আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৮৮ টি

হাদীস নং: ৯২৭১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ بھیڑ میں استلام کرنے کا بیان
(٩٢٦٦) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : جب تو اس کے برابر ہوجائے تو تکبیر کہہ ، دعا مانگ اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھ۔
(۹۲۶۶) وَأَنْبَأَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِجَازَۃً أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِذَا حَاذَیْتَ بِہِ فَکَبِّرْ وَادْعُ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ عَلَیْہِ السَّلاَمُ۔ [ضعیف۔ ابن ابی شیبہ ۱۳۱۵۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৭২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ بھیڑ میں استلام کرنے کا بیان
(٩٢٦٧) مجاہد کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) کو حجر اسود پر بھیڑ کرتے کبھی نہیں دیکھا ، ایک مرتبہ دیکھا تھا انھوں نے بھیڑ میں حصہ لیا حتیٰ کہ ناک سرخ ہو کر سوج گیا اور خون بہنے لگا۔
(۹۲۶۷) وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عُبَیْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَہْدِیٍّ الْقُشَیْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ وَرَوْحٌ قَالاَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : مَا رَأَیْتُہُ زَاحَمَ عَلَی الْحَجَرِ قَطُّ وَلَقَدْ رَأَیْتُہُ مَرَّۃً زَاحَمَ حَتَّی رَثَمَ أَنْفَہُ وَابْتَدَرَ مَنْخِرَاہُ دَمًا۔

[صحیح۔ عبدالرزاق ۸۹۰۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৭৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ بھیڑ میں استلام کرنے کا بیان
(٩٢٦٨) منبوذ بن ابی سلیمان فرماتے ہیں کہ ان کی والدہ ام المومنین سیدہ عائشہ (رض) کے پاس تھیں کہ ان کی ایک غلام عورت آئی اور کہنے لگی : اے ام المومنین ! میں نے بیت اللہ کے ساتھ چکر لگائے ہیں اور رکن کا استلام صرف دو مرتبہ کیا ہے یا تین مرتبہ تو انھوں نے کہا : اللہ تیرا بھلا کرے تو مردوں کے ساتھ دھکم پیل کرتی رہی ہے ؟ تو تکبیر کہہ کر کیوں نہیں گزرتی گئی۔

سیدنا سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ وہ ان عورتوں سے کہتے تھے، جب انھیں لوگوں سے آسانی ہو (بھیڑ نہ ہو) تو وہ استلام کرلیں ، وگرنہ تکبیر کہیں اور گزر جائیں۔
(۹۲۶۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ سَالِمٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِیدِ بْنِ أَبِی حُسَیْنٍ عَنْ مَنْبُوذِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ عَنْ أُمِّہِ : أَنَّہَا کَانَتْ عِنْدَ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَدَخَلَتْ عَلَیْہَا مَوْلاَۃٌ لَہَا فَقَالَتْ لَہَا : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ طُفْتُ بِالْبَیْتِ سَبْعًا وَاسْتَلَمْتُ الرُّکْنَ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَقَالَتْ لَہَا عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : لاَ آجَرَکِ اللَّہُ لاَ آجَرَکِ اللَّہُ تُدَافِعِینَ الرِّجَالَ أَلاَ کَبَّرْتِ وَمَرَرْتِ۔ (ت) وَرُوِّینَا عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ لَہُنَّ : إِذَا وَجَدْتُنَّ فُرْجَۃً مِنَ النَّاسِ فَاسْتَلِمْنَ وَإِلاَّ فَکَبِّرْنَ وَامْضِینَ۔ [ضعیف۔ شافعی ۵۹۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৭৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج وعمرہ کے طواف میں رمل کرنا
(٩٢٦٩) نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) پہلے تین چکر رمل کرتے اور چار چکر آہستہ چل کر لگاتے اور کہتے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسے ہی کرتے تھے۔
(۹۲۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ کَانَ یَرْمُلُ الثَّلاَثَ الأُوَلَ وَیَمْشِی الأَرْبَعَۃَ وَیَذْکُرُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ کَانَ یَفْعَلُہُ قُلْتُ لِنَافِعٍ : أَکَانَ یَمْشِی مَا بَیْنَ الرُّکْنَیْنِ؟ قَالَ : إِنَّمَا کَانَ یَمْشِی لأَنَّہُ أَیْسَرُ لاِسْتِلاَمِہِ۔[صحیح۔ احمد ۲/ ۱۳، دارمی ۱۸۳۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৭৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج وعمرہ کے طواف میں رمل کرنا
(٩٢٧٠) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین چکر سعی کی اور چار چلے، حج میں بھی اور عمرہ میں بھی۔
(۹۲۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا یُونُسُ وَسُرَیْجٍ قَالاَ حَدَّثَنَا فُلَیْحٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَعَی النَّبِیُّ -ﷺ ثَلاَثَۃَ أَطْوَافٍ قَالَ سُرَیْجٌ: ثَلاَثَۃَ أَشْوَاطٍ ثُمَّ مَشَی أَرْبَعَۃً فِی الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُرَیْجِ بْنِ النُّعْمَانِ۔

(ت) قَالَ الْبُخَارِیُّ تَابَعَہُ اللَّیْثُ قَالَ حَدَّثَنِی کَثِیرُ بْنُ فَرْقَدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -۔

[صحیح۔ بخاری ۱۵۳۷۔ مسلم ۱۲۶۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৭৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج وعمرہ کے طواف میں رمل کرنا
(٩٢٧١) نافع فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) جب حج یا عمرہ کے لیے آتے تو تین چکر تیز چلتے اور چار آہستہ اور کہتے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسا ہی کرتے تھے۔
(۹۲۷۱) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ حَدَّثَنِی کَثِیرُ بْنُ فَرْقَدٍ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَخُبُّ فِی طَوَافِہِ حِینَ یَقْدَمُ فِی حَجٍّ أَوْ عُمْرَۃٍ ثَلاَثًا وَیَمْشِی أَرْبَعًا قَالَ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ یَصْنَعُ ذَلِکَ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৭৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ رمل کا آغاز کیسے ہوا ؟
(٩٢٧٢) ابو طفیل فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) کو کہا : آپ کی قوم یہ سمجھتی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمل کیا اور یہ سنت ہے، انھوں نے کہا کہ وہ سچ اور جھوٹ کہتے ہیں ، میں نے کہا : وہ کیا سچ اور جھوٹ کہتے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور مشرکین قعیقعان پر تھے اور اہل مکہ بہت حسد کرنے والی قوم تھی تو وہ کہنے لگے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی کمزور ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کو وہ دکھاؤ جسے وہ ناپسند کرتے ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمل کیا تاکہ اپنی اور اپنے ساتھیوں کی قوت دکھائیں اور یہ سنت نہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے کہا : آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صفا ومروہ پر سوار ہوئے اور یہ سنت ہے ! انھوں نے فرمایا کہ وہ سچ اور جھوٹ کہتے ہیں ، میں نے کہا : کیا سچ اور کیا جھوٹ ہے جو وہ کہتے ہیں ؟ فرمانے لگے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں تشریف لائے اور اہل مکہ بہت زیادہ حسد کرنے والے تھے وہ نکلے حتیٰ کہ عورتیں بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھنے لگیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لوگوں کو ہٹایا نہ جاتا تھا تو اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوار ہوئے جب کہ چلنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زیادہ پسند تھا۔
(۹۲۷۱۲) ۔أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا الْجُرَیْرِیُّ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّ قَوْمَکَ یَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَدْ رَمَلَ وَإِنَّہَا سُنَّۃٌ۔ قَالَ: صَدَقُوا وَکَذَبُوا۔ قُلْتُ : مَا صَدَقُوا وَکَذَبُوا۔ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَدِمَ وَالْمُشْرِکُونَ عَلَی قُعَیْقِعَانَ وَکَانَ أَہْلُ مَکَّۃَ قَوْمَ حَسَدٍ فَجَعَلُوا یَتَحَدَّثُونَ بَیْنَہُمْ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ ضُعَفَائُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : ((أَرُوہُمْ مِنْکُمْ مَا یَکْرَہُونَ)) ۔ فَرَمَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ لِیُرِیَ الْمُشْرِکِینَ قُوَّتَہُ وَقُوَّۃَ أَصْحَابِہِ وَلَیْسَتْ بِسُنَّۃٍ قَالَ قُلْتُ : إِنَّ قَوْمَکَ یَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ رَکِبَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَإِنَّہَا سُنَّۃٌ۔ قَالَ : صَدَقُوا وَکَذَبُوا قَالَ قُلْتُ : مَا صَدَقُوا وَکَذَبُوا؟ قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مَکَّۃَ وَکَانَ أَہْلُ مَکَّۃَ قَوْمَ حَسَدٍ فَخَرَجُوا حَتَّی خَرَجَتِ الْعَوَاتِقُ یَنْظُرُونَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ لاَ یُدَعُّونَ عَنْہُ قَالَ یَزِیدُ یَعْنِی لاَ یَدْفَعُونَ عَنْہُ فَرَکِبَ وَکَانَ الْمَشْیُ أَحَبَّ إِلَیْہِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۶۴۔ احمد ۱/ ۲۳۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৭৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ رمل کا آغاز کیسے ہوا ؟
(٩٢٧٣) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھی مکہ آئے اور انھیں یثرب کے بخار نے کمزور کر رکھا تھا تو مشرکوں نے کہا کہ تمہارے پاس ایسی قوم آرہی ہے جس کو یثرب کے بخار نے کمزور کر رکھا ہے تو وہ ان کو دیکھنے کے لیے پتھر کی طرف بیٹھ گئے تو ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ وہ تین چکر دوڑ کر لگائیں اور دو رکنوں کے درمیان آہستہ چلیں۔
(۹۲۷۳) ۔أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ وَأَبُو مُسْلِمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ وَأَصْحَابُہُ وَقَدْ وَہَنَتْہُمُ الْحُمَّی حُمَّی یَثْرِبَ فَقَالَ الْمُشْرِکُونَ : إِنَّہُ یَقْدَمُ عَلَیْکُمْ قَوْمٌ قَدْ وَہَنَتْہُمُ الْحُمَّی فَقَعَدُوا لَہُمْ مِمَّا یَلِی الْحِجْرَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ أَنْ یَرْمُلُوا الثَّلاَثَۃَ وَأَنْ یَمْشُوا مَا بَیْنَ الرُّکْنَیْنِ قَالَ وَلَمْ یَمْنَعْہُ أَنْ یَأْمُرَہُمْ أَنْ یَرْمُلُوا الأَشْوَاطَ کُلَّہَا إِلاَّ الإِبْقَائُ عَلَیْہِمْ۔ لَمْ یَذْکُرْ أَبُو مُسْلِمٍ حُمَّی یَثْرِبَ

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۲۵۔ مسلم ۱۳۶۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৭৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ رمل کا آغاز کیسے ہوا ؟
(٩٢٧٤) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ (رض) مکہ آئے جب کہ انھیں یثرب کے بخار نے کمزور کر رکھا تھا۔ مشرکوں نے کہا کہ کل تمہارے پاس ایسی قوم آرہی ہے جن کو یثرب کے بخار نے کمزور کر رکھا ہے اور انھوں نے بڑی سختی کاٹی ہے تو وہ حجر اسود والی طرف بیٹھ گئے تو ان کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ وہ تین چکر رمل کریں اور رکنوں کے درمیان چلیں تاکہ مشرک ان کی قوت جان لیں تو مشرکوں نے کہا : یہ وہ ہیں جن کے بارے میں تم سمجھتے تھے کہ ان کو یثرب کے بخار نے کمزور کر رکھا ہے یہ تو فلاں فلاں سے زیادہ قوی ہیں، ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : ان کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پورا چکر رمل کرنے کا اس لیے کہا تاکہ ان پر نرمی کریں۔
(۹۲۷۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی وَأَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَہَّابِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ وَأَصْحَابُہُ مَکَّۃَ وَقَدْ وَہَنَتْہُمْ حُمَّی یَثْرِبَ فَقَالَ الْمُشْرِکُونَ : إِنَّہُ یَقْدَمُ عَلَیْکُمْ غَدًا قَوْمٌ قَدْ وَہَنَتْہُمُ الْحُمَّی وَلَقُوا مِنْہَا شِدَّۃً فَجَلَسُوا مِمَّا یَلِی الْحِجْرَ فَأَمَرَ النبی -ﷺ أَنْ یَرْمُلُوا ثَلاَثَۃَ أَشْوَاطٍ وَیَمْشُوا بَیْنَ الرُّکْنَیْنِ لِیَرَی الْمُشْرِکُونَ جَلَدَہُمْ فَقَالَ الْمُشْرِکُونَ : ہَؤُلاَئِ الَّذِینَ زَعَمْتُمْ أَنَّ الْحُمَّی قَدْ وَہَنَتْہُمْ ہَؤُلاَئِ أَجْلَدُ مِنْ کَذَا وَکَذَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَلَمْ یَأْمُرَہُمْ أَنْ یَرْمُلُوا الأَشْوَاطَ کُلَّہَا إِلاَّ الإِبْقَائُ عَلَیْہِمْ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ الزَّہْرَانِیِّ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৮০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ رمل کا آغاز کیسے ہوا ؟
(٩٢٧٥) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفا ومروہ اور بیت اللہ کی سعی صرف مشرکوں کو قوت دکھانے کے لیے کی۔
(۹۲۷۵) ۔أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ إِمْلاَئً حَدَّثَنِی أَبِی وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ إِبْرَاہِیمُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَۃَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِنَّمَا سَعَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ لِیُرِیَ الْمُشْرِکِینَ قُوَّتَہُ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَۃَ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۶۶۔ مسلم ۱۲۲۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৮১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ رمل کا آغاز کیسے ہوا ؟
(٩٢٧٦) ایضاً
(۹۲۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِنَّمَا سَعَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ لِیُرِیَ الْمُشْرِکِینَ قُوَّتَہُ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَلِیٍّ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৮২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ اس بات کی دلیل کہ یہ طواف میں اب بھی مشروع ہے
(٩٢٧٧) (الف) عمر بن خطاب (رض) نے حجر اسود کو کہا : یقیناً میں جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے نہ فائدہ دے سکتا ہے نہ نقصان، لیکن میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تیرا استلام کرتے دیکھا ہے اسی لیے میں بھی کرتا ہوں تو پھر انھوں نے اسے بوسہ دیا اور فرمایا : ہمیں اب رمل کی حاجت نہیں ہے یہ تو ہم نے مشرکوں کو دکھانے کے لیے کیا تھا اور اللہ نے ان کو ہلاک کردیا ہے، پھر کہا : یہ ایسا کام ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا تھا، اب ہم اس کو چھوڑنا پسند نہیں کرتے۔

(ب) عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر، عمر، عثمان (رض) اور ان کے بعد خلفاء تین چکر رمل کرتے تھے اور چار چکر آہستہ چلتے تھے۔
(۹۲۷۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِی زَیْدُ بْنُ أَسْلِمَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ لِلرُّکْنِ : أَمَا وَاللَّہِ إِنِّی لأَعْلَمُ أَنَّکَ حَجَرٌ لاَ تَضُرُّ وَلاَ تَنْفَعُ وَلَکِنِّی رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ اسْتَلَمَکَ وَأَنَا أَسْتَلِمُکَ فَاسْتَلَمَہُ وَقَالَ : مَا لَنَا وَلِلرَّمَلِ إِنَّمَا رَائَ یْنَا بِہِ الْمُشْرِکِینَ وَقَدْ أَہْلَکَہُمُ اللَّہُ ثُمَّ قَالَ : شَیْئٌ صَنَعَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ لاَ نُحِبُّ أَنْ نَتْرُکَہُ ثُمَّ رَمَلَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ۔

(ت) وَرُوِّینَا عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ رَمَلَ وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ وَالْخُلَفَائُ بَعْدَہُمْ ثَلاَثًا وَمَشَوْا أَرْبَعًا۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۲۰۔ مسلم ۱۲۷۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৮৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حجر اسود سے طواف کا آغاز کرنا اور وہیں پر اختتام کرنا تین چکر دوڑ کر اور چار آہستہ چل کر
(٩٢٧٨) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجر اسود سے لے کر حجر اسود تک تین چکر رمل کیا اور چار آہستہ چلے۔
(۹۲۷۸) ۔أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : رَمَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مِنَ الْحَجَرِ إِلَی الْحَجَرِ ثَلاَثًا وَمَشَی أَرْبَعًا۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۶۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৮৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حجر اسود سے طواف کا آغاز کرنا اور وہیں پر اختتام کرنا تین چکر دوڑ کر اور چار آہستہ چل کر
(٩٢٧٩) نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا اور کہا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔
(۹۲۷۹) ۔أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمُ بْنُ أَخْضَرَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَی الْحَجَرِ وَذَکَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ فَعَلَ ذَلِکَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کَامِلٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৮৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حجر اسود سے طواف کا آغاز کرنا اور وہیں پر اختتام کرنا تین چکر دوڑ کر اور چار آہستہ چل کر
(٩٢٨٠) (الف) مالک بن انس (رض) اور جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ نے حجراسود سے رمل شروع کیا حتیٰ کہ وہیں تک تین چکر پورے کیے۔

(ب) صحیح مسلم میں روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجر اسود سے حجر اسود تک تین چکر رمل کیا اور چار چکر آہستہ چلے۔
(۹۲۸۰) ۔أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الأَصَمُّ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ وَعَلَیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ الْبَغَوِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ۔

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ أَخْبَرَنِی جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّہُ قَالَ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ الأَسْوَدِ حَتَّی انْتَہَی إِلَیْہِ ثَلاَثَۃَ أَطْوَافٍ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَیَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَفِی رِوَایَۃِ زَیْدِ بْنِ الْحُبَابِ قَالَ : رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَی الْحَجَرِ ثَلاَثًا وَمَشَی أَرْبَعًا۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۶۳۔ مالک ۸۱۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৮৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حجر اسود سے طواف کا آغاز کرنا اور وہیں پر اختتام کرنا تین چکر دوڑ کر اور چار آہستہ چل کر
(٩٢٨١) عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ انھوں نے دیکھا کہ آپ نے حجر اسود کو استلام کرنے سے آغاز کیا اور دائیں جانب چلنا شروع کیا ، تین چکر رمل کیا اور چار چل کر لگائے، پھر مقام ابراہیم کے پاس آئے اور اس کے پیچھے دو رکعتیں ادا کیں۔
(۹۲۸۱) ۔أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّہُ رَآہُ بَدَأَ فَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ ثُمَّ أَخَذَ عَنْ یَمِینِہِ فَرَمَلَ ثَلاَثَۃَ أَطْوَافٍ وَمَشَی أَرْبَعَۃً ثُمَّ أَتَی الْمَقَامَ فَصَلَّی خَلْفَہُ رَکْعَتَیْنِ۔ [صحیح۔ شافعی ۵۸۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৮৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ رمل طواف وسعی کے آغاز میں کرنا ہے جب مکہ حج یا عمرہ کے لیے آئیں
(٩٢٨٢) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بیت اللہ کا طواف کرتے تو تین چکر تیز چل کر لگاتے اور چار آہستہ اور ابن عمر (رض) بھی ایسے ہی کرتے تھے۔ اور جب صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے تو بطن مسیل سے آغاز کرتے۔ عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے نافع سے کہا : جب ابن عمر (رض) رکن یمانی کے پاس پہنچ جاتے تو چلتے تھے ؟ کہنے لگے : نہیں۔ مگر جب وہاں بھیڑ ہوتی، کیوں کہ وہ استلام کیے بغیر رکن کو نہ چھوڑتے۔
(۹۲۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ الطَّنَافِسِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ کَانَ إِذَا طَافَ بِالْبَیْتِ الطَّوَافَ الأَوَّلَ خَبَّ ثَلاَثَۃً وَمَشَی أَرْبَعَۃً۔ وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یَفْعَلُہُ وَکَانَ یَسْعَی بِبَطْنِ الْمَسِیلِ إِذَا طَافَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَقُلْتُ لِنَافِعٍ : کَانَ عَبْدُاللَّہِ یَمْشِی إِذَا بَلَغَ الرُّکْنَ الْیَمَانِیَ؟ قَالَ : لاَ إِلاَّ أَنْ یُزَاحَمَ عَلَی الرُّکْنِ فَإِنَّہُ کَانَ لاَ یَدَعُہُ حَتَّی یَسْتَلِمَہُ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ عِیسَی بْنِ یُونُسَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۶۲۔ مسلم ۱۲۶۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৮৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ رمل طواف وسعی کے آغاز میں کرنا ہے جب مکہ حج یا عمرہ کے لیے آئیں
(٩٢٨٣) (الف) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مکہ آتے اور حج و عمرہ کے لیے طواف کرتے تو بیت اللہ کے گرد تین چکر سعی کرتے اور چار چلتے، پھر دو رکعتیں پڑھتے ، پھر صفا ومروہ کا طواف کرتے۔

(ب) شجاع کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : حج اور عمرہ میں مکہ تشریف لاتے ، طواف کرتے اور بیت اللہ کے گرد تین چکر دوڑتے تھے اور چار چکر آہستہ چلتے تھے۔ اس کے بعد والے الفاظ ذکر نہیں کیے۔
(۹۲۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِیدِ قَالَ سَمِعْتُ مُوسَی بْنَ عُقْبَۃَ یُحَدِّثُ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی عَلِیُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ الْخُزَاعِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ ہَاشِمٍ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ کَانَ إِذَا طَافَ فِی الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ أَوَّلَ مَا یَقْدَمُ فَإِنَّہُ یَسْعَی ثَلاَثَۃَ أَطْوَافٍ بِالْبَیْتِ ثُمَّ یَمْشِی أَرْبَعًا ثُمَّ یُصَلِّی سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ یَطُوفُ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ۔

لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ عَبَّادٍ وَفِی رِوَایَۃِ شُجَاعٍ : أَنَّہُ کَانَ إِذَا طَافَ فِی الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ أَوَّلَ مَا یَقْدَمُ فَإِنَّہُ یَسْعَی ثَلاَثَۃَ أَطْوَافٍ بِالْبَیْتِ وَیَمْشِی أَرْبَعًا لَمْ یَذْکُرْ مَا بَعْدَہُ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ أَنَسِ بْنِ عِیَاضٍ عَنْ مُوسَی۔

[صحیح۔ بخاری ۱۵۴۷۔ مسلم ۱۲۶۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৮৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ رمل طواف وسعی کے آغاز میں کرنا ہے جب مکہ حج یا عمرہ کے لیے آئیں
(٩٢٨٤) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سات چکروں میں رمل نہیں کیا، جب طواف اضافہ کیا۔
(۹۲۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ مِنْ أَصْلِہِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ لَمْ یَرْمُلْ فِی السَّبْعِ الَّذِی أَفَاضَ فِیہِ۔ قَالَ وَقَالَ عَطَائٌ : لاَ رَمَلَ فِیہِ۔ [صحیح۔ ابوداود ۲۰۰۱۔ ابن ماجہ ۳۰۶۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২৯০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ رمل طواف وسعی کے آغاز میں کرنا ہے جب مکہ حج یا عمرہ کے لیے آئیں
(٩٢٨٥) نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) جب مکہ سے احرام باندھتے تو بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف نہ کرتے حتیٰ کہ منیٰ سے واپس آتے اور جب مکہ سے احرام باندھتے تو بیت اللہ کے طواف میں سعی نہ کرتے۔

امام شافعی (رض) اس قول کے متعلق فرماتے ہیں کہ وہ سعی نہیں کرے گا، یعنی رمل نہیں کرے گا جس نے مکہ سے احرام باندھا یا منیٰ سے پہلے طواف کیا، پھر یوم نحر کو طواف کیا وہ رمل نہیں کرے گا۔ رمل ابتدائی طواف میں ہے۔
(۹۲۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُاللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا أَحْرَمَ مِنْ مَکَّۃَ لَمْ یَطُفْ بِالْبَیْتِ وَلاَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ حَتَّی یَرْجِعَ مِنْ مِنًی وَکَانَ لاَ یَسْعَی إِذَا طَافَ حَوْلَ الْبَیْتِ إِذَا أَحْرَمَ مِنْ مَکَّۃَ۔

(ش) قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ فِی قَوْلِہِ لاَ یَسْعَی یَعْنِی لاَ یَرْمُلُ قَالَ : وَمَنْ أَحْرَمَ مِنْ مَکَّۃَ أَوْ طَافَ قَبْلَ مِنًی ثُمَّ طَافَ یَوْمَ النَّحْرِ لَمْ یَرْمُلْ إِنَّمَا یَرْمُلُ مَنْ کَانَ ابْتِدَائُ طَوَافِہِ۔ [صحیح۔ مالک ۸۱۴]
tahqiq

তাহকীক: