আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৮৮ টি

হাদীস নং: ৯৪৩১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حجِ افراد اور قران کرنے والوں کو ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کفایت کر جائے گی ۔ عرفہ کے بعد اور اگر طوافِ قدوم کے بعد انھوں نے سعی کی ہو تو عرفہ کے بعدصرف طواف پر ہی اکتفا کریں گے اور حلال ہوجائیں گے
(٩٤٢٦) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے حج و عمرہ کو جمع کیا وہ ان دونوں کے لیے ایک ہی طواف کرے اور صفا و مروہ کیا یک ہی سعی کرے اور حلال نہ ہو حتیٰ کہ دونوں سے حلال ہوجائے۔

(ب) جابر بن عبداللہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت فرماتے ہیں کہ عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اس کے افعال حج میں داخل ہیں۔ دونوں عمل میں متحد ہیں۔ قارن ایک طواف سے زیادہ نہیں کرے گا اسی طرح سعی ہے ان کا احرام بھی ایک ہی ہوگا۔

(ج) علی بن ابی طالب (رض) قارن کے بارے میں فرماتے ہیں : وہ دو طواف اور ایک سعی کرے گا۔ امام شافعی (رض) فرماتے ہیں : یہی ہمارے قول کا معنی ہے کہ طواف قدوم اور صفا و مروہ کی سعی کرے گا ، پھر طواف زیارت کرے گا۔ بعض لوگ کہتے ہیں : دو طواف اور دو سعی کرے گا ۔ انھوں نے ایک ضعیف روایت سے دلیل پکڑی ہے۔ شیخ فرماتے ہیں زیادہ صحیح ہے وہ جو سیدنا علی (رض) سے دو طوافوں کے متعلق منقول ہے۔
(۹۴۲۶)أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِیُّ۔

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی وَأَحْمَدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ الْمَدَنِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : ((مَنْ جَمَعَ بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ طَافَ لَہُمَا طَوَافًا وَاحِدًا وَسَعَی لَہُمَا سَعْیًا وَاحِدًا))۔ زَادَا فِی رِوَایَتِہِمَا : ((وَلَمْ یَحِلَّ حَتَّی یَحِلَّ مِنْہُمَا جَمِیعًا))۔

وَرُوِّینَا فِی حَدِیثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ : ((دَخَلَتِ الْعُمْرَۃُ فِی الْحَجِّ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ))۔ وَقِیلَ فِی مَعْنَاہُ دَخَلَتْ فِی أَجْزَائِ أَفْعَالِ الْحَجِّ فَاتَّحَدَتَا فِی الْعَمَلِ فَلاَ یَطُوفُ الْقَارِنُ أَکْثَرَ مِنْ طَوَافٍ وَاحِدٍ لَہُمَا وَکَذَلِکَ السَّعْیُ کَمَا لاَ یُحْرِمُ لَہُمَا إِلاَّ إِحْرَامًا وَاحِدا۔

وَرَوَی الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ عَنْ رَجُلٍ أَظُنُّہُ إِبْرَاہِیمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ فِی الْقَارِنِ : یَطُوفُ طَوَافَیْنِ وَیَسْعَی سَعْیًا قَالَ الشَّافِعِیُّ وَہَذَا عَلَی مَعْنَی قَوْلِنَا یَعْنِی یَطُوفُ حِینَ یَقْدَمُ بِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ثُمَّ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ لِلزِّیَارَۃِ وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ عَلَیْہِ طَوَافَانِ وَسَعْیَانِ وَاحْتَجَّ فِیہِ بِرِوَایَۃٍ ضَعِیفَۃٍ عَنْ عَلِیٍّ وَجَعْفَرٍ یَرْوِی عَنْ عَلِیٍّ قَوْلَنَا وَقَدْ رُوِّینَاہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ ۔ قَالَ الشَّیْخُ أَصَحُّ مَا رُوِیَ فِی الطَّوَافَیْنِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَا:

[منکر۔ طحاوی فی شرح المعانی ۲/۱۹۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৩২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حجِ افراد اور قران کرنے والوں کو ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کفایت کر جائے گی ۔ عرفہ کے بعد اور اگر طوافِ قدوم کے بعد انھوں نے سعی کی ہو تو عرفہ کے بعدصرف طواف پر ہی اکتفا کریں گے اور حلال ہوجائیں گے
(٩٤٢٧) ابو نضر فرماتے ہیں کہ میں علی (رض) سے ملا اور انھوں نے حج و عمرہ کا احرام باندھا تھا اور میں نے صرف حج کا تو میں نے کہا : کیا میں اس طرح کرسکتا ہوں جس طرح آپ نے کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : ممکن ہے اگر تو عمرے سے ابتدا کرے۔ میں نے کہا : اگر میں عمرہ کا ارادہ کروں تو کیسے کروں ؟ انھوں نے کہا : پانی کا ایک لوٹا لے اس کو اپنے اوپر بہا ، پھر ان دونوں کا تلبیہ کہہ۔ پھر ان دونوں کے لیے دو طواف کر اور دو سعی کر اور یوم نحر سے پہلے تیرے لیے کوئی بھی حرام چیز حلال نہ ہوگی۔
(۹۴۲۷)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ حَدَّثَنَا فُضَیْلُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ أَوْ مَنْصُورٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِی نَصْرٍ قَالَ : لَقِیتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَدْ أَہْلَلْتُ بِالْحَجِّ وَأَہَلَّ ہُوَ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ فَقُلْتُ : ہَلْ أَسْتَطِیعُ أَنْ أَفْعَلَ کَمَا فَعَلْتَ؟ قَالَ : ذَلِکَ لَوْ کُنْتَ بَدَأْتَ بِالْعُمْرَۃِ۔ قُلْتُ : کَیْفَ أَفْعَلُ إِذَا أَرَدْتُ ذَلِکَ؟ قَالَ : تَأْخُذُ إِدَاوَۃً مِنْ مَائٍ فَتُفِیضُہَا عَلَیْکَ ثُمَّ تُہِلُّ بِہِمَا جَمِیعًا ثُمَّ تَطُوفُ لَہُمَا طَوَافَیْنِ وَتَسْعَی لَہُمَا سَعْیَیْنِ وَلاَ یَحِلُّ لَکَ حَرَامٌ دُونَ یَوْمِ النَّحْرِ۔ قَالَ مَنْصُورٌ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِمُجَاہِدٍ قَالَ : مَا کُنَّا نُفْتِی إِلاَّ بِطَوَافٍ وَاحِدٍ فَأَمَّا الآنَ فَلاَ نَفْعَلُ۔ کَذَا رُوِیَ عَنْ فُضَیْلٍ عَنْ مَنْصُورٍ۔

وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ مَنْصُورٍ فَلَمْ یَذْکُرْ فِیہِ السَّعْیَ وَکَذَلِکَ شُعْبَۃُ وَابْنُ عُیَیْنَۃَ وَأَبُو نَصْرٍ ہَذَا مَجْہُولٌ فَإِنْ صَحَّ فَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ الْمُرَادُ بِہِ طَوَافَ الْقُدُومِ وَطَوَافَ الزِّیَارَۃِ وَأَرَادَ سَعْیًا وَاحِدًا عَلَی مَا رَوَاہُ الثَّوْرِیُّ وَصَاحِبَاہُ فَلاَ یَکُونُ لِرِوَایَۃِ جَعْفَرٍ مُخَالِفًا وَقَدْ رُوِیَ بِأَسَانِیدَ ضِعَافٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَوْقُوفًا وَمَرْفُوعًا قَدْ ذَکَرْتُہُ فِی الْخِلاَفِیَّاتِ وَمَدَارُ ذَلِکَ عَلَی الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَۃَ وَحَفْصِ بْنِ أَبِی دَاوُدَ۔ وَعِیسَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَحَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَکُلُّہُمْ ضَعِیفٌ لاَ یُحْتَجُّ بِشَیْئٍ مِمَّا رَوَوْہُ مِنْ ذَلِکَ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔

[حسن لغیرہ۔ دارقطنی ۲/ ۲۶۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৩৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ مفرد اور قارن اپنے احرام پر ہی باقی رہیں گے حتیٰ کہ یوم نحر کو حلال ہوں گے
(٩٤٢٨) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حجۃ الوداع کو نکلے ، ہم میں سے کوئی حج کا تلبیہ کہتا تھا تو کوئی عمرہ کا اور کوئی حج و عمرہ دونوں کا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج کا تلبیہ کہا تو جس نے عمرہ کا تلبیہ کہا وہ حلال ہوگیا اور جس نے حج کا تلبیہ کہا یا حج و عمرہ دونوں کا تو وہ حلال نہ ہوا حتیٰ کہ یوم نحر کو حلال ہوا۔
(۹۴۲۸)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِی مَالِکٌ۔

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی الْحِیرِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ وَمُوسَی بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ : مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ وَمِنَّا مَنْ أَہَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَۃٍ وَمِنَّا مَنْ أَہَلَّ بِالْحَجِّ وَأَہَلَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ بِالْحَجِّ فَأَمَّا مَنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ فَحَلَّ وَأَمَّا مَنْ أَہَلَّ بِحَجٍّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ فَلَمْ یَحِلُّوا حَتَّی کَانَ یَوْمَ النَّحْرِ۔

لَفْظ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَغَیْرِہِ عَنْ مَالِکٍ وَفِی الأَحَادِیثِ الَّتِی مَضَتْ فِی الْبَابِ قَبْلَہُ دَلِیلٌ عَلَی ہَذَا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৩৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جب تک مکہ میں ہو بیت اللہ کا زیادہ سے زیادہ طواف کرے
(٩٤٢٩) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ” جس نے بیت اللہ کا طواف کیا ، سات چکر گن کر لگائے، اس کے لیے ہر قدم کے بدلے نیکی لکھی جائے گی اور اس کا گناہ مٹایا جائے گا اور اس کی وجہ سے اس کا درجہ بلند کیا جائے گا اور ایک گردن آزاد کرانے کے برابر ثواب ہوگا۔
(۹۴۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یَقُولُ: ((مَنْ طَافَ بِالْبَیْتِ سَبْعًا یُحْصِیہِ کُتِبَتْ لَہُ بِکُلِّ خُطْوَۃٍ حَسَنَۃً وَمُحِیَتْ عَنْہُ سَیِّئَۃٌ وَرُفِعَتْ لَہُ بِہِ دَرَجَۃٌ وَکَانَ لَہُ عَدْلَ رَقَبَۃٍ ))۔ [صحیح۔ طیالسی ۱۹۰۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৩৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جب تک مکہ میں ہو بیت اللہ کا زیادہ سے زیادہ طواف کرے
(٩٤٣٠) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے اور دو رکعتیں ادا کیں تو ایک غلام آزاد کرانے کے برابر یہ عمل ہوجائے گا۔
(۹۴۳۰) وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَیْبٍ الْبَزْمَہْرَانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ اللَّیْثِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یَقُولُ: ((مَنْ طَافَ سَبْعًا وَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ کَانَتْ کَعَتَاقِ رَقَبَۃٍ))۔ لَمْ یَذْکُرْ فِی إِسْنَادِہِ أَبَاہُ وَاخْتُلِفَ فِیہِ عَلَی عَطَائٍ فَبَعْضُہُمْ ذَکَرَہُ عَنْہُ وَبَعْضُہُمْ لَمْ یَذْکُرْہُ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৩৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جب تک مکہ میں ہو بیت اللہ کا زیادہ سے زیادہ طواف کرے
(٩٤٣١) عبید بن عمیر نے ابن عمر (رض) سے پوچھا : کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ صرف ان دو رکنوں کو چھوتے ہیں اور ان کے علاوہ کو نہیں ؟ کہنے لگے : اگر میں ایسا کرتا ہوں تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے کہ ان دونوں کو چھونا گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ کہتے ہیں اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے سات چکر لگائے اور دو رکعتیں ادا کیں تو اس کے لیے گردن آزاد کرانے کے برابر ثواب ہے اور جس نے ایک پاؤں اٹھایا اور دوسرا رکھا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکی لکھے گا اور گناہ مٹائے گا اور درجہ بلند کرے گا۔
(۹۴۳۱)أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ وَأَبُو بَکْرٍ الْفَارِسِیُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ یَقُولُ لاِبْنِ عُمَرَ : مَا لِی أَرَاکَ لاَ تَسْتَلِمُ إِلاَّ ہَذَیْنِ الرُّکْنَیْنِ وَلاَ تَسْتَلِمُ غَیْرَہُمَا؟ قَالَ : إِنْ أَفْعَلْ فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یَقُولُ: ((إِنَّ اسْتِلاَمَہُمَا یَحُطُّ الْخَطَایَا))۔ قَالَ وَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((مَنْ طَافَ سُبُوعًا وَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ فَلَہُ بِعَدْلِ رَقَبَۃٍ وَمَنْ رَفَعَ قَدِمًا وَوَضَعَ أُخْرَی کَتَبَ اللَّہُ لَہُ بِہَا حَسَنَۃً وَحَطَّ لَہُ بِہَا عَنْہُ خَطِیئَۃً وَرَفَعَ لَہُ بِہَا دَرَجَۃً))۔ وَہَذَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُمَا جَمِیعًا سَمِعَاہُ الأَبُ وَالاِبْنُ۔

[صحیح لغیرہ۔ انظر قبلہ، وہذا الفظ احمد ۲/۳۔ وابو یعلی ۵۶۸۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৩৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جب تک مکہ میں ہو بیت اللہ کا زیادہ سے زیادہ طواف کرے
(٩٤٣٢) جبیر بن مطعم (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : اے بنی عبدمناف ! میں یہ نہ سنوں کہ تم اس گھر کا طواف کرنے سے کسی کو بھی منع کرتے ہو خواہ دن ہو یا رات۔
(۹۴۳۲)حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ إِمْلاَئً وَأَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قِرَائَ ۃً قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بَابَاہْ قَالَ سَمِعْتُ جُبَیْرَ بْنَ مُطْعِمٍ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یَقُولُ: ((لاَ أَعْرِفَنَّ یَا بَنِی عَبْدِ مَنَافٍ مَا مَنَعْتُمْ طَائِفًا یَطُوفُ بِہَذَا الْبَیْتِ سَاعَۃً مِنْ لَیْلٍ أَوْ نَہَارٍ)) ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৩৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ دو مرتبہ سات سات طواف کرنا
(٩٤٣٣) (الف) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سات طواف کیے ، پھر دوبارہ سات چکر لگائے ؛کیوں کہ آپ پسند کرتے تھے کہ لوگ آپ کی قوت دیکھیں۔

(ب) معمری کی روایت میں ہے کہ سات چکر لگائے گا۔ پھر سات چکر لگائے گا، کیوں کہ یہ زیادہ پسندیدہ ہے کہ اسے لوگ دیکھیں یا وہ لوگوں کو اپنی قوت دکھلائے۔ اس کے علاوہ یہ متن بھی ہے۔ طَافَ سَبْعًا وَطَافَ سَعْیًا۔

(ج) ایک قول ہے کہ بیت اللہ کے سات چکر لگائے گا پھر سات چکر صفا مروہ میں لگائے گا۔ اس باب میں اس کا مدخل نہیں ہے۔ واللہ اعلم
(۹۴۳۳)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْمَعْمَرِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ قَالاَ حَدَّثَنَا ہُدْبَۃُ حَدَّثَنَا ہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ طَافَ سَبْعًا ثُمَّ طَافَ سَبْعًا لأَنَّہُ أَحَبَّ أَنْ یَرَی النَّاسُ قُوَّتَہُ ۔

وَفِی رِوَایَۃِ الْمَعْمَرِیِّ : طَافَ سَبْعًا وَطَافَ سَبْعًا لأَنَّہُ أَحَبَّ أَنْ یَرَی النَّاسُ أَوْ یُرِیَ النَّاسَ قُوَّتَہُ۔ وَقَدْ قَالَ غَیْرُہُ فِی ہَذَا الْمَتْنِ : طَافَ سَبْعًا وَطَافَ سَعْیًا۔

وَقِیلَ : أَرَادَ بِہِ طَافَ سَبْعًا بِالْبَیْتِ وَسَبْعًا بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَلاَ یَکُونُ مَدْخَلُہُ ہَذَا الْبَابَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

[صحیح۔ احمد ۱/ ۲۵۵۔ طبرانی کبیر ۲۱۸۲۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৩৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ دو مرتبہ سات سات طواف کرنا
(٩٤٣٤) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ کے تین مرتبہ سات سات چکر اکٹھے ہی لگائے۔ پھر مقام پر آکر چھ رکعتیں ادا کیں، ہر دو رکعتوں میں دائیں اور بائیں سلام پھیرتے تھے۔
(۹۴۳۴)أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إبْرَاہِیمُ بْنُ فِرَاسٍ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ عَنْ عَبْدِ السَّلاَمِ بْنِ أَبِی الْجَنُوبِ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : طَافَ النَّبِیُّ -ﷺ بِالْبَیْتِ ثَلاَثَۃَ أَسْبَاعٍ جَمِیعًا ثُمَّ أَتَی الْمَقَامَ فَصَلَّی خَلْفَہُ سِتَّ رَکَعَاتٍ یُسَلِّمُ فِی کُلِّ رَکْعَتَیْنِ یَمِینًا وَشِمَالاَ۔ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : أَرَادَ أَنْ یُعَلِّمَنَا۔

خَالَفَہُ الصَّغَانِیُّ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ جَنَابٍ فِی إِسْنَادِہِ۔[منکر۔ ضعفاء للعقیلی ۳/۶۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৪০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ دو مرتبہ سات سات طواف کرنا
(٩٤٣٥) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کیا ، جب ایک مکمل ہوگیا تو دوسرا شروع کرلیا تو ہم نے ان کو کہا کہ ہم نے طواف پورا کرلیا ہے تو کہنے لگے : مجھے کوئی شک نہیں ہے ، لیکن میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دو طواف اکٹھے کرتے دیکھا ہے تو میں بھی ایسا کرنا پسند کرتا ہوں۔
(۹۴۳۵)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدٍ الصَّیْرَفِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ عَنْ عَبْدِ السَّلاَمِ بْنِ أَبِی الْجَنُوبِ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : طُفْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِالْبَیْتِ فَلَمَّا أَتْمَمْنَا دَخَلْنَا فِی الثَّانِی فَقُلْنَا لَہُ : إِنَّا قَدْ أَتْمَمْنَا قَالَ : إِنِّی لَمْ أَوْہَمْ وَلَکِنِّی رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یَقْرِنُ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرِنَ۔

لَیْسَ ہَذَا بِالْقَوِیِّ وَقَدْ رَخَّصَ فِی ذَلِکَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَۃَ وَعَائِشَۃُ وَکَرِہَ ذَلِکَ ابْنُ عُمَرَ۔[منکر۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৪১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ امام کے لیے جو خطبات حج میں دینا مستحب ہیں ان کا آغاز سات ذوالحجہ سے کرے
(٩٤٣٦) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوم ترویہ سے پہلے لوگوں کو خطبہ دیا اور مناسک حج بیان فرمائے۔
(۹۴۳۶)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْجُلُودِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مِہْرَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّۃَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ إِذَا کَانَ قَبْلَ التَّرْوِیَۃِ خَطَبَ النَّاسَ فَأَخْبَرَہُمْ بِمَنَاسِکِہِمْ۔[صحیح۔ حاکم ۱/۶۳۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৪২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ امام کے لیے جو خطبات حج میں دینا مستحب ہیں ان کا آغاز سات ذوالحجہ سے کرے
(٩٤٣٧) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب واپس آئے تو ابوبکر (رض) کو حج پر بھیجا ۔ ہم بھی ان کے ساتھ گئے حتیٰ کہ جب عرج پہنچے تو صبح کی اقامت کہی گئی ۔ جب تکبیر تحریمہ کہنے کے لیے سیدھے ہوئے تو اپنے پیچھے سے آواز سنی ۔ آپ تکبیر سے رک گئے تو انھوں نے کہا : یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی جدعاء کی آواز ہے، لگتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بھی حج کا ارادہ ہوگیا ہے۔ شاید کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لا رہے ہیں، جب دیکھا تو سیدنا علی (رض) اس پر سوار تھے تو ابوبکر (رض) نے ان سے کہا : امیر بن کر آئے ہو یا قاصد ؟ کہنے لگے : بلکہ قاصد بن کر آیا ہوں۔ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے براء ۃ دے کر بھیجا ہے، میں حج کو مواقف میں اسے لوگوں کے سامنے پڑھوں۔ جب ہم مکہ آئے تو ترویہ (آٹھ ذوالحجہ) سے ایک دن پہلے ابوبکر (رض) کھڑے ہوئے لوگوں کو خطبہ دیا اور ان کو مناسک حج کے بارے میں بتایا حتیٰ کہ جب وہ فارغ ہوئے تو علی (رض) کھڑے ہوئے اور انھوں نے ساری براء ۃ پڑھ دی۔ پھر ہم نکلے حتیٰ کہ جب یوم عرفہ کو ابوبکر (رض) نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور لوگوں کو ان کے مناسک بتائے ، پھر جب فارغ ہوگئے تو علی (رض) کھڑے ہوئے اور مکمل براء ۃ پڑھی ۔ پھر جب قربانی کا دن تھا تو ہم واپس لوٹے جب ابوبکر (رض) واپس آئے تو انھوں نے لوگوں کو خطبہ دیا ان کو ان کے لوٹنے، قربانی کرنے اور مناسک کے بارے میں بتایا ۔ جب وہ فارغ ہوئے تو علی (رض) کھڑے ہوئے اور لوگوں پر براء ۃ پڑھی حتیٰ کہ اس کو ختم کیا ۔ جب واپس لوٹنے کا دن تھا تو ابوبکر (رض) نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور ان کو بتایا کہ وہ کیسے لوٹیں اور کیسے رمی کریں ان کو ان کے مناسک بتائے ۔ جب وہ فارغ ہوئے تو حضرت علی (رض) کھڑے ہوئے اور لوگوں پر براء ۃ پڑھی حتیٰ کہ اس کو ختم کیا۔
(۹۴۳۷)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَبُو الشَّیْخِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ الطَّبَرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو حُمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّۃَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ حِینَ رَجَعَ بَعَثَ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی الْحَجِّ فَأَقْبَلْنَا مَعَہُ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْعَرْجِ ثُوِّبَ بِالصُّبْحِ فَلَمَّا اسْتَوَی لِلتَّکْبِیرِ سَمِعَ الرَّغْوَۃَ خَلْفَ ظَہْرِہِ فَوَقَفَ عَنِ التَّکْبِیرِ فَقَالَ : ہَذِہِ رَغْوَۃُ نَاقَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ الْجَدْعَائِ لَقَدْ بَدَا لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فِی الْحَجِّ فَلَعَلَّہُ أَنْ یَکُونَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ عَلَیْہَا فَإِذَا عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَیْہَا فَقَالَ لَہُ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَمِیرٌ أَمْ رَسُولٌ؟ قَالَ : بَلْ رَسُولٌ أَرْسَلَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ بِبَرَائَ ۃَ أَقْرَأُ عَلَی النَّاسِ فِی مَوَاقِفِ الْحَجِّ فَقَدِمْنَا مَکَّۃَ فَلَمَّا کَانَ قَبْلَ التَّرْوِیَۃِ بِیَوْمٍ قَامَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَہُمْ عَنْ مَنَاسِکِہِمْ حَتَّی إِذَا فَرَغَ قَامَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَرَأَ عَلَی النَّاسِ بَرَائَ ۃَ حَتَّی خَتَمَہَا ثُمَّ خَرَجْنَا مَعَہُ حَتَّی إِذَا کَانَ یَوْمَ عَرَفَۃَ قَامَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَہُمْ عَنْ مَنَاسِکِہِمْ حَتَّی إِذَا فَرَغَ قَامَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَرَأَ عَلَی النَّاسِ بَرَائَ ۃَ حَتَّی خَتَمَہَا ثُمَّ کَانَ یَوْمَ النَّحْرِ فَأَفَضْنَا فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَہُمْ عَنْ إِفَاضَتِہِمْ وَعَنْ نَحْرِہِمْ وَعَنْ مَنَاسِکِہِمْ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَرَأَ عَلَی النَّاسِ بَرَائَ ۃَ حَتَّی خَتَمَہَا فَلَمَّا کَانَ یَوْمَ النَّفْرِ الأَوَّلَ قَامَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَہُمْ کَیْفَ یَنْفِرُونَ وَکَیْفَ یَرْمُونَ فَعَلَّمَہُمْ مَنَاسِکَہُمْ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَرَأَ عَلَی النَّاسِ بَرَائَ ۃَ حَتَّی خَتَمَہَا۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَبِی قُرَّۃَ مُوسَی بْنِ طَارِقٍ تَفَرَّدَ بِہِ ہَکَذَا ابْنُ خُثَیْمٍ۔

[ضعیف۔ نسائی ۲۹۹۳۔ دارمی ۱۹۱۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৪৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ منیٰ کی طرف یوم ترویہ کو جانا اور اگلے دن تک وہیں رہنا ، پھر وہاں سے عرفہ جانا
(٩٤٣٨) جابر بن عبداللہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج کا واقعہ سنایا اور فرمایا : پھر سارے لوگ حلال ہوگئے اور انھوں نے بال کٹوائے ۔ سوائے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس شخص کے جس کے پاس قربانی تھی تو جب ترویہ کا دن تھا اور وہ منیٰ کی طرف متوجہ ہوئے۔ انھوں نے حج کا تلبیہ کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوار ہوئے اور ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کی اور عصر بھی اور مغرب وعشا بھی اور صبح بھی۔ پھر تھوڑی دیر تک ٹھہرے حتیٰ کہ سورج طلوع ہوگیا اور آپ نے بالوں کے قبہ کا حکم دیا ۔ اس کو نمرہ میں لگایا گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے اور قریش شک نہیں کرتے ، مگر یہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشعرِ حرام کے پاس ٹھہرنے والے ہیں۔ جس طرح قریش جاہلیت میں کرتے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے درست قرار دیا حتیٰ کہ عرفہ آئے اور دیکھا کہ قبہ نمرہ میں لگایا گیا تھا، آپ وہیں اترے۔
(۹۴۳۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبِرْنِی أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ وَأَبُو بَکْرٍ الْوَرَّاقُ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَی جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی حَجِّ النَّبِیِّ -ﷺ قَالَ ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ کُلُّہُمْ وَقَصَّرُوا إِلاَّ النَّبِیَّ -ﷺ وَمَنْ کَانَ مَعَہُ ہَدْیٌ فَلَمَّا کَانَ یَوْمَ التَّرْوِیَۃِ وَوَجَّہُوا إِلَی مِنًی أَہَلُّوا بِالْحَجِّ وَرَکِبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ فَصَلَّی بِمِنًی الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ وَالصُّبْحَ ثُمَّ مَکَثَ قَلِیلاً حَتَّی طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَأَمَرَ بِقُبَّۃٍ مِنْ شَعَرٍ فَضُرِبَتْ لَہُ بِنَمِرَۃَ فَسَارَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ وَلاَ تَشُکُّ قُرَیْشٌ إِلاَّ أَنَّہُ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ کَمَا کَانَتْ قُرَیْشٌ تَصْنَعُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَأَجَازَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ حَتَّی أَتَی عَرَفَۃَ فَوَجَدَ الْقُبَّۃَ قَدْ ضُرِبَتْ لَہُ بِنَمِرَۃَ فَنَزَلَ بِہَا۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔[صحیح۔ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৪৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ منیٰ کی طرف یوم ترویہ کو جانا اور اگلے دن تک وہیں رہنا ، پھر وہاں سے عرفہ جانا
(٩٤٣٩) عبدالعزیز بن رفیع فرماتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک (رض) سے پوچھا : مجھے کوئی ایسی بات بتاؤ جس کو آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سیکھا ہو کہ انھوں نے ترویہ کے دن ظہر کہاں ادا کی ؟ انھوں نے کہا : منیٰ میں، میں نے کہا : عصر کوچ کے دن کہا : پڑھی ؟ انھوں نے کہا : ابطح میں ، پھر کہا : ویسے ہی کر جیسے تیرے امراء کرتے ہیں۔
(۹۴۳۹)أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عُثْمَانَ : سَعِیدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّیْسَابُورِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ زُہَیْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوسُفَ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ قُلْتُ : أَخْبِرْنِی بِشَیْئٍ عَقَلْتَہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ أَیْنَ صَلَّی الظُّہْرَ یَوْمَ التَّرْوِیَۃِ؟ قَالَ : بِمِنًی۔ قُلْتُ : فَأَیْنَ صَلَّی الْعَصْرَ یَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ : بِالأَبْطَحِ۔ ثُمَّ قَالَ : افْعَلْ کَمَا یَفْعَلُ أُمَرَاؤُکَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ إِسْحَاقَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ۔

[صحیح۔ بخاری ۱۵۷۰۔ مسلم ۱۳۰۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৪৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ منیٰ کی طرف یوم ترویہ کو جانا اور اگلے دن تک وہیں رہنا ، پھر وہاں سے عرفہ جانا
(٩٤٤٠) ابن عمر (رض) ظہر، عصر، مغرب، عشا اور صبح کی نمازیں منیٰ میں پڑھتے ، پھر جب سورج طلوع ہوتا تو عرفہ جاتے۔
(۹۴۴۰)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ۔

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یُصَلِّی الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ وَالصُّبْحَ بِمِنًی ثُمَّ یَغْدُو مِنْ مِنًی إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ إِلَی عَرَفَۃَ۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ بُکَیْرٍ وَحَدِیثُ الشَّافِعِیِّ مُخْتَصَرٌ فِی الْغُدُوِّ فَقَطْ۔ [صحیح۔ مالک ۸۹۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৪৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یوم عرفہ سے پہلے اور بعد میں جمرہ ٔعقبہ کو رمی کرنے تک تلبیہ کہنے کا بیان
(٩٤٤١) فضل (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفات سے واپس آئے اور اسامہ (رض) آپ کے پیچھے سوار تھے، آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر گھوم رہی تھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوٹنے سے پہلے عرفات میں ہی تھے اور اپنے ہاتھوں کو اٹھایا ہوا تھا، وہ سر سے تجاوز نہ کرتے تھے تو جب واپس لوٹے تو اپنی حالت پر آگئے ۔ حتیٰ کہ ” جمع “ میں پہنچے ۔ پھر وہاں سے لوٹے تو فضل آپ کے پیچھے سوار تھے، فضل فرماتے ہیں کہ نبی تلبیہ کہتے رہے حتیٰ کہ جمرہ کے پاس آئے۔
(۹۴۴۱)أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ یَعْنِی ابْنَ أَبِی سُلَیْمَانَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ قَالَ : أَفَاضَ النَّبِیُّ -ﷺ مِنْ عَرَفَاتٍ وَأُسَامَۃُ رِدْفُہُ فَجَالَتْ بِہِ النَّاقَۃُ وَہُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَاتٍ قَبْلَ أَنْ یُفِیضَ وَہُوَ رَافِعٌ یَدَیْہِ لاَ تُجَاوِزَانِ رَأْسَہُ فَلَمَّا أَفَاضَ سَارَ عَلَی ہَیْئَتِہِ حَتَّی أَتَی جَمْعًا ثُمَّ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ وَالْفَضْلُ رِدْفُہُ فَقَالَ الْفَضْلُ : مَا زَالَ النَّبِیُّ -ﷺ یُلَبِّی حَتَّی أَتَی الْجَمْرَۃَ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ وَلَمْ یَذْکُرِ الْفَضْلَ فِی أَوَّلِہِ وَإِنَّمَا ذَکَرَہُ فِی آخِرِہِ وَقَدْ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ مُخْتَصَرًا۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۰۱۔ مسلم ۱۲۸۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৪৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یوم عرفہ سے پہلے اور بعد میں جمرہ ٔعقبہ کو رمی کرنے تک تلبیہ کہنے کا بیان
(٩٤٤٢) محمد بن ابی بکرثقفی فرماتے ہیں کہ انھوں نے انس بن مالک (رض) سے پوچھا ، جب وہ منیٰ سے عرفہ جا رہے تھے کہ تم اس دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہوتے ہوئے کہا کرتے تھے تو انھوں نے کہا : تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہتا تھا، اس کو نہ روکا جاتا اور تکبیر کہنے والا تکبیر کہتا تو اس کو برا نہ جانا جاتا۔
(۹۴۴۲)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ وَمُوسَی بْنُ مُحَمَّدٍ الذُّہْلِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ الثَّقَفِیِّ : أَنَّہُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ وَہُمَا غَادِیَانِ مِنْ مِنًی إِلَی عَرَفَۃَ کَیْفَ کُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِی ہَذَا الْیَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فَقَالَ : کَانَ یُہِلُّ الْمُہِلُّ مِنَّا وَلاَ یُنْکَرُ عَلَیْہِ وَیُکَبِّرُ الْمُکَبِّرُ مِنَّا فَلاَ یُنْکَرُ عَلَیْہِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔

[صحیح۔ بخاری ۱۵۷۶۔ مسلم ۱۲۸۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৪৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یوم عرفہ سے پہلے اور بعد میں جمرہ ٔعقبہ کو رمی کرنے تک تلبیہ کہنے کا بیان
(٩٤٤٣) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ منیٰ سے عرفات گئے ، ہم میں سے کچھ لوگ تلبیہ کہہ رہے تھے اور کچھ تکبیرات۔
(۹۴۴۳)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ قَالَ وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنِی إبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُثَنَی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ مِنْ مِنًی إِلَی عَرَفَاتٍ مِنَّا الْمُلَبِّی وَمِنَّا الْمُکَبِّرُ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ مَثْنَی۔ [صحیح۔ مسلم ۲۲۸۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৪৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یوم عرفہ سے پہلے اور بعد میں جمرہ ٔعقبہ کو رمی کرنے تک تلبیہ کہنے کا بیان
(٩٤٤٤) عبداللہ بن مسعود (رض) نے منیٰ سے واپسی پر تلبیہ کہا تو کہا گیا کہ یہ اعرابی ہے تو عبداللہ (رض) نے فرمایا : جس پر سورة بقرہ نازل ہوئی ہے۔ میں نے انھیں اس جگہ پر لبیک اللہم لبیک کہتے سنا ہے۔
(۹۴۴۴)أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا سُرَیْجُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا حُصَیْنٌ عَنْ کَثِیرِ بْنِ مُدْرِکٍ الأَشْجَعِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ لَبَّی حِینَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ فَقِیلَ : ہَذَا أَعْرَابِیٌّ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ : سَمِعْتُ الَّذِی أُنْزِلَتْ عَلَیْہِ سُورَۃُ الْبَقَرَۃِ یَقُولُ فِی ہَذَا الْمَکَانِ: ((لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ)) ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُرَیْجِ بْنِ یُونُسَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۸۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৫০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یوم عرفہ سے پہلے اور بعد میں جمرہ ٔعقبہ کو رمی کرنے تک تلبیہ کہنے کا بیان
(٩٤٤٥) عبدالرحمن بن الاسود کہتے ہیں کہ ان والد عرفہ کے دن ابن زبیر کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ آپ کو کس بات نے تلبیہ کہنے سے روکا ہے۔ میں نے عمر بن خطاب کو اس جگہ تلبیہ کہتے سنا ہے تو انھوں نے بھی تلبیہ کہا۔
(۹۴۴۵)أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إبْرَاہِیمَ ذَکَرَہُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ : أَنَّ أَبَاہُ رَقِیَ إِلَی ابْنِ الزُّبَیْرِ یَوْمَ عَرَفَۃَ فَقَالَ : مَا مَنَعَکَ أَنْ تُہِلَّ؟ فَقَدْ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُہِلُّ فِی مَکَانِکَ ہَذَا فَأَہَلَّ ابْنُ الزُّبَیْرِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক: