আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৭৩ টি
হাদীস নং: ১২৬১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمزم کو کھینچنے کا بیان
(١٢٦٢) ابن سیرین سے روایت ہے کہ ایک حبشی زمزم میں گر کر مرگیا۔ سیدنا ابن عباس (رض) نے اس کو نکالنے کا حکم دیا اور فرمایا : کنویں کا سارا پانی نکالا جائے۔ کہتے ہیں : وہ : چشمہ ان پر غالب آگیا جو رکن کی جانب سے پھوٹ رہا تھا۔ ابن عباس کے حکم پر اس چشمے کو ختل لکڑیوں کے ساتھ بند کردیا گیا۔ جب لوگوں نے اس کو کھینچا خالی کرلیا اور لکڑیوں کو کھینچا تو وہ پھوٹ کر بہنے لگا۔
(ب) ابو عروبہ نے قتادہ سے نقل کیا ہے کہ ایک حبشی زمزم میں گرگیا تو سیدنا ابن عباس (رض) نے اسے کھینچ کر نکالنے کا حکم دیا۔ یہ خبر ان دونوں کو ملی۔ (ج) ان دونوں کی سیدنا ابن عباس (رض) سے ملاقات اور سماع ثابت ہیں۔ (د) جابر جعفی کبھی ابو طفیل عن ابن عباس سے اور کبھی ابوطفیل خود ہی روایت کرتا ہے کہ ایک غلام زمزم میں گرگیا تو اس کو کھینچ کر نکالا گیا۔ جابر جعفی قابل حجت نہیں (ر) ابن لھیعہ نے عمرو بن دینار سے روایت کیا ہے اور ابن لھیعہ قابل حجت نہیں۔ (س) زعفرانی امام شافعی (رح) کا قول ذکر کرتے ہیں کہ اس روایت کو ابن عباس (رض) سے نقل کرنا معلوم نہیں۔ زمزم ہمارے پاس ہے اس کے متعلق کوئی ایسا واقعہ نہیں سنا گیا۔
(ب) ابو عروبہ نے قتادہ سے نقل کیا ہے کہ ایک حبشی زمزم میں گرگیا تو سیدنا ابن عباس (رض) نے اسے کھینچ کر نکالنے کا حکم دیا۔ یہ خبر ان دونوں کو ملی۔ (ج) ان دونوں کی سیدنا ابن عباس (رض) سے ملاقات اور سماع ثابت ہیں۔ (د) جابر جعفی کبھی ابو طفیل عن ابن عباس سے اور کبھی ابوطفیل خود ہی روایت کرتا ہے کہ ایک غلام زمزم میں گرگیا تو اس کو کھینچ کر نکالا گیا۔ جابر جعفی قابل حجت نہیں (ر) ابن لھیعہ نے عمرو بن دینار سے روایت کیا ہے اور ابن لھیعہ قابل حجت نہیں۔ (س) زعفرانی امام شافعی (رح) کا قول ذکر کرتے ہیں کہ اس روایت کو ابن عباس (رض) سے نقل کرنا معلوم نہیں۔ زمزم ہمارے پاس ہے اس کے متعلق کوئی ایسا واقعہ نہیں سنا گیا۔
(۱۲۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ : أَنَّ زَنْجِیًّا وَقَعَ فِی زَمْزَمَ یَعْنِی فَمَاتَ ، فَأَمَرَ بِہِ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأُخْرِجَ ، وَأَمَرَ بِہَا أَنْ تُنْزَحَ قَالَ فَغَلَبَتْہُمْ عَیْنٌ جَائَ تْہُمْ مِنَ الرُّکْنِ ، فَأَمَرَ بِہَا فَدُسَّتْ بِالْقَبَاطِیِّ وَالْمَطَارِفِ حَتَّی نَزَحُوْہَا ، فَلَمَّا نَزَحُوْہَا انْفَجَرَتْ عَلَیْہِمْ۔
وَرَوَاہُ ابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ : أَنَّ زَنْجِیًّا وَقَعَ فِی زَمْزَمَ ، فَأَمَرَہُمُ ابْنُ عَبَّاسٍ بِنَزْحِہِ ، وَہَذَا بَلاَغٌ بَلَغَہُمَا۔ (ج) فَإِنَّہُمَا لَمْ یَلْقَیَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَلَمْ یَسْمَعَا مِنْہُ۔
وَرَوَاہُ جَابِرٌ الْجُعْفِیُّ مَرَّۃً عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمَرَّۃً عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ نَفْسِہِ : أَنَّ غُلاَمًا وَقَعَ فِی زَمْزَمَ فَنُزِحَتْ۔ (ج) وَجَابِرٌ الْجُعْفِیُّ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ۔
وَرَوَاہُ ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ۔ (ج) وَابْنُ لَہِیعَۃَ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ۔
قَالَ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ : لاَ نَعْرِفُہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَزَمْزَمُ عِنْدَنَا مَا سَمِعْنَا بِہَذَا۔
[ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۳۳]
وَرَوَاہُ ابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ : أَنَّ زَنْجِیًّا وَقَعَ فِی زَمْزَمَ ، فَأَمَرَہُمُ ابْنُ عَبَّاسٍ بِنَزْحِہِ ، وَہَذَا بَلاَغٌ بَلَغَہُمَا۔ (ج) فَإِنَّہُمَا لَمْ یَلْقَیَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَلَمْ یَسْمَعَا مِنْہُ۔
وَرَوَاہُ جَابِرٌ الْجُعْفِیُّ مَرَّۃً عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمَرَّۃً عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ نَفْسِہِ : أَنَّ غُلاَمًا وَقَعَ فِی زَمْزَمَ فَنُزِحَتْ۔ (ج) وَجَابِرٌ الْجُعْفِیُّ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ۔
وَرَوَاہُ ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ۔ (ج) وَابْنُ لَہِیعَۃَ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ۔
قَالَ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ : لاَ نَعْرِفُہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَزَمْزَمُ عِنْدَنَا مَا سَمِعْنَا بِہَذَا۔
[ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۳۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمزم کو کھینچنے کا بیان
(١٢٦٣) ابن عیینہ کہتے ہیں : میں ستر سال سے مکہ میں تھا میں نے چھوٹے اور بڑے کسی کو نہیں دیکھا جو زنجی کی حدیث کو جانتا ہو اور وہ (حدیث) جو انھوں نے بیان کی کہ کوئی زمزم میں گرگیا تھا ۔ میں نے کسی سے نہیں سنا جو کہتا ہو کہ زمزم کو خالی کیا گیا۔ ابو عبید کہتے ہیں کہ زمزم کے بارے میں تو آثار ہیں کہ اس کا پانی نہیں نکالا جائے گا اور نہ اس کی بےحرمتی ہوگی۔ مجھے معلوم نہیں کہ ابو قدامہ نے اس کو ابوعبید عن ابو ولید فقیہ سے بیان کیا ہے۔ امام شافعی (رح) نے اس کی مخالفت میں ابن عباس (رض) کی مرفوع حدیث بیان کی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ آپ کی کیا رائے ہے کہ سیدنا ابن عباس (رض) کی یہ روایت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے تو پھر اس کے مقابل اس روایت کی کیا حیثیت ہی جو تم بیان کرتے ہو کہ انھوں نے (کنویں) سے وضو کیا۔ پھر یہ بھی کہ پانی ناپاک نہیں ہوتا۔ اگر یہحبشیوالی حدیث صحیح ہو تو معنی یہ ہے کہ پانی نجاست کی وجہ سے صرف صفائی کے لیینکالا۔ زمزم پانی کی بارے میں ہے کہ کبھی کبھار اس پر خون کے آثار دیکھے جاتے تھے۔
(۱۲۶۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوالْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ شِیرُوَیْہِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا قُدَامَۃَ یَقُولُ
سَمِعْتُ سُفْیَانَ یَعْنِی ابْنَ عُیَیْنَۃَ یَقُولُ : أَنَا بِمَکَّۃَ مُنْذُ سَبْعِینَ سَنَۃً لَمْ أَرَ أَحَدًا صَغِیرًا وَلاَ کَبِیرًا یَعْرِفُ حَدِیثَ الزَّنْجِیِّ الَّذِی قَالُوا إِنَّہُ وَقَعَ فِی زَمْزَمٍ ، مَا سَمِعْتُ أَحَدًا یَقُولُ نُزِحَ زَمْزَمُ۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ وَکَذَلِکَ لاَ یَنْبَغِی لأَنَّ الآثَارَ قَدْ جَائَ تْ فِی نَعْتِہَا أَنَّہَا لاَ تُنْزَحُ وَلاَ تُذَمُّ۔ لاَ أَدْرِی أَبُو قُدَامَۃَ حَکَاہُ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ أَوْ أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ۔
قَالَ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ الشَّافِعِیُّ لِمُخَالِفِیہِ قَدْ رَوَیْتُمْ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -أَنَّہُ قَالَ : ((الْمَائُ لاَ یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ)) ۔ أَفَتُرَی أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ یَرْوِی عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -خَبْرًا وَیَتْرُکُہُ إِنْ کَانَتْ ہَذِہِ رِوَایَتُہُ وَتَرْوُونَ عَنْہُ : أَنَّہُ تَوَضَّأَ مِنْ غَدِیرٍ یُدَافِعُ جِیفَۃً ، وَتَرْوُونَ عَنْہُ : الْمَائُ لاَ یَنْجُسُ ، فَإِنْ کَانَ شَیْئٌ مِنْ ہَذَا صَحِیحًا فَہُوَ یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ لَمْ یَنْزَحْ زَمْزَمَ لِلنَّجَاسَۃِ وَلَکِنْ لِلتَّنْظِیفِ إِنْ کَانَ فَعَلَ ، وَزَمْزَمُ لِلشُّرْبِ وَقَدْ یَکُونُ الدَّمُ ظَہَرَ عَلَی الْمَائِ حَتَّی رُئِیَ فِیہِ۔ [صحیح]
سَمِعْتُ سُفْیَانَ یَعْنِی ابْنَ عُیَیْنَۃَ یَقُولُ : أَنَا بِمَکَّۃَ مُنْذُ سَبْعِینَ سَنَۃً لَمْ أَرَ أَحَدًا صَغِیرًا وَلاَ کَبِیرًا یَعْرِفُ حَدِیثَ الزَّنْجِیِّ الَّذِی قَالُوا إِنَّہُ وَقَعَ فِی زَمْزَمٍ ، مَا سَمِعْتُ أَحَدًا یَقُولُ نُزِحَ زَمْزَمُ۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ وَکَذَلِکَ لاَ یَنْبَغِی لأَنَّ الآثَارَ قَدْ جَائَ تْ فِی نَعْتِہَا أَنَّہَا لاَ تُنْزَحُ وَلاَ تُذَمُّ۔ لاَ أَدْرِی أَبُو قُدَامَۃَ حَکَاہُ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ أَوْ أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ۔
قَالَ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ الشَّافِعِیُّ لِمُخَالِفِیہِ قَدْ رَوَیْتُمْ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -أَنَّہُ قَالَ : ((الْمَائُ لاَ یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ)) ۔ أَفَتُرَی أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ یَرْوِی عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -خَبْرًا وَیَتْرُکُہُ إِنْ کَانَتْ ہَذِہِ رِوَایَتُہُ وَتَرْوُونَ عَنْہُ : أَنَّہُ تَوَضَّأَ مِنْ غَدِیرٍ یُدَافِعُ جِیفَۃً ، وَتَرْوُونَ عَنْہُ : الْمَائُ لاَ یَنْجُسُ ، فَإِنْ کَانَ شَیْئٌ مِنْ ہَذَا صَحِیحًا فَہُوَ یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ لَمْ یَنْزَحْ زَمْزَمَ لِلنَّجَاسَۃِ وَلَکِنْ لِلتَّنْظِیفِ إِنْ کَانَ فَعَلَ ، وَزَمْزَمُ لِلشُّرْبِ وَقَدْ یَکُونُ الدَّمُ ظَہَرَ عَلَی الْمَائِ حَتَّی رُئِیَ فِیہِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمزم کو کھینچنے کا بیان
(١٢٦٤) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی سے وضو کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا، یعنی آپ کی بیویوں میں سے کسی نی بتایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بیشک پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ “
(۱۲۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -تَوَضَّأَ بِمَائٍ ، فَقِیلَ لَہُ اسْتَحَمَّتْ بِہِ فُلاَنَۃُ الآنَ یَعْنِی امْرَأَۃً مِنْ نِسَائِہِ قَالَ : ((إِنَّ الْمَائَ لاَ یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ))۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ عبد الرزاق ۳۹۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمزم کو کھینچنے کا بیان
(١٢٦٥) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کسی بیوی نے ٹپ میں غسل کیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تاکہ اس سے وضو کریں یا غسل کریں۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں جنبی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بیشک پانی ناپاک نہیں ہوتا۔ “
(۱۲۶۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی وَزِیَادُ بْنُ الْخَلِیلِ وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ حَدَّثَنَا سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ -ﷺ -فِی جَفْنَۃٍ ، فَجَائَ النَّبِیُّ -ﷺ -لِیَتَوَضَّأَ أَوْ لِیَغْتَسِلَ فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی کُنْتُ جُنُبًا۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((إِنَّ الْمَائَ لاَ یُجْنِبُ))۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمزم کو کھینچنے کا بیان
(١٢٦٦) یحییٰ بن عبید کہتے ہیں : میں نے سیدنا ابن عباس (رض) سے حمام کے پانی سے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا : پانی ناپاک نہیں ہوتا۔
(۱۲۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا وَکِیعٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ یَحْیَی بْنِ عُبَیْدٍ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ مَائِ الْحَمَّامِ فَقَالَ : الْمَائُ لاَ یَجْنُبُ۔
[ضعیف۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱۱۵۰]
[ضعیف۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱۱۵۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمزم کو کھینچنے کا بیان
(١٢٦٧) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ چار چیزیں ناپاک نہیں ہوتیں : آدمی ‘ پانی ‘ کپڑا اور زمین۔
(۱۲۶۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الإِسْفَرَائِنِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَحْرٍ الْبَرَبَہَارِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَرْبَعٌ لاَ یَنْجُسْنَ : الإِنْسَانُ وَالْمَائُ وَالثَّوْبُ وَالأَرْضُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۱۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمزم کو کھینچنے کا بیان
(١٢٦٨) ابو یحییٰ حمانی نے اس کو بیان کیا ہے۔
(۱۲۶۸) وَقَالَ أَبُو یَحْیَی الْحِمَّانِیُّ عَنْ زَکَرِیَّا فِی ہَذَا الْحَدِیثِ : أَرْبَعٌ لاَ یَجْنُبْنَ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو حَازِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدٍ الطَّوَابِیقِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی الْحِمَّانِیُّ ۔۔۔۔۔ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمزم کو کھینچنے کا بیان
(١٢٦٩) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ پانی پر ناپاکی نہیں آتی ۔ (ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ہمارا موقف وہ ہے جو ہم زید بن ثابت اور قاسم بن محمد سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے ایک شخص کو کنویں میں غسل جنابت کرنے کا حکم دیا اور سیدنا عمر سے اس کے ہم معنی روایت منقول ہے۔
(۱۲۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ یَزِیدَ الرِّشْکِ عَنْ مُعَاذَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ : لَیْسَتْ عَلَی الْمَائِ جَنَابَۃٌ۔
قَالَ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَنَحْنُ نَرْوِی عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَوْلَنَا وَنَرْوِی عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ : أَنَّہُ أَمَرَ رَجُلاً یَغْتَسِلُ فِی بِئْرٍ مِنْ جَنَابَۃٍ وَیُرْوَی عَنْ عُمَرَ قَرِیبًا مِنْہُ۔
وَأَمَّا الأَثَرُ الَّذِی۔ [صحیح]
قَالَ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَنَحْنُ نَرْوِی عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَوْلَنَا وَنَرْوِی عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ : أَنَّہُ أَمَرَ رَجُلاً یَغْتَسِلُ فِی بِئْرٍ مِنْ جَنَابَۃٍ وَیُرْوَی عَنْ عُمَرَ قَرِیبًا مِنْہُ۔
وَأَمَّا الأَثَرُ الَّذِی۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمزم کو کھینچنے کا بیان
(١٢٧٠) (الف) سیدنا علی (رض) نے اس چوہیا کے متعلق فرمایا جو کنویں میں گر کر مرگئی تھی کہ اسے نکالا جائے تو یہ لوگوں پر غالب آگیا تھا۔ یہ روایت مضبوط نہیں؛ کیونکہ ابو بختری نے سیدنا علی (رض) سے نہیں سنا۔ یہ روایت منقطع ہے۔
(ب) سیدنا علی بن أبی طالب (رض) فرماتے ہیں : جب چوہیا کنویں میں گر کر مرجائے تو اس سے ایک یا دو ڈول کھینچے جائیں گے اور اگر پھٹ جائے تو پانچ یا سات ڈول کھینچے جائیں گے اور یہ روایت بھی منقطع ہے۔
(ب) سیدنا علی بن أبی طالب (رض) فرماتے ہیں : جب چوہیا کنویں میں گر کر مرجائے تو اس سے ایک یا دو ڈول کھینچے جائیں گے اور اگر پھٹ جائے تو پانچ یا سات ڈول کھینچے جائیں گے اور یہ روایت بھی منقطع ہے۔
(۱۲۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ حِکَایَۃً عَنْ خَالِدٍ الْوَاسِطِیِّ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ عَنْ عَلِیٍّ : فِی الْفَأْرَۃِ تَقَعُ فِی الْبِئْرِ فَتَمُوتُ قَالَ : تُنْزَحُ حَتَّی تَغْلِبَہُمْ۔
فَہَذَا غَیْرُ قَوِیٍّ۔ لأَنَّ أَبَا الْبَخْتَرِیِّ لَمْ یَسْمَعْ عَلِیًّا فَہُوَ مُنْقَطِعٌ۔
قَالَ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ رَوَی ابْنُ أَبِی یَحْیَی عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِذَا وَقَعَتِ الْفَأْرَۃُ فِی الْبِئْرِ فَمَاتَتْ فِیہَا نُزِحَ مِنْہَا دَلْوٌ أَوْ دَلْوَانِ یَعْنِی فَإِنْ تَفَسَّخَتْ نُزِحَ مِنْہَا خَمْسَۃٌ أَوْ سَبْعَۃٌ وَہَذَا أَیْضًا مُنْقَطِعٌ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱۷۱۱]
فَہَذَا غَیْرُ قَوِیٍّ۔ لأَنَّ أَبَا الْبَخْتَرِیِّ لَمْ یَسْمَعْ عَلِیًّا فَہُوَ مُنْقَطِعٌ۔
قَالَ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ رَوَی ابْنُ أَبِی یَحْیَی عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِذَا وَقَعَتِ الْفَأْرَۃُ فِی الْبِئْرِ فَمَاتَتْ فِیہَا نُزِحَ مِنْہَا دَلْوٌ أَوْ دَلْوَانِ یَعْنِی فَإِنْ تَفَسَّخَتْ نُزِحَ مِنْہَا خَمْسَۃٌ أَوْ سَبْعَۃٌ وَہَذَا أَیْضًا مُنْقَطِعٌ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱۷۱۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمزم کو کھینچنے کا بیان
(١٢٧١) امام شافعی (رح) سے اس کے متعلق منقول ہے جو علی (رض) اور ابن عباس (رض) کے اثر کی مخالفت کرتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے علاوہ روایت کی مخالفت کی جائے گی۔ انھوں نے کہا : نہیں : میں نے کہا : آپ نے اس کے باوجود علی اور ابن عباس (رض) کی مخالفت کی ہے ؟ آپ نے گمان کیا کہ سیدنا علی (رض) نے کہا : جب کنویں میں چوہا گرجائے تو اس سے سات یا پانچ ڈول کھینچے جائیں گے اور آپ نے دعویٰ کیا کہ وہ پاک نہیں ہوگا مگر بیس بائیس (ڈول کھینچنے) سے اور آپ نے گمان کیا کہ ابن عباس (رض) نے زنجی سے جو اس میں گرگیا تھا زمزم کا پانی نکالا اور آپ کہہ رہے ہیں کہ چالیس یا ساٹھ ڈول کافی ہیں۔ یہ علی اور ابن عباس (رض) سے ثابت نہیں ہے۔
(۱۲۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ فِی احْتَجِاجِ مَنِ احْتَجَّ بِالأَثْرِ عَنْ عَلِیٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ قُلْتُ : فَیُخَالَفُ مَا جَائَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -إِلَی قَوْلِ غَیْرِہِ۔ قَالَ : لاَ۔ قُلْتُ : قَدْ فَعَلْتَ ، وَخَالَفْتَ مَعَ ذَلِکَ عَلِیًّا وَابْنَ عَبَّاسٍ ، زَعَمْتَ أَنَّ عَلِیًّا قَالَ : إِذَا وَقَعَتِ الْفَأْرَۃُ فِی الْبِئْرِ نُزِحَ مِنْہَا سَبْعَۃُ أَوْ خَمْسَۃُ أَدْلاَئٍ ، وَزَعَمْتَ أَنَّہَا لاَ تَطْہُرُ إِلاَّ بِعِشْرِینَ أَوْ ثَلاَثِینَ وَزَعَمْتَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسِ نَزَحَ زَمْزَمَ مِنْ زَنْجِیٍّ وَقَعَ فِیہَا ، وَأَنْتَ تَقُولُ : یَکْفِی مِنْ ذَلِکَ أَرْبَعُونَ أَوْ سِتُّونَ دَلْوًا ، وَہَذَا عَنْ عَلِیٍّ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ غَیْرُ ثَابِتٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدبو والی چیز سے پانی ناپاک نہیں ہوتا اگر حرام نہ ہو
(١٢٧٢) سیدنا عروہ احد کے قصہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے میں تکلیف پہنچی تھی ۔ انھوں نے کہا : علی (رض) مہراس (کنویں) کی طرف گئے اور ایک برتن میں پانی لایا گیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پانی پینے کا ارادہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدبو محسوس کی اور فرمایا : ” یہ بدبو دار پانی ہے۔ “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے کلی کی اور فاطمہ (رض) نے اپنے والد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خون کو دھویا۔
(۱۲۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ : فِی قِصَّۃِ أُحُدٍ وَمَا أَصَابَ النَّبِیَّ -ﷺ -فِی وَجْہِہِ قَالَ : وَسَعَی عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ إِلَی الْمِہْرَاسِ ، فَأَتَی بِمَائٍ فِی مِجَنَّۃٍ ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -أَنْ یَشْرَبَ مِنْہُ ، فَوَجَدَ لَہُ رِیحًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((ہَذَا مَائٌ آجِنٌ))۔ فَتَمَضْمَضَ مِنْہُ وَغَسَلَتْ فَاطِمَۃُ عَنْ أَبِیہَا الدَّمَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدبو والی چیز سے پانی ناپاک نہیں ہوتا اگر حرام نہ ہو
(١٢٧٣) سیدنا عبید بن کعب بن مالک (رض) فرماتے ہیں : جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھاٹی کے منہ کے پاس پہنچے تو سیدنا علی بن أبی طالب (رض) نکلے، اور اپنی چمڑے کی ڈھال میں پتھر میں کھودے ہوئے چشمے سے پانی بھرا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف آئے تاکہ آپ پانی پی لیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدبومحسوس کی تو اس کو چھوڑ دیا، آپ نے اس سے نہیں پیا اور اپنے چہرے سے خون کو دھویا اور سر پر پانی ڈالا اور آپ کہہ رہے تھے : اللہ کا غضب ہو اس شخص پر جس نے نبی کے چہرے کو خون آلود کیا۔
(۱۲۷۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی مَنْ لاَ أَتَّہِمُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : فَلَمَّا انْتَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -إِلَی فَمِ الشِّعْبِ خَرَجَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَتَّی مَلأَ دَرَقَتَہُ مِنَ الْمِہْرَاسِ ، ثُمَّ جَائَ بِہِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -لِیَشْرَبَ مِنْہُ فَوَجَدَ لَہُ رِیحًا فَعَافَہُ فَلَمْ یَشْرَبْ مِنْہُ ، وَغَسَلَ عَنْ وَجْہِہِ الدَّمَ ، وَصَبَّ عَلَی رَأْسِہِ وَہُوَ یَقُولُ : ((اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّہِ عَلَی مَنْ دَمَّی وَجْہَ نَبِیِّہِ -ﷺ-))
ہَکَذَا رَوَاہُ یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ۔
وَرَوَاہُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْحَنْظَلِیُّ عَنْ وَہْبِ بْنِ جَرِیرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ۔ وَہُوَ إِسْنَادٌ مَوْصُولٌ۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن حبان ۶۹۷۹]
ہَکَذَا رَوَاہُ یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ۔
وَرَوَاہُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْحَنْظَلِیُّ عَنْ وَہْبِ بْنِ جَرِیرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ۔ وَہُوَ إِسْنَادٌ مَوْصُولٌ۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن حبان ۶۹۷۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کرنے کی رخصت کا بیان
(١٢٧٤) سیدنا سعد بن أبی وقاص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے موزوں پر مسح کیا۔
(۱۲۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِی النَّضْرِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -: أَنَّہُ مَسَحَ عَلَی الْخُفَّیْنِ۔ صحیح أخرجہ البخاری [۱۹۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کرنے کی رخصت کا بیان
(١٢٧٥) عبداللہ بن وھب نے انھیں عمرو (رض) سے حدیث بیان کی، انھوں نے اس کو اسی سند سے بیان کیا اور یہ اضافہ کیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) نے اس کے متعلق سیدنا عمر (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : ہاں جب تجھ کو سعد (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی چیز بیان کرے تو اس کے علاوہ (کسی دوسرے) سے سوال نہ کر۔
(۱۲۷۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسِ بْنِ سَلَمَۃَ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ وَہَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ وَہْبٍ حَدَّثَہُمْ عَنْ عَمْرٍو فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ مِثْلَہُ وَزَادَ : وَأَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ سَأَلَ عُمَرَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : نَعَمْ إِذَا حَدَّثَکَ سَعْدٌ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-شَیْئًا فَلاَ تَسْأَلْ غَیْرَہُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَصْبَغَ بْنِ الْفَرَجِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کرنے کی رخصت کا بیان
(١٢٧٦) سیدنا سعد بن ابی وقاص (رض) موزوں پر مسح کے متعلق حدیث نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ وضو میں موزوں پر مسح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ (ب) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) کو یہ حدیث سیدنا سعد بن ابی وقاص (رض) نے بیان کی کہ عمر (رض) نے عبداللہ بن مسعود (رض) سے کہا، گویا وہ انھیں ڈانٹ رہے تھے : تجھے سعد بن ابی وقاص (رض) نے حدیث بیان کی اور تو نے اس پر عمل نہیں کیا۔ جب تجھے سعد بن ابی وقاص (رض) سے حدیث بیان کریں تو پھر اس کے سوا کوئی دوسری حدیث تلاش نہ کر۔
(۱۲۷۶) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِالْعَزِیزِ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِیزِ بْنُ الْمُخْتَارِ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ أَخْبَرَنِی أَبُوالنَّضْرِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ حَدِیثًا یَرْفَعُہُ إِلَی النَّبِیِّ-ﷺ-فِی الْوُضُوئِ عَلَی الْخُفَّیْنِ: أَنَّہُ لاَبَأْسَ بِالْوُضُوئِ عَلَی الْخُفَّیْنِ۔
وَحَدَّثَ أَبُو سَلَمَۃَ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَہُ بِذَلِکَ سَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ وَأَنَّ عُمَرَ قَالَ لِعَبْدِ اللَّہِ کَأَنَّہُ یَلُوْمُہُ حَدَّثَکَ سَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ حَدِیثًا وَلَمْ تَأْخُذْ بِہِ إِذَا حَدَّثَکَ سَعْدٌ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَلاَ تَبْغِ وَرَائَ حَدِیثِہِ حَدِیثًا۔ ذَکَرَ الْبُخَارِیُّ إِسْنَادَہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ احمد ۱/۱۴]
وَحَدَّثَ أَبُو سَلَمَۃَ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَہُ بِذَلِکَ سَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ وَأَنَّ عُمَرَ قَالَ لِعَبْدِ اللَّہِ کَأَنَّہُ یَلُوْمُہُ حَدَّثَکَ سَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ حَدِیثًا وَلَمْ تَأْخُذْ بِہِ إِذَا حَدَّثَکَ سَعْدٌ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَلاَ تَبْغِ وَرَائَ حَدِیثِہِ حَدِیثًا۔ ذَکَرَ الْبُخَارِیُّ إِسْنَادَہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ احمد ۱/۱۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کرنے کی رخصت کا بیان
(١٢٧٧) ھمام کہتے ہیں کہ سیدنا جریر (رض) نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ عرض کیا گیا : آپ اس طرح کرتے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا : ہاں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ (ب) ابراہیم کہتے ہیں کہ انھیں یہ حدیث بہت اچھی لگتی تھی کیونکہ سیدنا جریر (رض) کا اسلام قبول کرنا سورة مائدہ کے نزول کے بعد ہواتھا۔
(۱۲۷۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ ہَمَّامٍ قَالَ: بَالَ جَرِیرٌ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی خُفَّیْہِ فَقِیلَ : تَفْعَلُ ہَذَا؟ قَالَ : نَعَمْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی خُفَّیْہِ۔
قَالَ الأَعْمَشُ قَالَ إِبْرَاہِیمُ کَانَ یُعْجِبُہُمْ ہَذَا الْحَدِیثُ لأَنَّ إِسْلاَمَ جَرِیرٍ کَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَۃِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ آدَمَ عَنْ شُعْبَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۸۰]
قَالَ الأَعْمَشُ قَالَ إِبْرَاہِیمُ کَانَ یُعْجِبُہُمْ ہَذَا الْحَدِیثُ لأَنَّ إِسْلاَمَ جَرِیرٍ کَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَۃِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ آدَمَ عَنْ شُعْبَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۸۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کرنے کی رخصت کا بیان
(١٢٧٨) سیدنا ابو زرعہ بن عمرو بن جریر سے روایت ہے کہ بیشک سیدنا جریر (رض) نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا اور کہا : مجھے مسح کرنے سے کوئی چیز مانع نہیں۔ تحقیق میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ انھوں نے کہا : یہ تو سورة مائدہ کے نازل ہونے سے پہلے کا (حکم) ہے۔ انھوں نے کہا : میں سورة مائدہ کے نزول کے بعد مسلمان ہوا ہوں۔
(۱۲۷۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ دَاوُدَ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیرٍ : أَنَّ جَرِیرًا بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی الْخُفَّیْنِ وَقَالَ : مَا یَمْنَعُنِی أَنْ أَمْسَحَ وَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -مَسَحَ۔ قَالُوا : إِنَّمَا کَانَ ذَلِکَ قَبْلَ نُزُولِ الْمَائِدَۃِ۔ قَالَ : مَا أَسْلَمْتُ إِلاَّ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَۃِ۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ أبو داؤد ۱۵۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کرنے کی رخصت کا بیان
(١٢٧٩) سیدنا حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قوم کے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر کی طرف چلے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، پھر پانی منگوایا، میں پانی لے کر آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔
(۱۲۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الأَسَدِیُّ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ : مَشَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -إِلَی سُبَاطَۃِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا ثُمَّ دَعَا بِمَائٍ فَجِئْتُہُ بِمَائٍ ، فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی خُفَّیْہِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کرنے کی رخصت کا بیان
(١٢٨٠) سیدنا مغیرہ بن شعبہ (رض) کے والد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قضائے حاجت کے لیے نکلے، سیدنا مغیرہ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے پانی کا ایک ڈول لے کر گئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر ڈالا جس وقت آپ اپنی حاجت سے فارغ ہوئے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو اور موزوں پر مسح کیا۔
(۱۲۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ قَالَ ابْنُ عُبَیْدٍ وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -: أَنَّہُ خَرَجَ لِحَاجَتِہِ فَاتَّبَعَہُ الْمُغِیرَۃُ بِإِدَاوَۃٍ فِیہَا مَائٌ ، فَصَبَّ عَلَیْہِ حِینَ فَرَغَ مِنْ حَاجَتِہِ فَتَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَی خُفَّیْہِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ کِلاَہُمَا عَنِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۰۰]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ کِلاَہُمَا عَنِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۰۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کرنے کی رخصت کا بیان
(١٢٨١) (الف) جعفر بن عمرو بن امید ضمری اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پگڑی اور موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔
(ب) عبداللہ بن مبارک کی حدیث کے الفاظ ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ نے موزوں اور پگڑی پر مسح کیا۔ (ج) یحییٰ بن ابی کثیر سے موزوں پر مسح کے متعلق روایت ہے۔
(ب) عبداللہ بن مبارک کی حدیث کے الفاظ ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ نے موزوں اور پگڑی پر مسح کیا۔ (ج) یحییٰ بن ابی کثیر سے موزوں پر مسح کے متعلق روایت ہے۔
(۱۲۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ بْنِ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ
(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِیمٍ الصَّائِغُ بِمَرْوٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیِّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -مَسَحَ عَلَی عِمَامَتِہِ وَخُفَّیْہِ۔
لَفْظُ حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ وَفِی حَدِیثِ الآخَرِینَ : أَنَّہُ رَأَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -مَسَحَ عَلَی الْخُفَّیْنِ وَالْعِمَامَۃِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدَانَ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَحَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ وَأَبَانُ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ فِی الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّیْنِ۔ وَرَوَاہُ مَعْمَرٌ عَنْ یَحْیَی عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَمْرٍو۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۰۲]
(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِیمٍ الصَّائِغُ بِمَرْوٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیِّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -مَسَحَ عَلَی عِمَامَتِہِ وَخُفَّیْہِ۔
لَفْظُ حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ وَفِی حَدِیثِ الآخَرِینَ : أَنَّہُ رَأَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -مَسَحَ عَلَی الْخُفَّیْنِ وَالْعِمَامَۃِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدَانَ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَحَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ وَأَبَانُ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ فِی الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّیْنِ۔ وَرَوَاہُ مَعْمَرٌ عَنْ یَحْیَی عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَمْرٍو۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۰۲]
তাহকীক: