আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৮৮ টি

হাদীস নং: ৯৩৫১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ صفا ومروہ کی طرف جانا ان کے درمیان سعی کرنا اور ان پر ذکر کرنے کا بیان
(٩٣٤٦) ابن عمر (رض) صفا پر کہا کرتے تھے : اے اللہ ! ہمیں اپنے دین اور اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کے ساتھ بچا کر رکھنا اور اپنی حدود سے دور رکھ۔ اے اللہ ! ہمیں ایسا بنا دے کہ ہم تیرے ساتھ، تیرے فرشتوں کے ساتھ، تیرے نبیوں اور رسولوں کے ساتھ اور تیرے نیک بندوں کے ساتھ محبت کریں، اے اللہ ! ہمیں اپنے، اپنے فرشتوں، رسولوں، نبیوں اور نیک بندوں کی طرف محبوب بنا دے ، اے اللہ ! ہمیں نیکی آسان کر دے اور برائی سے ہمیں بچا اور ہمیں دنیا و آخرتمیں معاف فرما اور پرہیزگاروں کا امام بنا دے۔
(۹۳۴۶)وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَیْبٍ الْبَزْمَہْرَانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ أَیُّوبَ بْنِ أَبِی تَمِیمَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ عَلَی الصَّفَا : اللَّہُمَّ اعْصِمْنَا بِدِینِکَ وَطَوَاعِیَتِکَ وَطَوَاعِیَۃِ رَسُولِکِ وَجَنِّبْنَا حُدُودَکَ اللَّہُمَّ اجْعَلْنَا نُحِبُّکَ وَنُحِبُّ مَلاَئِکَتَکَ وَأَنْبِیَائَ کَ وَرُسُلَکَ وَنُحِبُّ عِبَادَکَ الصَّالِحِینَ اللَّہُمَّ حَبِّبْنَا إِلَیْکَ وَإِلَی مَلاَئِکَتِکَ وَإِلَی أَنْبِیَائِکَ وَرُسُلِکَ وَإِلَی عِبَادِکَ الصَّالِحِینَ اللَّہُمَّ یَسِّرْنَا لِلْیُسْرَی وَجَنِّبْنَا الْعُسْرَی وَاغْفِرْ لَنَا فِی الآخِرَۃِ وَالأُولَی وَاجْعَلْنَا مِنْ أَئِمَّۃِ الْمُتَّقِینَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩৫২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ صفا ومروہ کی طرف جانا ان کے درمیان سعی کرنا اور ان پر ذکر کرنے کا بیان
(٩٣٤٧) ابن جریر فرماتے ہیں کہ میں نے نافع سے کہا : کوئی بات ہے جس کو عبداللہ بن عمر لازم پکڑتے تھے تو انھوں نے کہا : آپ اس بارے میں سوال نہ کریں ، یہ واجب نہیں ہے تو میں نے انھیں اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک انھوں نے بتایا نہیں، انھوں نے کہا : کہ وہ بہت لمبا قیام کرتے تھے اگر ہمیں ان سے حیا نہ ہوگا تو ہم بیٹھ جاتے وہ تین مرتبہ تکبیر کہتے پھر کہتے اللہ سوا کوئی الٰہ نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے بادشاہی اور اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے، پھر لمبی دعا کرتے اور آواز کو کبھی بلند اور کبھی پست کرتے حتیٰ کہ وہ سوال کرتے کہ اس کی چٹی پوری کر دے جو اس نے مانگا ہے پھر تین مرتبہ تکبیر کہتے پھر کہتے : لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ۔۔۔ الخ پھر اسی طرح لمبی دعا کرتے حتیٰ کہ یہ عمل سات مرتبہ دہراتے۔ صفا اور مروہ پر ہر حج و عمرہ میں ایسے ہی کرتے۔
(۹۳۴۷)وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ النَّصْرَآبَاذِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ بْنِ رَاشِدٍ الدِّمَشْقِیُّ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا صَدَقَۃُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِنَافِعٍ : ہَلْ مِنْ قَوْلٍ کَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ یَلْزَمُہُ ؟ قَالَ : لاَ تَسْأَلْ عَنْ ذَلِکَ فَإِنَّ ذَلِکَ لَیْسَ بِوَاجِبٍ فَأَبَیْتُ أَنْ أَدَعَہُ حَتَّی یُخْبِرَنِی قَالَ : کَانَ یُطِیلُ الْقِیَامَ حَتَّی لَوْلاَ الْحَیَائُ مِنْہُ لَجَلَسْنَا فَیُکَبِّرُ ثَلاَثًا ثُمَّ یَقُولُ: ((لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ)) ثُمَّ یَدْعُو طَوِیلاً یَرْفَعُ صَوْتَہُ وَیَخْفِضُہُ حَتَّی إِنَّہُ لَیَسْأَلُہُ أَنْ یَقْضِیَ عَنْہُ مَغْرَمَہُ فِیمَا سَأَلَ ثُمَّ یُکَبِّرُ ثَلاَثًا ثُمَّ یَقُولُ: ((لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ)) ثُمَّ یَسْأَلُ طَوِیلاً کَذَلِکَ حَتَّی یَفْعَلَ ذَلِکَ سَبْعَ مَرَّاتٍ یَقُولُ ذَلِکَ عَلَی الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فِی کُلِّ مَا حَجَّ وَاعْتَمَرَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩৫৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ صفا ومروہ کی طرف جانا ان کے درمیان سعی کرنا اور ان پر ذکر کرنے کا بیان
(٩٣٤٨) ایضاً
(۹۳۴۸)وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ حَدَّثَنَا صَدَقَۃُ عَنْ عِیَاضِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِیِّ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ مِثْلَ ذَلِکَ۔ [ضعیف۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩৫৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ صفا ومروہ کی طرف جانا ان کے درمیان سعی کرنا اور ان پر ذکر کرنے کا بیان
(٩٣٤٩) نافع (رض) فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) صفا کے پاس آکر کہتے : اے اللہ ! مجھے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت زندہ رکھ اور اس کی ملت (دین) پر موت دے اور گمراہ کن فتنوں سے بچا۔
(۹۳۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْحُرْفِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ الْفَحَّامُ حَدَّثَنَا شَاذَانُ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ عِنْدَ الصَّفَا : اللَّہُمَّ أَحْیِنِی عَلَی سُنَّۃِ نَبِیِّکَ -ﷺ وَتَوَفَّنِی عَلَی مِلَّتِہِ وَأَعِذْنِی مِنْ مُضِلاَّتِ الْفِتَنِ۔

[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩৫৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ صفا ومروہ کی طرف جانا ان کے درمیان سعی کرنا اور ان پر ذکر کرنے کا بیان
(٩٣٥٠) علقمہ اور اسود دونوں فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود (رض) صفا کے کنارے پر کھڑے ہوئے تو ایک آدمی نے کہا : اے ابوعبدالرحمن یہاں ؟ تو انھوں نے کہا : اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں۔ یہی اس شخص کا مقام ہے، جس پر سورة بقرہ نازل ہوئی۔
(۹۳۵۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الأَحْمَسِیُّ حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِیُّ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ وَالأَسْوَدِ قَالاَ : قَامَ عَبْدُ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ عَلَی الصَّدْعِ الَّذِی فِی الصَّفَا فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ : ہَا ہُنَا یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ : ہَذَا وَالَّذِی لاَ إِلَہَ غَیْرُہُ مَقَامُ الَّذِی أُنْزِلَتْ عَلَیْہِ سُورَۃُ الْبَقَرَۃِ۔ [صحیح لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩৫৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ صفا ومروہ کی طرف جانا ان کے درمیان سعی کرنا اور ان پر ذکر کرنے کا بیان
(٩٣٥١) مسروق کہتے ہیں کہ میں عائشہ (رض) پر سلام کہتے ہوئے آیا اور عبداللہ بن مسعود (رض) کے ساتھ ہو لیا حتیٰ کہ طواف شروع کیا ، تین طواف رمل اور چار چل کر کیے، پھر انھوں نے مقام کے پیچھے دو رکعتیں ادا کیں پھر حجر اسود کی طرف گئے، بوسہ دیا پھر صفا کی طرف چل نکلے اور صفا کے کنار یپر کھڑے ہوئے تو تلبیہ کہا : میں نے کہا : مجھے تلبیہ سے منع کیا گیا ہے تو انھوں نے کہا : میں تجھے اس کا حکم دیتا ہوں ۔ تلبیہ دعائے مقبول تھی جو ابراہیم کی قبول کی گئی، جب وہ وادی میں اترے تو سعی کی اور کہا : اے اللہ ! بخش دے اور رحم کر اور تو ہی عزت والا اور کرم والا ہے۔
(۹۳۵۱)أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ الْبَشِیرِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَنْبَأَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ جِئْتُ مُسَلَّمًا عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَصَحِبْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ حَتَّی دَخَلَ فِی الطَّوَافِ فَطَافَ ثَلاَثَۃً رَمَلاً وَأَرْبَعَۃً مَشْیًا ثُمَّ إِنَّہُ صَلَّی خَلْفَ الْمَقَامِ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ إِنَّہُ عَادَ إِلَی الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَہُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الصَّفَا فَقَامَ عَلَی الشِّقِّ الَّذِی عَلَی الصَّفَا فَلَبَّی فَقُلْتُ : إِنِّی نُہِیتُ عَنِ التَّلْبِیَۃِ فَقَالَ وَلَکِنِّی آمُرُکَ بِہَا کَانَتِ التَّلْبِیَۃُ اسْتِجَابَۃً اسْتَجَابَہَا إِبْرَاہِیمُ فَلَمَّا ہَبَطَ إِلَی الْوَادِی سَعَی فَقَالَ : ((اللَّہُمَّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنْتَ الأَعَزُّ الأَکْرَمُ))۔ ہَذَا أَصَحُّ الرِّوَایَاتِ فِی ذَلِکَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ۔ [صحیح۔ ابن ابی شیبہ ۱۵۵۷۰۔ ۱۵۵۷۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩৫৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ صفا ومروہ کی طرف جانا ان کے درمیان سعی کرنا اور ان پر ذکر کرنے کا بیان
(٩٣٥٢) ابواسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) کو صفا ومروہ کے درمیان یہ کہتے سنا : اے میرے رب ! مجھے معاف کر دے اور رحم کر اور تو ہی عزت و کرم والا ہے۔
(۹۳۵۲)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَمْرٌو یَعْنِی ابْنَ خَالِدٍ الْحَرَّانِیَّ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ یَقُولُ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ: (( رَبِّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْ وَأَنْتَ أَوْ إِنَّکَ الأَعَزُّ الأَکْرَمُ))۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩৫৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ صفا ومروہ کی طرف جانا ان کے درمیان سعی کرنا اور ان پر ذکر کرنے کا بیان
(٩٣٥٣) ابو نجیح اپنے والد سے فرماتے ہیں کہ مجھے اس آدمی نے خبر دی ، جس نے عثمان بن عفان (رض) کو دیکھا کہ وہ صفا سے نچلے حوض میں کھڑے ہوئے اور اس پر نہ چڑھتے تھے۔
(۹۳۵۳)أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَخْبَرَنِی مَنْ رَأَی عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُومُ فِی حَوْضٍ فِی أَسْفَلِ الصَّفَا وَلاَ یَظْہَرُ عَلَیْہِ۔ [ضعیف۔ شافعی فی الام ۲/ ۳۲۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩৫৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ صفا ومروہ کی سعی بغیر وضو کرنے کا جواز، اگر باوضو ہو کر کرنا افضل ہے
(٩٣٥٤) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے اور حج کا تلبیہ کہا ، ہم چار ذوالحجہ کو مکہ میں پہنچے تو ہمیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ ہم بیت اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی کریں اور اس کو عمرہ بنا کر حلال ہوجائیں ، سوائے اس آدمی کے جس کے پاس قربانی ہے اور ہم میں سے کسی کے پاس بھی قربانی نہیں تھی ، سوائے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور طلحہ کے اور علی (رض) یمن سے آئے۔ ان کے پاس بھی قربانی تھی تو انھوں نے کہا : میں بھی وہی تلبیہ کہتا ہوں جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا تو ہم نے کہا : ہم منیٰ جائیں گے اور ہمارے ذکر منی کے قطرے بہا رہے ہوں گے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر مجھے اپنے اس معاملہ کا پہلے علم ہوتا جو بعد میں ہوا ہے تو میں قربانی نہ لاتا اور اگر میرے پاس قربانی نہ ہوتی تو میں حلال ہوجاتا، کہتے ہیں کہ آپ کو سراقہ ملا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا یہ ہمارے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے اور عائشہ (رض) حیض کی حالت میں مکہ پہنچیں تو ان کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ وہ تمام تر مناسکِ حج ادا کرے، لیکن بیت اللہ کا طواف نہ کرے اور نماز نہ پڑھے حتیٰ کہ پاک ہوجائے، تو جب وہ بطحاء میں اترے تو عائشہ (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا آپ حج اور عمرہ کر کے جاؤگے اور میں صرف حج کر کے ؟ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر (رض) کے بیٹے کو حکم دیا کہ اس کے ساتھ تنعیم تک جائے، تو انھوں نے ذی الحجہ میں ایام حج کے بعد عمرہ کیا۔
(۹۳۵۴)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا حَبِیبٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فَلَبَّیْنَا بِالْحَجِّ وَقَدِمْنَا مَکَّۃَ لأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِی الْحَجَّۃِ فَأَمَرَنَا النَّبِیُّ -ﷺ أَنْ نَطُوفَ بِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَنَجْعَلَہَا عُمْرَۃً وَنَحِلَّ إِلاَّ مَنْ کَانَ مَعَہُ الْہَدْیُ وَلَمْ یَکُنْ مَعَ أَحَدٍ مِنَّا الْہَدْیُ غَیْرَ النَّبِیِّ -ﷺ وَطَلْحَۃَ وَجَائَ عَلِیٌّ مِنَ الْیَمَنِ وَمَعَہُ ہَدْیٌ فَقَالَ : أَہْلَلْتُ بِمَا أَہَلَّ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ فَقُلْنَا نَنْطَلِقُ إِلَی مِنًی وَذَکَرُ أَحَدِنَا یَقْطُرُ مَنِیًّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ :(( لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِی مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَہْدَیْتُ وَلَوْلاَ أَنْ مَعِیَ الْہَدْیُ لأَحْلَلْتُ ))۔ قَالَ: وَلَقِیَہُ سُرَاقَۃُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَلَنَا ہَذِہِ خَاصَّۃً أَمْ لِلأَبَدِ قَالَ : ((لاَ بَلْ لِلأَبَدِ ))۔ وَکَانَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَدِمَتْ مَکَّۃَ وَہِیَ حَائِضٌ فَأَمَرَ النَّبِیُّ -ﷺ أَنْ تَنْسُکَ الْمَنَاسِکَ کُلَّہَا غَیْرَ أَنْ لاَ تَطُوفَ بِالْبَیْتِ وَلاَ تُصَلِّیَ حَتَّی تَطْہُرَ فَلَمَّا نَزَلُوا الْبَطْحَائَ قَالَتْ عَائِشَۃُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتَنْطَلِقُونَ بِحَجَّۃٍ وَعُمْرَۃٍ وَأَنْطَلِقُ بِحَجَّۃٍ فَأَمَرَ النَّبِیُّ -ﷺ ابْنَ أَبِی بَکْرٍ أَنْ یَنْطَلِقَ مَعَہَا إِلَی التَّنْعِیمِ فَاعْتَمَرَتْ عُمْرَۃً فِی ذِی الْحَجَّۃِ بَعْدَ أَیَّامِ الْحَجِّ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَرَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ زُرَیْعٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۸۰۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩৬০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ صفا ومروہ کی سعی بغیر وضو کرنے کا جواز، اگر باوضو ہو کر کرنا افضل ہے
(٩٣٥٥) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عائشہ (رض) کو فرمایا : حج کا تلبیہ کہہ اور حج کر، جو کچھ حاجی کرتے ہیں کر لیکن بیت اللہ کا طواف اور نماز نہ پڑھو۔
(۹۳۵۵)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرًا فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ عِنْدَ قَوْلِہِ: ((وَأَہِلِّی بِالْحَجِّ ثُمَّ حُجِّی وَاصْنَعِی مَا یَصْنَعُ الْحَاجُّ غَیْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِی بِالْبَیْتِ وَلاَ تُصَلِّی))۔[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩৬১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ صفا ومروہ کی سعی بغیر وضو کرنے کا جواز، اگر باوضو ہو کر کرنا افضل ہے
(٩٣٥٦) ابوالزناد فرماتے ہیں کہ فقہائے مدینہ کہا کرتے تھے کہ جو عورت بھی بیت اللہ کا طواف کرلے اور صفا ومروہ کا طواف کرنے کے لیے جائے پھر حائضہ ہوجائے تو وہ صفا و مروہ کا طواف حالت حیض میں ہی کرلے۔
(۹۳۵۶)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّائُ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ کَانُوا یَقُولُونَ : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ طَافَتْ بِالْبَیْتِ ثُمَّ وَجَّہَتْ لِتَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَحَاضَتْ فَلْتَطُفْ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَہِیَ حَائِضٌ وَکَذَلِکَ الَّذِی یُحْدِثُ بَعْدَ أَنْ یَطُوفَ بِالْبَیْتِ وَقَبْلَ أَنْ یَسْعَی۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩৬২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ صفا ومروہ کے طوف کا واجب ہونا اور اس بات کا بیان کہ اس کا غیر اس سے کفایت نہیں کرسکتا
(٩٣٥٧) (الف) عروہ کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ (رض) سے کہا، جب کہ میں ابھی نو عمر تھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ” بیشک صفا ومروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں تو جو بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر ان دونوں کا طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے “ کے بارے میں آپ کا خیال ہے میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی طواف نہ بھی کرے تو اس پر بھی کوئی حرج نہیں ہے تو عائشہ (رض) نے فرمایا : ہرگز ایسا نہیں ہے اگر یہ بات ہوتی جو تو کہتا ہے تو آیت یوں ہونی چاہیے تھی کہ ” اگر کوئی طواف نہ بھی کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں “ یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی ، وہ مناۃ کے لیے تلبیہ کہتے تھے اور مناۃ قدید کے سامنے تھا، تو اس لیے وہ صفا ومروہ کے طواف میں حرج محسوس کرتے تھے۔ تو جب اسلام آیا تو انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی : { إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّہِ }

(ب) امام بخاری (رح) فرماتے ہیں کہ ابو معاویہ نے ہشام سے یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں، اللہ تعالیٰ اس شخص کا حج اور عمرہ مکمل نہ کرے جس نے صفا مروہ کے درمیان طواف نہ کیا (سعی نہ کی) ۔
(۹۳۵۷)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَأَنَا یَوْمَئِذٍ حَدِیثُ السِّنِّ : أَرَأَیْتِ قَوْلَ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ { إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا} فَمَا أُرَی عَلَی أَحَدٍ شَیْئًا أَنْ لاَ یَطَّوَّفَ بِہِمَا قَالَتْ عَائِشَۃُ : کَلاَّ لَوْ کَانَتْ کَمَا تَقُولُ کَانَتْ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ لاَ یَطَّوَّفَ بِہِمَا ، إِنَّمَا أُنْزِلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ فِی الأَنْصَارِ وَکَانُوا یُہِلُّونَ لِمَنَاۃَ وَکَانَ مَنَاۃُ حَذْوَ قُدَیْدٍ وَکَانُوا یَتَحَرَّجُونَ أَنْ یَطُوفُوا بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَلَمَّا جَائَ الإِسْلاَمُ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ عَنْ ذَلِکَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّہِ} الآیَۃَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔ قَالَ الْبُخَارِیُّ زَادَ أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ ہِشَامٍ: مَا أَتَمَّ اللَّہُ حَجَّ امْرِئٍ وَلاَ عُمْرَتَہُ لَمْ یَطُفْ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۶۱۔ مسلم ۱۲۷۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩৬৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ صفا ومروہ کے طوف کا واجب ہونا اور اس بات کا بیان کہ اس کا غیر اس سے کفایت نہیں کرسکتا
(٩٣٥٨) عروہ بن زبیر بن العوام (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عائشہ (رض) نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں، اگر کوئی آدمی صفا ومروہ کا طواف چھوڑ دے تو اس کو کوئی نقصان نہ ہوگا، انھوں نے کہا : کیوں ؟ میں نے کہا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : صفا ومروہ اللہ کے شعائر میں سے ہے تو جس نے حج یا عمرہ کیا تو اس پر ان دونوں کا طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے تو انھوں نے کہا : اے میرے بھانجے ! اگر ایسی بات ہوتی جو تو کہتا ہے تو ہونا چاہیے تھا کہ ” ان کا طواف نہ کرنے میں حرج نہیں ہے اس شخص کا حج و عمرہ مکمل نہیں جس نے صفاو مروہ کا طواف نہ کیا۔ کیا تجھے علم ہے یہ کس بارے میں نازل ہوئی ؟ انصار سمندر کے کنارے ایک بت کے لیے تلبیہ کہتے تھے، پھر وہ آتے اور صفا ومروہ کا طواف کرتے اور سر منڈواتے تو جب اسلام آیا تو انھوں نے اس وجہ سے جو وہ جاہلیت میں کیا کرتے تھے ان دونوں کے درمیان طواف کرنا ناپسند کیا تو اللہ نے یہ آیت نازل کردی : یقیناً صفا ومروہ۔۔۔ الخ تو لوگ آئے اور انھوں نے طواف کیا۔

(ب) ابو معاویہ ہشام سے روایت کرتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو جاہلیت میں صفا مروہ کے درمیان طواف کرتے تھے۔

(ج) مالک کی روایت میں ہے کہ یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی جو ان دونوں کے درمیان طواف نہیں کرتے تھے، احتمال ہے کہ دونوں قول درست نہیں۔
(۹۳۵۸)۔ أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ۔

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْل بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَہَنَّادُ بْنُ السَّرِیِّ قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَ قُلْتُ : إِنِّی لأَظُنُّ أَنَّ رَجُلاً لَوْ تَرَکَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ لَمْ یَضُرُّہُ قَالَتْ : وَلِمَ؟ قُلْتُ إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَقُولُ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا} قَالَتْ : یَا ابْنَ أُخْتِی لَوْ کَانَتْ کَمَا تَقُولُ لَکَانَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ لاَ یَطَّوَّفَ بِہِمَا ، مَا أَتَمَّ اللَّہُ حَجَّ امْرِئٍ وَلاَ عُمْرَتَہُ لَمْ یَطُفْ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، أَتَدْرِی فِیمَا کَانَ ذَلِکَ کَانَتِ الأَنْصَارُ یُہِلُّونَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ لِصَنَمٍ عَلَی شَاطِئِ الْبَحْرِ ثُمَّ یَجِیئُونَ فَیَطُوفُونَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَیَحْلِقُونَ فَلَمَّا جَائَ الإِسْلاَمُ کَرِہُوا أَنْ یَطُوفُوا بَیْنَہُمَا لِلَّذِی کَانُوا یَصْنَعُونَ بَیْنَہُمَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ: { إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَإِنَّ اللَّہَ شَاکِرٌ عَلِیمٌ} فَعَادَ النَّاسُ فَطَافُوا۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی کَذَا قَالَ أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ ہِشَامٍ : إِنَّ الآیَۃَ نَزَلَتْ فِی الَّذِینَ کَانُوا یَطُوفُونَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]

وَرَوَاہُ أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامٍ نَحْوَ رِوَایَۃِ مَالِکٍ فِی أَنَّہَا نَزَلَتْ فِیمَنْ لاَ یَطَّوَّفُ بَیْنَہُمَا وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ کِلاَہُمَا صَحِیحًا۔ فَقَدْ:
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩৬৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ صفا ومروہ کے طوف کا واجب ہونا اور اس بات کا بیان کہ اس کا غیر اس سے کفایت نہیں کرسکتا
(٩٣٥٩) عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ (رض) سے کہا : آپ کا اس آیت کے بارے میں کیا خیال ہے {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّہِ } میں نے کہا : اگر کوئی صفا و مروہ کا طواف نہ بھی کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے تو عائشہ (رض) نے فرمایا : میرے بھانجے ! تو نے بہت برا کہا ہے ، اگر اس آیت کا وہ معنی ہوتا جو تو نے لیا ہے تو آیت یوں ہوتی فلا جناح علیہ الا یطوف بہما، لیکن یہ انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، وہ اسلام لانے سے پہلے مناۃ طاغوت کے لیے تلبیہ کہتے تھے، جس کی وہ مشعل کے پاس عبادت کرتے تھے اور جو اس کے لیے تلبیہ کہتا تھا وہ صفا و مروہ کا طواف کرنے میں حرج محسوس کرتا تھا تو جب انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : ان الصفا والمروۃ الخ، عائشہ (رض) فرماتی ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں کے درمیان طواف مشروع قرار دیا ہے تو کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہے کہ وہ ان کا طواف نہ کرے۔ [صحیح۔ مالک : ٨٣٢)
(۹۳۵۹)فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّہُ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقُلْتُ لَہَا : أَرَأَیْتِ قَوْلَ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا}۔ فَقُلْتُ لِعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : وَاللَّہِ مَا عَلَی أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لاَ یَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : بِئْسَمَا قُلْتَ یَا ابْنَ أُخْتِی إِنَّ ہَذِہِ الآیَۃَ لَوْ کَانَتْ کَمَا أَوَّلْتَہَا کَانَتْ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ لاَ یَطَّوَّفَ بِہِمَا وَلَکِنَّہَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ فِی أَنَّ الأَنْصَارَ کَانُوا قَبْلَ أَنْ یُسْلِمُوا یُہِلُّونَ لِمَنَاۃَ الطَّاغِیَۃِ الَّتِی کَانُوا یَعْبُدُونَ عِنْدَ الْمُشَلَّلِ وَکَانَ مَنْ أَہَلَّ لَہَا یَتَحَرَّجُ أَنْ یَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَلَمَّا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ عَنْ ذَلِکَ أَنْزَلَ اللَّہُ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّہِ} الآیَۃَ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا: ثُمَّ قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ الطَّوَافَ بَیْنَہُمَا فَلَیْسَ لأَحَدٍ أَنْ یَتْرُکَ الطَّوَافَ بِہِمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩৬৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ صفا ومروہ کے طوف کا واجب ہونا اور اس بات کا بیان کہ اس کا غیر اس سے کفایت نہیں کرسکتا
(٩٣٦٠) عروہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) نے فرمایا : جو لوگ مناۃ کے لیے تلبیہ کہتے تھے، وہ صفا ومروہ کا طواف کرتے تھے تو انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم صفا ومروہ کا طواف کرتے تھے اور اللہ نے بیت اللہ کے طواف کا ذکر کیا ہے صفا ومروہ کے طواف کا تذکرہ ہی نہیں کیا تو کیا صفا ومروہ کے طواف میں کوئی حرج ہے تو اللہ نے یہ آیت نازل کردی { إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا }۔
(۹۳۶۰)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا حُجَیْنُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا لَیْثٌ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمِثْلِہِ وَزَادَ قَالَ فَأَخْبَرْتُ أَبَا بَکْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ بِالَّذِی حَدَّثَنِی عُرْوَۃُ مِنْ ذَلِکَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقَالَ أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : إِنَّ ہَذَا لَعِلْمٌ وَأَمْرٌ مَا کُنْتُ سَمِعْتُہُ وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالاً مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ یَقُولُونَ إِنَّ النَّاسَ إِلاَّ مَنْ ذَکَرَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا مِمَّنْ کَانُوا یُہِلُّ لِمَنَاۃَ کَانُوا یَطُوفُونَ کُلُّہُمْ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَقَالُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا کُنَّا نَطُوفُ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَأَنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ ذَکَرَ الطَّوَافَ بِالْبَیْتِ وَلَمْ یَذْکُرِ الطَّوَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَہَلْ عَلَیْنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ حَرَجٌ فِی أَنْ نَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ؟ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ: { إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا}۔ قَالَ أَبُو بَکْرٍ فَأَسْمَعُ ہَذِہِ الآیَۃَ قَدْ أُنْزِلَتْ فِی الْفَرِیقَیْنِ کِلاَہُمَا فِی الَّذِینَ کَانُوا یَتَحَرَّجُونَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ أَنْ یَطُوفُوا بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَالَّذِین کَانُوا یَطُوفُونَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ مَعَ الطَّوَافِ بِالْبَیْتِ حِینَ ذَکَرَہُ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَأَخْرَجَہُ أَیْضًا مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ کَذَلِکَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ شُعَیْبِ بْنِ أَبِی حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ کَذَلِکَ وَرِوَایَۃُ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ تُوَافِقُ رِوَایَۃَ مَالِکٍ وَغَیْرِہِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ وَرِوَایَتُہُ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ تُوَافِقُ رِوَایَۃَ أَبِی مُعَاوِیَۃَ عَنْ ہِشَامٍ ثُمَّ قَدْ حَمَلَہُ أَبُو بَکْرٍ عَلَی الأَمْرَیْنِ جَمِیعًا وَإِنَّ الآیَۃَ نَزَلَتْ فِی الْفَرِیقَیْنِ مَعًا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۶۱۔ مسلم ۱۲۷۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩৬৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ صفا ومروہ کے طوف کا واجب ہونا اور اس بات کا بیان کہ اس کا غیر اس سے کفایت نہیں کرسکتا
(٩٣٦١) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ صفا ومروہ جاہلیت کے شعائر میں سے تھیں۔ جب اسلام آیا تو ہم اس سے رک گئے تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّہِ }
(۹۳۶۱)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنَ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ کَانَتَا مِنْ شَعَائِرِ الْجَاہِلِیَّۃِ فَلَمَّا کانَ الإِسْلاَمُ أَمْسَکْنَا عَنْہُمَا فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّہِ}۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفِرْیَابِیِّ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ أَبِی مُعَاوِیَۃَ عَنْ عَاصِمٍ بِمَعْنَاہُ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۶۵۔ مسلم ۱۲۷۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩৬৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ صفا ومروہ کے طوف کا واجب ہونا اور اس بات کا بیان کہ اس کا غیر اس سے کفایت نہیں کرسکتا
(٩٣٦٢) ایک شخص نے ابن عمر (رض) سے پوچھا : کیا کوئی شخص صفا ومروہ کے طواف سے پہلے اپنی بیوی کے پاس جاسکتا ہے تو انھوں نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تو بیت اللہ کا طواف کیا ، پھر دو رکعتیں ادا کیں پھر صفا ومروہ کا طواف کیا ، پھر یہ آیت پڑھی : تحقیق تمہارے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں بہترین نمونہ ہے۔
(۹۳۶۲)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ : أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَیُصِیبُ الرَّجُلَ مِنَ امْرَأَتِہِ قَبْلَ أَنْ یَطُوفَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ؟ فَقَالَ : أَمَّا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ فَقَدْ طَافَ بِالْبَیْتِ ثُمَّ رَکَعَ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ طَافَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ثُمَّ تَلاَ: { لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ}۔ أَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۴۶۔ مسلم ۱۲۳۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩৬৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ صفا ومروہ کے طوف کا واجب ہونا اور اس بات کا بیان کہ اس کا غیر اس سے کفایت نہیں کرسکتا
(٩٣٦٣) عمرو کہتے ہیں کہ ہم نے جابر (رض) سے پوچھا : کیا جس شخص نے بیت اللہ کا طواف کیا ہوا اور ابھی صفا ومروہ کی سعی نہ کی ہو وہ اپنی بیوی کے پاس جاسکتا ہے تو انھوں نے کہا : نہیں، اور انھوں نے ابن عمر (رض) سے پوچھا : تو انھوں نے فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور بیت اللہ کے ساتھ چکر لگائے ، پھر مقام کے پیچھے دو رکعتیں ادا کیں اور صفا ومروہ کے سات طواف کیے اور تمہارے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں بہترین نمونہ ہے۔
(۹۳۶۳)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا سُرَیْجٌ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ عَبَّادٍ وَابْنُ الْمُقْرِئِ وَزِیَادُ بْنُ أَیُّوبَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ سَأَلْنَاہُ عَنْ رَجُلٍ طَافَ بِالْبَیْتِ وَلَم یَطُفْ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فِی عُمْرَۃٍ أَیَأْتِی امْرَأَتَہُ قَالَ : لاَ۔ وَسَأَلُوا ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْہُ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ فَطَافَ بِالْبَیْتِ سَبْعًا وَصَلَّی خَلْفَ الْمَقَامِ رَکْعَتَیْنِ وَطَافَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ سَبْعًا وَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔ [صحیح۔ ابو یعلی ۵۶۳۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩৬৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ صفا ومروہ کے طوف کا واجب ہونا اور اس بات کا بیان کہ اس کا غیر اس سے کفایت نہیں کرسکتا
(٩٣٦٤) عمرو فرماتے ہیں کہ ہم نے ابن عمر (رض) سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو عمرہ کرنے کے لیے آیا اور بیت اللہ کا طواف کیا لیکن صفا ومروہ کا طواف نہ کیا تو کیا وہ اپنی بیوی کے پاس جاسکتا ہے تو ابن عمر (رض) نے فرمایا : سابقہ حدیث والے الفاظ ہی ذکر کیے۔
(۹۳۶۴)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو َخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ : سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَجُلٍ قَدِمَ بِعُمْرَۃٍ فَطَافَ بِالْبَیْتِ وَلَمْ یَطُفْ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ أَیَأْتِی امْرَأَتَہُ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ۔۔۔ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِ حَدِیثِہِمْ عَنْ سُفْیَانَ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی خَیْثَمَۃَ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۶۳۔ مسلم ۱۲۳۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩৭০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ صفا ومروہ کے طوف کا واجب ہونا اور اس بات کا بیان کہ اس کا غیر اس سے کفایت نہیں کرسکتا
(٩٣٦٥) بنی عبدالدار کی وہ عورتیں جنہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پایا ہے، فرماتی ہیں کہ ہم ابن ابی حسین کے گھر گئیں، ہم نے ٹوٹے ہوئے دروازے سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا وہ سعی والی جگہ میں تیزی کر رہے تھے حتیٰ کہ جب بنی فلاں کے تنگ راستے پر پہنچے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے لوگو ! سعی کرو کیوں کہ سعی تم پر فرض کردی گئی ہے۔
(۹۳۶۵)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ قَالاَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِیسَی النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنِی مَعْرُوفُ بْنُ مُشْکَانَ أَخْبَرَنِی مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّہِ صَفِیَّۃَ أَخْبَرَتْنِی عَنْ نِسْوَۃٍ مِنْ بَنِی عَبْدِ الدَّارِ اللاَّتِی أَدْرَکْنَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قُلْنَ : دَخَلْنَ دَارَ ابْنَ أَبِی حُسَیْنٍ فَاطَّلَعْنَا مِنْ بَابٍ مُقَطَّعٍ وَرَأَیْنَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یَشْتَدُّ فِی الْمَسْعَی حَتَّی إِذَا بَلَغَ زُقَاقَ بَنِی فُلاَنٍ مَوْضِعًا قَدْ سَمَّاہُ مِنَ الْمَسْعَی اسْتَقْبَلَ النَّاسَ فَقَالَ :(( یَا أَیُّہَا النَّاسُ اسْعَوْا فَإِنَّ السَّعْیَ قَدْ کُتِبَ عَلَیْکُمْ ))۔ [حسن۔ دارقطنی ۲/ ۲۵۵]
tahqiq

তাহকীক: