আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৬৬ টি

হাদীস নং: ১৩৭৫২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باپ کی موجودگی میں کوئی دوسرا ولی نہیں بن سکتا
(١٣٧٤٦) عمار بن ابی عمار حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ حماد کا گمان تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خدیجہ بنت خویلد کا تذکرہ کیا، لیکن ان کے والد آپ سے ان کی شادی کرنے سے بےرغبت تھے۔ حضرت خدیجہ نے کھانے پینے کا اہتمام کیا اور اپنے والد اور قریبیوں کے ایک گروہ کو دعوت دی۔ جب انھوں نے کھا پی لیا اور مدہوش ہوگئے تو حضرت خدیجہ نے اپنے والد سے کہا : محمد بن عبداللہ نے مجھے شادی کا پیغام دیا ہے، آپ میری شادی کردیں تو ان کے والد نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شادی کردی تو حضرت خدیجہ نے اپنے والد کو خوشبو لگائی، حلۃ پہنایا۔ یہ اس وقت کرتے تھے جب والد اپنے بیٹیوں کی شادی کرتے تھے۔ جب ان کے والد سے نشہ کی کیفیت ختم ہوئی تو اس نے اپنے اوپر خوشبودار حلہ کو دیکھا تو کہنے لگے : میری یہ کیا حالت ہے ؟ تو حضرت خدیجہ کہنے لگی : آپ نے میری شادی محمد بن عبداللہ سے کردی ہے۔ اس نے کہا : میں ابو طالب کے یتیم سے شادی کروں گا۔ نہیں میری عمر کی قسم ! حضرت خدیجہ فرمانے لگیں : کیا آپ کو اس بات سے حیا نہیں آتی کہ آپ قریشیوں کے نزدیک بیوقوف ٹھہریں کہ آپ لوگوں کو اس بات کی خبر دیں کہ آپ نشہ کی حالت میں تھے۔ وہ یہی بات بار بار ان کو کہتی رہیں یہاں تک کہ انھوں نے اقرار کرلیا۔
(۱۳۷۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَیَّاشٌ السُّکَّرِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِی عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِیمَا یَحْسَبُ حَمَّادٌ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ذَکَرَ خَدِیجَۃَ بِنْتَ خُوَیْلِدٍ وَکَانَ أَبُوہَا یَرْغَبُ عَنْ أَنْ یُزَوِّجَہُ فَصَنَعَتْ طَعَامًا وَشَرَابًا فَدَعَتْ أَبَاہَا وَنَفَرًا مِنْ قُرَیْشٍ فَطَعِمُوا وَشَرِبُوا حَتَّی ثَمِلُوا فَقَالَتْ خَدِیجَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا لأَبِیہَا : إِنَّ مُحَمَّدًا یَخْطُبُنِی فَزَوِّجْہُ فَزَوَّجَہَا إِیَّاہُ فَخَلَّقَتْہُ وَأَلْبَسَتْہُ حُلَّۃً وَکَانُوا یَصْنَعُونَ بِالآبَائِ إِذَا زَوَّجُوا بَنَاتِہِمْ فَلَمَّا سُرِّیَ عَنْہُ السُّکْرُ نَظَرَ فَإِذَا ہُوَ مُخَلَّقٌ عَلَیْہِ حُلَّۃٌ فَقَالَ : مَا شَأْنِی؟ قَالَتْ : زَوَّجْتَنِی مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ فَقَالَ: أَنَا أُزَوِّجُ یَتِیمَ أَبِی طَالِبٍ فَقَالَ : لاَ لَعَمْرِی فَقَالَتْ خَدِیجَۃُ : أَمَا تَسْتَحْیِی تُرِیدُ أَنْ تُسَفِّہَ نَفْسَکَ عِنْدَ قُرَیْشٍ تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّکَ کُنْتَ سَکْرَانَ فَلَمْ تَزَلْ بِہِ حَتَّی أَقَرَّ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৫৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باپ کی موجودگی میں کوئی دوسرا ولی نہیں بن سکتا
(١٣٧٤٧) حضرت عبداللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر (رض) نے حضرت خدیجہ کی شادی کا قصہ ذکر کیا کہ حضرت خدیجہ نے اپنے بھائی سے بات کی اور انھوں نے اپنے والد سے اور ان کے والد نے شراب پی رکھی تھی۔ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے مرتبہ کا تذکرہ کیا اور حضرت خدیجہ کی شادی کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے حضرت خدیجہ کی شادی کردی۔ پھر سوئے ہوئے اٹھے اور چیخ رہے تھے اور حضرت خدیجہ کی شادی سے انکار کردیا۔ پھر کہنے لگا : تمہارا وہ صاحب کہاں ہے کہ جس کے بارے میں تمہارا گمان ہے کہ میں نے اس سے شادی کردی ہے۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سامنے آئے تو اس نے آپ کو دیکھا تو کہنے لگے : اگر میں نے شادی کردی ہے تو درست۔ اگر نہیں کی تو اب میں نے شادی کردی ہے۔

(ب) زہری فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خدیجہ (رض) سے زمانہ جاہلیت میں نکاح کیا اور ان کا نکاح ان کے والد خویلد بن اسد نے کروایا۔
(۱۳۷۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنِی عُمَرُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ الْمُؤَمَّلِیُّ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ مِقْسَمٍ أَبِی الْقَاسِمِ مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَہُ : أَنَّ عَمَّارَ بْنَ یَاسِرٍ ذَکَرَ قِصَّۃَ تَزْوِیجِ خَدِیجَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَذَکَرَتْ : أَنَّہَا کَلَّمَتْ أَخَاہُ فَکَلَّمَ أَبَاہُ وَقَدْ سُقِی خَمْرًا فَذَکَرَ لَہُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَمَکَانَہُ وَسَأَلَہُ أَنْ یُزَوِّجَہُ فَزَوَّجَہُ خَدِیجَۃَ وَنَامَ ثُمَّ اسْتَیْقَظَ صَاحِیًا فَأَنْکَرَ أَنْ یَکُونَ زَوَّجَہُ فَقَالَ : أَیْنَ صَاحِبُکُمُ الَّذِی تَزْعُمُونَ أَنِّی زَوَّجْتُہُ؟ فَبَرَزَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- فَلَمَّا نَظَرَ إِلَیْہِ قَالَ: إِنْ کُنْتُ زَوَّجْتُہُ فَسَبِیلُ ذَاکَ وَإِنْ لَمْ أَکُنْ فَعَلْتُ فَقَدْ زَوَّجْتُہُ۔ وَرُوِّینَا عَنِ الزُّہْرِیِّ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- تَزَوَّجَ خَدِیجَۃَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَأَنْکَحَہُ إِیَّاہَا أَبُوہَا خُوَیْلِدُ بْنُ أَسَدٍ۔ [ضعیف جداً]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৫৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باپ کی موجودگی میں کوئی دوسرا ولی نہیں بن سکتا
(١٣٧٤٨) یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : جب خدیجہ بنت خویلد فوت ہوگئی تو خولہ بنت حکیم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں اور کہنے لگی : اے اللہ کے رسول ! آپ شادی نہ کریں گے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کس سے ؟ کہنے لگی : کنواری سے چاہو یا بیوہ سے ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کنواری کون ؟ اور بیوہ کون ؟ خولہ بنت حکیم کہنے لگی کہ کنواری تو عائشہ بنت ابی بکر جو اللہ کی مخلوق میں سے سب سے زیادہ محبوب بیٹی ہے اور بیوہ حضرت سودہ بنت زمعہ جس نے ایمان قبول کرنے کے بعد آپ کی پیروی بھی کی ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کے پاس میرا تذکرہ کرنا۔ خولہ بنت حکیم کہتی ہیں : وہ ام رومان کے پاس آئیں اور کہا : اے ام رومان ! اللہ نے تمہارے گھر میں خیر و برکت کو داخل کردیا ہے۔ ام رومان نے پوچھا : وہ کیا ؟ خولہ بنت حکیم کہنے لگیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ (رض) کا تذکرہ کیا ہے۔ ام رومان کہنے لگیں : ذرا انتظار کرو۔ ابوبکر ابھی آجاتے ہیں۔ اتنی دیر میں ابوبکر (رض) بھی تشریف لے آئے تو ام رومان نے اس بات کا تذکرہ ابوبکر (رض) سے کیا، حضرت ابوبکر (رض) فرمانے لگے : کیا یہ ان کے لیے درست ہے یہ ان کے بھائی کی بیٹی ہے۔ خولہ بنت حکیم فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اس کا بھائی وہ میرے بھائی لیکن اس کی بیٹی سے نکاح درست ہے۔ اس نے حدیث کو ذکر کیا کہ حضرت ابوبکر (رض) نے خولہ بنت حکیم سے کہا کہ آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہیں کہ آپ آجائیں۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آکر نکاح کرلیا۔ پھر حضرت خولہ بنت حکیم کہتی ہیں کہ میں حضرت سودہ بنت زمعہ کے پاس گئی۔ ان کے والد بوڑھے آدمی تھے، وہ کام کاج سے فارغ بیٹھے تھے۔ حضرت خولہ فرماتی ہیں کہ میں نے جاہلیت والاسلام کہا تو انھوں نے کہا : تو اچھی صبح کرے۔ وہ کہنے لگے : آپ کون ؟ میں نے کہا : خولہ بنت حکیم تو انھوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور کہا : جو اللہ چاہے کہو۔ کہتی ہیں : میں نے کہا کہ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب سودہ بنت زمعہ کا تذکرہ کرتے ہیں (یعنی نکاح کا ارادہ رکھتے ہیں) وہ کہنے لگے : اچھا کفو ہے آپ اس کے بارے میں کیا کہتی ہیں ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! وہ پسند کرتی ہیں۔ کہنے لگے : جاؤ ان سے کہہ دینا آجائیں۔ خولہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سودہ سے نکاح کرلیا، جب عبد بن زمعہ آیا تو اس نے اپنے سر پر خاک ڈالنا شروع کردی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سودہ سے نکاح کرلیا ہے۔ باقی حدیث کو بھی اس نے ذکر کیا ہے۔
(۱۳۷۴۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ الأَوْدِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : لَمَّا مَاتَتْ خَدِیجَۃُ بِنْتُ خُوَیْلِدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا جَائَ تْ خَوْلَۃُ بِنْتُ حَکِیمٍ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَلاَ تَزَوَّجُ؟ قَالَ : وَمَنْ ۔ قَالَتْ : إِنْ شِئْتَ بِکْرًا وَإِنْ شِئْتَ ثَیِّبًا۔ قَالَ : وَمَنِ الْبِکْرُ وَمَنِ الثَّیِّبُ ۔ قَالَتْ أَمَّا الْبِکْرُ فَابْنَۃُ أَحَبِّ خَلْقِ اللَّہِ إِلَیْکَ عَائِشَۃُ بِنْتُ أَبِی بَکْرٍ وَأَمَّا الثَّیِّبُ فَسَوْدَۃُ بِنْتُ زَمْعَۃَ قَدْ آمَنَتْ بِکَ وَاتَّبَعَتْکَ۔ قَالَ : فَاذْکُرِیہِمَا لِی ۔ قَالَتْ : فَأَتَتْ أُمَّ رُومَانَ فَقَالَتْ : یَا أُمَّ رُومَانَ مَاذَا أَدْخَلَ اللَّہُ عَلَیْکُمْ مِنَ الْخَیْرِ وَالْبَرَکَۃِ قَالَتْ : وَمَا ذَاکَ قَالَتْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ذَکَرَ عَائِشَۃَ قَالَتِ : انْتَظِرِی فَإِنَّ أَبَا بَکْرٍ آتٍ فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : أَوَتَصْلُحُ لَہُ وَہِیَ ابْنَۃُ أَخِیہِ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَنَا أَخُوہُ وَہُوَ أَخِی وَابْنَتُہُ تَصْلُحُ لِی ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ فَقَالَ لَہَا أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : قُولِی لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَلْیَأْتِ قَالَ فَجَائَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَمَلَکَہَا قَالَتْ خَوْلَۃُ : ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَی سَوْدَۃَ وَأَبُوہا شَیْخٌ کَبِیرٌ قَدْ جَلَسَ عَنِ الْمَوَاسِمِ فَحَیَّیْتُہُ بِتَحِیَّۃِ أَہْلِ الْجَاہِلِیَّۃِ فَقُلْتُ : أَنْعِمْ صَبَاحًا قَالَ : مَنْ أَنْتِ؟ قُلْتُ : خَوْلَۃُ بِنْتُ حَکِیمٍ قَالَ : فَرَحَّبَ بِی وَقَالَ مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ یَقُولَ قَالَتْ قُلْتُ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ یَذْکُرُ سَوْدَۃَ بِنْتَ زَمْعَۃَ فَقَالَ : کُفُؤٌ کَرِیمٌ مَاذَا تَقُولُ صَاحِبَتُکِ قُلْتُ : نَعَمْ تُحِبُّ۔ قَالَ فَقُولِی لَہُ : فَلْیَأْتِ قَالَتْ : فَجَائَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَمَلَکَہَا وَقَدِمَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَۃَ فَجَعَلَ یَحْثُو عَلَی رَأْسِہِ التُّرَابَ أَنْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- سَوْدَۃَ وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৫৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باپ کی موجودگی میں کوئی دوسرا ولی نہیں بن سکتا
(١٣٧٤٩) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کی بیٹی حضرت حفصہ بنت عمر جب بیوہ ہوئیں خنیس بن حذافہ سہمی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی اور بدری تھے، مدینہ میں ان کی وفات کی وجہ سے۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان (رض) پر اپنی بیٹی کو پیش کیا (یعنی نکاح کا کہا) ۔ میں نے کہا : اگر آپ چاہیں تو میں آپ کا نکاح حفصہ بنت عمر سے کر دوں۔ حضرت عثمان بن عفان (رض) نے کہا : میں اپنے معاملہ میں سوچ و بچار کرلوں۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : میں چند دن ٹھہرا رہا ۔ پھر عثمان بن عفان کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے کہہ دیا کہ میں آج کے دن شادی نہ کروں گا۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : میں نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے ملاقات کی اور کہا : اگر آپ چاہیں تو میں آپ کا نکاح حفصہ بنت عمر (رض) سے کر دوں۔ حضرت ابوبکر (رض) خاموش ہوگئے۔ مجھے کچھ جواب نہ دیا۔ میں نے حضرت عثمان بن عفان (رض) سے بڑھ کر اپنے اندر غم پایا۔ چند دنوں کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نکاح کا پیغام دے دیا۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کا نکاح کردیا تو ابوبکر ملے اور فرمانے لگے، آپ کو پریشانی ہوتی ہوگی جب آپ نے حضرت حفصہ کو نکاح کے لیے میرے اوپر پیش کیا اور میں نے کچھ بھی جواب نہ دیا۔ حضرت عمر (رض) فرمانے لگے : ہاں تو حضرت ابوبکر (رض) فرمانے لگے : مجھے کسی چیز نے بھی جواب سے نہ روکا تھا، جب آپ نے نکاح کے لیے کہا ۔ البتہ میں یہ جانتا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ کا تذکرہ کیا تھا۔ لیکن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے راز کو ظاہر کرنا نہ چاہتا تھا۔ اگر رسول اللہ چھوڑ دیتے تو میں قبول کرلیتا۔
(۱۳۷۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ : الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ أَنَّ شُعَیْبَ بْنَ أَبِی حَمْزَۃَ أَخْبَرَہُ عَنِ الزُّہْرِیِّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی وَقَالَ أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ یُحَدِّثُ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حِینَ تَأَیَّمَتْ حَفْصَۃُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَیْسِ بْنِ حُذَافَۃَ السَّہْمِیِّ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَدْ شَہِدَ بَدْرًا فَتُوُفِّیَ بِالْمَدِینَۃِ قَالَ عُمَرُ : فَلَقِیتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَعَرَضْتُ عَلَیْہِ حَفْصَۃَ فَقُلْتُ : إِنْ شِئْتَ أَنْکَحْتُکَ حَفْصَۃَ بِنْتَ عُمَرَ فَقَالَ : سَأَنْظُرُ فِی أَمْرِی فَلَبِثْتُ لَیَالِیَ ثُمَّ لَقِیَنِی فَقَالَ : قَدْ بَدَا لِی أَنْ لاَ أَتَزَوَّجَ یَوْمِی ہَذَا۔ قَالَ عُمَرُ : فَلَقِیتُ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ فَقُلْتُ لَہُ : إِنْ شِئْتَ أَنْکَحْتُکَ حَفْصَۃَ بِنْتَ عُمَرَ فَصَمَتَ أَبُو بَکْرٍ وَلَمْ یَرْجِعْ إِلَیَّ شَیْئًا فَکُنْتُ عَلَیْہِ أَوْجَدَ مِنِّی عَلَیَّ عُثْمَانَ فَلَبِثْتُ لَیَالِیَ ثُمَّ خَطَبَہَا إِلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَأَنْکَحْتُہَا إِیَّاہُ فَلَقِیَنِی أَبُو بَکْرٍ فَقَالَ : لَعَلَّکَ وَجَدْتَ عَلَیَّ حِینَ عَرَضْتَ عَلَیَّ حَفْصَۃَ فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَیْکَ شَیْئًا قَالَ فَقُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : فَإِنَّہُ لَمْ یَمْنَعْنِی أَنْ أَرْجِعَ إِلَیْکَ فِیمَا عَرَضْتَ عَلَیَّ إِلاَّ أَنِّی قَدْ کُنْتُ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدْ ذَکَرَ حَفْصَۃَ فَلَمْ أَکُنْ لأُفْشِیَ سِرَّ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَلَوْ تَرَکَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَبِلْتُہَا۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۱۴۵۔ ۴۰۰۵۔ ۵۱۲۲۔ ۵۱۲۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৫৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھائی کے ولی ہونے کا بیان
(١٣٧٥٠) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ معقل بن یسار نے اپنی بہن کا نکاح ایک آدمی سے کردیا۔ اس نے طلاق دی جس کی وجہ سے وہ اس سے جدا ہوگئی۔ پھر اس آدمی نے معقل کی بہن کو پیغام نکاح دیا تو معقل بن یسار نے انکار کردیا اور کہنے لگے : میں نے تجھے اپنی عزت کا بستر عطا کیا، پھر تو نے طلاق دے دی۔ اب پھر نکاح کا پیغام لے کر آیا ہے، اللہ کی قسم ! اب میں تیرا نکاح نہ کروں گا اور عورت بھی اس کی طرف واپسی کی خواہش مند تھی تو اللہ نے یہ آیت اتاری : { وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَبَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَلاَ تَعْضُلُوہُنَّ } [البقرۃ ٢٣٢] ” اور جب تم عورتوں کو طلاق دو وہ اپنی عدت مقررہ کو پہنچ جائیں تو تم ان کو مت روکو۔ “
(۱۳۷۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ عَنْ یُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی ابْنُ نَاجِیَۃَ وَعِمْرَانُ قَالاَ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ یُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ یَسَارٍ زَوَّجَ أُخْتَہُ رَجُلاً فَطَلَّقَہَا تَطْلِیقَۃً فَبَانَتْ مِنْہُ ثُمَّ جَائَ یَخْطُبُہَا فَأَبَی عَلَیْہِ وَقَالَ : أَفْرَشْتُکَ کَرِیمَتِی ثُمَّ طَلَّقْتَہَا ثُمَّ جِئْتَ تَخْطُبُہَا لاَ وَاللَّہِ لاَ أُزَوِّجُکَہَا وَکَانَتِ الْمَرْأَۃُ قَدْ ہَوِیَتْ أَنْ تُرَاجِعَہُ فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی { وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَبَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَلاَ تَعْضُلُوہُنَّ } إِلَی آخِرِ الآیَۃِ۔ قَالَ مَعْقِلٌ : نَعَمْ أُزَوِّجُکَہَا۔ لَفْظُ حَدِیثِ خَالِدٍ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَہَّابِ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۲۳۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৫৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چچا کا بیٹا جب ولی ہو، پھر بھائی کا بیٹا، پھر چچا زیادہ بہتر ہے کہ وہ ولی ہو
(١٣٧٥١) ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں : { وَ مَایُتْلٰی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتٰبِ فِیْ یَتٰمَی النِّسَآئِ الّٰتِیْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا کُتِبَ لَھُنَّ وَ تَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْکِحُوْھُنَّ } [النساء ١٢٧] ” اور جو یتیم بچیوں کے بارے میں تم پر کتاب میں بڑھا جاتا ہے کہ وہ یتیم بچیاں تم ان کو ان کے مقرر کردہ حق مہر ادا نہیں کرتے اور تم ان سے نکاح کی رغبت رکھتے ہو۔ “ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ یہ یتیم بچی ایک آدمی کی کفالت میں تھی، وہ اس کا ولی تھا، شاید کہ وہ اس کے مال میں بھی حصہ دار تھا اور وہ اس کے مال کی چاہت رکھتا تھا لیکن اس سے نکاح کی رغبت نہ رکھتا تھا اور اس کے مال کی وجہ سے کسی دوسرے سے اس کا نکاح بھی نہ کررہا تھا کہیں دوسرا اس کے مال میں حصہ دار نہ بن جائے۔
(۱۳۷۵۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِیَادٍ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا ( وَمَا یُتْلَی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتَابِ فِی یَتَامَی النِّسَائِ اللاَّتِی لاَ تُؤْتُونَہُنَّ مَا کُتِبَ لَہُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْکِحُوہُنَّ) قَالَتْ : ہَذِہِ الْیَتِیمَۃُ تَکُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ ہُوَ وَلِیُّہَا لَعَلَّہَا تَکُونُ شَرِیکَتَہُ فِی مَالِہِ وَہُوَ أَوْلَی بِہَا فَیَرْغَبُ عَنْہَا أَنْ یَنْکِحَہَا وَیَعْضِلَہَا لِمَالِہَا فَلاَ یُنْکِحُہَا غَیْرَہُ کَرَاہِیَۃَ أَنْ یَشْرَکَہُ أَحَدٌ فِی مَالِہِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی عَنْ وَکِیعٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ ہِشَامٍ۔

[صحیح۔ بخاری فی مواطن کثیرہ۔ مسلم ۳۰۱۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৫৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیٹا (اپنی والدہ کا) نکاح کرسکتا ہے اگر وہ بیٹا ہونے کے علاوہ عصبہ بھی بنتا ہو
(١٣٧٥٢) عمر بن سلمہ اپنے والد سے اور وہ ام سلمہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کو مصیبت پہنچے وہ اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھے۔ اے اللہ ! میں اپنی مصیبت پر تیری جانب سے صبر کی توفیق چاہتی ہوں۔ اس مصیبت میں مجھے اجر دے اور مجھے اس سے اچھا نعم البدل عطا فرما۔ جب ابو سلمہ فوت ہوئے تو میں نے یہ کلمات کہنے شروع کردیے۔ لیکن جب بھی میں ان کے نعم البدل کا تذکرہ کرتی تو اپنے دل میں سوچتی کہ ابو سلمہ سے بہتر کون ہوگا۔ پھر میں یہ کلمات کہتی رہی۔ جب عدت مکمل ہوگئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو پیغام نکاح دے کر بھیجا تو ام سلمہ نے اپنے بیٹے سے کہا : اے عمر ! کھڑے ہوجاؤ ۔ آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نکاح کردیں تو انھوں نے آپ کا نکاح کردیا۔

(ب) یہ ابو عبداللہ کی حدیث ہے، لیکن اصبہانی کی روایت میں عمر بن خطاب اور عدت کا تذکرہ نہیں ہے۔ لیکن اس میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے نکاح کا پیغام دیا۔ میں نے کہا : میرے ولیوں میں سے کوئی موجود نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا : کوئی موجود یا غائب ایسا نہیں جو میرے اس نکاح پر راضی نہ ہو۔ میں نے کہا : اے عمر ! کھڑے ہوجاؤ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نکاح کر دو ۔

شیخ فرماتے ہیں کہ عمر بن ابی سلمہ ان کا عصبہ بھی تھا۔ کیونکہ ام سلمہ کا نسب نامہ یہ ہے : ہند بنت ابی امیہ بن المغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم اور عمر یہ ابن ابی سلمہ ہیں اور ابو سلمہ کا نام عبداللہ بن عبدالاسد بن ہلال بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم تھا۔
(۱۳۷۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی الْمَوْصِلِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ حَدَّثَنِی ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ أَصَابَتْہُ مُصِیبَۃٌ فَلْیَقُلْ إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ اللَّہُمَّ عِنْدَکَ أَحْتَسِبُ مُصِیبَتِی فَأْجُرْنِی فِیہَا وَأَبْدِلْنِی بِہَا خَیْرًا مِنْہَا ۔ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَۃَ قُلْتُہَا فَجَعَلْتُ کُلَّمَا طَلَبْتُ أَبْدِلْنِی بِہَا خَیْرًا مِنْہَا قُلْتُ فِی نَفْسِی وَمَنْ خَیْرٌ مِنْ أَبِی سَلَمَۃَ ثُمَّ قُلْتُہَا فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُہَا بَعَثَ إِلَیْہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَخْطُبُہَا عَلَیْہِ فَقَالَتْ لاِبْنِہَا : یَا عُمَرُ قُمْ فَزَوِّجْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَزَوَّجَہُ۔

لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ وَلَیْسَ فِی رِوَایَۃِ الأَصْبَہَانِیِّ ذِکْرُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَلاَ ذِکْرُ الْعِدَّۃَ وَلَکِنْ قَالَ قَالَتْ : فَخَطَبَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ : إِنَّہُ لَیْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِیَائِی شَاہِدٌ قَالَ : إِنَّہُ لَیْسَ أَحَدٌ مِنْہُمْ شَاہِدٌ وَلاَ غَائِبٌ إِلاَّ سَیَرْضَی بِی ۔ فَقُلْتُ : یَا عُمَرُ قُمْ فَزَوِّجْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَعُمَرُ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ کَانَ عَصَبَۃً لَہَا وَذَاکَ لأَنَّ أُمَّ سَلَمَۃَ ہِیَ ہِنْدُ بِنْتُ أَبِی أُمَیَّۃَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ وَعُمَرُ ہُوَ ابْنُ أَبِی سَلَمَۃَ وَأَبُو سَلَمَۃَ اسْمُہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الأَسَدِ بْنِ ہِلاَلِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ۔ [ضعیف۔ او اصلہ فی الصحیح لغیر ہذا۔ وانظر الاروآ ۱۸۱۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৫৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیٹا (اپنی والدہ کا) نکاح کرسکتا ہے اگر وہ بیٹا ہونے کے علاوہ عصبہ بھی بنتا ہو
(١٣٧٥٣) حافظ ابو نصر کلاباذی فرماتے ہیں کہ عمر بن ابی سلمہ نو سال کے تھے، جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوئے اور عمر بن ابی سلمہ عبدالملک بن مروان کی خلافت میں فوت ہوئے۔
(۱۳۷۵۳) أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِی مَنِیعٍ حَدَّثَنِی جَدِّی عَنِ الزُّہْرِیِّ فَذَکَرَہُ۔

وَسَمِعْتُ أَبَا بَکْرٍ الأَرْدَسْتَانِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا نَصْرٍ الْکَلاَبَاذِیَّ الْحَافِظَ رَحِمَہُ اللَّہُ یَقُولُ عُمَرُ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ تُوُفِّیَ النَّبِیُّ -ﷺ- وَہُوَ ابْنُ تِسْعِ سِنِینَ وَمَاتَ فِی خِلاَفَۃِ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ۔[ضعیف۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৬০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیٹا (اپنی والدہ کا) نکاح کرسکتا ہے اگر وہ بیٹا ہونے کے علاوہ عصبہ بھی بنتا ہو
(١٣٧٥٤) سلمہ بن عبداللہ بن سلمہ بن ابی سلمہ اپنے والد سے اور وہ دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ام سلمہ کو نکاح کا پیغام دیا۔ فرمایا : اپنے بیٹے کو حکم دے کہ وہ تیرا نکاح کر دے یا فرمایا : اس کے بیٹے نے نکاح کردیا۔ وہ ابھی بالغ بھی نہ ہوئے تھے۔

شیخ فرماتے ہیں : یہ اس وقت تھا جب اس کے علاوہ کوئی دوسرا موجود نہ تھا۔
(۱۳۷۵۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِیلِ حَدَّثَنَا الْوَاقِدِیُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ الْمَخْزُومِیُّ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَلَمَۃَ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- خَطَبَ أُمَّ سَلَمَۃَ قَالَ: مُرِی ابْنَکِ أَنْ یُزَوِّجَکِ۔ أَوْ قَالَ زَوَّجَہَا ابْنُہَا وَہُوَ یَوْمَئِذٍ صَغِیرٌ لَمْ یَبْلُغْ۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَکَانَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- فِی بَابِ النِّکَاحِ مَا لَمْ یَکُنْ لِغَیْرِہِ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৬১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیٹا (اپنی والدہ کا) نکاح کرسکتا ہے اگر وہ بیٹا ہونے کے علاوہ عصبہ بھی بنتا ہو
(١٣٧٥٥) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ابو طلحہ نے ام سلیم کو نکاح کا پیغام دیا تو ام سلیم کہنے لگی : اے ابو طلحہ ! کیا تو جانتا نہیں جس اللہ کی تو عبادت کرتا ہے، وہ لکڑی کا ہے۔ جو زمین سے اگتی ہے۔ اس کو حبش بن فلاں نے بنایا ہے۔ اگر آپ اسلام قبول کرلیں تو میں اس کے علاوہ آپ سے حق مہر کا مطالبہ نہ کروں گی۔ ابو طلحہ کہتے ہیں : میں نے سوچ و بیچار کی۔ راوی کہتے ہیں : ابوطلحہ چلے گئے پھر دوبارہ آئے تو کہنے لگے : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ ام سلیم نے کہا : اے انس ابو طلحہ کا نکاح کر دو ۔

شیخ فرماتے ہیں کہ انس بن مالک ام سلیم کا بیٹا اور عصبہ بھی ہے کیونکہ انس بن مالک بن نصر بن ضمضم بن زید بن حرام بنو عدی بن النجار۔ ام سلیم یہ ملحان بن خالد بن یزید کی بیٹی ہے۔
(۱۳۷۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَحَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ وَإِسْمَاعِیلَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ أَبَا طَلْحَۃَ خَطَبَ أُمَّ سُلَیْمٍ فَقَالَتْ : یَا أَبَا طَلْحَۃَ أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنَّ إِلَہَکَ الَّذِی تَعْبُدُ خَشَبَۃٌ تَنْبُتُ مِنَ الأَرْضِ نَجَرَہَا حَبَشِیُّ بَنِی فُلاَنٍ إِنْ أَنْتَ أَسْلَمْتَ لَمْ أُرِدْ مِنْکَ مِنَ الصَّدَاقِ غَیْرَہُ قَالَ حَتَّی أَنْظُرَ فِی أَمْرِی قَالَ فَذَہَبَ ثُمَّ جَائَ فَقَالَ : أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ قَالَتْ : یَا أَنَسُ زَوِّجْ أَبَا طَلْحَۃَ۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَأَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ابْنُہَا وَعَصَبَتُہَا فَإِنَّہُ أَنَسُ بْنُ مَالِکِ بْنِ النَّضْرِ بْنِ ضَمْضَمِ بْنِ زَیْدِ بْنِ حَرَامٍ مِنْ بَنِی عَدِیِّ بْنِ النَّجَّارِ وَأُمُّ سُلَیْمٍ ہِیَ ابْنَۃُ مِلْحَانَ بْنِ خَالِدِ بْنِ یَزِیدَ بْنِ حَرَامٍ مِنْ بَنِی عَدِیِّ بْنِ النَّجَّارِ۔ [صحیح۔ دون قولہ (قالت یا انس)]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৬২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفؤ کے اعتبار کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : بویطی کی روایت میں ہے کہ کفو کا استنباط اصل تو بریدہ کی حدیث سے کیا جاتا ہے کہ ان کا خاوند اس کا کفو نہ تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اختیار دے دیا۔
(١٣٧٥٦) ہشام اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت بریرہ نے اپنی آزادی کے لیے ٩ اوقیوں پر مکاتبت کرلی کہ ایک سال میں ایک اوقیہ ادا کرنا ہے وہ اپنی مدد کے لیے حضرت عائشہ (رض) کے پاس آئی تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : اگر وہ چاہیں تو میں ایک ہی مرتبہ قیمت ادا کر دوں گی اور ولاء میری ہوگی۔ حضرت بریرہ نے جا کر اپنے گھر والوں سے بات کی، انھوں نے انکار کردیا، لیکن ولاء کی شرط پر آمادگی ظاہر کی۔ حضرت بریرہ حضرت عائشہ (رض) کے پاس آئی اور وہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی آگئے تو بریرہ نے حضرت عائشہ (رض) کو وہ بات آکر کہہ دی تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : یہ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب ولاء میری ہوگی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ خرید کر ولاء کی شرط رکھیں اور آزاد کردیں، کیونکہ ولاء تو آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔ پھر آپ نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا : اللہ کی حمدوثنا بیان کی اور فرمایا لوگوں کو کیا ہے ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں ہیں۔ کہتے ہیں : اے فلاں ! آزاد کر اور ولاء میری ہوگی۔ اللہ کی کتاب زیادہ سچی ہے اور اللہ کی شرطیں زیادہ قابل اعتماد ہیں اور جو شرط کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہے اگرچہ وہ سو شرطیں ہوں۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بریرہ کو اس کے خاوند کے بارے میں اختیار دے دیا۔ ان کا خاوند غلام تھا تو بریرہ نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا (یعنی اس سے آزاد ہوگئی) عروہ کہتے ہیں : اگر وہ آزاد ہوتا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بریرہ کو اختیار نہ دیتے۔

(ب) اسحق بن ابراہیم کی روایت مسلم میں ہے۔ اس میں وہ دلالت موجود ہے جس کا ہم نے قصد کیا ہے اور ولاء صرف آزاد کرنے والے کے لیے ہے غیر کے لیے نہیں۔ ولاء کے احکام سے نکاح کی ولایت بھی ثابت ہوتی ہے۔ جب کوئی مناسبت ولی موجود نہ ہو۔

کفو کے اعتبار کے لیے دوسری احادیث بھی موجود ہیں لیکن ان سے دلیل لینا درست نہیں ہے۔ (واللہ اعلم)
(۱۳۷۵۶) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَاتَبَتْ بَرِیرَۃُ عَلَی نَفْسِہَا تِسْعَۃَ أَوَاقٍ فِی کُلِّ سَنَۃٍ أُوقِیَّۃٌ فَأَتَتْ عَائِشَۃَ تَسْتَعِینُہَا فَقَالَتْ : لاَ إِلاَّ أَنْ یَشَائُ وا أَنْ أَعُدَّہَا لَہُمْ عَدَّۃً وَاحِدَۃً وَیَکُونَ الْوَلاَئُ لِی فَذَہَبَتْ بَرِیرَۃُ فَکَلَّمَتْ فِی ذَلِکَ أَہْلَہَا فَأَبَوْا عَلَیْہَا إِلاَّ أَنْ یَکُونَ الْوَلاَئُ لَہُمْ فَجَائَ تْ إِلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَجَائَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عِنْدَ ذَلِکَ فَقَالَتْ لَہَا مَا قَالَ أَہْلُہَا فَقَالَتْ : لاَہَا اللَّہِ إِذًا إِلاَّ أَنْ یَکُونَ الْوَلاَئُ لِی۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ابْتَاعِیہَا وَاشْتَرِطِی لَہُمُ الْوَلاَئَ وَأَعْتِقِیہَا فَإِنَّمَا الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ ۔ ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ : مَا بَالُ أَقْوَامٍ یَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَیْسَتْ فِی کِتَابِ اللَّہِ یَقُولُونَ أَعْتِقْ یَا فُلاَنُ الْوَلاَئُ لِی کِتَابُ اللَّہِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّہِ أَوْثَقُ وَکُلُّ شَرْطٍ لَیْسَ فِی کِتَابِ اللَّہِ فَہُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ کَانَ مِائَۃَ شَرْطٍ ۔ قَالَتْ : وَخَیَّرَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ زَوْجِہَا وَکَانَ عَبْدًا فَاخْتَارَتْ نَفْسَہَا قَالَ عُرْوَۃُ : وَلَوْ کَانَ حُرًّا مَا خَیَّرَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ وَفِیہِ دَلاَلَۃٌ عَلِیُّ مَا قَصَدْنَاہُ بِالدَّلاَلَۃِ وَعَلَی ثُبُوتِ الْوَلاَئِ لِلْمُعْتِقِ وَأَنْ لاَ وَلاَئَ لِغَیْرِ الْمُعْتِقِ وَمِنْ أَحْکَامِ الْوَلاَئِ ثُبُوتُ وِلاَیَۃِ النِّکَاحِ لِمَنْ لَہُ الْوَلاَئُ عِنْدَ عَدَمِ الْمُنَاسِبِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ

وَفِی اعْتِبَارِ الْکَفَائَ ۃِ أَحَادِیثُ أُخَرُ لاَ تَقُومُ بِأَکْثَرِہَا الْحُجَّۃُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۱۶۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৬৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفؤ کے اعتبار کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : بویطی کی روایت میں ہے کہ کفو کا استنباط اصل تو بریدہ کی حدیث سے کیا جاتا ہے کہ ان کا خاوند اس کا کفو نہ تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اختیار دے دیا۔
(١٣٧٥٧) محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب اپنے والد سے اور دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کہا : تین چیزوں میں تاخیر نہ کرنا : 1 جب نماز کا وقت ہوجائے 2 جنازہ جب موجود ہو۔ 3 بیوہ کا نکاح جب کفو موجود ہو۔
(۱۳۷۵۷) مِنْہَا وَہُوَ أَمْثَلُہَا مَا أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْیَابِیُّ فَرَّقَہُمَا قَالاَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْجُہَنِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ لَہُ: یَا عَلِیُّ ثَلاَثَۃٌ لاَ تُؤَخِّرْہَا الصَّلاَۃُ إِذَا أَتَتْ وَالْجَنَازَۃُ إِذَا حَضَرَتْ وَالأَیِّمُ إِذَا وَجَدْتَ کُفُؤًا ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৬৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفؤ کے اعتبار کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : بویطی کی روایت میں ہے کہ کفو کا استنباط اصل تو بریدہ کی حدیث سے کیا جاتا ہے کہ ان کا خاوند اس کا کفو نہ تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اختیار دے دیا۔
(١٣٧٥٨) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اختیار دو تاکہ ہم ایک نظر دیکھ لیں اور رشتہ داریوں میں برابری کا خیال رکھو اور ان کی طرف نکاح کا پیغام بھیجو۔
(۱۳۷۵۸) وَمِنْہَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَعِیدٍ الْکِنْدِیُّ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عِمْرَانَ الْجَعْفَرِیُّ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : تَخَیَّرُوا لِنُطَفِکُمْ وَأَنْکِحُوا الأَکْفَائَ وَأَنْکِحُوا إِلَیْہِمْ۔[ضعیف جداً]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৬৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفؤ کے اعتبار کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : بویطی کی روایت میں ہے کہ کفو کا استنباط اصل تو بریدہ کی حدیث سے کیا جاتا ہے کہ ان کا خاوند اس کا کفو نہ تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اختیار دے دیا۔
(١٣٧٥٩) ایضاً ۔
(۱۳۷۵۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا زِیَادُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ مِثْلَہُ

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو أُمَیَّۃَ بْنُ یَعْلَی عَنْ ہِشَامٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৬৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفؤ کے اعتبار کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : بویطی کی روایت میں ہے کہ کفو کا استنباط اصل تو بریدہ کی حدیث سے کیا جاتا ہے کہ ان کا خاوند اس کا کفو نہ تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اختیار دے دیا۔
(١٣٧٦٠) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورتوں کے نکاح صرف ہمسر سے کیے جائیں اور ان کے ولی ہی نکاح کریں اور حق مہر میں درہم سے کم نہ ہو۔
(۱۳۷۶۰) وَأَمَّا حَدِیثُ مُبَشِّرِ بْنِ عُبَیْدٍ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاۃَ عَنْ عَطَائٍ وَعَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لاَ تُنْکِحُوا النِّسَائَ إِلاَّ الأَکْفَائَ وَلاَ یُزَوِّجُہُنَّ إِلاَّ الأَوْلِیَائُ وَلاَ مَہْرَ دُونَ عَشْرَۃِ دَرَاہِمَ فَہَذَا حَدِیثٌ ضَعِیفٌ بِمَرَّۃٍ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِیسَی بْنِ السُّکَیْنِ الْبَلَدِیُّ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ الْحَکَمِ الرَّسْعَنِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِیرَۃِ : عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنِی الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ فَذَکَرَہُ۔

قَالَ عَلِیٌّ رَحِمَہُ اللَّہِ : مُبَشِّرُ بْنُ عُبَیْدٍ مَتْرُوکُ الْحَدِیثِ أَحَادِیثُہُ لاَ یُتَابَعُ عَلَیْہَا۔

قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَدْ رَوَاہُ بَقِیَّۃُ بْنُ الْوَلِیدِ عَنْ مُبَشِّرٍ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ وَہُوَ ضَعِیفٌ لاَ تَقُومُ بِمِثْلِہِ الْحُجَّۃُ وَقِیلَ عَنْ بَقِیَّۃَ مِثْلَ الأَوَّلِ۔ [ضعیف جداً]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৬৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفؤ کے اعتبار کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : بویطی کی روایت میں ہے کہ کفو کا استنباط اصل تو بریدہ کی حدیث سے کیا جاتا ہے کہ ان کا خاوند اس کا کفو نہ تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اختیار دے دیا۔
(١٣٧٦١) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورتوں کے نکاح صرف ولی کریں اور ان کے نکاح کفو کی بنیاد پر کیے جائیں اور حق مہر درہم سے کم نہ ہو۔
(۱۳۷۶۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ حَدَّثَنَا مُبَشِّرٌ وَأَنَا أَبْرَأُ مِنْ عُہْدَتِہِ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ جَابِرٍ۔وَعَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ یُزَوِّجِ النِّسَائَ إِلاَّ الأَوْلِیَائُ وَلاَ یُزَوِّجْہُنَّ إِلاَّ الأَکْفَائَ وَلاَ مَہْرَ دُونَ عَشْرَۃِ دَرَاہِمَ ۔

قَائِلُ قَوْلِہِ : وَأَنَا أَبْرَأُ مِنْ عُہْدَتِہِ ابْنُ خُزَیْمَۃَ۔ [ضعیف جداً]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৬৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفؤ کے اعتبار کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : بویطی کی روایت میں ہے کہ کفو کا استنباط اصل تو بریدہ کی حدیث سے کیا جاتا ہے کہ ان کا خاوند اس کا کفو نہ تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اختیار دے دیا۔
(١٣٧٦٢) محمد بن طلحہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں ضرور منع کروں گا حسب ونسب والیوں کو کہ وہ بغیر کفو کے شادی نہ کریں۔

شیخ فرماتے ہیں : امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ نکاح میں ولی کی شرط اسی لیے ہے کہ عورت بغیر کفو کے شادی نہ کرے۔ یہ سارا سلسلہ صرف اسی لیے ہے کہ وہ بغیر کفو کے شادی نہ کرسکے۔
(۱۳۷۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَۃَ قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لأَمْنَعَنَّ لِذَوَاتِ الأَحْسَابِ فُرُوجَہُنَّ إِلاَّ مِنَ الأَکْفَائِ ۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَقَدْ جَعَلَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ الْمَعْنَی فِی اشْتِرَاطِ الْوُلاَۃِ فِی النِّکَاحِ کَیْ لاَ تَضَعُ الْمَرْأَۃُ نَفْسَہَا فِی غَیْرِ کُفُؤٍ فَقَالَ : لاَ مَعْنَی لَہُ أَوْلَی بِہِ مِنْ أَنْ لاَ تَزَوَّجَ إِلاَّ کُفْؤًا بَلْ لاَ أَحْسَبُہُ یَحْتَمِلُ أَنْ یَکُونَ جُعِلَ لَہُمْ أَمْرٌ مَعَ الْمَرْأَۃِ فِی نَفْسِہَا إِلاَّ لِئَلاَّ تَنْکِحَ إِلاَّ کُفُؤًا

أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فَذَکَرَہُ۔

[ضعیف جداً]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৬৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین میں برابر کی شرط کا بیان

قال اللہ تعالیٰ : { وَلاَ تُنْکِحُوا الْمُشْرِکِینَ حَتَّی یُؤْمِنُوا } [البقرۃ ٢٢١] ” اور مت نکاح کرو شرک کرنے والوں کو یہاں تک کہ ایمان لائیں۔ “ { وَلاَ تَنْکِحُوا الْمُشْرِکَاتِ حَتَّی یُؤْمِنَّ }” اور مت نکاح کرو شرک کرنے وال
(١٣٧٦٣) قیس بن عباد فرماتے ہیں کہ میں اور اشتر حضرت علی (رض) کے پاس آئے اور ہم نے کہا : اے علی ! کیا آپ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وعدہ لیا تھا جو لوگوں سے نہ لیا ہو ؟ فرمانے لگے : نہیں لیکن جو میری اس کتاب میں ہے اور اس میں تھا کہ مسلمانوں کے خون آپس میں برابر ہیں اور اپنے غیر پر ایک ہاتھ کی مانند ہیں۔
(۱۳۷۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ قَیْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا وَالأَشْتَرُ إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقُلْنَا ہَلْ عَہِدَ إِلَیْکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- شَیْئًا لَمْ یَعْہَدْہُ إِلَی النَّاسِ فَقَالَ : لاَ إِلاَّ مَا فِی کِتَابِی وَإِذَا فِیہِ : الْمُؤْمِنُونَ تَکَافَأُ دِمَاؤُہُمْ وَہُمْ یَدٌّ عَلَی مَنْ سِوَاہُمْ ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔[ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৭০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برابری میں نسب کے اعتبار کا بیان
(١٣٧٦٤) واثلہ بن اسقع فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے بنو کنانہ کو بنو اسماعیل سے چن لیا اور قریش کو بنو کنانہ سے چن لیا اور بنو ہاشم کو قریش سے چن لیا اور بنو ہاشم سے میرا انتخاب کرلیا۔
(۱۳۷۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِاللَّہِ: إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ وَسَعِیدُ بْنُ عُثْمَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ حَدَّثَنِی أَبُو عَمَّارٍ : شَدَّادٌ عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الأَسْقَعِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ اللَّہَ اصْطَفَی بَنِی کِنَانَۃَ مِنْ بَنِی إِسْمَاعِیلَ وَاصْطَفَی مِنْ بَنِی کِنَانَۃَ قُرَیْشًا وَاصْطَفَی مِنْ قُرَیْشٍ بَنِی ہَاشِمٍ وَاصْطَفَانِی مِنْ بَنِی ہَاشِمٍ۔ وَقَالَ الرَّبِیعُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ اللَّہَ اصْطَفَی مِنْ قُرَیْشٍ بَنِی ہَاشِمٍ وَاصْطَفَانِی مِنْ بَنِی ہَاشِمٍ ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الأَوْزَاعِیِّ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۲۷۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৭১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برابری میں نسب کے اعتبار کا بیان
(١٣٧٦٥) محمد بن علی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے عرب کا انتخاب کیا اور عرب سے کنانہ کا انتخاب کیا یا فرمایا : نضر بن کنانہ کا۔ حماد راوی کو شک ہے، پھر ان سے قریش کو چنا اور قریش سے بنو ہاشم کا انتخاب کیا، پھر مجھے بنو ہاشم سے چنا۔
(۱۳۷۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی وَسُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَحَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ اللَّہَ اخْتَارَ الْعَرَبَ فَاخْتَارَ مِنْہُمْ کِنَانَۃَ أَوْ قَالَ النَّضْرَ بْنَ کِنَانَۃَ ۔ شَکَّ حَمَّادٌ : ثُمَّ اخْتَارَ مِنْہُمْ قُرَیْشًا ثُمَّ اخْتَارَ مِنْہُمْ بَنِی ہَاشِمٍ ثُمَّ اخْتَارَنِی مِنْ بَنِی ہَاشِمٍ ۔

ہَذَا مُرْسَلٌ حَسَنٌ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক: