আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৬৬ টি
হাদীস নং: ১৩৫৩২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرد اور عورتیں دونوں پردے اور اجنبیوں کی طرف دیکھنے میں برابر ہیں
قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ }
قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ }
(١٣٥٢٦) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم ! میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا وہ میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہوجاتے اور حبشی لوگ نیزوں کے ساتھ مسجد میں کھیلتے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اپنی چادر میں چھپالیتے تاکہ میں بھی ان کے کھیل کو دیکھ لوں۔ میں آپ کے کانوں اور گردن کے درمیان سے دیکھتی تھی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری وجہ سے کھڑے ہوتے اور میں آپ سے پہلے وہاں سے پھرجاتی۔ پس تم اندازہ لگاؤ چھوٹی عمر میں بچی کھیلنے کے لیے کس طرح حریص ہوتی ہے۔
(۱۳۵۲۶) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : وَاللَّہِ لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُومُ عَلَی بَابِ حُجْرَتِی وَالْحَبَشَۃُ یَلْعَبُونَ بِالْحِرَابِ فِی الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَسْتُرُنِی بِرِدَائِہِ لأَنْظُرَ إِلَی لَعِبِہِمْ بَیْنَ أُذُنِہِ وَعَاتِقِہِ ثُمَّ یَقُومُ مِنْ أَجْلِی حَتَّی أَکُونَ أَنَا الَّتِی أَنْصَرِفُ فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِیَۃِ الْحَدِیثَۃِ السِّنِّ الْحَرِیصَۃِ عَلَی اللَّہْوِ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ مَعْمَرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔[صحیح۔ بخاری ۵۲۳۶۔ مسلم ۸۹۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৩৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرد اور عورتیں دونوں پردے اور اجنبیوں کی طرف دیکھنے میں برابر ہیں
قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ }
قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ }
(١٣٥٢٧) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ابوبکر صدیق (رض) تشریف لائے اور میرے پاس بچیاں منیٰ والے دن گانا گا رہی تھیں اور دف بھی بجا رہی تھیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کپڑے میں لپیٹے بیٹھے تھے۔ ابوبکر (رض) نے ان کو منع کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا : اے ابوبکر ! ان کو چھوڑ دو : کیونکہ یہ خوشی کے دن ہیں اور منیٰ کے دن کی بات ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں تھے۔ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے دیکھا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اپنے کپڑے میں چھپاتے تھے اور میں حبشی لوگوں کی طرف دیکھتی جو مسجد میں کھیل رہے ہوتے تھے اور میں اس وقت بچی تھی۔
(۱۳۵۲۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا: أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ دَخَلَ عَلَیْہَا وَعِنْدَہَا جَارِیَتَانِ فِی أَیَّامِ مِنًی تُغَنِّیَانِ وَتُدَفِّفَانِ وَتَضْرِبَانِ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مُتَغَشًّی بِثَوْبِہِ فَانْتَہَرَہُنَّ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَشَفَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ وَجْہِہِ وَقَالَ: دَعْہُمَا یَا أَبَا بَکْرٍ فَإِنَّہَا أَیَّامُ عِیدٍ۔ وَتِلْکَ أَیَّامُ مِنًی وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِالْمَدِینَۃِ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَسْتُرُنِی بِثَوْبِہِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَی الْحَبَشَۃِ وَہُمْ یَلْعَبُونَ فِی الْمَسْجِدِ وَأَنَا جَارِیَۃٌ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ بِزِیَادَۃِ لَفْظٍ فِی آخِرِہِ وَنُقْصَانٍ آخَرَ۔ فَفِی قَوْلِہِ فِی ہَذِہِ الزِّیَادَۃِ : وَأَنَا جَارِیَۃٌ کَالدَّلِیلِ عَلَی أَنَّہَا کَانَتْ صَغِیرَۃً لَمْ تَبْلُغْ۔
وَمِمَّا یَدُلُّ عَلَی ذَلِکَ أَیْضًا۔ [صحیح۔ مسلم ۸۹۲]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ بِزِیَادَۃِ لَفْظٍ فِی آخِرِہِ وَنُقْصَانٍ آخَرَ۔ فَفِی قَوْلِہِ فِی ہَذِہِ الزِّیَادَۃِ : وَأَنَا جَارِیَۃٌ کَالدَّلِیلِ عَلَی أَنَّہَا کَانَتْ صَغِیرَۃً لَمْ تَبْلُغْ۔
وَمِمَّا یَدُلُّ عَلَی ذَلِکَ أَیْضًا۔ [صحیح۔ مسلم ۸۹۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৩৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرد اور عورتیں دونوں پردے اور اجنبیوں کی طرف دیکھنے میں برابر ہیں
قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ }
قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ }
(١٣٥٢٨) انس (رض) سے روایت ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں آئے تو حبشی نیزوں کے ساتھ کھیلتے تھے آپ کے آنے کی خوشی کی وجہ سے یہ قصہ تھا جس کو صرف حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی تھیں، اس میں یہ دلیل ہے کہ حضرت عائشہ (رض) اس وقت غیربالغہ تھیں اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو گھر لے کر گئے تو وہ نو سال کی تھیں اور اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ یہ بات پردے کی آیت سے پہلے کی ہو۔
(۱۳۵۲۸) مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْمَدِینَۃَ لَعِبَتِ الْحَبَشَۃُ بِحِرَابِہِمْ فَرَحًا بِقُدُومِہِ۔ فَإِنْ کَانَتْ ہَذِہِ الْقِصَّۃُ وَمَا رَوَتْہُ عَائِشَۃُ وَاحِدَۃً فَفِیہَا مَا دَلَّ عَلَی أَنَّہَا کَانَتْ غَیْرَ بَالِغَۃٍ فِی ذَلِکَ الْوَقْتِ فَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بَنِی بِہَا حِینَ قَدِمَ الْمَدِینَۃَ وَہِیَ ابْنَۃُ تِسْعِ سِنِینَ وَیُحْتَمَلُ أَنَّ ذَلِکَ کَانَ قَبْلَ أَنْ یُضْرَبَ عَلَیْہِنَّ الْحِجَابُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৩৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرد اور عورتیں دونوں پردے اور اجنبیوں کی طرف دیکھنے میں برابر ہیں
قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ }
قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ }
(١٣٥٢٩) (الف) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ وہ غزوہ احزاب والے دن بنو حارثہ کے قلعہ میں تھیں اور ام سعد بن معاذ ان کے ساتھ تھیں یہ آیت حجاب نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔
(ب) ابن اسحاق سے بنو قریظہ کے قصہ میں ابو لبابہ کی توبہ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا میں اس کو خوش خبری دے دوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : کیوں نہیں (دے دو ) کہتی ہیں کہ میں دروازے پر کھڑی ہوئی اور یہ آیت حجاب نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے، میں نے کہا : ابولبابہ ! خوش ہوجا اللہ تعالیٰ نے تیری توبہ قبول کرلی ہے۔
(ب) ابن اسحاق سے بنو قریظہ کے قصہ میں ابو لبابہ کی توبہ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا میں اس کو خوش خبری دے دوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : کیوں نہیں (دے دو ) کہتی ہیں کہ میں دروازے پر کھڑی ہوئی اور یہ آیت حجاب نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے، میں نے کہا : ابولبابہ ! خوش ہوجا اللہ تعالیٰ نے تیری توبہ قبول کرلی ہے۔
(۱۳۵۲۹) فَفِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَہْلٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہَا کَانَتْ فِی حِصْنِ بَنِی حَارِثَۃَ یَوْمَ الْخَنْدَقِ وَکَانَتْ أُمُّ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ مَعَہَا فِی الْحِصْنِ وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ یُضْرَبَ عَلَیْہِنَّ الْحِجَابُ۔ [ضعیف]
وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قُسَیْطٍ فِی قِصَّۃِ نُزُولِ تَوْبَۃِ أَبِی لُبَابَۃَ فِی قِصَّۃِ بَنِی قُرَیْظَۃَ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا: أَفَلاَ أُبَشِّرُہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ بِذَلِکَ قَالَ : بَلَی إِنْ شِئْتِ۔ قَالَتْ فَقُمْتُ عَلَی بَابِ حُجْرَتِی فَقُلْتُ وَذَاکَ قَبْلَ أَنْ یُضْرَبَ عَلَیْنَا الْحِجَابُ: یَا أَبَا لُبَابَۃَ أَبْشِرْ فَقَدْ تَابَ اللَّہُ عَلَیْکَ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَغَزْوَۃُ بَنِی قُرَیْظَۃَ کَانَتْ عُقَیْبَ الْخَنْدَقِ سَنَۃَ خَمْسٍ فَنُزُولُ الْحِجَابِ کَانَ بَعْدَہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قُسَیْطٍ فِی قِصَّۃِ نُزُولِ تَوْبَۃِ أَبِی لُبَابَۃَ فِی قِصَّۃِ بَنِی قُرَیْظَۃَ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا: أَفَلاَ أُبَشِّرُہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ بِذَلِکَ قَالَ : بَلَی إِنْ شِئْتِ۔ قَالَتْ فَقُمْتُ عَلَی بَابِ حُجْرَتِی فَقُلْتُ وَذَاکَ قَبْلَ أَنْ یُضْرَبَ عَلَیْنَا الْحِجَابُ: یَا أَبَا لُبَابَۃَ أَبْشِرْ فَقَدْ تَابَ اللَّہُ عَلَیْکَ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَغَزْوَۃُ بَنِی قُرَیْظَۃَ کَانَتْ عُقَیْبَ الْخَنْدَقِ سَنَۃَ خَمْسٍ فَنُزُولُ الْحِجَابِ کَانَ بَعْدَہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৩৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان عورتوں کا بیان جو گھروں میں بیٹھی ہوئی تھیں
(١٣٥٣٠) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : { وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ } [النور ] یہ آیت منسوخ ہے اور اس میں سے اس کو مستثنیٰ کیا ہے { وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَائِ اللاَّتِی لاَ یَرْجُونَ نِکَاحًا }
(۱۳۵۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ یَزِیدَ النَّحْوِیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ {وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ} الآیَۃَ فَنُسِخَ وَاسْتُثْنِیَ مِنْ ذَلِکَ {وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَائِ اللاَّتِی لاَ یَرْجُونَ نِکَاحًا} الآیَۃَ۔ [حسن لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৩৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان عورتوں کا بیان جو گھروں میں بیٹھی ہوئی تھیں
(١٣٥٣١) ابن عباس (رض) اللہ کے ارشاد : { وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَائِ اللاَّتِی لاَ یَرْجُونَ نِکَاحًا } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ عورت ہے کہ جس پر کوئی حرج نہیں کہ وہ اپنے گھر میں بیٹھے چادر اور اوڑھنی لے کر اور اپنی موٹی چادر اتار دے۔ اگر اس کی زینت ظاہر نہ ہو چونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے پسند کیا ہے۔ فرمان الٰہی ہے : { فَلَیْسَ عَلَیْہِنَّ جُنَاحٌ أَنْ یَضَعْنَ ثِیَابَہُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِینَۃٍ } [النور ٦٠]
(۱۳۵۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِہِ تَعَالَی (وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَائِ اللاَّتِی لاَ یَرْجُونَ نِکَاحًا) ہِیَ الْمَرْأَۃُ لاَ جُنَاحَ عَلَیْہَا أَنْ تَجْلِسَ فِی بَیْتِہَا بِدِرْعٍ وَخِمَارٍ وَتَضَعَ عَنْہَا الْجِلْبَابَ مَا لَمْ تَتَبَرَّجْ لِمَا یَکْرَہُ اللَّہُ وَہُوَ قَوْلُہُ {فَلَیْسَ عَلَیْہِنَّ جُنَاحٌ أَنْ یَضَعْنَ ثِیَابَہُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِینَۃٍ} ثُمَّ قَالَ {وَأَنْ یَسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَہُنَّ}
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৩৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان عورتوں کا بیان جو گھروں میں بیٹھی ہوئی تھیں
(١٣٥٣٢) ابن عباس (رض) پر پڑھتے تھے : { أَنْ یَضَعْنَ مِنْ ثِیَابِہِنَّ } فرماتے ہیں کہ یعنی چادریں۔
(۱۳۵۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ یَحْیَی
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْخِرِّیتِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّہُ کَانَ یَقْرَأُ {أَنْ یَضَعْنَ مِنْ ثِیَابِہِنَّ} قَالَ : الْجِلْبَابُ۔ [حسن]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْخِرِّیتِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّہُ کَانَ یَقْرَأُ {أَنْ یَضَعْنَ مِنْ ثِیَابِہِنَّ} قَالَ : الْجِلْبَابُ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৩৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان عورتوں کا بیان جو گھروں میں بیٹھی ہوئی تھیں
(١٣٥٣٣) ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں : { فَلَیْسَ عَلَیْہِنَّ جُنَاحٌ أَنْ یَضَعْنَ ثِیَابَہُنَّ } یعنی چادریں۔
(۱۳۵۳۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ سَمِعْتُ الْحَکَمَ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ یَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ یَقُولُ { فَلَیْسَ عَلَیْہِنَّ جُنَاحٌ أَنْ یَضَعْنَ ثِیَابَہُنَّ} قالَ : الْجِلْبَابُ۔ وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ قَالَ : تَضَعُ الْجِلْبَابَ وَعَنْ مُجَاہِدٍ {وَأَنْ یَسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَہُنَّ} یَقُولُ أَنْ یَلْبَسْنَ جَلاَبِیبَہُنَّ خَیْرٌ لَہُنَّ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৪০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان عورتوں کا بیان جو گھروں میں بیٹھی ہوئی تھیں
(١٣٥٣٤) ایضاً ۔
(۱۳۵۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ قَالَ : کُنَّا نَدْخُلُ عَلَی حَفْصَۃَ بِنْتِ سِیرِینَ وَقَدْ جَعَلَتِ الْجِلْبَابَ ہَکَذَا وَتَنَقَّبَتْ بِہِ فَنَقُولُ لَہَا رَحِمَکِ اللَّہُ قَالَ اللَّہُ تَعَالَی ( وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَائِ اللاَّتِی لاَ یَرْجُونَ نِکَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْہِنَّ جُنَاحٌ أَنْ یَضَعْنَ ثِیَابَہُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِینَۃٍ) ہُوَ الْجِلْبَابُ قَالَ فَتَقُولُ لَنَا : أَیُّ شَیْئٍ بَعْدَ ذَلِکَ فَنَقُولُ ( وَأَنْ یَسْتَعْفِفنَ خَیْرٌ لَہُنَّ) فَتَقُولُ ہُوَ إِثْبَاتُ الْجِلْبَابِ۔ [حسن]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ قَالَ : کُنَّا نَدْخُلُ عَلَی حَفْصَۃَ بِنْتِ سِیرِینَ وَقَدْ جَعَلَتِ الْجِلْبَابَ ہَکَذَا وَتَنَقَّبَتْ بِہِ فَنَقُولُ لَہَا رَحِمَکِ اللَّہُ قَالَ اللَّہُ تَعَالَی ( وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَائِ اللاَّتِی لاَ یَرْجُونَ نِکَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْہِنَّ جُنَاحٌ أَنْ یَضَعْنَ ثِیَابَہُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِینَۃٍ) ہُوَ الْجِلْبَابُ قَالَ فَتَقُولُ لَنَا : أَیُّ شَیْئٍ بَعْدَ ذَلِکَ فَنَقُولُ ( وَأَنْ یَسْتَعْفِفنَ خَیْرٌ لَہُنَّ) فَتَقُولُ ہُوَ إِثْبَاتُ الْجِلْبَابِ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৪১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان عورتوں کا بیان جو گھروں میں بیٹھی ہوئی تھیں
(١٣٥٣٥) سہل بن سعد (رض) فرماتے ہیں کہ ہم جمعہ کو بڑے خوش ہوتے تھے۔ میں نے پوچھا : کیوں ؟ فرمایا کہ ہماری بوڑھی عورت تھی جو بضاعہ جگہ پر جایا کرتی تھی۔ وہاں سے چقندر لاتی تھی اور اسے ہانڈی میں ڈالتی تھی اور جَو کے کچھ دانے پیس کر اس میں ڈالتی تھی، نماز پڑھ کر ہم اس کی طرف جاتے، سلام کرتے تو وہ پکی ہوئی چیز ہمیں دیتی اور ہم جمعہ کو بڑے خوش ہوتے اس وجہ سے کہ نہ ہم جمعہ سے پہلے سوتے تھے اور نہ ہی کھانا کھاتے تھے۔
(۱۳۵۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْہَاشِمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ الْحَرَشِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : کُنَّا نَفْرَحُ بِیَوْمِ الْجُمُعَۃِ قُلْتُ وَلِمَ؟ قَالَ : کَانَتْ لَنَا عَجُوزٌ تَبْعَثُ إِلَی بُضَاعَۃَ فَتَأْخُذُ مِنْ أُصُولِ السِّلْقِ فَتَطْرَحُہُ فِی قِدْرٍ وَتُکَرْکِرُ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِیرٍ فَکُنَّا إِذَا صَلَّیْنَا انْصَرَفْنَا إِلَیْہَا نُسَلِّمُ عَلَیْہَا فَتُقَدِّمُہُ إِلَیْنَا وَکُنَّا نَفْرَحُ بِیَوْمِ الْجُمُعَۃِ مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ وَمَا کُنَّا نَقِیلُ وَلاَ نَتَغَدَّی إِلاَّ بَعْدَ الْجُمُعَۃِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ۔ وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّہُمَا کَانَا یَزُورَانِ أُمَّ أَیْمَنَ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَکَانَتْ حَاضِنَۃً لِلنَّبِیِّ -ﷺ-۔ [صحیح۔ بخاری ۶۲۴۸۔ مسلم ۸۶۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৪২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان عورتوں کا بیان جو گھروں میں بیٹھی ہوئی تھیں
(١٣٥٣٦) انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ام ایمن کو ملنے کے لیے گئے اور میں بھی ساتھ تھا تو اس نے کوئی پینے کی چیز آپ کے قریب کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو لوٹا دیا تو انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ڈانٹا۔ ابوبکر (رض) نے آپ کی وفات کے بعد عمر (رض) کو فرمایا کہ ہمارے ساتھ ام ایمن کی زیارت کے لیے چلیے جب ہم اس کے پاس گئے تو وہ رونے لگی تو ان دونوں نے کہا : تم کیوں روتی ہو ؟ اللہ تعالیٰ کے پاس جو ہے وہ اس کے رسول کے لیے بہتر ہے۔ انھوں نے کہا : میں اس لیے نہیں روتی کہ یہ بات نہیں جانتی لیکن میں اس وجہ سے روتی ہوں کہ اب آسمان سے وحی آنا بند ہوگئی۔ ان کے یہ کہنے کے بعد ابوبکر و عمر (رض) بھی رونے لگے۔
(۱۳۵۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَیْمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْجَارُودِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحُلْوَانِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْکِلاَبِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : ذَہَبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی أُمِّ أَیْمَنَ زَائِرًا وَذَہَبْتُ مَعَہُ فَقَرَّبَتْ إِلَیْہِ شَرَابًا فَإِمَّا کَانَ صَائِمًا وَإِمَّا کَانَ لاَ یُرِیدُہُ فَرَدَّہُ فَأَقْبَلَتْ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- تُصَاخِبُہُ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- لِعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ انْطَلِقْ بِنَا إِلَی أُمِّ أَیْمَنَ نَزُورُہَا فَلَمَّا انْتَہَیْنَا إِلَیْہَا بَکَتْ فَقَالاَ لَہَا: مَا یُبْکِیکِ مَا عِنْدَ اللَّہِ خَیْرٌ لِرَسُولِہِ -ﷺ- قَالَتْ: وَاللَّہِ مَا أَبْکِی أَلاَّ أَکُونَ أَعْلَمُ مَا عِنْدَ اللَّہِ خَیْرٌ لِرَسُولِہِ -ﷺ- وَلَکِنْ أَبْکِی أَنَّ الْوَحْیَ انْقَطَعَ مِنَ السَّمَائِ فَہَیَّجَتْہُمَا عَلَی الْبُکَائِ فَجَعَلاَ یَبْکِیَانِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ۔[صحیح۔ مسلم ۲۴۵۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৪৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت اپنے محرم رشتہ داروں کے سامنے زینت ظاہر کرسکتی ہے جن کا تذکرہ آیت کریمہ میں ہے
سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے
(۱۳۵۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِہِ جَلَّ ثَنَاؤُہُ {وَلاَ یُبْدِینَ زِینَتَہُنَّ إِلاَّ مَا ظَہَرَ مِنْہَا} وَالزِّینَۃُ الظَّاہِرَۃُ الْوَجْہُ وَکُحْلُ الْعَیْنِ وَخِضَابُ الْکَفِّ وَالْخَاتَمُ فَہَذَا تُظْہِرُہُ فِی بَیْتِہَا لِمَنْ دَخَلَ عَلَیْہَا ثُمَّ قَالَ {وَلاَ یُبْدِینَ زِینَتَہُنَّ إِلاَّ لِبُعُولَتِہِنَّ أَوْ آبَائِہِنَّ أَوْ آبَائِ بُعُولَتِہِنَّ أَوْ أَبْنَائِہِنَّ أَوْ أَبْنَائِ بُعُولَتِہِنَّ أَوْ إِخْوَانِہِنَّ أَوْ بَنِی إِخْوَانِہِنَّ أَوْ بَنِی أَخَوَاتِہِنَّ أَوْ نِسَائِہِنَّ أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُنَّ أَوِ التَّابِعِینَ غَیْرِ أُولِی الإِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ} وَالزِّینَۃُ الَّتِی تُبْدِیہَا لِہَؤُلاَئِ مِنَ النَّاسِ قُرْطَاہَا وَقِلاَدَتُہَا وَسِوَارُاہَا فَأَمَّا خَلْخَالُہَا وَمِعْضِدَتُہَا وَنَحْرُہَا وَشَعْرُہَا فَإِنَّہَا لاَ تُبْدِیہِ إِلاَّ لِزَوْجِہَا۔
وَرُوِّینَا عَنْ مُجَاہِدٍ أَنَّہُ قَالَ یَعْنِی بِہِ الْقُرْطَیْنِ وَالسَّالِفَۃَ وَالسَّاعِدَیْنِ وَالْقَدَمَیْنِ۔
(ق) وَہَذَا ہُوَ الأَفْضَلُ أَلاَّ تُبْدِیَ مِنْ زِینَتِہَا الْبَاطِنَۃِ شَیْئًا لِغَیْرِ زَوْجِہَا إِلاَّ مَا یَظْہَرُ مِنْہَا فِی مِہْنَتِہَا فَإِنْ ظَہَرَ مِنْہَا لِذَوِی الْمَحَارِمِ شَیْء ٌ فَوْقَ سُرَّتِہَا وَدُونَ رُکْبَتِہَا فَقَدْ قِیلَ لاَ بَأْسَ اسْتِدْلاَلاً بِمَا رُوِّینَا فِی کِتَابِ الصَّلاَۃِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : إِذَا زَوَّجَ أَحَدُکُمْ عَبْدَہَ أَمَتَہُ أَوْ أَجِیرَہُ فَلاَ یَنْظُرَنَّ إِلَی عَوْرَتِہَا ۔ وَفِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی: فَلاَ یَنْظُرْ إِلَی مَا دُونَ السُّرَّۃِ وَفْوقَ الرُّکْبَۃِ ۔ وَالرِّوَایَۃُ الأَخِیرَۃُ إِذَا قُرِنَتْ بِالأُولَی دَلَّتَا عَلَی أَنَّ الْمُرَادَ بِالْحَدِیثِ نَہْیُ السَّیِّدِ عَنِ النَّظَرِ إِلَی عَوْرَتِہَا إِذَا زَوَّجَہَا وَہِیَ مَا بَیْنَ السُّرَّۃِ وَالرُّکْبَۃِ وَالسَّیِّدُ مَعَہَا إِذَا زَوَّجَہَا کَذَوِی مَحَارِمِہَا إِلاَّ أَنَّ النَّضْرَ بْنَ شُمَیْلٍ رَوَاہُ عَنْ سَوَّارٍ أَبِی حَمْزَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : إِذَا زَوَّجَ أَحَدُکُمْ عَبْدَہُ أَمَتَہُ أَوْ أَجِیرَہُ فَلاَ تَنْظُرُ الأَمَۃُ إِلَی شَیْئٍ مِنْ عَوْرَتِہِ فَإِنَّ مَا تَحْتَ السُّرَّۃِ إِلَی رُکْبَتِہِ مِنَ الْعَوْرَۃِ ۔ وَعَلَی ہَذَا یَدُلُّ سَائِرُ طُرُقِہِ وَذَلِکَ لاَ یُنْبِئُ عَمَّا دَلَّتْ عَلَیْہِ الرِّوَایَۃُ الأُولَی
وَالصَّحِیحُ أَنَّہَا لاَ تُبْدِی لِسَیِّدِہَا بَعْدَ مَا زَوَّجَہَا وَلاَ الْحَرَّۃُ لِذَوِی مَحَارِمِہَا إِلاَّ مَا یَظْہَرُ مِنْہَا فِی حَالِ الْمِہْنَۃِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ
فَأَمَّا الزَّوْجُ فَلَہُ أَنْ یَنْظُرَ إِلَی عَوْرَتِہَا وَلَہَا أَنْ تَنْظُرَ إِلَی عَوْرَتِہِ سِوَی الْفَرْجِ فَفِیہِ خِلاَفٌ وَکَذَلِکَ السَّیِّدُ مَعَ أَمَتِہِ إِنْ کَانَتْ تَحِلُّ لَہُ۔ [ضعیف]
(۱۳۵۳۷) ابن عباسt اللہ تعالیٰ کے ارشاد: {وَلاَ یُبْدِینَ زِینَتَہُنَّ إِلاَّ مَا ظَہَرَ مِنْہَا} [النور] کے متعلق فرماتے ہیں کہ ظاہری زینت سے مراد چہرہ، آنکھوں کا سرمہ، ہاتھوں کی مہندی اور انگوٹھی ہے۔ اس کو وہ اپنے گھر میں ظاہر کر سکتی ہے جو بھی اس پر داخل ہو، پھر فرمایا:
{وَلاَ یُبْدِینَ زِینَتَہُنَّ إِلاَّ لِبُعُولَتِہِنَّ أَوْ آبَائِہِنَّ أَوْ آبَائِ بُعُولَتِہِنَّ أَوْ أَبْنَائِہِنَّ أَوْ أَبْنَائِ بُعُولَتِہِنَّ أَوْ إِخْوَانِہِنَّ أَوْ بَنِی إِخْوَانِہِنَّ أَوْ بَنِی أَخَوَاتِہِنَّ أَوْ نِسَائِہِنَّ أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُنَّ أَوِ التَّابِعِینَ غَیْرِ أُولِی الإِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ} [النور] اور جو زینت مذکورین کے لیے ہے: ہار، کنگن گردن اور بال ان کو وہ صرف شوہر کے لیے ظاہر کر سکتی ہے۔
وَرُوِّینَا عَنْ مُجَاہِدٍ أَنَّہُ قَالَ یَعْنِی بِہِ الْقُرْطَیْنِ وَالسَّالِفَۃَ وَالسَّاعِدَیْنِ وَالْقَدَمَیْنِ۔
(ق) وَہَذَا ہُوَ الأَفْضَلُ أَلاَّ تُبْدِیَ مِنْ زِینَتِہَا الْبَاطِنَۃِ شَیْئًا لِغَیْرِ زَوْجِہَا إِلاَّ مَا یَظْہَرُ مِنْہَا فِی مِہْنَتِہَا فَإِنْ ظَہَرَ مِنْہَا لِذَوِی الْمَحَارِمِ شَیْء ٌ فَوْقَ سُرَّتِہَا وَدُونَ رُکْبَتِہَا فَقَدْ قِیلَ لاَ بَأْسَ اسْتِدْلاَلاً بِمَا رُوِّینَا فِی کِتَابِ الصَّلاَۃِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : إِذَا زَوَّجَ أَحَدُکُمْ عَبْدَہَ أَمَتَہُ أَوْ أَجِیرَہُ فَلاَ یَنْظُرَنَّ إِلَی عَوْرَتِہَا ۔ وَفِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی: فَلاَ یَنْظُرْ إِلَی مَا دُونَ السُّرَّۃِ وَفْوقَ الرُّکْبَۃِ ۔ وَالرِّوَایَۃُ الأَخِیرَۃُ إِذَا قُرِنَتْ بِالأُولَی دَلَّتَا عَلَی أَنَّ الْمُرَادَ بِالْحَدِیثِ نَہْیُ السَّیِّدِ عَنِ النَّظَرِ إِلَی عَوْرَتِہَا إِذَا زَوَّجَہَا وَہِیَ مَا بَیْنَ السُّرَّۃِ وَالرُّکْبَۃِ وَالسَّیِّدُ مَعَہَا إِذَا زَوَّجَہَا کَذَوِی مَحَارِمِہَا إِلاَّ أَنَّ النَّضْرَ بْنَ شُمَیْلٍ رَوَاہُ عَنْ سَوَّارٍ أَبِی حَمْزَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : إِذَا زَوَّجَ أَحَدُکُمْ عَبْدَہُ أَمَتَہُ أَوْ أَجِیرَہُ فَلاَ تَنْظُرُ الأَمَۃُ إِلَی شَیْئٍ مِنْ عَوْرَتِہِ فَإِنَّ مَا تَحْتَ السُّرَّۃِ إِلَی رُکْبَتِہِ مِنَ الْعَوْرَۃِ ۔ وَعَلَی ہَذَا یَدُلُّ سَائِرُ طُرُقِہِ وَذَلِکَ لاَ یُنْبِئُ عَمَّا دَلَّتْ عَلَیْہِ الرِّوَایَۃُ الأُولَی
وَالصَّحِیحُ أَنَّہَا لاَ تُبْدِی لِسَیِّدِہَا بَعْدَ مَا زَوَّجَہَا وَلاَ الْحَرَّۃُ لِذَوِی مَحَارِمِہَا إِلاَّ مَا یَظْہَرُ مِنْہَا فِی حَالِ الْمِہْنَۃِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ
فَأَمَّا الزَّوْجُ فَلَہُ أَنْ یَنْظُرَ إِلَی عَوْرَتِہَا وَلَہَا أَنْ تَنْظُرَ إِلَی عَوْرَتِہِ سِوَی الْفَرْجِ فَفِیہِ خِلاَفٌ وَکَذَلِکَ السَّیِّدُ مَعَ أَمَتِہِ إِنْ کَانَتْ تَحِلُّ لَہُ۔ [ضعیف]
(۱۳۵۳۷) ابن عباسt اللہ تعالیٰ کے ارشاد: {وَلاَ یُبْدِینَ زِینَتَہُنَّ إِلاَّ مَا ظَہَرَ مِنْہَا} [النور] کے متعلق فرماتے ہیں کہ ظاہری زینت سے مراد چہرہ، آنکھوں کا سرمہ، ہاتھوں کی مہندی اور انگوٹھی ہے۔ اس کو وہ اپنے گھر میں ظاہر کر سکتی ہے جو بھی اس پر داخل ہو، پھر فرمایا:
{وَلاَ یُبْدِینَ زِینَتَہُنَّ إِلاَّ لِبُعُولَتِہِنَّ أَوْ آبَائِہِنَّ أَوْ آبَائِ بُعُولَتِہِنَّ أَوْ أَبْنَائِہِنَّ أَوْ أَبْنَائِ بُعُولَتِہِنَّ أَوْ إِخْوَانِہِنَّ أَوْ بَنِی إِخْوَانِہِنَّ أَوْ بَنِی أَخَوَاتِہِنَّ أَوْ نِسَائِہِنَّ أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُنَّ أَوِ التَّابِعِینَ غَیْرِ أُولِی الإِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ} [النور] اور جو زینت مذکورین کے لیے ہے: ہار، کنگن گردن اور بال ان کو وہ صرف شوہر کے لیے ظاہر کر سکتی ہے۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৪৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت اپنے محرم رشتہ داروں کے سامنے زینت ظاہر کرسکتی ہے جن کا تذکرہ آیت کریمہ میں ہے
(١٣٥٣٨) بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کون سی شرم گاہیں ہمارے لیے حلال ہیں اور کون سی حرام ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرو۔ میں نے کہا : آپ کا خیال ہے اگر ہم آپس میں ہوں ؟ فرمایا : اگر تو طاقت رکھتا ہے کہ اس کو کوئی بھی نہ دیکھے۔ پھر کہا : اگر کوئی ہم سے اکیلا ہو تو ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ زیادہ حق دار ہے کہ لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ حیا کی جائے۔
(۱۳۵۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ الْفِرْیَابِیُّ قَالَ ذَکَرَ سُفْیَانُ عَنْ بَہْزِ بْنِ حَکِیمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَأَیْتَ عَوْرَاتِنَا مَا نَأْتِی مِنْہَا وَمَا نَذَرُ قَالَ : احْفَظْ عَوْرَتَکَ إِلاَّ مِنْ زَوْجَتِکَ أَوْ مَا مَلَکَتْ یَمِینُکَ ۔ قَالَ قُلْتُ : أَفَرَأَیْتَ إِنْ کُنَّا بَعْضُنَا فِی بَعْضٍ قَالَ : إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لاَ یَرَاہَا أَحَدٌ فَلاَ یَرَیَنَّہَا ۔ قُلْتُ : أَرَأَیْتَ إِذَا کَانَ أَحَدُنَا خَالِیًا قَالَ : فَاللَّہُ أَحَقُّ أَنْ یُسْتَحْیَا مِنَ النَّاسِ ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৪৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت اپنے محرم رشتہ داروں کے سامنے زینت ظاہر کرسکتی ہے جن کا تذکرہ آیت کریمہ میں ہے
(١٣٥٣٩) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شرم گاہ کبھی بھی نہیں دیکھی۔
(۱۳۵۳۹) وَأَمَّا الْفَرْجُ فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ سُلَیْمَانَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ مَوْلاَۃٍ لِعَائِشَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : مَا رَأَیْتُ فَرْجَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَطُّ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৪৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت اپنے محرم رشتہ داروں کے سامنے زینت ظاہر کرسکتی ہے جن کا تذکرہ آیت کریمہ میں ہے
(١٣٥٤٠) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی بھی اپنی بیوی کی شرم گاہ نہ دیکھے اور نہ ہی اپنی لونڈی کی جب ان سے جماع کرے کیونکہ اندھے پن کا سبب ہے۔
(۱۳۵۴۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : لاَ یَنْظُرَنَّ أَحَدٌ مِنْکُمْ إِلَی فَرْجِ زَوْجَتِہِ وَلاَ فَرْجَ جَارِیَتِہِ إِذَا جَامَعَہَا فَإِنَّ ذَلِکَ یُورِثُ الْعَمَی ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ قَالَ یُشْبِہُ : أَنْ یَکُونَ بَیْنَ بَقِیَّۃَ وَبَیْنَ ابْنِ جُرَیْجٍ یَعْنِی فِی ہَذَا الْحَدِیثِ بَعْضُ الْمَجْہُولِینَ أَوْ بَعْضُ الضُّعَفَائِ إِلاَّ أَنَّ ہِشَامَ بْنَ خَالِدٍ قَالَ عَنْ بَقِیَّۃَ حَدَّثَنِی ابْنُ جُرَیْجٍ۔ [موضوع]
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ قَالَ یُشْبِہُ : أَنْ یَکُونَ بَیْنَ بَقِیَّۃَ وَبَیْنَ ابْنِ جُرَیْجٍ یَعْنِی فِی ہَذَا الْحَدِیثِ بَعْضُ الْمَجْہُولِینَ أَوْ بَعْضُ الضُّعَفَائِ إِلاَّ أَنَّ ہِشَامَ بْنَ خَالِدٍ قَالَ عَنْ بَقِیَّۃَ حَدَّثَنِی ابْنُ جُرَیْجٍ۔ [موضوع]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৪৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت اپنے محرم رشتہ داروں کے سامنے زینت ظاہر کرسکتی ہے جن کا تذکرہ آیت کریمہ میں ہے
(١٣٥٤١) ایضاً ۔
(۱۳۵۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃَ حَدَّثَنِی ابْنُ جُرَیْجٍ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ۔ [موضوع]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৪৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان عورت مسلمان عورتوں کے سوا کافر عورتوں کے لیے زینت ظاہر نہیں کرے گی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یا اپنی عورتوں سے
(١٣٥٤٢) عمر بن خطاب (رض) نے ابوعبیدہ بن جراح کی طرف خط لکھا : حمدوثنا کے بعد ! مجھے یہ بات معلوم ہوئی کہ مسلمان عورتیں حمام میں نہاتی ہیں اور ان کے ساتھ اہل کتاب کی عورتیں بھی ہوتی ہیں، ان کو اس سے منع کرو اور دوسری (مسلمان عورتیں) جائز قرار دو ۔
(۱۳۵۴۲) أَخْبَرَنَاأَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ الْغَازِ بْنِ رَبِیعَۃَ الْجُرَشِیُّ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَیٍّ الْکِنْدِیِّ قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّہُ بَلَغَنِی أَنَّ نِسَائً مِنْ نِسَائِ الْمُسْلِمِینَ یَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ وَمَعَہُنَّ نِسَائُ أَہْلِ الْکِتَابِ فَامْنَعْ ذَلِکَ وَحُلْ دُونَہُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৪৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان عورت مسلمان عورتوں کے سوا کافر عورتوں کے لیے زینت ظاہر نہیں کرے گی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یا اپنی عورتوں سے
(١٣٥٤٣) عمر بن خطاب (رض) نے ابوعبیدہ بن جراح کی طرف خط لکھا : حمدوثنا کے بعد ! مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ مسلمان عورتیں مشرک لوگوں کی بیویوں کے ساتھ حمامات میں نہاتی ہیں۔ ان کو اس سے منع کرو؛ کیونکہ کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہے جائز نہیں کہ وہ اس کی شرم گاہ دیکھے علاوہ اس عورت کے جو اس دین (ملت) سے ہو۔
(۱۳۵۴۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ الْغَازِ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَیٍّ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی أَبِی عُبَیْدَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّہُ بَلَغَنِی أَنَّ نِسَائً مِنْ نِسَائِ الْمُسْلِمِینَ یَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ مَعَ نِسَائِ أَہْلِ الشِّرْکِ فَانْہَ مَنْ قِبَلَکَ عَنْ ذَلِکَ فَإِنَّہُ لاَ یَحِلُّ لاِمْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ أَنْ یَنْظُرَ إِلَی عَوْرَتِہَا إِلاَّ أَہْلُ مِلَّتِہَا۔[صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৫০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان عورت مسلمان عورتوں کے سوا کافر عورتوں کے لیے زینت ظاہر نہیں کرے گی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یا اپنی عورتوں سے
(١٣٥٤٤) مجاہد کہتے ہیں کہ مسلمان عورت اپنی چادر کو مشرکہ عورت کے پاس نہ رکھے اور نہ اسے بوسہ دے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { أَوْ نِسَائِہِنَّ } اور یہ (کافر عورتیں) ان کی عورتیں نہیں۔
(۱۳۵۴۴) قَالَ وَحَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ لَیْثٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : لاَ تَضَعُ الْمُسْلِمَۃُ خِمَارَہَا عِنْدَ مُشْرِکَۃٍ وَلاَ تُقَبِّلُہَا لأَنَّ اللَّہَ تَعَالَی یَقُولُ { أَوْ نِسَائِہِنَّ } فَلَیْسَ مِنْ نِسَائِہِنَّ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৫১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کے سامنے زینت ظاہر کرنے کا حکم
قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُنَّ }
قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُنَّ }
(١٣٥٤٥) انس (رض) سے روایت کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فاطمہ کے پاس غلام لے کر آئے، جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاطمہ کو تحفے میں دیا اور فاطمہ (رض) پر کپڑا تھا۔ جب وہ اپنا سر ڈھانپتی تو پاؤں ننگے ہوجاتے اور جب پاؤں ڈھانپتی تو سر ننگا ہوجاتا، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا تو فرمایا : تجھ پر کوئی حرج نہیں کیونکہ ایک تیرا باپ ہے اور دوسرا تیرا غلام ہے۔
(۱۳۵۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو جُمَیْعٍ : سَالِمُ بْنُ دِینَارٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَتَی فَاطِمَۃَ بِعَبْدٍ قَدْ وَہَبَہُ لَہَا قَالَ وَعَلَی فَاطِمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا ثَوْبٌ إِذَا قَنَّعَتْ بِہِ رَأْسَہَا لَمْ یَبْلُغْ رِجْلَیْہَا وَإِذَا غَطَّتْ بِہِ رِجْلَیْہَا لَمْ یَبْلُغْ رَأْسَہَا فَلَمَّا رَأَی النَّبِیُّ -ﷺ- مَا تَلْقَی قَالَ : إِنَّہُ لَیْسَ عَلَیْکِ بَأْسٌ إِنَّمَا ہُوَ أَبُوکِ وَغُلاَمُکِ ۔ تَابَعَہُ سَلاَّمُ بْنُ أَبِی الصَّہْبَائِ عَنْ ثَابِتٍ۔ [حسن]
তাহকীক: