আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৮৮ টি

হাদীস নং: ৯৪৯১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپس آنے والا کیا کرے ؟
(٩٤٨٦) عروہ فرماتے ہیں کہ اسامہ بن زید (رض) سے پوچھا گیا جب کہ میں بھی بیٹھا ہوا تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجۃ الوداع کے موقع پر واپسی آتے ہوئے کیسے چلتے تھے ؟ تو انھوں نے کہا : درمیانی چال چلتے تھے اور جب کھلی جگہ آتی تو سواری کو دوڑاتے۔

ہشام بیان کرتے ہیں کہ نص (تیز دوڑنا) عنق (درمیانی رفتار) سے زیادہ بلند ہے۔
(۹۴۸۶)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : سُئِلَ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَأَنَا جَالِسٌ کَیْفَ کَانَ یَسِیرُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ حِینَ دَفَعَ؟ فَقَالَ : کَانَ یَسِیرُ الْعَنَقَ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَۃً نَصَّ۔

قَالَ ہِشَامٌ : النَّصُّ أَرْفَعُ مِنَ الْعَنَقِ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ۔

[صحیح۔ بخاری ۱۵۸۳۔ مسلم ۱۲۸۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৯২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے مازمین والے راستے پر چلنا پسند کیا ضب والے راستے کو چھوڑ کر اور مغرب کو عشا تک مؤخر کیا حتیٰ کہ مزدلفہ آپہنچا
(٩٤٨٧) اسامہ بن زید فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے عرفات سے سوار ہوا تو جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مزدلفہ سے پہلے جائیں گھاٹی پر پہنچے تو سواری کو بٹھا دیا اور پیشاب کیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو میں نے آپ کو وضو کروایا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہلکا پھلکا وضو کیا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! نماز، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز آپ کے آگے ہے، آپ سوار ہوئے حتیٰ کہ مزدلفہ آئے، نماز پڑھی۔ پھر جمع کی صبح کو فضل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف ہوئے، کریب کہتے ہیں : مجھے ابن عباس (رض) نے فضل سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تلبیہ کہتے رہے حتیٰ کہ جمرہ عقبہ کو مارا۔

شعب (گھاٹی) وہ جگہ ہے (جس میں) امراء داخل ہوتے ہیں۔
(۹۴۸۷)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ۔

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الصُّوفِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی حَرْمَلَۃَ عَنْ کُرَیْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : رَدِفْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ مِنْ عَرَفَاتٍ فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ الشِّعْبَ الأَیْسَرَ الَّذِی دُونَ الْمُزْدَلِفَۃِ أَنَاخَ فَبَالَ ثُمَّ جَائَ فَصَبَبْتُ عَلَیْہِ الْوَضُوئَ فَتَوَضَّأَ وُضُوئً ا خَفِیفًا ثُمَّ قُلْتُ : الصَّلاَۃُ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَقَالَ : ((الصَّلاَۃُ أَمَامَکَ)) ۔ فَرَکِبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ حَتَّی أَتَی الْمُزْدَلِفَۃَ فَصَلَّی ثُمَّ رَدِفَ الْفَضْلُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ غَدَاۃَ جَمْعٍ قَالَ کُرَیْبٌ فَأَخْبَرَنِی ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ لَمْ یَزَلْ یُلَبِّی حَتَّی رَمْی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَیَحْیَی بْنِ أَیُّوبَ وَغَیْرِہِمَا۔ وَرَوَاہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ عُقْبَۃَ عَنْ کُرَیْبٍ فَقَالَ: الشِّعْبِ الَّذِی یَدْخُلُہُ الأُمَرَائُ ۔

[صحیح۔ بخاری ۱۰۸۶۔ مسلم ۱۲۸۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৯৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے مازمین والے راستے پر چلنا پسند کیا ضب والے راستے کو چھوڑ کر اور مغرب کو عشا تک مؤخر کیا حتیٰ کہ مزدلفہ آپہنچا
(٩٤٨٨) اسامہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا، جب آپ اس گھاٹی کے پاس پہنچے جس میں امراء داخل ہوتے ہیں تو وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا۔ میں نے کہا : نماز ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز تیرے آگے ہے۔ جب مزدلفہ آئے تو اقامت کہی اور مغرب کی نماز پڑھی ، ابھی آخری لوگ نہ پہنچے تھے کہ اقامت کہی اور عشا کی نماز پڑھی۔
(۹۴۸۸) ۔أَخْبَرَنَاہ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عُبَیْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَہْدِیٍّ الْقُشَیْرِیُّ لَفْظًا قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ أَبُو مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ کُرَیْبٍ عَنْ أُسَامَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فَلَمَّا انْتَہَی إِلَی الشِّعْبِ الَّذِی یَدْخُلُہُ الأُمَرَائُ دَخَلَہُ فَدَعَا بِمَائٍ فَتَوَضَّأَ فَقُلْتُ : الصَّلاَۃُ فَقَالَ : ((الصَّلاَۃُ أَمَامَکَ))۔ فَلَمَّا أَتَی الْمُزْدَلِفَۃَ أَقَامَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ فَلَمْ یَحِلَّ آخِرُ النَّاسِ حَتَّی أَقَامَ الصَّلاَۃَ فَصَلَّی الْعِشَائَ ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৯৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے مازمین والے راستے پر چلنا پسند کیا ضب والے راستے کو چھوڑ کر اور مغرب کو عشا تک مؤخر کیا حتیٰ کہ مزدلفہ آپہنچا
(٩٤٨٩) کریب کہتے ہیں کہ میں نے اسامہ بن زید (رض) سے پوچھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب عرفہ سے لوٹے تو انھوں نے کیسے کیا : تو انھوں نے کہا : عرفہ سے لوٹے حتیٰ کہ جب گھاٹی کے قریب آئے تو اس کی طرف مائل ہوئے ، اترے اور پیشاب کیا ، میں آپ کے پاس پانی لایا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہلکا سا وضو کیا تو میں نے کہا : کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز نہیں پڑھنی ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز تیرے آگے ہے، پھر سوار ہوئے حتیٰ کہ جمع میں پہنچے، اترے اور نماز کے لیے وضو کیا ۔ پھر مغرب کی نماز تین رکعتیں اور عشا کی نماز دو رکعتیں ادا کیں اور ان کے درمیان کوئی نوافل وغیرہ نہ پڑھے۔
(۹۴۸۹)وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَیْبٍ الْبَزْمَہْرَانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ کُرَیْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ : سَأَلْتُ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ کَیْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ حِینَ دَفَعَ مِنْ عَرَفَۃَ؟ فَقَالَ : دَفَعَ مِنْ عَرَفَۃَ حَتَّی إِذَا کَانَ عِنْدَ الشِّعْبِ عَدَلَ إِلَیْہِ فَنَزَلَ فَبَالَ فَأَتَیْتُہُ بِمَائٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوئً ا خَفِیفًا فَقُلْتُ : أَلاَ تُصَلِّی فَقَالَ : ((الصَّلاَۃُ أَمَامَکَ))۔ ثُمَّ رَکِبَ حَتَّی أَتَی جَمْعًا وَنَزَل فَتَوَضَّأَ وُضُوئَ ہُ لِلصَّلاَۃِ ثُمَّ صَلَّی صَلاَۃَ الْمَغْرِبِ ثَلاَثَ رَکَعَاتٍ ثُمَّ صَلَّی صَلاَۃَ الْعِشَائِ رَکْعَتَیْنِ وَلَمْ یَکُنْ بَیْنَہُمَا سُبْحَۃٌ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৯৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں دو نمازیں جمع کرنا
(٩٤٩٠) حضرت ابوایوب انصاری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع کے موقع پر مغرب اور عشا مزدلفہ میں جمع کی۔
(۹۴۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : جَعْفَرُ بْنُ ہَارُونَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ النَّحْوِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ صَدَقَۃَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ أَخْبَرَنِی عَدِیُّ بْنُ ثَابِتٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْخَطْمِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو أَیُّوبَ الأَنْصَارِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ صَلَّی فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ الآخِرَۃَ بِالْمُزْدَلِفَۃِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَخْلَدٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۹۰۔ مسلم ۱۲۸۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৯৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں دو نمازیں جمع کرنا
(٩٤٩١) ابوایوب (رض) فرماتے ہیں کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حجۃ الوداع میں مغرب و عشاء مزدلفہ میں اکٹھی پڑھی۔
(۹۴۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ أَخْبَرَنِی عَدِیُّ بْنُ ثَابِتٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ یَزِیدَ الْخَطْمِیَّ حَدَّثَہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ علی مَالِکٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ الْخَطْمِیِّ أَنَّ أَبَا أَیُّوبَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَخْبَرَہُ : أَنَّہُ صَلَّی مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِالْمُزْدَلِفَۃِ جَمِیعًا لَمْ یَذْکُرْ فِی رِوَایَۃِ سُلَیْمَانَ جَمِیعًا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ سُلَیْمَانَ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৯৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں دو نمازیں جمع کرنا
(٩٤٩٢) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب اور عشاء اکٹھی کر کے مزدلفہ میں ادا کی۔
(۹۴۹۲)وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا مَالِکٌ۔

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ صَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِالْمُزْدَلِفَۃِ جَمِیعًا۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ مسلم ۷۰۳۔ مالک ۸۹۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৯৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ ہر نماز کے لیے علیحدہ علیحدہ اقامت کہہ کر جمع کرنا
(٩٤٩٣) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب اور عشاء مزدلفہ میں جمع کیں اور ان دونوں کے درمیان اذان نہیں دی ، صرف اقامت ہی کہی اور دونوں کے درمیان کوئی نفل نماز نہیں پڑھی اور نہ بعد میں۔

امام بخاری (رح) نے اپنی صحیح میں ابن ابی ذوئب سے روایت نقل کی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب اور عشاء کو اکٹھا کیا ہر ایک کے لیے الگ الگ اقامت کہی۔
(۹۴۹۳)أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ صَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِالْمُزْدَلِفَۃِ جَمِیعًا قَالَ ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ فِی الْحَدِیثِ : لَمْ یُنَادِ فِی کُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا إِلاَّ بِإِقَامَۃٍ وَلَمْ یُسَبِّحْ بَیْنَہُمَا وَلاَ عَلَی أَثَرِ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : جَمَعَ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِجَمْعٍ کُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا بِإِقَامَۃٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۸۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৯৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ ہر نماز کے لیے علیحدہ علیحدہ اقامت کہہ کر جمع کرنا
(٩٤٩٤) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں نمازوں کو مزدلفہ میں الگ الگ اقامت کے ساتھ جمع کر کے پڑھا ان میں سے کسی نماز سے پہلے یا بعد میں کوئی نفل نہیں پڑھا۔
(۹۴۹۴)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمِ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ جَمَعَ بَیْنَہُمَا بِالْمُزْدَلِفَۃِ وَصَلَّی کُلَّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا بِإِقَامَۃٍ وَلَمْ یَتَطَوَّعْ قَبْلَ کُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا وَلاَ بَعْدَہَا۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫০০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ ہر نماز کے لیے علیحدہ علیحدہ اقامت کہہ کر جمع کرنا
(٩٤٩٥) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب و عشاء کو جمع کیا اور ہر ایک کے لیے اقامت کہی۔

اس حدیث میں راویوں کا اختلاف کتاب الصلاۃ میں گزر چکا ہے۔
(۹۴۹۵)وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَمَّامِیِّ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَلِیٍّ الْخُطَبِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ جَمَعَ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ وَأَقَامَ لِکُلِّ وَاحِدَۃٍ۔ وَقَدْ مَضَی فِی کِتَابِ الصَّلاَۃِ اخْتِلاَفُ الرُّوَاۃِ فِیہِ عَلَی سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫০১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ ہر نماز کے لیے علیحدہ علیحدہ اقامت کہہ کر جمع کرنا
(٩٤٩٦) ابن عمر (رض) نے مغرب و عشاء مزدلفہ میں جمع کی تو ان سے کہا گیا : اے ابو عبدالرحمن ! یہ کیسی نماز ہے ؟ تو انھوں نے کہا : میں نے یہ دونوں نمازیں مغرب کی تین رکعتیں اور عشا کی دو رکعتیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اس جگہ پر ایک اقامت کے ساتھ جمع کی تھیں۔
(۹۴۹۶)أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی الْبِرْتِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانَ۔

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ جَمَعَ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ بِجَمْعٍ فَقِیلَ لَہُ : مَا ہَذِہِ الصَّلاَۃُ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ : صَلَّیْتُہُمَا صَلاَۃَ الْمَغْرِبِ ثَلاَثًا وَالْعِشَائَ رَکْعَتَیْنِ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فِی ہَذَا الْمَکَانِ بِإِقَامَۃٍ وَاحِدَۃٍ۔ لَفْظُ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۸۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫০২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ ان دونوں کو ایک اذان ادا دو اق امتوں کے ساتھ جمع کرنا
(٩٤٩٧) جابر بن عبداللہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج کے بارے میں فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مزدلفہ آئے ، وہاں مغرب اور عشا ایک اذان اور دو اق امتوں کے ساتھ پڑھی اور ان کے درمیان کچھ نہ پڑھا۔
(۹۴۹۷)أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ وَأَبُو بَکْرٍ الْوَرَّاقُ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی حَجِّ النَّبِیِّ -ﷺ قَالَ : حَتَّی أَتَی الْمُزْدَلِفَۃَ فَصَلَّی بِہَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَیْنِ وَلَمْ یُصَلِّ بَیْنَہُمَا شَیْئًا۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫০৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے دونوں نمازوں کے درمیان نفلی نماز سے یا کچھ کھا کر فصل کیا اور ان میں سے ہر ایک کے لیے اذان اور اقامت کہی
(٩٤٩٨) عبدالرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ میں ابن مسعود (رض) کے ساتھ مکہ گیا تو وہ تلبیہ کہتے رہے ، ان کو عرفہ کی رات ایک اعرابی نے سنا تو کہا : یہ کون ہے جو اس جگہ تلبیہ کہتا ہے ؟ میں نے ابن مسعود (رض) کو تلبیہ کہتے سنا ، وہ کہہ رہے تھے لبیک مٹی کے ذروں کے برابر لبیک، میں نے ان کو اس طرح سے پہلے یا بعد میں تلبیہ کہتے نہیں سنا، پھر ہم جمع پہنچے تو انھوں نے ہمیں دو نمازیں پڑھائیں ۔ ہر ایک ایک اذان اور اقامت کے ساتھ اور ان دونوں کے درمیان شام کا کھانا کھایا، پھر جب فجر طلوع ہوئی تو فجر کی نماز پڑھائی اور کہا : یقیناً رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ دو نمازیں اس جگہ پر اپنے وقت سے پھرجاتی ہیں ، یعنی مغرب اور فجر لوگ مزدلفہ میں نہ آئیں حتیٰ کہ عشا کرلیں اور فجر کی نماز اس وقت میں پڑھائی ، پھر ٹھہرے حتیٰ کہ روشنی ہوگئی پھر فرمایا : اگر امیرالمومنین یعنی عثمان (رض) اب لوٹ جائیں تو وہ سنت کو پالیں گے۔ مجھے علم نہیں کہ انھوں نے یہ بات پہلے کہی یا عثمان پہلے لوٹے۔ پھر تلبیہ ختم نہیں کیا حتیٰ کہ جمرہ عقبہ کی رمی ا نحر والے دن کی۔

ہم کتاب الصلاۃ میں عن الاسود عن عمر بن الخطاب اس کو بیان کر آئے ہیں کہ انھوں نے اس طرح کیا تھا۔
(۹۴۹۸)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِیِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ یَعْنِی ابْنَ خَالِدٍ الْوَہْبِیَّ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ إِلَی مَکَّۃَ فَلَمْ یَزَلْ یُلَبِّی فَسَمِعَہُ أَعْرَابِیٌّ عَشِیَّۃَ عَرَفَۃَ فَقَالَ : مَنْ ہَذَا الَّذِی یُلَبِّی فِی ہَذَا الْمَکَانِ؟ فَسَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ یُلَبِّی یَقُولُ : لَبَّیْکَ عَدَدَ التُّرَابِ لَبَّیْکَ مَا سَمِعْتُہُ قَالَہَا قَبْلَہَا وَلاَ بَعْدَہَا ثُمَّ قَدِمْنَا جَمْعًا فَصَلَّی بِنَا الصَّلاَتَیْنِ کُلَّ صَلاَۃٍ وَحْدَہَا بِأَذَانٍ وَإِقَامَۃٍ وَالْعَشَائَ بَیْنَہُمَا ثُمَّ صَلَّی الْفَجْرَ حِینَ طَلَعَ الْفَجْرُ وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَالَ : ((إِنَّ ہَاتَیْنِ الصَّلاَتَیْنِ تُحَوَّلاَنِ عَنْ وَقْتِہِمَا فِی ہَذَا الْمَکَانِ)) یَعْنِی الْمَغْرِبَ وَالْفَجْرَ ((فَمَا یَقْدَمُ النَّاسُ جَمْعًا حَتَّی یُعْتِمُوا)) ۔ وَصَلَّی الْفَجْرَ ہَذِہِ السَّاعَۃَ ثُمَّ وَقَفَ حَتَّی أَسْفَرَ فَقَالَ : لَوْ أَنَّ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینِ یَعْنِی عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ أَفَاضَ الآنَ لَقَدْ أَصَابَ السُّنَّۃَ فَمَا أَدْرِی أَقَوْلُہُ کَانَ أَسْرَعُ أَوْ إِفَاضَۃُ عُثْمَانَ ثُمَّ لَمْ یَقْطَعِ التَّلْبِیَۃَ حَتَّی رَمَی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ یَوْمَ النَّحْرِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَجَائٍ عَنْ إِسْرَائِیلَ قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ وَلَمْ أُثْبِتْ عَنْہُمَا قَوْلَہُ تُحَوَّلاَنِ عَنْ وَقْتِہِمَا۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۹۹۔ تحولان عنوقتہا]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫০৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے دونوں نمازوں کے درمیان نفلی نماز سے یا کچھ کھا کر فصل کیا اور ان میں سے ہر ایک کے لیے اذان اور اقامت کہی
(٩٤٩٩) عبدالرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ عبداللہ (رض) نے حج کیا تو ہم مزدلفہ میں عشا کی اذان کے وقت یا قریب ہی پہنچے تو انھوں نے آدمی کو حکم دیا : اس نے اذان کہی اور اقامت کہی ۔ پھر مغرب کی نماز پڑھی اور اس کے بعد دو رکعتوں پڑھیں ، پھر شام کا کھانا منگوایا، پھر حکم دیا ۔ اس نے اذان کہی اور اقامت کہی تو انھوں نے عشا کی نماز دو رکعتیں ادا کیں۔
(۹۴۹۹)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَۃَ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِیُّ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ یَزِیدَ یَقُولُ : حَجَّ عَبْدُ اللَّہِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ : فَأَتَیْنَا الْمُزْدَلِفَۃَ حِینَ الأَذَانِ بِالْعَتَمَۃِ أَوْ قَرِیبًا مِنْ ذَلِکَ فَأَمَرَ رَجُلاً فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ وَصَلَّی بَعْدَہَا رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِہِ ثُمَّ أَمَرَ أُرَی شَکَّ زُہَیْرٌ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّی الْعِشَائَ الآخِرَۃَ رَکْعَتَیْنِ وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ عَنْ زُہَیْرٍ وَجَعَلَ زُہَیْرٌ لَفْظَ التَّحْوِیلِ مِنْ قَوْلِ عَبْدِ اللَّہِ۔

وَرُوِّینَا فِی کِتَابِ الصَّلاَۃِ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ فَعَلَ ذَلِکَ۔

[صحیح۔ بخاری ۱۵۹۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫০৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے ان دونوں کے درمیان اونٹ بٹھانے کی مقدار کے برابر فرق کیا
(٩٥٠٠) اسامہ بن زید (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفہ سے لوٹے حتی کہ جب گھاٹی کے قریب پہنچے تو اترے اور پیشاب کیا، پھر وضو کیا لیکن اچھی طرح نہیں، میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا : نماز ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز تیرے آگے ہے۔ پھر آپ سوار ہوئے تو جب مزدلفہ آئے، اترے اور اچھی طرح سے وضو کیا پھر اقامت کہی گئی اور آپ نے مغرب پڑھائی ۔ پھر ہر کسی نے اپنے اونٹ کو اپنی اپنی جگہ پر بٹھایا، پھر عشا کی اقامت کہی گئی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا پڑھائی اور ان دونوں کے درمیان کچھ نہ پڑھا۔
(۹۵۰۰)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ۔

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ۔

(ح) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ کُرَیْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ أَنَّہُ سَمِعَہُ یَقُولُ : دَفَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مِنْ عَرَفَۃَ حَتَّی إِذَا کَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ یُسْبِغِ الْوُضُوئَ فَقُلْتُ لَہُ : الصَّلاَۃَ قَالَ : الصَّلاَۃُ أَمَامَکَ ۔ فَرَکِبَ فَلَمَّا جَائَ الْمُزْدَلِفَۃَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوئَ ثُمَّ أُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ کُلُّ إِنْسَانٍ بَعِیرَہُ فِی مَنْزِلِہِ ثُمَّ أُقِیمَتِ الْعِشَائُ فَصَلاَّہَا وَلَمْ یُصَلِّ بَیْنَہُمَا شَیْئًا۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔

[صحیح۔ بخاری ۱۳۹۔ مسلم ۱۲۸۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫০৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے ان دونوں کے درمیان اونٹ بٹھانے کی مقدار کے برابر فرق کیا
(٩٥٠١) کریب کہتے ہیں کہ انھوں نے اسامہ بن زید (رض) سے پوچھا : مجھے بتاؤ جس رات تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے اس دن تم نے کیسے کیا تھا ؟ کہتے ہیں : ہم اس گھاٹی سے آئے جس میں لوگ رات گزرانے کے لیے اونٹ بٹھاتے ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی اونٹنی بٹھائی، پھر پیشاب کیا ۔ پھر وضو کا پانی منگوایا اور ہلکا پھلکا وضو کیا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! نماز، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز تیرے آگے ہے ، کہتے ہیں : پھر آپ سوار ہوئے حتیٰ کہ ہم مزدلفہ آئے، مغرب کی اقامت کہی گئی، پھر لوگوں نے اپنی اپنی جگہوں پر اونٹ بٹھائے اور ابھی انھوں نے کجاوے نہ کھولے تھے کہ عشا کی اقامت ہوگئی۔ پھر لوگ آزاد ہوگئے، میں نے کہا : تم نے صبح کیا کیا ؟ کہتے ہیں : فضل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ردیف بنا اور میں پیادہ قریش کے اگلے قافلے میں تھا۔
(۹۵۰۱)أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عُقْبَۃَ أَخْبَرَنِی کُرَیْبٌ أَنَّہُ سَأَلَ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ قُلْتُ : أَخْبِرْنِی کَیْفَ فَعَلْتُمْ أَوْ صَنَعْتُمْ عَشِیَّۃَ رَدِفْتَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَالَ : جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِی یُنِیخُ فِیہِ النَّاسُ لِلْمُعَرَّسِ فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ نَاقَتَہُ ثُمَّ بَال مَا قَالَ زُہَیْرٌ أَہْرَاقَ الْمَائَ ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوئِ فَتَوَضَّأَ وُضُوئً ا لَیْسَ بِالْبَالِغِ جِدًّا قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ الصَّلاَۃُ قَالَ : ((الصَّلاَۃُ أَمَامَکَ)) ۔ قَالَ فَرَکِبَ حَتَّی قَدِمْنَا الْمُزْدَلِفَۃَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِی مَنَازِلِہِمْ وَلَمْ یَحُلُّوا حَتَّی أَقَامَ الْعِشَائَ فَصَلَّی ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ قَالَ قُلْتُ : کَیْفَ فَعَلْتُمْ حِینَ أَصْبَحْتُمْ؟ قَالَ : رَدِفَہُ الْفَضْلُ وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِی سُبَّاقِ قُرَیْشٍ عَلَی رِجْلَیَّ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ یَحْیَی بْنِ آدَمَ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۸۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫০৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا کہ ان دونوں کو مزدلفہ میں پڑھے یا جہاں اللہ چاہے
(٩٥٠٢) عبداللہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں : سنت یہ ہے کہ امام ظہر، عصر مغرب، عشاء اور فجر منیٰ میں پڑھائے۔ پھر عرفہ پہنچیں اور جہاں جگہ ملے، قیلولہ کرے حتیٰ کہ جب سورج زائل ہو تو لوگوں کو خطبہ دے، پھر ظہر و عصر اکٹھی ادا کرے۔ پھر عرفات میں ٹھہرے حتیٰ کہ سورج غروب ہوجائے، پھر وہاں سے لوٹے اور مزدلفہ میں نماز ادا کرے یا جہاں اللہ چاہے پھر جمع میں ٹھہرے حتیٰ کہ جب روشنی ہو تو سورج کے طلوع ہونے سے پہلے لوٹے ۔ جب وہ رمیٔ جمار کرلے تو اس کے لیے ہر وہ چیز حلال ہے جو اس پر حرام تھی سوائے عورتوں اور خوشبو کے جب تک کہ وہ بیت اللہ کی زیارت نہ کرلے۔
(۹۵۰۲)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مِنْ سُنَّۃِ الْحَجِّ أَنْ یُصَلِّیَ الإِمَامُ الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ الآخِرَۃَ وَالصُّبْحَ بِمِنًی ثُمَّ یَغْدُو إِلَی عَرَفَۃَ فَیَقِیلُ حَیْث قُضِیَ لَہُ حَتَّی إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ خَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ صَلَّی الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ جَمِیعًا ثُمَّ وَقَفَ بِعَرَفَاتٍ حَتَّی تَغِیبَ الشَّمْسُ ثُمَّ یُفِیضُ فَیُصَلِّی بِالْمُزْدَلِفَۃِ أَوْ حَیْثُ قَضَی اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ یَقِفُ بِجَمْعٍ حَتَّی إِذَا أَسْفَرَ دَفَعَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَإِذَا رَمَی الْجَمْرَۃَ الْکُبْرَی حَلَّ لَہُ کُلُّ شَیْئٍ حَرُمَ عَلَیْہِ إِلاَّ النِّسَائَ وَالطِّیبَ حَتَّی یَزُورَ الْبَیْتَ۔ [حاکم ۱/ ۶۳۳۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫০৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں جہاں بھی ٹھہرے کفایت کر جائے گا
(٩٥٠٣) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سارا عرفہ موقف ہے اور سارا مزدلفہ موقف ہے اور سارا منیٰ منحر ہے اور مکہ کی ہر گلی منحر اور راستہ ہے۔
(۹۵۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ اللَّیْثِیُّ أَنَّ عَطَائَ بْنَ أَبِی رَبَاحٍ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ قَالَ : ((کُلُّ عَرَفَۃِ مَوْقِفٌ وَکُلُّ الْمُزْدَلِفَۃِ مَوْقِفٌ وَکُلُّ مِنًی مَنْحَرٌ وَکُلُّ فِجَاجِ مَکَّۃَ طَرِیقٌ وَمَنْحَرٌ)) ۔

[صحیح لغیرہ۔ ابوداود ۱۹۳۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫০৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں جہاں بھی ٹھہرے کفایت کر جائے گا
(٩٥٠٤) علی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفہ میں ٹھہرے تو فرمایا : یہ عرفہ ہے اور یہ موقف ہے اور عرفہ سارے کا سارا موقف ہے، پھر عرفہ سے لوٹے جس وقت سورج غائب ہوا اور اسامہ کو ردیف بنایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آرام سے چل رہے تھے اور لوگ دائیں بائیں جانب بھاگ رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی طرف نہ دیکھتے اور فرماتے : اے لوگو ! تم سکون کو لازم پکڑو حتیٰ کہ مزدلفہ میں آئے۔ وہاں دو نمازیں ادا کیں۔ جب صبح ہوئی تو قزح پہنچے اور فرمایا : یہ قزح ہے اور یہ موقف ہے اور جمع سارے کا سارا موقف ہے اور منیٰ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ منحر ہے اور منیٰ سارے کا سارا منحر ہے۔
(۹۵۰۴)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَیُّوب حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَسَدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ عَنْ زَیْدِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رافِعٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ بِعَرَفَۃَ فَقَالَ : ((ہَذَا عَرَفَۃُ وَہُوَ الْمَوْقِفُ وَعَرَفَۃُ کُلُّہَا مَوْقِفٌ)) ۔ ثُمَّ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَۃَ حِینَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَأَرْدَفَ أُسَامَۃَ وَہُوَ یَسِیرُ عَلَی ہَیْنَتِہِ وَالنَّاسُ یَضْرِبُونَ یَمِینًا وَشِمَالاً لاَ یَلْتَفِتُ إِلَیْہِمْ وَہُوَ یَقُولُ :((یَا أَیُّہَا النَّاسُ عَلَیْکُمْ بِالسَّکِینَۃِ))۔

حَتَّی أَتَی جَمْعًا فَصَلَّی بِہَا الصَّلاَتَیْنِ جَمِیعًا فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَی قُزَحَ فَوَقَفَ عَلَیْہِ فَقَالَ : ((ہَذَا قُزَحُ وَہُوَ الْمَوْقِفُ وَجَمْعٌ کُلُّہَا مَوْقِفٌ)) ۔ وَقَالَ یَعْنِی بِمِنًی : ((ہَذَا الْمَنْحَرُ وَمِنًی کُلُّہَا مَنْحَرٌ)) ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الْمُقْرِئِ وَحَدِیثُ ابْنِ عَبْدَانَ انْتَہَی إِلَی قَوْلِہِ فَصَلَّی بِہَا الصَّلاَتَیْنِ وَقَالَ : یُعْنِقُ عَلَی بَعِیرِہِ بَدَلَ قَوْلِہِ : یَسِیرُ عَلَی ہَیْنَتِہِ۔ وَالْبَاقِی بِمَعْنَاہُ۔[صحیح لغیرہ۔ ابوداود ۱۹۳۵۔ احمد ۱/ ۹۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫১০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں جہاں بھی ٹھہرے کفایت کر جائے گا
(٩٥٠٥) عمرو بن میمون فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو سے مشعر حرام کے بارے میں پوچھا ، جب وہ عرفہ میں تھے تو وہ خاموش رہے حتیٰ کہ وہاں سے لوٹے اور سواریوں کے پاؤں اور ان پہاڑوں پر رگڑ کھانے لگے تو کہا : یہ مشعر حرام ہے۔ اسی طرح عبداللہ بن عمرو یا عبداللہ ابن عمر نے کہا۔
(۹۵۰۵)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرٍو وَہُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَۃَ عَنِ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ فَسَکَتَ حَتَّی أَفَاضَ وَتَلَبَّطَتْ أَیْدِی الرِّکَابِ فِی تِلْکَ الْجِبَالِ فَقَالَ : ہَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ۔

کَذَا قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو وَقِیلَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক: