আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৬৬ টি

হাদীস নং: ১৩৬৯২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شادی شدہ کے نکاح کا حکم
(١٣٦٨٦) خنساء بنت خذام (رض) کے باپ نے اس کی شادی اس سے کردی جس کو وہ ناپسند کرتی تھی، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہا : میرے باپ نے میری ایسی جگہ پر شادی کی ہے جس کو میں ناپسند کرتی ہوں، حالانکہ میں اپنے نفس کی خود مالک ہوں اور مجھے پتہ بھی نہیں چلا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو جہاں چاہتی ہے وہاں نکاح کرلے تو اس نے ابولبابہ بن عبدالمنذر سے شادی کرلی۔
(۱۳۶۸۶) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی الْحُوَیْرِثِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : آمَتْ خَنْسَائُ بِنْتُ خِذَامٍ فَزَوَّجَہَا أَبُوہَا وَہِیَ کَارِہَۃٌ فَأَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَتْ : زَوَّجَنِی أَبِی وَأَنَا کَارِہَۃٌ وَقَدْ مَلَکْتُ أَمْرِی وَلَمْ یُشْعِرْنِی۔ فَقَالَ : لاَ نِکَاحَ لَہُ انْکِحِی مَنْ شِئْتِ ۔ فَنَکَحَتْ أَبَا لُبَابَۃَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ ہَذَا مُرْسَلٌ وَہُوَ شَاہِدٌ لِمَا تَقَدَّمَ۔ [صحیح لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৯৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شادی شدہ کے نکاح کا حکم
(١٣٦٨٧) ایضاً
(۱۳۶۸۷) وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی عَاصِمٍ حَدَّثَنَا دُحَیْمٌ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَجُلاً عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنْکَحَ ابْنَۃً لَہُ ثَیِّبًا کَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ فَکَرِہَتْ ذَلِکَ فَأَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ فَرَدَّ نِکَاحَہَا۔

وَرَوَاہُ عُمَرُ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیہِ وَسَمَّی الْمَرْأَۃَ خَنْسَائَ بِنْتَ خِذَامٍ فَذَکَرَہُ مُرْسَلاً وَقَدْ قِیلَ عَنْہُ مَوْصُولاً وَالْمُرْسَلُ أَصَحُّ وَفِیمَا مَضَی مِنَ الْمَوْصُولِ کِفَایَۃٌ۔ [منکر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৯৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شادی شدہ کے نکاح کا حکم
(١٣٦٨٨) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہوگیا، اس کا ایک لڑکا تھا۔ لڑکے کے چچا نے اس عورت سے منگنی کا پیغام اس کے والد کی طرف بھیجا کہ تو اس کی شادی مجھ سے کر دے تو اس نے انکار کردیا، اس نے اس عورت کی شادی اس کی رضا مندی کے بغیر کردی تو وہ عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی طرف آدمی بھیجا پھر کہا : کیا تو نے اس کی شادی اس کے بیٹے کے چچا کے علاوہ کسی اور سے کردی۔ اس نے کہا : جی ہاں، میں نے اس کی شادی اس کے بیٹے کے چچا سے بہتر لڑکے سے کردی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں میں تفریق کردی اور اس کے بیٹے کے چچا سے اس کی شادی کردی۔
(۱۳۶۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : بَکْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّیْرَفِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ ہِلاَلٍ الْبُوزَنْجِرْدِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِیقٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ أَبِی حَنِیفَۃَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ امْرَأَۃً تُوُفِّیَ زَوْجُہَا وَلَہَا مِنْہُ وَلَدٌ فَخَطَبَہَا عَمُّ وَلَدِہَا إِلَی وَالِدِہَا فَقَالَ لَہُ : زَوِّجْنِیہَا فَأَبَی فَزَوَّجَہَا غَیْرَہُ بِغَیْرِ رِضًا مِنْہَا فَأَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ النَّبِیُّ -ﷺ- فَقَالَ : أَزَوَّجْتَہَا غَیْرَ عَمِّ وَلَدِہَا۔ قَالَ: نَعَمْ زَوَّجْتُہَا مَنْ ہُوَ خَیْرٌ لَہَا مِنْ عَمِّ وَلَدِہَا فَفَرَّقَ بَیْنَہُمَا وَزَوَّجَہَا عَمَّ وَلَدِہَا کَذَا قَالَ۔ [منکر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৯৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شادی شدہ کے نکاح کا حکم
(١٣٦٨٩) ابو سلمہ کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک عورت آئی۔ اس نے کہا : میرے والد نے میری شادی ایسی جگہ پر کی ہے جس کو میں ناپسند کرتی ہوں۔ میں اپنے بیٹے کے چچا سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا نکاح رد کردیا۔
(۱۳۶۸۹) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ المُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ أَنَّ امْرَأَۃً أَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَتْ: إِنَّ أَبِی زَوَّجَنِی وَأَنَا کَارِہَۃٌ وَأَنَا أُرِیدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ عَمَّ وَلَدِی قَالَ فَرَدَّ النَّبِیُّ -ﷺ- نِکَاحَہُ۔ ہَذَا ہُوَ الصَّحِیحُ مُرْسَلٌ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৯৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیمہ کے نکاح کا بیان
(١٣٦٩٠) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یتیمہ سے اس کے نفس کے بارے میں پوچھا جائے گا، اگر وہ خاموش رہے تو یہ اس کی اجازت ہے۔ اگر وہ انکار کرے تو وہ کہہ دے : میں اس کو پسند نہیں کرتی ہے۔
(۱۳۶۹۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : تُسْتَأْمَرُ الْیَتِیمَۃُ فِی نَفْسِہَا فَإِنْ سَکَتَتْ فَہُوَ إِذْنُہَا وَإِنْ أَبَتْ فَلاَ جَوَازَ عَلَیْہَا۔ [صحیح لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৯৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیمہ کے نکاح کا بیان
(١٣٦٩١) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یتیمہ سے اس کے نفس کے بارے میں پوچھا جائے گا، اگر وہ خاموش ہو تو اس کی اجازت ہے اگر وہ انکار کر دے تو جبر نہ کیا جائے۔
(۱۳۶۹۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَیْمُونٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ یَعْنِی ابْنَ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَۃَ بْنُ أَبِی مُوسَی عَنْ أَبِی مُوسَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : تُسْتَأْمَرُ الْیَتِیمَۃُ فِی نَفْسِہَا فَإِنْ سَکَتَتْ فَقَدْ أَذِنَتْ وَإِنْ أَنْکَرَتْ لَمْ تُکْرَہْ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৯৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیمہ کے نکاح کا بیان
(١٣٦٩٢) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ عثمان بن مظعون فوت ہوگئے اور ایک بیٹی جو خولہ بنت حکیم بن امیہ تھی وہ چھوڑی اور اپنے بھائی قدامہ بن مظعون کو اس کے بارے میں وصیت کی اور یہ دونوں میرے خالہ زاد بھائی تھے۔ میں نے قدامہ کی طرف شادی کا پیغام بھیجا کہ میری اس سے شادی کر دو اور مغیرہ اس کی ماں کی طرف گیا۔ اس نے ان کو مال کی طرف رغبت دی تو وہ لالچ میں آگئی اور لڑکی بھی ماں کی خواہش کی طرف مائل ہوگئی۔ حتیٰ کہ یہ معاملہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچ گیا تو قدامہ نے کہا : یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے اور اس نے مجھے وصیت کی تھی اور میں اس کی شادی ابن عمر (رض) سے کروں گا اور میں نے اس کی اصلاح اور سرپرستی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، لیکن وہ عورت لالچ میں آگئی اور لڑکی بھی ماں کی طرف دار ہوگئی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ یتیمہ ہے لہٰذا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا تو وہ لڑکی مجھ سے جدا کردی گئی، اللہ کی قسم ! جبکہ میں اس کا مالک بن گیا تھا اور انھوں نے اس کی شادی مغیرہ بن شعبہ سے کردی۔
(۱۳۶۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ صَاعِدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَکُمْ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ سَعْدٍ الزُّہْرِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّی حَدَّثَنَا أَبِی عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عُمَرُ بْنُ حُسَیْنٍ مَوْلَی آلَ حَاطِبٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : تُوُفِّیَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ وَتَرَکَ ابْنَۃً لَہُ مِنْ خَوْلَۃَ بِنْتِ حَکِیمِ بْنِ أُمَیَّۃَ وَأَوْصَی إِلَی أَخِیہِ قُدَامَۃَ بْنِ مَظْعُونٍ وَہُمَا خَالاَیَ فَخَطَبْتُ إِلَی قُدَامَۃَ ابْنَۃَ عُثْمَانَ فَزَوَّجَنِیہَا فَدَخَلَ الْمُغِیرَۃُ إِلَی أُمِّہَا فَأَرْغَبَہَا فِی الْمَالِ فَحَطَّتْ إِلَیْہِ وَحَطَّتِ الْجَارِیَۃُ إِلَی ہَوَی أُمِّہَا حَتَّی ارْتَفَعَ أَمْرُہُمَا إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ قُدَامَۃُ : یَا رَسُول َاللَّہِ ابْنَۃُ أَخِی وَأَوْصَی بِہَا إِلَیَّ فَزَوَّجْتُہَا ابْنَ عُمَرَ وَلَمْ أُقَصِّرْ بِالصَّلاَحِ وَالْکَفَائَ ۃِ وَلَکِنَّہَا امْرَأَۃٌ وَإِنَّہَا حَطَّتْ إِلَی ہَوَی أُمِّہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہِیَ یَتِیمَۃٌ وَلاَ تُنْکَحُ إِلاَّ بِإِذْنِہَا ۔ فَانْتُزِعَتْ مِنِّی وَاللَّہِ بَعْدَ أَنْ مَلَکْتُہَا فَزَوَّجُوہَا الْمُغِیرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৯৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیمہ کے نکاح کا بیان
(١٣٦٩٣) ابن عمر (رض) نے اپنے ماموں کی بیٹی سے شادی کی۔ اس کی ماں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف گئی اور کہا : میری بیٹی اس کو ناپسند کرتی ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے درمیان جدائی ڈلوا دی کہ تم یتیمہ کا نکاح نہ کرو، یہاں تک کہ ان سے مشورہ کرلو۔ اگر وہ خاموشی اختیار کریں یہ ان کی رضا مندی ہے۔ پھر اس نے اس کے بعد عبداللہ بن مغیرہ بن شعبہ سے شادی کی۔
(۱۳۶۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی فُدَیْکٍ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَیْنٍ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ تَزَوَّجَ ابْنَۃَ خَالِہِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَ فَذَہَبَتْ أُمِّہَا إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَتْ إِنَّ ابْنَتِی تَکْرَہُ ذَلِکَ فَأَمَرَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- أَنْ یُفَارِقَہَا وَقَالَ : لاَ تَنْکِحُوا الْیَتَامَی حَتَّی تَسْتَأْمِرُوہُنَّ فَإِنْ سَکَتْنَ فَہُوَ إِذْنُہُنَّ۔ فَتَزَوَّجَہَا بَعْدَ عَبْدِاللَّہِ الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ۔[حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭০০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیمہ کے نکاح کا بیان
(١٣٦٩٤) ایضاً
(۱۳۶۹۴) وَأَخْبَرَنَا بِہِ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ بِہَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ تَزَوَّجَ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ ابْنُ صَاعِدٍ عَنِ ابْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ وَأَبِی عُتْبَۃَ عَنِ ابْنِ أَبِی فُدَیْکٍ بِإِسْنَادِہِ وَقَالَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭০১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیمہ کے نکاح کا بیان
(١٣٦٩٥) معاویہ بن سوید فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ کی کتاب میں یہ بات حضرت علی (رض) کے حوالے سے دیکھی کہ جب عورتیں حقائق کو پہچاننے لگیں تو عصبہ زیادہ حق دار ہوں گے اور جو کوئی حاضر ہو وہ بہتر سفارش کرے۔
(۱۳۶۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ سُوَیْدٍ قَالَ : وَجَدْتُ فِی کِتَابِ أَبِی عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ: إِذَا بَلَغَ النِّسَائُ نَصَّ الْحَقَائِقِ فَالْعَصَبَۃُ أَوْلَی وَمَنْ شَہِدَ فَلْیَشْفَعْ بِخَیْرٍ۔[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭০২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیمہ کے نکاح کا بیان
(١٣٦٩٦) ابوعبید (رح) فرماتے ہیں کہ بعض فقہاء کا موقف ہے کہ ماں پر عصبہ کے ساتھ ملنا فرض ہے، اسحق کی نص ہے اور وہ ان کا ادراک یعنی سمجھ دار ہونا ہے اور وہ بچپن کی انتہاء ہے۔ جب عورتیں بالغ ہوجائیں تو عورت کے عصبہ اس کی ماں سے زیادہ اولیٰ ہیں، جب وہ محرم رشتہ دار ہوں۔ اسی طرح اگر وہ چاہیں تو اس کی شادی کردیں اور کہا کہ یہ تیرے لیے کھلا اور واضح بیان ہے کہ عصبہ رشتہ دار اولیاء جو باپوں کے علاوہ ہیں وہ یتیم بچی کی شادی ادراک (یعنی سمجھ دار) ہونے سے پہلے نہ کریں۔ اگرچہ ان کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ اس کے ساتھ نص حقائق کا انتظار نہ کریں اور جس نے نص حقائق کو بیان کیا ہے تو اس کی مراد جمع حقیقت ہے۔
(۱۳۶۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ رَحِمَہُ اللَّہُ بَعْضُہُمْ یَقُولُ : الْحِقَاقِ وَہُوَ مِنَ الْمُحَاقَّۃِ یَعْنِی الْمُخَاصَمَۃَ أَنْ تُحَاقَّ الأُمُّ الْعُصْبَۃَ فِیہِنَّ فَنَصُّ الْحِقَاقِ إِنَّمَا ہُوَ الإِدْرَاکُ لأَنَّہُ مُنْتَہَی الصِّغَرِ فَإِذَا بَلَغَ النِّسَائُ ذَلِکَ فَالْعَصَبَۃُ أَوْلَی بِالْمَرْأَۃِ مِنْ أُمِّہَا إِذَا کَانُوا مُحْرِمًا وَبِتَزْوِیجِہَا أَیْضًا إِنْ أَرَادُوا۔ قَالَ : وَہَذَا یُبَیِّنُ لَکَ أَنَّ الْعَصَبَۃَ وَالأَوْلَیَائَ غَیْرَ الآبَائِ لَیْسَ لَہُمْ أَنْ یُزَوِّجُوا الْیَتِیمَۃَ حَتَّی تُدْرِکَ وَلَو کَانَ لَہُمْ ذَاکَ لَمْ یَنْتَظِرُوا بِہَا نَصَّ الْحِقَاقِ۔ قَالَ وَمَنْ رَوَاہُ نَصَّ الْحَقَائِقِ فَإِنَّہُ أَرَادَ جَمْعَ حَقِیقَۃٍ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭০৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیمہ کے نکاح کا بیان
(١٣٦٩٧) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ عمارہ بنت حمزہ بن عبدالمطلب مکہ میں تھیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ قضا کے لیے تشریف لائے۔ سیدنا علی بن ابوطالب (رض) اس کو لے کر آئے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : ان سے شادی کرلو تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ میرے بھائی کی رضاعی بیٹی ہے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی شادی سلمہ بن ابوسلمہ (رض) سے کردی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہا کرتے تھے : کیا میں نے سلمہ کو (اچھا) بدلہ دے دیا۔
(۱۳۶۹۷) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَہَمِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا الْوَاقِدِیُّ حَدَّثَنِی ابْنُ أَبِی حَبِیبَۃَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَیْنِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ عُمَارَۃَ بِنْتَ حَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ کَانَتْ بِمَکَّۃَ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَعْنِی فِی عَمْرَۃِ الْقَضِیَّۃِ خَرَجَ بِہَا عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَالَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- : تَزَوَّجْہَا فَقَالَ ابْنَۃُ أَخِی مِنَ الرَّضَاعَۃِ فَزَوَّجَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- سَلَمَۃَ بْنَ أَبِی سَلَمَۃَ فَکَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَقُولُ : ہَلْ جَزَیْتُ سَلَمَۃَ ۔

ہَذَا إِسْنَادٌ ضَعِیفٌ وَلَیْسَ فِیہِ أَنَّہَا کَانَتْ صَغِیرَۃً وَلِلنَّبِیِّ -ﷺ- فِی بَابِ النِّکَاحِ مَا لَیْسَ لِغَیْرِہِ وَکَانَ أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِینِ مِنْ أَنْفُسِہِمْ وَبِذَلِکَ تَوَلَّی تَزْوِیجَہَا دُونَ عَمِّہَا الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنْ کَانَ فَعَلَ ذَلِکَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭০৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنواری کی اجازت خاموشی اور شادی شدہ کی اجازت کلام ہے
(١٣٦٩٨) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شادی شدہ اپنے ولیوں کی نسبت اپنے نفس کی زیادہ حق دار ہے اور کنواری سے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کی اجازت خاموش رہنا ہے۔
(۱۳۶۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ حَدَّثَنَا الْقَاضِی أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خُرَّزَاذَ الأَہْوَازِیُّ قَالَ قُرِئَ عَلَی بُہْلُولِ بْنِ إِسْحَاقَ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَسَنِ وَأَنَا حَاضِرٌ حَدَّثَکُمْ سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : الأَیِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِہَا مِنْ وَلِیِّہَا وَالْبِکْرُ تُسْتَأْذَنُ فِی نَفْسِہَا وَإِذْنُہَا صُمَاتُہَا ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَنْصُورٍ وَغَیْرِہِ۔ [مسلم ۱۴۲۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭০৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنواری کی اجازت خاموشی اور شادی شدہ کی اجازت کلام ہے
(٩٩ ١٣٦) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شادی شدہ سے نکاح نہ کیا جائے۔ یہاں تک کہ اس سے مشورہ کرلیا جائے اور کنواری سے نکاح نہ کیا جائے حتیٰ کہ اس سے اجازت طلب کرلی جائے تو صحابہ (رض) نے پوچھا : اس کی اجازت کیسے ہوگی، اے اللہ کے نبی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خاموشی اس کی اجازت ہے۔
(۱۳۶۹۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ : سَعِیدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ

(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ أَخْبَرَنَا أَبِی قَالاَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ حَدَّثَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ تُنْکَحُ الثَّیِّبُ حَتَّی تُسْتَأْمَرَ وَلاَ تُنْکَحُ الْبِکْرُ حَتَّی تُسْتَأْذَنَ ۔ قَالُوا : کَیْفَ إِذْنُہَا یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ : الصُّمُوتُ

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الأَوْزَاعِیِّ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۴۱۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭০৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنواری کی اجازت خاموشی اور شادی شدہ کی اجازت کلام ہے
(١٣٧٠٠) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شادی شدہ کا نکاح نہ کیا جائے یہاں تک کہ اس سے مشورہ کرلیا جائے اور کنواری سے نکاح نہ کیا جائے یہاں تک کہ اس سے اجازت مانگی جائے تو انھوں نے کہا : اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس کی اجازت کیسے ہوگی ؟ فرمایا : خاموشی اس کی اجازت ہے۔
(۱۳۷۰۰) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَۃَ الشَّیْبَانِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا الْہَیْثَمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ : الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ : شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ تُنْکَحُ الأَیِّمُ حَتَّی تُسْتَأْمَرَ وَلاَ تُنْکَحُ الْبِکْرُ حَتَّی تُسْتَأْذَنَ ۔ قَالُوا : وَکَیْفَ إِذْنُہَا؟ قَالَ : أَنْ تَسْکُتَ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شَیْبَانَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭০৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنواری کی اجازت خاموشی اور شادی شدہ کی اجازت کلام ہے
(١٣٧٠١) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یتیمہ سے اس کے بارے میں مشورہ کیا جائے گا، اگر وہ خاموش رہے تو اس کی اجازت ہے اگر وہ انکار کرے تو اس پر جبر نہیں کیا جائے گا۔
(۱۳۷۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ الْمَعْنَی قَالاَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنِی أَبُو سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : تُسْتَأْمَرُ الْیَتِیمَۃُ فِی نَفْسِہَا فَإِنْ سَکَتَتْ فَہُوَ إِذْنُہَا وَإِنْ أَبَتْ فَلاَ جَوَازَ عَلَیْہَا ۔

قَالَ أَبُو دَاوُدَ الإِخْبَارُ فِی حَدِیثِ یَزِیدَ قَالَ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو خَالِدٍ : سُلَیْمَانُ بْنُ حَیَّانَ وَمُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو۔

قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو بِہَذَا الْحَدِیثِ بِإِسْنَادِہِ زَادَ فِیہِ وَإِنْ بَکَتْ أَوْ سَکَتَتْ زَادَ بَکَتْ قَالَ أَبُو دَاوُدَ : لَیْسَ بَکَتْ بِمَحْفُوظٍ ہُوَ وَہَمٌ فِی الْحَدِیثِ الْوَہَمُ مِنَ ابْنِ إِدْرِیسَ أَوْ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلاَئِ ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭০৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنواری کی اجازت خاموشی اور شادی شدہ کی اجازت کلام ہے
(١٣٧٠٢) ایضاً
(۱۳۷۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الزَّاہِدُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مِہْرَانَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی سَمِعَ النَّبِیَّ -ﷺ- یَقُولُ : تُسْتَأْمَرُ الْیَتِیمَۃُ فِی نَفْسِہَا فَإِنْ سَکَتَتْ فَہُوَ رَضَاہَا وَإِنْ کَرِہَتْ فَلاَ کُرْہَ عَلَیْہَا ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭০৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنواری کی اجازت خاموشی اور شادی شدہ کی اجازت کلام ہے
(١٣٧٠٣) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے میں نے لونڈی کے بارے میں سوال کیا کہ اس کے مالک اس کا نکاح کرتے ہیں کیا وہ اجازت طلب کریں یا نہ ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں وہ اجازت طلب کریں تو عائشہ (رض) نے فرمایا : وہ تو شرم کرتی ہیں اور خاموش ہوجاتی ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہی تو ان کی اجازت ہے جب وہ خاموش ہوجائیں۔
(۱۳۷۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِی مُلَیْکَۃَ یَقُولُ قَالَ ذَکْوَانُ مَوْلَی عَائِشَۃَ سَمِعْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَقُولُ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ الْجَارِیَۃِ یُنْکِحُہَا أَہْلُہَا أَتُسْتَأْمَرُ أَمْ لاَ؟ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : نَعَمْ تُسْتَأْمَرُ ۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ : فَإِنَّہَا تَسْتَحْیِی فَتَسْکُتُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ذَاکَ إِذْنُہَا إِذَا سَکَتَتْ ۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۹۴۹۔ مسلم ۱۴۲۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭১০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنواری کی اجازت خاموشی اور شادی شدہ کی اجازت کلام ہے
(١٣٧٠٤) ایضاً ۔
(۱۳۷۰۴) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ

(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا ابْنُ کَیْسَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حُذَیْفَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ أَبِی عَمْرٍو مَوْلَی عَائِشَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ تُسْتَأْمَرُ النِّسَائُ فِی أَبْضَاعِہِنَّ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ قُلْتُ : فَإِنَّ الْبِکْرَ تَسْتَحْیِی قَالَ : تُسْتَأْمَرُ فَإِنَّ سَکَتَتْ فَسُکُوتُہَا إِذْنُہَا ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْفِرْیَابِیِّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭১১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنواری کی اجازت خاموشی اور شادی شدہ کی اجازت کلام ہے
(١٣٧٠٥) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورتوں سے ان کے نفس کے بارے میں مشورہ کرو۔ بیشک شادی شدہ خود جواب دے گی اپنے نفس کے بارے میں اور کنواری کی رضامندی اس کی خاموشی ہے۔
(۱۳۷۰۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِیعِ بْنِ طَارِقٍ أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی حُسَیْنٍ الْمَکِّیِّ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ عَنْ عَدِیِّ بْنِ عَدِیٍّ الْکِنْدِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُرْسِ بْنِ عَمِیرَۃَ الْکِنْدِیِّ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : وَآمِرُوا النِّسَائَ فِی أَنْفُسِہِنَّ فَإِنَّ الثَّیِّبَ تُعْرِبُ عَنْ نَفْسِہَا وَالْبِکْرُ رِضَاہَا صَمْتُہَا۔ [صحیح لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক: