আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৮৮ টি
হাদীস নং: ৯৫৩১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ وادی محسر میں جلدی کرنے کا بیان
(٩٥٢٦) عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب عرفہ کا دن تھا تو فضل نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد لوگ بہت زیادہ تھے ۔ جب لوگ زیادہ ہوگئے تو میں نے کہا : مجھے فضل بتاہی دے گا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا کیا، فضل نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گئے اور لوگ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہی چلے گئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اونٹ کی مہار تھامے ہوئے لوگوں کو کہنے لگے : تم سکون کو لازم پکڑو۔ جب مزدلفہ پہنچے تو اترے اور مغرب اور عشاء ادا کی حتیٰ کہ فجر طلوع ہوئی ، صبح پڑھائی پھر مشعر حرام کے پاس مزدلفہ میں ٹھہرے رہے ۔ پھر لوٹے اور لوگ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے ۔ آپ نے اپنے اونٹ کے سر کو پکڑا ہوا تھا اور کہہ رہے تھے۔ اے لوگو ! آرام و سکون سے چلو حتیٰ کہ جب محسر میں پہنچے تورفتار تھوڑی سی تیز کی اور کہنے لگے : چھوٹی کنکریوں کو لازم پکڑو۔
(۹۵۲۶)حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِیلَ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ وَہُوَ ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ قَالَ وَقَالَ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الْعَبَّاسِ یُحَدِّثُ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ عَرَفَۃَ وَالْفَضْلُ رَدِیفُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ وَالنَّاسُ کَثِیرٌ حَوْلَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فَلَمَّا کَثُرَ النَّاسُ قُلْتُ سَیُحَدِّثُنِی الْفَضْلُ عَمَّا صَنَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ قَالَ الْفَضْلُ : دَفَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ وَدَفَعَ النَّاسُ مَعَہُ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ یُمْسِکُ بِزِمَامِ بَعِیرِہِ وَجَعَلَ یُنَادِی النَّاسَ : ((عَلَیْکُمُ السَّکِینَۃَ ))۔ فَلَمَّا بَلَغَ الْمُزْدَلِفَۃَ نَزَلَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ الآخِرَۃَ جَمِیعًا حَتَّی إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّی الصُّبْحَ ثُمَّ وَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَۃِ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ثُمَّ دَفَعَ وَدَفَعَ النَّاسُ مَعَہُ یُمْسِکُ بِرَأْسِ بَعِیرِہِ وَجَعَلَ یَقُولُ : ((أَیُّہَا النَّاسُ عَلَیْکُمُ السَّکِینَۃَ)) ۔ حَتَّی إِذَا بَلَغَ مُحَسِّرًا أَوْضَعَ شَیْئًا وَجَعَلَ یَقُولُ : ((عَلَیْکُمْ بِحَصَی الْخَذْفِ)) ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ أَخِیہِ۔
[حسن۔ نسائی ۳۰۲۰۔ احمد ۱/ ۲۱۰۔ دارمی ۱۸۹۱۔ ابن خزیمہ ۲۸۴۳]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ أَخِیہِ۔
[حسن۔ نسائی ۳۰۲۰۔ احمد ۱/ ۲۱۰۔ دارمی ۱۸۹۱۔ ابن خزیمہ ۲۸۴۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৩২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ وادی محسر میں جلدی کرنے کا بیان
(٩٥٢٧) مسور بن مخرمہ (رض) سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) سواری کو بھگا رہے تھے اور فرما رہے تھے : ” تیری طرف دوڑتے ہیں پریشان واداس اور اس کے مضبوط لوگ۔ اس کا دین عیسائیوں کے دین کے مخالف ہے۔
اور ابن زبیر بہت تیز دوڑایا کرتے تھے ۔ انھوں نے یہ طریقہ حضرت عمر (رض) سے لیا ہے، یعنی وادی محسر میں سواری کو دوڑانا۔
اور ابن زبیر بہت تیز دوڑایا کرتے تھے ۔ انھوں نے یہ طریقہ حضرت عمر (رض) سے لیا ہے، یعنی وادی محسر میں سواری کو دوڑانا۔
(۹۵۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ بِبَغْدَادَ وَأَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبَ التَّمَّارُ بِہَمَذَانَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ الْمُسْتَہِلِّ الْمَعْرُوفُ بِدَرَّانَ بِحَلَبَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی : مَسْلَمَۃُ بْنُ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یُوضِعُ وَیَقُولُ :
إِلَیْکَ تَعْدُو قَلِقًا وَضِینُہَا مُخَالِفٌ دِینَ النَّصَارَی دِینَہَا
وَکَانَ ابْنُ الزُّبَیْرِ یُوضِعُ أَشَدَّ الإِیضَاعِ أَخَذَہُ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَعْنِی الإِیضَاعَ فِی وَادِی مُحَسِّرٍ۔[صحیح]
إِلَیْکَ تَعْدُو قَلِقًا وَضِینُہَا مُخَالِفٌ دِینَ النَّصَارَی دِینَہَا
وَکَانَ ابْنُ الزُّبَیْرِ یُوضِعُ أَشَدَّ الإِیضَاعِ أَخَذَہُ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَعْنِی الإِیضَاعَ فِی وَادِی مُحَسِّرٍ۔[صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৩৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ وادی محسر میں جلدی کرنے کا بیان
(٩٥٢٨) نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) اپنی سواری کو وادیٔ محسر میں کنکری پھینکنے کی طرح حرکت دیتے تھے۔
(۹۵۲۸)أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یُحَرِّکُ رَاحِلَتَہُ فِی بَطْنِ مُحَسِّرٍ قَدْرَ رَمْیَۃٍ بِحَجَرٍ۔
[صحیح۔ اخرجہ مالک ۸۷۹]
[صحیح۔ اخرجہ مالک ۸۷۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৩৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ وادی محسر میں جلدی کرنے کا بیان
(٩٥٢٩) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ وہ مزدلفہ کی صبح جب سواری کو بھگاتیں، جب وہ وادیٔ محسر کے وسط میں پہنچتیں تو مجھے فرماتیں : سواری کو جھڑکو (بھگاؤ) اور اس کو بلند کرو (ام علقمہ) فرماتی ہیں : میں نے ایک دن سواری کو ڈانٹا تو سواری ۔۔۔ گرگئی اور کجاوہ ان کے اوپر آگیا۔ پھر دوسری دفعہ میں نے سواری کو ڈانٹا تو اللہ نے۔۔۔ بلند کردیا اور انھیں کچھ نقصان نہ دیا۔ وہ اپنی سواری کو اٹھاتی (بلند کرتی) تھیں حتیٰ کہ وادیٔ محسر کو عبور کر کے منیٰ کی وادی (وسط) میں داخل ہوجاتی تھیں۔
(۹۵۲۹)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ أُمِّہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہَا کَانَتْ إِذَا نَفَرَتْ غَدَاۃَ الْمُزْدَلِفَۃِ فَإِذَا جَائَ تْ بَطْنَ مُحَسِّرٍ قَالَتْ لِی : ازْجُرِی الدَّابَّۃَ وَارْفَعِیہَا قَالَتْ : فَزَجَرْتُہَا یَوْمًا فَوَقَعَتِ الدَّابَّۃُ عَلَی یَدَیْہَا وَعَلَیْہَا الْہَوْدَجُ ثُمَّ زَجَرْتُہَا الثَّانِیَۃَ فَرَفَعَہَا اللَّہُ فَلَمْ یَضُرَّہَا شَیْئًا وَکَانَتْ تَرْفَعُ دَابَّتَہَا حَتَّی تَقْطَعَ بَطْنَ مُحَسِّرٍ وَتَدْخُلَ بَطْنَ مِنًی۔ وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُمْ۔ [ضعیف۔ ام علقمہ مجہول الحال]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৩৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے تیز چلنا پسند نہ کیا
(٩٥٣٠) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ تیز چلنا بدویوں نے شروع کیا ، وہ لوگوں کے اطراف میں کھڑے ہوتے ، انھوں نے لاٹھیاں لٹکا رکھی ہوتیں ۔ جب وہ لوٹتے تو تیزی کرتے اور لوگوں کو جلدی میں ڈالتے اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے کہ آپ کی اونٹنی کی گردن کجاوے کے ساتھ لگ رہی ہوتی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے : اے لوگو ! تم سکون کو لازم پکڑو۔
(۹۵۳۰) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ کَثِیرِ بْنِ شِنْظِیرٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِنَّمَا کَانَ بَدْئُ الإِیضُاعِ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ کَانُوا یَقِفُونَ حَافَتَیِ النَّاسِ قَدْ عَلَّقُوا الْقِعَابَ وَالْعُصِیَّ فَإِذَا أَفَاضُوا تَقَعْقَعُوا فَأَنْفَرَتْ بِالنَّاسِ فَلَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ وَإِنَّ ذِفْرَیْ نَاقَتِہِ لَتَمَسُّ حَارِکَہَا وَہُوَ یَقُولُ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ عَلَیْکُمْ بِالسَّکِینَۃِ))۔[حسن۔ ابن خزیمہ ۲۸۶۳۔ حاکم ۱/۶۳۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৩৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے تیز چلنا پسند نہ کیا
(٩٥٣١) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفہ سے لوٹے جمع پہنچتے ۔ پھر فضل بن عباس (رض) کو ردیف بنایا اور فرمایا : اے لوگو ! نیکی اونٹوں اور گھوڑوں کو دوڑانے میں نہیں ہے۔ لہٰذا تم سکون کو لازم پکڑو۔
میں نے اس سواری کو اپنے اگلے پاؤں اٹھاتے ہوئے نہیں دیکھا حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منیٰ آگئے۔
میں نے اس سواری کو اپنے اگلے پاؤں اٹھاتے ہوئے نہیں دیکھا حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منیٰ آگئے۔
(۹۵۳۱)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ بَیَانٍ حَدَّثَنَا عَبِیدَۃُ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ الأَعْمَشُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مِنْ عَرَفَۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی قَوْلِہِ حَتَّی أَتَی جَمْعًا قَالَ ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ وَقَالَ : ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّ الْبِرَّ لَیْسَ بِإِیجَافِ الْخَیْلِ وَالإِبِلِ فَعَلَیْکُمْ بِالسَّکِینَۃِ))۔ فَمَا رَأَیْتُہَا رَافِعَۃً یَدَیْہَا حَتَّی أَتَی مِنًی۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৩৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے تیز چلنا پسند نہ کیا
(٩٥٣٢) اسامہ بن زید (رض) فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عرفہ سے لوٹے ، آپ کی سواری نے اپنے پاؤں زیادہ نہیں اٹھائے حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچے اور مجھے فضل بن عباس (رض) نے بتایا کہ وہ مزدلفہ سی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ردیف تھے ۔ آپ کی سواری نے پاؤں زیادہ نہیں اٹھائے حتیٰ کہ جمرہ کو کنکریاں ماریں۔
عفان کی روایت میں ہے کہ اسامہ بن زید نے حدیث بیان کی کہ وہ عرفہ کی رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوٹے۔۔۔ اور دوسری حدیث میں فرماتے ہیں کہ فضل بن عباس نے انھیں حدیث بیان کی۔ [صحیح ]
طاؤس یمانی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اور وہ سواری کو بھگانے کی نفی کرتے تھے۔
اور عطاء سے منقول ہے کہ یہ انھوں نے ایجاد کی ہے۔
ہم نے وادیٔ محسر میں سواری بھگانا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے، پھر صحابہ کی ایک کثیر تعداد سے بھی منقول ہے۔
اس بارے میں صحیح قول اس کا ہے، جس نے ثابت کیا ہے، ما سوائے اس کے قول کے جس نے اس کی نفی کی ہے۔ وباللہ التوفیق
عفان کی روایت میں ہے کہ اسامہ بن زید نے حدیث بیان کی کہ وہ عرفہ کی رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوٹے۔۔۔ اور دوسری حدیث میں فرماتے ہیں کہ فضل بن عباس نے انھیں حدیث بیان کی۔ [صحیح ]
طاؤس یمانی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اور وہ سواری کو بھگانے کی نفی کرتے تھے۔
اور عطاء سے منقول ہے کہ یہ انھوں نے ایجاد کی ہے۔
ہم نے وادیٔ محسر میں سواری بھگانا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے، پھر صحابہ کی ایک کثیر تعداد سے بھی منقول ہے۔
اس بارے میں صحیح قول اس کا ہے، جس نے ثابت کیا ہے، ما سوائے اس کے قول کے جس نے اس کی نفی کی ہے۔ وباللہ التوفیق
(۹۵۳۲)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ حَدَّثَنِی عَزْرَۃُ أَنَّ الشَّعْبِیَّ حَدَّثَہُ وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِی عِیسَی حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَزْرَۃَ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ أَفَاضَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ مِنْ عَرَفَۃَ فَلَمْ تَرْفَعْ رَاحِلَتُہُ رِجْلَیْہَا عَادِیَۃً حَتَّی بَلَغَ جَمْعًا قَالَ وَحَدَّثَنِی الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّہُ کَانَ رَدِیفَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ مِنْ جَمْعٍ فَلَمْ تَرْفَعْ رَاحِلَتُہُ رِجْلَیْہَا عَادِیَۃً حَتَّی رَمَی الْجَمْرَۃَ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الْمُقْرِئُ وَفِی رِوَایَۃِ عَفَّانَ أَنَّ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَدَّثَ : أَنَّہُ کَانَ رَدِیفَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ عَشِیَّۃَ عَرَفَۃَ فَلَمَّا أَفَاضَ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ الثَّانِی إِنَّ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَہُ۔
وَرُوِّینَا عَنْ طَاوُسٍ الْیَمَانِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ ہَکَذَا وَکَانَ یُنْکِرُ الإِیضَاعَ۔
وَعَنْ عَطَائٍ أَنَّہُ قَالَ : إِنَّمَا أَحْدَثَ ہَؤُلاَئِ الإِسْرَاعَ یُرِیدُونَ أَنْ یَفُوتُوا الْغُبَارَ وَقَدْ رُوِّینَا الإِیضَاعَ فِی وَادِی مُحَسِّرٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ ثُمَّ عَنْ جَمَاعَۃٍ مِنَ الصَّحَابَۃِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ۔
وَالْقَوْلُ فِی مِثْلِ ہَذَا قَوْلُ مَنْ أَثْبَتَ دُونَ قَوْلِ مَنْ نَفَی وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [احمد ۱/ ۲۱۳۔ ابویعلی ۶۷۲۱]
وَرُوِّینَا عَنْ طَاوُسٍ الْیَمَانِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ ہَکَذَا وَکَانَ یُنْکِرُ الإِیضَاعَ۔
وَعَنْ عَطَائٍ أَنَّہُ قَالَ : إِنَّمَا أَحْدَثَ ہَؤُلاَئِ الإِسْرَاعَ یُرِیدُونَ أَنْ یَفُوتُوا الْغُبَارَ وَقَدْ رُوِّینَا الإِیضَاعَ فِی وَادِی مُحَسِّرٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ ثُمَّ عَنْ جَمَاعَۃٍ مِنَ الصَّحَابَۃِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ۔
وَالْقَوْلُ فِی مِثْلِ ہَذَا قَوْلُ مَنْ أَثْبَتَ دُونَ قَوْلِ مَنْ نَفَی وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [احمد ۱/ ۲۱۳۔ ابویعلی ۶۷۲۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৩৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کے لیے کنکریاں لینے اور مارنے کا طریقہ
(٩٥٣٣) فضل بن عباس (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے ، فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح جب لوگ جانے لگے تو فرمایا : تم سکون کو لازم پکڑو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی اونٹنی کو روکنے والے تھے حتیٰ کہ محسر میں داخل ہوئے اور وہ منیٰ میں سے ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم چھوٹی چھوٹی کنکریاں پکڑو جن سے جمرہ کو مارا جاتا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمرہ کو مارنے تک تلبیہ کہتے رہے۔
(۹۵۳۳)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ حَدَّثَنَا لَیْثُ بْنُ سَعْدٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِی مَعْبَدٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ۔
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَکَانَ رَدِیفَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ أَنَّہُ قَالَ فِی عَشِیَّۃِ عَرَفَۃَ وَغَدَاۃِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِینَ دَفَعُوا : ((عَلَیْکُمُ السَّکِینَۃَ)) ۔ وَہُوَ کَافٌّ نَاقَتَہُ حَتَّی إِذَا دَخَلَ مُحَسِّرًا وَہُوَ مِنْ مِنًی قَالَ : ((عَلَیْکُمْ بِحَصَی الْخَذْفِ الَّذِی تُرْمَی بِہِ الْجَمْرَۃُ)) ۔ وَقَالَ : لَمْ یَزَلْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ یُلَبِّی حَتَّی رَمَی الْجَمْرَۃَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَمُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ عَنِ اللَّیْثِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۸۲]
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَکَانَ رَدِیفَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ أَنَّہُ قَالَ فِی عَشِیَّۃِ عَرَفَۃَ وَغَدَاۃِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِینَ دَفَعُوا : ((عَلَیْکُمُ السَّکِینَۃَ)) ۔ وَہُوَ کَافٌّ نَاقَتَہُ حَتَّی إِذَا دَخَلَ مُحَسِّرًا وَہُوَ مِنْ مِنًی قَالَ : ((عَلَیْکُمْ بِحَصَی الْخَذْفِ الَّذِی تُرْمَی بِہِ الْجَمْرَۃُ)) ۔ وَقَالَ : لَمْ یَزَلْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ یُلَبِّی حَتَّی رَمَی الْجَمْرَۃَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَمُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ عَنِ اللَّیْثِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۸۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৩৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کے لیے کنکریاں لینے اور مارنے کا طریقہ
(٩٥٣٤) فضل بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نحر کے دن کی صبح آؤ اور میرے لیے کنکریاں چنو تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے انگلیوں میں رکھ کر پھینکی جانے والی کنکریاں چنیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسی طرح کی، اسی طرح کی اور تم غلو سے بچو۔ تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔
(۹۵۳۴)أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ زِیَادِ بْنِ الْحُصَیْنِ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ حَدَّثَنِی الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ غَدَاۃَ یَوْمِ النَّحْرِ : ((ہَاتِ فَالْقُطْ لِی حَصًی)) ۔ فَلَقَطْتُ لَہُ حَصَیَاتٍ مِثْلَ حَصَی الْخَذْفِ فَوَضَعْتُہُنَّ فِی یَدِہِ فَقَالَ : ((بِأَمْثَالِ ہَؤُلاَئِ بِأَمْثَالِ ہَؤُلاَئِ وَإِیَّاکُمْ وَالْغُلُوَ فَإِنَّمَا أَہْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمُ الْغُلُوُ فِی الدِّینِ)) ۔ [صحیح۔ نسائی ۳۰۵۷۔ ابن ماجہ ۳۰۲۹۔ احمد ۱/ ۲۱۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৪০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کے لیے کنکریاں لینے اور مارنے کا طریقہ
(٩٥٣٥) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو چھوٹی کنکریاں مارنے کا حکم دیا۔
(۹۵۳۵)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ أَمَرَہَمْ أَنْ یَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۹۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৪১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کے لیے کنکریاں لینے اور مارنے کا طریقہ
(٩٥٣٦) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوٹی کنکریاں جمرہ پر مارتے دیکھا۔
(۹۵۳۶)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یَقُولُ : رَأَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ رَمَی الْجَمْرَۃَ بِمِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ وَغَیْرِہِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَکْرٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ وَغَیْرِہِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَکْرٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৪২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کے لیے کنکریاں لینے اور مارنے کا طریقہ
(٩٥٣٧) محمد بن ابراہیم تمیمی کہتے ہیں کہ میری قوم کے ایک آدمی نے کہا کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ لوگوں کو ان کے مناسک سکھا رہے تھے اور فرما رہے تھے : حذف کی طرح چھوٹی کنکریاں مارو۔
(۹۵۳۷)أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی : زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ حُمَیْدٍ الأَعْرَجِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِہِ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِیَّ -ﷺ یُعَلَّمُ النَّاسَ مَنَاسِکَہُمْ وَقَالَ : ((ارْمُوا الْجَمْرَۃَ بِمِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ))۔ [صحیح۔ ابوداؤد ۱۹۵۷۔ نسائی ۲۹۹۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৪৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کے لیے کنکریاں لینے اور مارنے کا طریقہ
(٩٥٣٨) عبدالرحمن بن معاذ تمیمی (رض) فرماتے ہیں : جب ہم منیٰ میں تھے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطبہ دیا ، فرماتے ہیں کہ ہمارے کان کھول دیے گئے حتیٰ کہ ہم انہی جگہوں پر ہی آپ کی بات سن رہے تھے، کہتے ہیں کہ آپ ہمیں مناسکِ حج سکھانے لگے حتیٰ کہ جمروں کی بات آئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چھوٹی کنکریاں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی سبابہ انگلیاں ایک دوسری کے اوپر رکھیں اور مہاجرین کو حکم دیا کہ مسجد کے آگے اترو اور انصار کو کہا ، وہ مسجد کے پیچھے سے اتریں، پھر اس کے بعد لوگ اترے۔
(۹۵۳۸)وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ الأَعْرَجُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ التَّیْمِیِّ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ وَنَحْنُ بِمِنًی قَالَ فَفُتِحَتْ أَسْمَاعُنَا حَتَّی إِنْ کُنَّا لَنَسْمَعُ مَا یَقُولُ وَنَحْنُ فِی مَنَازِلِنَا قَالَ فَطَفِقَ یُعَلِّمُنَا مَنَاسِکَنَا حَتَّی بَلَغَ الْجِمَارَ فَقَالَ : ((بِحَصَی الْخَذْفِ)) ۔ وَوَضَعَ أُصْبُعَیْہِ السَّبَّابَتَیْنِ إِحْدَاہُمَا عَلَی الأُخْرَی قَالَ وَأَمَرَ الْمُہَاجِرِینَ أَنْ یَنْزِلُوا فِی مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ وَأَمَرَ الأَنْصَارَ فَنَزَلُوا مِنْ وَرَائِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ نَزَل النَّاسُ بَعْدُ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৪৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کے لیے کنکریاں لینے اور مارنے کا طریقہ
(٩٥٣٩) ام جندب کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وادی کے درمیان سے رمیٔ جمار کرتے دیکھا اور ایک آدمی آپ کو پیچھے سے پتھروں سے بچا رہا تھا، اور آپ فرما رہے تھے : اے لوگو ! ایک دوسرے کو قتل نہ کرو اور جب تم جمروں کو مارو تو چھوٹی کنکریاں استعمال کرو۔
(۹۵۳۹)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہَانِئٍ السُّکَّرِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ عَنْ أُمِّہِ أُمِّ جُنْدُبٍ قَالَتْ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یَرْمِی الْجَمْرَۃَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِی وَرَجُلٌ مِنْ خَلْفِہِ یَقِیہِ الْحِجَارَۃَ وَہُوَ یَقُولُ : ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ لاَ یَقْتُلْ بَعْضُکُمْ بَعَضًا وَإِذَا رَمَیْتُمُ الْجَمْرَۃَ فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ)) ۔ [ضعیف۔ ابوداود ۱۹۶۶۔ احمد ۱/ ۶۰۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৪৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کے لیے کنکریاں لینے اور مارنے کا طریقہ
(٩٥٤٠) عمرو بن الاحوص ازدی اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وادی کے درمیان سے جمروں کو مارتے ہوئے یہ کہتے سنا : اے لوگو ! ایک دوسرے کو ہلاک نہ کرو ، جب تم جمرہ کو کنکریاں مارو تو چھوٹی پتھریاں مارو۔
(۹۵۴۰)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی : زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ الأَزْدِیِّ عَنْ أُمِّہِ قَالَتْ : سَمِعْتُ النَّبِیَّ -ﷺ وَہُوَ فِی بَطْنِ الْوَادِی وَہُوَ یَرْمِی الْجَمْرَۃَ وَہُوَ یَقُولُ : ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ لاَ یَقْتُلْ بَعْضُکُمْ بَعَضًا وَإِذَا رَمَیْتُمُ الْجَمْرَۃَ فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ)) ۔ [ضعیف۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৪৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کے لیے کنکریاں لینے اور مارنے کا طریقہ
(٩٥٤١) ام جندب فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو ! اپنے آپ کو جمرہ عقبہ کے پاس ہلاک نہ کرو اور چھوٹی کنکریاں لازم پکڑو۔
(۹۵۴۱)وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ النَّرْسِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ عَنْ أَبِی یَزِیدَ مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَارِثِ یَعْنِی عَنْ أُمِّ جُنْدُبٍ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ: ((أَیُّہَا النَّاسُ لاَ تَقْتُلُوا أَنْفُسَکُمْ عِنْدَ جَمْرَۃِ الْعَقَبَۃِ وَعَلَیْکُمْ بِمِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ))۔ قَالَ الْحَجَّاجُ وَقَالَ عَطَائٌ : حَصَی الْخَذْفِ مِثْلِ طَرَفِ الأَصْبِعِ لَمْ یُثْبِتْ شَیْخُنَا أُمَّ جُنْدُبٍ وَہِیَ أُمُّ جُنْدُبٍ۔ قَالَہُ أَحْمَدُ بْنُ مَنِیعٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ۔
قَالَ أَبُو عِیسَی التِّرْمِذِیُّ سَأَلْتُ الْبُخَارِیَّ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَقَالَ : أُمُّہُ اسْمُہَا أُمُّ جُنْدُبٍ قُلْتُ : فَحَدِیثُ الْحَجَّاجِ قَالَ : أُرَی أَنَّ الْحَجَّاجَ أَخَذَہُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ وَأَظُنُّہُ ہُوَ حَدِیثُ سُلَیْمَانَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أُمِّہِ۔
[باطل۔ احمد ۶/ ۳۷۶]
قَالَ أَبُو عِیسَی التِّرْمِذِیُّ سَأَلْتُ الْبُخَارِیَّ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَقَالَ : أُمُّہُ اسْمُہَا أُمُّ جُنْدُبٍ قُلْتُ : فَحَدِیثُ الْحَجَّاجِ قَالَ : أُرَی أَنَّ الْحَجَّاجَ أَخَذَہُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ وَأَظُنُّہُ ہُوَ حَدِیثُ سُلَیْمَانَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أُمِّہِ۔
[باطل۔ احمد ۶/ ۳۷۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৪৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کے لیے کنکریاں لینے اور مارنے کا طریقہ
(٩٥٤٢) (الف) جمیل بن زید فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) کو بکری کی مینگنی جیسی کنکریاں مارتے دیکھا۔
(ب) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نیچے اترنے کو مکروہ خیال کرتے ہوئے وہ مزدلفہ ہی سے کنکریاں لے لیا کرتے تھے۔
(ج) امام شافعی (رض) فرماتے ہیں : انھوں نے لیا ہے مگر یہ کہ وہ جہاں سے بھی لیں ان کو کفایت کر جائیں گی ۔ مگر میں مسجد سے کنکریاں لینا مکروہ سمجھتا ہوں کہ کہیں مسجد سے ساری کنکریاں نہ نکالی جائیں اور کسی باغ یا بیت الخلاء وغیرہ سے اس لیے کہ وہ نجس ہوتی ہیں اور وہیں جمرہ سے اٹھانے کو اس لیے کہ وہ غیر مقبول کنکریاں ہیں۔
(د) شیخ (رض) فرماتے ہیں ہم کتاب الصلوٰۃ میں ابو صالح سے ابوہریرہ (رض) کے واسطہ سے مرفوع روایت نقل کرچکے ہیں کہ ” کنکری اس آدمی سے اپیل کرتی ہے جو اس کو مسجد سے نکالتا ہے۔
(ب) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نیچے اترنے کو مکروہ خیال کرتے ہوئے وہ مزدلفہ ہی سے کنکریاں لے لیا کرتے تھے۔
(ج) امام شافعی (رض) فرماتے ہیں : انھوں نے لیا ہے مگر یہ کہ وہ جہاں سے بھی لیں ان کو کفایت کر جائیں گی ۔ مگر میں مسجد سے کنکریاں لینا مکروہ سمجھتا ہوں کہ کہیں مسجد سے ساری کنکریاں نہ نکالی جائیں اور کسی باغ یا بیت الخلاء وغیرہ سے اس لیے کہ وہ نجس ہوتی ہیں اور وہیں جمرہ سے اٹھانے کو اس لیے کہ وہ غیر مقبول کنکریاں ہیں۔
(د) شیخ (رض) فرماتے ہیں ہم کتاب الصلوٰۃ میں ابو صالح سے ابوہریرہ (رض) کے واسطہ سے مرفوع روایت نقل کرچکے ہیں کہ ” کنکری اس آدمی سے اپیل کرتی ہے جو اس کو مسجد سے نکالتا ہے۔
(۹۵۴۲)أَخْبَرَنَا أَبُوعَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکُوفِیُّ حَدَّثَنَا أَبُوغَسَّانَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِیُّ عَنْ جَمِیلِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ یَرْمِی الْجِمَارَ مِثْلَ بَعْرِ الْغَنَمِ۔
وَرُوِّینَا عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ کَانَ یَأْخُذُ الْحَصَی مِنْ جَمْعٍ کَرَاہِیَۃَ أَنْ یَنْزِلَ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَمَنْ حَیْثُ أَخَذَ أَجْزَأَہُ إِلاَّ أَنِّی أَکْرَہُہُ مِنَ الْمَسْجِدِ لِئَلاَ یُخْرِجَ حَصَی الْمَسْجِدِ مِنْہُ وَمَنِ الْحُشِّ لِنَجَاسَتِہِ وَمِنَ الْجَمْرَۃِ لأَنَّہُ حَصَی غَیْرُ مُتَقَبَّلٍ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَقَدْ رُوِّینَا فِی کِتَابِ الصَّلاَۃِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَرْفُوعًا : أَنَّ الْحَصَی یُنَاشِدُ الَّذِی یُخْرِجُہُ مِنَ الْمَسْجِدِ۔ [ضعیف]
وَرُوِّینَا عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ کَانَ یَأْخُذُ الْحَصَی مِنْ جَمْعٍ کَرَاہِیَۃَ أَنْ یَنْزِلَ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَمَنْ حَیْثُ أَخَذَ أَجْزَأَہُ إِلاَّ أَنِّی أَکْرَہُہُ مِنَ الْمَسْجِدِ لِئَلاَ یُخْرِجَ حَصَی الْمَسْجِدِ مِنْہُ وَمَنِ الْحُشِّ لِنَجَاسَتِہِ وَمِنَ الْجَمْرَۃِ لأَنَّہُ حَصَی غَیْرُ مُتَقَبَّلٍ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَقَدْ رُوِّینَا فِی کِتَابِ الصَّلاَۃِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَرْفُوعًا : أَنَّ الْحَصَی یُنَاشِدُ الَّذِی یُخْرِجُہُ مِنَ الْمَسْجِدِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৪৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کے لیے کنکریاں لینے اور مارنے کا طریقہ
(٩٥٤٣) ابوطفیل (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے ان کنکریوں کے کے بارے میں پوچھا جن کے ساتھ اسلام کے بعد جمروں کو مارا جاتا ہے تو انھوں نے کہا : جو ان کی قبول کی گئی اس کو اٹھایا گیا اور جو نہ کی گئی اس کو چھوڑا گیا اور اگر یہ نہ ہوتا دو دونوں پہاڑوں کا درمیان بند ہوجاتا۔
سفیان ثوری کی روایت میں ابن عباس سے منقول ہے کہ اس پر ایک فرشتے کی ذمہ داری لگائی گئی ہے اس سے جو قبول کیا جاتا ہے وہ اٹھا لیا جاتا ہے اور جو قبول نہ ہو وہ باقی چھوڑ دیا جاتا ہے۔
ابن ابی نعیم فرماتے ہیں کہ میں نے ابو سعید سے کنکریوں کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے مجھے بتایا کہ ان سے جو قبول کی جاتی ہیں وہ اٹھالی جاتی ہیں اور اگر اس طرح نہ ہوتا تو یہاں یہ ثبیر پہاڑ سے بھی بلند پہاڑ بن جاتا۔
سفیان ثوری کی روایت میں ابن عباس سے منقول ہے کہ اس پر ایک فرشتے کی ذمہ داری لگائی گئی ہے اس سے جو قبول کیا جاتا ہے وہ اٹھا لیا جاتا ہے اور جو قبول نہ ہو وہ باقی چھوڑ دیا جاتا ہے۔
ابن ابی نعیم فرماتے ہیں کہ میں نے ابو سعید سے کنکریوں کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے مجھے بتایا کہ ان سے جو قبول کی جاتی ہیں وہ اٹھالی جاتی ہیں اور اگر اس طرح نہ ہوتا تو یہاں یہ ثبیر پہاڑ سے بھی بلند پہاڑ بن جاتا۔
(۹۵۴۳)وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الطَّابَرَانِیُّ بِہَا حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُونُسَ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنَا أَزْہَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْحَصَی الَّذِی یُرْمَی فِی الْجِمَارِ مُنْذُ قَامَ الإِسْلاَمُ فَقَالَ : مَا تُقُبِّلَ مِنْہُمْ رُفِعَ وَمَا لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنْہُمْ تُرِکَ وَلَوْلاَ ذَلِکَ لَسَدَّ مَا بَیْنَ الْجَبَلَیْنِ۔
وَرُوِّینَا عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنِ ابْنِ خُثَیْمٍ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : وُکِّلَ بِہِ مَلَکٌ مَا تُقُبِّلَ مِنْہُ رُفِعَ وَمَا لَمْ یُتَقَبَّلُ تُرِکَ۔
وَعَنْ سُفْیَانَ قَالَ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ الْعَبْسِیُّ عَنِ ابْنِ أَبِی نُعْمٍ قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا سَعِیدٍ عَنْ رَمْیِ الْجِمَارِ فَقَالَ لِی: مَا تُقُبِّلَ مِنْہُ رُفِعَ وَلَوْلاَ ذَلِکَ کَانَ أَطْوَلَ مِنْ ثَبِیرٍ۔ [ضعیف]
وَرُوِّینَا عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنِ ابْنِ خُثَیْمٍ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : وُکِّلَ بِہِ مَلَکٌ مَا تُقُبِّلَ مِنْہُ رُفِعَ وَمَا لَمْ یُتَقَبَّلُ تُرِکَ۔
وَعَنْ سُفْیَانَ قَالَ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ الْعَبْسِیُّ عَنِ ابْنِ أَبِی نُعْمٍ قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا سَعِیدٍ عَنْ رَمْیِ الْجِمَارِ فَقَالَ لِی: مَا تُقُبِّلَ مِنْہُ رُفِعَ وَلَوْلاَ ذَلِکَ کَانَ أَطْوَلَ مِنْ ثَبِیرٍ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৪৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کے لیے کنکریاں لینے اور مارنے کا طریقہ
(٩٥٤٤) ایضاً
سیدنا ابن عمر (رض) کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اترنے کو مکروہ سمجھتے ہوئے پہلے ہی کنکریاں رکھ لیا کرتے تھے۔
سیدنا ابن عمر (رض) کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اترنے کو مکروہ سمجھتے ہوئے پہلے ہی کنکریاں رکھ لیا کرتے تھے۔
(۹۵۴۴) أَخْبَرَنِی بِہَذَیْنِ الأَثَرَیْنِ أَبُو بَکْرٍ الأَصْبَہَانِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُمَا۔
وَذَکَرَ حَدِیثَ سُفْیَانَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ کَانَ یَأْخُذُ الْحَصَی مِنْ جَمْعٍ کَرَاہِیَۃَ أَنْ یَنْزِلَ۔ وَقَدْ رُوِیَ حَدِیثُ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ مَرْفُوعًا مِنْ وَجْہٍ ضَعِیفٍ۔ [حسن]
وَذَکَرَ حَدِیثَ سُفْیَانَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ کَانَ یَأْخُذُ الْحَصَی مِنْ جَمْعٍ کَرَاہِیَۃَ أَنْ یَنْزِلَ۔ وَقَدْ رُوِیَ حَدِیثُ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ مَرْفُوعًا مِنْ وَجْہٍ ضَعِیفٍ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৫০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کے لیے کنکریاں لینے اور مارنے کا طریقہ
(٩٥٤٥) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں : ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ پتھر جن کے ساتھ مارا جاتا ہے ، اٹھالیے جاتے ہیں سمجھا جاتا ہے کہ یہ کاٹے جاتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو قبول کیا جاتا ہے وہ اٹھا لیا جاتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو تو ان کو پہاڑوں کی طرح دیکھتا۔
(۹۵۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو : أَحْمَدُ بْنُ الْمُبَارَکِ الْمُسْتَمْلِی حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الأَمَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَبِی أُنَیْسَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ عَنْ أَبِیہ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ قُلْنَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذِہِ الأَحْجَارُ الَّتِی یُرْمَی بِہَا یُحْمَلُ فَیُحْسَبُ أَنَّہَا تَنْقَعِرُ قَالَ : ((إِنَّہُ مَا تُقُبِّلَ مِنْہَا یُرْفَعُ وَلَوْلاَ ذَلِکَ لَرَأَیْتَہَا مِثْلَ الْجِبَالِ)) ۔ یَزِیدُ بْنُ سِنَانٍ لَیْسَ بِالْقَوِیِّ فِی الْحَدِیثِ وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ ضَعِیفٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا۔ [ضعیف۔ حاکم ۱/ ۶۵۰]
তাহকীক: