আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৮৮ টি

হাদীস নং: ৯৫৫১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ منیٰ میں آنا اور چڑھا نہ جائے حتیٰ کہ جمرہ عقبہ کو سات کنکریوں کے ساتھ مارا جائے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہی جائے
(٩٥٤٦) جابر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج کے بارے میں فرماتے ہیں کہ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) درمیانے راستے پر چلے جو کہ جمرہ کبریٰ کی طرف جا نکلتا ہے حتیٰ کہ احمس جمرہ کے پاس آئے جو مسجد کے قریب ہے تو سات کنکریاں ماریں ۔ ان میں سے ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہی اور وادی کے درمیان کھڑے ہو کر رمی کی ، پھر واپس آگئے۔
(۹۵۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ وَأَبُو بَکْرٍ الْوَرَّاقُ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرٍ فِی حَجِّ النَّبِیِّ -ﷺ قَالَ : ثُمَّ سَلَکَ الطَّرِیقَ الْوُسْطَی الَّتِی تُخْرِجُکَ عَلَی الْجَمْرَۃِ الْکُبْرَی حَتَّی أَتَی الْجَمْرَۃَ الَّتِی عِنْدَ الْمَسْجِدِ فَرَمَی بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ مِنْہَا مِثْلَ حَصَی الْخَذْفِ رَمَی مِنْ بَطْنِ الْوَادِی ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی النَّحْرِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৫২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ کو وادی سے مارنا اور مارنے کے لیے کھڑے ہونے کی کیفیت کا بیان
(٩٥٤٧) اعمش کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ قرآن کو ایسے تالیف کرو جیسے جبریل نے کیا ہے ، وہ سورة جس سے گائے کا ذکر ہے، وہ سورة جس میں نساء کا ذکر ہے، وہ سورة جس میں آل عمران کا ذکر ہے تو میں ابراہیم کو ملا اور اس کو یہ بات بتائی تو انھوں نے اس کو برا بھلا کہا ، پھر فرمایا : مجھے عبدالرحمن بن یزید نے خبر دی کہ وہ عبداللہ بن مسعود (رض) کے ساتھ جمرہ عقبہ پر تھا جب وہ پہنچے تو وادی کے درمیان میں کھڑے ہوئے اور اس کو سامنے رکھ کر سات چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہی، میں نے کہا : لوگ تو ان کو اوپر سے مارتے ہیں تو انھوں نے کہا : اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے۔ یہ اس شخص کا مقام ہے، جس پر سورة البقرہ اتری۔
(۹۵۴۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ قَالَ وَحَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنِ الأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ یُوسُفَ یَقُولُ وَہُوَ یَخْطُبُ عَلَی الْمِنْبَرِ : أَلِّفُوا الْقُرْآنَ کَمَا أَلَّفَہُ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ السُّورَۃُ الَّتِی تُذْکُرُ فِیہَا الْبَقَرَۃُ وَالسُّورَۃُ الَّتِی تُذْکُرُ فِیہَا النِّسَائُ وَالسُّورَۃُ الَّتِی یُذْکَرُ فِیہَا آلُ عِمْرَانَ قَالَ فَلَقِیتُ إِبْرَاہِیمَ فَأَخْبَرْتُہُ بِقَوْلِہِ فَسَبَّہُ ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یَزِیدَ أَنَّہُ کَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ فَأَتَی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِیَ فَاسْتَعْرَضَہَا فَرَمَاہَا مِنْ بَطْنِ الْوَادِی بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ فَقُلْتُ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ النَّاسَ یَرْمُونَہَا مِنْ فَوْقِہَا فَقَالَ: ہَذَا وَالَّذِی لاَ إِلَہَ غَیْرُہُ مَقَامُ الَّذِی أُنْزِلَتْ عَلَیْہِ سُورَۃُ الْبَقَرَۃِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مِنْجَابِ بْنِ الْحَارِثِ۔[صحیح۔ بخاری ۱۶۳۔ مسلم ۱۲۹۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৫৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ کو وادی سے مارنا اور مارنے کے لیے کھڑے ہونے کی کیفیت کا بیان
(٩٥٤٨) عبدالرحمن بن یزیدعبداللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ہم جمرۂ کبری کے پاس پہنچے تو انھوں نیبیت اللہ کو اپنی بائیں طرف کیا اور منیٰ کو دائیں طرف اور جمرہ کو سات کنکریاں ماریں اور فرمایا : جس پر سورة البقرہ اتری ہے اس نے اسی طرح مارا تھا۔
(۹۵۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَیُّوبَ الطُّوسِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : لَمَّا انْتَہَیْنَا إِلَی الْجَمْرَۃِ الْکُبْرَی جَعَلَ الْبَیْتَ عَنْ یَسَارِہِ وَمِنًی عَنْ یَمِینِہِ وَرَمَی الْجَمْرَۃَ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ وَقَالَ : ہَکَذَا رَمَی الَّذِی أُنْزِلَتْ عَلَیْہِ سُورَۃُ الْبَقَرَۃِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ وَفِی رِوَایَۃِ الرُّوذْبَارِیِّ قَالَ : حَجَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّہِ فَلَمَّا أَتَی مِنًی جَعَلَ مِنًی عَنْ یَمِینِہِ وَالْبَیْتَ عَنْ یَسَارِہِ وَرَمَی الْجَمْرَۃَ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ وَقَالَ : ہَذَا مَقَامُ الَّذِی أُنْزِلَتْ عَلَیْہِ سُورَۃُ الْبَقَرَۃِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ أَبِی عُمَرَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنْ شُعْبَۃَ۔

[صحیح۔ بخاری ۱۶۶۱۔ مسلم ۱۲۹۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৫৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ کو وادی سے مارنا اور مارنے کے لیے کھڑے ہونے کی کیفیت کا بیان
(٩٥٤٩) عبدالرحمن بن یزید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا : میں عبداللہ کے ساتھ جمع سے لوٹا تو وہ تلبیہ کہتے رہے حتیٰ کہ جمرہ عقبہ کو مارا ، پھر وادی کے درمیان میں ہوئے اور کہا : اے میرے بھتیجے ! مجھے سات پتھر پکڑاؤ تو انھوں نے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے تھے، حتیٰ کہ جب فارغ ہوئے تو کہا : اے اللہ ! اس حج کو مقبول بنا لے اور گناہوں کو معاف فرما دے ۔ پھر کہا : میں نے اسی طرح کرتے ہوئے اس ذات کو دیکھا جس پر سورة بقرہ نازل ہوئی۔
(۹۵۴۹) وَحَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَرْمَوْیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ عَنْ لَیْثٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَفَضْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّہِ مِنْ جَمْعٍ فَمَا زَالَ یُلَبِّی حَتَّی رَمَی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِیَ ثُمَّ قَالَ : یَا ابْنَ أَخِی نَاوِلْنِی سَبْعَۃَ أَحْجَارٍ فَرَمَاہَا بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ حَتَّی إِذَا فَرَغ قَالَ : اللَّہُمَّ اجْعَلْہُ حَجًّا مَبْرُورًا وَذَنْبًا مَغْفُورًا ثُمَّ قَالَ : ہَکَذَا رَأَیْتُ الَّذِی أُنْزِلَتْ عَلَیْہِ سُورَۃُ الْبَقَرَۃِ صَنَعَ۔ [منکر۔ ابن ابی شیبہ ۱۴۰۱۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৫৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ کو وادی سے مارنا اور مارنے کے لیے کھڑے ہونے کی کیفیت کا بیان
(٩٥٥٠) ابو اسامہ کہتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ کو دیکھا ، وہ وادی میں اترے پھر جمرہ کو سات کنکریاں ماریں ، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے تھے : اللہ اکبر ، اللہ اکبر ، اے اللہ ! اس کو مقبول حج بنا دے اور گناہوں کو معاف فرما دے اور عمل کی قدر فرما، تو جو انھوں نے کہا : میں نے اس کے بارے میں ان سے پوچھا تو کہنے لگے کہ میرے والد نے مجھے بتایا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمرہ کو یہیں سے مارتے تھے اور جب بھی کنکری مارتے اسی طرح کہتے جیسے میں نے کہا ہے۔
(۹۵۵۰) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا سُرَیْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ حُکَیْمِ بْنِ الأَزْہَرِ الْمَدَنِیُّ حَدَّثَنِی زَیْدٌ أَبُو أُسَامَۃَ قَالَ : رَأَیْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ عُمَرَ اسْتَبْطَنَ الْوَادِیَ ثُمَّ رَمَی الْجَمْرَۃَ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُمَّ اجْعَلْہُ حَجًّا مَبْرُورًا وَذَنْبًا مَغْفُورًا وَعَمَلاً مَشْکُورًا فَسَأَلْتُہ عَمَّا صَنَعَ فَقَالَ حَدَّثَنِی أَبِی : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ کَانَ یَرْمِی الْجَمْرَۃَ فِی ہَذَا الْمَکَانِ وَیَقُولُ کُلَّمَا رَمَی بِحَصَاۃٍ مِثْلَ مَا قُلْتُ۔

عَبْدُ اللَّہِ بْنُ حُکَیْمٍ ضَعِیفٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [منکر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৫৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کو سوار ہو کر مارنے کا بیان
(٩٥٥١) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی اونٹنی پر سے ہی جمار کو مارتے دیکھا۔
(۹۵۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمِ بْنِ حَسَّانَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یَقُولُ : رَأَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ یَرْمِی الْجِمَارَ عَلَی رَاحِلَتِہِ۔

[صحیح۔ مسلم ۱۲۹۷۔ نسائی ۳۰۶۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৫৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کو سوار ہو کر مارنے کا بیان
(٩٥٥٢) جابر (رض) فرماتے ہیں : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نحر کے دن اپنی سواری سے جمرہ کی رمی کرتے دیکھا اور آپ فرما رہے تھے : مجھ سے مناسک سیکھ لو ، کیوں کہ مجھے علم نہیں شاید میں اس حج کے بعد حج نہ کروں۔
(۹۵۵۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یَقُولُ : رَأَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ یَرْمِی الْجَمْرَۃَ عَلَی رَاحِلَتِہِ یَوْمَ النَّحْرِ وَیَقُولُ : لِتَأْخُذُوا مَنَاسِکَکُمْ فَإِنِّی لاَ أَدْرِی لَعَلِّی لاَ أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِی ہَذِہِ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৫৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کو سوار ہو کر مارنے کا بیان
(٩٥٥٣) ام حصین (رض) فرماتی ہیں : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حجۃ الوداع کیا ، میں نے دیکھا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جمرہ کو مارا اور واپس آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سواری پر تھے اور آپ کے ساتھ بلال اور اسامہ تھے۔ ان میں سے ایک تو آپ کی سواری کو ہانک رہا تھا جب کہ دوسرا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر پر سایہ کیے ہوئے تھا۔
(۹۵۵۳)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّیْدَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ شَبِیبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْیَنَ عَنْ مَعْقِلٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَبِی أُنَیْسَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ الْحُصَیْنِ عَنْ جَدَّتِہِ أُمِّ الْحُصَیْنِ قَالَ سَمِعْتُہَا تَقُولُ : حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ حَجَّۃَ الْوَدَاعِ فَرَأَیْتُہُ حِین رَمَی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ وَانْصَرَفَ وَہُوَ عَلَی رَاحِلَتِہِ وَمَعَہُ بِلاَلٌ وَأُسَامَۃُ أَحَدُہُمَا یَقُودُ بِہِ رَاحِلَتَہُ وَالآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَہُ عَلَی رَأْسِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ مِنَ الشَّمْسِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ شَبِیبٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۹۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৫৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کو سوار ہو کر مارنے کا بیان
(٩٥٥٤) سلیمان بن عمرو اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جمرہ کے پاس سوار دیکھا اور آپ کے پیچھے ایک آدمی ان کو لوگوں کی رمی سے بچا رہا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو ! ایک دوسرے کو قتل نہ کرو، جو جمرہ کو مارے وہ چھوٹی کنکریاں مارے، کہتی ہیں : میں نے آپ کی انگلیوں کے درمیان پتھر دیکھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی رمی کی اور لوگوں نے بھی، پھر آپ لوٹ آئے۔
(۹۵۵۴)أَبُو الْفَتْحِ : ہِلاَلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَیَّاشٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا عَبِیدَۃُ بْنُ حُمَیْدٍ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ عَنْ أُمِّہِ قَالَتْ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ عِنْدَ جَمْرَۃِ الْعَقَبَۃِ رَاکِبًا وَوَرَائَ ہُ رَجُلٌ یَسْتُرُہُ مِنْ رَمْیِ النَّاسِ فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ لاَ یَقْتُلْ بَعْضُکُمْ بَعْضًا وَمَنْ رَمَی الْجَمْرَۃَ فَلْیَرْمِہَا بِمِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ ۔ قَالَتْ : وَرَأَیْتُ بَیْنَ أَصَابِعِہِ حَجَرًا قَالَتْ فَرَمَی وَرَمَی النَّاسُ ثُمَّ انْصَرَفَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৬০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کو سوار ہو کر مارنے کا بیان
(٩٥٥٥) سلیمان بن عمرو اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وادی کے درمیان سے جمروں کی رمی کرتے دیکھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوار تھے، میں نے اس آدمی کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا : فضل بن عباس ہیں، لوگوں نے جب بھیڑ کی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو ! ایک دوسرے کو قتل نہ کرو اور جب تم جمرہ کو مارو تو چھوٹی کنکری مارو۔
(۹۵۵۵)أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا جَدِّی عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ عَنْ أُمِّہِ قَالَتْ : رَأَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ یَرْمِی الْجَمْرَۃَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِی وَہُوَ رَاکِبٌ یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ وَرَجُلٌ مِنْ خَلْفِہِ یَسْتُرُہُ فَسَأَلْتُ عَنِ الرَّجُلِ فَقَالُوا : الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَازْدَحَمَ النَّاسُ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ لاَ یَقْتُلْ بَعْضُکُمْ بَعَضًا وَإِذَا رَمَیْتُمُ الْجَمْرَۃَ فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৬১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کو سوار ہو کر مارنے کا بیان
(٩٥٥٦) قدامہ بن عبداللہ بن عمارکلابی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمرہ کو نحر کے دن اپنی اونٹنی صہباء پر سے ہی مار رہے تھے ، نہ کوئی بھاگ دوڑ تھی نہ شورشرابہ۔
(۹۵۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ حَدَّثَنَا أَیْمَنُ بْنُ نَابِلٍ وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أبِی عَمْرٍو قِرَائَ ۃً عَلَیْہِمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ وَأَبُو نُعَیْمٍ وَأَبُو عَاصِمٍ عَنْ أَیْمَنَ بْنِ نَابِلٍ قَالَ سَمِعْتُ قُدَامَۃَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمَّارٍ الْکِلاَبِیَّ قَالَ : رَأَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ یَرْمِی الْجَمْرَۃَ یَوْمَ النَّحْرِ عَلَی نَاقَۃٍ صَہْبَائَ لاَ طَرْدَ وَلاَ ضَرْبَ وَلاَ إِلَیْکَ إِلَیْکَ۔ [حسن۔ طیالسی ۱۳۳۸۔ احمد ۳/ ۴۱۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৬২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ آخری دو دنوں میں رمی کے لیے اترنے کا مستحب ہونا
(٩٥٥٧) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمرہ عقبہ کو سوار ہو کر مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے اور ابن عمر (رض) ان دنوں یعنی ایام تشریق میں ان جمروں پر پیدل آتے اور پیدل جاتے اور کہتے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
(۹۵۵۷)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَی الأَشْیَبُ حَدَّثَنَا الْعُمَرِیُّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ کَانَ یَرْمِی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ وَہُوَ رَاکِبٌ یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ۔وَعَن ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہ عَنْہُ قَالَ : کَانَ إِذَا کَانَ ہَذِہِ الأَیَّامُ یَعْنِی أَیَّامَ التَّشْرِیقِ أَتَاہَا مَاشِیًا ذَاہِبًا وَرَاجِعًا وَذَکَرَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ کَانَ یَفْعَلُہُ۔

[صحیح۔ ابوداود ۱۹۶۹۔ احمد ۲/ ۱۳۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৬৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ آخری دو دنوں میں رمی کے لیے اترنے کا مستحب ہونا
(٩٥٥٨) ابن عمر (رض) جمروں کے پاس یوم نحر کے بعد والے تین دنوں میں پیدل آتے جاتے اور کہتے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس طرح کرتے تھے۔
(۹۵۵۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْقَاسِمِ: عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عُبَیْدِاللَّہِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ الْحُرْفِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّہُ کَانَ یَأْتِی الْجِمَارَ فِی الأَیَّامِ الثَّلاَثَۃِ بَعْدَ یَوْمِ النَّحْرِ مَاشِیًا ذَاہِبًا وَرَاجِعًا وَیُخْبِرُہُمْ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ کَانَ یَفْعَلُ ذَلِکَ۔

[صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৬৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ آخری دو دنوں میں رمی کے لیے اترنے کا مستحب ہونا
(٩٥٥٩) ایضاً

اور اس حدیث کو عبدالرحمن بن عبداللہ بن عمر نے اپنے والد اور چچا سے روایت کیا ہے، لیکن انھوں نے الایام الثلاثہ کا ذکر نہیں کیا اور اشیب کی روایت میں تین کی صراحت بھی نہیں ہے۔

امام شافعی (رض) فرماتے ہیں : یہ بات اس چیز کے مشابہ ہے کہ یوم النحر کو جب سوار ہو کر انھوں نے رمی کی ہو ، وہ اس لیے کی ہو کہ اپنی سواری کو مزدلفہ سے جلدی پہنچانے کی خاطر ہو کہ وہ یوم نفر کو سوار ہونے کی حالت میں ہی رمی کرسکیں۔ شیخ فرماتے ہیں : عطاء بن ابی رباح کا بھی یہی قول ہے۔
(۹۵۵۹) وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْن مَسْلَمَۃَ الْقَعْنَبِیِّ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ فَذَکَرَہُ۔

وَرَوَاہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہ وَعَمِّہِ وَلَمْ یَذْکُرْ قَوْلَہُ فِی الأَیَّامِ الثَّلاَثَۃِ وَلَیْسَ فِی رِوَایَۃِ الأَشْیَبِ أَیْضًا تَنْصِیصٌ عَلَی الثَّلاَثَۃِ۔

وَقَدْ قَالَ الشَّافِعِیُّ یُشْبِہُ إِذْ رَمَی یَوْمَ النَّحْرِ رَاکِبًا لاِتِّصَالِ رُکُوبِہِ مِنَ الْمُزْدَلِفَۃِ أَنْ یَرْمِیَ یَوْمَ النَّفَرِ رَاکِبًا لاِتِّصَالِ رُکُوبِہِ بِالصَّدْرِ۔

قَالَ الشَّیْخُ : وَہَذَا قَوْلُ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৬৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ آخری دو دنوں میں رمی کے لیے اترنے کا مستحب ہونا
(٩٥٦٠) عطاء فرماتے ہیں کہ رمیٔ جمار دونوں سوار ہو کر اور دو دن پیدل ہے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ اگر عمر کی حدیث صحیح ہو تو یہ اتباع کے زیادہ لائق ہے۔
(۹۵۶۰)أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی : زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ قَالَ

قَالَ عَطَائٌ : رَمْیُ الْجِمَارِ رُکُوبُ یَوْمَیْنِ وَمَشْیُ یَوْمَیْنِ

قَالَ الشَّیْخُ : فَإِنْ صَحَّ حَدِیثُ الْعُمَرِیِّ کَانَ أَوْلَی بِالاِتِّبَاعِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح۔ ابن ابی شیبہ ۱۳۷۴۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৬৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ آخری دو دنوں میں رمی کے لیے اترنے کا مستحب ہونا
(٩٥٦١) قاسم کہتے ہیں کہ لوگ جمروں کو مارنے کے لیے پیدل ہی آتے جاتے تھے اور معاویہ (رض) ہیں جو سب سے پہلے سوار ہوئے۔
(۹۵۶۱)وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ النَّاسَ کَانُوا إِذَا رَمَوُا الْجِمَارَ مَشَوْا ذَاہِبِینَ وَرَاجِعِینَ وَأَوَّلُ مَنْ رَکِبَ مُعَاوِیَۃُ بْنُ أَبِی سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ مالک ۹۱۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৬৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ آخری دو دنوں میں رمی کے لیے اترنے کا مستحب ہونا
(٩٥٦٢) جابر بن عبداللہ جمار کی طرف ضرورت کے بغیر سوار ہو کر جانا ناپسند فرماتے تھے۔
(۹۵۶۲)وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی الْعَوَّامِ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَرْکَبَ إِلَی شَیْئٍ مِنَ الْجِمَارِ إِلاَّ مِنْ ضَرُورَۃٍ۔ کَذَا وَجَدْتُہُ فِی کِتَابِی وَقَدْ سَقَطَ مِنْ إِسْنَادِہِ بَیْنَ إِبْرَاہِیمَ وَعَطَائٍ رَجُلٌ وَرِوَایَۃُ ابْنِ عُیَیْنَۃَ أَصَحُّ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৬৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کو مارنے کا بہترین وقت
(٩٥٦٣) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جمرہ ٔعقبہ کی رمی پہلے دن چاشت کے وقت کرتے دیکھا اور یہ اکیلی ہی ہے اور اس کے بعد زوال شمس کے بعد۔
(۹۵۶۳)أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ لَہِیعَۃَ وَابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ رَمَی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ أَوَّلَ یَوْمٍ ضُحًی وَہِیَ وَاحِدَۃٌ وَأَمَّا بَعْدَ ذَلِکَ فَبَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۹۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৬৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کو مارنے کا بہترین وقت
(٩٥٦٤) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مزدلفہ کی رات بنی عبدالمطلب کے نوجوانوں کے ساتھ آگے بھیجا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری رانوں پر مارنے لگے اور فرما رہے تھے : اے بیٹو ! سورج طلوع ہونے سے پہلے نہ مارو۔
(۹۵۶۴)أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِیُّ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِیِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَدَّمَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ لَیْلَۃَ الْمُزْدَلِفَۃِ أُغَیْلِمَۃَ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَجَعَلَ یَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا بِیَدِہِ وَیَقُولُ : أَیْ أُبَیْنِیَّ لاَ تَرْمُوا حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔

[صحیح۔ ابوداود ۱۹۴۰۔ نسائی ۳۰۶۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৭০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کو مارنے کا بہترین وقت
(٩٥٦٥) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم بنی عبدالمطلب کے نوجوانوں کے پاس آتے اور ہمیں ہمارے گدھوں پر سوار کرتے اور ہماری رانوں پر تھپکی دیتے۔ پھر فرماتے : جمرہ کو سورج طلوع ہونے سے پہلے نہ مارو اور میں نہیں سمجھتا کہ کسی نے سورج چڑھنے سے پہلے رمی کی ہو۔
(۹۵۶۵)وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَیْبٍ الْبَزْمَہْرَانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِیِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ یَأْتِینَا أُغَیْلِمَۃَ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَحَمَلَنَا عَلَی حُمُرَاتِنَا وَلَطَحَ أَفْخَاذَنَا ثُمَّ قَالَ : لاَ تَرْمُوا الْجَمْرَۃَ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلاَ أَظُنُّ أَحَدًا یَرْمِیہَا حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক: