আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৬৬ টি

হাদীস নং: ১৩৪৭২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین دار عورت کو شادی کے لیے پسند کرنا مستحب ہے
(١٣٤٦٦) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورت سے چار وجوہ کی بنا پر نکاح کیا جاتا ہے، اس کے مال کی وجہ سے، حسب ونسب کی وجہ سے، حسن و جمال کی وجہ سے اور دین کی وجہ سے تیرا ناک خاک آلود ہو تو دین والی کو ترجیح دینا۔
(۱۳۴۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ: إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالاَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: تُنْکَحُ النِّسَائُ لأَرْبَعٍ لِمَالِہَا وَلِحَسَبِہَا وَلِجَمَالِہَا وَلِدِینِہَا فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّینِ تَرِبَتْ یَدَاکَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَیْرِہِ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ۔

[صحیح۔ بخاری ۵۰۹۰۔ مسلم ۱۴۶۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৭৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین دار عورت کو شادی کے لیے پسند کرنا مستحب ہے
(١٣٤٦٧) جابر (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں ایک عورت سے شادی کرلی، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے جابر ! کیا تو نے شادی کی ہے ؟ تو انھوں نے کہا : جی ہاں اے اللہ کے رسول ! فرمایا کہ کنواری ہے یا شادی شدہ ہے ؟ تو انھوں نے کہا کہ شادی شدہ ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کنواری عورت سے شادی کیوں نہیں کی ؟ کہ وہ تمہارے ساتھ کھیلتی تو انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میری بہنیں تھیں تو میں نے خوف محسوس کیا کہ وہ میرے اور ان کے درمیان داخل ہو، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورت سے نکاح مال، دین یا پھر جمال کی وجہ سے کیا جاتا ہے، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوجائیں تو دین والی کو ترجیح دے۔
(۱۳۴۶۷) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ : أَنَّہُ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَلَقِیَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ لَہُ : یَا جَابِرُ تَزَوَّجْتَ ۔قَالَ : نَعَمْ قَالَ : بِکْرًا أَمْ ثَیِّبًا؟ ۔ قَالَ : ثَیِّبًا قَالَ : أَفَلاَ بِکْرًا تُلاَعِبُہَا ۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ کَانَ لِی أَخَوَاتٌ فَخَشِیتُ أَنْ تَدْخُلَ بَیْنِی وَبَیْنَہُنَّ قَالَ : فَذَاکَ أَمَا إِنَّ الْمَرْأَۃَ تُنْکَحُ عَلَی دِینِہَا وَمَالِہَا وَجَمَالِہَا فَعَلَیْکَ بِذَاتِ الدِّینِ تَرِبَتْ یَدَاکَ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ۔ [صحیح۔ بخاری، مسلم ۷۱۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৭৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین دار عورت کو شادی کے لیے پسند کرنا مستحب ہے
(١٣٤٦٨) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دنیا سارے کا سارا ساز و سامان ہے اور بہتر سامان نیک عورت ہے۔
(۱۳۴۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ بِلاَلٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ أَخْبَرَنِی شُرَحْبِیلُ بْنُ شَرِیکٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : إِنَّ الدُّنْیَا کُلَّہَا مَتَاعٌ وَخَیْرُ مَتَاعِ الدُّنْیَا الْمَرْأَۃُ الصَّالِحَۃُ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ نُمَیْرٍ عَنِ الْمُقْرِئِ۔

[صحیح۔ مسلم ۱۴۶۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৭৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین دار عورت کو شادی کے لیے پسند کرنا مستحب ہے
(١٣٤٦٩) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم عورتوں سے حسن کی وجہ سے نکاح نہ کرو۔ قریب ہے کہ ان کا حسن ماند پڑجائے اور تم مال کی وجہ سے نکاح کرو۔ قریب ہے کہ ان کا مال ان کو بغاوت پر ابھار دے بلکہ تم دین کی بنا پر نکاح کرو سیاہ کان کٹی لونڈی بہتر ہے اگر وہ دیندار ہو۔
(۱۳۴۶۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِیَادٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لاَ تَنْکِحُوا النِّسَائَ لِحُسْنِہِنَّ فَعَسَی حُسْنُہُنَّ أَنْ یُرْدِیَہُنَّ وَلاَ تَنْکِحُوا النِّسَائَ لأَمْوَالِہِنَّ فَعَسَی أَمْوَالُہُنَّ أَنْ تُطْغِیَہُنَّ وَانْکِحُوہُنَّ عَلَی الدِّینِ فَلأَمَۃٌ سَوْدَائُ خَرْقَائُ ذَاتُ دِینٍ أَفْضَلُ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ بِشْرَانَ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی زَکَرِیَّا رَحِمَہُ اللَّہُ : خَرْمَائُ ۔ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৭৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنواری لڑکی سے شادی کرنا مستحب ہے
(١٣٤٧٠) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے شادی کی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کس سے شادی کی ہے ؟ میں نے کہا : شادی شدہ عورت سے۔ آپ نے کہا : تو نے کنواری سے کیوں نہیں کی تو اس کے ساتھ کھیلتا۔ جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے کنواری سے شادی کیوں نہ کی تو اس کے ساتھ کھیلتا اور وہ تیرے ساتھ کھیلتی۔
(۱۳۴۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَقُولُ : تَزَوَّجْتُ فَقَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَا تَزَوَّجْتَ؟ ۔ فَقُلْتُ : تَزَوَّجْتُ ثَیِّبًا۔ فَقَالَ : مَا لَکَ وَالْعَذَارَی وَلِعَابَہَا ۔ قَالَ شُعْبَۃُ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِعَمْرِو بْنِ دِینَارٍ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہَلاَّ جَارِیَۃً تُلاَعِبُہَا وَتُلاَعِبُکَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ ۱۳۴۶۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৭৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنواری لڑکی سے شادی کرنا مستحب ہے
(١٣٤٧١) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ عبداللہ فوت ہوگئے اور اس نے سات یا نو بیٹیاں چھوڑیں۔ جابر (رض) فرماتے ہیں میں نے شادی شدہ عورت سے شادی کرلی۔ مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوجھا : اے جابر ! تو نے شادی کرلی ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں فرمایا : کنواری یا شادی شدہ ؟ میں نے کہا : شادی شدہ سے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی تو اس سے کھیلتا وہ تجھ سے کھیلتی تو اس کے ساتھ ہنستا وہ تیرے ساتھ ہنستی تو میں نے کہا : عبداللہ (رض) فوت ہوگیا اور اس نے سات یا نو بیٹیاں چھوڑیں تھیں تو میں نے اس کو ناپسند کیا کہ ان جیسی میں لے آؤں۔ میں نے یہ پسند کیا کہ میں ایسی عورت لے آؤں جو ان کی پرورش اچھی کرے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تجھے برکت دے یا فرمایا : بھلائی دے۔
(۱۳۴۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَارِمٌ وَسُلَیْمَانُ وَمُسَدَّدٌ یَتَقَارَبُونَ فِی اللَّفْظِ وَاللَّفْظُ لِسُلَیْمَانَ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : تُوُفِّیَ عَبْدُ اللَّہِ وَتَرَکَ سَبْعَ بَنَاتٍ أَوْ تِسْعَ بَنَاتٍ قَالَ جَابِرٌ : فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَۃً ثَیِّبًا فَقَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : تَزَوَّجْتَ یَا جَابِرُ؟ ۔ فَقُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : بِکْرًا أَوْ ثَیِّبًا؟ ۔ قُلْتُ : بَلْ ثَیِّبٌ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : فَہَلاَّ جَارِیَۃً تُلاَعِبُہَا وَتُلاَعِبُکَ وَتُضَاحِکُہَا وَتُضَاحِکُکَ ۔ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ عَبْدَ اللَّہِ تُوُفِّیَ وَتَرَکَ سَبْعَ بَنَاتٍ أَوْ قَالَ تِسْعَ بَنَاتٍ وَإِنِّی کَرِہْتُ أَنْ آتِیَہُنَّ بِمِثْلِہِنَّ فَأَحْبَبْتُ أَنْ آتِیَہُنَّ بِامْرَأَۃٍ تَقُومُ عَلَیْہِنَّ فَقَالَ : بَارَکَ اللَّہُ لَکَ أَوْ قَالَ خَیْرًا ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَارِمٍ وَمُسَدَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَغَیْرِہِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৭৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنواری لڑکی سے شادی کرنا مستحب ہے
(١٣٤٧٢) عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ ایسی وادی میں جاتے ہیں جس میں درخت ہیں۔ ایک درخت جس سے کھایا گیا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک اور ایسا درخت پاتے ہیں جس سے نہیں کھایا گیا۔ آپ کس سے کھائیں گے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس درخت سے جس سے نہیں کھایا گیا تو فرماتی ہیں کہ گویا وہ میں ہو کیونکہ اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے علاوہ کسی کنواری سے شادی نہیں کی۔
(۱۳۴۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عِیسَی بْنِ عَبْدَکَ الرَّازِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی أَخِی عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَأَیْتَ لَوْ أَنَّکَ نَزَلْتَ وَادِیًا فِی شَجَرٍ قَدْ أُکِلَ مِنْہَا وَوَجَدْتَ شَجَرَۃً لَمْ یُؤْکَلْ مِنْہَا فِی أَیِّہَا کُنْتَ تَرْعَی؟ قَالَ : فِی الشَّجَرَۃِ الَّتِی لَمْ یُؤْکَلْ مِنْہَا۔ قَالَتْ : فَأَنَا ہِیَ تَعْنِی أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لَمْ یَتَزَوَّجْ بِکْرًا غَیْرَہَا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۰۷۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৭৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنواری لڑکی سے شادی کرنا مستحب ہے
(١٣٤٧٣) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کنواری کو لازم پکڑو کیونکہ وہ منہ کے اعتبار سے زیادہ میٹھی اور رحم کے اعتبار سے زیادہ پاکیزہ اور کم پر راضی ہونے والی ہوتی ہے۔
(۱۳۴۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا الْفَیْضُ بْنُ وَثِیقٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَۃَ بْنِ الطَّوِیلِ التَّیْمِیِّ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : عَلَیْکُمْ بِالأَبْکَارِ فَإِنَّہُنَّ أَعْذَبُ أَفْوَاہًا وَأَنْتَقُ أَرْحَامًا وَأَرْضَی بِالْیَسِیرِ ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَالْقَاضِی فِی رِوَایَتِہِمَا : ابْنِ عُوَیْمِ بْنِ سَاعِدَۃَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৮০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنواری لڑکی سے شادی کرنا مستحب ہے
(١٣٤٧٤) قتیبی فرماتے ہیں : مجھے یہ بات پہنچتی کہ وہ رحم کے اعتبار سے زیادہ پاکیزہ ہوتی ہے یعنی اس کی اولاد زیادہ ہوتی ہے۔
(۱۳۴۷۴) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْن عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُکْبَرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الزُّبَیْرِ الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُوَیْمِ بْنِ سَاعِدَۃَ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہِ نَحْوَہُ۔ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُوَیْمٍ لَیْسَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ۔

قَالَ الْقُتَیْبِیُّ فِیمَا بَلَغَنِی عَنْہُ : أَنْتَقُ أَرْحَامًا ۔ یُرِیدُ أَکْثَرَ أَوْلاَدًا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৮১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محبت کرنے والی اور زیادہ بچوں کو جنم دینے والی سے شادی کرنا مستحب ہے
(١٣٤٧٥) مقعل بن یسار فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے ایک عورت حسب نسب والی اور مال والی ملتی ہے لیکن وہ بچہ نہیں جنم دے سکتی۔ کیا میں اس سے شادی کرلوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو منع کیا، پھر وہ دوسری مرتبہ آیا تو پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو یہی جواب دیا، یعنی منع کیا۔ پھر وہ تیسری دفعہ آیا اور آپ سے وہی سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس سے شادی کرو جو محبت کرنے والی ہو اور بچے کو جنم دینے والی ہو میں تمہاری کثرت کی بنا پر امتوں پر فخر کروں گا۔
(۱۳۴۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَصَبْتُ امْرَأَۃً ذَاتَ حَسَبٍ وَمَنْصِبٍ وَمَالٍ إِلاَّ أَنَّہَا لاَ تَلِدُ أَفَأَتَزَوَّجُہَا؟ فَنَہَاہُ ثُمَّ أَتَاہُ الثَّانِیَۃَ فَقَالَ لَہُ مِثْلَ ذَلِکَ فَنَہَاہُ ثُمَّ أَتَاہُ الثَّالِثَۃَ فَقَالَ لَہُ مِثْلَ ذَلِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّی مُکَاثِرٌ بِکُمُ الأُمَمَ۔[حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৮২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محبت کرنے والی اور زیادہ بچوں کو جنم دینے والی سے شادی کرنا مستحب ہے
(١٣٤٧٦) انس (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم کو شادی کا حکم دیتے اور علیحدہ رہنے سے بہت زیادہ منع کرتے اور فرماتے : تم محبت کرنے والی بچے جنم دینے والی سے شادی کرو، میں تمہاری کثرت کی بنا پر انبیاء پر فخر کروں گا۔
(۱۳۴۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِیفَۃَ حَدَّثَنِی حَفْصُ ابْنُ أَخِی أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَأْمُرُنَا بِالْبَائَ ۃِ وَیَنْہَانَا عَنِ التَّبَتُّلِ نَہْیًا شَدِیدًا وَیَقُولُ : تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّی مُکَاثِرٌ بِکُمُ الأَنْبِیَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৮৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محبت کرنے والی اور زیادہ بچوں کو جنم دینے والی سے شادی کرنا مستحب ہے
(١٣٤٧٧) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ کون سی عورت بہتر ہے ؟ فرمایا : وہ عورت جو خوش کر دے جب اس کی طرف دیکھا جائے اور اطاعت کرے جب اس کو حکم دیا جائے اور اپنے نفس اور مال میں اس کی مخالفت نہ کرے۔
(۱۳۴۷۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ عَنِ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- سُئِلَ أَیُّ النِّسَائِ خَیْرٌ؟ قَالَ : الَّتِی تَسُرُّہُ إِذَا نَظَرَ إِلَیْہَا وَتُطِیعُہُ إِذَا أَمَرَہَا وَلاَ تُخَالِفُہُ فِی نَفْسِہَا وَلاَ مَالِہَا ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৮৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محبت کرنے والی اور زیادہ بچوں کو جنم دینے والی سے شادی کرنا مستحب ہے
(١٣٤٧٨) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہاری عورتوں میں سے بہترین محبت کرنے والیاں، بچے جننے والیاں، فرمان برداری، غم خواری کرنے والیاں ہیں اور بدترین عورتیں وہ ہیں جو زینت کو ظاہر کرنے والیاں، فخر کرنے والیاں ہیں اور وہ منافق عورتیں ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی جنت میں نہیں جائے گی علاوہ سرخ چونچ اور پاؤں والے کوے کے۔
(۱۳۴۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُوطَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا أَبُوصَالِحٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِی مُوسَی بْنُ عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی أُذَیْنَۃَ الصَّدَفِیِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : خَیْرُ نِسَائِکُمُ الْوَدُودُ الْوَلُودُ الْمَوَاتِیَۃُ الْمُوَاسِیَۃُ إِذَا اتَّقَیْنَ اللَّہَ وَشَرُّ نِسَائِکُمُ الْمُتَبَرِّجَاتُ الْمُتَخَیِّلاَتُ وَہُنَّ الْمُنَافِقَاتُ لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْہُنَّ إِلاَّ مِثْلُ الْغُرَابِ الأَعْصَمِ ۔

وَرُوِیَ بِإِسْنَادٍ صَحِیحٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً إِلَی قَوْلِہِ : إِذَا اتَّقَیْنَ ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৮৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محبت کرنے والی اور زیادہ بچوں کو جنم دینے والی سے شادی کرنا مستحب ہے
(١٣٤٧٩) سیدنا عمر فاروق (رض) نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : اللہ تعالیٰ پر ایمان کے بعد سب سے بہتر چیز اچھے اخلاق والی عورت ہے جو بچے جننے والی اور محبت کرنے والی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کے بعد سب سے بری چیز شریر عورت ہے جو تیز زبان اور بدخلق ہو۔ اللہ کی قسم ! بعض عورتیں اطاعت گزار ہوتی ہے جو کسی تکلیف کا باعث نہیں ہوتیں اور بعض عورتیں طوق ہوتی ہیں جن سے خلاصی ممکن نہیں۔
(۱۳۴۷۹) وَأَخْبَرَنَا السَّیِّدُ أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ بِلاَلٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ قَالَ : خَطَبَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ النَّاسَ فَقَالَ مَا اسْتَفَادَ عَبْدٌ بَعْدَ إِیمَانٍ بِاللَّہِ خَیْرًا مِنِ امْرَأَۃٍ حَسَنَۃِ الْخُلُقِ وَدَودٍ وَلُودٍ وَمَا اسْتَفَادَ عَبْدٌ بَعْدَ کُفْرٍ بِاللَّہِ فَاتِنَۃً شَرًّا مِنِ امْرَأَۃٍ حَدِیدَۃِ اللِّسَانِ سَیِّئَۃِ الْخُلُقِ وَاللَّہِ إِنَّ مِنْہُنَّ غُنْمًا لاَ یُحْذَی مِنْہُ وَإِنَّ مِنْہُنَّ غُلاًّ لاَ یُفْدَی مِنْہُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৮৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محبت کرنے والی اور زیادہ بچوں کو جنم دینے والی سے شادی کرنا مستحب ہے
(١٣٤٨٠) حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اسلام قبول کرنے کے بعد آدمی کے لیے اچھے اخلاق والی، محبت کرنے والی اور بچے جننے والی عورت کے سوا کوئی چیز فائدہ مند نہیں۔ اللہ کی قسم ! شرک کے بعد آدمی کے لیے بد مزاج، بدخلق اور بری زبان والی عورت سے زیادہ بری کوئی چیز نہیں۔ اللہ کی قسم ! بعض عورتیں گلے کا طوق ہیں جن سے خلاصی ممکن نہیں ہے اور ان میں سے بعض اطاعت گزار ہیں جن سے کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔
(۱۳۴۸۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ مُعَاوِیَۃُ بْنُ قُرَّۃَ أَبُو إِیَاسٍ أَخْبَرَنِی قَالَ سَمِعْتُ أَبِی یُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ وَقَدْ کَانَ أَدْرَکَہُ قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : وَاللَّہِ مَا أَفَادَ رَجُلٌ فَائِدَۃً بَعْدَ الإِسْلاَمِ خَیْرٌ مِنِ امْرَأَۃٍ حَسْنَائَ حَسَنَۃِ الْخُلُقِ وَدُودٍ وَلُودٍ وَاللَّہِ مَا أَفَادَ رَجُلٌ فَائِدَۃً بَعْدَ الشِّرْکِ بِاللَّہِ شَرٌّ مِنْ مُرَیَّۃٍ سَیِّئَۃِ الْخُلُقِ حَدِیدَۃِ اللِّسَانِ وَاللَّہِ إِنَّ مِنْہُنَّ لَغُلاًّ مَا یُفْدَی مِنْہُ وَغُنْمًا مَا یُحْذَی مِنْہُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৮৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین دار اور اچھے اخلاق والی کی عورت کی رغبت کرنا
(١٣٤٨١) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تمہارے پاس وہ آئے جس کے دین اور اخلاق کو تم پسند کرتے ہو تو اس سے نکاح کرلو۔ اس کے علاوہ اگر کسی اور سے نکاح کرو گے تو وہ فتنہ ہوگا اور بہت بڑا فساد کا باعث ہوگا۔ صحابہ کرام (رض) نے کہا : اگر اس میں بھی ہو تو پھر بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اوپر والی بات کی اور اس کو تین دفعہ دہرایا۔
(۱۳۴۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ ہُرْمُزَ الْفَدَکِیِّ عَنْ سَعِیدٍ وَمُحَمَّدٍ ابْنَیْ عُبَیْدٍ عَنْ أَبِی حَاتِمٍ الْمُزَنِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِذَا جَائَ کُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِینَہُ وَخُلُقَہُ فَأَنْکِحُوہُ إِلاَّ تَفْعَلُوہُ تَکُنْ فِتْنَۃٌ فِی الأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِیضٌ ۔ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَإِنْ کَانَ فِیہِ قَالَ : إِذَا جَائَ کُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِینَہُ وَخُلُقَہُ فَأَنْکِحُوہُ ۔ قَالَہَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ۔ أَبُو حَاتِمٍ الْمُزَنِیُّ لَہُ صُحْبَۃٌ قَالَہُ الْبُخَارِیُّ وَغَیْرُہُ وَیُذْکَرُ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہَا قَالَتْ : إِنَّمَا النِّکَاحُ رِقٌّ فَلْیَنْظُرْ أَحَدُکُمْ أَیْنَ یُرِقُّ عَتِیْقَتَہُ۔ وَرُوِیَ ذَلِکَ مَرْفُوعًا وَالْمَوْقُوفُ أَصَحُّ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৮৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا اپنے آپ کو اللہ کی عبادت کے لیے الگ کرلینا جب کہ اس کا نفس نکاح کی طرف مائل نہ ہو
(١٣٤٨٢) عبداللہ بن مسعود اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَسَیِّدًا وَحَصُورًا } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ حصور وہ ہوتا ہے جو عورتوں کے قریب نہ جائے۔
(۱۳۴۸۲) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {وَسَیِّدًا وَحَصُورًا} قَالَ : الْحَصُورُ الَّذِی لاَ یَقْرَبُ النِّسَائَ ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৮৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا اپنے آپ کو اللہ کی عبادت کے لیے الگ کرلینا جب کہ اس کا نفس نکاح کی طرف مائل نہ ہو
(١٣٤٨٣) ایضاً
(۱۳۴۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : الْحَصُورُ الَّذِی لاَ یَأْتِی النِّسَائَ ۔ وَرُوِّینَا ذَلِکَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَعَنْ عِکْرِمَۃَ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৯০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا اپنے آپ کو اللہ کی عبادت کے لیے الگ کرلینا جب کہ اس کا نفس نکاح کی طرف مائل نہ ہو
(١٣٤٨٤) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : میں ایک دن بھوک کی وجہ سے زمین پر پڑا تھا اور میرا پیٹ بھوک کی وجہ سے پتھر بن گیا تھا ایک دن میں اس راستے پر بیٹھ گیا، جہاں سے لوگ نکل رہے تھے ابوبکر میرے پاس سے گزرے۔ میں نے اللہ کی آیت کے بارے میں سوال کیا تاکہ وہ مجھے کچھ دیں تو وہ گزر گئے اور انھوں نے کچھ بھی نہ کہا۔ عمر (رض) گزرے۔ میں نے ان سے سوال کیا وہ بھی گزر گئے اور کچھ نہ دیا۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گزرے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرائے، جب مجھے دیکھا اور فرمایا : آؤ میں آپ کے ساتھ چلا گیا، آپ داخل ہوئے میں نے بھی اجاز طلب کی اور اجازت مل گئی۔ میں نے دودھ کا ایک پیالہ پایا : تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ پیالہ کہاں سے آیا ہے ؟ جواب ملا کہ فلاں مرد یا عورت نے تحفہ بھیجا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوہریرہ ! جاؤ اہل صفہ کو بلا کر لاؤ۔ فرمایا : اہل صفہ اسلام کے مہمان ہیں ان کا نہ کوئی گھر ہے اور نہ مال ہے۔ جب بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس صدقہ آتا، آپ ان کی طرف پیغام بھیجتے اور ان کو شریک کرتے۔ یہ بات مجھ پر گراں گذری، یہ ایک پیالہ ہے، مجھے تو اس میں سے صرف ایک گھونٹ ملے گا۔ میں ان کو بلا کرلے آیا، جب وہ آگئے کہ تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں ان میں سے ہر ایک کو دودھ پیش کروں۔ مجھے یہ لگتا تھا کہ مجھے نہیں ملے گا لیکن اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم ماننا بھی ضروری تھا، جب وہ آئے انھوں نے اجازت طلب کی، اجازت دے دی گئی اور وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں مجلس بنا کر بیٹھ گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوہریرہ ! میں نے کہا : حاضر اے اللہ کے رسول ! فرمایا : پکڑو اور ان کو دو ۔ میں نے پیالہ پکڑا اور آدمی کو دے دیا اس نے پیا یہاں تک کہ وہ سیر ہوگیا پھر میں نے دوسرے کو پیالہ دیا وہ بھی سیر ہوگیا۔ پھر میں پیالہ لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تمام لوگ سیر ہوچکے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیالہ پکڑا، اس کو اپنے ہاتھ پر رکھا اور میری طرف دیکھ کر مسکرانے لگے فرمایا : اے ابوہریرہ (رض) ! میں نے کہا : حاضر اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! فرمایا : میں اور تم باقی رہ گئے ہیں۔ میں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سچ کہا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیٹھ جا اور پینا شروع کرو۔ فرماتے ہیں کہ میں بیٹھ گیا اور پینا شروع کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اور پیو میں نے پیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا : اور پیو میں پیتا گیا۔ یہاں تک کہ میں نے کہا : اللہ کی قسم ! جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق دے کر بھیجا ہے، میں اس کی جگہ نہیں پاتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ٹھیک ہے میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیالہ دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی تعریف اور بسم اللہ پڑھی اور بچا ہوا دودھ پی لیا۔
(۱۳۴۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ مِنْ أَصْلِہِ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْبَغْدَادِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ حَدَّثَنَا مُجَاہِدٌ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَقُولُ : وَاللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ إِنْ کُنْتُ لأَعْتَمِدُ بِکَبِدِی عَلَی الأَرْضِ مِنَ الْجُوعِ وَإِنْ کُنْتُ لأَشُدُّ الْحَجَرَ عَلَی بَطْنِی مِنَ الْجُوعِ وَلَقَدْ قَعَدْتُ یَوْمًا عَلَی طَرِیقِہِمُ الَّذِی یَخْرُجُونَ مِنْہُ فَمَرَّ بِی أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلْتُہُ عَنْ آیَۃٍ مِنْ کِتَابِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ مَا سَأَلْتُہُ إِلاَّ لِیَسْتَتْبِعَنِی فَمَرَّ وَلَمْ یَفْعَلْ ثُمَّ مَرَّ بِی عُمَرُ فَسَأَلْتُہُ عَنْ آیَۃٍ مِنْ کِتَابِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ مَا سَأَلْتُہُ إِلاَّ لِیَسْتَتْبِعَنِی فَمَرَّ وَلَمْ یَفْعَلْ ثُمَّ مَرَّ بِی أَبُو الْقَاسِمِ -ﷺ- فَتَبَسَّمَ حِینَ رَآنِی وَعَرَفَ مَا فِی نَفْسِی وَمَا فِی وَجْہِی ثُمَّ قَالَ : یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ ۔ قُلْتُ : لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : الْحَقْ ۔ وَمَضَی وَاتَّبَعْتُہُ فَدَخَلَ وَاسْتَأْذَنْتُ فَأَذِنَ لِی فَدَخَلْتُ فَوَجَدْتُ لَبَنًا فِی قَدَحٍ فَقَالَ : مِنْ أَیْنَ ہَذَا اللَّبَنُ؟ ۔ قَالُوا : أَہْدَاہُ لَکَ فُلاَنٌ أَوْ فُلاَنَۃُ قَالَ : أَبَا ہُرَیْرَۃَ ۔ فَقُلْتُ : لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : الْحِقْ إِلَی أَہْلِ الصُّفَّۃِ فَادْعُہُمْ لِی ۔ قَالَ : وَأَہْلُ الصُّفَّۃِ أَضْیَافُ الإِسْلاَمِ لاَ یَأْوُونَ إِلَی أَہْلٍ وَلاَ مَالٍ إِذَا أَتَتْہُ صَدَقَۃٌ بَعَثَ بِہَا إِلَیْہِمْ وَلَمْ یَتَنَاوَلْ مِنْہَا شَیْئًا وَإِذَا أَتَتْہُ ہَدِیَّۃٌ أَرْسَلَ إِلَیْہِمْ فَأَصَابَ مِنْہَا وَأَشْرَکَہُمْ فِیہَا فَسَائَ نِی ذَلِکَ قُلْتُ : وَمَا ہَذَا اللَّبَنُ فِی أَہْلِ الصُّفَّۃِ کُنْتُ أَرْجُو أَنْ أُصِیبَ مِنْ ہَذَا اللَّبَنِ شَرْبَۃً أَتَقَوَّی بِہَا وَأَنَا الرَّسُولُ فَإِذَا جَائُ وا أَمَرَنِی أَنْ أُعْطِیَہُمْ وَمَا عَسَی أَنْ یَبْلُغَنِی مِنْ ہَذَا اللَّبَنِ وَلَمْ یَکُنْ مِنْ طَاعَۃِ اللَّہِ وَطَاعَۃِ رَسُولِہِ بُدٌّ فَأَتَیْتُہُمْ فَدَعَوْتُہُمْ فَأَقْبَلُوا حَتَّی اسْتَأْذَنُوا فَأَذِنَ لَہُمْ وَأَخَذُوا مَجَالِسَہُمْ مِنَ الْبَیْتِ فَقَالَ : یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ ۔ قُلْتُ : لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ : خُذْ فَأَعْطِہِمْ ۔ فَأَخَذْتُ الْقَدَحَ فَجَعَلْتُ أُعْطِیہِ الرَّجُلَ فَیَشْرَبُ حَتَّی یَرْوَی ثُمَّ یَرُدُّ عَلَیَّ الْقَدَحِ فَأُعْطِیہِ الآخَرَ فَیَشْرَبُ حَتَّی یَرْوَی ثُمَّ یَرُدُّ عَلَیَّ الْقَدَحَ حَتَّی انْتَہَیْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَقَدْ رَوِیَ الْقَوْمُ کُلُّہُمْ فَأَخَذَ الْقَدَحَ فَوَضَعَہُ عَلَی یَدِہِ وَنَظَرَ إِلَیَّ وَتَبَسَّمَ وَقَالَ : أَبَا ہُرَیْرَۃَ ۔ قُلْتُ : لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : بَقِیتُ أَنَا وَأَنْتَ ۔ قُلْتُ : صَدَقْتَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : اقْعُدْ فَاشْرَبْ ۔ فَقَعَدْتُ وَشَرِبْتُ فَقَالَ : اشْرَبْ ۔ فَشَرِبْتُ فَقَالَ : اشْرَبْ ۔ فَشَرِبْتُ فَمَا زَالَ یَقُولُ : اشْرَبْ ۔ فَأَشْرَبُ حَتَّی قُلْتُ : لاَ وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا أَجِدُ لَہُ مَسْلَکًا قَالَ : فَادْنُ ۔ فَأَعْطَیْتُہُ الْقَدَحَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَسَمَّی وَشَرِبَ الْفَضْلَۃَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَالْمَوْضِعُ الْمَقْصُودُ مِنْ ہَذَا الْخَبَرِ فِی ہَذَا الْبَابِ قَوْلُہُ : وَأَہْلُ الصُّفَّۃِ أَضْیَافُ الإِسْلاَمِ لاَ یَأْوُونَ إِلَی أَہْلٍ وَلاَ مَالٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۳۷۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৯১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا اپنے آپ کو اللہ کی عبادت کے لیے الگ کرلینا جب کہ اس کا نفس نکاح کی طرف مائل نہ ہو
(١٣٤٨٥) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں فلاں کی بیٹی فلاں ہوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے تجھے پہچان لیا ہے، کیا کام ہے ؟ عرض کیا : میرے چچا کے بیٹے نے مجھے منگنی کا پیغام دیا ہے۔ مجھے یہ بتائیے کہ خاوند کا بیوی پر کیا حق ہے ؟ اگر تو میں اس کی طاقت رکھتی ہوں گی تو میں شادی کروں گی وگرنہ نہیں کروں گی۔ فرمایا : خاوند کا حق بیوی کے ذمے ہے کہ اگر اس سے خون، الٹی یا پیپ وغیرہ بہہ رہی ہو اور عورت اس کو اپنی زبان سے چاٹ لے تو پھر بھی اپنے خاوند کا حق ادا نہیں کرسکتی۔ اگر کسی انسان کو سجدہ لائق ہوتا تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ جب وہ اس پر داخل ہوتا۔ جس کی وجہ سے اللہ نے اس کو عورت پر افضل کیا ہے۔ تو اس عورت نے کہا : مجھے اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے میں کبھی بھی شادی نہیں کروں گا۔ [صحیح لغیرہ ]
(۱۳۴۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَّاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ السُّکَّرِیُّ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَکَمِ الْعُرَنِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْیَمَامِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : جَائَ تِ امْرَأَۃٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَتْ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَا فُلاَنَۃُ بِنْتُ فُلاَنٍ قَالَ : قَدْ عَرَفْتُکِ فَمَا حَاجَتُکِ؟ ۔ قَالَتْ : حَاجَتِی إِلَی ابْنِ عَمِّی فُلاَنٍ الْعَابِدِ قَالَ : قَدْ عَرَفْتُہُ ۔ قَالَتْ : یَخْطِبُنِی فَأَخْبِرْنِی مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَی الزَّوْجَۃِ فَإِنْ کَانَ شَیْئًا أُطِیقُہُ تَزَوَّجْتُہُ وَإِنْ لَمْ أُطِقْ لاَ أَتَزَوَّجُ قَالَ : مِنْ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَی الزَّوْجَۃِ أَنْ لَوْ سَالَ مَنْخِرَاہُ دَمًا وَقِیحًا وَصَدِیدًا فَلَحِسَتْہُ بِلِسَانِہَا مَا أَدَّتْ حَقَّہُ لَوْ کَانَ یَنْبَغِی لِبَشَرٍ أَنْ یَسْجُدَ لِبَشَرٍ لأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا إِذَا دَخَلَ عَلَیْہَا لِمَا فَضَّلَہُ اللَّہُ عَلَیْہَا ۔ قَالَتْ : وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لاَ أَتَزَوَّجُ مَا بَقِیتُ فِی الدُّنْیَا۔
tahqiq

তাহকীক: