আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৬৬ টি

হাদীস নং: ১৩৪৩২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں اور بیٹیوں کے نام اور بیٹیوں کی شادی
(١٣٤٢٦) ابن اسحاق سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسماء بنت کعب جو نیہ سے شادی کی اور دخول سے پہلے ہی طلاق دے دی۔ عمرہ بنت زید (رض) بنو کلاب اور وحید قبیلے کی عورت تھی، جن کی شادی پہلے فضل بن عباس (رض) سے ہوئی تھی، ان سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شادی کی اور دخول سے قبل ہی طلاق دے دی۔ ان دو کا نام امام زہری نے ذکر نہیں کیا صرف عالیہ کا ذکر کیا۔
(۱۳۴۲۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : وَقَدْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- تَزَوَّجَ أَسْمَائَ بِنْتَ کَعْبٍ الْجَوْنِیَّۃَ فَلَمْ یَدْخُلْ بِہَا حَتَّی طَلَّقَہَا وَتَزَوَّجَ عَمْرَۃَ بِنْتَ زَیْدٍ إِحْدَی نِسَائِ بَنِی کِلاَبٍ ثُمَّ بَنِی الْوَحِیدِ وَکَانَتْ قَبْلَہُ عِنْدَ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَطَلَّقَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا۔ فَسَمَّی اللَّتَیْنِ لَمْ یُسَمِّہِمَا الزُّہْرِیُّ وَلَمْ یَذْکُرِ الْعَالِیَۃَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৩৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں اور بیٹیوں کے نام اور بیٹیوں کی شادی
(١٣٤٢٧) صالح بن محمد فرماتے ہیں : میں نے عبداللہ بن عمر بن ابان جعفی فرماتے ہیں کہ میرے ماموں حسین جعفی نے مجھ سے پوچھا : اے بیٹے ! تجھے معلوم ہے کہ سیدنا عثمان (رض) کا نام ذوالنورین کیوں ہے ؟ میں نے نفی میں جواب دیا تو انھوں نے کہا کہ زمین و آسمان کی پیدائش لے کر قیامت تک حضرت عثمان بن عفان (رض) کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے کسی کے لیے نبی کی بیٹیاں اکٹھی نہیں کیں۔ اسی لیے ان کا نام ذوالنورین ہے، امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ زینب بنت ام سلمہ (رض) نے عبداللہ بن زمعہ (رض) سے شادی کی۔ زبیر بن عوام نے اسماء بنت ابوبکر (رض) سے شادی کی اور حضرت طلحہ (رض) نے ان کی دوسری بیٹی سے شادی کی اور وہ دونوں ام المومنین کی بہنیں ہیں اور عبدالرحمن بن عوف نے جحش کی بیٹی سے شادی کی اور وہ بھی ام المومنین کی بہن ہیں۔ ان تمام دلائل سے ثابت ہوا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں۔ ان ماؤں کی بیٹیاں ان کی بہنیں نہیں ہوں گی اور نہ ان کی بہنیں ان کی خالائیں بنیں گی۔
(۱۳۴۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَصْرٍ : أَحْمَدَ بْنَ سَہْلٍ یَقُولُ سَمِعْتُ صَالِحَ بْنَ مُحَمَّدٍ یَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ الْجُعْفِیَّ یَقُولُ قَالَ لِی خَالِی حُسَیْنٌ الْجُعْفِیُّ : یَا بُنَیَّ تَدْرِی لِمَ سُمِّیَ عُثْمَانُ ذُو النُّورَیْنِ؟ قُلْتُ : لاَ أَدْرِی قَالَ : لَمْ یَجْمَعْ بَیْنَ ابْنَتِیْ نَبِیٍّ مُنْذُ خَلَقَ اللَّہُ آدَمَ إِلَی أَنْ تَقُومَ السَّاعَۃُ غَیْرُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلِذَلِکَ سُمِّیَ ذُو النُّورَیْنِ۔

(ش) قَالَ الشَّافِعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَإِنَّ زَیْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَۃَ تَزَوَّجْتْ یَعْنِی عَبْدَ اللَّہِ بْنَ زَمْعَۃَ وَإِنَّ الزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ تَزَوَّجَ أَسْمَائَ بِنْتَ أَبِی بَکْرٍ وَإِنَّ طَلْحَۃَ تَزَوَّجَ ابْنَتَہُ الأُخْرَی وَہُمَا أُخْتَا أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ تَزَوَّجَ بِنْتَ جَحْشٍ وَہِیَ أُخْتُ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ زَیْنَبَ یَعْنِی ابْنَۃَ جَحْشٍ أُمَّ حَبِیبَۃَ بِنْتَ جَحْشٍ وَذَلِکَ بَیِّنٌ فِی الأَحَادِیثِ۔ وَفِی کُلِّ ذَلِکَ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِیِّ -ﷺ- صِرْنَ أُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِینَ وَلَمْ تَصِرْ بَنَاتُہُنَّ أَخَوَاتِہِمْ وَلاَ أَخَوَاتُہُنَّ خَالاَتِہِمْ وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৩৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اے نبی کی بیویو ! تم عام عورتوں میں سے کسی کی طرح نہیں ہو اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو “

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ : فَأَبَانَہُنَّ بِہِ مِنْ نِسَائِ الْعَالَمِینَ
(١٣٤٢٨) مقاتل بن سلیمان سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی کی بیویوں کی جماعت ! تم وحی کو دیکھتی ہو اور لوگوں کی نسبت تقوی کی زیادہ حق دار ہو اور اس سے پہلے فرمایا : { یَا نِسَائَ النَّبِیِّ مَنْ یَأْتِ مِنْکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } [الاحزاب ] معقل فرماتے ہیں : فاحشہ سے مراد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی ہے۔ آگے آیت ذکر کر کے فرمایا : دگنے عذاب سے مراد آخرت میں ہے اور ” یہ اللہ پر بہت آسان ہے “ یعنی اسے عذاب دینا اللہ پر اللہ پر آسان ہے اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور نیک اعمال کرے تو ہم اسے دو مرتبہ اجر دیں گے یعنی آخرت میں ہر نماز، روزے، صدقہ، تکبیر و تسبیح غرض ہر نیکی کا اجر بیس نیکیوں کے برابر دیں گے اور ہم نے ان کے لیے عمدہ رزق تیار کر رکھا ہے یعنی اچھا رزق جنت میں۔
(۱۳۴۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الإِمَامُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ الْحَسَنِ السَّقَطِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ثَابِتٍ أَخْبَرَنِی أَبِی عَنِ الْہُذَیْلِ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ سُلَیْمَانَ قَالَ یَعْنِی اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّکُنَّ مَعْشَرَ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ -ﷺ- تَنْظُرْنَ إِلَی الْوَحْیِ فَأَنْتُنَّ أَحَقُّ النَّاسِ بِالتَّقْوَی وَقَالَ قَبْلَہُ {یَا نِسَائَ النَّبِیِّ مَنْ یَأْتِ مِنْکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ} قَالَ مُقَاتِلٌ یَعْنِی الْعِصْیَانَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- {یُضَاعَفْ لَہَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ} فِی الآخِرَۃِ {وَکَانَ ذَلِکَ عَلَی اللَّہِ یَسِیرًا} یَقُولُ وَکَانَ عَذَابُہَا عَلَی اللَّہِ ہَیِّنًا {وَمَنْ یَقْنُتْ مِنْکُنَّ لِلَّہِ وَرَسُولِہِ} یَعْنِی وَمَنْ یُطِعْ مِنْکُنَّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ {وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُؤْتِہَا أَجْرَہَا مَرَّتَیْنِ} فِی الآخِرَۃِ بِکُلِّ صَلاَۃٍ أَوْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ تَکْبِیرَۃٍ أَوْ تَسْبِیحَۃٍ بِاللِّسَانِ مَکَانَ کُلِّ حَسَنَۃٍ تُکْتَبُ عِشْرِینَ حَسَنَۃً {وَأَعْتَدْنَا لَہَا رِزْقًا کَرِیمًا} یَعْنِی حَسَنًا وَہِیَ الْجَنَّۃُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৩৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترجمہ نہیں ہے
(١٣٤٢٩) عطاء کہتے ہیں کہ ہم ابن عباس (رض) کے ساتھ میمونہ کے جنازے میں گئے، سدف نامی جگہ میں، ابن عباس (رض) نے کہا کہ یہ میمونہ (رض) ہے۔ جب اس کی میت کو اٹھاؤ تو تم زیادہ حرکت نہ دو اور نہ ہلاؤ بلکہ نرمی سے لے کر جاؤ، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نو بیویاں تھیں، باری لگاتے آٹھ کی اور ایک کی باری نہ لگاتے تھے۔

عطاء کہتے ہیں کہ جس کی باری نہیں لگاتے تھے وہ صفیہ (رض) تھیں۔ بقیہ موصول شدہ روایات اس پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ سودہ تھیں ۔ انھوں نے اپنا دن عائشہ کو ہدیہ کردیا تھا۔
(۱۳۴۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ قَالَ : حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا جَنَازَۃَ مَیْمُونَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِسَرِفَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ہَذِہِ مَیْمُونَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا إِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَہَا فَلاَ تُزَعْزِعُوا وَلاَ تُزَلْزِلُوا ارْفُقُوا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ عِنْدَہُ تِسْعُ نِسْوَۃٍ یَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَوَاحِدَۃٌ لَمْ یَکُنْ یَقْسِمُ لَہَا۔ قَالَ عَطَاء ٌ : وَالَّتِی لَمْ یَکُنْ یَقْسِمُ لَہَا صَفِیَّۃُ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ ہَکَذَا یَقُولُ عَطَاء ٌ : إِنَّ الَّتِی لَمْ یَقْسِمْ لَہَا صَفِیَّۃُ۔ وَالأَخْبَارُ الْمَوْصُولَۃُ تَدُلُّ عَلَی أَنَّہَا سَوْدَۃُ حَیْثُ وَہَبَتْ یَوْمَہَا مِنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔ [صحیح۔ بخاری ۵۰۶۷۔ مسلم ۱۴۶۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৩৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترجمہ نہیں ہے
(١٣١٣٠) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس مرض میں سوال کرتے تھے جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوئے کہ میں کل کہاں ہوں گا ؟ میں کل کہاں ہوں گا ؟ وہ عائشہ (رض) کا ارادہ کرتے تھے، یعنی ان کی باری کا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں نے اجازت دے دی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جہاں چاہیں رہ سکتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات بھی عائشہ (رض) کے گھر میں ہوئی، سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس دن فوت ہوئے جب باری میری تھی، میرے گھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فوت کیا گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سر مبارک میرے سینے اور ٹھوڑی کے درمیان تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تھوک اور میری تھوک بھی مل گئی، فرماتی ہیں کہ ابوبکر بن عبدالرحمن داخل ہوئے اور ان کے پاس مسواک تھی جو وہ کر رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی طرف دیکھا، میں نے کہا : اے عبدالرحمن ! مجھے مسواک دینا، میں نے اس کو نرم کیا، پھر اس کو چبایا اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دے دیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسواک کیا، اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے سینے سے ٹیک لگانے والے تھے۔
(۱۳۴۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِیُّ حَدَّثَنَا جَدِّی حَدَّثَنِی ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبِی عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَسْأَلُ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ أَیْنَ أَنَا غَدًا أَیْنَ أَنَا غَدًا یُرِیدُ یَوْمَ عَائِشَۃَ فَأَذِنَ لَہُ أَزْوَاجُہُ یَکُونُ حَیْثُ شَائَ فَکَانَ فِی بَیْتِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا حَتَّی مَاتَ عِنْدَہَا -ﷺ- قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَمَاتَ فِی الْیَوْمِ الَّذِی کَانَ یَدُورُ عَلَیَّ فِی بَیْتِی فَقُبِضَ وَإِنَّ رَأْسَہُ لَبَیْنَ سَحْرِی وَنَحْرِی وَخَالَطَ رِیقُہُ رِیقِی قَالَتْ دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ وَمَعَہُ سِوَاکٌ یَسْتَنُّ بِہِ فَنَظَرَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ لَہُ : أَعْطِنِی ہَذَا السِّوَاکَ یَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْطَانِیہِ فَقَضَمْتُہُ ثُمَّ مَضَغْتُہُ فَأَعْطَیْتُہُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَاسْتَنَّ بِہِ وَہُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَی صَدْرِی -ﷺ-۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ ہِشَامٍ۔

[صحیح۔ بخاری ۴۴۵۰۔ مسلم ۱۴۶۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৩৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترجمہ نہیں ہے
(١٣٤٣١) عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن اس آیت کے نازل ہونے کے بعد اجازت دی : { تُرْجِی مَنْ تَشَائُ مِنْہُنَّ وَتُؤْوِی إِلَیْکَ مَنْ تَشَائُ } [الاحزاب ] معاذۃ نے کہا کہ پھر تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیا کہا، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں اجازت دی تو حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ میں اپنے اوپر کسی کو ترجیح نہیں دیتی۔
(۱۳۴۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ وَأَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ عَنْ مُعَاذَۃَ الْعَدَوِیَّۃِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَسْتَأْذِنُنَا فِی یَوْمِ إِحْدَانَا بَعْدَ مَا أُنْزِلَتْ {تُرْجِی مَنْ تَشَائُ مِنْہُنَّ وَتُؤْوِی إِلَیْکَ مَنْ تَشَائُ } فَقَالَتْ لَہَا مُعَاذَۃُ : فَمَا کُنْتِ تَقُولِینَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا اسْتَأْذَنَ قَالَتْ : أَقُولُ إِنْ کَانَ ذَاکَ إِلَیَّ لَمْ أُوثِرْ عَلَی نَفْسِی أَحَدًا۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ عَنْ سُرَیْجِ بْنِ یُونُسَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہِ : وَکَانَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَیْنَہُنَّ فَأَیَّتُہُنَّ خَرَجَ سَہْمُہَا خَرَجَ بِہَا۔[بخاری ۴۷۸۹۔ مسلم ۱۴۷۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৩৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترجمہ نہیں ہے
(١٣٤٣٢) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تھے جس بیوی کا قرعہ نکل آتا اس کو اپنے ساتھ لے جاتے۔
(۱۳۴۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الشَّہِیدُ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ الْعَتَکِیُّ حَدَّثَنَا فُلَیْحُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ وَسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَعَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصٍ وَعُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَرَضِیَ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- إِذَا أَرَادَ أَنْ یَخْرُجَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَیْنَ أَزْوَاجِہِ فَأَیَّتُہُنَّ خَرَجَ سَہْمُہَا خَرَجَ بِہَا مَعَہُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَہَذَا لِکُلِّ مَنْ لَہُ أَزْوَاجٌ مِنَ النَّاسِ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ وَمِنْ ذَلِکَ أَنَّہُ أَرَادَ فِرَاقَ سَوْدَۃَ فَقَالَتْ : لاَ تُفَارِقْنِی وَدَعْنِی حَتَّی یَحْشُرَنِی اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِی أَزْوَاجِکَ وَأَنَا أَہَبُ یَوْمِی وَلَیْلَتِی لأُخْتِی عَائِشَۃَ۔ [بخاری، مسلم ۱۴۷۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৩৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترجمہ نہیں ہے
(١٣٤٣٣) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے سودہ (رض) سے بڑھ کر کسی کو مضبوط جسم والی نہیں دیکھا، جس میں تیزی ہو۔ جب وہ بوڑھی ہوگئی تو اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں اپنی باری عائشہ کو دیتی ہوں تو اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عائشہ (رض) کے لیے دو دن مقرر کرتے، ایک ان کا اپنا اور ایک سودہ (رض) کا۔
(۱۳۴۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی بْنِ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا جَریِرٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : مَا رَأَیْتُ امْرَأَۃً فِی مِسْلاَخِہَا مِثْلَ سَوْدَۃَ مِنِ امْرَأَۃٍ فِیہَا حِدَّۃٌ فَلَمَّا کَبِرَتْ قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ جَعَلْتُ یَوْمِی مِنْکَ لِعَائِشَۃَ فَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقْسِمُ لِعَائِشَۃَ یَوْمَیْنِ یَوْمَہَا وَیَوْمَ سَوْدَۃَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَریِرٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مُخْتَصَرًا مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ ہِشَامٍ۔

[بخاری ۵۲۱۲۔ مسلم ۱۴۶۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৪০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترجمہ نہیں ہے
(١٣٤٣٤) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ اے میری بھتیجی ! نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تقسیم میں کسی کو کسی پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور بہت کم یہ بات ہوتی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام بیویوں کے پاس اکٹھا چلے جاتے اور ہر عورت کے قریب جاتے بغیر چھونے کے یہاں تک کہ وہ دن آجاتا، جس دن اس کی باری ہوتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس رات گزارتے۔ البتہ جب سودہ (رض) بوڑھی ہوگئی اور اس نے سمجھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے علیحدہ ہوجائیں گے تو اس نے کہا کہ میری باری عائشہ (رض) کو دے دیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی یہ بات قبول کرلی۔
(۱۳۴۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَہَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : یَا ابْنَ أُخْتِی کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لاَ یُفَضِّلُ بَعْضَنَا عَلَی بَعْضٍ فِی الْقَسْمِ مِنْ مُکْثِہِ عِنْدَنَا وَکَانَ قَلَّ یَوْمٌ إِلاَّ وَہُوَ یَطُوفُ عَلَیْنَا جَمِیعًا فَیَدْنُو مِنْ کُلِّ امْرَأَۃٍ مِنْ غَیْرِ مَسِیسٍ حَتَّی یَبْلُغَ الَّذِی ہُوَ یَوْمُہَا فَیَبِیتُ عِنْدَہَا وَلَقَدْ قَالَتْ سَوْدَۃُ بِنْتُ زَمْعَۃَ حِینَ أَسَنَّتْ وَفَرِقَتْ أَنْ یُفَارِقَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : یَا رَسُولَ اللَّہِ یَوْمِی لِعَائِشَۃَ فَقَبِلَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْہَا قَالَ تَقُولُ فِی ذَلِکَ : أَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی وَفِی أَشْبَاہِہَا أُرَاہُ قَالَ {وَإِنِ امْرَأَۃٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِہَا نُشُوزًا} الآیَۃَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৪১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترجمہ نہیں ہے
(١٣٤٣٥) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سودہ (رض) کو طلاق دی، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لیے نکلے تو اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کپڑے سے پکڑ لیا اس نے کہا کہ مجھے کسی آدمی کی ضرورت نہیں ہے، میں چاہتی ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی بن کر اٹھوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے رجوع کرلیا اور اس کی باری عائشہ (رض) کے لیے مقرر کردی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے دو دن تقسیم کیے، ایک دن ان کا اور ایک سودہ (رض) کا۔
(۱۳۴۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- طَلَّقَ سَوْدَۃَ فَلَمَّا خَرَجَ إِلَی الصَّلاَۃِ أَمْسَکَتْ بِثَوْبِہِ فَقَالَتْ : مَا لِی فِی الرِّجَالِ حَاجَۃٌ لَکِنِّی أُرِیدُ أَنْ أُحْشَرَ فِی أَزْوَاجِکَ قَالَ فَرَجَعَہَا وَجَعَلَ یَوْمَہَا لِعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَکَانَ یَقْسِمُ لَہَا بِیَوْمِہَا وَیَوْمِ سَوْدَۃَ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہِ : وَقَدْ فَعَلَتِ ابْنَۃُ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَۃَ شَبِیہًا بِہَذَا حِینَ أَرَادَ زَوْجُہَا طَلاَقَہَا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৪২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترجمہ نہیں ہے
(١٣٤٣٦) رافع بن خدیج فرماتے ہیں : آپ نے انھیں بڑھاپے یا کسی اور وجہ سے ناپسند کیا تو انھیں طلاق دینے کا ارادہ کیا۔ اس نے کہا : مجھے طلاق مت دیجیے اور میرے لیے جب چاہیے تقسیم فرما لیجیے۔ پھر آپ دونوں نے صلح کرلی، پھر یہ سنت جاری ہوگئی اور یہ آیت نازل ہوئی : { وَإِنِ امْرَأَۃٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِہَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا } ۔
(۱۳۴۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ : کَانَتِ ابْنَۃُ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَۃَ عِنْدَ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ فَکَرِہَ مِنْہَا إِمَّا کِبَرًا وَإِمَّا غَیْرَ ذَلِکَ فَأَرَادَ طَلاَقَہَا فَقَالَتْ : لاَ تُطَلِّقْنِی وَأَمْسِکْنِی وَاقْسِمْ لِی مَا شِئْتَ فَاصْطَلَحَا عَلَی صُلْحٍ فَجَرَتِ السَّنَّۃُ بِذَلِکَ وَنَزَلَ الْقُرْآنُ {وَإِنِ امْرَأَۃٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِہَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا} ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৪৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترجمہ نہیں ہے
(١٣٤٣٧) ام حبیبہ بنت ابوسفیان فرماتی ہیں کہ اے اللہ کے رسول ! کیا آپ ہماری بہن سفیان کی بیٹی کا ارادہ رکھتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : کیا مطلب ؟ اس نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے شادی کریں گے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : جو تیری بہن ہے۔ آپ نے کہا : کیا تو پسند کرتی ہے ؟ اس نے کہا : جی ہاں۔ میں خود غرض نہیں ہوں اور مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میری بہن شادی کرے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ میں نے کہا : مجھے پتا چلا ہے کہ آپ ابوسلمہ کی بیٹی سے شادی کرنے والے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : ابو سلمہ کی بیٹی ؟ ام المومنین نے کہا : جی ہاں۔ آپ نے کہا : قسم بخدا اگر وہ میری پرورش میں گود میں نہ ہوتی تو وہ میرے لیے حلال ہوتی، وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے مجھے اور اس کے باپ کو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے، میرے پاس اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے شادی کے پیغام نہ بھیجا کرو۔
(۱۳۴۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّ حَبِیبَۃَ بِنْتِ أَبِی سُفْیَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلْ لَکَ فِی أُخْتِی بِنْتِ أَبِی سُفْیَانَ فَقَالَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- : فَاعِلٌ مَاذَا؟ ۔ قَالَتْ : تَنْکِحُہَا قَالَ : أُخْتُکِ ۔

قَالَتْ : نَعَمْ قَالَ : أَوَتُحِبِّینَ ذَلِکَ ۔ قَالَتْ : نَعَمْ لَسْتُ لَکَ بِمُخْلِیَۃٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَرِکَنِی فِی خَیْرٍ أُخْتِی قَالَ : فَإِنَّہَا لاَ تَحِلُّ لِی ۔ قَالَتْ فَقُلْتُ : فَوَاللَّہِ لَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّکَ تَخْطُبُ ابْنَۃَ أَبِی سَلَمَۃَ قَالَ : ابْنَۃَ أُمِّ سَلَمَۃَ ۔

قَالَتْ : نَعَمْ قَالَ : فَوَاللَّہِ لَوْ لَمْ تَکُنْ رَبِیبَتِی فِی حَجْرِی مَا حَلَّتْ لِی إِنَّہَا لاَبْنَۃُ أَخِی مِنَ الرَّضَاعَۃِ أَرْضَعَتْنِی وَأَبَاہَا ثُوَیْبَۃُ فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَیَّ بَنَاتِکُنَّ وَلاَ أَخَوَاتِکُنَّ ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامٍ وَالزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ۔ [بخاری، مسلم ۱۴۴۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৪৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترجمہ نہیں ہے
(١٣٤٣٨) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ قریش میں زیادہ عمدگی پاتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : کیا تمہارے پاس کچھ ہے ؟ ہم نے کہا : جی ہاں، حمزہ (رض) کی بیٹی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، میرے لیے حلال نہیں۔
(۱۳۴۳۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیِّ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا لَکَ تَنَوَّقُ فِی قُرَیْشٍ وَتَدَعُنَا قَالَ : وَعِنْدَکُمْ شَیْء ٌ ۔

قَالَ قُلْنَا : نَعَمِ ابْنَۃُ حَمْزَۃَ قَالَ فَقَالَ : إِنَّہَا لاَ تَحِلُّ لِی ہِیَ ابْنَۃُ أَخِی مِنَ الرَّضَاعَۃِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ۔ [مسلم ۱۴۴۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৪৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خصوصیت کی اقتدا نہیں کی جائے گی اس کے علاوہ دوسری چیزوں میں اقتدا کی جائے گی
(١٣٤٣٩) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) کو حکم دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھائے لمبی حدیث ذکر کی۔ پھر فرمایا : راوی نے کہا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی جگہ پر ٹھہرے رہے اور حجرے کی ایک طرف بیٹھ گئے اور فتنہ سے ڈراتے تھے اور فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نہیں روکتا لوگوں کو کسی چیز سے مگر میں وہ چیز حلال کرتا ہوں جس کو اللہ پاک نے حلال کیا ہے اور میں نہیں حرام کرتا مگر اس چیز کو جس کو اللہ پاک نے اپنی کتاب میں حرام کیا ہے۔
(۱۳۴۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ سَعِیدٍ یَقُولُ حَدَّثَنِی ابْنُ أَبِی مُلَیْکَۃَ أَنَّ عُبَیْدَ بْنَ عُمَیْرٍ اللَّیْثِیَّ حَدَّثَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَمَرَ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنْ یُصَلِّیَ بِالنَّاسِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ فَمَکَثَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَکَانَہُ وَجَلَسَ إِلَی جَنْبِ الْحُجَرِ یُحَذِّرُ الْفِتَنَ وَقَالَ : إِنِّی وَاللَّہِ لاَ یُمْسِکُ النَّاسُ عَلَیَّ بِشَیْئٍ إِلاَّ أَنِّی لاَ أُحِلُّ إِلاَّ مَا أَحَلَّ اللَّہُ فِی کِتَابِہِ وَلاَ أُحَرِّمُ إِلاَّ مَا حَرَّمَ اللَّہُ فِی کِتَابِہِ ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৪৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خصوصیت کی اقتدا نہیں کی جائے گی اس کے علاوہ دوسری چیزوں میں اقتدا کی جائے گی
(١٣٤٤٠) ایضاً
(۱۳۴۴۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ بِإِسْنَادِہِ یَعْنِی عَنْ طَاوُسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ یُمْسِکَنَّ النَّاسُ عَلَیَّ بِشَیْئٍ وَإِنِّی لاَ أُحِلُّ لَہُمْ إِلاَّ مَا أَحَلَّ اللَّہُ لَہُمْ وَلاَ أُحَرِّمُ عَلَیْہِمْ إِلاَّ مَا حَرَمَّ اللَّہُ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : ہَذَا مُنْقَطِعٌ وَلَوْ ثَبَتَ فَبَیِّنٌ فِیہِ أَنَّہُ عَلَی مَا وَصَفْتُ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی قَالَ : لاَ یُمْسِکَنَّ النَّاسُ عَلَیَّ وَلَمْ یَقُلْ لاَ یُمْسِکُوا عَنِّی بَلْ قَدْ أَمَرَ بِأَنْ یُمْسَکَ عَنْہُ وَأَمَرَ اللَّہُ جَلَّ ثَنَاؤُہُ بِذَلِکَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৪৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خصوصیت کی اقتدا نہیں کی جائے گی اس کے علاوہ دوسری چیزوں میں اقتدا کی جائے گی
(١٣٤٤١) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں نہ پاؤں تم میں سے کسی کو کہ وہ ٹیک لگانے والا ہو اپنے تکیے پر اور اس کے پاس معاملہ آئے جس کا میں نے حکم دیا ہو یا ایسا معاملہ جس سے میں نے منع کیا ہو اور وہ کہے کہ میں تو صرف اس کی اتباع کروں گا جو ہم نے کتاب اللہ میں پایا ہے۔
(۱۳۴۴۱) قَالَ الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ أَبِی النَّضْرِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ أُلْفِیَنَّ أَحَدَکُمْ مُتَّکِئًا عَلَی أَرِیکَتِہِ یَأْتِیہِ الأَمْرُ مِمَّا أَمَرْتُ بِہِ أَوْ نَہَیْتُ عَنْہُ فَیَقُولُ : لاَ أَدْرِی مَا وَجَدْنَا فِی کِتَابِ اللَّہِ اتَّبَعْنَاہُ ۔

(ش) قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : فَقَدْ أَمَرَ بِاتِّبَاعِ مَا أَمَرَ بِہِ وَاجْتِنَابِ مَا نَہَی عَنْہُ وَفَرَضَ اللَّہُ ذَلِکَ فِی کِتَابِہِ عَلَی خَلْقِہِ وَمَا فِی أَیْدِی النَّاسِ مِنْ ہَذَا إِلاَّ مَا تَمَسَّکُوا بِہِ عَنِ اللَّہِ ثُمَّ عَنِ رَسُولِہِ -ﷺ- ثُمَّ عَنْ دَلاَلَتِہِ وَلَکِنْ قَوْلُہُ إِنْ کَانَ قَالَہُ لاَ یُمْسِکَنَّ النَّاسُ عَلَیَّ بِشَیْئٍ یَدُلُّ عَلَی أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- إِذَا کَانَ بِمَوْضِعِ الْقُدْوَۃِ فَقَدْ کَانَتْ لَہُ خَوَاصٌّ أُبِیحَ لَہُ فِیہَا مَا لَمْ یُبَحْ لِلنَّاسِ وَحَرُمَ عَلَیْہِ فِیہَا مَا لَمْ یَحْرُمْ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ : لاَ یُمْسِکَنَّ النَّاسُ عَلَیَّ بِشَیْئٍ مِنَ الَّذِی لِی أَوْ عَلَیَّ دُونَہُمْ فَإِنْ کَانَ مِمَّا عَلَیَّ وَلِی دُونَہُمْ فَلاَ یُمْسِکَنَّ بِہِ ۔ وَذَلِکَ مِثْلُ أَنَّ اللَّہَ جَلَّ ثَنَاؤُہُ أَحَلَّ لَہُ مِنْ عَدَدِ النِّسَائِ مَا شَائَ وَأَنْ یَسْتَنْکِحَ الْمَرْأَۃَ إِذَا وَہَبَتْ نَفْسَہَا لَہُ وَقَالَ اللَّہُ تَعَالَی (خَالِصَۃً لَکَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِینَ) فَلَمْ یَکُنْ لأَحَدٍ أَنْ یَقُولَ : قَدْ جَمَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بَیْنَ أَکْثَرَ مِنْ أَرْبَعٍ وَنَکَحَ امْرَأَۃً بِغَیْرِ مَہْرٍ وَأَخَذَ صَفِیًّا مِنَ الْمَغْنَمِ وَکَانَ لَہُ خُمُسُ الْخُمُسِ فَلاَ یَکُونُ ذَلِکَ لِلْمُؤْمِنِینَ بَعْدَہُ وَلاَ لِوُلاَتِہِمْ کَمَا یَکُونُ لَہُ لأَنَّ اللَّہَ قَدْ بَیَّنَ فِی کِتَابِہِ وَعَلَی لِسَانِ رَسُولِہِ -ﷺ- أَنَّ ذَلِکَ لَہُ دُونَہُمْ وَفَرَضَ اللَّہُ أَنْ یُخَیِّرَ أَزْوَاجَہُ فِی الْمُقَامِ مَعَہُ أَوِ الْفِرَاقِ فَلَمْ یَکُنْ لأَحَدٍ أَنْ یَقُولَ عَلَیَّ أَنْ أُخَیِّرَ امْرَأَتِی عَلَی مَا فَرَضَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ -ﷺ- وَہَذَا مَعْنَی قَوْلِ النَّبِیِّ -ﷺ- إِنْ کَانَ قَالَہُ: لاَ یُمْسِکَنَّ النَّاسُ عَلَیَّ بِشَیْئٍ۔ قَالَ الشَّیْخُ: وَإِنَّمَا تَوَقَّفَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی صِحَّۃِ الْخَبَرِ فَقَالَ : إِنْ کَانَ قَالَہُ لأَنَّ الْحَدِیثَ مُرْسَلٌ وَلَیْسَ مَعَہُ مَا یُؤَکِّدُہُ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ مَحْمُولاً عَلَی مَا قَالَہُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فَیَکُونُ وَاضِحًا وَلِلأُصُولِ مُوَافِقًا۔[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৪৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خصوصیت کی اقتدا نہیں کی جائے گی اس کے علاوہ دوسری چیزوں میں اقتدا کی جائے گی
(١٣٤٤٢) خیبر والے دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ چیزیں حرام قرار دیں، ان میں گھریلو گدھا وغیرہ بھی تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ قریب ہے کہ آدمی اپنے تکیے پر بیٹھے گا حدیث بیان کرنے والا میری حدیث بیان کرے گا اور وہ کہے گا کہ میرے درمیان اور تمہارے درمیان کتاب اللہ (کافی) ہے، ہم جو کتاب اللہ میں پائیں گے جو وہ حلال کرے گا ہم اس کو حلال سمجھیں گے اور جس کو وہ حرام کہے گا ہم اس کو حرام سمجھیں گے، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی حرام کیا چیزوں کو جس طرح اللہ پاک نے حرام قرار دیا۔
(۱۳۴۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ أَنَّ مُعَاوِیَۃَ بْنَ صَالِحٍ أَخْبَرَہُ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ جَابِرٍ أَنَّہُ سَمِعَ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِیکَرِبَ الْکِنْدِیَّ صَاحِبَ النَّبِیَّ -ﷺ- یَقُولُ : حَرَّمَ النَّبِیُّ -ﷺ- أَشْیَائَ یَوْمَ خَیْبَرَ مِنْہَا الْحِمَارُ الأَہْلِیُّ وَغَیْرُہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : یُوشِکُ أَنْ یَقْعُدَ الرَّجُلُ مِنْکُمْ عَلَی أَرِیکَتِہِ یُحَدِّثُ بِحَدِیثِی فَیَقُولُ بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ کِتَابُ اللَّہِ فَمَا وَجَدْنَا فِیہِ حَلاَلاً اسْتَحْلَلْنَاہُ وَمَا وَجَدْنَا فِیہِ حَرَامًا حَرَّمْنَاہُ وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- کَمَا حَرَّمَ اللَّہُ عَزَّوَجَلَّ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ۔[صحیح لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৪৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خصوصیت کی اقتدا نہیں کی جائے گی اس کے علاوہ دوسری چیزوں میں اقتدا کی جائے گی
(١٣٤٤٣) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں میں نے چھوڑی کوئی چیز تمہارے درمیان جس کا اللہ نے حکم دیا ہو علاوہ اس چیز کے جس کا مجھے بھی حکم دیا ہے اور میں نے تمہارے درمیان کوئی چیز نہیں چھوڑی جس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہو مگر جس سے مجھے بھی منع کیا ہو۔
(۱۳۴۴۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِی عَمْرٍو عَنِ الْمُطَّلِبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : مَا تَرَکْتُ شَیْئًا مِمَّا أَمَرَکُمُ اللَّہُ بِہِ إِلاَّ وَقَدْ أَمَرْتُکُمْ بِہِ وَلاَ تَرَکْتُ شَیْئًا مِمَّا نَہَاکُمُ اللَّہُ عَنْہُ إِلاَّ وَقَدْ نَہَیْتُکُمْ عَنْہُ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہِ : فَمَا لَمْ یَکُنْ فِیہِ وَحْیٌ فَقَدْ فَرَضَ اللَّہُ فِی الْوَحْیِ اتِّبَاعَ سُنَّتِہِ فَمَنْ قَبِلَ عَنْہُ فَإِنَّمَا قَبِلَ بِفَرْضِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৫০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نکاح کی ترغیب کا بیان
(١٣٤٤٤) زر بن حبیش اسدی فرماتے ہیں کہ مجھے عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا : حفدۃ کیا ہوتا ہے ؟ میں نے کہا : آدمی کی اولاد تو انھوں نے کہا کہ بلکہ اس کی بہنیں حفدۃ کہلاتی تھیں۔
(۱۳۴۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ شُعَیْبٍ أَخْبَرَنِی شَیْبَانُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِی النَّجُودِ أَنَّہُ حَدَّثَہُمْ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ الأَسَدِیِّ قَالَ قَالَ لِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ مَا الْحَفَدَۃُ؟ قَالَ قُلْتُ : وَلَدُ الرَّجُلِ قَالَ : لاَ وَلَکِنَّہُ الأَخْتَانُ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৫১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نکاح کی ترغیب کا بیان
(١٣٤٤٥) ایضاً
(۱۳۴۴۵) وَرَوَاہُ ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَاصِمٍ فَقَالَ : لاَ۔ ہُمُ الأَصْہَارُ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক: