আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৮৮ টি
হাদীস নং: ৯১৭১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم نہ نکاح پڑھائے نہ کروائے
(٩١٦٦) قدامہ بن موسیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے حالت احرام میں شادی کرلی، پھر سعید بن مسیب سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا : دونوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے۔
(۹۱۶۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَبُوالْقَاسِمِ الطَّبَرَانِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ قُدَامَۃَ بْنِ مُوسَی قَالَ: تَزَوَّجْتُ وَأَنَا مُحْرِمٌ فَسَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ فَقَالَ: یُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا۔[صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৭২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم نہ نکاح پڑھائے نہ کروائے
(٩١٦٧) سعید بن مسیب (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حالت احرام میں شادی کرلی تو اہل مدینہ نے اسی بات پر اتفاق کیا کہ ان دونوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے۔
(۹۱۶۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ رَجُلاً تَزَوَّجَ وَہُوَ مُحْرِمٌ فَأَجْمَعَ أَہْلُ الْمَدِینَۃِ عَلَی أَنْ یُفَرَّقَ بَیْنَہُمَا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৭৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج میں جماع، فسق اور جھگڑا نہیں
(٩١٦٨) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اس گھر کا حج کیا اور جماع نہ کیا اور گناہ والا کام بھی نہ کیا تو وہ اس دن کی طرح لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا۔
(۹۱۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدُ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ حَجَّ ہَذَا الْبَیْتَ فَلَمْ یَرْفُثْ وَلَمْ یَفْسُقْ رَجَعَ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْفِرْیَابِیُّ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الثَّوْرِیِّ۔
[صحیح۔ بخاری ۱۷۲۴۔ مسلم ۱۳۵۰]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْفِرْیَابِیُّ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الثَّوْرِیِّ۔
[صحیح۔ بخاری ۱۷۲۴۔ مسلم ۱۳۵۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৭৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج میں جماع، فسق اور جھگڑا نہیں
(٩١٦٩) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : رفث کا معنی ہے جماع، اور فسوق : شکار کرنا یا دیگر گناہ اور جدال ، سب وشتم اور جھگڑا۔
(۹۱۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : الرَّفَثُ : الْجِمَاعُ وَالْفُسُوقُ : مَا أُصِیبَ مِنْ مَعَاصِی اللَّہِ مِنْ صَیْدٍ أَوْ غَیْرِہِ وَالْجِدَالُ : السِّبَابُ وَالْمُنَازَعَۃُ۔
وَقَدْ مَضَی فِی ہَذَا الْکِتَابِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ : الرَّفَثُ : الْجِمَاعُ ، وَالْفُسُوقُ : الْمَعَاصِی وَالْجِدَالُ : الْمِرَائُ۔ [حسن لغیرہ۔ حاکم ۲/ ۳۰۳]
وَقَدْ مَضَی فِی ہَذَا الْکِتَابِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ : الرَّفَثُ : الْجِمَاعُ ، وَالْفُسُوقُ : الْمَعَاصِی وَالْجِدَالُ : الْمِرَائُ۔ [حسن لغیرہ۔ حاکم ۲/ ۳۰۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৭৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج میں جماع، فسق اور جھگڑا نہیں
(٩١٧٠) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رفث جماع ہے، فسوق گالیاں ہیں اور جدال یہ ہے کہ کو اپنے ساتھی سے اتنا جھگڑے کہ اس کو غصہ دلا دے۔
(۹۱۷۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ خُصَیْفٍ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : الرَّفَثُ: الْجِمَاعُ ، وَالْفُسُوقُ : السِّبَابُ وَالْجِدَالُ : أَنْ تُمَارِیَ صَاحِبَکَ حَتَّی تُغْضِبَہُ۔
[صحیح لغیرہ۔ ابو یعلی ۲۷۰۹۔ ابن ابی شیبہ ۱۳۲۲۵]
[صحیح لغیرہ۔ ابو یعلی ۲۷۰۹۔ ابن ابی شیبہ ۱۳۲۲۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৭৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج میں جماع، فسق اور جھگڑا نہیں
(٩١٧١) ابن عباس (رض) اللہ تعالیٰ کے فرمان :{ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ رفث عورتوں سے جماع ہے اور فسوق اللہ کی نافرمانی اور جدال لوگوں سے جھگڑا ہے۔
(۹۱۷۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ {فَلاَ رَفَثَ وَلاَ فُسُوقَ وَلاَ جِدَالَ فِی الْحَجِّ} [البقرۃ: ۱۹۷] قَالَ : الرَّفَثُ التَّعَرُّضُ لِلنِّسَائِ بِالْجِمَاعِ وَالْفُسُوقُ : عِصْیَانُ اللَّہِ وَالْجِدَالُ : جِدَالُ النَّاسِ۔
[صحیح لغیرہ]
[صحیح لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৭৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج میں جماع، فسق اور جھگڑا نہیں
(٩١٧٢) طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے ابن زبیر کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ محرم کے لیے اعراب حلال نہیں تو میں نے ابن عباس (رض) سے کہا : اعراب کیا ہے تو انھوں نے کہا : جماع۔
(۹۱۷۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ قَالَ سَمِعْتُ طَاوُسًا یَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَیْرِ یَقُولُ : لاَ یَحِلُّ لِلْحَرَامِ الإِعْرَابُ۔ قَالَ فَقُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا الإِعْرَابُ؟ قَالَ : التَّعَرُّضُ یَعْنِی بِالْجِمَاعِ۔ [حسن۔ تفسیر طبری ۲/ ۲۷۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৭৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج میں جماع، فسق اور جھگڑا نہیں
(٩١٧٣) ابوالعالیہ فرماتے ہیں کہ میں ابن عباس (رض) کے ساتھ چل رہا تھا جب کہ وہ محرم تھے اور وہ اونٹوں کے لیے رجزیہ اشعار پڑھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے :” اور وہ ہمارے ساتھ بھنبھناتی ہوئی چل رہی ہیں۔ اگر پرندے نے سچ کہا تو ہم جماع کریں گے۔ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا : کیا آپ حالت احرام میں رفث کریں گے تو کہنے لگے کہ رفث وہ ہے جس سے عورتیں قصد کی جائیں۔
(۹۱۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ زِیَادِ بْنِ حُصَیْنٍ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ قَالَ : کُنْتُ أَمْشِی مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَہُوَ مُحْرِمٌ وَہُوَ یَرْتَجِزُ بِالإِبِلِ وَہُوَ یَقُولُ :
وَہُنَّ یَمْشِینَ بِنَا ہَمِیسًا
قَالَ فَقُلْتُ لَہُ: أَتَرْفُثُ وَأَنْتَ مُحْرِمٌ قَالَ: إِنَّمَا الرَّفَثُ مَا رُوجِعَ بِہِ النِّسَائُ سَقَطَ مِنْ ہَذَا الْمِصْرَاعُ الآخَرُ وَہُوَ:
إِنْ تَصْدُقِ الطَّیْرُ نَنِکْ لَمِیسًا
ذَکَرَہُ الثَّوْرِیُّ وَغَیْرُہُ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ حاکم ۲/ ۳۰۳۔ ابن ابی شیبہ ۱۴۴۹۲]
وَہُنَّ یَمْشِینَ بِنَا ہَمِیسًا
قَالَ فَقُلْتُ لَہُ: أَتَرْفُثُ وَأَنْتَ مُحْرِمٌ قَالَ: إِنَّمَا الرَّفَثُ مَا رُوجِعَ بِہِ النِّسَائُ سَقَطَ مِنْ ہَذَا الْمِصْرَاعُ الآخَرُ وَہُوَ:
إِنْ تَصْدُقِ الطَّیْرُ نَنِکْ لَمِیسًا
ذَکَرَہُ الثَّوْرِیُّ وَغَیْرُہُ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ حاکم ۲/ ۳۰۳۔ ابن ابی شیبہ ۱۴۴۹۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৭৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج میں جماع، فسق اور جھگڑا نہیں
(٩١٧٤) حصین فرماتے ہیں کہ ابن عباس (رض) اپنی اونٹنی سے اترے اور اس کو رجزیہ اشعار پڑھ کر چلانے لگے اور کہہ رہے تھے : اور وہ ہمارے ساتھ بھنبھناتی ہوئی چل رہیں، اگر پرندے نے سچ کہا تو ہم جماع کریں گے۔ انھوں نے جماع کا ذکر فرمایا اور کنایہ نہیں کیا تو میں نے کہا : اے ابن عباس ! آپ رفث کہہ رہے ہیں حالاں کہ آپ محرم ہیں تو انھوں نے فرمایا : رفث وہ ہے جس کے ذریعہ عورتوں کی طرف رجوع کیا جائے۔
(۹۱۷۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا عَوْفٌ عَنْ زِیَادِ بْنِ حُصَیْنٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : نَزَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَاحِلَتِہِ فَجَعَلَ یَسُوقُہَا وَہُوَ یَرْتَجِزُ وَہُوَ یَقُولُ : وَہُنَّ یَمْشِینَ بِنَا ہَمِیسًا إِنْ تَصَدُقِ الطَّیْرُ نَفْعَلْ لَمِیسًا ذَکَرَ الْجِمَاعَ وَلَمْ یُکْنِ عَنْہُ فَقُلْتُ : یَا أَبَا عَبَّاسٍ تَقُولُ الرَّفَثَ وَأَنْتَ مُحْرِمٌ فَقَالَ : إِنَّمَا الرَّفَثُ مَا رُوجِعَ بِہِ النِّسَائُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৮০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج میں جماع، فسق اور جھگڑا نہیں
(٩١٧٥) عمر بن خطاب (رض) جب حدی خواں کو سنتے تو فرماتے : عورتوں کے ذکر سے تعریض نہ کر۔
(۹۱۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذَا سَمِعَ الْحَادِی قَالَ : لاَ تُعَرِّضْ بِذِکْرِ النِّسَائِ۔ وَکَذَا قَالَہُ وَکِیعٌ وَالزُّبَیْرِیُّ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৮১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج میں جماع، فسق اور جھگڑا نہیں
(٩١٧٦) ابن عمر (رض) منع فرماتے تھے کہ حدی خواں عورتوں کے ذکر سے تعریض کرے جب کہ وہ محرم ہو۔
(۹۱۷۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ یَعْنِی ابْنَ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : کَانَ ابْنُ عُمَرَ یَنْہَی أَنْ یُعَرِّضَ الْحَادِی بِذِکْرِ النِّسَائِ وَہُوَ مُحْرِمٌ۔ وَکَذَا قَالَہُ یَحْیَی الْقَطَّانُ وَجَمَاعَۃٌ فَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৮২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم اپنے غلام کو ادب سکھائے
(٩١٧٧) اسماء بنت ابی بکر (رض) فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حج کرنے کے لیے نکلے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) کے قافلہ کا سامان ایک ہی جگہ تھا اور ہمارا سامان ابوبکر (رض) کے غلام کے پاس تھا، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے تو عائشہ (رض) آپ کے ایک طرف بیٹھ گئیں اور ابوبکر (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دوسری جانب بیٹھ گئے اور میں اپنے والد کے ساتھ بیٹھ گئی۔ ہم ان کے غلام اور اس سامان کا انتظار کرنے لگے کہ کب آتا ہے تو وہ غلام چلتا ہوا آیا، اس کے پاس اونٹ نہیں تھا ، ابوبکر (رض) اس کو کہا : تیرا اونٹ کدھر ہے ؟ تو وہ کہنے لگا : آج رات وہ گم ہوگیا ہے، کہتی ہیں کہ ابوبکر (رض) اٹھے اور اس کو مارنے لگے اور کہنے لگے : ایک اونٹ بھی تو نے گم کردیا تو کیسا آدمی ہے ، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے زیادہ اور کچھ نہ کیا کہ آپ مسکراتے اور فرماتے تھے : اس محرم کو دیکھو یہ کیا کر رہا ہے۔
(۹۱۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الشَّیْبَانِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- حُجَّاجًا وَأَنَّ زِمَالَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَزِمَالَۃَ أَبِی بَکْرٍ وَاحِدٌ فَنَزَلْنَا الْعَرْجَ وَکَانَتْ زِمَالَتُنَا مَعَ غُلاَمِ أَبِی بَکْرٍ قَالَتْ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَجَلَسَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا إِلَی جَنْبِہِ وَجَلَسَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی جَنْبِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنَ الشِّقِّ الآخَرِ وَجَلَسْتُ إِلَی جَنْبِ أَبِی نَنْتَظِرُ غُلاَمَہُ وَزَمَالَتَہُ حَتَّی یَأْتِیَنَا فَاطَّلَعَ الْغُلاَمُ یَمْشِی وَمَا مَعَہُ بَعِیرُہُ۔ قَالَ فَقَالَ لَہُ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَیْنَ بَعِیرُکَ؟ قَالَ : أَضَلَّنِی اللَّیْلَۃَ قَالَتْ فَقَامَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَضْرِبُہُ وَیَقُولُ : بَعِیرٌ وَاحِدٌ أَضَلَّکَ وَأَنْتَ رَجُلٌ فَمَا یَزِیدُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی أَنْ یَتَبَسَّمَ وَیَقُولُ: ((انْظُرُوا إِلَی ہَذَا الْمُحْرِمِ وَمَا یَصْنَعُ))۔ [ضعیف۔ ابن خزیمہ ۲۶۷۹۔ حاکم ۱/۶۲۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৮৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم اور حلال کو اختیار ہے کہ وہ اللہ کا ذکر کریں یا دین ودنیا کی بھلائی والی بات کریں
(٩١٧٨) ابو شریح (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو اللہ اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہے، وہ اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک کرے اور جو اللہ اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔
(۹۱۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِی شُرَیْحٍ الْخُزَاعِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ فَلْیُحْسِنْ إِلَی جَارِہِ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا أَوْ لِیَصْمُتْ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ أَبِی شُرَیْحٍ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۶۷۳۔ مسلم ۴۸]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ أَبِی شُرَیْحٍ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۶۷۳۔ مسلم ۴۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৮৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم اور حلال کو اختیار ہے کہ وہ اللہ کا ذکر کریں یا دین ودنیا کی بھلائی والی بات کریں
(٩١٧٩) ابن عمر (رض) کے پاس سے ایک قوم گزری جو محرم تھی اور ان میں ایک آدمی گانا گا رہا تھا تو انھوں نے فرمایا : خبردار اللہ تمہاری نہیں سنے گا، خبردار ! اللہ تمہاری نہیں سنے گا۔
(۹۱۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ صَفْوَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی الدُّنْیَا حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَأَبُو خَیْثَمَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنِی نَافِعٌ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَرَّ عَلَیْہِ قَوْمٌ مُحْرِمُونَ وَفِیہِمْ رَجُلٌ یَتَغَنَّی۔ فَقَالَ : ألاَ لاَ سَمِعَ اللَّہُ لَکُمْ ألاَ لاَ سَمِعَ اللَّہُ لَکُمْ۔ [صحیح۔ ابن ابی الدنیا فی ذم الملاہی ۷۴/ ۱۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৮৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ کسی پر بھی شعر ونثر سے ایسی بات جس میں گناہ نہ ہو کرنے پر پابندی نہیں
(٩١٨٠) ابی بن کعب انصاری (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یقیناً بعض اشعار پر حکمت ہوتے ہیں۔
(۹۱۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْحَافِظُ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ حَدَّثَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ أَخْبَرَہُ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ یَغُوثَ أَخْبَرَہُ أَنَّ : أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ الأَنْصَارِیَّ أَخْبَرَہُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِکْمَۃً))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۷۹۳۔ ابوداود ۵۰۱۰]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۷۹۳۔ ابوداود ۵۰۱۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৮৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ کسی پر بھی شعر ونثر سے ایسی بات جس میں گناہ نہ ہو کرنے پر پابندی نہیں
(٩١٨١) عروہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شعر کلام ہے۔ اچھا شعر اچھی کلام کی طرح اور برا شعر بری کلام کی طرح ہے۔
(۹۱۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ یَعْنِی ابْنَ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((الشِّعْرُ کَلاَمٌ حَسَنُہُ کَحَسَنِ الْکَلاَمِ وَقَبِیحُہُ کَقَبِیحِہِ))۔ ہَذَا مُنْقَطِعٌ۔ [ضعیف۔ شافعی ۱۶۸۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৮৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ کسی پر بھی شعر ونثر سے ایسی بات جس میں گناہ نہ ہو کرنے پر پابندی نہیں
(٩١٨٢) عمر (رض) نے ایک شخص کو چٹیل زمین میں گنگناتے ہوئے سنا تو فرمایا : گانا سوار کا زاد راہ ہے۔
(۹۱۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّاب أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیہِ : سَمِعَ عُمَرُ رَجُلاً یَتَغَنَّی بِفَلاَۃٍ مِنَ الأَرْضِ فَقَالَ : الْغِنَائُ مِنْ زَادِ الرَّاکِبِ۔ [حسن لغیرہ۔ ابن ابی شیبۃ ۱۳۹۵۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৮৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ کسی پر بھی شعر ونثر سے ایسی بات جس میں گناہ نہ ہو کرنے پر پابندی نہیں
(٩١٨٣) عمر بن خطاب (رض) محرم تھے، اونٹنی پر سوار ہوئے تو وہ اڑی کرنے لگی، ایک قدم آگے بڑھائی تو دوسرا پیچھے کرتی تو انھوں نے کہا : ” گویا کہ اس کا سوار پنکھے کی ٹہنی ہے، جب وہ اس کو لے کر اڑ جاتا ہے یا پینے والا سست ہے “ پھر کہا : اللہ اکبر، اللہ اکبر۔
(۹۱۸۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْقَاسِمِ الأَزْرَقِیُّ عَنْ أَبِیہِ :
أَن عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَکِبَ رَاحِلَۃً لَہُ وَہُوَ مُحْرِمٌ فَتَدَلَّتْ فَجَعَلَتْ تُقَدِّمُ یَدًا وَتُؤَخِّرُ أُخْرَی قَالَ الرَّبِیعُ أَظُنُّہُ قَالَ عُمَرَ کَأَنَّ رَاکِبَہَا غُصْنٌ بِمَرْوَحَۃٍ إِذَا تَدَلَّتْ بِہِ أَوْ شَارِبٌ ثَمِلٌ ثُمَّ قَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ۔ [ضعیف۔ شافعی ۱۶۸۸]
أَن عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَکِبَ رَاحِلَۃً لَہُ وَہُوَ مُحْرِمٌ فَتَدَلَّتْ فَجَعَلَتْ تُقَدِّمُ یَدًا وَتُؤَخِّرُ أُخْرَی قَالَ الرَّبِیعُ أَظُنُّہُ قَالَ عُمَرَ کَأَنَّ رَاکِبَہَا غُصْنٌ بِمَرْوَحَۃٍ إِذَا تَدَلَّتْ بِہِ أَوْ شَارِبٌ ثَمِلٌ ثُمَّ قَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ۔ [ضعیف۔ شافعی ۱۶۸۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৮৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ کسی پر بھی شعر ونثر سے ایسی بات جس میں گناہ نہ ہو کرنے پر پابندی نہیں
(٩١٨٤) عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ عمر (رض) کے دور خلافت میں ان کے ساتھ چل رہے تھے کہ اور مہاجرین و انصار بھی ساتھ تھے، انھوں نے سُر لگا کر ایک شعر پڑھا تو ایک عراقی آدمی نے کہا : اس وقت اس کے ساتھ اور کوئی عراقی نہیں تھا کہ اے امیرالمومنین ! آپ کے علاوہ کوئی اور یہ کہتا تو عمر (رض) کو اس بات سیحیا آئی اور انھوں نے اپنی سواری کو کو بھگایا حتیٰ کہ قافلے سے جدا ہوگئی۔
(۹۱۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَیْبِ بْنِ أَبِی حَمْزَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ : أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَیَّاشٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَہُ : أَنَّہُ بَیْنَا ہُوَ یَسِیرُ مَعَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی طَرِیقِ مَکَّۃَ فِی خِلاَفَتِہِ وَمَعَہُ الْمُہَاجِرُونَ وَالأَنْصَارُ فَتَرَنَّمَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِبَیْتٍ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ لَیْسَ مَعَہُ عِرَاقِیٌّ غَیْرُہُ : غَیْرُکَ فَلْیَقُلْہَا یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ۔ فَاسْتَحْیَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ ذَلِکَ وَضَرَبَ رَاحِلَتَہُ حَتَّی انْقَطَعَتْ مِنَ الْمَوْکِبِ۔ [حسن۔ تاریخ، بخاری ۲/ ۲۷۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১৯০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ کسی پر بھی شعر ونثر سے ایسی بات جس میں گناہ نہ ہو کرنے پر پابندی نہیں
(٩١٨٥) خوات بن جبیر فرماتے ہیں کہ ہم عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ حج کرنے کے لیے نکلے تو ہم اس قافلہ میں ہو لیے جس میں ابوعبیدہ بن الجراح اور عبدالرحمن بن عوف (رض) تھے تو لوگوں نے کہا : اے خوات ! ہمیں کچھ گا کر سنا تو اس نے ان کو سنایا تو انھوں نے کہا : ہمیں ضرار کے اشعار سنا تو عمر (رض) نے کہا ابوعبداللہ کو چھوڑ دو، وہ اپنی شاعری پیش کرے تو میں ان کو سناتا رہا حتیٰ کہ جب سحر ہوئی تو عمر (رض) نے فرمایا : اے خوات ! اپنی زبان بلند کر، ہم نے سحر کرلی ہے تو ابوعبیدہ نے کہا : اس آدمی کی طرف چل، کہیں عمر سے شر نہ ہو۔ کہتے ہیں کہ میں اور ابوعبیدہ علیحدہ ہوئے حتیٰ کہ ہم نے فجر پڑھ لی۔
(۹۱۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا فُلَیْحٌ عَنْ ضَمْرَۃَ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حُذَیْفَۃَ عَنْ خَوَّاتِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : خَرَجْنَا حُجَّاجًا مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : فَسِرْنَا فِی رَکْبٍ فِیہِمْ أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ فَقَالَ الْقَوْمُ : غَنِّنَا یَا خَوَّاتُ فَغَنَّاہُمْ فَقَالُوا : غَنِّنَا مِنْ شِعْرِ ضِرَارٍ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : دَعُوا أَبَا عَبْدِ اللَّہِ یَتَغَنَّی مِنْ بُنَیَّاتِ فُؤَادِہِ یَعْنِی مِنْ شِعْرِہِ قَالَ فَما زِلْتُ أُغَنِّیہِمْ حَتَّی إِذَا کَانَ السَّحَرُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : ارْفَعْ لِسَانَکَ یَا خَوَّاتُ فَقَدْ أَسْحَرْنَا۔ فَقَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : ہَلُمَّ إِلَی رَجُلٍ أَرْجُو ألاَ یَکُونَ شَرًّا مِنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : فَتَنَحَّیْتُ وَأَبُو عُبَیْدَۃَ فَمَا زِلْنَا کَذَلِکَ حَتَّی صَلَّیْنَا الْفَجْرَ۔ [ضعیف۔ الاستیعاب لابن فیہ البر ۱/ ۱۳۵۔ تاریخ ابن عساکر ۲۵/ ۴۸۳]
তাহকীক: