আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৬৬ টি

হাদীস নং: ১৩৪৯২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا عورت کو دیکھنا جس سے وہ شادی کا ارادہ رکھتا ہے
(١٣٤٨٦) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک آدمی آیا، اس نے کہا کہ میں نے انصاری عورت سے شادی کرنی ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا : کیا تم نے اس کو دیکھا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ اور اس کو دیکھو، کیونکہ انصاری عورتوں کی آنکھوں میں کوئی چیز ہوتی ہے۔
(۱۳۴۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ کَیْسَانَ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَأَخْبَرَہُ أَنَّہُ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَنَظَرْتَ إِلَیْہَا ۔ قَالَ : لاَ۔ قَالَ : فَاذْہَبْ فَانْظُرْ إِلَیْہَا فَإِنَّ فِی أَعْیُنِ الأَنْصَارِ شَیْئًا ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ۔

[صحیح۔ مسلم ۱۴۲۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৯৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا عورت کو دیکھنا جس سے وہ شادی کا ارادہ رکھتا ہے
(١٣٤٨٧) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی منگنی کرے اور وہ قدرت رکھتا ہو کہ اس کو دیکھے جو اس کو خوش کر دے تو وہ اس کو بلائے اپنی طرف اور یہ کام کرے۔ جابر فرماتے ہیں : میں نے بنو سلمہ کی ایک عورت کو پیغام نکاح بھیجا۔ میں نخلستان میں چھپ گیا۔ پھر میں اسے دیکھا جو مجھے اچھی لگی۔ پھر میں نے اس سے نکاح کرلیا۔
(۱۳۴۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَیْنٍ عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِذَا خَطَبَ أَحَدُکُمُ الْمَرْأَۃَ فَقَدَرَ عَلَی أَنْ یَرَی مِنْہَا مَا یُعْجِبُہُ وَیَدْعُوہُ إِلَیْہَا فَلْیَفْعَلْ ۔ قَالَ جَابِرٌ : فَلَقَدْ خَطَبْتُ امْرَأَۃً مِنْ بَنِی سَلِمَۃَ فَکُنْتُ أَتَخَبَّأُ فِی أُصُولِ النَّخْلِ حَتَّی رَأَیْتُ مِنْہَا بَعْضَ مَا أَعْجَبَنِی فَتَزَوَّجْتُہَا۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৯৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا عورت کو دیکھنا جس سے وہ شادی کا ارادہ رکھتا ہے
(١٣٤٨٨) انس (رض) فرماتے ہیں کہ مغیرہ (رض) نے ایک عورت سے شادی کی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو کہا : جاؤ اور اس کو دیکھ کر آؤ۔ یہ بات زیادہ لائق ہے کہ تمہارے درمیان محبت زیادہ ہو۔ فرماتے ہیں : میں نے اسے دیکھا ، پھر اس سے موافقت کا ذکر کیا۔
(۱۳۴۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : أَرَادَ الْمُغِیرَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنْ یَتَزَوَّجَ امْرَأَۃً فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : اذْہَبْ فَانْظُرْ إِلَیْہَا فَإِنَّہُ أَحْرَی أَنْ یُؤْدَمَ بَیْنَکُمَا ۔ قَالَ : فَنَظَرْتُ إِلَیْہَا۔ قَالَ : فَذَکَرَ مِنْ مُوافَقَتِہَا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৯৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا عورت کو دیکھنا جس سے وہ شادی کا ارادہ رکھتا ہے
(١٣٤٨٩) ایضاً
(۱۳۴۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ وَأَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ قَالاَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیِّ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ قَالَ : خَطَبْتُ امْرَأَۃً قَالَ فَقَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : نَظَرْتَ إِلَیْہَا؟ ۔ قَالَ قُلْتُ : لاَ۔ قَالَ : فَانْظُرْ إِلَیْہَا فَإِنَّہُ أَحْرَی أَنْ یُؤْدَمَ بَیْنَکُمَا ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৯৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا عورت کو دیکھنا جس سے وہ شادی کا ارادہ رکھتا ہے
(١٣٤٩٠) مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے شادی کا پیغام ایک عورت کی طرف بھیجا اور اس بات کا ذکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم نے اس کو دیکھا ہے ؟ تو میں نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ اس کو دیکھو۔ یہ زیادہ لائق ہے تمہارے درمیان محبت کے لیے۔ مغیرہ فرماتے ہیں کہ میں اس کے پاس گیا تو اس کے والدین موجود تھے اور وہ اپنی چادر میں چھپی ہوئی تھی۔ میں نے کہا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا ہے کہ تمہیں دیکھوں، وہ دونوں خاموش ہوگئے، لڑکی نے اپنی چادر کو ایک طرف سے اٹھایا اور کہا : میں حرج محسوس نہیں کرتی، کیونکہ تجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا ہے، مجھے دیکھ لو آؤ۔ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حکم نہ بھی دیتے تو آپ مجھے دیکھ سکتے ہیں۔ پھر میں نے اس عورت سے شادی کی۔ کوئی بھی عورت اس کے مرتبے کو میرے پاس نہیں پہنچی۔ میں نے ستر یا اس سے زائد عورتوں سے شادی کی۔
(۱۳۴۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو شِہَابٍ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیِّ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : خَطَبْتُ امْرَأَۃً فَذَکَرْتُہَا لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ فَقَالَ لِی : ہَلْ نَظَرْتَ إِلَیْہَا ۔ قُلْتُ : لاَ قَالَ : فَانْظُرْ إِلَیْہَا فَإِنَّہُ أَحْرَی أَنْ یُؤْدَمَ بَیْنَکُمَا ۔ فَأَتَیْتُہَا وَعِنْدَہَا أَبُوَاہَا وَہِیَ فِی خِدْرِہَا قَالَ فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَمَرَنِی أَنْ أَنْظُرَ إِلَیْہَا قَالَ : فَسَکَتَا قَالَ فَرَفَعْتِ الْجَارِیَۃُ جَانِبَ الْخِدْرِ فَقَالَتْ : أُحَرِّجُ عَلَیْکَ إِنْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَمَرَکَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَیَّ لَمَا نَظَرْتَ وَإِنْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لَمْ یَأْمُرْکَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَیَّ أَنْ تَنْظُرَ قَالَ : فَنَظَرْتُ إِلَیْہَا ثُمَّ تَزَوَّجْتُہَا قَالَ : فَمَا وَقَعَتْ عِنْدِی امْرَأَۃٌ بِمَنْزِلَتِہَا وَلَقَدْ تَزَوَّجْتُ سَبْعِینَ أَوْ بِضْعًا وَسَبْعِینَ امْرَأَۃً۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৯৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا عورت کو دیکھنا جس سے وہ شادی کا ارادہ رکھتا ہے
(١٣٤٩١) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ کسی مرد کے دل میں کسی عورت سے شادی کا ارادہ ڈالے تو اس کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(۱۳۴۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَبُو یُوسُفَ: یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا أَبُو شِہَابٍ : عَبْدُ رَبِّہِ بْنُ نَافِعٍ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ بْنِ أَبِی حَثْمَۃَ عَنْ عَمِّہِ سَہْلِ بْنِ أَبِی حَثْمَۃَ قَالَ : رَأَیْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَۃَ یُطَارِدُ امْرَأَۃً بِبَصَرِہِ عَلَی إِجَّارٍ یُقَالُ لَہَا ثُبَیْتَۃُ بِنْتُ الضَّحَّاکِ أُخْتُ أَبِی جُبَیْرَۃَ فَقُلْتُ : أَتَفْعَلُ ہَذَا وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِذَا أَلْقَی اللَّہُ فِی قَلْبِ رَجُلٍ خِطْبَۃَ امْرَأَۃٍ فَلاَ بَأْسَ أَنْ یَنْظُرَ إِلَیْہَا ۔ ہَذَا الْحَدِیثُ إِسْنَادُہُ مُخْتَلَفٌ فِیہِ وَمَدَارُہُ عَلَی الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاۃَ وَفِیمَا مَضَی کِفَایَۃٌ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৯৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا عورت کو دیکھنا جس سے وہ شادی کا ارادہ رکھتا ہے
(١٣٤٩٢) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو مجھے نیند میں تین راتیں دکھائی گئی، میرے پاس فرشتہ ریشمی کپڑے میں لے کر آتا اور کہتا : یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی ہے، میں تیرے چہرے کو دیکھا تو وہ تو ہوتی تھی تو میں کہتا : اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو ہو کر رہے گا۔
(۱۳۴۹۲) وَاحْتَجَّ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ فِی ہَذَا الْبَابِ بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ نُجَیْدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا الْعَتَکِیُّ وَمُسَدَّدٌ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أُرِیتُکِ فِی النَّوْمِ ثَلاَثَ لَیَالٍ جَائَ نِی بِکَ الْمَلَکُ فِی سَرَقَۃٍ مِنْ حَرِیرٍ یَقُولُ : ہَذِہِ امْرَأَتُکَ فَأَکْشِفُ عَنْ وَجْہِکِ فَإِذَا ہِیَ أَنْتِ فَأَقُولُ إِنْ یَکُنْ ہَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّہِ یُمْضِہِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ الْعَتَکِیِّ۔

[صحیح۔ بخاری ۳۸۹۵۔ مسلم ۲۴۳۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৯৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا عورت کو دیکھنا جس سے وہ شادی کا ارادہ رکھتا ہے
(١٣٤٩٣) ایک عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہا : میں نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کیا ہے تو اس کی طرف آپ نے نگاہ اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور اپنی نگاہ نیچی کی۔ جب عورت نے دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی فیصلہ نہیں کیا تو وہ عورت بیٹھ گئی۔
(۱۳۴۹۳) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ امْرَأَۃً جَائَ تْ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَتْ یَا رَسُولَ اللَّہِ جِئْتُ لأَہَبَ نَفْسِی لَکَ فَنَظَرَ إِلَیْہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَصَعَّدَ النَّظَرَ إِلَیْہَا وَصَوَّبَہُ ثُمَّ طَأْطَأَ رَأْسَہُ فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَۃُ أَنَّہُ لَمْ یَقْضِ فِیہَا شَیْئًا جَلَسَتْ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۰۳۰۔ مسلم ۱۷۲۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫০০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ضرورت کے تحت چہرہ اور ہتھیلیاں دیکھنے کا جواز
(١٣٤٩٤) ابن عباس (رض) اس آیت { وَلاَ یُبْدِینَ زِینَتَہُنَّ إِلاَّ مَا ظَہَرَ مِنْہَا } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سرمہ اور انگوٹھی ہے۔
(۱۳۴۹۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ الْمُلاَئِیُّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {وَلاَ یُبْدِینَ زِینَتَہُنَّ إِلاَّ مَا ظَہَرَ مِنْہَا} قَالَ : الْکُحْلُ وَالْخَاتَمُ۔ وَقَدْ رُوِّینَاہُ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَرُوِیَ ذَلِکَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫০১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ضرورت کے تحت چہرہ اور ہتھیلیاں دیکھنے کا جواز
(١٣٤٩٥) ام شبیب (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے عائشہ (رض) سے پوچھا : ظاہری زینت سے کیا مراد ہے تو انھوں نے کہا : کنگن اور چھلا اور دونوں آستینوں کو چلایا۔
(۱۳۴۹۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَتْنَا أُمِّ شَبِیبٍ قَالَتْ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنِ الزِّینَۃِ الظَّاہِرَۃِ فَقَالَتِ : الْقُلْبُ وَالْفَتَخَۃُ وَضَمَّتْ طَرَفَ کُمِّہَا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫০২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ضرورت کے تحت چہرہ اور ہتھیلیاں دیکھنے کا جواز
(١٣٤٩٦) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ اسماء بنت ابی بکر داخل ہوئی اور سیدہ عائشہ (رض) کے پاس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے۔ ان پر شامی باریک کپڑے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسماء بنت ابی بکر کی طرف دیکھا تو فرمایا : جب عورت جو ان ہوجائے تو اس کے لیے یہ ٹھیک نہیں ہے کہ اس کی فلاں فلاں جگہ کے علاوہ نظر آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چہرے اور ہاتھوں کی ہتھیلیوں کی طرف اشارہ کیا۔
(۱۳۴۹۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی قُمَاشٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ خَالِدِ بْنِ دُرَیْکٍ عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ : أَنَّ أَسْمَائَ بِنْتَ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا دَخَلَتْ عَلَیْہَا وَعِنْدَہَا النَّبِیُّ -ﷺ- فِی ثِیَابٍ شَامِیَّۃٍ رِقَاقٍ فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِبَصَرِہِ قَالَ : مَا ہَذَا یَا أَسْمَائُ ؟ إِنَّ الْمَرْأَۃَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِیضَ لَمْ یَصْلُحْ أَنْ یُرَی مِنْہَا إِلاَّ ہَذَا وَہَذَا ۔ وَأَشَارَ إِلَی کَفِّہِ وَوَجْہِہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫০৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ضرورت کے تحت چہرہ اور ہتھیلیاں دیکھنے کا جواز
(١٣٤٩٧) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عائشہ بنت ابی بکر (رض) کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس ان کی بہن اسماء بنت ابی بکر تھیں۔ ان پر شامی کپڑے تھے، جس کی ک میں بہت وسیع تھیں۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی طرف دیکھا تو کھڑے ہوگئے اور نکلے اور اسمائ (رض) کو کہا : ہٹ جاؤ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا کام دیکھا جس کو ناپسند کرتے تھے۔ وہ ہٹ گئی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داخل ہوئے تو عائشہ (رض) نے پوچھا : آپ کیوں چلے گئے تھے ؟ آپ نے فرمایا : تم نے اس کی حالت نہیں دیکھی، کسی مسلمان عورت کے لیے یہ لائق نہیں ہے کہ اس کا کوئی حصہ ظاہر ہو علاوہ اس کے۔ آپ نے ہتھیلی کو پکڑا۔ اس کے ظاہری حصے کو ڈھانپ دیا۔ یہاں تک کہ ہتھیلی ظاہر نہ ہوئی علاوہ انگلیوں کے پھر اپنی ہتھیلیوں کو اپنی کہنیوں پر رکھا اور صرف ان کا چہرہ ظاہر ہوا۔
(۱۳۴۹۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ عِیَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّہُ سَمِعَ إِبْرَاہِیمَ بْنَ عُبَیْدِ بْنِ رِفَاعَۃَ الأَنْصَارِیَّ یُخْبِرُ عَنْ أَبِیہِ أَظُنُّہُ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ عُمَیْسٍ أَنَّہَا قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی عَائِشَۃَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ وَعِنْدَہَا أُخْتُہَا أَسْمَائُ وَعَلَیْہَا ثِیَابٌ شَامِیَّۃٌ وَاسِعَۃُ الأَکْمَامِ فَلَمَّا نَظَرَ إِلَیْہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَامَ فَخَرَجَ فَقَالَتْ لَہَا عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَنَحَّیْ فَقَدْ رَأَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَمْرًا کَرِہَہُ فَتَنَحَّتْ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَسَأَلَتْہُ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : لِمَ قَامَ؟ قَالَ : أَوَلَمْ تَرَیْ إِلَی ہَیْئَتِہَا إِنَّہُ لَیْسَ لِلْمَرْأَۃِ الْمُسْلِمَۃِ أَنْ یَبْدُوَ مِنْہَا إِلاَّ ہَکَذَا ۔ وَأَخَذَ بِکَفَّیْہِ فَغَطَّی بِہِمَا ظَہْرَ کَفَّیْہِ حَتَّی لَمْ یَبْدُ مِنْ کَفِّہِ إِلاَّ أَصَابِعَہُ ثُمَّ نَصَبَ کَفَّیْہِ عَلَی صُدْغَیْہِ حَتَّی لَمْ یَبْدُ إِلاَّ وَجْہُہُ إِسْنَادُہُ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫০৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ضرورت کے تحت چہرہ اور ہتھیلیاں دیکھنے کا جواز
(١٣٤٩٨) عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ حفصہ بن عتبہ کہتی ہیں : اے اللہ کے نبی ! مجھ سے بیعت کرلو تو آپ نے فرمایا : میں اس وقت تک تجھ سے بیعت نہیں کروں گا۔ جب تک تو اپنی ہتھیلیوں کو تبدیل نہیں کرتی، یہ تو کسی درندے کی ہتھیلیاں ہیں۔
(۱۳۴۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَتْنِی غِبْطَۃُ بِنْتِ عَمْرٍو الْمُجَاشِعِیَّۃُ قَالَتْ حَدَّثَتْنِی عَمَّتِی أُمُّ الْحَسَنِ عَنْ جَدَّتِہَا عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّ ہِنْدَ بِنْتَ عُتْبَۃَ قَالَتْ: یَا نَبِیَّ اللَّہِ بَایِعْنِی قَالَ: لاَ أُبَایِعُکِ حَتَّی تُغَیِّرِی کَفَّیْکِ کَأَنَّہَا کَفَّیْ سَبُعٍ۔ [ضعیف جداً]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫০৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ضرورت کے تحت چہرہ اور ہتھیلیاں دیکھنے کا جواز
(١٣٤٩٩) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک عورت پردے کے پیچھے خط لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا : میں نہیں جانتا کہ یہ عورت کا ہاتھ ہے یا مرد کا۔ وہ کہتی ہیں : نہیں بلکہ عورت کا ہاتھ ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر عورت ہے تو اپنے ناخنوں کو مہندی کے ساتھ رنگ کر رکھو۔
(۱۳۴۹۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا طَالُوتُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا مُطِیعُ بْنُ مَیْمُونٍ أَبُو سَعِیدٍ قَالَ حَدَّثَتْنَا صَفِیَّۃُ بِنْتُ عِصْمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : جَائَ تِ امْرَأَۃٌ وَرَائَ السَّتْرِ بِیَدِہَا کِتَابٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَبَضَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَدَہُ وَقَالَ : مَا أَدْرِی أَیَدُ رَجُلٍ أَمْ یَدُ امْرَأَۃٍ ۔ قَالَتْ : بَلْ یَدُ امْرَأَۃٍ قَالَ : لَوْ کُنْتِ امْرَأَۃً لَغَیَّرْتِ أَظْفَارَکِ بِالْحِنَّائِ ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫০৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ضرورت کے تحت چہرہ اور ہتھیلیاں دیکھنے کا جواز
(١٣٥٠٠) ایضاً
(۱۳۵۰۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا مُطِیعُ بْنُ مَیْمُونٍ أَبُو سَعِیدٍ بِإِسْنَادِہِ نَحْوَہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫০৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی عورت کو رشتہ دیکھنے کے لیے بھیجنے کا حکم
(١٣٥٠١) حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک عورت سے شادی کا ارادہ کیا اور اسے دیکھنے کے لیے ایک عورت کو بھیجا اور اس سے کہا : اس کے رخساروں کو سونگھ لوں اور اس کی ایڑیوں کو دیکھ لوں۔ وہ ان کے پاس آئی تو انھوں نے کہا : اے فلاں کی ماں ! ہم تجھے کھانا کھلائیں، اس نے کہا : میں فلاں عورت کے ہاتھ سے کھانا کھاؤں گی تو وہ (کھانے لانے کے لیے) اوپر کمرے میں گئی تو اس کی ایڑیوں کو دیکھ لیا۔ پھر کہا : اے بیٹی ! مجھے بوسہ دو ۔ وہ بوسہ دے رہی تھی اور یہ اس کے رخسار سونگھ رہی تھی، پھر اس نے آکر بتلایا۔
(۱۳۵۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَرَادَ أَنْ یَتَزَوَّجَ امْرَأَۃً فَبَعَثَ بِامْرَأَۃٍ لِتَنْظُرَ إِلَیْہَا فَقَالَ : شُمِّی عَوَارِضَہَا وَانْظُرِی إِلَی عُرْقُوبَیْہَا ۔ قَالَ : فَجَائَ تْ إِلَیْہِمْ فَقَالُوا : أَلاَ نُغَدِّیکِ یَا أُمَّ فُلاَنٍ فَقَالَتْ : لاَ آکُلُ إِلاَّ مِنْ طَعَامٍ جَائَ تْ بِہِ فُلاَنَۃُ قَالَ : فَصَعِدَتْ فِی رَفٍّ لَہُمْ فَنَظَرَتْ إِلَی عُرْقُوبَیْہَا ثُمَّ قَالَتْ : قَبِّلِینِی یَا بُنَیَّۃُ قَالَ فَجَعَلَتْ تُقَبِّلُہَا وَہِیَ تَشُمُّ عَارِضَہَا قَالَ فَجَائَ تْ فَأَخْبَرَتْ۔ کَذَا رَوَاہُ شَیْخُنَا فِی الْمُسْتَدْرَکِ وَرَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ مُرْسَلاً مُخْتَصَرًا دُونَ ذِکْرِ أَنَسٍ۔ وَرَوَاہُ أَیْضًا أَبُو النُّعْمَانِ عَنْ حَمَّادٍ مُرْسَلاً وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ الصَّنْعَانِیُّ عَنْ حَمَّادٍ مَوْصُولاً وَرَوَاہُ عُمَارَۃُ بْنُ زَاذَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ مَوْصُولاً۔ [منکر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫০৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پردے کی آیت نازل ہونے کے سبب کا بیان
(١٣٥٠٢) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں : میں دس سال کا تھا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں آئے اور میری ماں مجھے یہ نصیحت کرتی تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کروں۔ میں نے مدینہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دس سال خدمت کی اور جب آپ فوت ہوئے تو میں بیس سال کا تھا اور میں لوگوں کی نسبت زیادہ جانتا ہوں کہ پردے کی آیت کب نازل ہوئی اور سب سے پہلے جو آیت نازل ہوئی وہ تب جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شادی زینب بنت جحش (رض) کے ساتھ ہوئی۔ صبح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حالت میں کی کہ آپ اس سے شادی کرنے والے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو کھانے کے لیے بلایا۔ وہ کھانے کو آئے، پھر بعض چلے گئے، اور بعض کافی دیر ٹھہرے رہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے اور میں بھی آپ کے ساتھ نکلا تاکہ وہ لوگ بھی نکل پڑیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے اور میں بھی آپ کے ساتھ چل پڑا۔ یہاں تک کہ عائشہ کے حجرے کے پاس پہنچے۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سمجھا کہ وہ چلے گئے ہوں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس آگئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ واپس آگیا یہاں تک کہ زینب (رض) پر داخل ہوئے تو وہ لوگ ابھی تک بیٹھے تھے، وہ گئے نہیں تھے۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس آگئے اور میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ واپس آگیا۔ یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عائشہ (رض) کے حجرہ کے پاس پہنچے۔ آپ نے سمجھا کہ شاید وہ چلے گئے ہوں گے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوٹ آئے اور میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ لوٹ آیا اور وہ جا چکے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے اور اپنے درمیان پردہ کرلیا۔ تب پردے کی آیت نازل ہوئی۔
(۱۳۵۰۲) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنِی اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ قَالَ أَخْبَرَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ الأَنْصَارِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّہُ کَانَ ابْنَ عَشْرِ سِنِینَ مَقْدَمَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْمَدِینَۃَ قَالَ وَکَانَ أُمَّہَاتِی یُوَاظِبْنَنِی عَلَی خِدْمَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَخَدَمْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَشْرَ سِنِینَ بِالْمَدِینَۃِ وَتُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَنَا ابْنُ عِشْرِینَ سَنَۃً فَکُنْتُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِشَأْنِ الْحِجَابِ حِینَ أُنْزِلَ وَکَانَ أَوَّلَ مَا أُنْزِلَ فِیہِ أُنْزِلَ فِی مُبْتَنَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِزَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَأَصْبَحَ رَسُولُ -ﷺ- عَرُوسًا بِہَا فَدَعَا الْقَوْمَ فَأَصَابُوا مِنَ الطَّعَامِ ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ بَقِیَ مِنْہُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَطَالُوا الْمُکْثَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَخَرَجَ وَخَرَجْتُ مَعَہُ لِکَیْ یَخْرُجُوا فَمَشَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَمَشَیْتُ مَعَہُ حَتَّی جَائَ عَتَبَۃَ حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا ثُمَّ ظَنَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہُمْ قَدْ خَرَجُوا فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَرَجَعْتُ مَعَہُ حَتَّی دَخَلَ عَلَی زَیْنَبَ فَإِذَا ہُمْ جُلُوسٌ لَمْ یَقُومُوا فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَرَجَعْتُ مَعَہُ حَتَّی إِذَا بَلَغَ حُجْرَۃَ عَائِشَۃَ وَظَنَّ أَنْ قَدْ خَرَجُوا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَہُ فَإِذَا ہُمْ خَرَجُوا فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بَیْنِی وَبَیْنَہُ الْحِجَابَ وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۱۶۶۔ مسلم ۸۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫০৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پردے کی آیت نازل ہونے کے سبب کا بیان
(١٣٥٠٣) ایضاً
(۱۳۵۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِیبٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ خَلَفٍ أَبُو سَلَمَۃَ الْبَاہِلِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی الصَّنْعَانِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ أَبِیہِ حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- زَیْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ دَعَا الْقَوْمَ فَطَعِمُوا ثُمَّ جَلَسُوا یَتَحَدَّثُونَ قَالَ فَأَخَذَ یَتَہَیَّأُ لِلْقِیَامِ قَالَ فَلَمْ یَقُومُوا قَالَ فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ قَامَ وَقَامَ مِنَ الْقَوْمِ وَقَعَدَ ثَلاَثَۃٌ وَأَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- جَائَ لِیَدْخُلَ فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ ثُمَّ إِنَّہُمْ قَامُوا فَانْطَلَقُوا فَجِئْتُ أَدْخُلُ فَأَلْقَی الْحِجَابَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُیُوتَ النَّبِیِّ إِلاَّ أَنْ یُؤْذَنَ لَکُمْ إِلَی طَعَامٍ غَیْرَ نَاظِرِینَ إِنَاہُ وَلَکِنْ إِذَا دُعِیتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا} إِلَی {إِنَّ ذَلِکُمْ کَانَ عِنْدَ اللَّہِ عَظِیمًا} رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی النُّعْمَانِ وَغَیْرِہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَی وَغَیْرِہِ عَنْ مُعْتَمِرِ بْنِ سُلَیْمَانَ وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫১০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پردے کی آیت نازل ہونے کے سبب کا بیان
(١٣٥٠٤) عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ میرے رب نے تین مقام پر میری موافقت کی ہے۔ میں نے کہا : اگر ہم مقام ابراہیم کو مصلی بنالیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی { وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاہِیمَ مُصَلًّی } [البقرۃ ] میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ پر نیک لوگ بھی اور برے بھی داخل ہوتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امہات المومنین کو پردے کا حکم دیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کردی : { یا ایہا النبی قل لازواجک وبناتک ونساء المومنین } اور انھوں نے بیان کیا کہ مجھے بعض ازواج مطہرات سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خفگی کی خبر ملی۔ میں ان کے پاس گیا اور کہا : باز آجاؤ ورنہ اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں آپ کے لیے بدل دے گا۔ بعد میں امہات المومنین میں حضرت ام سلمہ آئیں اور کہا : اے عمر ! تم اپنی ازواج کو اتنی نصیحت نہیں کرتے جتنی تم انھیں (امہات المومنین) کو کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : { عَسَی رَبُّہُ إِنْ طَلَّقَکُنَّ أَنْ یُبْدِلَہُ أَزْوَاجًا خَیْرًا مِنْکُنَّ }[التحریم ٥]
(۱۳۵۰۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یَحْیَی الزُّہْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَکْرٍ السَّہْمِیُّ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : عُبْدُوسُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مَنْصُورٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنِی حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: وَافَقَنِی رَبِّی فِی ثَلاَثٍ قُلْتُ لَوِ اتَّخَذْنَا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاہِیمَ مُصَلًّی فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاہِیمَ مُصَلًّی} وَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ یَدْخُلُ عَلَیْکَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ فَلَوْ حَجَبْتَ أُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِینَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ آیَۃَ الْحِجَابِ قَالَ وَبَلَغَنِی شَیْئٌ کَانَ بَیْنَ أُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِینَ وَبَیْنَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَاسْتَقْرَیْتُہُنَّ أَقُولُ لَتَکُفُّنَّ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَوْ لَیُبْدِلَنَّہُ اللَّہُ أَزْوَاجًا خَیْرًا مِنْکُنَّ حَتَّی أَتَیْتُ عَلَی آخِرِ أُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِینَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ : یَا عُمَرُ أَمَا فِی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- مَا یَعِظُ نِسَائَ ہُ حَتَّی تَعِظَہُنَّ فَأَمْسَکْتُ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {عَسَی رَبُّہُ إِنْ طَلَّقَکُنَّ أَنْ یُبْدِلَہُ أَزْوَاجًا خَیْرًا مِنْکُنَّ} الآیَۃَ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ حُمَیْدٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ مُخْتَصَرًا إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ بَدَلَ الثَّالِثَۃِ أُسَارَی بَدْرٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۴۸۳۔ مسلم ۲۳۹۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫১১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پردے کی آیت نازل ہونے کے سبب کا بیان
(١٣٥٠٥) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویاں رات کو قضائے حاجت کے لیے کھلی جگہ کی طرف نکلتیں اور عمر بن خطاب (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کرتے : آپ پردے کا حکم دیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ کام نہ کیا۔ ایک رات عشاء کے وقت سودہ بنت زمعہ (رض) باہر نکلیں۔ عمر بن خطاب (رض) نے آواز دی اور کہا : اے سودہ ! میں نے تجھے پہچان لیا ہے یہ اس نیت سے کیا کہ پردے کے بارے میں حکم نازل ہوجائے، عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ پھر پردے کی آیت نازل ہوگئی۔
(۱۳۵۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِیِّ -ﷺ- کُنَّ یَخْرُجْنَ بِاللَّیْلِ إِذَا تَبَرَّزْنَ إِلَی الْمَنَاصِعِ وَہُوَ صَعِیدٌ أَفْیَحُ وَکَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- احْجُبْ نِسَائَ کَ فَلَمْ یَکُنْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَفْعَلْ فَخَرَجَتْ سَوْدَۃُ بِنْتُ زَمْعَۃَ زَوْجُ النَّبِیِّ -ﷺ- لَیْلَۃً مِنَ اللَّیَالِی عِشَائً فَنَادَاہَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : قَدْ عَرَفْنَاکِ یَا سَوْدَۃُ حِرْصًا عَلَی أَنْ یَنْزِلَ الْحِجَابُ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَأُنْزِلَ الْحِجَابُ۔

[صحیح۔ بخاری ۱۴۷۔ مسلم ۲۱۷۰]
tahqiq

তাহকীক: