আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৮৮ টি
হাদীস নং: ৯৫১১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں جہاں بھی ٹھہرے کفایت کر جائے گا
(٩٥٠٦) ابن عمر (رض) نے فرمایا { اذْکُرُوا اللَّہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ } سے مراد وہ پہاڑ اور اس کا اردگرد ہے۔
(۹۵۰۶)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ ہُشَیْمٍ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ قَالَ: {اذْکُرُوا اللَّہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ} قَالَ: ہُوَ الْجَبَلُ وَمَا حَوْلَہُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫১২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں جہاں بھی ٹھہرے کفایت کر جائے گا
(٩٥٠٧) سدی فرماتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے مشعر حرام کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا : مزدلفہ کے دو پہاڑوں کے درمیان جو ہے۔
عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کی رات اس جگہ اترے جہاں اب ائمہ اترتے ہیں۔
عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کی رات اس جگہ اترے جہاں اب ائمہ اترتے ہیں۔
(۹۵۰۷)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ حَدَّثَنَا أَبُو حُذَیْفَۃَ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ السُّدِّیِّ قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ عَنِ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ فَقَالَ : مَا بَیْنَ جَبَلَیْ جَمْعٍ۔
(ت) وَرُوِّینَا عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ أَنَّہُ قَالَ : أَظُنُّ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ نَزَلَ لَیْلَۃَ جَمْعٍ مَنَازِلَ الأَئِمَّۃِ الآنَ لَیْلَۃَ جَمْعٍ۔
[ضعیف۔ ابن ابی شیبۃ ۵۶/ ۱۴۱]
(ت) وَرُوِّینَا عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ أَنَّہُ قَالَ : أَظُنُّ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ نَزَلَ لَیْلَۃَ جَمْعٍ مَنَازِلَ الأَئِمَّۃِ الآنَ لَیْلَۃَ جَمْعٍ۔
[ضعیف۔ ابن ابی شیبۃ ۵۶/ ۱۴۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫১৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو مزدلفہ سے آدھی رات کے بعد نکلا
(٩٥٠٨) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : میں ان میں سے ہوں جن کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مزدلفہ کی رات اپنے اہل و عیال کے ساتھ آگے بھیجا۔
امام شافعی (رض) کی روایت میں ہے کہ ان لوگوں میں سے تھا جنہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اہل و عیال کو کمزوری کی وجہ سے آگے مزدلفہ سے منیٰ کی طرف بھیجا تھا۔
امام شافعی (رض) کی روایت میں ہے کہ ان لوگوں میں سے تھا جنہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اہل و عیال کو کمزوری کی وجہ سے آگے مزدلفہ سے منیٰ کی طرف بھیجا تھا۔
(۹۵۰۸)أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ أَنَّہُ سَمِعَ عُبَیْدَ اللَّہِ بْنَ أَبِی یَزِیدَ یَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ بْنِ مَیْمُونِ بْنِ عِمْرَانَ وَہُوَ مَوْلَی مُحَمَّدِ بْنِ مُزَاحِمٍ أَخِی الضَّحَّاکِ بْنِ مُزَاحِمٍ الْہِلاَلِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی یَزِیدَ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ : أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ لَیْلَۃَ الْمُزْدَلِفَۃِ فِی ضَعَفَۃِ أَہْلِہِ۔
وَفِی رِوَایَۃِ الشَّافِعِیِّ : کُنْتُ مِمَّنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مِنْ ضَعَفَۃِ أَہْلِہِ مِنَ الْمُزْدَلِفَۃِ إِلَی مِنًی۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ سُفْیَانَ۔
وَرَوَاہُ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ کَذَلِکَ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۹۴۔ مسلم ۱۲۹۳]
وَفِی رِوَایَۃِ الشَّافِعِیِّ : کُنْتُ مِمَّنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مِنْ ضَعَفَۃِ أَہْلِہِ مِنَ الْمُزْدَلِفَۃِ إِلَی مِنًی۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ سُفْیَانَ۔
وَرَوَاہُ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ کَذَلِکَ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۹۴۔ مسلم ۱۲۹۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫১৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو مزدلفہ سے آدھی رات کے بعد نکلا
(٩٥٠٩) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے ساتھ سحری کے وقت ساز و سامان اور اہل عیال کو مزدلفہ سے بھیجا۔
میں نے عطاء سے کہا : تجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے رات کے وقت روانہ کردیا تھا انھوں نے کہا : نہیں بلکہ سحری کے وقت روانہ کیا تھا۔ اسی طرح میں نے کہا تھا تو ابن عباس (رض) نے فرمایا : ہم نے جمرہ کو فجر سے پہلے کنکریاں ماری تھیں اور انھوں نے فجر کہاں پڑھی۔ فرمایا : نہیں، بلکہ اسی طرح سحری کے وقت مسلم میں بھی اسی طرح کی روایت منقول ہے مگر اس میں بلیل کے ساتھ یہ الفاظ ہیں بِلَیْلٍ طَوِیلٍ قَالَ : لاَ إِلاَّ کَذَلِکَ بِسَحَرٍ ۔
میں نے عطاء سے کہا : تجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے رات کے وقت روانہ کردیا تھا انھوں نے کہا : نہیں بلکہ سحری کے وقت روانہ کیا تھا۔ اسی طرح میں نے کہا تھا تو ابن عباس (رض) نے فرمایا : ہم نے جمرہ کو فجر سے پہلے کنکریاں ماری تھیں اور انھوں نے فجر کہاں پڑھی۔ فرمایا : نہیں، بلکہ اسی طرح سحری کے وقت مسلم میں بھی اسی طرح کی روایت منقول ہے مگر اس میں بلیل کے ساتھ یہ الفاظ ہیں بِلَیْلٍ طَوِیلٍ قَالَ : لاَ إِلاَّ کَذَلِکَ بِسَحَرٍ ۔
(۹۵۰۹)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَطَائٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ بَعَثَ بِی مِنْ جَمْعٍ بِسَحَرٍ مَعَ ثَقَلِ النَّبِیِّ -ﷺ قُلْتُ لِعَطَائٍ : بَلَغَکَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ : بَعَثَنِی النَّبِیُّ -ﷺ بِلَیْلٍ قَالَ : لاَ إِلاَّ بِسَحَرٍ کَذَلِکَ قُلْتُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : رَمَیْنَا الْجَمْرَۃَ قَبْل الْفَجْرِ وَأَیْنَ صَلَّی الْفَجْرَ قَالَ : لاَ إِلاَّ کَذَلِکَ بِسَحَرٍ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَکْرٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ عِنْدَ قَوْلِہِ بِلَیْلٍ : بِلَیْلٍ طَوِیلٍ قَالَ: لاَ إِلاَّ کَذَلِکَ بِسَحَرٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۹۴]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَکْرٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ عِنْدَ قَوْلِہِ بِلَیْلٍ : بِلَیْلٍ طَوِیلٍ قَالَ: لاَ إِلاَّ کَذَلِکَ بِسَحَرٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۹۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫১৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو مزدلفہ سے آدھی رات کے بعد نکلا
(٩٥١٠) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بوجھ میں مزدلفہ سے رات کو بھیج دیا۔
(۹۵۱۰)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ : عَجَّلَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ فِی الثَّقَلِ مِنْ جَمْعٍ بِلَیْلٍ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۷۵۷۔ احمد ۱۲۴۵]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۷۵۷۔ احمد ۱۲۴۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫১৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو مزدلفہ سے آدھی رات کے بعد نکلا
(٩٥١١) عبداللہ بن عمر (رض) اپنے گھر کے کمزوروں کو آگے بھیجتے تو وہ مشعر حرام کے پاس مزدلفہ میں رات کو کھڑے ہوتے ، اللہ کا ذکر کرتے جس قدر انھیں میسر ہوتا ، پھر امام کے کھڑا ہونے سے پہلے جاتے ۔ ان میں سے کچھ فجر کی نماز کے وقت منیٰ آتے اور کچھ اس کے بعد تو جب وہ آتے تو جمرہ کو مارتے اور ابن عمر (رض) کہا کرتے تھے کہ ان لوگوں کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رخصت دی ہے۔
(۹۵۱۱)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إبْرَاہِیمَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَہُ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یُقَدِّمُ ضَعَفَۃَ أَہْلِہِ فَیَقِفُونَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ بِالْمُزْدَلِفَۃِ بِلَیْلٍ فَیَذْکُرُونَ اللَّہَ مَا بَدَا لَہُمْ ثُمَّ یَدْفَعُونَ قَبْلَ أَنْ یَقِفَ الإِمَامُ وَقَبْلَ أَنْ یَدْفَعَ فَمِنْہُمْ مَنْ یَقْدَمُ مِنًی لِصَلاَۃِ الْفَجْرِ وَمِنْہُمْ مَنْ یَقْدَمُ بَعْدَ ذَلِکَ۔ فَإِذَا قَدِمُوا رَمَوُا الْجَمْرَۃَ وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یَقُولُ : أَرْخَصَ فِی أُولَئِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -۔ [بخاری ۱۵۲۲۔ مسلم ۱۲۰۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫১৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو مزدلفہ سے آدھی رات کے بعد نکلا
(٩٥١٢) ایضاً
(۹۵۱۲)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنِ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إبْرَاہِیمَ وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ مِلْحَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ أَخْبَرَنِی یُونُسُ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ قَالَ سَالِمٌ : فَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ یُقَدِّمُ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمِثْلِہِ سَوَائً ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَحَرْمَلَۃُ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔
[صحیح۔ انظر قبلہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَحَرْمَلَۃُ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔
[صحیح۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫১৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو مزدلفہ سے آدھی رات کے بعد نکلا
(٩٥١٣) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ سودہ (رض) بھاری بھری کم عورت تھی اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت مانگی کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور لوگوں کی بھیڑ سے پہلے چلی جائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اجازت دے دی اور ہمیں روکے رہے حتیٰ کہ ہم نے صبح کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہی گئے اور اگر میں بھی سودہ کی طرح اجازت مانگ لیتی اور آپ کی اجازت سے لوگوں سے پہلے چلی جاتی تو یہ بات میرے لیے ہر خوشی سے زیادہ محبوب تھی۔
(۹۵۱۳)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ أَخْبَرَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَیْدٍ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَۃُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ لَیْلَۃَ الْمُزْدَلِفَۃِ أَنْ تَدْفَعَ قَبْلَہُ وَقَبْلَ حَطْمَۃِ النَّاسِ وَکَانَتِ امْرَأَۃً ثَبِطَۃً وَالثَّبِطَۃُ : الثَّقِیلَۃُ یَقُولُہُ الْقَاسِمُ قَالَتْ : فَأَذِنَ لَہَا فَخَرَجَتْ قَبْلَ دَفْعَۃِ النَّاسِ وَحَبَسَنَا حَتَّی أَصْبَحْنَا فَدَفَعْنَا بِدَفْعِہِ وَلأَنْ أَکُونَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ کَمَا اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَۃُ فَأَکُونُ أَدْفَعُ بِإِذْنِہِ قَبْلَ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ مَفْرُوحٍ بِہِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ عَنْ أَفْلَحَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ۔
[صحیح۔ بخاری ۱۵۹۷۔ مسلم ۱۲۹۰]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ عَنْ أَفْلَحَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ۔
[صحیح۔ بخاری ۱۵۹۷۔ مسلم ۱۲۹۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫১৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو مزدلفہ سے آدھی رات کے بعد نکلا
(٩٥١٤) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : میں چاہتی تھی کہ میں بھی سودہ کی طرح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت لے لیتی اور صبح کی نماز منیٰ میں پڑھتی اور لوگوں کے آنے سے پہلے جمرہ کو مار لیتی۔ لوگوں نے پوچھا : سودہ نے اجازت لی تھی ؟ انھوں نے کہا : ہاں وہ موٹی اور سست عورت تھی ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اجازت دے دی۔
(۹۵۱۴)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ الطَّنَافِسِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : وَدِدْتُ أَنِّی کُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ کَمَا اسْتَأْذَنَتْہُ سَوْدَۃُ فَأُصَلِّی الصُّبْحَ بِمِنًی وَأَرْمِی الْجَمْرَۃَ قَبْلَ أَنْ یَجِیئَ النَّاسُ۔ فَقَالُوا لِعَائِشَۃَ : وَاسْتَأْذَنَتْ سَوْدَۃُ۔ قَالَتْ : نَعَمْ إِنَّہَا کَانَتِ امْرَأَۃً ثَقِیلَۃً ثَبِطَۃً فَأَذِنَ لَہَا۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عُبَیْدِ اللَّہِ وَقَدْ أَخْرَجَاہُ مُخْتَصَرًا مِنْ حَدِیثِ الثَّوْرِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۹۶]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عُبَیْدِ اللَّہِ وَقَدْ أَخْرَجَاہُ مُخْتَصَرًا مِنْ حَدِیثِ الثَّوْرِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۹۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫২০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو مزدلفہ سے آدھی رات کے بعد نکلا
(٩٥١٥) ام حبیبہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں مزدلفہ سے منیٰ کی طرف اندھیرے میں جاتی تھیں۔
(۹۵۱۵)حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ شَوَّالٍ عَنْ أُمِّ حَبِیبَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کُنَّا نُغَلِّسُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ مِنْ جَمْعٍ إِلَی مِنًی۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ۔[صحیح۔ مسلم ۱۲۹۲۔ احمد ۶/ ۴۲۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫২১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو مزدلفہ سے آدھی رات کے بعد نکلا
(٩٥١٦) ام حبیبہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بعض بیویوں کو مزدلفہ سے رات کے وقت ہی نکلنے کا حکم دیا۔
(۹۵۱۶)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ شَوَّالٍ عَنْ أُمِّ حَبِیبَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ أَمَرَ بَعْضَ أَزْوَاجِہِ أَنْ تَنْفِرَ مِنْ جَمْعٍ بِلَیْلٍ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۹۲]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۹۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫২২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے صبح تک مزدلفہ میں رات گزاری
(٩٥١٧) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مزدلفہ آئے ، وہیں مغرب اور عشاء ایک اذان اور دو اق امتوں کے ساتھ ادا کیں اور ان کے درمیان کچھ نہ پڑھا ۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لیٹ گئے حتیٰ کہ فجر طلوع ہوئی، جب صبح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے واضح ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اذان اور اقامت کے ساتھ صبح کی نماز ادا کی ۔ پھر قصواء پر سوار ہوئے حتیٰ کہ مشعر حرام پر چڑھے اللہ کی حمد بیان کی لا الٰہ کہا اور وہیں کھڑے رہے حتیٰ کہ خوب سفیدی ہوگئی۔ پھر وہاں سے سورج طلوع ہونے سے پہلے نکلے اور فضل بن عباس کو اپنے پیچھے بٹھایا۔
(۹۵۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُوعَمْرٍو الْمُقْرِئُ وَأَبُوبَکْرٍ الْوَرَّاقُ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی حَجِّ النَّبِیِّ -ﷺ قَالَ : أَتَی الْمُزْدَلِفَۃَ فَصَلَّی بِہَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَیْنِ وَلَمْ یُصَلِّ بَیْنَہُمَا شَیْئًا ثُمَّ اضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ حَتَّی طَلَعَ الْفَجْرُ فَصَلَّی الْفَجْرَ حِینَ تَبَیَّنَ لَہُ الصُّبْحُ بِأَذَانٍ وَإِقَامَۃٍ ثُمَّ رَکِبَ الْقَصْوَائَ حَتَّی أَتَی الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ فَرَقِیَ عَلَیْہِ فَحَمِدَ اللَّہَ وَکَبَّرَہُ وَہَلَّلَہُ فَلَمْ یَزَلْ وَاقِفًا حَتَّی أَسْفَرَ جِدًّا ثُمَّ دَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [مسلم]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫২৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھنا
(٩٥١٨) عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی بھی نماز وقت کے بغیر پڑھتے نہیں دیکھا سوائے دو نمازوں کے : مزدلفہ میں مغرب و عشاء کو جمع کیا اور فجر کی نماز مقررہ وقت سے پہلے ادا کی۔
(۹۵۱۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ یَعْنِی ابْنَ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ حَدَّثَنِی عُمَارَۃُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ : مَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ صَلَّی صَلاَۃً بِغَیْرِ مِیقَاتِہَا إِلاَّ صَلاَتَیْنِ جَمَعَ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ بِجَمْعٍ وَصَلَّی الْفَجْرَ قَبْلَ مِیقَاتِہَا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۹۸۔ مسلم ۱۲۸۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫২৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ سے طلوع شمس سے پہلے لوٹنا
(٩٥١٩) عمرو بن میمون فرماتے ہیں : میں عمر بن خطاب (رض) کے پاس صبح کی نماز کے بعدجمع میں حاضر ہوا تو انھوں نے کہا : مشرکین سورج طلوع ہونے سے پہلے نہیں لوٹتے تھے اور وہ کہتے : ثبیر ! روشن ہوجا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی مخالفت کی اور طلوع شمس سے پہلے لوٹے۔
(۹۵۱۹)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَیْمُونٍ یَقُولُ : شَہِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِجَمْعٍ بَعْدَ مَا صَلَّی الصُّبْحَ وَقَفَ فَقَالَ : إِنَّ الْمُشْرِکِینَ کَانُوا لاَ یُفِیضُونَ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَیَقُولُونَ : أَشْرِقْ ثَبِیرُ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ خَالَفَہُمْ فَأَفَاضَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْہَالٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۰۰۔ ابوداود ۱۹۳۸]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْہَالٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۰۰۔ ابوداود ۱۹۳۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫২৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ سے طلوع شمس سے پہلے لوٹنا
(٩٥٢٠) معمر کہتے ہیں کہ مجھے ایوب نے کہا : ہمارے ساتھ جعفر بن محمد کے خیمے میں آؤ ، کیوں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ اس نے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ سورج کے طلوع ہونے سے پہلے جمع سے نہ نکلو، معمر کہتے ہیں : میں ایوب کے ساتھ گیا حتیٰ کہ ہم اس کے خیمے پر پہنچے تو اس کے پاس علوی قوم کے لوگ موجود تھے اور وہ ان کے ساتھ باتیں کر رہے تھے۔ جب انھوں نے ایوب کو دیکھا تو کھڑے ہوئے اور خیمے سے نکلے، ایوب کے ساتھ معانقہ کیا، پھر اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کو لے کر دوسرے خیمے کی طرف گئے، معمر کہتے ہیں : انھوں نے ان کو ان لوگوں کے ساتھ بٹھانا مناسب نہ سمجھا، پھر کھجوروں کا تھال منگوایا اور ایوب کے ہاتھ میں پکڑانے لگے، پھر کہا : ان لوگوں کی طرف طبق لے جاؤ، اگر ہم ان کی طرف بھیجیں تو وہ ہمیں چھوڑ دیں گے اور اگر نہ بھیجیں تو ہمیں برا کہیں گے تو اس کو ایوب نے کہا : یہ کیا بات ہے جو مجھے تمہارے بارے میں پہنچی ہے ؟ کہنے لگے : کیا پہنچی ہے ؟ انھوں نے کہا : مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ لوگوں کو کہتے ہیں کہ جمعہ سے سورج طلوع ہونے سے پہلے نہ نکلو۔ انھوں نے کہا : سبحان اللہ یہ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کے خلاف ہے، مجھے میرے والد نے جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ سے سورج طلوع ہونے سے پہلے نکلے، لیکن لوگ ہم پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ہم سے وہ کچھ روایت کرتے ہیں جو ہم نے نہیں کہا اور سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس وہ علم ہے جو لوگوں کے پاس نہیں ہے، اللہ کی قسم ! بعض لوگوں کے پاس ایسا علم ہے، جو ہمارے پاس نہیں ہے لیکن ہمارے لیے حق ہے اور قرابت ہے اور اپنا حق اور قرابت بیان کرتے رہے حتیٰ کہ میں نے ایوب کے آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے دیکھے۔
(۹۵۲۰)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ ابْنُ الشَّرْقِیِّ الْحَافِظُ إِمْلاَئً مِنْ حَفْظِہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ ہَمَّامٍ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ قَالَ لِی أَیُّوبُ وَنَحْنُ ہَا ہُنَا : اذْہَبْ بِنَا إِلَی خِبَائِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ فَإِنَّہُ بَلَغَنِی أَنَّہُ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ لاَ یَنْفِرُوا مِنْ جَمْعٍ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔ قَالَ مَعْمَرٌ : فَذَہَبْتُ مَعَ أَیُّوبَ حَتَّی أَتَیْنَا فُسْطَاطَہُ فَإِذَا عِنْدَہُ قَوْمٌ مِنَ الْعَلَوِیَّۃِ وَہُوَ یَتَحَدَّثُ مَعَہُمْ فَلَمَّا بَصُرَ بِأَیُّوبَ قَامَ فَخَرَجَ مِنْ فُسْطَاطِہِ حَتَّی اعْتَنَقَ أَیُّوبَ ثُمَّ أَخَذَ بِیَدِہِ فَحَوَّلَہُ إِلَی فُسْطَاطٍ آخَرَ قَالَ مَعْمَرٌ کَرِہَ أَنْ یُجْلِسَہُ مَعَہُمْ قَالَ : ثُمَّ دَعَا بِطَبَقٍ مِنْ تَمْرٍ فَجَعَلَ یُنَاوِلُ أَیُّوبَ فِی یَدِہِ ثُمَّ قَالَ : اذْہَبُوا إِلَی ہَؤُلاَئِ بِطَبِقٍ فَإِنَّا إِنْ بَعَثْنَا إِلَیْہِمْ تَرَکُونَا وَإِلاَّ شَنَّعُوا عَلَیْنَا۔ فَقَالَ لَہُ أَیُّوبُ : مَا ہَذَا الَّذِی بَلَغَنِی عَنْکَ؟ قَالَ : وَمَا بَلَغَکَ عَنِّی قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّکَ أَمَرْتَ النَّاسَ أَنْ لاَ یَدْفَعُوا مِنْ جَمْعٍ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔ فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّہِ خِلاَفَ سُنَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ دَفَعَ مِنْ جَمْعٍ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَکِنَّ النَّاسَ یَحْمِلُونَ عَلَیْنَا وَیَرْوُونَ عَنَّا مَا لاَ نَقُولُ وَیَزْعُمُونُ أَنَّ عِنْدَنَا عِلْمًا لَیْسَ عِنْدَ النَّاسِ وَاللَّہِ إِنَّ عِنْدَ بَعْضِ النَّاسِ لَعِلْمًا لَیْسَ عِنْدَنَا وَلَکِنَّ لَنَا حَقٌّ وَقَرَابَۃٌ فَلَمْ یَزَلْ یَذْکُرُ مِنْ حَقِّہِمْ وَقَرَابَتِہِمْ حَتَّی رَأَیْتُ الدَّمْعَ یَجْرِی مِنْ عَیْنِ أَیُّوبَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫২৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ سے طلوع شمس سے پہلے لوٹنا
(٩٥٢١) مسور بن مخرمہ (رض) فرماتے ہیں : ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفہ میں خطبہ دیا ، اللہ کی حمدوثنا بیان کی ۔ پھر کہا : امابعد ! یقیناً مشرک اور بت پرست یہاں سے سورج غروب ہونے کے قریب جاتے تھے حتیٰ کہ سورج پہاڑوں کے سروں پر ایسے ہوتا جیسے پگڑیاں آدمیوں کے سروں پر ہوتی ہیں اور ہمارا طریقہ ان کے طریقے کے مخالف ہے اور وہ مشعر حرام سے سورج کے پہاڑوں کے سروں پر طلوع ہونے کے وقت جاتے جس طرح آدمیوں کی پگڑیاں ان کے سروں پر ہوتی ہیں اور ہمارا طریقہ ان کے طریقہ کے مخالف ہے۔
اس حدیث کو عبداللہ بن ادریس نے ابن جریج سے محمد بن قیس بن مخرمہ کے واسطے سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا تو (اس میں) فرمایا : ((ہَذَا یَوْمُ الْحَجِّ الأَکْبَرِ )) یہ حج اکبر کا دن ہے “ پھر اس کے بعد والی حدیث اس کے ہم معنی مرسل ذکر کی۔
اس حدیث کو عبداللہ بن ادریس نے ابن جریج سے محمد بن قیس بن مخرمہ کے واسطے سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا تو (اس میں) فرمایا : ((ہَذَا یَوْمُ الْحَجِّ الأَکْبَرِ )) یہ حج اکبر کا دن ہے “ پھر اس کے بعد والی حدیث اس کے ہم معنی مرسل ذکر کی۔
(۹۵۲۱)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ الْمُبَارَکِ الْعَیْشِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ بْنِ مَخْرَمَۃَ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ بِعَرَفَۃَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ : ((أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ أَہْلَ الشِّرْکِ وَالأَوْثَانِ کَانُوا یَدْفَعُونَ مِنْ ہَا ہُنَا عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ حَتَّی تَکُونَ الشَّمْسُ عَلَی رُئُ وسِ الْجِبَالِ مِثْلَ عَمَائِمِ الرِّجَالِ عَلَی رُئُ وسِہَا ہَدْیُنَا مُخَالِفٌ ہَدْیَہُمْ ۔ وَکَانُوا یَدْفَعُونَ مِنَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ عِنْد طُلُوعِ الشَّمْسِ عَلَی رُئُ وسِ الْجِبَالِ مِثْلَ عَمَائِمِ الرِّجَالِ عَلَی رُئُ وسِہَا ہَدْیُنَا مُخَالِفٌ لِہَدْیِہِمْ))۔
وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسِ بْنِ مَخْرَمَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ خَطَبَ یَوْمَ عَرَفَۃَ فَقَالَ : ((ہَذَا یَوْمُ الْحَجِّ الأَکْبَرِ)) ۔ ثُمَّ ذَکَرَ مَا بَعْدَہُ بِمَعْنَاہُ مُرْسَلاً۔
[صحیح لغیرہ۔ حاکم ۲/ ۳۰۴۔ طبرانی کبیر ۲۸]
وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسِ بْنِ مَخْرَمَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ خَطَبَ یَوْمَ عَرَفَۃَ فَقَالَ : ((ہَذَا یَوْمُ الْحَجِّ الأَکْبَرِ)) ۔ ثُمَّ ذَکَرَ مَا بَعْدَہُ بِمَعْنَاہُ مُرْسَلاً۔
[صحیح لغیرہ۔ حاکم ۲/ ۳۰۴۔ طبرانی کبیر ۲۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫২৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ سے طلوع شمس سے پہلے لوٹنا
(٩٥٢٢) جبیر بن حویرث فرماتے ہیں : میں نے ابوبکر (رض) کو قزح پر کھڑے دیکھا اور وہ کہہ رہے تھے : اے لوگو ! صبح کرو، اے لوگو ! صبح کرو، پھر چلے گئے اور میں ان کی ران کو کھلا ہوا دیکھ رہا ہوں، اپنے اونٹ کو لاٹھی کے ساتھ بھگانے کی وجہ سے۔
(۹۵۲۲)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَرْبُوعَ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ قَالَ : رَأَیْتُ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَاقِفًا عَلَی قُزَحَ وَہُوَ یَقُولُ : أَیُّہَا النَّاسُ أَصْبِحُوا أَیُّہَا النَّاسُ أَصْبِحُوا ثُمَّ دَفَعَ فَإِنِّی لأَنْظُرُ إِلَی فَخِذِہِ قَدِ انْکَشَفَتْ مِمَّا یَحْرِشُ بَعِیرَہُ بِمِحْجَنِہِ۔
[ضعیف۔ شافعی ۱۷۲۶۔ ابن ابی شیبہ ۱۵۳۲۵]
[ضعیف۔ شافعی ۱۷۲۶۔ ابن ابی شیبہ ۱۵۳۲۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫২৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ وادی محسر میں جلدی کرنے کا بیان
(٩٥٢٣) جابر (رض) فرماتے ہیں : جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) محسر میں آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تھوڑی حرکت (تیزی) کی۔
(۹۵۲۳)أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُوعَمْرٍو الْمُقْرِئُ وَأَبُوبَکْرٍ الْوَرَّاقُ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ۔
عَنْ جَابِرٍ فِی حَجِّ النَّبِیِّ -ﷺ قَالَ : حَتَّی إِذَا أَتَی مُحَسِّرَ حَرَّکَ قَلِیلاً۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح]
عَنْ جَابِرٍ فِی حَجِّ النَّبِیِّ -ﷺ قَالَ : حَتَّی إِذَا أَتَی مُحَسِّرَ حَرَّکَ قَلِیلاً۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫২৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ وادی محسر میں جلدی کرنے کا بیان
(٩٥٢٤) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوٹے اور آپ پر سکینت تھی اور ان کو بھی سکینت کا حکم دیا اور وادی محسر میں تیزی سے چلے اور انھیں حکم دیا کہ جمروں کو چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں اور فرمایا : مجھ سے مناسک سیکھ لو شاید کہ میں تمہیں اس سال کے بعد نہ دیکھ سکوں۔
(۹۵۲۴)وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ قَالَ وَحَدَّثَنَا حَفْصٌ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ قَالَ وَحَدَّثَنَا یُوسُفُ الْقَاضِی وَمُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ کَثِیرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : أَفَاضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ وَعَلَیْہِ السَّکِینَۃُ وَأَمَرَہُمْ بِالسَّکِینَۃِ وَأَوْضَعَ فِی وَادِی مُحَسِّرٍ وَأَمَرَہُمْ أَنْ یَرْمُوا الْجِمَارَ مِثْلَ حَصَی الْخَذْفِ وَقَالَ : ((خُذُوا عَنِّی مَنَاسِکَکُمْ لَعَلِّی لاَ أَرَاکُمْ بَعْدَ عَامِی ہَذَا)) ۔ [صحیح۔ ترمذی ۸۸۶۔ نسائی ۳۰۲۱۔ ابن ماجہ ۳۰۲۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৩০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ وادی محسر میں جلدی کرنے کا بیان
(٩٥٢٥) علی بن ابی طالب (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمع سے لوٹے حتیٰ کہ وادی محسر پہنچے تو اپنی اونٹنی کو دوڑایا حتیٰ کہ وادی سے گزر گئے، پھر ٹھہرے ، پھر فضل کو ردیف بنایا، پھر جمرہ کے پاس آئے اور اس کو مارا۔
(۹۵۲۵)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَسَدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَیْدِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رافِعٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ حَتَّی أَتَی مُحَسِّرًا فَفَزِعَ نَاقَتَہُ حَتَّی جَاوَزَ الْوَادِیَ فَوَقَفَ ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ ثُمَّ أَتَی الْجَمْرَۃَ فَرَمَاہَا۔ [صحیح]
তাহকীক: