আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৮৮ টি
হাদীস নং: ৯৩৭১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ صفا ومروہ کے طوف کا واجب ہونا اور اس بات کا بیان کہ اس کا غیر اس سے کفایت نہیں کرسکتا
(٩٣٦٦) بنو عبد الدار کی ایک عورت بنت ابی تجراۃ فرماتی ہیں کہ میں قریشی عورتوں کے ساتھ دار آل ابی حسین میں داخل ہوئی، ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھ رہے تھے اور آپ صفا ومروہ کی سعی فرما رہے تھے، میں نے آپ کو سعی کرتے ہوئے دیکھا اور آپ کا ازار تیز سعی کرنے کی وجہ سے گھوم رہا تھا، حتیٰ کہ میں کہہ رہی تھی کہ اب آپ کے گھٹنے میں دیکھ لوں گی اور میں نے آپ کو یہ کہتے سنا : سعی کرو یقیناً اللہ نے تم پر سعی فرض کی ہے۔
(۹۳۶۶)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ الْعَابِدِیُّ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَیْصِنٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ قَالَتْ أَخْبَرَتْنِی بِنْتُ أَبِی تَجْرَاۃَ إِحْدَی نِسَائِ بَنِی عَبْدِ الدَّارِ قَالَتْ: دَخَلْتُ مَعَ نِسْوَۃٍ مِنْ قُرَیْشٍ دَارَ آلِ أَبِی حُسَیْنٍ نَنْظُرُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ وَہُوَ یَسْعَی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَرَأَیْتُہُ یَسْعَی وَإِنَّ مِئْزَرَہُ لَیَدُورُ مِنْ شِدَّۃِ السَّعْیِ حَتَّی لأَقُولُ إِنِّی لأَرَی رُکْبَتَیْہِ وَسَمِعْتُہُ یَقُولُ : ((اسْعَوْا فَإِنَّ اللَّہَ کَتَبَ عَلَیْکُمُ السَّعْیَ ))۔
رَوَاہُ یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدِ وَمُعَاذُ بْنُ ہَانِئٍ عَنِ ابْنِ الْمُؤَمَّلِ إِلاَّ أَنَّہُمَا قَالاَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَیْصِنٍ وَقَالاَ عَنْ حَبِیبَۃَ بِنْتِ أَبِی تَجْرَاۃَ وَزَعَمَ الْوَاقِدِیُّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِیِّ عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِیَّۃَ عَنْ أُمِّہِ عَنْ بُرَّۃَ بِنْتِ أَبِی تَجْرَاۃَ وَقِیلَ عَنْ صَفِیَّۃَ عَنْ تَمْلِکَ وَکَأَنَّہَا سَمِعَتْہُ مِنْہُمَا فَقَدْ أَخْبَرَتْ فِی الرِّوَایَۃِ الأُولَی أَنَّہَا أَخَذَتْہُ عَنْ نِسْوَۃٍ۔ [ضعیف۔ حاکم ۴/ ۷۹]
رَوَاہُ یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدِ وَمُعَاذُ بْنُ ہَانِئٍ عَنِ ابْنِ الْمُؤَمَّلِ إِلاَّ أَنَّہُمَا قَالاَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَیْصِنٍ وَقَالاَ عَنْ حَبِیبَۃَ بِنْتِ أَبِی تَجْرَاۃَ وَزَعَمَ الْوَاقِدِیُّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِیِّ عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِیَّۃَ عَنْ أُمِّہِ عَنْ بُرَّۃَ بِنْتِ أَبِی تَجْرَاۃَ وَقِیلَ عَنْ صَفِیَّۃَ عَنْ تَمْلِکَ وَکَأَنَّہَا سَمِعَتْہُ مِنْہُمَا فَقَدْ أَخْبَرَتْ فِی الرِّوَایَۃِ الأُولَی أَنَّہَا أَخَذَتْہُ عَنْ نِسْوَۃٍ۔ [ضعیف۔ حاکم ۴/ ۷۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৭২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ صفا ومروہ کے طوف کا واجب ہونا اور اس بات کا بیان کہ اس کا غیر اس سے کفایت نہیں کرسکتا
(٩٣٦٧) تملک (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے کمرے سے صفا ومروہ کے درمیان دیکھا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے : لوگو ! اللہ نے تم پر سعی فرض کی لہٰذا سعی کرو۔
(۹۳۶۷)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَبُو الشَّیْخِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ مَنْدَہْ حَدَّثَنَا یُوسُفُ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا مِہْرَانُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الْمُثَنَّی بْنِ الصَّبَّاحِ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ حَکِیمٍ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ عَنْ تَمْلِکَ قَالَتْ : نَظَرْتُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ وَأَنَا فِی غُرْفَۃٍ لِی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَہُوَ یَقُولُ :(( أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّ اللَّہَ کَتَبَ عَلَیْکُمُ السَّعْیَ فَاسْعَوْا ))۔
تَفَرَّدَ بِہِ مِہْرَانُ بْنُ أَبِی عُمَرَ عَنِ الثَّوْرِیِّ۔ [ضعیف۔ طبرانی کبیر ۵۲۹]
تَفَرَّدَ بِہِ مِہْرَانُ بْنُ أَبِی عُمَرَ عَنِ الثَّوْرِیِّ۔ [ضعیف۔ طبرانی کبیر ۵۲۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৭৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ صفا ومروہ کے طوف کا واجب ہونا اور اس بات کا بیان کہ اس کا غیر اس سے کفایت نہیں کرسکتا
(٩٣٦٨) شیبہ کی ام والد (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کھڑکی سے دیکھا ، آپ بطن سیل میں صفا ومروہ کے درمیان سعی کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے : وادی یا ابطح کو تیزی کے ساتھ ہی کر اس کیا جائے۔
(۹۳۶۸)وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا بُدَیْلُ بْنُ مَیْسَرَۃَ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ حَکِیمٍ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِشَیْبَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ مِنْ خَوْخَۃٍ وَہُوَ یَسْعَی فِی بَطْنِ الْمَسِیلِ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَہُوَ یَقُولُ : ((لاَ یُقْطَعُ الْوَادِی أَوِ الأَبْطَحُ إِلاَّ شَدًّا ))۔ [صحیح۔ نسائی ۲۹۸۰۔ ابن ماجہ ۲۹۸۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৭৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ صفا ومروہ کے طوف کا واجب ہونا اور اس بات کا بیان کہ اس کا غیر اس سے کفایت نہیں کرسکتا
(٩٣٦٩) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے تھے : قریب یا بعید سے حج نہیں کیا جاسکتا جب تک صفا ومروہ کی سعی نہ ہو اور عورتیں مردوں کے لیے حلال نہ ہوں گی حتیٰ کہ وہ صفا ومروہ کی سعی نہ کرلیں۔
(۹۳۶۹)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : لاَ یَحُجُّ مِنْ قَرِیبٍ وَلاَ بَعِیدٍ إِلاَّ أَنْ یَطُوفَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَأَنَّ النِّسَائَ لاَ یَحْلِلْنَ لِلرِّجَالِ حَتَّی یَطُفْنَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৭৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ صفا ومروہ کی سعی کی ابتداکا بیان
(٩٣٧٠) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ عورتوں پہلے جو کمر بند باندھا ہے یہ امِ اسماعیل کی طرف سے ہے، انھوں نے یہ کمر بند باندھا تاکہ اپنے اثرات سارہ سے چھپالیں، پھر ابراہیم نے ان کو اور ان کے بیٹے اسماعیل کو لے کر آئے اور وہ اسے دودھ پلا رہی تھیں، حتی کہ ان کو بیت اللہ کے پاس رکھا اور ان دنوں مکہ میں کوئی نہیں تھا اور وہاں پر پانی بھی نہیں تھا، انھوں نے ان دونوں کو وہیں ٹھہرایا اور ان کے پاس ایک تھیلا رکھا ، جس میں کھجوریں تھیں اور مشکیزہ رکھا جس میں پانی تھا ۔ پھر ابراہیم (علیہ السلام) منہ پھیر کر جانے لگے تو امِ اسماعیل ان کے پیچھے گئیں اور کہا : اے ابراہیم ! آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ ہمیں اس وادی میں چھوڑ کر جس میں کوئی انیس نہیں جس سے مانوس ہوا جائے اور پانی نہیں ہے۔ انھوں نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی اور وہ ان کی طرف دیکھ ہی نہیں رہے تھے تو انھوں نے کہا : کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں ! کہنے لگیں : پھر وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔ پھر وہ لوٹ آئی اور ابراہیم چلے گئے حتی کہ جب بیت اللہ کے پاس پہنچے جہاں وہ ان کو نہیں دیکھ سکتے تھے تو اپنا چہرہ بیت اللہ کی طرف کیا۔ پھر یہ دعائیں مانگیں اور اپنے ہاتھ اٹھائے اور کہا : اے ہمارے رب ! میں نے اپنی اولاد کو بنجر زمین میں ٹھہرایا ہے تیرے عزت والے گھر کے پاس حتیٰ کہ وہ یہاں تک پہنچے ” تاکہ وہ شکر کریں “ تو امِ اسماعیل ان کو دودھ پلاتیں اور خود پانی پی لیتیں حتیٰ کہ جب پانی ختم ہوگیا تو وہ بھی پیاسی ہوگئیں اور ان کا بیٹا بھی اور بھوک نے بھی ستایا تو وہ گردن گھما کر دیکھنے لگی اور ڈرتے ڈرتے اپنے قریبی پہاڑ صفا پر گئی کہ اس کو بھی دیکھ سکے اور اس پر کھڑی ہو کر وادی کی طرف منہ کر کے دیکھنے لگی کہ کوئی نظر آتا ہے تو کوئی نظر نہ آیا تو صفا سے اتری حتیٰ کہ وادی میں پہنچ گئی تو اپنی چادر کا بلو اٹھایا اور پھر پور کوشش کر کے وادی کو دوڑ کر کر اس کیا پھر سرے پر آئی اور دیکھنے لگی کہ کوئی نظر آتا ہے تو کوئی نظر نہ آیا، انھوں نے یہ کام سات مرتبہ کیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسی وجہ سے لوگوں نے اس کی سعی کی، تو جب وہ مروہ پر چڑھی تو اس نے ایک آواز سنی۔ تو دل میں کہتی : ہے خاموش ! پھر اس نے غور سے سنا : کہنے لگی تو نے سنا دیا ہے اگر تیرے پاس کچھ تعاون ہے، تو اچانک وہ ایک فرشتے کے پاس تھیں زمزم والی جگہ پر، وہ اس کو اپنے پر یا ایڑی کے ساتھ کرید رہا تھا، حتیٰ کہ پانی نکل آیا تو وہ اس کو حوض بنانے لگی اور پانی سے اپنے مشکیزے میں چلو بھرنے لگی اور وہ اس قدر جوش مارتا جتنا وہ چلو بھرتی ۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ ام اسماعیل پر رحم کرے، اگر وہ زم زم کو چھوڑ دیتی یا چلو نہ بھرتی تو زم زم ہم پر بہنے والا ہوتا، تو اس نے پیا اور بچے کو دودھ پلایا اور اس کو فرشتے نے کہا : گھبرانا نہیں یہاں اللہ کا گھر ہے جس کو یہ بچہ اور اس کا والد تعمیر کریں گے ، اللہ اس کے رہنے والوں کو ضائع نہیں فرماتا۔
(۹۳۷۰)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا ہَارُونُ بْنُ یُوسُفَ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ کَثِیرِ بْنِ کَثِیرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِی وَدَاعَۃَ وَأَیُّوبَ یَزِیدُ أَحَدُہُمَا عَلَی صَاحِبِہِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَوَّلُ مَا اتَّخَذَ النِّسَائُ الْمِنْطَقَ مِنْ قِبَلِ أُمِّ إِسْمَاعِیلَ اتَّخَذَتْ مِنْطَقًا لِتُعْفِیَ أَثَرَہَا عَلَی سَارَۃَ ثُمَّ جَائَ بِہَا إِبْرَاہِیمُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ وَبِابْنِہَا إِسْمَاعِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ وَہِیَ تُرْضِعُہُ حَتَّی وَضَعَہُا عِنْدَ الْبَیْتِ وَلَیْسَ بِمَکَّۃَ یَوْمَئِذٍ أَحَدٌ وَلَیْسَ بِہَا مَائٌ فَوَضَعَہُمَا ہُنَالِکَ وَوَضَعَ عِنْدَہُمَا جِرَابًا فِیہِ تَمْرٌ وَسِقَائً فِیہِ مَائٌ ثُمَّ قَفَّی إِبْرَاہِیمُ مُنْطَلِقًا فَتَبِعَتْہُ أُمُّ إِسْمَاعِیلَ وَقَالَتْ : یَا إِبْرَاہِیمُ أَیْنَ تَذْہَبُ وَتَتْرُکُنَا بِہَذَا الْوَادِی الَّذِی لَیْسَ فِیہِ أَنِیسٌ وَلاَ شَیْئٌ قَالَتْ ذَلِکَ ثَلاَثَ مِرَارٍ وَجَعَلَ لاَ یَلْتَفِتُ فَقَالَتْ لَہُ : آللَّہُ أَمَرَکَ بِہَذَا قَالَ : نَعَمْ قَالَتْ : إِذًا لاَ یُضَیِّعَنَا ثُمَّ رَجَعَتْ وَانْطَلَقَ إِبْرَاہِیمُ حَتَّی إِذَا کَانَ عِنْدَ الْبَیْتِ حَیْثُ لاَ یَرَوْنَہُ اسْتَقْبَلَ بِوَجْہِہِ الْبَیْتَ ثُمَّ دَعَا بِہَذِہِ الدَّعَوَاتِ وَرَفَعَ یَدَیْہِ وَقَالَ:{رَبَّنَا إِنِّی أَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِی بِوَادٍ غَیْرِ ذِی زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحْرَّمِ}۔ حَتَّی بَلَغَ: {لَعَلَّہُمْ یَشْکُرُونَ}۔ فَجَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِیلَ تُرْضِعُ إِسْمَاعِیلَ وَتَشْرَبُ مِنْ ذَلِکَ الْمَائِ حَتَّی إِذَا نَفِدَ مَا فِی السِّقَائِ عَطِشَتْ وَعَطِشَ ابْنُہَا وَجَاعَ وَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَیْہِ یَتَلَوَّی أَوْ قَالَ یَتَلَبَّطُ فَانْطَلَقَتْ کَرَاہِیَۃَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَیْہِ فَوَجَدَتِ الصَّفَا أَقْرَبَ جَبَلٍ فِی الأَرْضِ یَلِیہَا فَقَامَتْ عَلَیْہِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَتِ الْوَادِیَ تَنْظُرُ ہَلْ تَرَی أَحَدًا فَلَمْ تَرَ أَحَدًا فَہَبَطَتْ مِنَ الصَّفَا حَتَّی إِذَا بَلَغَتِ الْوَادِیَ رَفَعَتْ طَرَفَ دِرْعِہَا وَسَعَتْ سَعْیَ الإِنْسَانِ الْمَجْہُودِ حَتَّی جَاوَزَتِ الْوَادِیَ ثُمَّ أَتَتِ الْمَرْوَۃَ فَقَامَتْ عَلَیْہَا فَنَظَرَتْ ہَلْ تَرَی أَحَدًا فَلَمْ تَرَ أَحَدًا فَفَعَلَتْ ذَلِکَ سَبْعَ مَرَّاتٍ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ :(( فَلِذَلِکَ سَعَی النَّاسُ بَیْنَہُمَا ))۔ فَلَمَّا أَشْرَفَتْ عَلَی الْمَرْوَۃِ سَمِعَتْ صَوْتًا فَقَالَتْ : صَہٍ تُرِیدُ نَفْسَہَا ثُمَّ تَسَمَّعَتْ أَیْضًا فَسَمِعَتْ فَقَالَتْ : قَدْ أَسْمَعْتَ إِنْ کَانَ عِنْدَکَ غُوَاثٌ فَإِذَا ہِیَ بِالْمَلَکِ عِنْدَ مَوْضِعِ زَمْزَمَ یَبْحَثُ بِعَقِبِہِ أَوْ قَالَ بِجَنَاحِہِ حَتَّی ظَہَرَ الْمَائُ فَجَعَلَتْ تَحُوضُہُ وَجَعَلَتْ تَغْرِفُ مِنَ الْمَائِ فِی سِقَائِہَا وَہِیَ تَفُورُ بِقَدْرِ مَا تَغْرِفُ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ : (( یَرْحَمُ اللَّہُ أُمَّ إِسْمَاعِیلَ لَوْ تَرَکَتْ زَمْزَمَ)) أَوْ قَالَ: ((لَوْ لَمْ تَغْرِفْ مِنَ الْمَائِ لَکَانَتْ زَمْزَمُ عَیْنًا مَعِینًا ))۔ فَشَرِبَتْ وَأَرْضَعَتْ وَلَدَہَا وَقَالَ لَہَا الْمَلَکُ : لاَ تَخَافِی مِنَ الضَّیْعَۃِ فَإِنَّ ہَا ہُنَا بَیْتُ اللَّہِ یَبْنِیہِ ہَذَا الْغُلاَمُ وَأَبُوہُ فَإِنَّ اللَّہَ لاَ یُضَیِّعُ أَہْلَہُ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِالرَّزَّاقِ۔[صحیح۔ بخاری۳۱۸۴۔ احمد ۱/۳۴۷]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِالرَّزَّاقِ۔[صحیح۔ بخاری۳۱۸۴۔ احمد ۱/۳۴۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৭৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے تیز سعی کو ترک کیا اور وادی میں آہستہ چلا
(٩٣٧١) ایک شخص نے ابن عمر (رض) کو صفا ومروہ کی سعی میں کہا کہ میں آپ کو دیکھتا ہوں ، آپ چلتے ہیں اور لوگ سعی کرتے ہیں تو انھوں نے کہا : اگر میں چلوں تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چلتے دیکھا ہے اور اگر میں سعی کروں تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سعی کرتے دیکھا ہے اور میں بوڑھا آدمی ہوں۔
(۹۳۷۱)أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : جَنَاحُ بْنُ نَذِیرِ بْنِ جَنَاحٍ الْمُحَارِبِیُّ بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ کَثِیرِ بْنِ جُمْہَانَ أَنَّ رَجُلاً قَالَ لاِبْنِ عُمَرَ فِی السَّعْیِ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ : أَرَاکَ تَمْشِی وَالنَّاسُ یَسْعَوْنَ قَالَ : إِنْ أَمْشِی فَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یَمْشِی وَإِنْ أَسْعَی فَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یَسْعَی وَأَنَا شَیْخٌ کَبِیرٌ۔ [صحیح۔ ابوداود ۱۹۰۴۔ ترمذی ۸۶۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৭৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ سوار ہو کر طواف کرنا
(٩٣٧٢) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجِ وداع کے موقع پر اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا اور رکن کو اپنی لاٹھی سے چھوتے تھے۔
(۹۳۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُوعَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاہِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُبَیْدِاللَّہِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ طَافَ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ عَلَی بَعِیرٍ یَسْتَلِمُ الرُّکْنَ بِمِحْجَنٍ۔ لَفْظُ حَدِیثِہِمَا سَوَائٌ
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ۔
[صحیح۔ بخاری ۱۵۳۰۔ مسلم ۱۲۷۲]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ۔
[صحیح۔ بخاری ۱۵۳۰۔ مسلم ۱۲۷۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৭৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ سوار ہو کر طواف کرنا
(٩٣٧٣) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ کا طواف اونٹ پر سوا ہو کر کیا، جب بھی رکن کے پاس آتے تو کسی چیز کے ساتھ جو آپ کے ہاتھ میں ہوتی اشارہ کرتے اور تکبیر کہتے۔
(۹۳۷۳)أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْکَرِیمِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاہِینَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ طَافَ بِالْبَیْتِ وَہُوَ عَلَی بَعِیرٍ کُلَّمَا أَتَی عَلَی الرُّکْنِ أَشَارَ إِلَیْہِ بِشَیْئٍ فِی یَدِہِ وَکَبَّرَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ شَاہِینَ۔وَرَوَاہُ یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ وَزَادَ فِیہِ ثُمَّ قَبَّلَہُ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۵۱]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ شَاہِینَ۔وَرَوَاہُ یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ وَزَادَ فِیہِ ثُمَّ قَبَّلَہُ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۵۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৭৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ سوار ہو کر طواف کرنا
(٩٣٧٤) ایضاً
(۹۳۷۴)أَخْبَرَنَاہُ ہِلاَلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَفَّارُ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَیَّاشٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ وَبِزِیَادَتِہِ ثُمَّ قَالَ یَزِیدُ : یُقَبِّلُ ذَلِکَ الشَّیْئَ الَّذِی فِی یَدِہِ۔[صحیح۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৮০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ سوار ہو کر طواف کرنا
(٩٣٧٥) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ آئے اور وہ بیمار تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی اونٹنی پر ہی بیت اللہ کا طواف کیا ۔ جب بھی رکن پر آتے تو اپنی لاٹھی کے ساتھ استلام فرماتے، جب طواف سے فارغ ہوئے تو اونٹنی کو بٹھایا اور دو رکعتیں ادا کیں۔
(۹۳۷۵)وَرَوَاہُ یَزِیدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَدِمَ مَکَّۃَ وَہُوَ یَشْتَکِی فَطَافَ بِالْبَیْتِ عَلَی رَاحِلَتِہِ کُلَّمَا أَتَی عَلَی الرُّکْنِ اسْتَلَمَہُ بِمِحْجَنٍ مَعَہُ فَلَمَّا فَرَغَ یَعْنِی مِنْ طَوَافِہِ أَنَاخَ وَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ۔
أَخْبَرَنَاہُ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ النَّرْسِیُّ وَعَبْدُ الأَعْلَی قَالاَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ فَذَکَرَہُ۔ رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ مُسَدَّدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ کَذَا قَالَ یَزِیدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ وَہَذِہِ زِیَادَۃٌ یَنْفَرِدُ بِہَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَقَدْ بَیَّنَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ وَابْنُ عَبَّاسٍ فِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی عَنْہُ وَعَائِشَۃُ بِنْتُ الصِّدِّیقِ الْمَعْنَی۔
[ضعیف۔ ابوداود ۱۸۸۱۔ احمد ۱/ ۳۰۴]
أَخْبَرَنَاہُ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ النَّرْسِیُّ وَعَبْدُ الأَعْلَی قَالاَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ فَذَکَرَہُ۔ رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ مُسَدَّدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ کَذَا قَالَ یَزِیدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ وَہَذِہِ زِیَادَۃٌ یَنْفَرِدُ بِہَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَقَدْ بَیَّنَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ وَابْنُ عَبَّاسٍ فِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی عَنْہُ وَعَائِشَۃُ بِنْتُ الصِّدِّیقِ الْمَعْنَی۔
[ضعیف۔ ابوداود ۱۸۸۱۔ احمد ۱/ ۳۰۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৮১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ سوار ہو کر طواف کرنا
(٩٣٧٦) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف کیا، رکن کو لاٹھی کے ساتھ چھوتے تاکہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھ لیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرسکیں ، کیوں کہ لوگوں نے آپ کو ڈھانپ لیا تھا۔
(۹۳۷۶) أَمَّا حَدِیثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ۔
وَأَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : طَافَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ بِالْبَیْتِ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ عَلَی رَاحِلَتِہِ یَسْتَلِمُ الرُّکْنَ بِمِحْجَنِہِ لأَنْ یَرَاہُ النَّاسُ وَلِیُشْرِفَ وَلِیَسْأَلُوہُ فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوہُ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی بَکْرٍ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۷۳]
وَأَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : طَافَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ بِالْبَیْتِ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ عَلَی رَاحِلَتِہِ یَسْتَلِمُ الرُّکْنَ بِمِحْجَنِہِ لأَنْ یَرَاہُ النَّاسُ وَلِیُشْرِفَ وَلِیَسْأَلُوہُ فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوہُ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی بَکْرٍ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۷۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৮২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ سوار ہو کر طواف کرنا
(٩٣٧٧) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف اپنی اونٹنی پر کیا تاکہ لوگ آپ کو دیکھ لیں اور سوال کرسکیں کیوں کہ لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ڈھانپ لیا تھا۔
(۹۳۷۷)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : طَافَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ عَلَی رَاحِلَتِہِ بِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ لِیَرَاہُ النَّاسُ وَلِیُشْرِفَ وَلِیَسْأَلُوہُ فَإِنَّ النَّاسُ غَشُوہُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَکْرٍ۔
وَأَمَّا حَدِیثُ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۷۳]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَکْرٍ۔
وَأَمَّا حَدِیثُ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۷۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৮৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ سوار ہو کر طواف کرنا
(٩٣٧٨) ابوطفیل فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) کو کہا : آپ کا کیا خیال ہے کہ بیت اللہ کا طواف تین چکر رمل اور چار چل کر سنت ہے ؟ آپ کی قوم تو سمجھتی ہے کہ یہ سنت ہے تو انھوں نے کہا : انھوں نے سچ کہا ہے اور جھوٹ کہا ہے۔ میں نے کہا کہ سچ اور جھوٹ کہنے کا کیا مطلب ؟ تو انھوں نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے ساتھی کمزوری کی وجہ سے بیت اللہ کا طواف نہ کرسکیں گے اور وہ اس پر حسد کرتے تھے تو ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ تین چکر رمل کریں اور چار چل کر لگائیں، کہتے ہیں کہ میں نے کہا : مجھے طواف کے بارے میں بتاؤ۔ صفا مروہ کے درمیان کیا یہ سوار ہو کر کرنا سنت ہے آپ کی قوم تو یہی سمجھتی ہے کہ یہ سنت ہے، انھوں نے کہا کہ انھوں نے سچ کہا ہے اور جھوٹ بھی، میں نے کہا : آپ کے یہ کہنے کا کیا مقصد کہ سچ اور جھوٹ کہا ہے ؟ تو وہ کہنے لگے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر لوگ زیادہ ہوگئے تھے اور کہتے تھے : یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں حتیٰ کہ لڑکیاں بھی گھروں سے نکلیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سے لوگوں کو ہٹایا نہ جاتا تھا۔ جب وہ زیادہ ہوگئے تو سوار ہوگئے اور چلنا اور سعی کرنا افضل ہے۔ [صحیح۔ مسلم ١٢٦٤)
(۹۳۷۸) فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرْنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ قَالَ وَأَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا الْجُرَیْرِیُّ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ : أَرَأَیْتَ ہَذَا الرَّمَلَ بِالْبَیْتِ ثَلاَثَۃَ أَطْوَافٍ وَمَشْیَ أَرْبَعَۃٍ أَسُنَّۃٌ ہُوَ فَإِنَّ قَوْمَکَ یَزْعُمُونَ أَنَّہُ سُنَّۃٌ قَالَ فَقَالَ : صَدَقُوا وَکَذَبُوا قَالَ قُلْتُ : مَا قَوْلُکَ صَدَقُوا وَکَذَبُوا قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَدِمَ مَکَّۃَ فَقَالَ الْمُشْرِکُونَ : إِنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَہُ لاَ یَسْتَطِیعُونَ أَنْ یَطُوفُوا بِالْبَیْتِ مِنَ الْہُزْلِ قَالَ وَکَانُوا یَحْسُدُونَہُ قَالَ فَأَمَرَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ أَنْ یَرْمُلُوا ثَلاَثًا وَیَمْشُوا أَرْبَعًا قَالَ قُلْتُ أَخْبِرْنِی عَنِ الطَّوَافِ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ رَاکِبًا أَسُنَّۃٌ ہُوَ فَإِنَّ قَوْمَکَ یَزْعُمُونَ أَنَّہُ سُنَّۃٌ۔ قَالَ : صَدَقُوا وَکَذَبُوا قَالَ قُلْتُ مَا قَوْلُکَ صَدَقُوا وَکَذَبُوا۔
قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ کَثُرَ عَلَیْہِ النَّاسُ یَقُولُونَ ہَذَا مُحَمَّدٌ حَتَّی خَرَجْنَ الْعَوَاتِقُ مِنَ الْبُیُوتِ قَالَ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ لاَ یُضْرَبُ النَّاسُ بَیْنَ یَدَیْہِ قَالَ فَلَمَّا کَثُرَ عَلَیْہِ رَکِبَ وَالْمَشْیُ وَالسَّعْیُ أَفْضَلُ۔ لَفْظُ عِمْرَانَ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کَامِلٍ الْجَحْدَرِیِّ۔
قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ کَثُرَ عَلَیْہِ النَّاسُ یَقُولُونَ ہَذَا مُحَمَّدٌ حَتَّی خَرَجْنَ الْعَوَاتِقُ مِنَ الْبُیُوتِ قَالَ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ لاَ یُضْرَبُ النَّاسُ بَیْنَ یَدَیْہِ قَالَ فَلَمَّا کَثُرَ عَلَیْہِ رَکِبَ وَالْمَشْیُ وَالسَّعْیُ أَفْضَلُ۔ لَفْظُ عِمْرَانَ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کَامِلٍ الْجَحْدَرِیِّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৮৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ سوار ہو کر طواف کرنا
(٩٣٧٩) ابوطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) کو کہا کہ آپ کی قوم یہ سمجھتی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹ پر سوار ہو کر صفا ومروہ کا طواف کیا ہے اور یہ سنت ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ سچ اور جھوٹ بولتے ہیں۔ میں نے کہا : یہ سچ اور جھوٹ بولنے سے کیا مراد ہے ؟ انھوں نے کہا کہ سچ یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹ پر طواف کیا ہے اور جھوٹ یہ کہ وہ سنت ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لوگوں کو ہٹایا نہیں جاتا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹ پر طواف کیا، تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ کی بات سن سکیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک ان کے ہاتھ نہ پہنچیں۔
(۹۳۷۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ الْغَنَوِیِّ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ : یَزْعُمُ قَوْمَکَ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَدْ طَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ عَلَی بَعِیرِہِ وَأَنَّ ذَلِکَ سُنَّۃٌ قَالَ : صَدَقُوا وَکَذَبُوا۔ قُلْتُ مَا قَوْلُکَ صَدَقُوا وَکَذَبُوا قَالَ : صَدَقُوا قَدْ طَافَ عَلَی بَعِیرِہِ وَکَذَبُوا لَیْسَ بِسُنَّۃٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ کَانَ لاَ یُدْفَعُ عَنْہُ النَّاسُ وَلاَ یُصْرَفُونَ فَطَافَ عَلَی بَعِیرِہِ لِیَسْمَعُوا کَلاَمَہُ وَیَرَوْا مَکَانَہُ وَلاَ تَنَالَہُ أَیْدِیہِمْ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৮৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ سوار ہو کر طواف کرنا
(٩٣٨٠) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع میں کعبہ کا طواف اونٹ پر سوار ہو کر کیا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکن کو چھوتے تھے، اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ لوگوں کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہٹایا جائے۔
(۹۳۸۰)وَأَمَّا حَدِیثُ عَائِشَۃَ فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی إِمْلاَئً وَأَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی لَفْظًا قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ طَافَ النَّبِیُّ -ﷺ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ حَوْلَ الْکَعْبَۃِ عَلَی بَعِیرٍ یَسْتَلِمُ الرُّکْنَ کَرَاہِیَۃَ أَنْ یُصْرَفَ عَنْہُ النَّاسُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَکَمِ بْنِ مُوسَی۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۷۴]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَکَمِ بْنِ مُوسَی۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۷۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৮৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ سوار ہو کر طواف کرنا
(٩٣٨١) ابوطفیل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیت اللہ کے گرد اونٹ پر دیکھا ، آپ اپنی لاٹھی سے حجر اسود کو چھوتے تھے۔
(۹۳۸۱)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا مَعْرُوفٌ یَعْنِی ابْنَ خَرَّبُوذَ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ قَالَ : رَأَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ یَطُوفُ حَوْلَ الْبَیْتِ عَلَی بَعِیرٍ یَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِہِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۷۵۔ ابوداود ۱۸۷۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৮৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ سوار ہو کر طواف کرنا
(٩٣٨٢) ایضاً
(۹۳۸۲) وَرَوَاہُ أَبُو عَاصِمٍ عَنْ مَعْرُوفٍ وَزَادَ فِیہِ ثُمَّ یُقَبِّلُہُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَطَافَ سَبْعًا عَلَی رَاحِلَتِہِ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ فَذَکَرَہُ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الطَّیَالِسِیِّ عَنْ مَعْرُوفٍ دُونَ ذِکْرِ الْبَعِیرِ وَلَمْ یَذْکُرْ أَیْضًا ہَذِہِ الزِّیَادَۃَ الَّتِی تَفَرَّدَ بِہَا ابْنُ رَافِعٍ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ۔
وَقَدْ رَوَاہُ ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ دُونَ ہَذِہِ الزِّیَادَۃِ۔ [انظر قبلہ]
وَقَدْ رَوَاہُ ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ دُونَ ہَذِہِ الزِّیَادَۃِ۔ [انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৮৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ سوار ہو کر طواف کرنا
(٩٣٨٣) ابوطفیل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حجۃ الوداع میں اپنی اونٹنی پر طواف کرتے دیکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکن کو اپنی لاٹھی سے چھوتے تھے۔
امام شافعی (رض) فرماتے ہیں : سات چکر جو طواف قدوم ہے ، وہ شروع میں ہے ، کیوں کہ جابر (رض) سے اس بارے میں منقول ہے کہ تین چکر رمل کیا چار چکر آہستہ چلے تو ممکن نہیں ہے کہ جابر اس کے متعلق پیدل یا سوار کی حکایت صرف ساتویں طواف میں بیان کرتے ہوں۔ انھوں نے یہ بات یاد رکھی کہ آپ کا تو ان چکر جس میں آپ سوار ہوئے یوم نحر کے دن تھا۔
امام شافعی (رض) فرماتے ہیں : سات چکر جو طواف قدوم ہے ، وہ شروع میں ہے ، کیوں کہ جابر (رض) سے اس بارے میں منقول ہے کہ تین چکر رمل کیا چار چکر آہستہ چلے تو ممکن نہیں ہے کہ جابر اس کے متعلق پیدل یا سوار کی حکایت صرف ساتویں طواف میں بیان کرتے ہوں۔ انھوں نے یہ بات یاد رکھی کہ آپ کا تو ان چکر جس میں آپ سوار ہوئے یوم نحر کے دن تھا۔
(۹۳۸۳) وَرَوَاہُ یَزِیدُ بْنُ مُلَیْکٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَیْلٍ یَقُولُ : رَأَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ عَلَی رَاحِلَتِہِ یَسْتَلِمُ الرُّکْنَ بِمِحْجَنِہِ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی حَکِیمٍ حَدَّثَنَا جَدِّی یَزِیدُ بْنُ مُلَیْکٍ فَذَکَرَہُ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : أَمَّا سُبْعُہُ الَّذِی طَافَ لِمَقْدَمِہِ فَعَلَی قَدَمَیْہِ لأَنَّ جَابِرًا الْمَحْکِیُ عَنْہُ فِیہِ أَنَّہُ رَمَلَ ثَلاَثَۃَ أَشْوَاطٍ وَمَشَی أَرْبَعَۃً فَلاَ یَجُوزُ أَنْ یَکُونَ جَابِرٌ یَحْکِی عَنْہُ الطَّوَافَ مَاشِیًا وَرَاکِبًا فِی سُبْعٍ وَاحِدٍ وَقَدْ حَفِظَ أَنَّ سُبْعَہُ الَّذِی رَکِبَ فِیہِ فِی طَوَافِہِ یَوْمَ النَّحْرِ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ الْمُرْسَلَ الَّذِی: [حسن لغیرہ]
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی حَکِیمٍ حَدَّثَنَا جَدِّی یَزِیدُ بْنُ مُلَیْکٍ فَذَکَرَہُ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : أَمَّا سُبْعُہُ الَّذِی طَافَ لِمَقْدَمِہِ فَعَلَی قَدَمَیْہِ لأَنَّ جَابِرًا الْمَحْکِیُ عَنْہُ فِیہِ أَنَّہُ رَمَلَ ثَلاَثَۃَ أَشْوَاطٍ وَمَشَی أَرْبَعَۃً فَلاَ یَجُوزُ أَنْ یَکُونَ جَابِرٌ یَحْکِی عَنْہُ الطَّوَافَ مَاشِیًا وَرَاکِبًا فِی سُبْعٍ وَاحِدٍ وَقَدْ حَفِظَ أَنَّ سُبْعَہُ الَّذِی رَکِبَ فِیہِ فِی طَوَافِہِ یَوْمَ النَّحْرِ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ الْمُرْسَلَ الَّذِی: [حسن لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৮৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ سوار ہو کر طواف کرنا
(٩٣٨٤) طاؤس کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ صبح کو جلد ہی طواف افاضہ کریں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رات کے وقت اپنی ازواج سمیت اونٹ پر سوار ہو کر افاضہ کیا ، آپ حجر اسود کو اپنی لاٹھی کے ساتھ چھوتے اور اس کے کنارے کو بوسہ دیتے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں : جو یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے صفا و مروہ کے درمیان طواف سواری پر کیا تو ان کی مراد۔ واللہ اعلم
اس سعی میں ہے جو طواف قدوم یا طواف افاضہ کے بعد ہے۔ آپ سے یہ منقول نہیں کہ آپ نے ان دونوں کے درمیان طواف کیا۔ واللہ اعلم
شیخ فرماتے ہیں : جو یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے صفا و مروہ کے درمیان طواف سواری پر کیا تو ان کی مراد۔ واللہ اعلم
اس سعی میں ہے جو طواف قدوم یا طواف افاضہ کے بعد ہے۔ آپ سے یہ منقول نہیں کہ آپ نے ان دونوں کے درمیان طواف کیا۔ واللہ اعلم
(۹۳۸۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ أَمَرَ أَصْحَابَہُ أَنْ یُہَجِّرُوا بِالإِفَاضَۃِ وَأَفَاضَ فِی نِسَائِہِ لَیْلاً عَلَی رَاحِلَتِہِ یَسْتَلِمُ الرُّکْنَ بِمِحْجَنِہِ أَحْسِبُہُ قَالَ وَیُقَبِّلُ طَرَفَ الْمِحْجَنِ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَالَّذِی رُوِیَ عَنْہُ أَنَّہُ طَافَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ رَاکِبًا فَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ فِی سَعْیِہِ بَعْدَ طَوَافِ الْقُدُومِ فَأَمَّا بَعْدَ طَوَافِ الإِفَاضَۃِ فَلَمْ یُحْفَظْ عَنْہُ أَنَّہُ طَافَ بَیْنَہُمَا۔
[ضعیف۔ احمد ۳/ ۴۱۳۔ ترمذی ۹۰۳۔ نسائی ۳۰۶۱۱]
قَالَ الشَّیْخُ : وَالَّذِی رُوِیَ عَنْہُ أَنَّہُ طَافَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ رَاکِبًا فَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ فِی سَعْیِہِ بَعْدَ طَوَافِ الْقُدُومِ فَأَمَّا بَعْدَ طَوَافِ الإِفَاضَۃِ فَلَمْ یُحْفَظْ عَنْہُ أَنَّہُ طَافَ بَیْنَہُمَا۔
[ضعیف۔ احمد ۳/ ۴۱۳۔ ترمذی ۹۰۳۔ نسائی ۳۰۶۱۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৯০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ سوار ہو کر طواف کرنا
(٩٣٨٥) قدامہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صفا ومروہ کا اونٹ پر سوار ہو کر طواف کرتے دیکھا ، نہ ہی مار کٹائی تھی نہ شور شرابہ۔
(۹۳۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَیْمَنُ بْنُ نَابِلٍ عَنْ قُدَامَۃَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یَسْعَی بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ عَلَی بَعِیرٍ لاَ ضَرْبٌ وَلاَ طَرْدٌ وَلاَ إِلَیْکَ إِلَیْکَ۔ کَذَا قَالاَ وَرَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ أَیْمَنَ فَقَالُوا فِی الْحَدِیثِ : یَرْمِی الْجَمْرَۃَ یَوْمَ النَّحْرِ وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَا صَحِیحَیْنِ۔ [ضعیف۔ ترمذی ۹۰۳]
তাহকীক: