আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৬৬ টি

হাদীস নং: ১৩৬৫২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا
(١٣٦٤٦) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا : ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، جس نے ولی کے بغیر نکاح کیا یا کروایا تو اس کا نکاح باطل ہے۔

سیدنا علی (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے ماموں اور ماں کے (ولی بن کر) نکاح کروانے کو جائز قرار دیا ہے۔
(۱۳۶۴۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی حَکِیمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ جُوَیْبِرٍ عَنِ الضَّحَّاکِ عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لاَ نِکَاحَ إِلاَّ بِإِذْنِ وَلِیٍّ فَمَنْ نَکَحَ أَوْ أُنْکِحَ بِغَیْرِ إِذْنٍ وَلِیٍّ فَنِکَاحُہُ بَاطِلٌ۔

وَرُوِّینَا عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ أَجَازَ إِنْکَاحَ الْخَالِ أَوِ الأُمِّ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৫৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا
(١٣٦٤٧) سیدنا علی (رض) نے ماموں کا نکاح کروانے کو جائز قرار دیا ہے۔
(۱۳۶۴۷) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْقَاسِمِ : زَیْدُ بْنُ أَبِی ہَاشِمٍ الْعَلَوِیُّ وَأَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ مَخْلَدِ بْنِ النَّجَّارِ بِالْکُوفَۃِ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی قَیْسٍ عَنْ ہُزَیْلٍ : أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَجَازَ نِکَاحَ الْخَالِ۔ ہَکَذَا قَالَ الْخَالِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৫৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا
(١٣٦٤٨) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے اس عورت کے نکاح کو جائز قرار دیا جس کی والدہ نے اس کا نکاح اس کی رضا مندی سے کیا تھا۔
(۱۳۶۴۸) وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِی قَیْسٍ الأَوْدِیِّ عَمَّنْ أَخْبَرَہُ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ أَجَازَ نِکَاحَ امْرَأَۃٍ زَوَّجَتْہَا أُمُّہَا بِرِضًا مِنْہَا أَخْبَرَنَاہُ أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْزَۃَ الْہَرَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّیْبَانِیُّ عَنْ أَبِی قَیْسٍ الأَوْدِیُّ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৫৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا
(١٣٦٤٩) ابو قیس اودی سے روایت ہے کہ ایک عورت جس کا نام سلمہ تھا اس کا نکاح اس کی ماں نے کیا تو یہ معاملہ سیدنا علی (رض) کے سامنے پیش ہوا تو انھوں نے کہا : کیا اس کے پاس اس کا خاوند نہیں گیا ؟ انھوں نے کہا : جی چلا گیا تو انھوں نے نکاح کو جائز قرار دیا۔

(ب) بحریہ بنت ہانی بن قبیصہ سے روایت ہے کہ انھوں نے قعقاع بن شور سے خود نکاح کیا اور اپنے خاوند کے پاس رات گزاری، ان کے باپ نے سیدنا علی (رض) کے سامنے معاملہ پیش کیا تو انھوں نے پوچھا : کیا ان کا خاوند ان کے پاس گیا ہے تو انھوں نے کہا : جی ہاں، تو سیدنا علی (رض) نے اس کے نکاح کو جائز قرار دیا۔ یہ اثر مختلف اسناد اور متون سے وارد ہے اور اس کا انحصار قیس بن اودی پر ہے اس کے عادل ہونے میں اختلاف ہے اور بحریہ مجہولہ ہے۔ دخول کی شرط تب نکاح کے صحیح ہونے کی باعث بنتی اگر یہ موقوف حدیث ثابت ہوتی۔ دخول حرام کو حلال نہیں بنا سکتا، پہلی حدیث جو سیدنا علی (رض) سے ہے جس میں ولی کی شرط ہے صحیح ہے وہی قابل اعتماد ہے۔
(۱۳۶۴۹) وَقَدْ قِیلَ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ أَبِی قَیْسٍ الأَوْدِیِّ : أَنَّ امْرَأَۃً مِنْ عَائِذِ اللَّہِ یُقَالُ لَہَا سَلَمَۃُ زَوَّجَتْہَا أُمُّہَا وَأَہْلُہَا فَرُفِعَ ذَلِکَ إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : أَلَیْسَ قَدْ دُخِلَ بِہَا فَالنِّکَاحُ جَائِزٌ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ حَمْزَۃَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا الشَّیْبَانِیُّ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف]

وَرَوَاہُ أَبُو عَوَانَۃَ وَابْنُ إِدْرِیسَ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ بَحْرِیۃَ بِنْتِ ہَانِئِ بْنِ قَبِیصَۃَ : أَنَّہَا زَوَّجَتْ نَفْسَہَا مِنَ الْقَعْقَاعِ بْنِ شَوْرٍ وَبَاتَ عِنْدَہَا لَیْلَۃً وَجَائَ أَبُوہَا فَاسْتَعْدَی عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : أَدْخَلْتَ بِہَا؟ قَالَ: نَعَمْ فَأَجَازَ النِّکَاحَ۔ فَہَذَا أَثَرٌ مُخْتَلَفٌ فِی إِسْنَادِہِ وَمَتْنِہِ وَمَدَارُہُ عَلَی أَبِی قَیْسٍ الأَوْدِیِّ وَہُوَ مُخْتَلَفٌ فِی عَدَالَتِہِ وَبَحْرِیۃُ مَجْہُولَۃٌ۔ وَاشْتِرَاطُ الدُّخُولِ فِی تَصْحِیحِ النِّکَاحِ إِنْ کَانَ ثَابِتًا وَالدُّخُولُ لاَ یُبِیحُ الْحَرَامَ وَالإِسْنَادُ الأَوَّلُ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی اشْتِرَاطِ الْوَلِیِّ إِسْنَادٌ صَحِیحٌ فَالاِعْتِمَادُ عَلَیْہِ وَبِاللَّہِ التوفیقُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৫৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا
(١٣٦٥٠) سیدنا ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ سمجھ دار ولی اور دو عادل گواہوں کی غیر موجودگی میں نکاح نہیں۔
(۱۳۶۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ خُثَیْمٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لاَ نِکَاحَ إِلاَّ بِوَلِیٍّ مُرْشِدٍ وَشَاہِدَیْ عَدْلٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৫৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا
(١٣٦٥١) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ وہ (صحابہ کرام (رض) ) فرماتے تھے کہ وہ عورت جو اپنا نکاح خود کرتی ہے وہ زانیہ ہے۔
(۱۳۶۵۱) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا تَمْتَامٌ حَدَّثَنَا شُجَاعٌ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ہُوَ ابْنُ الْعَوَّامِ عَنْ ہِشَامٍ وَہُوَ ابْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانُوا یَقُولُونَ إِنَّ الْمَرْأَۃَ الَّتِی تُزَوِّجُ نَفْسَہَا ہِیَ الزَّانِیَۃُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৫৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا
(١٣٦٥٢) قاسم کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) کے پاس ان کے خاندان کی عورتوں کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا جاتا تو وہ اس پر گواہ بنتی، جب عقد نکاح کی باری آتی تو اپنے خاندان والوں سے کہتی تم نکاح کرو؛ کیونکہ عورت عقد نکاح منعقد نہیں کرسکتی۔

شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ اثر ” لا نکاح الا بولی “ پر دال ہے۔
(۱۳۶۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا الثِّقَۃُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَانَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تُخْطَبُ إِلَیْہَا الْمَرْأَۃُ مِنْ أَہْلِہَا فَتَشْہَدُ فَإِذَا بَقِیَتْ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ قَالَتْ لِبَعْضِ أَہْلِہَا : زَوِّجْ فَإِنَّ الْمَرْأَۃَ لاَ تَلِی عُقْدَۃَ النِّکَاحِ۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَہَذَا الأَثَرُ یَدُلُّ عَلَی أَنَّ الَّذِی۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৫৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا
(١٣٦٥٣) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ انھوں نے حفصہ بنت عبدالرحمن کی شادی منذر بن زبیر سے کی اور عبدالرحمن شام میں موجود نہیں تھے، جب عبدالرحمن تشریف لائے تو کہا : اس طرح کیا جاتا ہے۔ وہ جو ان ہیں تو سیدہ عائشہ (رض) نے منذر بن زبیر کو جواب دیا، منذر نے کہا : یہ معاملہ تو عبدالرحمن کے سپرد ہے، عبدالرحمن نے کہا : آپ نے جو فیصلہ کردیا میں اس کو رد نہیں کروں گا۔ تو حفصہ منذر کے پاس رہیں اور یہ طلاق نہیں تھی، اس سے مراد یہ ہے کہ سیدہ عائشہ (رض) نے نکاح کے لیے راہنمائی کی۔ پھر عقد نکاح کسی اور نے منعقد کروایا تو تزویج کی نسبت ان کی طرف اس اجازت اور راہنمائی کی وجہ ہے۔ واللہ اعلم
(۱۳۶۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوَشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہَا زَوَّجَتْ حَفْصَۃَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنَ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَیْرِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ غَائِبٌ بِالشَّامِ فَلَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ : مِثْلِی یُصْنَعُ ہَذَا بِہِ وَیُفَتَاتُ عَلَیْہِ فَکَلَّمَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا الْمُنْذِرَ بْنَ الزُّبَیْرِ فَقَالَ الْمُنْذِرُ : فَإِنَّ ذَلِکَ بَیْدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: مَا کُنْتُ لأَرُدَّ أَمْرًا قَضَیْتِہِ فَقَرَّتْ حَفْصَۃُ عِنْدَ الْمُنْذِرِ وَلَمْ یَکُنْ ذَلِکَ طَلاَقًا إِنَّمَا أُرِیدُ بِہِ أَنَّہَا مَہَّدَتْ تَزْوِیجَہَا ثُمَّ تَوَلَّی عَقْدَ النِّکَاحِ غَیْرُہَا فَأُضِیفَ التَّزْوِیجُ إِلَیْہَا لإِذْنِہَا فِی ذَلِکَ وَتَمْہِیدِہَا أَسْبَابَہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ مالک ۱۱۸۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৬০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا
(١٣٦٥٤) ابوالزناد سے روایت ہے کہ اہل مدینہ کے فقہا کہا کرتے تھے کہ عورت اپنا اور نہ کسی دوسری عورت کا عقد نکاح منعقد کرسکتی ہے۔
(۱۳۶۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ الرَّفَّائُ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ وَعِیسَی بْنُ مِینَائَ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ الَّذِینَ یُنْتَہَی إِلَی قَوْلِہِمْ مِنْ تَابِعِی أَہْلِ الْمَدِینَۃِ کَانُوا یَقُولُونَ: لاَ تَعْقِدُ امْرَأَۃٌ عُقْدَۃَ النِّکَاحِ فِی نَفْسِہَا وَلاَ فِی غَیْرِہَا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৬১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وصی کو ولایت نکاح کا حق نہیں ہے
(١٣٦٥٥) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہ کرے۔ اگر اس نے نکاح کرلیا تو وہ باطل ہوگا، باطل ہوگا باطل ہوگا۔ اگر اس نے دخول کرلیا تو عورت کے لیے حق مہر ہوگا اس سے جماع کرنے کی وجہ سے۔ اگر ولی آپس میں اختلاف کریں تو سلطان ولی ہوگا، جس کا کوئی ولی نہ ہوگا۔
(۱۳۶۵۵) اسْتِدْلاَلاً بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ إِلاَّ بِإِذْنِ وَلِیِّہَا فَإِنْ نُکِحَتْ فَہُوَ بَاطِلٌ فَہُوَ بَاطِلٌ فَہُوَ بَاطِلٌ فَإِنْ دَخَلَ بِہَا فَلَہَا الْمَہْرُ بِمَا أَصَابَ مِنْہَا فَإِنْ تَشَاجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِیُّ مَنْ لاَ وَلِیَّ لَہُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৬২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وصی کو ولایت نکاح کا حق نہیں ہے
(١٣٦٥٦) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ جب سیدنا عثمان بن مظعون فوت ہوگئے تو خویلہ بنت حکم بن امیہ بن حارثہ بن اوص بیٹی چھوڑی اور اپنے بھائی قدامہ بن مظعون کو وصیت کی۔ عبداللہ کہتے ہیں : وہ دونوں میرے ماموں ہیں، انھوں نے کہا کہ میں نے قدامہ بن مظعون کی طرف عثمان بن مظعون کی بیٹی کے ساتھ منگنی کا پیغام بھیجا تو انھوں نے میری اس کے ساتھ شادی کردی تو مغیرہ بن شعبہ اس لڑکی کی ماں کے پاس گئے تو انھیں اپنی طرف قائل کیا (یعنی اس لڑکی کی شادی ان سے کر دے) تو لڑکی ماں کی محبت اور خواہش کی طرف قائل ہوگئی تو ان دونوں (لڑکی اور ماں) نے (مجھ سے) انکار کردیا یہاں تک معاملہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچ گیا۔ راوی کہتا ہے کہ قدامہ بن مظعون کہتے ہیں کہ میری بھتیجی کے متعلق میرے چچا نے وصیت کی تو میں نے اس کی شادی عبداللہ بن عمر (رض) سے کردی تو میں نے اس کی اصلاح اور تربیت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ لیکن عورت (یعنی اس لڑکی کی ماں) اور یہ لڑکی اپنی ماں کی خواہش کی طرف مائل ہوگئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ یتیم بچی ہے اس کا نکاح اس کی اجازت سے کیا جائے۔ راوی کہتے ہیں کہ اس لڑکی کو ان سے جدا کردیا گیا، جبکہ میں اس کا مالک بن چکا تھا اور انھوں نے اس کی شادی مغیرہ بن شعبہ سے کردی۔
(۱۳۶۵۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبِی عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عُمَرُ بْنُ حُسَیْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ مَوْلَی آلِ حَاطِبٍ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : تُوُفِّیَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَتَرَکَ ابْنَۃً لَہُ مِنْ خُوَیْلَۃَ بِنْتِ حَکِیمِ بْنِ أُمَیَّۃَ بْنِ حَارِثَۃَ بْنِ الأَوْقَصِ قَالَ وَأَوْصَی إِلَی أَخِیہِ قُدَامَۃَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ فَہُمَا خَالاَیَ قَالَ فَخَطَبْتُ إِلَی قُدَامَۃَ بْنِ مَظْعُونٍ ابْنَۃَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَزَوَّجَنِیہَا فَدَخَلَ الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی أُمِّہَا فَأَرْغَبَہَا فِی الْمَالِ فَحَطَّتْ إِلَیْہِ وَحَطَّتِ الْجَارِیَۃُ إِلَی ہَوَی أُمِّہَا فَأَبَتَا حَتَّی ارْتَفَعَ أَمْرُہُمَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ فَقَالَ قُدَامَۃُ بْنُ مَظْعُونٍ : ابْنَۃُ أَخِی أَوْصَی بِہَا إِلَیَّ فَزَوَّجْتُہَا مِنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ فَلَمْ أُقَصِّرْ بِہَا فِی الصَّلاَحِ وَلاَ فِی الْکَفَائَ ۃِ وَلَکِنَّہَا امْرَأَۃٌ وَإِنَّہَا حَطَّتْ إِلَی ہَوَی أُمِّہَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہِیَ یَتِیمَۃٌ وَلاَ تُنْکَحُ إِلاَّ بِإِذْنِہَا ۔ قَالَ فَانْتُزِعَتْ وَاللَّہِ مِنِّی بَعْدَ مَا مَلَکُتُہَا وَزَوَّجُوہَا الْمُغِیرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৬৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین کے کنواری بچیوں کا نکاح کروانے کا بیان
(١٣٦٥٧) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میرے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نکاح فرمایا تو میں سات سال کی تھی اور جب رخصتی ہوئی تو میں نو سال کی تھی۔
(۱۳۶۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : تَزَوَّجَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لَسْتِّ سِنِینَ وَبَنَی بِی وَأَنَا ابْنَۃُ تِسْعِ سِنِینَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۴۲۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৬৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین کے کنواری بچیوں کا نکاح کروانے کا بیان
(١٣٦٥٨) ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ (رض) سے شادی حضرت خدیجہ کی وفات کے تین سال بعد کی اور عائشہ (رض) کی عمر سات سال تھی اور جب رخصتی ہوئی تو عمر نو سال تھی اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوئے تو حضرت عائشہ (رض) کی عمر اٹھارہ سال تھی۔
(۱۳۶۵۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا بَعْدَ مَوْتِ خَدِیجَۃَ بِثَلاَثِ سِنِینَ وَعَائِشَۃُ یَوْمَئِذٍ ابْنَۃُ سِتِّ سِنِینَ وَبَنَی بِہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَہِیَ ابْنَۃُ تِسْعِ سِنِینَ وَمَاتَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَعَائِشَۃُ ابْنَۃُ ثَمَانِ عَشْرَۃَ سَنَۃَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ مُرْسَلاً وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ مَوْصُولاً۔ وَقَدْ وَصَلَہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ وَسُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ وَعَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ وَعَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ وَغَیْرُہُمْ وَقَدْ أَخْرَجَاہُ مَوْصُولاً مِنْ أَوْجُہٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৬৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین کے کنواری بچیوں کا نکاح کروانے کا بیان
(١٣٦٥٩) ایضاً
(۱۳۶۵۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنِی أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ حَجَّاجٍ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : تَزَوَّجَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَہِیَ ابْنَۃُ سِتٍّ وَبَنَی بِہَا وَہِیَ ابْنَۃُ تِسْعٍ وَمَاتَ عَنْہَا وَہِیَ ابْنَۃُ ثَمَانِ عَشْرَۃَ سَنَۃً۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَقَدْ زَوَّجَ عَلِیٌّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أُمَّ کُلْثُومٍ بِغَیْرِ أَمْرِہَا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৬৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین کے کنواری بچیوں کا نکاح کروانے کا بیان
(١٣٦٦٠) عمر بن خطاب (رض) نے حضرت علی (رض) کی طرف شادی کا پیغام بھیجا کہ ام کلثوم کی شادی کر دو تو علی (رض) نے کہا : وہ ابھی چھوٹی ہے تو عمر (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت والے دن تمام سبب اور نسب ختم ہوجائیں گے میرے نسب اور سبب کے علاوہ اور میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرا نسب اور سبب بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہوجائے تو سیدنا علی (رض) نے حسن اور حسین (رض) سے کہا : ان شادی کر دو تو دونوں نے کہا : وہ ایسی عورت ہیں کہ انھیں ان کے نفس کا اختیار دیا جائے گا تو حضرت علی (رض) غصے کی حالت میں کھڑے ہوئے۔ سیدنا حسن (رض) نے انھیں کپڑے سے روکا اور کہا : اے ابا جان ! آپ کی جدائی پر صبر محال ہے۔ راوی کہتا ہے کہ اس کی شادی کردی گئی۔
(۱۳۶۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ وَکِیعِ بْنِ الْجَرَّاحِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی مُلَیْکَۃَ أَخْبَرَنِی حَسَنُ بْنُ حَسَنٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أُمَّ کُلْثُومٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ إِنَّہَا تَصْغُرُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : کُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِلاَّ سَبَبِی وَنَسَبِی فَأَحْبَبْتُ أَنْ یَکُونَ لِی مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- سَبَبٌ وَنَسَبٌ ۔ فَقَالَ عَلِیٌّ لَحَسَنٍ وَحُسَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : زَوِّجَا عَمَّکُمَا۔ فَقَالاَ : ہِیَ امْرَأَۃٌ مِنَ النِّسَائِ تَخْتَارُ لِنَفْسِہَا۔ فَقَامَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُغْضَبًا فَأَمْسَکَ الْحَسَنُ بِثَوْبِہِ وَقَالَ : لاَ صَبْرَ عَلَی ہِجْرَانِکَ یَا أَبَتَاہُ قَالَ فَزَوَّجَاہُ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَزَوَّجَ الزُّبَیْرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ابْنَتَہُ صَبِیَّۃً وَزَوَّجَ غَیْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- ابْنَتَہُ صَغِیرَۃً قَالَ وَلَوْ کَانَ النِّکَاحُ لاَ یَجُوزُ عَلَی الْبِکْرِ إِلاَّ بِأَمْرِہَا لَمْ یَجُزْ أَنْ یُزَوِّجَ حَتَّی یَکُونَ لَہَا أَمْرٌ فِی نَفْسِہَا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৬৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین کے کنواری بچیوں کا نکاح کروانے کا بیان
(١٣٦٦١) عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شادی شدہ عورت اپنے نفس کی زیادہ حق دار ہے اپنے ولی کی نسبت اور کنواری عورت سے اجازت لی جائے اور اس کی اجازت اس کا خاموش ہونا ہے۔
(۱۳۶۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : الأَیِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِہَا مِنْ وَلِیِّہَا وَالْبِکْرُ تُسْتَأْذَنُ فِی نَفْسِہَا وَإِذْنُہَا صُمَاتُہَا۔

[صحیح۔ مسلم ۱۴۲۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৬৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین کے کنواری بچیوں کا نکاح کروانے کا بیان
(١٣٦٦٢) ایضاً ۔
(۱۳۶۶۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قُلْتُ لِمَالِکٍ حَدَّثَکَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْفَضْلِ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِ حَدِیثِ ابْنِ وَہْبٍ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৬৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین کے کنواری بچیوں کا نکاح کروانے کا بیان
(١٣٦٦٣) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شادی شدہ عورت اپنے ولی کی نسبت اپنے نفس کی زیادہ حق دار ہے اور کنواری عورت سے اس کا باپ اجازت لے گا اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے اور کبھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمایا کہ اس کی خاموشی اس کا اقرار ہے۔
(۱۳۶۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ زِیَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ -ﷺ- : الثَّیِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِہَا مِنْ وَلِیِّہَا وَالْبِکْرُ یَسْتَأْذِنُہَا أَبُوہَا فِی نَفْسِہَا وَإِذْنُہَا صُمَاتُہَا وَرُبَّمَا قَالَ وَصُمَاتُہَا إِقْرَارُہَا ۔

لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ وَفِی رِوَایَۃِ أَحْمَدَ : الثَّیِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِہَا مِنْ وَلِیِّہَا وَالْبِکْرُ یَسْتَأْمِرُہَا أَبُوہَا ۔

قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَحِمَہُ اللَّہُ أَبُوہَا لَیْسَ بِمَحْفُوظٍ

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ وَذَکَرَ ہَذِہِ الزِّیَادَۃَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : قَدْ زَادَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ فِی حَدِیثِہِ : وَالْبِکْرُ یُزَوِّجَہَا أَبُوہَا ۔ فَہَذَا یُبَیِّنُ أَنَّ الأَمْرَ لِلأَبِ فِی الْبِکْرِ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَالْمُؤَامَرَۃُ قَدْ تَکُونُ عَلَی اسْتِطَابَۃِ النَّفْسِ لأَنَّہُ یُرْوَی أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : وَآمِرُوا النِّسَائَ فِی بَنَاتِہِنَّ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৭০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین کے کنواری بچیوں کا نکاح کروانے کا بیان
(١٣٦٦٤) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی عورتوں کو حکم دو کہ اپنی بیٹوں سے مشورہ کریں۔
(۱۳۶۶۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ قَالَ حَدَّثَنِی الثِّقَۃُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : وَآمِرُوا النِّسَائَ فِی بَنَاتِہِنَّ ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৭১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین کے کنواری بچیوں کا نکاح کروانے کا بیان
(١٣٦٦٥) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) نے منگنی کا پیغام نعیم بن عبداللہ کی طرف بھیجا اور اسے نحام کہا جاتا تھا اور وہ بنی عدی کا ایک فرد تھا۔ اس کی ایک کنواری بیٹی تھی تو نعیم نے اس سے کہا : میری زیر پرورش ایک یتیم لڑکا ہے اور میرے بعد اس کا کوئی وارث بھی نہیں۔ نعیم کی بیوی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئیں اور کہا : ابن عمر نے میرے بیٹی کے ساتھ نکاح کا پیغام بھیجا تو نعیم نے اس کا انکار کردیا اور وہ اس کا نکاح اپنے زیر پرورش یتیم لڑکے سے کرنا چاہتا ہے۔ اس عورت نے تمام واقعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتلایا اور اس کو نعیم کی طرف بھیجا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی بیوی کی رضا اور اپنی بیٹی کی رضا دیکھو۔
(۱۳۶۶۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا خَطَبَ إِلَی نُعَیْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَکَانَ یُقَالُ لَہُ النَّحَّامُ أَحَدُ بَنِی عَدِیٍّ ابْنَتَہُ وَہِیَ بِکْرٌ فَقَالَ لَہُ نُعَیْمٌ : إِنَّ فِی حَجْرِی یَتِیمًا لِی لَسْتُ مُؤْثِرًا عَلَیْہِ أَحَدًا فَانْطَلَقَتْ أُمُّ الْجَارِیَۃِ امْرَأَۃُ نُعَیْمٍ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَتْ : ابْنُ عُمَرَ خَطَبَ ابْنَتِی وَإِنَّ نُعَیمًا رَدَّہُ وَأَرَادَ أَنْ یُنْکِحَہَا یَتِیمًا لَہُ فَأَخْبَرَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَأَرْسَلَ إِلَی نُعَیْمٍ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَرْضِہَا وَأَرْضِ ابْنَتَہَا ۔

وَقَدْ رُوِّینَاہُ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا مَوْصُولاً۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَلَمْ یَخْتَلِفِ النَّاسُ أَنْ لَیْسَ لأُمِّہَا فِیہَا أَمْرٌ وَلَکِنْ عَلَی مَعْنَی اسْتِطَابَۃِ النَّفْسِ۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَقَدْ رَوَاہُ صَالِحُ بْنُ کَیْسَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْفَضْلِ بِإِسْنَادِہِ فَقَالَ : وَالْیَتِیمَۃُ تُسْتَأْمَرُ ۔ وَکَذَلِکَ قَالَہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَأَبُو بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ فَیَکُونُ الْمُرَادُ بِالْبِکْرِ الْمَذْکُورَۃِ فِی الْخَبَرِ الْبِکْرُ الْیَتِیمَۃُ وَزِیَادَۃُ ابْنِ عُیَیْنَۃَ غَیْرُ مَحْفُوظَۃٍ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَدْ کَانَ ابْنُ عُمَرَ وَالْقَاسِمُ وَسَالِمٌ یُزَوِّجُونَ الأَبْکَارَ وَلاَ یَسْتَأْمُرُونَہُنَّ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক: