আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৮৮ টি
হাদীস নং: ৯৫৭১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کو مارنے کا بہترین وقت
(٩٥٦٦) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جمرہ کو سورج نکلنے سے پہلے نہ مارو۔
(۹۵۶۶)وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ مُلاَعِبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِیُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ قَالَ : لاَ تَرْمُوا الْجَمْرَۃَ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ ۔
[صحیح لغیرہ۔ ترمذی ۸۹۳]
[صحیح لغیرہ۔ ترمذی ۸۹۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৭২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کو مارنے کا بہترین وقت
(٩٥٦٧) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ کی صبح حکم دیتے کہ فجر کے آغاز میں اندھیرے ہی میں چلے جائیں اور صبح سے پہلے رمی نہ کریں۔
(۹۵۶۷)وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ السَّقَّائِ الْمِہْرَجَانِیُّ وَأَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ الْمِہْرَجَانِیُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا فُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ أَخْبَرَنِی کُرَیْبٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ کَانَ یَأْمُرُ نِسَائَ ہُ وَثَقَلَہُ مِنْ صَبِیحَۃِ جَمْعٍ أَنْ یُفِیضُوا مَعَ أَوَّلِ الْفَجْرِ بِسَوَادٍ وَأَنْ لاَ یَرْمُوا الْجَمْرَۃَ إِلاَّ مُصْبِحِینَ۔ [صحیح۔ شرح المعانی ۲/ ۲۱۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৭৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے آدھی رات کے بعد رمی کو جائز قرار دیا
(٩٥٦٨) عبداللہ نے کہا : اسماء کہتی ہیں کہ وہ جمع کی رات مزدلفہ والے گھر کے پاس اتری تو نماز پڑھنے لگی ، نماز پڑھی تو کہنے لگیں اے بیٹے ! کیا چاند غروب ہوگیا ہے ؟ میں نے کہا : نہیں پھر ایک گھڑی نماز پڑھی ، پھر پوچھا : اے بیٹے ! کیا چاند غائب ہوگیا ہے ؟ میں نے کہا : ہاں ! کہنے لگیں ، پھر چلو ہم چلے حتیٰ کہ جمرہ کو مارا ۔ پھر واپس آئی اور صبح کی نماز اپنے گھر میں آکرپڑھی۔ میں نے کہا : میرا خیال ہے ہم نے اندھیرے میں رمی کی ہے ! کہنے لگی : نہیں ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں کو اجازت دی ہے۔
(۹۵۶۸)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ مَوْلَی أَسْمَائَ عَنْ أَسْمَائَ : أَنَّہَا نَزَلَتْ لَیْلَۃَ جَمْعٍ عِنْدَ دَارِ الْمُزْدَلِفَۃِ فَقَامَتْ تُصَلِّی فَصَلَّتْ ثُمَّ قَالَتْ : یَا بُنَیَّ ہَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ : لاَ فَصَلَّتْ سَاعَۃً ثُمَّ قَالَتْ : یَا بُنَیَّ ہَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ : نَعَمْ قَالَتْ فَارْتَحِلُوا فَارْتَحَلْنَا فَمَضَیْنَا حَتَّی رَمَتِ الْجَمْرَۃَ ثُمَّ رَجَعَتْ فَصَلَّتِ الصُّبْحَ فِی مَنْزِلِہَا فَقُلْتُ لَہَا : أَیْ ہَنْتَاہْ مَا أُرَانَا إِلاَّ قَدْ غَلَّسْنَا۔ قَالَتْ : کَلاَّ یَا بُنَیَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ أَذِنَ لِلظُّعُنِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۹۵۹]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۹۵۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৭৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے آدھی رات کے بعد رمی کو جائز قرار دیا
(٩٥٦٩) عبداللہ فرماتے ہیں کہ جب اسماء مزدلفہ میں تھی تو اس نے کہا : کیا چاند غائب ہوگیا ہے ؟ میں نے کہا : نہیں پھر اس نے کچھ دیر نماز پڑھی ، پھر کہا : کیا چاند غائب ہوگیا ہے ؟ میں نے کہا : ہاں ! کہتی ہیں : میرے ساتھ سوار ہو۔ ہم سوار ہوئے حتیٰ کہ اس نے جمرہ کو رمی کی ۔ پھر گھر آکر نماز پڑھی ، میں نے کہا : کیا ہم نے جلدی نہیں کرلی ! کہتی ہیں : نہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں کو اجازت دی ہے۔
(۹۵۶۹)وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ مَوْلَی أَسْمَائَ قَالَ قَالَتْ أَسْمَائُ وَہِیَ بِالْمُزْدَلِفَۃِ : ہَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ قُلْتُ : لاَ فَصَلَّتْ سَاعَۃً ثُمَّ قَالَتْ : یَا بُنَیَّ ہَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ قُلْتُ : نَعَمْ قَالَتْ : ارْحَلْ بِی فَارْتَحَلْنَا حَتَّی رَمَتِ الْجَمْرَۃَ ثُمَّ صَلَّتْ فِی مَنْزِلِہَا فَقُلْتُ لَہَا : أَیْ ہَنْتَاہْ لَقَدْ غَلَّسْنَا۔ قَالَتْ : کَلاَّ إِنَّ النَّبِیَّ -ﷺ أَذِنَ لِلظُّعُنِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عِیسَی بْنُ یُونُسَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۹۱]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عِیسَی بْنُ یُونُسَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۹۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৭৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے آدھی رات کے بعد رمی کو جائز قرار دیا
(٩٥٧٠) عطاء کہتے ہیں : مجھے کسی نے اسماء کے بارے میں خبر دی کہ انھوں نے جمرہ کو مارا تو میں نے کہا : ہم نے توراۃ کو ہی رمی کرلی ہے، کہنے لگیں : ہم یہ کام نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں بھی کیا کرتے تھے۔
(۹۵۷۰)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاہِلِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِی عَطَائٌ قَالَ أَخْبَرَنِی مُخْبِرٌ عَنْ أَسْمَائَ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہَا : أَنَّہَا رَمَتِ الْجَمْرَۃَ قُلْتُ : إِنَّا رَمَیْنَا الْجَمْرَۃَ بِلَیْلٍ قَالَتْ : إِنَّا کُنَّا نَصْنَعُ ہَذَا عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -۔
[صحیح۔ ابوداود ۱۹۴۳]
[صحیح۔ ابوداود ۱۹۴۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৭৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے آدھی رات کے بعد رمی کو جائز قرار دیا
(٩٥٧١) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ام سلمہ (رض) کو نحر کی رات بھیجا، انھوں نے فجر سے پہلے رمی کی ، پھر لوٹ گئیں اور یہ وہ دن تھا جس دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس ہوتے تھے۔
(۹۵۷۱)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ یَعْقُوبَ الثَّقَفِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْجُنَیْدِ الْمَالِکِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی فُدَیْکٍ حَدَّثَنِی الضَّحَّاکُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ بِأُمِّ سَلَمَۃَ لَیْلَۃَ النَّحْرِ فَرَمَتِ الْجَمْرَۃَ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ مَضَتْ فَأَفَاضَتْ وَکَانَ ذَلِکَ الْیَوْمَ الَّذِی یَکُونُ عِنْدَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -۔ [منکر۔ ابوداود ۱۹۴۲۔ حاکم ۱/ ۶۴۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৭৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے آدھی رات کے بعد رمی کو جائز قرار دیا
(٩٥٧٢) ایضاً
(۹۵۷۲)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی فُدَیْکٍ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ۔ [منکر۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৭৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے آدھی رات کے بعد رمی کو جائز قرار دیا
(٩٥٧٣) (الف) عروہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ام سلمہ کے پاس نحر والے دن گئے تو انھیں حکم دیا کہ وہ جلدی جمع سے لوٹ جائیں حتیٰ کہ مکہ میں جا کر صبح کی نماز ادا کریں اور وہ ان کا دن تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پسند کیا کہ یہ آپ کے ساتھ ملیں۔
(ب) ایک دوسری سند سے ام سلمہ اسی کی مثل روایت بیان کرتی ہیں : اسی طرح اس کو انھوں نے املاء میں روایت کیا ہے اور المختصر الکبیر میں دونوں سندوں کے ساتھ بیان کیا ہے مگر یہ کہ انھوں نے فرمایا : حتیٰ کہ جمرہ کو کنکریاں مار لیں اور وہ مکہ میں صبح کی نماز کے وقت ان کے ساتھ ملیں اور وہ ان (ام سلمہ) کا دن تھا پس آپ نے پسند کیا کہ وہ آپ کے ساتھ ملیں۔
اور دوسری سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
(ب) ایک دوسری سند سے ام سلمہ اسی کی مثل روایت بیان کرتی ہیں : اسی طرح اس کو انھوں نے املاء میں روایت کیا ہے اور المختصر الکبیر میں دونوں سندوں کے ساتھ بیان کیا ہے مگر یہ کہ انھوں نے فرمایا : حتیٰ کہ جمرہ کو کنکریاں مار لیں اور وہ مکہ میں صبح کی نماز کے وقت ان کے ساتھ ملیں اور وہ ان (ام سلمہ) کا دن تھا پس آپ نے پسند کیا کہ وہ آپ کے ساتھ ملیں۔
اور دوسری سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
(۹۵۷۳)أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ حَدَّثَنَا الشَّافِعِیُّ عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارِ وَعَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : دَارَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ إِلَی أُمِّ سَلَمَۃَ یَوْمَ النَّحْرِ فَأَمَرَہَا أَنْ تُعَجِّلَ الإِفَاضَۃَ مِنْ جَمْعٍ حَتَّی تَأْتِیَ مَکَّۃَ فَتُصَلِّی بِہَا الصُّبْحَ وَکَانَ یَوْمُہَا فَأَحَبَّ أَنْ تُوَافِقَہُ۔
قَالَ وَحَّدَثَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ أَخْبَرَنِی مَنْ أَثِقُ بِہِ مِنَ الْمَشْرِقِیِّینِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ مِثْلَہُ۔ ہَکَذَا رَوَاہُ فِی الإِمْلاَئِ وَرَوَاہُ فِی الْمُخْتَصَرِ الْکَبِیرِ بِالإِسْنَادَیْنِ جَمِیعًا إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : حَتَّی تَرْمِیَ الْجَمْرَۃَ وَتُوَافِیَ صَلاَۃَ الصُّبْحِ بِمَکَّۃَ وَکَانَ یَوْمَہَا فَأَحَبَّ أَنْ تُوَافِقَہَ أَوْ تُوَافِیَہُ وَقَالَ فِی الإِسْنَادِ الثَّانِی أَخْبَرَنِی الثِّقَۃُ عَنْ ہِشَامٍ أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ فَذَکَرَہُ وَکَأَنَّ الشَّافِعِیَّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخَذَہُ مِنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ الضَّرِیرِ وَقَدْ رَوَاہُ أَبُو مُعَاوِیَۃَ مَوْصُولاً۔ [منکر۔ شافعی ۱۷۰۱]
قَالَ وَحَّدَثَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ أَخْبَرَنِی مَنْ أَثِقُ بِہِ مِنَ الْمَشْرِقِیِّینِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ مِثْلَہُ۔ ہَکَذَا رَوَاہُ فِی الإِمْلاَئِ وَرَوَاہُ فِی الْمُخْتَصَرِ الْکَبِیرِ بِالإِسْنَادَیْنِ جَمِیعًا إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : حَتَّی تَرْمِیَ الْجَمْرَۃَ وَتُوَافِیَ صَلاَۃَ الصُّبْحِ بِمَکَّۃَ وَکَانَ یَوْمَہَا فَأَحَبَّ أَنْ تُوَافِقَہَ أَوْ تُوَافِیَہُ وَقَالَ فِی الإِسْنَادِ الثَّانِی أَخْبَرَنِی الثِّقَۃُ عَنْ ہِشَامٍ أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ فَذَکَرَہُ وَکَأَنَّ الشَّافِعِیَّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخَذَہُ مِنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ الضَّرِیرِ وَقَدْ رَوَاہُ أَبُو مُعَاوِیَۃَ مَوْصُولاً۔ [منکر۔ شافعی ۱۷۰۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৭৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے آدھی رات کے بعد رمی کو جائز قرار دیا
(٩٥٧٤) ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا کہ صبح کی نماز یوم نحر کو مکہ میں ادا کریں۔
(۹۵۷۴)حَدَّثَنَاہُ کَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِی أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْبَیْہَقِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ أَمَرَہَا أَنْ تُوَافِیَ صَلاَۃَ الصُّبْحِ یَوْمَ النَّحْرِ بِمَکَّۃَ۔ [منکر۔ احمد ۶/ ۳۹۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৮০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ رمیٔ جمار کے بعد قربانی کرنا
(٩٥٧٥) جابر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج کا واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جمرہ ٔعقبہ کو رمی کی ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قربان گاہ کی طرف آئے تو تریسٹھ اونٹ نحر فرمائے اور باقی علی (رض) کو دیے جو انھوں نے نحر کیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اپنی قربانی میں شریک کرلیا ، پھر ہر اونٹ سے گوشت کا ٹکڑا لانے کا حکم دیا ، ان کو ایک ہنڈیا میں ڈالا گیا اس کو پکایا گیا ، پھر دونوں نے گوشت کھایا اور شوربا پیا۔
(۹۵۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ وَأَبُو بَکْرٍ الْوَرَّاقُ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرٍ فِی حَجِّ النَّبِیِّ -ﷺ فَذَکَرَ رَمْیَ جَمْرَۃِ الْعَقَبَۃِ قَالَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ ثَلاَثًا وَسِتِّینَ بَدَنَۃً وَأَعْطَی عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَکَہُ فِی ہَدْیِہِ ثُمَّ أَمَرَ مِنْ کُلِّ بَدَنَۃٍ بِبَضْعَۃٍ فَجُعِلَتْ فِی قِدْرٍ فَطُبِخَتْ فَأَکَلاَ مِنْ لَحْمِہَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِہَا۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرٍ۔ [صحیح۔ مسلم]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرٍ۔ [صحیح۔ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৮১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ سر منڈوانا اور بال کٹوانا اور سر منڈوانے والے کی بال کٹوانے پر ترجیح
(٩٥٧٦) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع میں سر منڈوایا۔
(۹۵۷۶)أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ قَالَ قَالَ نَافِعٌ کَانَ ابْنُ عُمَرَ یَقُولُ : حَلَقَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ۔
[صحیح۔ بخاری ۱۶۳۹۔ مسلم ۱۳۰۴]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ۔
[صحیح۔ بخاری ۱۶۳۹۔ مسلم ۱۳۰۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৮২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ سر منڈوانا اور بال کٹوانا اور سر منڈوانے والے کی بال کٹوانے پر ترجیح
(٩٥٧٧) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کی ایک جماعت نے سر منڈوایا اور بعض نے بال کٹوائے، ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک یا دو مرتبہ کہا : اے اللہ ! سر منڈوانے والوں پر رحم کر ، پھر کہا : اور بال کٹوانے والوں پر بھی۔
(۹۵۷۷)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : حَلَقَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ وَحَلَقَ طَائِفَۃٌ مِنْ أَصْحَابِہِ وَقَصَّرَ بَعْضُہُمْ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَالَ : رَحِمَ اللَّہُ الْمُحَلِّقِینَ ۔ مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ قَالَ : وَالْمُقَصِّرِینَ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَذَکَرَہُ الْبُخَارِیُّ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۴۰۔ ۱۳۰۱]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَذَکَرَہُ الْبُخَارِیُّ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۴۰۔ ۱۳۰۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৮৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ سر منڈوانا اور بال کٹوانا اور سر منڈوانے والے کی بال کٹوانے پر ترجیح
(٩٥٧٨) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما، یا انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اور بال کٹوانے والوں پر ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ سر منڈانے والوں پر رحم کرے ، انھوں نے کہا : اور بال کٹوانے والوں پر ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ سر منڈانے والوں پر رحم کرے ، انھوں نے کہا : اور بال کٹوانے والوں پر ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چوتھی مرتبہ فرمایا اور بال کٹوانے والوں پر بھی۔
(۹۵۷۸)وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِی عَلِیٍّ السَّقَّائُ وَأَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ الْمِہْرَجَانِیَّانِ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَالَ : یَرْحَمُ اللَّہُ الْمُحَلِّقِینَ ۔قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَالْمُقَصِّرِینَ قَالَ : یَرْحَمُ اللَّہُ الْمُحَلِّقِینَ ۔ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَالْمُقَصِّرِینَ قَالَ : یَرْحَمُ اللَّہُ الْمُحَلِّقِینَ ۔ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَالْمُقَصِّرِینَ قَالَ فِی الرَّابِعَۃِ : وَالْمُقَصِّرِینَ ۔ أَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ۔
[صحیح۔ بخاری ۱۶۴۰۔ مسلم ۱۳۰۱]
[صحیح۔ بخاری ۱۶۴۰۔ مسلم ۱۳۰۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৮৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ سر منڈوانا اور بال کٹوانا اور سر منڈوانے والے کی بال کٹوانے پر ترجیح
(٩٥٧٩) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! سر منڈانے والوں کو معاف فرما ، انھوں نے کہا : اور بال کٹوانے والوں کو، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! سر منڈانے والوں کو معاف فرما، انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اور بال کٹوانے والوں کو ، آپ نے فرمایا : اے اللہ ! سر منڈانے والوں کو معاف فرما ، انھوں نے کہا : اور بال کٹوانے والوں کو ؟ آپ نے فرمایا : اور بال کٹوانے والوں کو بھی۔
(۹۵۷۹)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ حَدَّثَنَا عُمَارَۃُ عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِینَ ۔ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَالْمُقَصِّرِینَ قَالَ : اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِینَ ۔ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَالْمُقَصِّرِینَ قَالَ : اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِینَ ۔ قَالُوا وَالْمُقَصِّرِینَ قَالَ : وَالْمُقَصِّرِینَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَیَّاشِ بْنِ الْوَلِیدِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ کُلُّہُمْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَیْلٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۴۱۔ مسلم ۱۳۰۲]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَیَّاشِ بْنِ الْوَلِیدِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ کُلُّہُمْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَیْلٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۴۱۔ مسلم ۱۳۰۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৮৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ دائیں جانب سے شروع کرنا پھر بائیں جانب والے کاٹنا
(٩٥٨٠) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جمرہ کو رمی کی اور قربانی نحر کی اور سر منڈوایا تو سر مونڈنے والے کو سر کا دائیاں حصہ دیا ، اس نے وہ مونڈا پھر ابو طلحہ انصاری کو بلاوایا اس کو وہ دے دیا ۔ پھر اسے بائیاں حصہ دیا اور کہا : مونڈ، اس نے مونڈا ، آپ نے وہ بھی ابو طلحہ کو دے دیا اور فرمایا : اسے لوگوں کے درمیان تقسیم کر دے۔
(۹۵۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ قَالَ وَحَدَّثَنَا عَلِیٌّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ سَمِعْتُ ہِشَامَ بْنَ حَسَّانَ یُخْبِرُ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : لَمَّا رَمَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ الْجَمْرَۃَ وَنَحَرَ نُسُکَہُ وَحَلَقَ نَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّہُ الأَیْمَنَ فَحَلَقَہُ ثُمَّ دَعَا أَبَا طَلْحَۃَ الأَنْصَارِیَّ فَأَعْطَاہُ إِیَّاہُ ثُمَّ نَاوَلَہُ الشِّقَّ الأَیْسَرَ فَقَالَ : احْلِقِ ۔ فَحَلَقَہُ فَأَعْطَاہُ أَبَا طَلْحَۃَ فَقَالَ : اقْسِمْہُ بَیْنَ النَّاسِ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۰۵]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۰۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৮৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے لیپ کیا یا مینڈھیاں بنائیں یا بال باندھے وہ حلق کروائے
(٩٥٨١) ام المومنین حفصہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیویوں کو حجۃ الوداع والے سال حکم دیا کہ حلال ہوجائیں تو حفصہ نے ان سے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حلال ہونے سے کیا چیز مانع ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے اپنے سر کو لیپ کیا ہے اور قربانی کو قلادہ ڈالا ہے تو میں جب تک قربانی نہ کرلوں حلال نہیں ہوسکتا۔
(۹۵۸۱)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ قَالَ قَالَ نَافِعٌ کَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ یَقُولُ أَخْبَرَتْنِی حَفْصَۃُ زَوْجُ النَّبِیِّ -ﷺ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ أَمَرَ أَزْوَاجَہُ أَنْ یَحْلِلْنَ عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فَقَالَتْ لَہُ حَفْصَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : فَمَا یَمْنَعُکَ أَنْ تَحِلَّ؟ فَقَالَ : إِنِّی لَبَّدْتُ رَأْسِی وَقَلَّدْتُ ہَدْیِی فَلاَ أَحِلُّ حَتَّی أَنْحَرَ ہَدْیِی ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ نَافِعٍ وَقَدْ رُوِّینَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ أَنَّہُ حَلَقَ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ۔
[صحیح۔ بخاری ۱۶۱۰۔ مسلم ۱۲۲۹]
[صحیح۔ بخاری ۱۶۱۰۔ مسلم ۱۲۲۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৮৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے لیپ کیا یا مینڈھیاں بنائیں یا بال باندھے وہ حلق کروائے
(٩٥٨٢) عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں : جس نے احرام کے لیے سر کی مینڈھیاں کیں ، وہ سر منڈائے لیپ کی مشابہت نہ کرو۔ [صحیح۔ مالک : ٨٩٣)
(۹۵۸۲)وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ قَالَ قَالَ نَافِعٌ کَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : مَنْ ضَفَّرَ رَأْسَہُ لإِحْرَامٍ فَلْیَحْلِقْ لاَ تَشَبَّہُوا بِالتَّلْبِیدِ۔ ہَذَا ہُوَ الصَّحِیحُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৮৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے لیپ کیا یا مینڈھیاں بنائیں یا بال باندھے وہ حلق کروائے
(٩٥٨٣) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے احرام کے لیے سر کو لیپ کیا اس پر سر منڈانا واجب ہوگیا۔
(۹۵۸۳) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی فُدَیْکٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نَافِعٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَالَ : مَنْ لَبَّدَ رَأْسَہُ لِلإِحْرَامِ فَقَدْ وَجَبَ عَلَیْہِ الْحِلاَقُ ۔
عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نَافِعٍ ہَذَا لَیْسَ بِالْقَوِیِّ وَالصَّحِیحُ أَنَّہُ مِنْ قَوْلِ عُمَرَ وَابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَکَذَلِکَ رَوَاہُ سَالِمٌ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُمَرَ۔ [منکر]
عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نَافِعٍ ہَذَا لَیْسَ بِالْقَوِیِّ وَالصَّحِیحُ أَنَّہُ مِنْ قَوْلِ عُمَرَ وَابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَکَذَلِکَ رَوَاہُ سَالِمٌ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُمَرَ۔ [منکر]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৮৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے لیپ کیا یا مینڈھیاں بنائیں یا بال باندھے وہ حلق کروائے
(٩٥٨٤) عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب (رض) کو یہ کہتے ہوئے س ناکہ جس نے سر کی مینڈھیاں بنائیں وہ حلق کروائے اور لیپ کی مشابہت نہ کرو اور عبداللہ فرماتے ہیں : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تلبید کی حالت میں دیکھا۔
(۹۵۸۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی سَالِمٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ کَانَ یَقُولُ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ یَقُولُ : مَنْ ضَفَّرَ فَلْیَحْلِقْ لاَ تَشَبَّہُوا بِالتَّلْبِیدِ۔ قَالَ وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ یَقُولُ : لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ مُلَبِّدًا۔ [صحیح۔ بخاری ۵۵۷۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৯০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے لیپ کیا یا مینڈھیاں بنائیں یا بال باندھے وہ حلق کروائے
(٩٥٨٥) ایضاً
(۹۵۸۵)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِیُّ فَذَکَرَہُ
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
তাহকীক: