আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৮৮ টি
হাদীস নং: ৯৪১১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کے لیے سر منڈوانا نہیں بلکہ وہ بال کٹوائیں
(٩٤٠٦) ایضاً
(۹۴۰۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنِ ابْنِ عَطَائٍ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ عَنْ أُمِّ عُثْمَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : {لَیْسَ عَلَی النِّسَائِ حَلْقٌ إِنَّمَا عَلَی النِّسَائِ التَّقْصِیرُ }۔ ابْنُ عَطَائٍ ہُوَ یَعْقُوبُ بْنُ عَطَائٍ ۔ [صحیح۔ دارقطنی ۲/ ۲۷۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪১২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کے لیے سر منڈوانا نہیں بلکہ وہ بال کٹوائیں
(٩٤٠٧) ابن عمر محرمہ عورت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ شہادت والی انگلی کے برابر بال کٹوائے اور سیدہ عائشہ (رض) سے یہ بات منقول ہے کہ ہم حج اور عمرہ کرتے تھے تو ایک انگلی سے زائد نہ کٹواتے۔
(۹۴۰۷)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو یُونُسَ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یُونُسَ الْحَفَرِیُّ حَدَّثَنَا ہُرَیْمٌ عَنْ لَیْثٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الْمُحْرِمَۃِ : تَأْخُذُ مِنْ شَعَرِہَا مِثْلَ السَّبَّابَۃِ۔ وَیُذْکَرُ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : کُنَّا نَحُجُّ وَنَعْتَمِرُ فَمَا نَزِیدُ عَلَی أَنْ نَطْرَفَ قَدْرَ أَصْبُعٍ۔ وَیُذْکَرُ عَنْ عَطَائٍ أَنَّہُ قَالَ : تَأْخُذُ مِنْ عَفْوِ رَأْسِہَا۔ [ضعیف۔ دارقطنی ۲/ ۲۷۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪১৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کرنے والا تلبیہ بند نہیں کرے گا حتیٰ کہ طواف شروع کرلے
(٩٤٠٨) مجاہد کہتے ہیں کہ ابن عباس (رض) عمرہ میں تلبیہ کہتے تھے ، حتیٰ کہ حجر اسود استلام کا فرماتے ، پھر چھوڑ دیتے اور ابن عمر (رض) عمرہ میں تلبیہ کہتے، حتیٰ کہ جب مکہ کے گھر دیکھتے تو تلبیہ چھوڑ دیتے اور تکبیر اور ذکر شروع کردیتے ، حتیٰ کہ حجر اسود کو چھوتے۔
(۹۴۰۸)أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ وَأَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ قَالُوا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُلَبِّی فِی الْعُمْرَۃِ حَتَّی یَسْتَلِمَ الْحَجَرَ ثُمَّ یَقْطَعُ۔
قَالَ : وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُلَبِّی فِی الْعُمْرَۃِ حَتَّی إِذَا رَأَی بُیُوتَ مَکَّۃَ تَرَکَ التَّلْبِیَۃَ وَأَقْبَلَ عَلَی التَّکْبِیرِ وَالذِّکْرِ حَتَّی یَسْتَلِمَ الْحَجَرَ۔ [صحیح]
قَالَ : وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُلَبِّی فِی الْعُمْرَۃِ حَتَّی إِذَا رَأَی بُیُوتَ مَکَّۃَ تَرَکَ التَّلْبِیَۃَ وَأَقْبَلَ عَلَی التَّکْبِیرِ وَالذِّکْرِ حَتَّی یَسْتَلِمَ الْحَجَرَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪১৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کرنے والا تلبیہ بند نہیں کرے گا حتیٰ کہ طواف شروع کرلے
(٩٤٠٩) عبدالملک کہتے ہیں کہ عطاء سے پوچھا گیا کہ عمرہ کرنے والا تلبیہ کب چھوڑے ؟ تو انھوں نے کہا : ابن عمر (رض) کہتے ہیں : جب حرم میں داخل ہو اور ابن عباس کہتے ہیں : جب حجر اسود کو چھوئے تو میں نے کہا : اے ابو محمد ! ان دونوں میں سے آپ کو کون سی بات پسند ہے تو انھوں نے کہا : ابن عباس کا قول۔
(۹۴۰۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ ہُوَ ابْنُ أَبِی سُلَیْمَانَ قَالَ : سُئِلَ عَطَائٌ مَتَی یَقْطَعُ الْمُعْتَمِرُ التَّلْبِیَۃَ؟ فَقَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ : إِذَا دَخَل الْحَرَمَ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : حَتَّی یَمْسَحَ الْحَجَرَ قُلْتُ : یَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَیُّہُمَا أَحَبُّ إِلَیْک؟ قَالَ : قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪১৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کرنے والا تلبیہ بند نہیں کرے گا حتیٰ کہ طواف شروع کرلے
(٩٤١٠) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ عمرہ کرنے والا جب تک طواف شروع نہ کرے اس وقت تک تلبیہ کہتا رہے گا۔
(۹۴۱۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ وَسَعِیدُ بْنُ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : یُلَبِّی الْمُعْتَمِرُ حَتَّی یَفْتَتِحَ الطَّوَافَ مُسْتَلِمًا أوْ غَیْرَ مُسْتَلِمٍ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ ابْنُ جُرَیْجٍ وَہَمَّامٌ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا۔ وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ عَطَائٍ فَرَفَعَہ۔ [صحیح۔ شافعی ۱۶۹۵]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ ابْنُ جُرَیْجٍ وَہَمَّامٌ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا۔ وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ عَطَائٍ فَرَفَعَہ۔ [صحیح۔ شافعی ۱۶۹۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪১৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کرنے والا تلبیہ بند نہیں کرے گا حتیٰ کہ طواف شروع کرلے
(٩٤١١) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ میں جب تک حجر اسود کو نہ چھوتے تلبیہ کہتے رہتے اور حج میں رمی جمار تک۔
(۹۴۱۱)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا شَاذَانُ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ وَالْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ : أَنَّہُ کَانَ یُلَبِّی فِی الْعُمْرَۃِ حَتَّی یَسْتَلِمَ الْحَجَرَ وَفِی الْحَجِّ حَتَّی یَرْمِیَ الْجَمْرَۃَ۔
[منکر۔ ابوداود ۱۸۱۷۔ ترمذی ۹۱۹]
[منکر۔ ابوداود ۱۸۱۷۔ ترمذی ۹۱۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪১৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کرنے والا تلبیہ بند نہیں کرے گا حتیٰ کہ طواف شروع کرلے
(٩٤١٢) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ میں تلبیہ کہتے رہے حتیٰ کہ حجر اسود کو چھوا۔
(۹۴۱۲)أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَوَی ابْنُ أَبِی لَیْلَی عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ لَبَّی فِی عُمْرَۃٍ حَتَّی اسْتَلَمَ الرُّکْنَ وَلَکِنَّا ہِبْنَا رِوَایَتَہُ لأَنَّا وَجَدْنَا حُفَّاظَ الْمَکِّیِّینَ یَقِفُونَہُ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ۔ قَالَ الشَّیْخُ : رَفْعُہُ خَطَأٌ وَکَانَ ابْنُ أَبِی لَیْلَی ہَذَا کَثِیرَ الْوَہَمِ وَخَاصَّۃً إِذَا رَوَی عَنْ عَطَائٍ فَیُخْطِئُ کَثِیرًا ضَعَّفَہُ أَہْلُ النَّقْلِ مَعَ کِبَرِ مَحِلِّہِ فِی الْفِقْہِ۔
وَقَدْ رُوِیَ عَنِ الْمُثَنَّی بْنِ الصَّبَّاحِ عَنْ عَطَائٍ مَرْفُوعًا وَإِسْنَادُہُ أَضْعَفُ مِمَّا ذَکَرْنَا۔ [صحیح]
وَقَدْ رُوِیَ عَنِ الْمُثَنَّی بْنِ الصَّبَّاحِ عَنْ عَطَائٍ مَرْفُوعًا وَإِسْنَادُہُ أَضْعَفُ مِمَّا ذَکَرْنَا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪১৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کرنے والا تلبیہ بند نہیں کرے گا حتیٰ کہ طواف شروع کرلے
(٩٤١٣) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین عمرے کیے ۔ ہر مرتبہ تلبیہ اس وقت بند کرتے تھے جب حجر اسود کو چھوتے۔
شیخ فرماتے ہیں : اس کو مرفوع کہنا غلط ہے، ابنِ ابی لیلی کثیر الوہم ہے ، بالخصوص جب وہ عطاء سے روایت کرتے ہیں تو بہت غلطی کرتے ہیں۔ اہلِ علم نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں : اس کو مرفوع کہنا غلط ہے، ابنِ ابی لیلی کثیر الوہم ہے ، بالخصوص جب وہ عطاء سے روایت کرتے ہیں تو بہت غلطی کرتے ہیں۔ اہلِ علم نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
(۹۴۱۳)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ ہُوَ ابْنُ غِیَاثٍ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : اعْتَمَرَ النَّبِیُّ -ﷺ ثَلاَثَ عُمَرٍ کُلَّ ذَلِکَ لاَ یَقْطَعُ التَّلْبِیَۃَ حَتَّی یَسْتَلِمَ الْحَجَرَ۔
وَقَدْ قِیلَ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا۔ وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ۔
وَرُوِیَ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ مَرْفُوعًا : أَنَّہُ خَرَجَ مَعَہُ فِی بَعْضِ عُمَرِہِ فَما قَطَعَ التَّلْبِیَۃَ حَتَّی اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَإِسْنَادُہُ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف۔ احمد ۲/ ۱۸۰۔ ابن ابی شیبہ ۱۴۰۰۳]
وَقَدْ قِیلَ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا۔ وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ۔
وَرُوِیَ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ مَرْفُوعًا : أَنَّہُ خَرَجَ مَعَہُ فِی بَعْضِ عُمَرِہِ فَما قَطَعَ التَّلْبِیَۃَ حَتَّی اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَإِسْنَادُہُ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف۔ احمد ۲/ ۱۸۰۔ ابن ابی شیبہ ۱۴۰۰۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪১৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کرنے والا تلبیہ بند نہیں کرے گا حتیٰ کہ طواف شروع کرلے
(٩٤١٤) ابوبکر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ کرنے کے لیے نکلے تو اس وقت تک تلبیہ بند نہ کیا جب تک حجر اسود کو نہ چھو لیا۔
(۹۴۱۴) -أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدَۃَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِکٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ مَرَّارِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ عَنْ جَدِّہِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ خَرَجَ فِی بَعْضِ عُمَرِہِ وَخَرَجْتُ مَعَہُ فَمَا قَطَعَ التَّلْبِیَۃَ حَتَّی اسْتَلَمَ الْحَجَرَ۔ ہَذَا إِسْنَادٌ غَیْرُ قَوِیٍّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪২০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حجِ افراد اور قران کرنے والوں کو ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کفایت کر جائے گی ۔ عرفہ کے بعد اور اگر طوافِ قدوم کے بعد انھوں نے سعی کی ہو تو عرفہ کے بعدصرف طواف پر ہی اکتفا کریں گے اور حلال ہوجائیں گے
(٩٤١٥) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر نکلے۔ ہم نے عمرہ کا تلبیہ کہا تو رسول اللہ (رض) نے فرمایا : جس کے پاس قربانی ہے وہ حج اور عمرہ کا اکٹھا تلبیہ کہے اور پھر حلال نہ ہو حتیٰ کہ دونوں سے فارغ ہو لے۔ کہتی ہیں کہ میں آئی تو حائضہ ہوگئی۔ میں نے بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف نہ کیا اور اس کا شکوہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنا سر کھول دے، کنگھی کرلے اور حج کا تلبیہ کہہ اور عمرہ کو چھوڑ دے ۔ کہتی ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا، جب ہم نے حج کرلیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے عبدالرحمن بن ابی بکر کے ساتھ تنعیم بھیجا میں نے وہاں سے عمرہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تیرے عمرہ کی جگہ ہے، کہتی ہیں : جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ کہا تھا، انھوں نے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا پھر حلال ہوگئے۔ پھر منیٰ سے واپس آکر حج کے لیے طواف کیا اور جنہوں نے حج و عمرہ کو جمع کیا تھا انھوں نے ایک ہی طواف کیا۔
(۹۴۱۵)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فَأَہْلَلْنَا بِعُمْرَۃٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : ((مَنْ کَانَ مَعَہُ ہَدْیٌ فَلْیُہِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَۃِ ثُمَّ لاَ یَحِلَّ حَتَّی یَحِلَّ مِنْہُمَا جَمِیعًا ))۔ قَالَتْ : فَقَدِمْتُ وَأَنَا حَائِضٌ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَیْتِ وَلاَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَشَکَوْتُ ذَلِکَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فَقَالَ : ((انْقُضِی رَأْسَکِ وَامْتَشِطِی وَأَہِلِّی بِالْحَجِّ وَدَعِی الْعُمْرَۃِ))۔ قَالَتْ : فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَیْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِی مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ إِلَی التَّنْعِیمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ : ہَذِہِ مَکَانَ عُمْرَتِکِ ۔ قَالَتْ : فَطَافَ الَّذِینَ کَانُوا أَہَلُّوا بِالْعُمْرَۃِ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ثُمَّ حَلُّوا ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ مَا رَجَعُوا مِنْ مِنًی لِحَجِّہِمْ ، وَأَمَّا الَّذِینَ کَانُوا جَمَعُوا بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۱۳۴۔ مسلم ۱۲۸۱]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۱۳۴۔ مسلم ۱۲۸۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪২১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حجِ افراد اور قران کرنے والوں کو ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کفایت کر جائے گی ۔ عرفہ کے بعد اور اگر طوافِ قدوم کے بعد انھوں نے سعی کی ہو تو عرفہ کے بعدصرف طواف پر ہی اکتفا کریں گے اور حلال ہوجائیں گے
(٩٤١٦) ایضاً
امام مالک (رض) سے یہ الفاظ زائد منقول ہیں : وہ لوگ جنہوں نے حج یا حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارا تو انھوں نے ایک ہی طواف کیا۔
امام مالک (رض) سے یہ الفاظ زائد منقول ہیں : وہ لوگ جنہوں نے حج یا حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارا تو انھوں نے ایک ہی طواف کیا۔
(۹۴۱۶)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ۔
وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
وَرَوَاہُ الشَّافِعِیُّ وَابْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مَالِکٍ کَذَلِکَ وَزَادَا : وَأَمَّا الَّذِینَ أَہَلُّوا بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا۔
أَمَّا حَدِیثُ الشَّافِعِیِّ فَفِی رِوَایَۃِ الْمُزَنِیِّ عَنْہُ۔ وَأَمَّا حَدِیثُ ابْنِ بُکَیْرٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
وَرَوَاہُ الشَّافِعِیُّ وَابْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مَالِکٍ کَذَلِکَ وَزَادَا : وَأَمَّا الَّذِینَ أَہَلُّوا بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا۔
أَمَّا حَدِیثُ الشَّافِعِیِّ فَفِی رِوَایَۃِ الْمُزَنِیِّ عَنْہُ۔ وَأَمَّا حَدِیثُ ابْنِ بُکَیْرٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪২২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حجِ افراد اور قران کرنے والوں کو ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کفایت کر جائے گی ۔ عرفہ کے بعد اور اگر طوافِ قدوم کے بعد انھوں نے سعی کی ہو تو عرفہ کے بعدصرف طواف پر ہی اکتفا کریں گے اور حلال ہوجائیں گے
(٩٤١٧) ایضاً
سیدہ عائشہ (رض) کے قول سے یہ مراد ہے کہ انھوں نے ایک طواف کیا، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی۔ یہ جابر بن عبداللہ (رض) کی روایت میں بھی ہے۔
سیدہ عائشہ (رض) کے قول سے یہ مراد ہے کہ انھوں نے ایک طواف کیا، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی۔ یہ جابر بن عبداللہ (رض) کی روایت میں بھی ہے۔
(۹۴۱۷) فَأَخْبَرَنَاہُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ فَذَکَرَہُ۔ وَإِنَّمَا أَرَادَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا بِقَوْلِہَا فِیہِمْ : أَنَّہُمْ إِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا السَّعْیَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَذَلِکَ بَیِّنٌ فِی رِوَایَۃِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیِّ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪২৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حجِ افراد اور قران کرنے والوں کو ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کفایت کر جائے گی ۔ عرفہ کے بعد اور اگر طوافِ قدوم کے بعد انھوں نے سعی کی ہو تو عرفہ کے بعدصرف طواف پر ہی اکتفا کریں گے اور حلال ہوجائیں گے
(٩٤١٨) (الف) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ نے صفا ومروہ کے درمیان صرف ایک ہی پہلا طواف کیا۔
(ب) یہ اس لیے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مفرد تھے اور بعض صحابہ قارن تھے، تو انھوں نے ایک سعی کی۔ سیدہ عائشہ (رض) نے حج کو عمرہ پر داخل کیا اور عرفہ سے پہلیطواف کیا نہ صفا مروہ کی سعی کی ۔ اس کے بعد انھوں نے طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کہا :۔۔۔
(ب) یہ اس لیے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مفرد تھے اور بعض صحابہ قارن تھے، تو انھوں نے ایک سعی کی۔ سیدہ عائشہ (رض) نے حج کو عمرہ پر داخل کیا اور عرفہ سے پہلیطواف کیا نہ صفا مروہ کی سعی کی ۔ اس کے بعد انھوں نے طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کہا :۔۔۔
(۹۴۱۸)أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّہُ قَالَ : لَمْ یَطُفِ النَّبِیُّ -ﷺ وَلاَ أَصْحَابُہُ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ إِلاَّ طَوَافًا وَاحِدًا طَوَافَہُ الأَوَّلَ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ یَحْیَی الْقَطَّانِ وَمُحَمَّدِ بْنِ بَکْرٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔
وَہَذَا لأَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ کَانَ مُفْرِدًا فِیمَا نَعْلَمُ وَبَعْضُ أَصْحَابِہِ کَانُوا قَارِنِینَ فَاقْتَصَرُوا عَلَی سَعْیٍ وَاحِدٍ وَأَمَّا عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَکَانَتْ قَارِنَۃٌ بِإِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَی الْعُمْرَۃِ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَیْتِ وَلاَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ قَبْلَ عَرَفَۃَ فَطَافَتْ بَعْدَ ذَلِکَ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ ۔
[صحیح۔ مسلم ۱۲۱۵۔ ابوداد ۱۸۹۵]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ یَحْیَی الْقَطَّانِ وَمُحَمَّدِ بْنِ بَکْرٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔
وَہَذَا لأَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ کَانَ مُفْرِدًا فِیمَا نَعْلَمُ وَبَعْضُ أَصْحَابِہِ کَانُوا قَارِنِینَ فَاقْتَصَرُوا عَلَی سَعْیٍ وَاحِدٍ وَأَمَّا عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَکَانَتْ قَارِنَۃٌ بِإِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَی الْعُمْرَۃِ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَیْتِ وَلاَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ قَبْلَ عَرَفَۃَ فَطَافَتْ بَعْدَ ذَلِکَ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ ۔
[صحیح۔ مسلم ۱۲۱۵۔ ابوداد ۱۸۹۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪২৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حجِ افراد اور قران کرنے والوں کو ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کفایت کر جائے گی ۔ عرفہ کے بعد اور اگر طوافِ قدوم کے بعد انھوں نے سعی کی ہو تو عرفہ کے بعدصرف طواف پر ہی اکتفا کریں گے اور حلال ہوجائیں گے
(٩٤١٩) عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ وہ ” سرف “ میں حائضہ ہوگئیں اور عرفہ میں طہر والی ہوئیں تو ان کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے حج اور عمرے کے لیے صفا ومروہ کے درمیان ایک ہی طواف کفایت کر جائے گا۔
(۹۴۱۹)مَا أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاکِہِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ أَبِی مَسَرَّۃَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہَا حَاضَتْ بِسَرِفَ وَطَہُرَتْ بِعَرَفَۃَ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : ((یَجْزِیکِ طَوَافٌ وَاحِدٌ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ لِحَجِّکِ وَعُمْرَتِکِ ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحُلْوَانِیِّ عَنْ زَیْدِ بْنِ الْحُبَابِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ نَافِعٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۱۱]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحُلْوَانِیِّ عَنْ زَیْدِ بْنِ الْحُبَابِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ نَافِعٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۱۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪২৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حجِ افراد اور قران کرنے والوں کو ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کفایت کر جائے گی ۔ عرفہ کے بعد اور اگر طوافِ قدوم کے بعد انھوں نے سعی کی ہو تو عرفہ کے بعدصرف طواف پر ہی اکتفا کریں گے اور حلال ہوجائیں گے
(٩٤٢٠) عطاء کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عائشہ (رض) سے کہا : تیرا بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کرنا تیرے حج و عمرے کے لیے کافی ہے۔
(۹۴۲۰)أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ قَالَ لِعَائِشَۃَ : (( طَوَافُکِ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ یَکْفِیکِ لِحَجِّکِ وَعُمْرَتِکِ ))۔ [صحیح۔ شافعی ۵۱۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪২৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حجِ افراد اور قران کرنے والوں کو ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کفایت کر جائے گی ۔ عرفہ کے بعد اور اگر طوافِ قدوم کے بعد انھوں نے سعی کی ہو تو عرفہ کے بعدصرف طواف پر ہی اکتفا کریں گے اور حلال ہوجائیں گے
(٩٤٢١) ایضاً
(۹۴۲۱) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ مِثْلَہُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْیَانُ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَائِشَۃَ وَرُبَّمَا قَالَ عَنْ عَطَائٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ قَالَ لِعَائِشَۃَ۔ قَالَ الشَّیْخُ : رَوَاہُ ابْنُ أَبِی عُمَرَ عَنْ سُفْیَانَ مَوْصُولاً۔
[صحیح۔ اخرجہ الشافعی ۵۱۳۔ ابوداود ۱۸۹۷]
[صحیح۔ اخرجہ الشافعی ۵۱۳۔ ابوداود ۱۸۹۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪২৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حجِ افراد اور قران کرنے والوں کو ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کفایت کر جائے گی ۔ عرفہ کے بعد اور اگر طوافِ قدوم کے بعد انھوں نے سعی کی ہو تو عرفہ کے بعدصرف طواف پر ہی اکتفا کریں گے اور حلال ہوجائیں گے
(٩٤٢٢) عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ انھوں نے عمرہ کا تلبیہ کہا اور وہ آئیں ، ابھی بیت اللہ کا طواف بھی نہ کیا تھا کہ حائضہ ہوگئیں تو انھوں نے تمام تر مناسک ادا کیے اور حج کا تلبیہ کہا تو ان کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرا طواف تیرے حج و عمرہ کے لیے کافی ہے، تو انھوں نے انکار کیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبدالرحمن کو ان کے ساتھ تنعیم بھیجا تو انھوں نے حج کے بعد عمرہ کیا۔
(۹۴۲۲)أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ عِصْمَۃَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالُوا حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہَا أَہَلَّتْ بِعُمْرَۃٍ فَجَائَ تْ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَیْتِ حَتَّی حَاضَتْ فَنَسَکَتِ الْمَنَاسِکَ کُلَّہَا وَقَدْ أَہَلَّتْ بِالْحَجِّ فَقَالَ لَہَا النَّبِیُّ -ﷺ : یَسَعُکِ طَوَافُکِ لِحَجِّکِ وَعُمْرَتِکِ ۔ فَأَبَتْ فَبَعَثَ بِہَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَی التَّنْعِیمِ فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ بَہْزِ بْنِ أَسَدٍ عَنْ وُہَیْبٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۱۸]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ بَہْزِ بْنِ أَسَدٍ عَنْ وُہَیْبٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۱۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪২৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حجِ افراد اور قران کرنے والوں کو ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کفایت کر جائے گی ۔ عرفہ کے بعد اور اگر طوافِ قدوم کے بعد انھوں نے سعی کی ہو تو عرفہ کے بعدصرف طواف پر ہی اکتفا کریں گے اور حلال ہوجائیں گے
(٩٤٢٣) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عائشہ (رض) کے پاس آئے تو وہ رو رہی تھیں۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو کیوں روتی ہے ؟ کہنے لگیں : روئی اس بات پر ہوں کہ لوگ حلال ہوگئے ، میں حلال نہیں ہوئی ۔ انھوں نے بیت اللہ کا طواف کرلیا اور میں ابھی تک نہ کرسکی اور حج کا وقت آن پہنچا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ایسا معاملہ ہے جسے اللہ نے بنات آدم پر لکھ دیا ہے، لہٰذا تو غسل کر اور حج کا تلبیہ کہہ ، پھر حج کر کہتی ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا۔ جب میں پاک ہوگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کرلے تو تو حج و عمرہ سے حلال ہوجائے گی تو کہنے لگی : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اپنے دل میں عمرہ کے بارے میں کچھ محسوس کرتی ہوں کہ میں نے حج کرنے سے پہلے طواف نہیں کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عبدالرحمن ! اس کو لے جا اور تنعیم سے عمرہ کر والے۔
(۹۴۲۳)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَۃَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ یَعْقُوبَ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرًا یَقُولُ : دَخَلَ النَّبِیُّ -ﷺ عَلَی عَائِشَۃَ وَہِیَ تَبْکِی فَقَالَ : ((مَا لَکِ تَبْکِینَ ))۔ قَالَتْ : أَبْکِی أَنَّ النَّاسَ حَلُّوا وَلَمْ أَحْلِلْ وَطَافُوا بِالْبَیْتِ وَلَمْ أَطُفْ وَہَذَا الْحَجُّ قَدْ حَضَرَ۔ قَالَ : ((إِنَّ ہَذَا أَمْرٌ کَتَبَہُ اللَّہُ عَلَی بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِی وَأَہِلِّی بِالْحَجِّ ثُمَّ حُجِّی ))۔ قَالَتْ : فَفَعَلْتُ ذَلِکَ فَلَمَّا طَہَرْتُ قَالَ : ((طُوفِی بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ثُمَّ قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّکِ وَعُمَرَتِکِ ))۔ فَقَالَت : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَجِدُ فِی نَفْسِی مِنْ عُمْرَتِی أَنِّی لَمْ أَکُنْ طُفْتُ حَتَّی حَجَجْتُ فَقَالَ : ((اذْہَبْ بِہَا یَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْہَا مِنَ التَّنْعِیمِ ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ وَعَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَکْرٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۱۱]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ وَعَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَکْرٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۱۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪২৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حجِ افراد اور قران کرنے والوں کو ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کفایت کر جائے گی ۔ عرفہ کے بعد اور اگر طوافِ قدوم کے بعد انھوں نے سعی کی ہو تو عرفہ کے بعدصرف طواف پر ہی اکتفا کریں گے اور حلال ہوجائیں گے
(٩٤٢٤) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) والے حج میں عمرہ کا تلبیہ کہا۔ جب سرف تک پہنچیں تو حائضہ ہوگئیں ۔ یہ بات ان کو ناگوار گزری تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو بنات آدم میں سے ہے تجھے بھی وہی کچھ ہوتا ہے جو ہوتا ہے۔ جب وہ بطحاء پہنچی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو حکم دیا ، انھوں نے حج کا تلبیہ کہا اور جب تمام مناسک ادا کرلیے تو حصباء میں آئیں اور عمرہ کا ارادہ کیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے اپنا حج اور عمرہ کرلیا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نرم آدمی تھے ، جب کچھ آسان ہوتا تو اسی کو لے لیتے۔
(۹۴۲۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِیہُ بِبَغْدَادَ إِمْلاَئً مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مَالِکُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی حَجَّۃِ النَّبِیِّ -ﷺ أَہَلَّتْ بِعُمْرَۃٍ فَلَمَّا کَانَتْ بِسَرِفَ حَاضَتْ فَاشْتَدَّ ذَلِکَ عَلَیْہَا فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ :(( إِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ یُصِیبُکِ مَا أَصَابَہُم ))۔ فَلَمَّا قَدِمَتِ الْبَطْحَائَ أَمَرَہَا نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ فَأَہَلَّتْ بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَضَتْ نُسُکَہَا وَجَائَ تْ إِلَی الْحَصْبَائِ أَرَادَتْ أَنْ تَعْتَمِرَ فَقَالَ لَہَا النَّبِیُّ -ﷺ : ((إِنَّکِ قَدْ قَضَیْتِ حَجَّکِ وَعُمْرَتَکِ))۔ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ رَجُلاً سَہْلاً إِذَا ہَوِیَتِ الشَّیْئَ تَابَعَہَا عَلَیْہِ قَالَ مَطَرٌ قَالَ أَبُو الزُّبَیْرِ : وَکَانَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا إِذَا حَجَّتْ صَنَعَتْ کَمَا صَنَعَتْ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی غَسَّانَ مَالِکِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۱۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৩০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حجِ افراد اور قران کرنے والوں کو ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کفایت کر جائے گی ۔ عرفہ کے بعد اور اگر طوافِ قدوم کے بعد انھوں نے سعی کی ہو تو عرفہ کے بعدصرف طواف پر ہی اکتفا کریں گے اور حلال ہوجائیں گے
(٩٤٢٥) نافع کہتے ہیں کہ جب حجاج ابن زبیر (رض) کے پاس آیا اور ابن عمر (رض) نے حج کا ارادہ کیا تھا تو ان کے بیٹوں سالم اور عبداللہ نے ان سے کہا کہ اگر آپ اس سال حج نہ بھی کریں تو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ ہمیں خدشہ ہے کہ لوگوں کے درمیان لڑائی شروع ہوجائے گی تو وہ آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوجائیں گے۔ وہ کہنے لگے : اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوا گیا تو میں ویسے ہی کروں گا جس طرح ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کیا تھا جب قریش آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوگئے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سر منڈوایا اور واپس آگئے اور میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کا ارادہ کیا ہے، پھر درخت کے پاس گئے اور عمرہ کا تلبیہ کہا حتیٰ کہ جب بیداء پر چڑھے تو کہنے لگے کہ معاملہ تو دونوں کا ایک سا ہی ہے۔ اگر میرے اور عمرہ کے درمیان حائل ہوگیا تو میرے اور حج کے درمیان حائل ہوا گیا۔ گواہ ہوجاؤ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ ساتھ حج کی نیت بھی کرلی ہے۔ کہتے ہیں کہ اس وقت ان کے پاس قربانی نہ تھی، وہ چلے حتیٰ کہ قدید پہنچے، وہاں سے قربانی خریدی اس کو قلادہ پہنایا اور اشعار کیا اور اس کو اپنے ساتھ لے گئے، حتیٰ کہ جب مکہ داخل ہوئے تو ان دونوں (حج و عمرہ) کے لیے ایک ہی طواف کیا بیت اللہ کا بھی اور صفا ومروہ کا بھی اور وہ فرماتے تھے جو حج و عمرہ کو جمع کرے اس کو ایک ہی طواف کافی ہے اور وہ حلال نہ ہوے حتیٰ کہ دونوں سے حلال ہوئے۔
(۹۴۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ : أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ الْحَجَّ حِینَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَیْرِ فَکَلَّمَہُ ابْنَاہُ سَالِمٌ وَعَبْدُ اللَّہِ فَقَالاَ : لاَ یَضُرُّکَ أَنْ لاَ تَحُجَّ الْعَامَ إِنَّا نَخَافُ أَنْ یَکُونَ بَیْنَ النَّاسِ قِتَالٌ فَیُحَالَ بَیْنَکَ وَبَیْنَ الْبَیْتِ۔ قَالَ : إِنْ حِیلَ بَیْنِی وَبَیْنَ الْبَیْتِ فَعَلْتُ کَمَا فَعَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ حِینَ حَالَتْ کُفَّارُ قُرَیْشٍ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْبَیْتِ فَحَلَقَ وَرَجَعَ وَإِنِّی أُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَۃً ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الشَّجَرَۃِ فَلَبَّی بِعُمْرَۃٍ حَتَّی إِذَا أَشْرَفَ بِظَہْرِ الْبَیْدائِ قَالَ : مَا أَمْرُہُمَا إِلاَّ وَاحِدٌ إِنْ حِیلَ بَیْنِی وَبَیْنَ الْعُمْرَۃِ حِیلَ بَیْنِی وَبَیْنَ الْحَجِّ اشْہَدُوا أَنِّی قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّۃً مَعَ عُمْرَتِی قَالَ وَلَیْسَ مَعَہُ یَوْمَئِذٍ ہَدْیٌ فَسَارَ حَتَّی بَلَغَ قُدَیْدَ ابْتَاعَ بِہَا ہَدْیًا فَقَلَّدَہُ وَأَشْعَرَہُ وَسَاقَہُ مَعَہُ حَتَّی إِذَا دَخَلَ مَکَّۃَ طَافَ لَہُمَا طَوَافًا وَاحِدًا بِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَکَانَ یَقُولُ : مَنْ جَمَعَ بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ کَفَاہُ طَوَافٌ وَاحِدٌ وَلَمْ یَحِلَّ حَتَّی یَحِلَّ مِنْہُمَا جَمِیعًا۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۳۰]
তাহকীক: