আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৬৬ টি

হাদীস নং: ১৩৫৫২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کے سامنے زینت ظاہر کرنے کا حکم

قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُنَّ }
(١٣٥٤٦) سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے اجازت طلب کی تو انھوں نے کہا : کون ہے ؟ میں نے کہا : سلیمان تو انھوں نے کہا : تیری مکاتبت کے کتنے روپے باقی ہیں، میں نے کہا : دس اوقیہ تو انھوں نے کہا : تو داخل ہوجا کیونکہ تو ابھی غلام ہے۔
(۱۳۵۴۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ : مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ الضَّرِیرُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَ : اسْتَأْذَنْتُ عَلَیْہَا فَقَالَتْ مَنْ ہَذَا؟ فَقُلْتُ سُلَیْمَانُ قَالَتْ : کَمْ بَقِیَ عَلَیْکَ مِنْ مُکَاتَبَتِکَ قَالَ قُلْتُ : عَشْرُ أَوَاقٍ قَالَتِ : ادْخُلْ فَإِنَّکَ عَبْدٌ مَا بَقِیَ عَلَیْکَ دِرْہَمٌ۔

(ت) وَرُوِّینَا عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّہُ قَالَ : إِنْ کَانَتْ أُمَّہَاتُ الْمُؤْمِنِینَ یَکُونُ لِبَعْضِہِنَّ الْمُکَاتَبُ فَتَکْشِفُ لَہُ الْحِجَابَ مَا بَقِیَ عَلَیْہِ دِرْہَمٌ فَإِذَا قَضَی أَرْخَتْہُ دُونَہُ وَکَانَ الْحَسَنُ وَالشَّعْبِیُّ وَطَاوُسٌ وَمُجَاہِدٌ یَکْرَہُونَ أَنْ یَنْظُرَ الْعَبْدُ إِلَی شَعَرِ سَیِّدَتِہِ وَکَأَنَّہُمْ عَدُّوا الشَّعَرَ مِنَ الزِّینَۃِ الَّتِی لاَ تُبْدِیہَا لِعَبْدِہَا کَمَا عَدَّہُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِیمَا رُوِّینَاہُ عَنْہُ مِنَ الزِّینَۃِ الَّتِی لاَ تُبْدِیہَا لِمَحَارِمِہَا وَرُوِّینَا عَنْ إِبْرَاہِیمَ الصَّائِغِ قَالَ قُلْتُ لِنَافِعٍ : یُخْرِجُہَا عَبْدُہَا قَالَ : لاَ لأَنَّہُمْ یَرَوْنَ الْعَبْدَ ضَیْعَۃً وَظَاہَرُ الْکِتَابِ أَوْلَی بِالاِتِّبَاعِ مَعَ مَا فِیہِ مِنَ السُّنَّۃِ۔[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৫৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نابالغ بچوں کے سامنے زینت ظاہر کرنے کا بیان قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { أَوِ التَّابِعِینَ غَیْرِ أُولِی الإِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ }
(١٣٥٤٧) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : اس آیت سے مراد وہ آدمی ہیں جو قوم کے پیچھے چلے اور وہ اپنی عقل سے غافل ہے جو عورت کی چاہت اور حاجت نہ رکھتا ہو۔
(۱۳۵۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ قَالَ : ہُوَ الرَّجُلُ یَتْبَعُ الْقَوْمَ وَہُوَ مُغَفَّلٌ فِی عَقْلِہِ لاَ یَکْتَرِثُ لِلنِّسَائِ وَلاَ یَشْتَہِیہِنَّ۔ [حسن لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৫৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نابالغ بچوں کے سامنے زینت ظاہر کرنے کا بیان قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { أَوِ التَّابِعِینَ غَیْرِ أُولِی الإِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ }
(١٣٥٤٨) شعبی سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : { غَیْرِ أُولِی الإِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ } [النور ] اس سے مراد وہ ہے جس کو عورت کی حاجت نہ ہو۔
(۱۳۵۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُغِیرَۃِ عَنِ الشَّعْبِیِّ فِی قَوْلِہِ { غَیْرِ أُولِی الإِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ } قَالَ: الَّذِی لَیْسَ لَہُ إِرْبٌ أَیْ حَاجَۃٌ فِی النِّسَائِ۔[حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৫৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نابالغ بچوں کے سامنے زینت ظاہر کرنے کا بیان قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { أَوِ التَّابِعِینَ غَیْرِ أُولِی الإِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ }
(١٣٥٤٩) مجاہد سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد : { أَوِ التَّابِعِینَ غَیْرِ أُولِی الإِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ } [النور ] سے مراد وہ ہے جو عورت کا ارادہ نہ رکھتا ہو اور نہ اس کا عورتوں پر ڈر ہو۔ طاؤس کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ احمق بندہ ہے جس کو عورت کی حاجت نہ ہو۔ حسن کہتے ہیں کہ جو بندہ پاگل ہو اور وہ عورت کو نہ چاہتا ہو اور نہ عورت اس کو چاہتی ہو۔
(۱۳۵۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی { أَوِ التَّابِعِینَ غَیْرِ أُولِی الإِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ } قَالَ : ہُوَ الَّذِی لاَ یُہِمُّہُ إِلاَّ بَطْنُہُ وَلاَ یَخَافُ عَلَی النِّسَائِ ۔

(ت) وَرُوِّینَا عَنْ طَاوُسٍ أَنَّہُ قَالَ : ہُوَ الأَحْمَقُ الَّذِی لَیْسَ لَہُ فِی النِّسَائِ إِرْبٌ أَیْ حَاجَۃٌ۔ وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : ہُوَ الَّذِی لاَ عَقْلَ لَہُ وَلاَ یَشْتَہِی النِّسَائَ وَلاَ تَشْتَہِیہِ النِّسَائُ ۔ [صحیح لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৫৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نابالغ بچوں کے سامنے زینت ظاہر کرنے کا بیان قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { أَوِ التَّابِعِینَ غَیْرِ أُولِی الإِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ }
(١٣٥٥٠) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں کے پاس آتا تھا، وہ مخنث تھا اور وہ اس کو غیر اولی الاربۃ میں شمار کرتے۔ یعنی نامرد۔ ایک دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داخل ہوئے اور وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعض بیویوں کے پاس بیٹھا تھا اور کسی عورت کی تعریف کررہا تھا کہ جب وہ آتی ہے تو چار کے ساتھ اور جب جاتی ہے تو آٹھ کے ساتھ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ صرف یہ معلوم کرتے ہیں کہ وہاں (فلاں گھر میں) کیا ہے، یہ تم پر نہ داخل ہوں تم ان سے پردہ کیا کرو۔
(۱۳۵۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ رَجُلٌ یَدْخُلُ عَلَی أَزْوَاجِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُخَنَّثٌ وَکَانُوا یَعُدُّونَہُ مِنْ غَیْرِ أُولِی الإِرْبَۃِ فَدَخَلَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَوْمًا وَہُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِہِ وَہُوَ یَنْعَتُ امْرَأَۃً فَقَالَ : إِنَّہَا إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَلاَ أَرَی ہَذَا یَعْلَمُ مَا ہَا ہُنَا لاَ یَدْخُلَنَّ عَلَیْکُنَّ ہَذَا ۔ فَحَجَبُوہُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ فَاسْتَدَلَّ النَّبِیُّ -ﷺ- بِمَا قَالَ الْمُخَنَّثُ عَلَی أَنَّہُ مِنْ أُولِی الإِرْبَۃِ فَحَجَبَہُ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۸۸۷۔ مسلم ۲۱۸۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৫৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان بچوں کے سامنے زینت کا اظہار کرنا جو ابھی عورتوں کی چاہت رکھتے ہی نہیں

قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { أَوِ الطِّفْلِ الَّذِینَ لَمْ یَظْہَرُوا عَلَی عَوْرَاتِ النِّسَائِ }
(١٣٥٥١) مجاہد سے روایت ہے کہ اس سے مراد وہ ہیں جو اپنی چھوٹی عمر کی وجہ سے یہ نہ جانتا ہو کہ عورت کیا چیز ہے۔
(۱۳۵۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : ہُمُ الَّذِینَ لاَ یَدْرُونَ مَا النِّسَائُ مِنَ الصِّغَرِ۔ [موضوع]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৫৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان بچوں کے سامنے زینت کا اظہار کرنا جو ابھی عورتوں کی چاہت رکھتے ہی نہیں

قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { أَوِ الطِّفْلِ الَّذِینَ لَمْ یَظْہَرُوا عَلَی عَوْرَاتِ النِّسَائِ }
(١٣٥٥٢) جابر (رض) سے روایت ہے کہ ام سلمہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سینگی لگانے کی اجازت طلب کی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو طیبہ کو حکم دیا کہ وہ ان کو سینگی لگائے۔ جابر (رض) فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے : ابو طیبہ یا تو آپ کے رضاعی بھائی تھے یا وہ بچے تھے جو ابھی بالغ نہیں ہوئے تھے۔
(۱۳۵۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَۃَ أَخْبَرَنَا اللَّیْثُ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ أُمَّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فِی الْحِجَامَۃِ فَأَمَرَ النَّبِیُّ -ﷺ- أَبَا طَیْبَۃَ أَنْ یَحْجُمَہَا۔ قَالَ حَسِبْتُ أَنَّہُ قَالَ : کَانَ أَخَاہَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ أَوْ غُلاَمًا لَمْ یَحْتَلِمْ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۲۰۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৫৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام اور بچے کا اجازت طلب کرنا تین اوقات میں اور جو بالغ ہو اس کا اجازت طلب کرنا تمام اوقات میں
(١٣٥٥٣) ابن عباس (رض) اللہ تعالیٰ کے ارشاد : { لِیَسْتَاْذِنْکُمْ الَّذِیْنَ مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ وَالَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوْا الْحُلُمَ مِنْکُمْ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ۔۔۔} [النور ] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کے ساتھ علیحدگی اختیار کرے، عشاء کی نماز کے بعد تو کوئی خادم کوئی بچہ بغیر اجازت کے داخل نہ ہو، یہاں تک کہ صبح کی نماز ہوجائے اور جب وہ علیحدہ ہو اپنی بیوی کے ساتھ ظہر کے وقت تو پھر بھی ایسے ہی ہے، پھر رخصت دے دی گئی اس کے درمیانی وقت میں بغیر اجازت کے اللہ کے اس فرمان کے تحت : { لَیْسَ عَلَیْکُمْ وَلاَ عَلَیْہِمْ جُنَاحٌ بَعْدَہُنَّ } [النور ] جو بالغ ہے وہ آدمی اور اس کی بیوی پر ان اوقات میں داخل نہ ہو بغیر اجازت کے کیونکہ اللہ کا فرمان ہے : { وَاِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْکُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا } [النور ]
(۱۳۵۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِہِ تَعَالَی { لِیَسْتَأْذِنْکُمُ الَّذِینَ مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ وَالَّذِینَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْکُمْ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ مِنْ قَبْلِ صَلاَۃِ الْفَجْرِ وَحِینَ تَضَعُونَ ثِیَابَکُمْ مِنَ الظَّہِیرَۃِ وَمِنْ بَعْدِ صَلاَۃِ الْعِشَائِ ثَلاَثُ عَوْرَاتٍ لَکُمْ } قَالَ : إِذَا خَلاَ الرَّجُلُ بِأَہْلِہِ بَعْدَ صَلاَۃِ الْعِشَائِ لاَ یَدْخُلُ عَلَیْہِ خَادِمٌ وَلاَ صَبِیٌّ إِلاَّ بِإِذْنٍ حَتَّی یُصَلِّیَ الْغَدَاۃَ وَإِذَا خَلاَ بِأَہْلِہِ عِنْدَ الظُّہْرِ فَمِثْلُ ذَلِکَ ثُمَّ رُخِّصَ لَہُمْ فِیمَا بَیْنَ ذَلِکَ بِغَیْرِ إِذْنٍ وَہُوَ قَوْلُہُ تَعَالَی { لَیْسَ عَلَیْکُمْ وَلاَ عَلَیْہِمْ جُنَاحٌ بَعْدَہُنَّ } فَأَمَّا مَنْ بَلَغَ الْحُلُمَ فَإِنَّہُ لاَ یَدْخُلُ عَلَی الرَّجُلِ وَأَہْلِہِ إِلاَّ بِإِذْنٍ عَلَی حَالٍ وَہُوَ قَوْلُہُ { وَإِذَا بَلَغَ الأَطْفَالُ مِنْکُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَأْذِنُوا کَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِہِمْ }۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৬০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام اور بچے کا اجازت طلب کرنا تین اوقات میں اور جو بالغ ہو اس کا اجازت طلب کرنا تمام اوقات میں
(١٣٥٥٤) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے کہا : میری پرورش میں میری دو بہنیں ہیں اور میں ان پر خرچ کرتا ہوں تو کیا میں بھی ان سے اجازت لوں ؟ (یعنی گھر داخل ہوتے وقت) انھوں نے ہاں میں جواب دیا، میں نے ان سے کہا : یہ تو میرے لیے مشقت کا باعث ہے، انھوں نے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْکُمْ۔۔۔} [النور ٥٩] ابن عباس (رض) نے کہا کہ ان تینوں اوقات میں اجازت طلب کرنے کا حکم ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی : { وَاِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ۔۔۔ } [النور ٥٩]
(۱۳۵۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ عَطَائٍ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ : فِی حَجْرِی أُخْتَانِ أَمُونُہُمَا وَأُنْفِقُ عَلَیْہِمَا فَأَسْتَأْذِنُ عَلَیْہِمَا قَالَ : نَعَمْ فَرَادَدْتُہُ قُلْتُ : إِنَّ ذَا یَشُقُّ عَلَیَّ قَالَ إِنَّ اللَّہَ تَعَالَی یَقُولُ { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لِیَسْتَأْذِنْکُمُ الَّذِینَ مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ وَالَّذِینَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْکُمْ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ مِنْ قَبْلِ صَلاَۃِ الْفَجْرِ وَحِینَ تَضَعُونَ ثِیَابَکُمْ مِنَ الظَّہِیرَۃِ وَمِنْ بَعْدِ صَلاَۃِ الْعِشَائِ ثَلاَثُ عَوْرَاتٍ لَکُمْ } إِلَی آخِرِ الآیَۃِ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَلَمْ یُؤْمَرْ ہَؤُلاَئِ بِالإِذْنِ إِلاَّ فِی ہَذِہِ الْعَوْرَاتِ الثَّلاَثِ قَالَ { وَإِذَا بَلَغَ الأَطْفَالُ مِنْکُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَأْذِنُوا کَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِہِمْ }۔ [الادب المفرد ۱۰۶۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৬১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام اور بچے کا اجازت طلب کرنا تین اوقات میں اور جو بالغ ہو اس کا اجازت طلب کرنا تمام اوقات میں
(١٣٥٥٥) سیدنا ابن عباس (رض) کہتے تھے کہ ایک ایسی آیت ہے جس پر اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے (یعنی عمل نہیں کرتے) وہ اجازت والی آیت ہے، اگر کوئی عورت جس کا کوئی نگہبان ہے، میں اس کو اس بات کا حکم دوں گا کہ وہ میرے پاس اجازت مانگ کر آئے۔
(۱۳۵۵۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی یَزِیدَ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَقُولُ : آیَۃٌ لَمْ یُؤْمِنْ بِہَا أَکْثَرُ النَّاسِ آیَۃُ الإِذْنِ وَإِنِّی آمُرُ ہَذِہِ جَارِیَۃً لَہُ قَصِیرَۃً قَائِمَۃً عَلَی رَأْسِہِ أَنْ تَسْتَأْذِنَ عَلَیَّ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৬২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام اور بچے کا اجازت طلب کرنا تین اوقات میں اور جو بالغ ہو اس کا اجازت طلب کرنا تمام اوقات میں
(١٣٥٥٦) ہذیل اعمیٰ کہتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود (رض) کو فرماتے ہوئے سنا : وہ اپنی ماؤں پر بھی اجازت کو لازم پکڑو۔
(۱۳۵۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الوَرَّاقُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا لَیْثٌ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ سَمِعْتُ ہُذَیْلَ الأَعْمَی یَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ یَقُولُ : عَلَیْکُمْ إِذْنٌ عَلَی أُمَّہَاتِکُمْ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৬৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام اور بچے کا اجازت طلب کرنا تین اوقات میں اور جو بالغ ہو اس کا اجازت طلب کرنا تمام اوقات میں
(١٣٥٥٧) حذیفہ (رض) سے سوال کیا گیا کہ آدمی اپنی والدہ پر بھی داخل ہونے سے پہلے اجازت لے ؟ تو انھوں نے کہا : جی ہاں۔ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو وہ ایسی چیز دیکھے گا جو وہ ناپسند کرتا ہے۔
(۱۳۵۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَیْرٍ : أَنَّ حُذَیْفَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سُئِلَ أَیَسْتَأْذِنُ الرَّجُلُ عَلَی وَالِدَتِہِ؟ قَالَ : نَعَمْ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ رَأَیْتَ مِنْہَا مَا تَکْرَہُ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৬৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام اور بچے کا اجازت طلب کرنا تین اوقات میں اور جو بالغ ہو اس کا اجازت طلب کرنا تمام اوقات میں
(١٣٥٥٨) عطاء بن یسار (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ میں اپنی ماں سے بھی اجازت لوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ! تو اس نے کہا کہ میں اس کے ساتھ رہتا ہوں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ پھر بھی اجازت لے۔ آدمی نے کہا کہ میں اس کی خدمت کرتا ہوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کیا تو یہ پسند کرتا ہے کہ تو اس کو ننگی دیکھے تو اس نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر اجازت لو۔
(۱۳۵۵۸) وَرُوِیَ فِیہِ حَدِیثٌ مُرْسَلٌ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مَالِکٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَیْمٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- سَأَلَہُ رَجُلٌ فَقَالَ : أَسْتَأْذِنُ یَا رَسُولَ اللَّہِ عَلَی أُمِّی؟ فَقَالَ : نَعَمْ ۔ فَقَالَ : إِنِّی مَعَہَا فِی الْبَیْتِ فَقَالَ: اسْتَأْذِنْ عَلَیْہَا۔ فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّی خَادِمُہَا فَقَالَ: أَتُحِّبُّ أَنْ تَرَاہَا عُرْیَانَۃً۔ قَالَ: لاَ قَالَ: فَاسْتَأْذَنْ عَلَیْہَا ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৬৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام اور بچے کا اجازت طلب کرنا تین اوقات میں اور جو بالغ ہو اس کا اجازت طلب کرنا تمام اوقات میں
(١٣٥٥٩) ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے قرآن مجید میں تین اوقات میں اجازت کے بارے میں پوچھا تو ابن عباس (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ پردہ پوش ہے اور پردہ کو پسند کرتا ہے۔ لوگوں کے دروازوں پر پردے نہیں تھے اور نہ ہی پردے ان کے گھروں میں تھے تو کبھی کبھی اچانک آدمی کا غلام یا بچہ یا وہ یتیم بچہ جو اس کی پرورش میں ہوتا، اچانک سامنے آجاتا جبکہ وہ اپنی بیوی کے پاس ہوتا تو اللہ پاک نے حکم دیا کہ وہ ان اوقات میں اجازت لے کر آئیں۔ جن کا اللہ پاک نے ذکر کیا ہے پھر ان کو اللہ پاک نے پردے بھی عطا کیے اور ان کے رزق میں کشادگی ہوگئی۔ انھوں نے پردے بھی بنا لیے تو لوگوں نے سمجھا کہ یہی اجازت کے لیے کافی ہے جس کا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا ہے۔
(۱۳۵۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِی عَمْرٍو عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَجُلَیْنِ سَأَلاَہُ عَنْ الاِسْتِئْذَانِ فِی الثَّلاَثِ عَوْرَاتٍ الَّتِی أَمَرَ اللَّہُ بِہَا فِی الْقُرْآنِ فَقَالَ لَہُمُ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّ اللَّہَ سِتِّیرٌ یُحِبُّ السَّتْرَ کَانَ النَّاسُ لَیْسَ لَہُمْ سُتُورٌ عَلَی أَبْوَابِہِمْ وَلاَ حِجَالٌ فِی بُیُوتِہِمْ فَرُبَّمَا فَاجَأَ الرَّجُلَ خَادِمُہُ أَوْ وَلَدُہُ أَوْ یَتِیمُہُ فِی حِجْرِہِ وَہُوَ عَلَی أَہْلِہِ فَأَمَرَہُمُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ یَسْتَأْذِنُوا فِی تِلْکَ الْعَوْرَاتِ الَّتِی سَمَّی اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ جَائَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ بَعْدُ بِالسُّتُورِ وَبَسَطَ عَلَیْہِمْ فِی الرِّزْقِ فَاتَّخَذُوا السُّتُورَ وَاتَّخَذُوا الْحِجَالَ فَرَأَی النَّاسُ أَنَّ تِلْکَ قَدْ کَفَاہُمْ مِنْ الاِسْتِئْذَانِ الَّذِی أَمَرَ بِہِ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ حَدِیثُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی یَزِیدَ وَعَطَائٍ یُضَعِّفُ ہَذِہِ الرِّوَایَۃَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔[حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৬৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت کیسے لی جائے
(١٣٥٦٠) ابو سعید خدری (رض) نے فرمایا : عبداللہ بن قیس نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو تین مرتبہ سلام کیا، لیکن انھوں نے اجازت نہ دی۔ پھر وہ لوٹ آئے۔ عمر نے ان کے پیچھے آدمی بھیجا۔ جب وہ آگئے تو تو انھوں نے پوچھا : تو نے یہ کام کیوں کیا ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا، جب تم میں کوئی سلام کرے اور جواب نہ ملے تو وہ لوٹ آئے تو حضرت عمر (رض) نے کہا : میرے پاس اس کی دلیل لے کر آؤ، ورنہ تیرے ساتھ میں ایسے ایسے کروں گا۔ ابو موسیٰ (رض) آئے تو ان کا رنگ تبدیل تھا، میں بھی اس حلقے میں موجود تھا ہم نے کہا : کیا بات ہے ؟ تو انھوں نے کہا : میں عمر بن خطاب (رض) کو سلام کیا ہے تو انھوں نے ایسے ایسے کہا ہے۔ کیا تم میں سے کسی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ حدیث سنی تھی تو انھوں نے کہا : جی ہاں تو انھوں نے اس گروہ میں ایک آدمی عبداللہ بن قیس کے ساتھ بھیجا، یہاں تک کہ وہ عمر (رض) کے پاس آیا اور ان کو اس حدیث کی خبر دی۔
(۱۳۵۶۰) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سَعِیدٍ الْجُرَیْرِیِّ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : سَلَّمَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ قَیْسٍ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ یُؤْذَنَ لَہُ فَرَجَعَ فَأَرْسَلَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی أَثَرِہِ فَقَالَ : لِمَ رَجَعْتَ؟ قَالَ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : إِذَا سَلَّمَ أَحَدُکُمْ ثَلاَثًا فَلَمَ یُجَبْ فَلْیَرْجِعْ ۔ فَقَالَ : لَتَأْتِیَنِّی عَلَی مَا تَقُولُ بِبَیِّنَۃٍ أَوْ لأَفْعَلَنَّ بِکَ کَذَا غَیْرَ أَنَّہُ قَدْ أَوْعَدَہُ قَالَ : فَجَائَ أَبُو مُوسَی مُنْتَقِعًا لَوْنُہُ وَأَنَا فِی حَلْقَۃٍ جَالِسٌ فَقُلْنَا : مَا شَأْنُکَ فَقَالَ : سَلَّمْتُ عَلَی عُمَرَ فَأَخْبَرَنَا خَبَرَہُ فَہَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْکُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالُوا : نَعَمْ کُلُّنَا قَدْ سَمِعَہُ قَالَ فَأَرْسَلُوا مَعَہُ رَجُلاً مِنْہُمْ حَتَّی أَتَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَخْبَرَہُ بِذَلِکَ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الْجُرَیْرِیِّ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۰۶۲۔ مسلم ۳۱۵۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৬৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرد اپنی محرمہ کے ساتھ خلوت اختیار کرسکتا ہے اور سفر پر بھی جاسکتا ہے
(١٣٥٦١) جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خبردار ! کوئی مرد عورت کے پاس رات نہ گزارے، سوائے اس کے جس سے نکاح ہو یا وہ محرم ہو۔
(۱۳۵۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ وَعَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ قَالاَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَلاَ لاَ یَبِیتَنَّ رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَۃٍ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ نَاکِحًا أَوْ ذَا مَحْرَمٍ ۔ زَادَ یَحْیَی بْنُ یَحْیَی فِی رِوَایَتِہِ ثَلاَثًا وَقَالَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَبِی خَیْثَمَۃَ وَقَالَ فِی رِوَایَۃِ یَحْیَی : عِنْدَ امْرَأَۃٍ ثَیِّبٍ لَمْ یَقُلْ ثَلاَثًا ہَکَذَا فِی نُسْخَتِی لِمُسْلِمٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۱۷۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৬৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرد اپنی محرمہ کے ساتھ خلوت اختیار کرسکتا ہے اور سفر پر بھی جاسکتا ہے
(١٣٥٦٢) ابو سعید خدری (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی عورت اکیلی تین دن سے زائد سفر نہ کرے مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا باپ ہو یا بیٹا ہو یا بھائی ہو یا خاوند ہو یا کوئی اور محرم ہو۔
(۱۳۵۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : زَیْدُ بْنُ أَبِی ہَاشِمٍ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَأَخْبَرَنَا وَکِیعٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ تُسَافِرُ امْرَأَۃٌ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ فَصَاعِدًا إِلاَّ مَعَ أَبِیہَا أَوِ ابْنِہَا أَوْ أَخِیہَا أَوْ زَوْجِہَا أَوْ ذِی مَحْرَمٍ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ وَغَیْرِہِ عَنْ وَکِیعٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۸۲۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৬৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے آدمی کی اور عورت کے عورت کی شرم گاہ کی طرف دیکھنے یا ان میں سے کوئی دوسرے کے ساتھ لیٹنے کا بیان
(١٣٥٦٣) عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع کیا ہے کہ کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ ایک ہی کپڑے میں لیٹے پھر اپنے خاوند کو اس کے اوصاف بیان کرے۔ گویا کہ وہ مرد اس عورت کو دیکھ رہا ہے اور منع کیا ہے کہ جب ہم تین ہوں تو سرگوشی نہ کریں دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر کیونکہ یہ بات اس کو غم میں ڈال دیتی ہے حتیٰ کہ لوگوں کے ساتھ مل جائے۔
(۱۳۵۶۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَائِ بْنِ السِّنْدِیِّ حَدَّثَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِیِّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ تُبَاشِرَ الْمَرْأَۃُ الْمَرْأَۃَ فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ أَجْلَ أَنْ تَصِفَہَا لِزَوْجِہَا حَتَّی کَأَنَّہُ یَنْظُرُ إِلَیْہَا وَنَہَانَا إِذَا کُنَّا ثَلاَثًا أَنْ یَنْتَجِیَ اثْنَانُ دُونَ وَاحِدٍ أَجْلَ أَنْ یُحْزِنَہُ حَتَّی یَخْتَلِطَ بِالنَّاسِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَنَّادِ بْنِ السَّرِیِّ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنْ مَنْصُورٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۲۴۰۔ مسلم ۲۱۸۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৭০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے آدمی کی اور عورت کے عورت کی شرم گاہ کی طرف دیکھنے یا ان میں سے کوئی دوسرے کے ساتھ لیٹنے کا بیان
(١٣٥٦٤) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی آدمی کسی آدمی کی شرم گاہ کی طرف نہ دیکھے اور نہ عورت عورت کی شرم گاہ کی طرف دیکھے اور نہ آدمی آدمی کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے اور نہ عورت عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے۔
(۱۳۵۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی فُدَیْکٍ قَالَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ یَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَی عُرْیَۃِ الرَّجُلِ وَلاَ تَنْظُرُ الْمَرْأَۃُ إِلَی عُرْیَۃِ الْمَرْأَۃِ وَلاَ یُفْضِی الرَّجُلُ إِلَی الرَّجُلِ فِی الثَّوْبِ وَلاَ تُفْضِی الْمَرْأَۃُ إِلَی الْمَرْأَۃِ فِی الثَّوْبِ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ مسلم ۳۳۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৭১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے آدمی کی اور عورت کے عورت کی شرم گاہ کی طرف دیکھنے یا ان میں سے کوئی دوسرے کے ساتھ لیٹنے کا بیان
(١٣٥٦٥) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آدمی آدمی کے ساتھ نہ لیٹے اور نہ عورت عورت کے ساتھ لیٹے۔ علاوہ اولاد کے یا والد کے۔
(۱۳۵۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنِ الْجُرَیْرِیِّ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الطُّفَاوَۃِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: لاَ یُفْضِیَنَّ رَجُلٌ إِلَی رَجُلٍ وَلاَ امْرَأَۃٌ إِلَی امْرَأَۃٍ إِلاَّ وَلَدٌ أَوْ وَالِدٌ۔ قَالَ فَذَکَرَ الثَّالِثَۃَ فَنَسِیتُہَا۔[ضعیف]
tahqiq

তাহকীক: