আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৮৮ টি

হাদীস নং: ৯৪৫১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یوم عرفہ سے پہلے اور بعد میں جمرہ ٔعقبہ کو رمی کرنے تک تلبیہ کہنے کا بیان
(٩٤٤٦) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عمر (رض) کو مزدلفہ میں تلبیہ کہتے سنا تو ان کو کہا : اے امیرالمومنین ! تلبیہ کہاں ؟ انھوں کہا : کیا ہم نے مناسک ادا کرلیے ہیں ؟
(۹۴۴۶)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَیْبَانَ الرَّمْلِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنِ عُیَیْنَۃَ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُہِلُّ بِالْمُزْدَلِفَۃِ فَقُلْتُ لَہُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینِ فِیمَ الإِہْلاَلُ؟ قَالَ : وَہَلْ قَضَیْنَا نُسُکَنَا۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৫২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یوم عرفہ سے پہلے اور بعد میں جمرہ ٔعقبہ کو رمی کرنے تک تلبیہ کہنے کا بیان
(٩٤٤٧) سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ہم ابن عباس (رض) کے پاس عرفہ میں تھے تو انھوں نے کہا : سعید ! کیا وجہ ہے کہ میں لوگوں کو تلبیہ کہتے نہیں سنتا۔ میں نے کہا : وہ معاویہ (رض) سے ڈرتے ہیں تو وہ اپنے خیمہ سے نکلے اور کہا : لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ اگرچہ معاویہ کی ناک خاک آلود ہوجائے، اے اللہ ! ان پر لعنت کر ، انھوں نے علی (رض) سے بغض کی وجہ سے سنت کو چھوڑ دیا ہے۔
(۹۴۴۷)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ ابْنِ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ سَعِیدٍ النَّسَوِیُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مَیْسَرَۃَ بْنِ حَبِیبٍ النَّہْدِیِّ عَنِ الْمِنْہَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : کُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِعَرَفَۃَ فَقَالَ : یَا سَعِیدُ مَا لِی لاَ أَسْمَعُ النَّاسَ یُلَبُّونَ؟ قُلْتُ : یَخَافُونَ مُعَاوِیَۃَ فَخَرَجَ ابْنُ الْعَبَّاسِ مِنْ فُسْطَاطِہِ فَقَالَ : لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ مُعَاوِیَۃَ اللَّہُمَّ الْعَنْہُمْ فَقَدْ تَرَکُوا السُّنَّۃَ مِنْ بُغْضِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔

[حسن۔ نسائی ۲۰۰۶۔ ابن خزیمہ ۲۸۳۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৫৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یوم عرفہ سے پہلے اور بعد میں جمرہ ٔعقبہ کو رمی کرنے تک تلبیہ کہنے کا بیان
(٩٤٤٨) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : تو تلبیہ کہتا رہ حتیٰ کہ رمی جمار کر کے حرم کو آجائے۔
(۹۴۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی : زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیَی بْنِ أَسَدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ أَبِی یَزِیدَ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ : تُلَبِّی حَتَّی تَأْتِیَ حَرَمَکَ إِذَا رَمَیْتَ الْجَمْرَۃَ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৫৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یوم عرفہ سے پہلے اور بعد میں جمرہ ٔعقبہ کو رمی کرنے تک تلبیہ کہنے کا بیان
(٩٤٤٩) کریب کہتے ہیں کہ مجھے ابن عباس (رض) نے میمونہ (رض) کے ساتھ عرفہ کے دن بھیجا ، میں ان کی ہودج کے پیچھے پیچھے چلتا رہا اور میں ان کا تلبیہ سنتا رہا حتیٰ کہ انھوں نے جمرہ ٔعقبہ کو کنکریاں ماریں ۔ پھر انھوں نے تکبیر کہی۔
(۹۴۴۹)أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَمَاہِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ کُرَیْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَرْسَلَنِی ابْنُ عَبَّاسٍ مَعَ مَیْمُونَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ یَوْمَ عَرَفَۃَ فَاتَّبَعْتُ ہَوْدَجَہَا فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُہَا تُلَبِّی حَتَّی رَمَتْ جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ ثُمَّ کَبَّرَتْ۔ وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ أَیْضًا عَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৫৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عرفہ میں ٹھہرنے کا بیان
(٩٤٥٠) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ قریش اور ان کے دین کے پیرو کار لوگ مزدلفہ میں ٹھہرتے تھے اور انھیں حمس کہا جاتا تھا اور باقی سارے اہل عرب عرفہ میں ٹھہرتے تھے ۔ جب اسلام آگیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ وہ عرفات جائیں اور وہاں ٹھہریں اور وہیں سے نکلیں۔ یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : پھر وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں۔
(۹۴۵۰)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا مُحَاضِرٌ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ۔

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَتْ قُرَیْشٌ وَمَنْ دَانَ دِینَہَا یَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَۃِ وَکَانُوا یُسَمَّوْنَ الْحُمْسَ وَکَانَ سَائِرُ الْعَرَبِ یَقِفُونَ بِعَرَفَۃَ فَلَمَّا جَائَ الإِسْلاَمُ أَمَرَ اللَّہُ نَبِیَّہُ -ﷺ أَنْ یَأْتِیَ عَرَفَاتٍ فَیَقِفَ بِہَا ثُمَّ یُفِیضَ مِنْہَا فَذَلِکَ قَوْلُہُ: {ثُمَّ أَفِیضُوا مِنْ حَیْثُ أَفَاضَ النَّاسُ}۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی مُعَاوِیَۃَ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیٍّ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ بخاری ۴۲۴۸۔ مسلم ۱۲۱۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৫৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عرفہ میں ٹھہرنے کا بیان
(٩٤٥١) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ قریش کہتے تھے : ہم بیت اللہ کے باسی ہیں ، ہم حرم سے نہیں نکلیں گے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : پھر وہیں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں۔
(۹۴۵۱)وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ ابْنُ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِیُّ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : قَالَتْ قُرَیْشٌ نَحْنُ قَوَاطِنُ الْبَیْتِ لاَ نُجَاوِزُ الْحَرَمَ فَقَالَ اللَّہُ سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی: {ثُمَّ أَفِیضُوا مِنْ حَیْثُ أَفَاضَ النَّاسُ}۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৫৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عرفہ میں ٹھہرنے کا بیان
(٩٤٥٢) جبیر بن مطعم (رض) فرماتے ہیں کہ عرفہ کے دن میرا اونٹ گم ہوگیا تو میں اسے تلاش کرنے نکلا ۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عرفہ میں کھڑے پایا تو میں نے کہا : یہ اللہ کی قسم حمس میں سے ہیں ، ان کا کیا حال ہے ؟
(۹۴۵۲)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ الْبَجَلِیُّ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَضْلَلْتُ بَعِیرًا لِی فَذَہَبْتُ أَطْلُبُہُ یَوْمَ عَرَفَۃَ فَرَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ وَاقِفًا بِعَرَفَۃَ فَقُلْتُ ہَذَا وَاللَّہِ مِنَ الْحُمْسِ مَا شَأْنُہُ؟

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ سُفْیَانَ۔

[صحیح۔ بخاری ۱۵۸۱۔ مسلم ۱۲۲۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৫৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عرفہ میں ٹھہرنے کا بیان
(٩٤٥٣) عمرو بن دینار نے بھی اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے ، لیکن انھوں نے کہا : یہ حمس میں سے ہیں تو ان کو کیا ہوا ۔ یہ حرم سے نکل آئے ہیں۔
(۹۴۵۳)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو أَحْمَدَ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ۔

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ قَالَ: وَأَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ یَعْنِی ابْنَ أَبِی شَیْبَۃَ قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ قَالَ وَحَدَّثَنَا عِمْرَانُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : ہَذَا مِنَ الْحُمْسِ فَمَا لَہُ خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ۔ قَالَ سُفْیَانُ یَعْنِی قُرَیْشًا وَکَانَتْ تُسَمَّی الْحُمْسَ وَکَانَتْ قُرَیْشٌ لاَ تُجَاوِزُ الْحَرَمَ یَقُولُونَ نَحْنُ أَہْلُ اللَّہِ لاَ نَخْرُجُ مِنَ الْحَرَمِ فَکَانَ سَائِرُ النَّاسِ تَقِفُ بِعَرَفَۃَ وَذَلِکَ قَوْلُ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ : {ثُمَّ أَفِیضُوا مِنْ حَیْثُ أَفَاضَ النَّاسُ}۔ قَالَ سُفْیَانُ الأَحْمَسُ الشَّدِیدُ فِی دِینِہِ۔ قَالَ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدِیثُ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ إِلَی قَوْلِہِ مِنَ الْحُمْسِ مَا لَہُ ہَا ہُنَا۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৫৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یومِ عرفہ کا خطبہ زوال کے بعد دینا اور ظہر و عصر کو ایک ہی اذان اور دو اق امتوں کے ساتھ جمع کرنا
(٩٤٥٤) جابر بن عبداللہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج والی حدیث بیان کی اور نمرہ میں آپ کا اترنا بیان کیا ہے حتیٰ کہ جب سورج ڈھل گیا، انھوں نے قصواء کا حکم دیا ۔ اس پر کجاوا کسا گیا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوار ہوئے حتیٰ کہ وادی کے درمیان میں آئے ، لوگوں کو خطبہ دیا، پھر بلال نے اذان دی پھر ظہر کی اقامت کہی اور نماز پڑھی ، پھر اقامت کہی تو عصر کی نماز پڑھائی۔
(۹۴۵۴)أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ وَأَبُو بَکْرٍ الْوَرَّاقُ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَی جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی حَجَّۃِ النَّبِیِّ -ﷺ وَنُزُولِہِ بِنَمِرَۃَ قَالَ حَتَّی إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَائِ فَرُحِلَتْ لَہُ فَرَکِبَ حَتَّی أَتَی بَطْنَ الْوَادِی فَخَطَبَ النَّاسَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی خُطْبَتِہِ کَمَا مَضَی فِی ہَذَا الْحَدِیثِ حَیْثُ أَخْرَجْنَاہُ بِسِیَاقِہِ مِنْ ہَذَا الْکِتَابِ قَالَ ثُمَّ أَذَّنَ بِلاَلٌ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الظُّہْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ وَلَمْ یُصَلِّ بَیْنَہُمَا شَیْئًا۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [منکر ۱۲۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৬০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یومِ عرفہ کا خطبہ زوال کے بعد دینا اور ظہر و عصر کو ایک ہی اذان اور دو اق امتوں کے ساتھ جمع کرنا
(٩٤٥٥) جابر (رض) حجۃ الاسلام کے بارے میں فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موقف کی طرف گئے ، عرفہ میں لوگوں کو پہلا خطبہ دیا۔ پھر بلال نے اذان کہی۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسرا خطبہ شروع کردیا ۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ اور بلال اذان سے فارغ ہوئے تو بلال (رض) نے اقامت کہی ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر پڑھائی ۔ پھر اقامت کہی تو عصر کی نماز پڑھائی۔

شیخ فرماتے ہیں : اس تفصیل کے ساتھ ابراہیم بن محمد بن ابو یحییٰ منفرد ہے۔ حاتم بن اسماعیل کی حدیث جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انھوں نے خطبہ دیا ۔ پھر بلال (رض) نے اذان کہی ، مگر اس میں یہ ذکر نہیں کہ انھوں نے یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دوسرے خطبہ سے اخذ کی تھی۔
(۹۴۵۵)أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَغَیْرُہُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرِ فِی حَجَّۃِ الإِسْلاَمِ قَالَ فَرَاحَ النَّبِیُّ -ﷺ إِلَی الْمَوْقِفِ بِعَرَفَۃَ فَخَطَبَ النَّاسَ الْخُطْبَۃَ الأُولَی ثُمَّ أَذَّنَ بِلاَلٌ ثُمَّ أَخَذَ النَّبِیُّ -ﷺ فِی الْخُطْبَۃِ الثَّانِیَۃِ فَفَرَغَ مِنَ الْخُطْبَۃِ وَبِلاَلٌ مِنَ الأَذَانِ ثُمَّ أَقَامَ بِلاَلٌ فَصَلَّی الظُّہْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ۔

قَالَ الشَّیْخُ تَفَرَّدَ بِہَذَا التَّفْصِیلِ إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی یَحْیَی وَفِی حَدِیثِ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ مَا دَلَّ عَلَی أَنَّہُ خَطَبَ ثُمَّ أَذَّنَ بِلاَلٌ إِلاَّ أَنَّہُ لَیْسَ فِیہِ ذِکْرُ أَخْذِ النَّبِیِّ -ﷺ فِی الْخُطْبَۃِ الثَّانِیَۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔[منکر ۱۲۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৬১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یومِ عرفہ کا خطبہ زوال کے بعد دینا اور ظہر و عصر کو ایک ہی اذان اور دو اق امتوں کے ساتھ جمع کرنا
(٩٤٥٦) سالم فرماتے ہیں کہ حجاج نے ابن عمر سے پوچھا کہ عرفہ کے دن موقف میں کیسے کیا جائے ؟ سالم نے فرمایا : اگر تو سنت چاہتا ہے تو عرفہ کے دن صبح کی نماز جلدی پڑھ تو ابن عمر (رض) نے فرمایا : اس نے سچ کہا ہے کہ وہ ظہر اور عصر کو سنت کے مطابق عرفہ کے دن جمع کرتے تھے، ابن شہاب فرماتے ہیں : میں نے سالم سے عرض کیا : کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسا کیا ہے ؟ سالم نے فرمایا : وہ تو صرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کی سنت کا اتباع کرتے تھے۔
(۹۴۵۶)أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ : إبْرَاہِیمُ بْنُ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ وَأَبُو صَالِحٍ أَنَّ اللَّیْثَ حَدَّثَہُمَا قَالَ حَدَّثَنِی عُقَیْلٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِی سَالِمٌ : أَنَّ الْحَجَّاجَ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ کَیْفَ یَصْنَعُ فِی الْمَوْقِفِ یَوْمَ عَرَفَۃَ قَالَ سَالِمٌ إِنْ کُنْتَ تُرِیدُ السُّنَّۃَ فَہَجِّرْ بِالصَّلاَۃِ یَوْمَ عَرَفَۃَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : صَدَقَ إِنَّہُمْ کَانُوا یَجْمَعُونَ بَیْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ یَوْمَ عَرَفَۃَ فِی السُّنَّۃِ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ فَقُلْتُ لِسَالِمٍ أَفَعَلَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ قَالَ سَالِمٌ : وَہَلْ یَتَّبِعُونَ إِلاَّ سُنَّتَہُ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فَقَالَ وَقَالَ اللَّیْثُ۔ وَرُوِّینَا عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَجْمَعُ بَیْنَہُمَا إِذَا فَاتَہُ مَعَ الإِمَامِ یَوْمَ عَرَفَۃَ۔ وَعَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ إِنْ شَائَ جَمَعَ وَإِنْ شَائَ فَرَّقَ۔ [صحیح۔ نسائی ۳۰۰۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৬২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ موقف کی طرف چٹانوں کے پاس سے جانا اور دعا کے لیے قبلہ رو ہونے کا بیان
(٩٤٥٧) جابر بن عبداللہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج کے بارے میں فرماتے ہیں کہ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوار ہوئے حتیٰ کہ موقف پر آئے اور اپنی اونٹنی قصواء کے پیٹ کو چٹانوں کی جانب کیا اور جبل مشاۃ کو اپنے سامنے رکھا اور قبلہ رو ہوئے ۔ پھر وہیں کھڑے رہے حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا۔
(۹۴۵۷)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ وَأَبُو بَکْرٍ الْوَرَّاقُ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ فِی حَجِّ النَّبِیِّ -ﷺ قَالَ : ثُمَّ رَکِبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ حَتَّی أَتَی الْمَوْقِفَ فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِہِ الْقَصْوَائِ إِلَی الصَّخْرَاتِ وَجَعَلَ حَبْلَ الْمُشَاۃِ بَیْنَ یَدَیْہِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ فَلَمْ یَزَلْ وَاقِفًا حَتَّی غَرَبَتِ الشَّمْسُ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৬৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عرفہ میں جہاں بھی ٹھہریں جائز ہے
(٩٤٥٨) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں عرفہ میں اس جگہ ٹھہرا ہوں اور عرفہ سارے کا سارا موقف ہے اور میں اس جگہ مزدلفہ میں ٹھہرا ہوں اور مزدلفہ سارے کا سارا وقف ہے اور میں نے اس جگہ منیٰ میں قربانی کی ہے اور منیٰ سارے کا سارا منحر ہے، لہٰذا اپنے خیموں میں نحر کرو۔
(۹۴۵۸) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ قَالَ : ((وَقَفْتُ ہَا ہُنَا بِعَرَفَۃَ وَعَرَفَۃَ کُلَّہَا مَوْقِفٌ وَوَقَفْتُ ہَا ہُنَا بِجَمْعٍ وَجَمْعٌ کُلُّہَا مَوْقِفٌ وَنَحَرْتُ ہَا ہُنَا بِمِنًی وَمِنًی کُلُّہَا مَنْحَرٌ فَانْحَرُوا فِی رِحَالِکُمْ ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ عَنْ أَبِیہِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۸۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৬৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عرفہ میں جہاں بھی ٹھہریں جائز ہے
(٩٤٥٩) محمد بن منکدر فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عرفہ سارے کا سارا موقف ہے اور عرفہ سے بلند رہو اور مزدلفہ سارے کا سارا موقف ہے اور محسر سے بلند رہو۔
(۹۴۵۹)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ وَأَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ قَالَ: ((عَرَفَۃُ کُلُّہَا مَوْقِفٌ وَارْتَفِعُوا عَنْ عُرَنَۃَ وَالْمُزْدَلِفَۃُ کُلُّہَا مَوْقِفٌ وَارْتَفِعُوا عَنْ مُحَسِّرٍ))۔

[صحیح لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৬৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عرفہ میں جہاں بھی ٹھہریں جائز ہے
(٩٤٦٠) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ عرفات اور محسر سے بلند رہو، عرنات عرفات میں ہے اور عطاء فرماتے ہیں کہ عرفہ وہ ہے جس میں مبنی ہے۔

شیخ کہتے ہیں : اس روایت کو یحییٰ القطان عن ابن جریج عن عطاء عن ابن عباس بیان کیا ہے اور کہا۔ کان یقال :
(۹۴۶۰)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ : ارْتَفِعُوا عَنْ عُرَنَاتٍ وَارْتَفِعُوا عَنْ مُحَسِّرٍ قَالَ وَعُرَنَاتٌ بِعَرَفَاتٍ قَالَ عَطَائٌ : وَبَطْنُ عُرَنَۃَ الَّذِی فِیہِ الْمَبْنَی۔

قَالَ الشَّیْخُ: وَرَوَاہُ یَحْیَی الْقَطَّانُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ یُقَالُ۔ وَرُوِیَ عَنْ أَبِی مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا۔ [صحیح لغیرہ۔ ابن خزیمہ ۲۸۱۷۔ حاکم ۱/ ۶۳۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৬৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عرفہ میں جہاں بھی ٹھہریں جائز ہے
(٩٤٦١) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بطن عرفہ سے بلند رہو اور محسر بلند رہو۔
(۹۴۶۱)أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَیَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ زِیَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِی مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ: ((ارْفَعُوا عَنْ بَطْنِ عُرَنَۃَ وَارْفَعُوا عَنْ مُحَسِّرٍ))۔ [صحیح لغیرہ۔ ابن خزیمہ۲۸۱۶۔ حاکم۱/۶۳۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৬৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عرفہ میں جہاں بھی ٹھہریں جائز ہے
(٩٤٦٢) یہی حدیث زیاد بن سعد نے بھی بیان کی ہے، لیکن اس نے کہا کہ بطن محسر سے بلند رہو اور انگلیوں کے درمیان رکھ کر ماری جانے والی کنکریوں کو لازم پکڑو۔
(۹۴۶۲)وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَلِیٌّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ زِیَادِ بْنِ سَعْدٍ إِنْ شَائَ اللَّہُ شَکَّ سُفْیَانُ فَذَکَرَہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : ارْفَعُوا عَنْ بَطْنِ مُحَسِّرٍ وَعَلَیْکُمْ بِمِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ۔ [صحیح لغیرہ۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৬৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عرفہ میں جہاں بھی ٹھہریں جائز ہے
(٩٤٦٣) ابن مربع انصاری نے کہا کہ میں تمہاری طرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قاصد ہوں ، وہ کہہ رہے تھے : اپنے ان مشاعر پر رہو، کیوں کہ تم ابراہیم کی وراثت کے وارث ہو۔ [حسن۔ ابوداود ١٩١٩۔ ترمذی ٨٨٣)
(۹۴۶۳)أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو یَعْنِی ابْنَ دِینَارٍ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ صَفْوَانَ یُحَدِّثُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ شَیْبَانَ قَالَ : کُنَّا وُقُوفًا بِعَرَفَۃَ فِی مَکَانٍ بَعِیدٍ مِنَ الْمَوْقِفِ یُبَعِّدُہُ فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الأَنْصَارِیُّ فَقَالَ : إِنِّی رَسُولُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ إِلَیْکُمْ یَقُولُ : کُونُوا عَلَی مَشَاعِرِکُمْ ہَذِہِ فَإِنَّکُمْ عَلَی إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ إبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৬৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عرفہ میں جہاں بھی ٹھہریں جائز ہے
(٩٤٦٤) ایضاً
(۹۴۶۴)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَیْبَانَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ عَنْ عَنْ وَقَالَ : أَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الأَنْصَارِیُّ بِعَرَفَۃَ وَنَحْنُ فِی مَکَانٍ مِنَ الْمَوْقِفِ یُبَاعِدُہُ عَمْرٌو یَعْنِی عَنِ الإِمَامِ فَقَالَ ثُمَّ ذَکَرَہُ۔ [حسن۔ انظر قبہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৭০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج کو پانے کے لیے وقوف کے وقت کا بیان
(٩٤٦٥) سالم بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو لکھ بھیجا کہ حج کے معاملہ میں عبداللہ بن عمر (رض) کی مخالفت نہیں کرنی تو جب عرفہ کا دن تھا ، عبداللہ (رض) اس کے پاس گئے ۔ جب سورج زائل ہوا تو اس کی آرام گاہ کے خیموں کے پاس چیخے تو حجاج زرد رنگ کی چار میں نکلا اور کہا : اس وقت۔ کہا : ہاں ! کہنے لگا : میرا انتظار کریں ، میں پانی ڈال لوں، وہ گیا اور غسل کر کے آیا اور میرے اور میرے والد کے درمیان ہو لیا تو میں نے کہا : آج اگر تو سنت پر عمل کرنا چاہتا ہے تو خطبہ مختصر دے اور جلدی نماز پڑھا تو وہ عبداللہ بن عمر (رض) کی طرف دیکھنے لگا ، تاکہ یہ بات ان سے سن لے تو عبداللہ (رض) نے فرمایا : اس نے سچ کہا ہے۔

(ب) صحیح بخاری میں ہے۔ وقوف میں جلدی کرو۔

(ج) جابر بن عبداللہ (رض) کی روایت میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موقف میں زوال شمس کے بعد آئے۔ جابر (رض) کی روایت میں ہے : تاکہ تم اپنے مناسک کے طریقے سیکھو۔
(۹۴۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ عَنْ مَالِکٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّہُ قَالَ : کَتَبَ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَرْوَانَ إِلَی الْحَجَّاجِ بْنِ یُوسُفَ : أَنْ لاَ یُخَالِفَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ فِی أَمْرِ الْحَجِّ فَلَمَّا کَانَ یَوْمَ عَرَفَۃَ جَائَ ہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ حِینَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَصَاحَ عِنْدَ سُرَادِقِہِ الرَّوَاحَ فَخَرَجَ الْحَجَّاجُ إِلَیْہِ فِی مِلْحَفَۃٍ مُعَصْفَرَۃٍ فَقَالَ : ہَذِہِ السَّاعَۃَ فَقَالَ : نَعَمْ فَقَالَ : انْتَظِرْنِی حَتَّی أُفِیضَ عَلَیَّ مَائً فَدَخَلَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَسَارَ بَیْنِی وَبَیْنَ أَبِی فَقُلْتُ لَہُ : إِنْ کُنْتَ تُرِیدُ أَنْ تُصِیبَ السُّنَّۃَ الْیَوْمَ فَأَقْصِرِ الْخُطْبَۃَ وَعَجِّلِ الصَّلاَۃَ فَجَعَلَ یَنْظُرُ إِلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ کَیْمَا یَسْمَعَ ذَلِکَ مِنْہُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ صَدَقَ۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ بُکَیْرٍ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ الْقَعْنَبِیِّ وَغَیْرِہِ وَقَالَ : وَعَجِّلِ الْوُقُوفَ۔

وَقَدْ رُوِّینَا فِی حَدِیثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ إِتْیَانَ النَّبِیِّ -ﷺ الْمَوْقِفَ کَانَ بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ وَقَدْ قَالَ فِی رِوَایَۃِ جَابِرٍ : لِتَأْخُذُوا مَنَاسِکَکُمْ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۷۷]
tahqiq

তাহকীক: