আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৮৮ টি

হাদীস নং: ৯৪৭১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج کو پانے کے لیے وقوف کے وقت کا بیان
(٩٤٦٦) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوٹے اور ان پر سکینت تھی ، انھوں نے لوگوں کو بھی سکون کا حکم دیا اور فرمایا : میری امت مجھ سے حج کے طریقے سیکھ لے، مجھے علم نہیں شاید کہ میں اس سال کے بعد انھیں نہ مل سکوں۔
(۹۴۶۶)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : أَفَاضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ وَعَلَیْہِ السَّکِینَۃُ وَأَمَرَہُمْ بِالسَّکِینَۃِ وَقَالَ : لِتَأْخُذْ أُمَّتِی مَنْسِکَہَا فَإِنِّی لاَ أَدْرِی لَعَلِّی لاَ أَلْقَاہُمْ بَعْدَ عَامِہِمْ ہَذَا ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۹۷۔ ابوداود ۱۹۷۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৭২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج کو پانے کے لیے وقوف کے وقت کا بیان
(٩٤٦٧) عبدالرحمن بن یعمردیلمی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے س ناکہ حج عرفات ہے، حج عرفات ہے، جس نے جمعے کی رات کو صبح ہونے سے پہلے پا لیا اس نے حج کو پا لیا، ایامِ منیٰ تین ہیں جس نے دو دن میں جلدی کی اس پر کوئی گناہ نہیں اور جس نے تاخیر کی اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔
(۹۴۶۷)حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ إِمْلاَئً وقِرَائَ ۃً حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ سَعِیدٍ الثَّوْرِیِّ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَطَائٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَعْمُرَ الدِّیلِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یَقُولُ : ((الْحَجُّ عَرَفَاتٌ الْحَجُّ عَرَفَاتٌ فَمَنْ أَدْرَکَ لَیْلَۃَ جَمْعٍ قَبْلَ أَنْ یَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَکَ أَیَّامُ مِنًی ثَلاَثَۃُ أَیَّامٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِی یَوْمَیْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَیْہِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلاَ إِثْمَ عَلَیْہِ)) ۔ قَالَ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ قُلْتُ لِسُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ : لَیْسَ عِنْدَکُمْ بِالْکُوفَۃِ حَدِیثٌ أَشْرَفُ وَلاَ أَحْسَنُ مِنْ ہَذَا۔

[صحیح۔ ترمذی ۲۹۷۵۔ دارمی ۱۸۸۷۔ ابن حبان ۳۸۹۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৭৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج کو پانے کے لیے وقوف کے وقت کا بیان
(٩٤٦٨) عروہ بن مضرس فرماتے ہیں کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں حج کیا تو لوگوں کو جمع میں پایا۔ وہ رات کے وقت عرفات گئے ، وہاں سے لوٹے حتیٰ کہ جمع آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے اپنے آپ کو اور اپنی اونٹنی کو تھکایا ہے تو کیا میرے لیے حج ہے ؟ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے ہمارے ساتھ صبح کی نماز پڑھی اور ہمارے ساتھ ٹھہرا حتیٰ کہ ہم واپس آئے اور اس سے پہلے عرفات میں رات کو آیا یا دن کو تو اس کا حج پورا ہوگیا۔
(۹۴۶۸)أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا زَکَرِیَّا یَعْنِی ابْنَ أَبِی زَائِدَۃَ عَنْ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنِی عُرْوَۃُ بْنُ مُضَرَّسِ بْنِ أَوَسِ بْنِ حَارِثَۃَ بْنِ لاَمٍ : أَنَّہُ حَجَّ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فَأَدْرَکَ النَّاسَ وَہُمْ بِجَمْعٍ فَانْطَلَقَ إِلَی عَرَفَاتٍ لَیْلاً فَأَفَاضَ مِنْہَا ثُمَّ رَجَعَ إِلَی جَمْعٍ فَأَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتْعَبْتُ نَفْسِی وَأَنْضَیْتُ رَاحِلَتِی فَہَلْ لِی مَنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : ((مَنْ صَلَّی مَعَنَا صَلاَۃَ الْغَدَاۃِ وَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّی نُفِیضَ وَقَدْ أَتَی عَرَفَاتٍ قَبْلَ ذَلِکَ لَیْلاً أَوْ نَہَارًا فَقَدْ تَمَّ حَجَّہُ وَقَضَی تَفَثَہُ))۔

[صحیح۔ نسائی ۳۰۴۱۔ ابن ماجہ ۳۰۱۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৭৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج کو پانے کے لیے وقوف کے وقت کا بیان
(٩٤٦٩) عروہ بن مضرس فرماتے ہیں : میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا ، میں نے کہا : میں جبل طیٔ سے آیا ہوں ، میں نے اپنی سواری کو تھکایا ہے اور خود بھی تھکا ہوں تو کیا میرا حج ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو ہمارے ساتھ عرفہ میں ٹھہرا اس کا حج پورا ہوگیا۔
(۹۴۶۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْبَاقِی بْنُ قَانِعٍ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَالِکٍ الشَّعِیرِیُّ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا عُبَیْدَۃُ بْنُ حُمَیْدٍ حَدَّثَنَا عُرْوَۃُ یَعْنِی أَبَا فَرْوَۃَ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ مُضَرِّسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ فَقُلْتُ : جِئْتُ مِنْ جَبَلِ طَیْئٍ أَتْعَبْتُ رَاحِلَتِی وَأَنْصَبْتُ نَفْسِی فَہَلْ لِی مِنْ حَجٍّ؟ قَالَ : ((مَنْ وَقَفَ مَعَنَا بِعَرَفَۃَ فَقَدْ تَمَّ حَجُّہُ ))۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৭৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ میدانِ عرفات میں عرفہ کا روزہ رکھنا
(٩٤٧٠) امِ فضل بنت حارث فرماتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے عرفہ کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں اختلاف کیا ۔ بعض نے کہا : آپ روزے سے ہیں اور بعض نے کہا کہ نہیں تو انھوں نے آپ کی طرف دودھ کا پیالہ بھیجا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اونٹ پر سوار تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ نوش فرمایا۔
(۹۴۷۰)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا الثَّوْرِیُّ وَمَالِکٌ عَنْ أَبِی النَّضْرِ۔

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِیمَا قَرَأَ عَلَیْہِ عَنْ أَبِی النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ عُمَیْرٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ : أَنَّ نَاسًا اخْتَلَفُوا عِنْدَہَا یَوْمَ عَرَفَۃَ فِی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فَقَالَ بَعْضُہُمْ : ہُوَ صَائِمٌ وَقَالَ بَعْضُہُمْ : لَیْسَ بِصَائِمٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَیْہِ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ وَہُوَ وَاقِفٌ عَلَی بَعِیرِہِ بِعَرَفَۃَ فَشَرِبَہُ لَفْظُ حَدِیثِ الْقَعْنَبِیِّ وَفِی رِوَایَۃِ رَوْحٍ : تَمَارَوْا وَقَالَ : فَشَرِبَ وَہُوَ بِعَرَفَۃَ یَخْطُبُ النَّاسَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ۔

[صحیح۔ بخاری ۱۵۷۸۔ مسلم ۱۱۲۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৭৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ میدانِ عرفات میں عرفہ کا روزہ رکھنا
(٩٤٧١) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میدانِ عرفات میں عرفہ کا روزہ رکھنے سے منع کیا۔
(۹۴۷۱)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ الْکَلْبِیُّ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنْ حَوْشَبِ بْنِ عَقِیلٍ عَنْ مَہْدِیٍّ الْہَجَرِیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ عَنْ صَوْمِ یَوْمِ عَرَفَۃَ بِعَرَفَۃَ۔

کَذَا قَالَ الْحَارِثُ بْنُ عُبَیْدٍ وَالْمَحْفُوظُ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ [منکر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৭৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ میدانِ عرفات میں عرفہ کا روزہ رکھنا
(٩٤٧٢) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میدان عرفات میں عرفہ کا روزہ رکھنے سے منع کیا۔
(۹۴۷۲)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَوْشَبُ بْنُ عَقِیلٍ عَنْ مَہْدِیٍّ الْہَجَرِیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ : کُنَّا عِنْدَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فَحَدَّثَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ : أَنَّہُ نَہَی عَنْ صَوْمِ یَوْمِ عَرَفَۃَ بِعَرَفَۃَ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ عَنْ حَوْشَبٍ وَفِی حَدِیثِ أُمِّ الْفَضْلِ کِفَایَۃٌ۔

[منکر۔ ابوداود ۲۴۴۰۔ ابن ماجہ، حاکم ۱/ ۴۲۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৭৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ افضل ترین دعا عرفہ کے دن کی ہے
(٩٤٧٣) طلحہ بن عبیداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : افضل ترین دعا عرفہ کے دن کی ہے اور افضل بات جو میں نے اور مجھ سے پہلے نبیوں نے کہی وہ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ہے۔
(۹۴۷۳)أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ زِیَادِ بْنِ أَبِی زِیَادٍ مَوْلَی ابْنِ عَیَّاشٍ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ کَرِیزٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَالَ : ((أَفْضَلُ الدُّعَائِ دُعَائُ یَوْمَ عَرَفَۃَ وَأَفْضَلُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِیُّونَ مَنْ قَبْلِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ)) ۔ ہَذَا مُرْسَلٌ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ مَالِکٍ بِإِسْنَادٍ آخَرَ مُوَصَّلاً وَوَصْلُہُ ضَعِیفٌ۔ [حسن لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৭৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ افضل ترین دعا عرفہ کے دن کی ہے
(٩٤٧٤) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عرفہ میں دیکھا ، آپ ہاتھ ایسی سینے کی طرف اٹھا کر دعا مانگ رہے تھے جیسے مسکین کھانا مانگتا ہے۔
(۹۴۷۴)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِیدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ حُسَیْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْہَاشِمِیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یَدْعُو بِعَرَفَۃَ یَدَاہُ إِلَی صَدْرِہِ کَاسْتِطْعَامِ الْمِسْکِینِ۔

[ضعیف۔ المعجم الاوسط للطبرانی ۲۸۹۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৮০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ افضل ترین دعا عرفہ کے دن کی ہے
(٩٤٧٥) علی بن ابی طالب (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی عرفہ میں زیادہ تر دعا یہ ہے : ترجمہ : ” اللہ کے علاوئہ کوئی الٰہ نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے۔ اے اللہ ! میرے دل، سماعت، بصارت میں نور بنا دے، اے اللہ ! میرا سینہ کھول دے اور میرا معاملہ آسان کر دے ۔ میں سینے کے وسوسوں سے پناہ مانگتا ہوں اور معاملوں کے بکھرنے اور قبر کے فتنہ سے۔ میں دن اور رات میں داخل ہونے والے کے شر سے پناہ مانگتا ہوں اور زمانے کی مصیبتوں اور جس چیز کے ساتھ ہوا چلتی ہے اس کے شر سے۔

ابو شعبہ سے روایت ہے : کہ میں نے ابن عمر (رض) پر اپنی نظر جمائے رکھی جب وہ عرفہ میں تھے ، جو وہ پڑھ رہے تھے، میں اس کو سن رہا تھا، فرماتے ہیں کہ انھوں نے لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیر سے زیادہ کچھ نہیں پڑھا۔
(۹۴۷۵)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَبُو الشَّیْخِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الدَّوْرَقِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ عَنْ أَخِیہِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُبَیْدَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : ((أَکْثَرُ دُعَائِی وَدُعَائِ الأَنْبِیَائِ قَبْلِی بِعَرَفَۃَ لاَ إِلَہ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ اللَّہُمَّ اجْعَلْ فِی قَلْبِی نُورًا وَفِی سَمْعِی نُورًا وَفِی بَصَرِی نُورًا اللَّہُمَّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَیَسِّرْ لِی أَمْرِی وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ وَسْوَاسِ الصَّدْرِ وَشَتَاتِ الأَمْرِ وَفِتْنَۃِ الْقَبْرِ اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا یَلِجُ فِی اللَّیْلِ وَشَرِّ مَا یَلِجُ فِی النَّہَارِ وَشَرِّ مَا تَہُبُّ بِہِ الرِّیَاحُ وَمِنْ شَرِّ بَوَائِقِ الدَّہْرِ)) ۔

تَفَرَّدَ بِہِ مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ وَہُوَ ضَعِیفٌ وَلَمْ یُدْرِکْ أَخُوہُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔

وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی شُعْبَۃَ أَنَّہُ قَالَ : رَمَقْتُ ابْنَ عُمَرَ وَہُوَ بِعَرَفَۃَ لأَسْمَعَ مَا یَدْعُو قَالَ فَمَا زَادَ عَلَی أَنْ قَالَ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ۔[ضعیف۔ ابن ابی شیبہ ۱۵۱۳۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৮১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کا دن میدانِ عرفات کے علاوہ کہیں اور گزارنے کا بیان
(٩٤٧٦) ابوعوانہ کہتے ہیں کہ میں نے حسن بصری (رض) کو عرفہ کے دن عصر کے بعد دیکھا ، انھوں نے اللہ سے دعا مانگی ۔ ذکر کیا تو لوگ ان کے پاس جمع ہوگئے۔

اور مسلم کی روایت میں ہے کہ میں نے حسین کو دیکھا کہ وہ یوم عرفہ کو اپنے حجرہ (پردے والی جگہ) سے عصر کے بعد نکلے تو بیٹھ گئے تو پہچان لیے گئے۔
(۹۴۷۶)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ ہَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ قَالَ : رَأَیْتُ الْحَسَنَ الْبَصْرِیَّ یَوْمَ عَرَفَۃَ بَعْدَ الْعَصْرِ جَلَسَ فَدَعَا وَذَکَرَ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ۔ وَفِی رِوَایَۃِ مُسْلِمٍ : رَأَیْتُ الْحَسَنَ خَرَجَ یَوْمَ عَرَفَۃَ مِنَ الْمَقْصُورَۃِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَعَدَ فَعُرِفَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৮২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کا دن میدانِ عرفات کے علاوہ کہیں اور گزارنے کا بیان
(٩٤٧٧) شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حکم اور حماد سے عرفہ کے دن لوگوں کے مسجدوں میں جمع ہونے کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے کہا : یہ بدعت ہے۔

ابراہیم سے مروی ہے کہ یہ بدعت ہے اور قتادہ سے بواسطہ حسن منقول ہے کہ سب سے پہلے یہ کام ابن عباس (رض) نے کیا۔
(۹۴۷۷)أَخْبَرَنَا الشَّرِیفُ أَبُو الْفَتْحِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی شُرَیْحٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ وَحَمَّادًا عَنِ اجْتِمَاعِ النَّاسِ یَوْمَ عَرَفَۃَ فِی الْمَسَاجِدِ فَقَالاَ : ہُوَ مُحْدَثٌ۔ وَعَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ قَالَ ہُوَ مُحْدَثٌ۔

وَعَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : أَوَّلُ مَنْ صَنَعَ ذَلِکَ ابْنُ عَبَّاسٍ۔ [صحیح۔ ابن الجعد ۲۷۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৮৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کی فضیلت کا بیان
(٩٤٧٨) عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عمر (رض) سے کہا : اے امیر المومنین ! ایک آیت جسے آپ اپنی کتاب میں پڑھتے ہو اگر ہم یہودیوں پر اترتی تو ہم اس دن عید مناتے ۔ آپ نے پوچھا : وہ کون سی آیت ہے ؟ اس نے کہا :” آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کرلیا ہے، تو عمر (رض) نے فرمایا : ہم اس دن کو جانتے ہیں اور اس جگہ کو بھی جہاں یہ آیت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی، یہ آیت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر میدان عرفات میں جمعہ کے دن نازل ہوئی۔
(۹۴۷۸)حَدَّثَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الظُّفُرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحُسَیْنِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاتِی بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ أَبِی الْعُمَیْسِ عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ آیَۃٌ فِی کِتَابِکُمْ تَقْرَئُ ونَہَا لَوْ عَلَیْنَا مَعْشَرَ الْیَہُودِ نَزَلَتْ لاَتَّخَذْنَا ذَلِکَ الْیَوْمَ عِیدًا فَقَالَ : أَیُّ آیَۃٍ؟ قَالَ: {الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِینًا} فَقَالَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: قَدْ عَرَفْنَا ذَلِکَ الْیَوْمَ وَالْمَکَانَ الَّذِی أُنْزِلَتْ فِیہِ نَزَلَتْ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ بِعَرَفَاتٍ یَوْمَ جُمُعَۃٍ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الصَّبَّاحِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ جَمِیعًا عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَوْنٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۵۔ مسلم ۳۰۱۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৮৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کی فضیلت کا بیان
(٩٤٧٩) طارق بن شہاب فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نے عمر بن خطاب (رض) سے کہا : اگر کاش یہ آیت { الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ ۔۔۔ الخ } ہم یہودیوں پر اترتی تو ہم اس دن کو عید مناتے تو عمر (رض) نے فرمایا : مجھے اس جگہ دن اور وقت کا علم ہے، جب یہ آیت نازل ہوئی تھی۔ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی جب کہ ہم عرفہ میں تھے اور جمعہ کی رات تھی۔
(۹۴۷۹)وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ قَالَ قَالَ یَہُودِیٌّ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَمَا لَوْ عَلَیْنَا مَعْشَرَ الْیَہُودِ نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ: {الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِینًا}۔ نَعْلَمُ الْیَوْمَ الَّذِی نَزَلَتْ فِیہِ لاَتَّخَذْنَا ذَلِکَ الْیَوْمَ عِیدًا۔ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : قَدْ عَلِمْتُ الْمَوْضِعَ الَّذِی نَزَلَتْ فِیہِ وَالْیَوْمَ وَالسَّاعَۃَ نَزَلَتْ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ وَنَحْنُ بِعَرَفَۃَ عَشِیَّۃَ جُمُعَۃٍ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ إِدْرِیسَ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৮৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کی فضیلت کا بیان
(٩٤٨٠) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یوم عرفہ سے زیادہ اور کسی دن اللہ تعالیٰ بندوں کو جہنم سے آزاد نہیں کرتا۔ وہ قریب ہوتا ہے اور فرشتوں پر فخر کرتا ہے اور کہتا ہے : یہ لوگ کس لیے آئے ہیں ؟
(۹۴۸۰)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُنْقِذٍ الْخَوْلاَنِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ مَخْرَمَۃَ بْنِ بُکَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ یُونُسَ بْنَ یُوسُفَ یُحَدِّثُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ المُسَیَّبِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَالَ : ((مَا مِنْ یَوْمٍ أَکْثَرَ أَنْ یُعْتِقَ اللَّہُ فِیہِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ یَوْمِ عَرَفَۃَ وَإِنَّہُ لَیَدْنُو ثُمَّ یُبَاہِی المَلاَئِکَۃَ فَیَقُولُ : مَا أَرَادَ ہَؤُلاَئِ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ سَعِیدٍ وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۴۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৮৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کی فضیلت کا بیان
(٩٤٨١) عباس بن مرداس فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفہ کی رات اپنی امت کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی تو خوب دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف وحی کی کہ میں نے یہ کام کردیا ہے کہ میرے اور ان کے درمیان جو گناہ ہیں وہ معاف کیے ، لیکن ان کا ظلم معاف نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! تو اس بات پر قادر ہے کہ اس مظلوم کو اس کے ظلم سے بہتر ثواب دے دے اور اس ظالم کو معاف کر دے تو یہ دعا اس رات قبول نہ ہوئی۔ جب مزدلفہ کی صبح ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دعا پھر دہرائی تو اللہ تعالیٰ نے قبول فرماتے ہوئے کہا : میں نے ان کو معاف کردیا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرا دیے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ نے پوچھا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسے وقت میں مسکرائے ہیں کہ اس وقت پہلے نہیں مسکرائے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اللہ کے دشمن ابلیس پر مسکرا رہا ہوں کہ جب اس کو پتہ چلا کہ میری امت کے بارے میں میری دعا قبول ہوگئی ہے تو وہ ہلاکت و بربادی کی بدعا کرنے لگا اور اپنے سر پر مٹی ڈالنے لگا۔
(۹۴۸۱)أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِی عِیسَی الْہِلاَلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاہِرِ بْنُ السَّرِیِّ حَدَّثَنِی ابْنٌ لِکِنَانَۃَ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ السُّلَمِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ دَعَا عَشِیَّۃَ عَرَفَۃَ لأُمَّتِہِ بِالْمَغْفِرَۃِ وَالرَّحْمَۃِ فَأَکْثَرَ الدُّعَائَ فَأَوْحَی اللَّہُ تَعَالَی إِلَیْہِ : إِنِّی قَدْ فَعَلْتُ إِلاَّ ظُلْمَ بَعْضِہِمْ بَعْضًا وَأَمَّا ذُنُوبَہُمْ فِیمَا بَیْنِی وَبَیْنَہُمْ فَقَدْ غَفَرْتُہَا فَقَالَ : یَا رَبِّ إِنَّکَ قَادِرٌ عَلَی أَنْ تُثِیبَ ہَذَا الْمَظْلُومَ خَیْرًا مِنْ مَظْلَمَتِہِ وَتَغْفِرَ لِہَذَا الظَّالِمِ ۔ فَلَمْ یُجِبْہُ تِلْکَ الْعَشِیَّۃَ فَلَمَّا کَانَ غَدَاۃَ الْمُزْدَلِفَۃِ أَعَادَ الدُّعَائَ فَأَجَابَہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنِّی قَدْ غَفَرْتُ لَہُمْ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ فَقَالَ لَہُ بَعْضُ أَصْحَابِہِ : یَا رَسُولَ اللَّہِ تَبَسَّمْتَ فِی سَاعَۃٍ لَمْ تَکُنْ تَبَسَّمُ فِیہَا قَالَ : تَبَسَّمْتُ مِنْ عَدُوِّ اللَّہِ إِبْلِیسَ إِنَّہُ لَمَّا عَلِمَ أَنَّ اللَّہَ قَدِ اسْتَجَابَ لِی فِی أُمَّتِی أَہْوَی یَدْعُو بِالْوَیْلِ وَالثُّبُورِ وَیَحْثُو التُّرَابَ عَلَی رَأْسِہِ۔ [ضعیف۔ ابن ماجہ ۳۰۱۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৮৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپس آنے والا کیا کرے ؟
(٩٤٨٢) جابر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج کے بارے میں فرماتے ہیں کہ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہیں کھڑے رہے حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا اور کچھ زردی بھی غائب ہوگئی تو آپ (رض) نے اسامہ بن زید کو اپنے پیچھے سوار کیا اور وہاں سے نکلے اور قصواء کی مہار کو کھینچ لیا حتیٰ کہ اس کا سر کجاوے کے کونے کے ساتھ لگنے لگا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے دائیں ہاتھ سے کہہ رہے تھے : آرام سے ، آرام سے، جب بھی کسی پہاڑی پر آتے تو تھوڑا سا ڈھیل دے دیتے حتیٰ کہ وہ چڑھ جاتی۔
(۹۴۸۲)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ وَأَبُو بَکْرٍ الْوَرَّاقُ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی حَجِّ النَّبِیِّ -ﷺ قَالَ : فَلَمْ یَزَلْ وَاقِفًا حَتَّی غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَذَہَبَتِ الصُّفْرَۃُ قَلِیلاً حِینَ غَابَ الْقُرْصُ أَرْدَفَ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ خَلْفَہُ فَدَفَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ وَقَدْ شَنَقَ لِلْقَصْوَائِ الزِّمَامَ حَتَّی إِنَّ رَأْسَہَا لَیُصِیبُ مَوْرِکَ رَحْلِہِ وَیَقُولُ بِیَدِہِ یَعْنِی الْیُمْنَی : السَّکِینَۃَ السَّکِینَۃَ ۔ کُلَّمَا أَتَی حَبْلاً مِنَ الْحِبَالِ أَرْخَی لَہَا قَلِیلاً حَتَّی تَصْعَدَ حَتَّی أَتَی الْمُزْدَلِفَۃَ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৮৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپس آنے والا کیا کرے ؟
(٩٤٨٣) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفہ سے نکلتے ہوئے دیکھا اور لوگ بھاگ رہے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو ! آرام سے چلو نیکی دوڑنے سے حاصل نہیں ہوتی۔
(۹۴۸۳) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِی عَمْرٍو عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ الْتَفَتَ بِعَرَفَۃَ فِی النَّفَرِ وَالنَّاسِ یَضْرِبُونَ فَقَالَ: ((السَّکِینَۃَ أَیُّہَا النَّاسُ فَإِنَّ الْبِرَّ لَیْسَ بِالإِیضَاعِ))۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سُوَیْدٍ عَنْ عَمْرٍو أَتَمَّ مِنْ ذَلِکَ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۸۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৮৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپس آنے والا کیا کرے ؟
(٩٤٨٤) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفہ سے انتہائی آرام و سکون کے ساتھ لوٹے اور آپ کے پیچھے اسامہ بیٹھے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو ! تم سکون کو لازم پکڑو ، نیکی اونٹ گھوڑے دوڑانے سے نہیں ہے۔

فرماتے ہیں : پس میں نے (آپ کی سواری) کو نہیں دیکھا کہ وہ پاؤں کو اٹھا کر چلتی ہو (یعنی دوڑتی ہو) حتیٰ کہ آپ منیٰ پہنچ گئے۔
(۹۴۸۴)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ سَعِیدٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَفَاضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مِنْ عَرَفَۃَ وَعَلَیْہِ السَّکِینَۃُ وَرَدِیفُہُ أُسَامَۃُ فَقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ عَلَیْکُمْ بِالسَّکِینَۃِ فَإِنَّ الْبِرَّ لَیْسَ بِإِیجَافِ الْخَیْلِ وَالإِبِلِ ۔ قَالَ : فَمَا رَأَیْتُہَا رَافِعَۃً یَدَیْہَا عَادِیَۃً حَتَّی أَتَی جَمْعًا۔

[صحیح۔ ابوداود ۱۹۳۰۔ طیالسی: ۲۷۰۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৯০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپس آنے والا کیا کرے ؟
(٩٤٨٥) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اسامہ بن زید (رض) نے کہا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفہ سے لوٹے اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے سوار تھا۔ آپ اپنی اونٹنی کی مہار کو کھینچتے حتیٰ کہ قریب تھا کہ اس کی گردن کے بال کجاوے کے اگلے حصے کو لگتے اور آپ فرما رہے تھے : اے لوگو ! تم سکون اور وقار کو لازم پکڑو ، نیکی اونٹوں کو دوڑانے میں نہیں ہے۔
(۹۴۸۵)وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِیلِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ۔

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ أَخْبَرَنَا سُرَیْجُ بْنُ النُّعْمَانِ الْجَوْہِرِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : أَفَاضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مِنْ عَرَفَۃَ وَأَنَا رَدِیفُہُ فَجَعَلَ یَکْبَحُ رَاحِلَتَہُ حَتَّی إِنَّ ذِفْرَیْہَا لِتَکَادُ تُصِیبُ قَادِمَۃَ الرَّحْلِ وَہُوَ یَقُولُ : ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ عَلَیْکُمُ السَّکِینَۃَ وَالْوَقَارَ فَإِنَّ الْبِرَّ لَیْسَ بِإِیضَاعِ الإِبِلِ)) ۔

[صحیح۔ احمد ۵/۱۰۷۔ نسائی ۳۰۱۸]
tahqiq

তাহকীক: