ عَنْ أَبِی رَافِعٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -: ((إِذَا وَلَغَ الْکَلْبُ فِی الإِنَائِ فَاغْسِلُوہُ سَبْعَ مَرَّاتٍ ، أُولاَہُنَّ بِالتُّرَابِ))۔

ہَذَا حَدِیثٌ غَرِیبٌ إِنْ کَانَ حَفِظَہُ مُعَاذٌ فَہُوَ حَسَنٌ لأَنَّ التُّرَابَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ لَمْ یَرْوِہِ ثِقَۃٌ غَیْرُ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَإِنَّمَا رَوَاہُ غَیْرُ ہِشَامٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ کَمَا سَبَقَ ذِکْرُہُ۔

وَقَدْ ثَبَتَ فِی حَدِیثِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ مُغَفَّلٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-ذِکْرُ التُّرَابِ کَمَا۔[صحیح۔ أخرجہ النسائی ۳۳۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دھونے میں ایک مرتبہ مٹی شامل کرنا
(١١٤٩) عبداللہ بن مغفل (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا، پھر فرمایا : میں کتوں کی پروا نہیں کرتا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شکار ی کتے اور بکریوں کی حفاظت والے کتے کی رخصت دے دی اور فرمایا : جب کتا برتن میں منہ ڈال جائے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ اور آٹھویں مرتبہ مٹی سے صاف کرو۔
(۱۱۴۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا أَبُو التَّیَّاحِ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ مُغَفَّلٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -أَمَرَ بِقَتْلِ الْکِلاَبِ ثُمَّ قَالَ: ((مَا بَالِی وَلِلْکِلاَبِ))۔ وَرَخَّصَ فِی کَلْبِ الرِّعَائِ وَکَلْبِ الصَّیْدِ، وَقَالَ: ((إِذَا وَلَغَ الْکَلْبُ فِی الإِنَائِ فَاغْسِلُوہُ سَبْعَ مِرَارٍ، وَالثَّامِنَۃَ عَفِّرُوہُ بِالتُّرَابِ))۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔

وَأَبُو ہُرَیْرَۃَ أَحْفَظُ مَنْ رَوَی الْحَدِیثَ فِی دَہْرِہِ فَرِوَایَتُہُ أَوْلَی۔

وَقَدْ رَوَی حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فَتْوَاہُ بِالسَّبْعِ کَمَا رَوَاہُ وَفِی ذَلِکَ دَلاَلَۃٌ عَلَی خَطَإِ رِوَایَۃِ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فِی الثَّلاَثِ۔

وَعَبْدُ الْمَلِکِ لاَ یُقْبَلُ مِنْہُ مَا یُخَالِفُ فِیہِ الثِّقَاتِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۲۸۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کو کتے نے اپنے سارے بدن سے چھوا ہو وہ نجس ہے جب ان میں سے کوئی ایک تر ہو
(١١٥٠) سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ مجھ کو میمونہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن غم گین حالت میں صبح کی۔ میمونہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں نے آج آپ کو جنبی حالت میں پایا ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جبرائیل نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آج رات آپ کو ملوں گا، اللہ کی قسم ! وہ وعدہ خلافی نہیں کرتے۔ اسی وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غم گین تھے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں کتے کے بچے کا خیال آیاجو ہمارے خیمہ کے نیچے تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تو اس کو نکالا گیا، پھر اپنے ہاتھ میں پانی لیا اور اس جگہ پر چھینٹے مارے۔ صبح کو جبرائیل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملے۔ آپ نے فرمایا : آپ نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ کل آپ مجھے ملو گے ! انھوں نے کہا : جی ہاں ! لیکن ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔ اس دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح ہی کتوں کو مارنے کا حکم دے دیا، حتی کہ آپ نے چھوٹے باغ کے کتے کو بھی مارنے کا حکم دیا اور بڑے باغ کے کتے کو چھوڑیا۔
(۱۱۵۰) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ النَّسَوِیُّ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنِ ابْنِ السَّبَّاقِ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ حَدَّثَتْنِی مَیْمُونَۃُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -أَصْبَحَ یَوْمًا وَاجِمًا ، قَالَتْ مَیْمُونَۃُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ لَقَدِ اسْتَنْکَرْتُ ہَیْئَتَکَ مُنْذُ الْیَوْمِ۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((إِنَّ جِبْرِیلَ کَانَ وَعَدَنِی أَنْ یَلْقَانِی اللَّیْلَۃَ فَلَمْ یَلْقَنِی ، أَمَا وَاللَّہِ مَا أَخْلَفَنِی))۔ قَالَ : فَظَلَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -یَوْمَہُ ذَلِکَ عَلَی ذَلِکَ ثُمَّ وَقَعَ فِی نَفْسِہِ جِرْوُ کَلْبٍ تَحْتَ فُسْطَاطٍ لَنَا ، فَأَمَرَ بِہِ فَأُخْرِجَ ، ثُمَّ أَخَذَ بِیَدِہِ مَائً فَنَضَحَ مَکَانَہُ ، فَلَمَّا أَمْسَی لَقِیَہُ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَقَالَ لَہُ : ((قَدْ کُنْتَ وَعَدْتَنِی أَنْ تَلْقَانِی الْبَارِحَۃَ))۔ قَالَ : أَجَلْ وَلَکِنَّا لاَ نَدْخُلُ بَیْتًا فِیہِ کَلْبٌ وَلاَ صُورَۃٌ۔ فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -یَوْمَئِذٍ فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْکِلاَبِ حَتَّی إِنَّہُ یَأْمُرُ بِقَتْلِ کَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِیرِ ، وَیَتْرُکُ کَلْبَ الْحَائِطِ الْکَبِیرِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَرْمَلَۃَ بْنِ یَحْیَی ہَکَذَا۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۵/۲۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کو کتے نے اپنے سارے بدن سے چھوا ہو وہ نجس ہے جب ان میں سے کوئی ایک تر ہو
(١١٥١) سیدنا ابن عباس (رض) ، حضرت میمونہ (رض) زوجہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دن غم گین تھے، ۔۔۔ اس میں ہے کہ پھر آپ نے پانی لیا اور اس جگہ پر چھینٹے مارے۔
(۱۱۵۱) وَہَکَذَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بِحَدِیثِ بَحْرِ بْنِ نَصْرٍ مَقْرُونًا بِحَدِیثِ حَرْمَلَۃَ۔ وَقَدْ أَخْبَرَنَا بِہِ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی فَوَائِدِ الشَّیْخِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی فِی مُسْنَدِ ابْنِ وَہْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابَقٍ الْخَوْلاَنِیُّ فِی جُمَادَی الأُولَی سَنَۃَ سِتٍّ وَسِتِّینَ وَمِائَتَیْنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِیُّ أَخْبَرَنِی یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَدَّثَتْنِی مَیْمُونَۃُ زَوْجُ النَّبِیِّ -ﷺ -: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -أَصْبَحَ یَوْمًا وَجِمًا … فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ: ثُمَّ أَخَذَ بِیَدِہِ مَائً فَنَضَحَ مَکَانَہُ۔ وَفِی حَدِیثِ أَبِی عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظِ عُبَیْدُاللَّہِ بْنُ عَبْدِاللَّہِ۔

وَرَوَاہُ شَبِیبُ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ یُونُسَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنِ ابْنِ السَّبَّاقِ عَنْ مَیْمُونَۃَ

وَرَوَاہُ شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ وَسُلَیْمَانُ بْنُ کَثِیرٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ السَّبَّاقِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَیْمُونَۃَ بِمَعْنَاہُ۔

وَرُوِیَ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَیْمُونَۃَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کو کتے نے اپنے سارے بدن سے چھوا ہو وہ نجس ہے جب ان میں سے کوئی ایک تر ہو
(١١٥٢) سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) کو میمونہ (رض) نے خبر دی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جبرائیل نے میرے ساتھ ملنے کا وعدہ کیا تھا، فرماتی ہیں : گھر میں کتے کا بچہ تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو نکال دیا، پھر اس جگہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔
(۱۱۵۲) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُزَیْزٍ الأَیْلِیُّ حَدَّثَنَا سَلاَمَۃُ عَنْ عُقَیْلٍ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَنَّ عُبَیْدَ اللَّہِ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ مَیْمُونَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ -أَخْبَرَتْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ… وَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ : ((وَعَدَنِی جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ أَنْ یَلْقَانِی))۔ قَالَتْ مَیْمُونَۃُ : وَکَانَ فِی بَیْتِی جَرْوُ کَلْبٍ ، فَأَخْرَجَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -ثُمَّ نَضَحَ مَکَانَہُ بِالْمَائِ۔

وَفِی ہَذَا وَفِی الَّذِی قَبْلَہُ مِنْ أَخْبَارِ الْوُلُوغِ دَلاَلَۃٌ عَلَی نَسْخِ مَا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کو کتے نے اپنے سارے بدن سے چھوا ہو وہ نجس ہے جب ان میں سے کوئی ایک تر ہو
(١١٥٣) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں رات مسجد میں رہتا تھا اور میں کنوارا نوجوان تھا، اس زمانے میں کتے پیشاب کرتے تھے اور مسجد میں آتے جاتے تھے لیکن لوگ اس جگہ پر چھینٹے نہیں مارتے تھے۔
(۱۱۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَبِیبِ بْنِ سَعِیدٍ أَخْبَرَنِی أَبِی عَنْ یُونُسَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ حَدَّثَنِی حَمْزَۃُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ قَالَ : کُنْتُ أَبِیْتُ فِی الْمَسْجِدِ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ - وَکُنْتُ فَتًی شَابًّا أَعْزَبَ، وَکَانَتِ الْکِلاَبُ تَبُولُ وَتُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِی الْمَسْجِدِ، فَلَمْ یَکُونُوا یَرُشُّونَ شَیْئًا مِنْ ذَلِکَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ فَقَالَ وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِیبٍ فَذَکَرَہُ مُخْتَصَرًا ، وَلَمْ یَذْکُرْ قَوْلَہُ : تَبُولُ۔

وَقَدْ أَجْمَعَ الْمُسْلِمُونَ عَلَی نَجَاسَۃِ بَوْلِہَا ، وَوُجُوبِ الرَّشِّ عَلَی بَوْلِ الآدَمِیِّ فَکَیْفَ الْکَلْبُ فَکَأَنَّ ذَلِکَ کَانَ قَبْلَ أَمْرِہِ بِقَتْلِ الْکِلاَبِ وَغَسْلِ الإِنَائِ مِنْ وُلُوغِہِ ، أَوْ کَأَنَّ عِلْمَ مَکَانِ بَوْلِہَا یَخْفَی عَلَیْہِمْ فَمَنْ عَلِمَہُ وَجَبَ عَلَیْہِ غَسْلُہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۷۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خنزیر کتے سے بھی بدتر ہے

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کا نام نجس رکھا ہے۔
(١١٥٤) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہء قدرت میں میری جان ہے ! قریب ہے ابن مریم انصاف کرنے والے حاکم بن کر اتریں، وہ صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ کو معاف کریں گے اور مال بہہ پڑے گا یہاں تک کہ اس کو قبول کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔
(۱۱۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ وَابْنُ مِلْحَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَیُوشِکَنَّ أَنْ یَنْزِلَ ابْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا مُقْسِطًا ، فَیَکْسِرَ الصَّلِیبَ وَیَقْتُلَ الْخِنْزِیرَ ، وَیَضَعَ الْجِزْیَۃَ وَیَفِیضَ الْمَالُ حَتَّی لاَ یَقْبَلَہُ أَحَدٌ))۔

لَفْظُ حَدِیثِ قُتَیْبَۃَ وَلَمْ یَذْکُرِ ابْنُ عَبْدَانَ فِی حَدِیثِہِ الْجِزْیَۃَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ جَمِیعًا عَنْ قُتَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۱۰۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام نجاستوں کو دھونا سنت ہے
(١١٥٥) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کوئی بیدار ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالییا فرمایا : پانی میں نہ ڈالے، جب تک اس کو تین مرتبہ نہ دھولے ، اس لیے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔
(۱۱۵۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((إِذَا اسْتَیْقَظَ أَحَدُکُمْ فَلاَ یُدْخِلْ یَدَہُ فِی إِنَائِہِ -أَوْ قَالَ فِی وَضُوئِہِ -حَتَّی یَغْسِلَہَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، فَإِنَّہُ لاَ یَدْرِی أَیْنَ بَاتَتْ یَدُہُ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۲۷۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام نجاستوں کو دھونا سنت ہے
(١١٥٦) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کوئی رات کو اٹھے تو وہ اپنا ہاتھ برتن میں نہڈالے، جب تک اس پر دو یا تین مرتبہ پانی نہ ڈال لے ، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔
(۱۱۵۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ: إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِیرَۃِ : عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَأَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ مِنَ اللَّیْلِ فَلاَ یُدْخِلْ یَدَہُ فِی الإِنَائِ حَتَّی یُفْرِغَ عَلَیْہَا مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا، فَإِنَّہُ لاَ یَدْرِی أَیْنَ بَاتَتْ یَدُہُ))۔

وَکَذَلِکَ قَالَہُ ابْنُ ہُرْمُزَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ الترمذی ۲۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک مرتبہ دھونے کا بیان
(١١٥٧) سیدنا اسماء (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک عورت نے حیض کے خون کے متعلق سوال کیا جو کپڑے کو لگ جاتا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو کھرچ، پھر پانی سے مل، پھر چھینٹے مار اور اس میں نماز پڑھ لے۔
(۱۱۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ وَہِیَ امْرَأَتُہُ عَنْ أَسْمَائَ جَدَّتِہَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -سَأَلَتْہُ امْرَأَۃٌ عَنْ دَمِ الْحَیْضَۃِ یُصِیبُ الثَّوْبَ قَالَ : ((حُتِّیہِ ثُمَّ اقْرُصِیہِ بِالْمَائِ ثُمَّ رُشِّیہِ ثُمَّ صَلِّی فِیہِ))۔ صحیح أخرجہ الترمذی [۱۳۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک مرتبہ دھونے کا بیان
(١١٥٨) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نمازیں پچاس تھیں اور جنابت کا غسل سات مرتبہ تھا اور پیشاب کو کپڑوں سے دھونا سات مرتبہ تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) برابر کمی کا سوال کرتے رہیحتی کہ نمازیں پانچ مقرر کی گئی اور جنابت کا غسل ایک مرتبہ اور پیشاب کا کپڑے سے دھونا بھی ایک مرتبہ رہ گیا۔
(۱۱۵۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ قُدَامَۃَ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عِصْمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : کَانَتِ الصَّلاَۃُ خَمْسِینَ وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ سَبْعَ مِرَارٍ ، وَغَسْلُ الثَّوْبِ مِنَ الْبَوْلِ سَبْعَ مِرَارٍ ، فَلَمْ یَزَلْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -یَسْأَلُ حَتَّی جُعِلَتِ الصَّلاَۃُ خَمْسًا ، وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ مَرَّۃً ، وَغَسْلُ الثَّوْبِ مِنَ الْبَوْلِ مَرَّۃً۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بلی کے جھوٹے کا بیان
(١١٥٩) کبشہ بنت کعب بن مالک جو ابوقتادۃ کی بیوی تھیں، ابو قتادہ (رض) ان کے پاس آئے تو انھوں نے وضو کا پانی منگوایا، اتنے میں بلی آئی اور اس سے پینے لگی۔ ابو قتادہ نے برتن کو جھکا دیا یہاں تک کہ اس نے خوب پیا۔ کبشہ کہتی ہیں : قتادہ نے مجھے دیکھا تو میں ان کی طرف تعجب سے دیکھ رہی تھی۔ انھوں نے کہا : اے بھتیجی ! کیا تم تعجب کرتی ہو ؟ میں نے کہا : جی ہاں ابو قتادہ نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ (بلّی) نجس نہیں ہے، وہ تمہارے پاس چکر لگاتی رہتی ہے۔
(۱۱۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ۔

قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنِ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنْ حُمَیْدَۃَ بِنْتِ عُبَیْدِ بْنِ رِفَاعَۃَ عَنْ کَبْشَۃَ بِنْتِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ وَکَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِی قَتَادَۃَ : أَنَّ أَبَا قَتَادَۃَ دَخَلَ عَلَیْہَا فَسَکَبَتْ لَہُ وَضُوئًا ، فَجَائَ تْ ہِرَّۃٌ تَشْرَبُ مِنْہُ فَأَصْغَی لَہَا أَبُو قَتَادَۃَ الإِنَائَ حَتَّی شَرِبَتْ -قَالَتْ کَبْشَۃَ -فَرَآنِی أَنْظُرُ إِلَیْہِ فَقَالَ : أَتَعْجَبِینَ یَا ابْنَۃَ أَخِی؟ قَالَتْ فَقُلْتُ : نَعَمْ۔ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ : ((إِنَّہَا لَیْسَتْ بِنَجَسٍ ، إِنَّہَا مِنَ الطَّوَّافِینَ عَلَیْکُمْ وَالطَّوَّافَاتِ))۔

ہَکَذَا رَوَاہُ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ فِی الْمُوَطَإِ ، وَقَدْ قَصَّرَ بَعْضُ الرُّوَاۃِ بِرِوَایَتِہِ فَلَمْ یُقِمْ إِسْنَادَہُ۔

قَالَ أَبُو عِیسَی : سَأَلْتُ مُحَمَّدًا یَعْنِی ابْنَ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیَّ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَقَالَ : جَوَّدَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ ہَذَا الْحَدِیثِ وَرِوَایَتُہُ أَصَحُّ مِنْ رِوَایَۃِ غَیْرِہِ۔

قَالَ الشَّیْخُ : وَقَدْ رَوَاہُ حُسَیْنٌ الْمُعَلِّمُ بِقَرِیبٍ مِنْ رِوَایَۃِ مَالِکٍ۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ ابو داؤد ۷۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بلی کے جھوٹے کا بیان
(١١٦٠) ام یحییٰ اپنی خالہ بنت کعب سے نقل فرماتی ہیں کہ ہمارے پاس ابو قتادہ آئے، ہم نے ان کے قریب پانی رکھا، اتنے میں ایک بلی آئیتوانھوں نے برتن جھکا دیا، بلی نے اس سے پیا ، پھر وہ اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے لگے، میں نے آپ کی طرف تعجب سے دیکھا ، انھوں نے میری طرف جھانکا تو کہنے لگے : تم تعجب کر رہی ہو ؟ میں نے کہا : جی ہاں، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : یہ (بلّی) نجس نہیں ہے یا کوئی دوسرا لفظ کہا ، وہ تم پر چکر لگاتی رہتی ہے۔
(۱۱۶۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ الْمُعَلِّمُ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنْ أُمِّ یَحْیَی عَنْ خَالَتِہَا بِنْتِ کَعْبٍ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیْنَا أَبُو قَتَادَۃَ فَقَرَّبْنَا إِلَیْہِ وَضُوئًا ، فَدَنَا الْہِرُّ فَأَصْغَی إِلَیْہِ الإِنَائَ فَشَرِبَ مِنْہُ ثُمَّ تَوَضَّأَ بِفَضْلِہِ فَنَظَرْتُ إِلَیْہِ فَالْتَفَتَ إِلَیَّ فَقَالَ : کَأَنَّکَ تَعْجَبِینَ؟ قُلْتُ : نَعَمْ۔ قَالَ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -یَقُولُ : ((لَیْسَ بِنَجَسٍ ۔ أَوْ کَلِمَۃً أُخْرَی : إِنَّمَا ہُنَّ مِنَ الطَّوَّافِینَ أَوِ الطَّوَّافَاتِ عَلَیْکُمْ))۔

أُمِّ یَحْیَی ہِیَ حُمَیْدَۃُ وَابْنَۃُ کَعْبٍ ہِیَ کَبْشَۃُ بِنْتُ کَعْبٍ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ ہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی عَنْ إِسْحَاقَ۔ [حسن لغیرہٖ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بلی کے جھوٹے کا بیان
(١١٦١) (الف) ایک عورت اپنی خالہ سے نقل فرماتی ہے، وہ عبداللہ بن ابی قتادہ (رض) کی بیوی تھیں کہ میرے پاس ابوقتادہ (رض) آئے اور انھوں نے پانی مانگا، اتنے میں ان کے پاس سے بلی گزری تو آپ نے برتن جھکا دیا، میں نے انھیں سوالیہ نظروں سے دیکھا گویا میں اس کا انکار کر رہی تھی تو انھوں نے فرمایا : اے بھتیجی ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں فرمایا : وہ نجس نہیں ہے وہ تو تم پر چکر لگاتی رہتی ہے۔

(ب) حوضی کی حدیث میں ہے کہ اس کی خالہ نے اس حدیث کو بیان کیا اور وہ عبداللہ بن ابی قتادہ (رض) کی بیوی تھی ان کے پاس ابو قتادہ (رض) آئے اور پانی منگوایا، اتنے میں ایک بلی گزری۔ انھوں نے اس کے لیے برتن جھکا دیا، قتادہ کی بیوی ان کی طرف دیکھنا شروع ہوئی گویا جو وہ کر رہے تھے اس کا انکار کر رہی تھی باقی حدیث اس طرح ہے۔
(۱۱۶۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا الْحَوْضِیُّ حَدَّثَنَا ہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی

قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا ہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا إِسْحَاقَ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ قَالَ حَدَّثَتْنِی أُمُّ یَحْیَی -قَالَ حَجَّاجٌ فِی رِوَایَتِہِ: یَعْنِی امْرَأَتَہُ- عَنْ خَالَتِہَا وَکَانَتْ عِنْدَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیَّ أَبُو قَتَادَۃَ فَسَأَلَ الْوَضُوئَ ، فَمَرَّتْ بِہِ الْہِرَّۃُ فَأَصْغَی الإِنَائَ إِلَیْہَا ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ کَأَنِّی أُنْکِرُ مَا یَصْنَعُ فَقَالَ یَا بِنْتَ أَخِی إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ لَنَا : ((إِنَّہَا لَیْسَتْ بِنَجَسَۃٍ إِنَّمَا ہِیَ مِنَ الطَّوَّافِینَ وَالطَّوَّافَاتِ))۔

وَفِی حَدِیثِ الْحَوْضِیِّ : إِنَّ خَالَتَہَا حَدَّثَتْہَا : أَنَّہَا کَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ ، فَدَخَلَ أَبُو قَتَادَۃَ عَلَیْہَا ، فَدَعَا بِوَضُوئٍ فَمَرَّتْ بِہِ الْہِرَّۃُ ، فَأَصْغَی الإِنَائَ إِلَیْہَا فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَیْہِ کَأَنَّہَا تُنْکِرُ مَا یَصْنَعُ۔ ثُمَّ الْبَاقِی مِثْلُہُ۔

وَقَدْ رُوِیَ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ یَحْیَی عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنِ ابْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ۔ [حسن لغیرہٖ]
tahqiq

তাহকীক: