আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৮৮ টি

হাদীস নং: ৯২৫১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ مکہ میں داخل ہوتے ہی جلدی طواف کرنا اور حجِ افراد یا قران کرنے والے کے حلال نہ ہونے کا بیان
(٩٢٤٦) وبرہ فرماتے ہیں کہ میں ابن عمر (رض) کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : کیا عرفات میں آنے سے پہلے بیت اللہ کا طواف کرسکتا ہوں ؟ تو انھوں نے کہا : ہاں، تو وہ کہنے لگا کہ ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ تو بیت اللہ کا طواف نہ کر حتیٰ کہ موقف میں آ، تو ابن عمر (رض) نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج کیا تو موقف میں آنے سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا تو کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان عمل پیرا ہونے کا زیادہ حق قدار ہے یا ابن عباس (رض) کا ، اگر تو سچا ہے۔
(۹۲۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْفَرَّائُ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ حَدِیثًا وَاللَّفْظُ لَہُمَا قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ أَبُو زُبَیْدٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ وَبَرَۃَ قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَجَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ : أَیَصْلُحُ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَیْتِ قَبْلَ أَنْ آتِیَ الْمَوْقِفَ فَقَالَ : نَعَمْ قَالَ : فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ لاَ تَطُفْ بِالْبَیْتِ حَتَّی تَأْتِیَ الْمَوْقِفَ۔

فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : قَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ فَطَافَ بِالْبَیْتِ قَبْلَ أَنْ یَأْتِیَ الْمَوْقِفَ فَبِقَوْلِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ أَحَقُّ أَنْ تَأْخُذَ أَوْ بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنْ کُنْتَ صَادِقًا۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۳۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৫২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کا مردوں کے ساتھ طواف کرنا
(٩٢٤٧) ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنی بیماری کا شکوہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرلے، کہتی ہیں کہ میں نے طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ کی ایک جانب نماز پڑھ رہے تھے اور اس میں سورة طور پڑھ رہے تھے۔
(۹۲۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ أَنَّہَا قَالَتْ : شَکَوْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ أَنِّی أَشْتَکِی فَقَالَ : طُوفِی مِنْ وَرَائِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاکِبَۃٌ ۔ قَالَتْ فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ حِینَئِذٍ یُصَلِّی إِلَی جَنْبِ الْبَیْتِ یَقْرُأُ بِ ((الطُّورِ وَکِتَابٍ مَسْطُورٍ))

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ۔

[صحیح۔ بخاری ۱۵۵۲۔ مسلم ۱۲۷۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৫৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کا مردوں کے ساتھ طواف کرنا
(٩٢٤٨) جب ہشام نے عورتوں کو مردوں کے ساتھ طواف کرنے سے روکا تو عطاء نے کہا : تو ان کو کیسے منع کرتا ہے جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں نے طواف کیا ہے، میں نے کہا : کیا حجاب سے پہلے یا بعد میں ؟ کہنے لگے : میری عمر کی قسم میں نے ان کو حجاب کے بعد ہی پایا ہے، میں نے کہا : وہ مردوں کے ساتھ کیسے خلط ملط ہوجاتی تھیں، کہنے لگے کہ وہ خلط ملط نہیں ہوتی تھیں، سیدہ عائشہ (رض) مردوں سے دور رہ کر طواف کرتیں، ان میں نہ گھس جاتیں ایک عورت نے کہا : اے ام المومنین ! آئیں ہم استلام کریں تو انھوں نے کہا : تو ہی چلی جا تو اس نے انکار کیا تو وہ رات کے وقت اجنبی بن کر نکلیں اور مردوں کے ساتھ طواف کیا، لیکن جب وہ بیت اللہ میں داخل ہوتیں تو کھڑی ہوجاتیں حتیٰ کہ وہ عورتیں داخل ہوجائیں اور مردوں کو نکال دیا جاتا اور میں اور سیدہ عائشہ (رض) کے پاس جاتے اور وہ ثبیر میں بیٹھی ہوتیں، میں نے کہا اور اس کا حجاب کیا ہوا ؟ انھوں نے کہا : وہ ترکی قبہ میں تھیں اور اس کا پردہ تھا ہمارے اور ان کے درمیان اس کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا اور میں نے ان پر گلابی چادر دیکھی۔
(۹۲۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ قَالَ قَالَ لِی عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنِی أَبُو عَاصِمٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَطَائٌ إِذْ مَنَعَ ابْنُ ہِشَامٍ النِّسَائَ الطَّوَافَ مَعَ الرِّجَالِ قَالَ : کَیْفَ تَمْنَعُہُنَّ وَقَدْ طَافَ نِسَائُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -؟ قُلْتُ : أَبَعْدَ الْحِجَابِ أَوْ قَبْلُ؟ قَالَ : إِی لَعَمْرِی لَقَدْ أَدْرَکْتُہُ بَعْدَ الْحِجَابِ۔ قُلْتُ : کَیْفَ یُخَالِطْنَ الرِّجَالَ؟ قَالَ : لَمْ یَکُنَّ یُخَالِطْنَ کَانَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَطُوفُ حَجْرَۃً مِنَ الرِّجَالِ لاَ تُخَالِطُہُمْ فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ : انْطَلِقِی نَسْتَلِمْ یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ قَالَتْ : انْطَلِقِی عَنْکِ فَأَبَتْ فَخَرَجْنَ مُتَنَکِّرَاتٍ بِاللَّیْلِ وَیَطُفْنَ مَعَ الرِّجَالِ وَلَکِنَّہُنَّ کُنَّ إِذَا دَخَلْنَ الْبَیْتَ قُمْنَ حَتَّی یَدْخُلْنَ وَأُخْرِجَ الرِّجَالُ وَکُنْتُ آتِی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَا وَعُبَیْدٌ وَہِیَ مُجَاوِرَۃٌ فِی جَوْفِ ثَبِیرٍ فَقُلْت : وَمَا حِجَابُہَا؟ قَالَ : ہِیَ فِی قُبَّۃٍ تُرْکِیَّۃٍ لَہَا غِشَائٌ وَمَا بَیْنَنَا وَبَیْنَہَا غَیْرُ ذَلِکَ وَرَأَیْتُ عَلَیْہَا دِرْعًا مُوَرَّدًا۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ ہَکَذَا۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۳۸۔ عبدالرزاق ۹۰۱۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৫৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ استلامِ رکن کے وقت کیا کہا جائے
(٩٢٤٩) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اضطباع کیا (احرام باندھ کر ایک کندھے کو ننگا کرنا اضطباع کہلاتا ہے) استلام کیا اور تکبیر بلند کی ۔ پھر تین چکر دوڑے اور جب وہ رکن یمانی کے پاس پہنچتے اور قریش سے غائب ہوجاتے تو آہستہ چلتے، پھر ان پر ظاہر ہوتے تو دوڑتے، قریش کہتے : یہ تو ہرنیوں کی طرح ہیں ، ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : پس یہ سنت بن گئی۔
(۹۲۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ الأَنْبَارِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سُلَیْمٍ عَنِ ابْنِ خُثَیْمٍ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ اضْطَبَعَ فَاسْتَلَمَ فَکَبَّرَ ثُمَّ رَمَلَ ثَلاَثَۃَ أَطْوَافٍ وَکَانُوا إِذَا بَلَغُوا الرُّکْنَ الْیَمَانِیَ وَتَغَیَّبُوا مِنْ قُرَیْشٍ مَشَوْا ثُمَّ یَطْلُعُونَ عَلَیْہِمْ فَیَرْمُلُونَ تَقُولُ قُرَیْشٌ کَأَنَّہُمُ الْغِزْلاَنُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَکَانَتْ سُنَّۃً۔ [حسن۔ ابوداود ۱۸۸۹۔ ابن ماجہ ۲۹۵۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৫৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ استلامِ رکن کے وقت کیا کہا جائے
(٩٢٥٠) نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) مکہ میں چاشت کے وقت داخل ہوتے، بیت اللہ کے پاس آتے استلام کرتے اور بسم اللہ واللہ اکبر کہتے۔
(۹۲۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ یَعْنِی ابْنَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنِی إِسْمَاعِیلُ یَعْنِی ابْنَ عُلَیَّۃَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ : کَانَ ابْنُ عُمَرَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ قَالَ: ثُمَّ یَدْخُلُ مَکَّۃَ ضُحًی فَیَأْتِی الْبَیْتَ فَیَسْتَلِمُ الْحَجَرَ وَیَقُولُ بِاسْمِ اللَّہِ وَاللَّہُ أَکْبَرُ۔[صحیح۔ مسند احمد ۲/۱۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৫৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ استلامِ رکن کے وقت کیا کہا جائے
(٩٢٥١) علی (رض) جب حجر اسود کے پاس سے گزرتے اور وہاں رش دیکھتے تو اس کی طرف متوجہ ہو کر تکبیر کہتے اور فرماتے : اے اللہ ! تیری کتاب کی تصدیق کرتے ہوئے اور تیسرے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کو ادا کرتے ہوئے۔
(۹۲۵۱) وَحَدَّثَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِیُّ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ : أَنَّہُ کَانَ إِذَا مَرَّ بِالْحَجَرِ الأَسْوَدِ فَرَأَی عَلَیْہِ زِحَامًا اسْتَقْبَلَہُ وَکَبَّرَ وَقَالَ : اللَّہُمَّ تَصْدِیقًا بِکِتَابِکَ وَسُنَّۃَ نَبِیِّکَ -ﷺ -۔[ضعیف۔ طیالسی ۱۷۸۔ ابن ابی شیبۃ ۱۵۷۹۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৫৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ استلامِ رکن کے وقت کیا کہا جائے
(٩٢٥٢) علی (رض) جب حجر اسود کا استلام کرتے تو کہتے : اے اللہ ! تجھ پر ایمان لاتے ہوئے ، تیری کتاب کی تصدیق کرتے ہوئے اور تیرے نبی کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے۔
(۹۲۵۲) وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ إِذَا اسْتَلَمَ الْحَجَرَ : اللَّہُمَّ إِیمَانًا بِکَ وَتَصْدِیقًا بِکِتَابِکَ وَاتِّبَاعًا لِسُنَّۃِ نَبِیِّکَ -ﷺ -۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُونَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ حَدَّثَنَا مُطَیَّنٌ حَدَّثَنَا أَبُو بِلاَلٍ الأَشْعَرِیُّ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ وَحَدَّثَنَا مُطَیَّنٌ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ أَبِی الْعُمَیْسِ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِذَلِکَ۔[ضعیف۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৫৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طواف کے لیے اضطباع (ایک کندھا ننگا) کرنے کا بیان
(٩٢٥٣) یعلی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سبز رنگ کی چادر کے ساتھ اضبطاع کر کے طواف کیا۔
(۹۲۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنِ ابْنِ یَعْلَی عَنْ یَعْلَی قَالَ : طَافَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مُضْطَبِعًا بِبُرْدٍ أَخْضَرَ۔

وَکَذَا رَوَاہُ وَکِیعٌ عَنِ الثَّوْرِیِّ۔ [ضعیف۔ ابوداود ۱۸۸۳۔ ابن ابی شیبہ ۱۸۹۹۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৫৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طواف کے لیے اضطباع (ایک کندھا ننگا) کرنے کا بیان
(٩٢٥٤) یعلی بن امیہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اضطباع کر کے بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا۔
(۹۲۵۴) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَیُّوبَ الطَّبَرَانِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا الْفَرْیَابِیُّ وَأَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ عَنِ ابْنِ یَعْلَی عَنْ أَبِیہِ قَالَ : رَأَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ مُضْطَبِعًا۔ قَالَ أَبُو عِیسَی قُلْتُ لَہُ یَعْنِی الْبُخَارِیَّ مَنْ عَبْدُ الْحَمِیدِ ہَذَا قَالَ : ہُوَ ابْنُ جُبَیْرِ بْنِ شَیْبَۃَ وَابْنُ یَعْلَی ہُوَ ابْنُ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّۃَ۔

[صحیح لغیرہ۔ ترمذی ۸۵۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৬০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طواف کے لیے اضطباع (ایک کندھا ننگا) کرنے کا بیان
(٩٢٥٥) عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھیوں نے اضطباع کیا اور تین چکر ہلکے ہلکے دوڑے اور چار چلے۔
(۹۲۵۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سُلَیْمٍ الطَّائِفِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : اضْطَبَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ ہُوَ وَأَصْحَابُہُ وَرَمَلُوا ثَلاَثَۃَ أَشْوَاطٍ وَمَشَوْا أَرْبَعًا۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৬১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طواف کے لیے اضطباع (ایک کندھا ننگا) کرنے کا بیان
(٩٢٥٦) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھیوں نے جعرانہ سے عمرہ کیا، انھوں نے بیت اللہ کا رمل کر کے طواف کیا، انھوں نے اضطباع کیا اور اپنی چادریں بغلوں کے نیچے اور کندھوں پر رکھیں۔
(۹۲۵۶) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ وَسُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ وَأَصْحَابَہُ اعْتَمَرُوا مِنْ الْجِعْرَانَۃِ فَرَمَلُوا بِالْبَیْتِ فَاضْطَبَعُوا وَوَضَعُوا أَرْدِیَتَہُمْ تَحْتَ آبَاطِہِمْ وَعَلَی عَوَاتِقِہِم۔ لَفْظُ حَدِیثِ سُلَیْمَانَ۔ [حسن۔ ابوداود ۱۸۸۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৬২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طواف کے لیے اضطباع (ایک کندھا ننگا) کرنے کا بیان
(٩٢٥٧) سابقہ حدیث ہی بیان کی اور وضاحت کی کہ بیت اللہ کا رمل کیا اور اپنی چادریں بغلوں کے نیچے سے گزار کر بائیں کندھے پر رکھیں۔
(۹۲۵۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَۃَ : مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : فَرَمَلُوا بِالْبَیْتِ وَجَعَلُوا أَرْدِیَتَہُمْ تَحْتَ آبَاطِہِمْ ثُمَّ قَذَفُوہَا عَلَی عَوَاتِقِہِمُ الْیُسْرَی۔ [حسن۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৬৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طواف کے لیے اضطباع (ایک کندھا ننگا) کرنے کا بیان
(٩٢٥٨) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب (رض) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اب رمل اور کندھوں کو ننگا کرنے کی ضرورت کہاں، جب کہ اللہ نے اسلام کو غالب اور کفر واہل کفر کو بھگا دیا ہے، لیکن اس کے باوجود ہم اس کام کو چھوڑنے والے نہیں ہیں جسے ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کرتے دیکھا ہے۔
(۹۲۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ: الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِالصَّمَدِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی فُدَیْکٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : فِیمَ الرَّمَلاَنُ الآنَ وَالْکَشْفُ عَنِ الْمَنَاکِبِ وَقَدْ أَطَّأَ اللَّہُ الإِسْلاَمَ وَنَفَی الْکُفْرَ وَأَہْلَہُ وَمَعَ ذَلِکَ لاَ نَتْرُکُ شَیْئًا کُنَّا نَصْنَعُہُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -۔

[صحیح۔ ابوداود ۱۸۸۷۱۔ ابن ماجہ ۲۹۵۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৬৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ ہر طواف میں استلام مستحب ہے اگر ممکن نہ ہو تو ہر طاق چکر میں
(٩٢٥٩) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان دو رکنوں رکن یمانی اور حجر اسود کو ہر طواف میں نہیں چھوتے تھے۔ ان دونوں کا استلام کرتے اور ان دو کو نہ چھوتے جو پتھر کے پاس ہیں۔
(۹۲۵۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا خَلاَّدٌ ہُوَ ابْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ یَعْنِی ابْنَ أَبِی رَوَّادٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ کَانَ لاَ یَدَعُ ہَذَیْنَ الرُّکْنَیْنِ فِی کُلِّ طَوْفَۃٍ مَرَّ بِہِمَا الأَسْوَدَ وَالْیَمَانِیَ یَسْتَلِمُہُمَا وَلاَ یَسْتَلِمُ الرُّکْنَیْنِ اللَّذَیْنِ عِنْدَ الْحَجَرِ۔

[حسن۔ احمد ۲/۱۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৬৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ ہر طواف میں استلام مستحب ہے اگر ممکن نہ ہو تو ہر طاق چکر میں
(٩٢٦٠) عبید بن عمر لیثی فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) سے پوچھا : کیا وجہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں ، آپ ان دونوں رکنوں پر بھیڑ کرتے ہیں، میں نے آپ کے علاوہ صحابہ کرام (رض) میں سے کسی اور کون ان پر رش کرتے نہیں دیکھا تو کہنے لگے : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ان کو چھونا گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
(۹۲۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا عَطَائُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ اللَّیْثِیِّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ : مَا لِی رَأَیْتُکَ تُزَاحِمُ عَلَی ہَذَیْنِ الرُّکْنَیْنِ لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ یُزَاحِمُ عَلَیْہِمَا غَیْرُکَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یَقُولُ : ((مَسْحُہُمَا یَحُطُّ الْخَطَایَا))۔

[صحیح۔ ترمذی ۹۰۹۔ احمد ۲/۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৬৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ بھیڑ میں استلام کرنے کا بیان
(٩٢٦١) عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! تو قوی آدمی ہے کمزور کو تکلیف نہ دے، جب تو حجر اسود کو چھونا چاہے تو اگر تو جگہ خالی ہو تو استلام کرلے وگرنہ اس کی طرف متوجہ ہو اور تکبیر کہہ۔
(۹۲۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْحَنْظَلِیُّ إِمْلاَئً فِی مَسْجِدِ رَجَائِ بْنِ مُعَاذٍ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : ((یَا عُمَرُ إِنَّکَ رَجُلٌ قَوِیٌّ لاَ تُؤْذِ الضَّعِیفَ إِذَا أَرَدْتَ اسْتِلاَمَ الْحَجَرِ فَإِنْ خَلاَ لَکَ فَاسْتَلِمْہُ وَإِلاَّ فَاسْتَقْبِلْہُ وَکَبِّرْ))۔ [ضعیف۔ احمد ۳/ ۲۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৬৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ بھیڑ میں استلام کرنے کا بیان
(٩٢٦٢) ابویعفور فرماتے ہیں کہ خزیمہ کے ایک بزرگ کو حجاج نے مکہ پر نائب مقرر کیا تھا۔ اس نے کہا کہ عمر (رض) سخت آدمی تھے اور رکن پر مزاحمت کرتے تھے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو کہا : اے عمر ! رکن کے پاس مزاحمت نہ کر، تو ضعیف کو تکلیف دیتا ہے۔ اگر تو خالی جگہ دیکھے تو استلام کر ، وگرنہ تکبیر کہہ اور چلتا جا۔
(۹۲۶۲) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی یَعْفُورَ عَنْ شَیْخٍ مِنْ خُزَاعَۃَ قَالَ وَکَانَ اسْتَخْلَفَہُ الْحَجَّاجُ عَلَی مَکَّۃَ فَقَالَ إِنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ رَجُلاً شَدِیدًا وَکَانَ یُزَاحِمُ عِنْدَ الرُّکْنِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : ((یَا عُمَرُ لاَ تُزَاحِمْ عِنْدَ الرُّکْنِ فَإِنَّکَ تُؤْذِی الضَّعِیفَ فَإِنْ رَأَیْتَ خَلْوَۃً فَاسْتَلِمْہُ وَإِلاَّ فَاسْتَقْبِلْہُ وَکَبِّرْ وَامْضِ))۔ رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ عَنْ أَبِی یَعْفُورَ عَنِ الْخُزَاعِیِّ قَالَ سُفْیَانُ وَہُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ کَانَ الْحَجَّاجُ اسْتَعْمَلَہُ عَلَیْہَا مُنْصَرَفَہُ مِنْہَا وَہُوَ شَاہِدٌ لِرِوَایَۃِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ۔ [ضعیف۔ احمد ۱/ ۲۸۔ عبدالرزاق ۸۹۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৬৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ بھیڑ میں استلام کرنے کا بیان
(٩٢٦٣) عروہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبدالرحمن بن عوف (رض) کو حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا : اے ابو محمد ! تو کیسے کرتا ہے ؟ تو انھوں نے عرض کیا : استلام بھی کرلیتا ہوں اور کبھی چھوڑ بھی دیتا ہوں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو درست کرتا ہے۔

امام شافعی (رض) فرماتی ہیں : میرا گمان ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبدالرحمن سے کہا : تو نے درست کیا، ان کی تعریف اس لیے کی کہ انھوں نے بھیڑ کے علاوہ استلام کیا اور بھیڑ میں چھوڑ دیا۔
(۹۲۶۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّاب أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَن بْنِ عَوْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ : ((کَیْفَ صَنَعْتَ أَبَا مُحَمَّدٍ؟))۔ قَالَ : اسْتَلَمْتُ وَتَرَکْتُ قَالَ :((أَصَبْتَ))۔ ہَذَا مُرْسَلٌ۔

(ت) وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مَالِکٌ عَنْ ہِشَامٍ۔ (ق) قَالَ الشَّافِعِیُّ وَأَحْسَبُ النَّبِیَّ -ﷺ قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ : ((أَصَبْتَ))۔ إِنَّہُ وَصَفَ لَہُ أَنَّہُ اسْتَلَمَ فِی غَیْرِ زِحَامٍ وَتَرَکَ فِی زِحَامٍ۔ [ضعیف۔ ابن حبان ۳۸۲۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৬৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ بھیڑ میں استلام کرنے کا بیان
(٩٢٦٤) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : جب رکن پر بھیڑ ہو تو چلا جا وہاں نہ رک ۔
(۹۲۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِذَا وَجَدْتَ عَلَی الرُّکْنِ زِحَامًا فَانْصَرِفْ وَلاَ تَقِفْ۔ [حسن۔ شافعی ۵۹۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৭০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ بھیڑ میں استلام کرنے کا بیان
(٩٢٦٥) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : تمہیں طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اگر میسر آئے تو استلام کرلو۔
(۹۲۶۵) أخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیَی السَّاجِیُّ الْفَقِیہُ بِالْبَصْرَۃِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ بْنِ حِسَابٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ الضَّالُّ حَدَّثَنِی قَیْسُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِنَّمَا أُمِرْتُمْ أَنْ تَطُوفُوا فَإِنْ تَیَسَّرَ عَلَیْکُمْ فَتَسْتَلِمُوا۔ [حسن۔ طبرانی کبیر ۱۱۳۴۸]
tahqiq

তাহকীক: