আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৮৮ টি
হাদীস নং: ৯৫৯১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے لیپ کیا یا مینڈھیاں بنائیں یا بال باندھے وہ حلق کروائے
(٩٥٨٦) عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں : جس نے بالوں کو باندھا یا بال باندھے وہ حلق کروائے۔
(۹۵۸۶)وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِید عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَنْ عَقَصَ أَوْ ضَفَّرَ أَوْ لَبَّدَ فَقَدَ وَجَبَ عَلَیْہِ الْحِلاَقُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৯২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے لیپ کیا یا مینڈھیاں بنائیں یا بال باندھے وہ حلق کروائے
(٩٥٨٧) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : جس نے لیپ کیا یا مینڈیاں بنائیں یا بال باندھے وہ حلق کروائے۔
(۹۵۸۷)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُو حُذَیْفَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَنْ لَبَّدَ أَوْ ضَفَّرَ أَوْ عَقَصَ فَلْیَحْلِقْ۔
ہَذَا ہُوَ الصَّحِیحُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ قَوْلِہِ وَعَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ قَوْلِہِ۔ [صحیح]
ہَذَا ہُوَ الصَّحِیحُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ قَوْلِہِ وَعَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ قَوْلِہِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৯৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے لیپ کیا یا مینڈھیاں بنائیں یا بال باندھے وہ حلق کروائے
(٩٥٨٨) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے سر کو لیپ کیا تو وہ سر منڈائے۔ اس پر سر منڈانا واجب ہے۔
(۹۵۸۸)وَقَدْ رَوَاہُ عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْعُمَرِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ : مَنْ لَبَّدَ رَأْسَہُ فَلْیَحْلِقْ فَقَدْ وَجَبَ عَلَیْہِ الْحِلاَقُ ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعْدٍ الصُّوفِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْمَدَائِنِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نَافِعٍ عَنْ عَاصِمٍ فَذَکَرَہُ۔
وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ ضَعِیفٌ وَلاَ یَثْبُتُ ہَذَا مَرْفُوعًا۔ [منکر۔ ابن عدی ۵/ ۲۲۹]
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعْدٍ الصُّوفِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْمَدَائِنِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نَافِعٍ عَنْ عَاصِمٍ فَذَکَرَہُ۔
وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ ضَعِیفٌ وَلاَ یَثْبُتُ ہَذَا مَرْفُوعًا۔ [منکر۔ ابن عدی ۵/ ۲۲۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৯৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے لیپ کیا یا مینڈھیاں بنائیں یا بال باندھے وہ حلق کروائے
(٩٥٨٩) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : جس نے لیپ کیا یا مینڈھیاں بنائیں یا بالوں کو جل دیے یا بال باندھے تو وہ اپنی نیت پر ہی ہے اور ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : سرمنڈانا ضروری ہے۔
(۹۵۸۹)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الأَصْبَہَانِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ بِبُخَارَی أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَنْ لَبَّدَ أَوْ ضَفَّرَ أَوْ عَقَدَ أَوْ فَتَلَ أَوْ عَقَصَ فَہُوَ عَلَی مَا نَوَی مِنْ ذَلِکَ۔
قَالَ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : حَلَقَ لاَ بُدَّ۔ [صحیح۔ ابن ابی شیبہ ۱۴۵۰۶]
قَالَ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : حَلَقَ لاَ بُدَّ۔ [صحیح۔ ابن ابی شیبہ ۱۴۵۰۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৯৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ پہلی حلت میں احرام کی وجہ سے ممنوعہ چیزوں میں سے کیا حلال ہوتا ہے
(٩٥٩٠) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے لوگوں کو عرفہ میں خطبہ دیا اور ان کو مناسک حج بتائے اور اس دوران یہ بات بھی کہی کہ صبح کو ان شاء اللہ تم جمع سے لوٹو گے تو جس نے جمرہ قصوی جو کہ عقبہ کے پاس ہے رمی کی سات کنکریوں کے ساتھ، پھر آکر اس نے قربانی کی، اگر اس کے پاس ہے تو پھر اس نے سر منڈایا یا بال کٹوائے تو اس کے لیے وہ تمام کچھ حلال ہوجائے گا جو حج کی وجہ سے حرام تھا، عورتوں اور خوشبو کے سوا لہٰذا کوئی بھی نہ تو خوشبو کو چھوئے نہ عورتوں کو حتیٰ کہ بیت اللہ کا طواف کرلے۔
(۹۵۹۰)أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ أَخْبَرَنِی نَافِعٌ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ : خَطَبَ النَّاسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ بِعَرَفَۃَ فَحَدَّثَہُمْ عَنْ مَنَاسِکِ الْحَجِّ فَقَالَ فِیمَا یَقُولُ : إِذَا کَانَ بِالْغَدَاۃِ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی فَدَفَعْتُمْ مِنْ جَمْعٍ فَمَنْ رَمَی الْجَمْرَۃَ الْقُصْوَی الَّتِی عِنْدَ الْعَقَبَۃِ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَحَرَ ہَدْیًا إِنْ کَانَ لَہُ ثُمَّ حَلَقَ أَوْ قَصَّرَ فَقَدْ حَلَّ لَہُ مَا حَرُمَ عَلَیْہِ مِنْ شَأْنِ الْحَجِّ إِلاَّ طِیبًا أَوْ نِسَائً فلاَ یَمَسَّ أَحَدٌ طِیبًا وَلاَ نِسَائً حَتَّی یَطُوفَ بِالْبَیْتِ۔ [صحیح۔ مالک ۹۲۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৯৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ پہلی حلت میں احرام کی وجہ سے ممنوعہ چیزوں میں سے کیا حلال ہوتا ہے
(٩٥٩١) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : میں نے عمر (رض) کو یہ کہتے ہوئے س ناکہ جب تم جمرہ کو سات کنکریاں مار لو اور ذبح کرلو اور سر منڈا لو تو تمہارے لیے عورتوں اور خوشبو کے علاوہ باقی سب حلال ہے۔
عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ محرم کے لیے عورتوں سے سوا سب کچھ حلال ہوجاتا ہے اور فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خوشبو لگائی، وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلال ہونے کو مراد لے رہی تھیں۔
عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ محرم کے لیے عورتوں سے سوا سب کچھ حلال ہوجاتا ہے اور فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خوشبو لگائی، وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلال ہونے کو مراد لے رہی تھیں۔
(۹۵۹۱)وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : إِذَا رَمَیْتُمُ الْجَمْرَۃَ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ وَذَبَحْتُمْ وَحَلَقْتُمْ فَقَدْ حَلَّ لَکُمْ کُلُّ شَیْئٍ إِلاَّ النِّسَائَ وَالطِّیبَ۔
قَالَ سَالِمٌ وَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : حَلَّ لَہُ کُلُّ شَیْئٍ إِلاَّ النِّسَائَ ۔
قَالَ: وَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَا طَیَّبْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ تَعْنِی لِحِلِّہِ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
قَالَ سَالِمٌ وَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : حَلَّ لَہُ کُلُّ شَیْئٍ إِلاَّ النِّسَائَ ۔
قَالَ: وَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَا طَیَّبْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ تَعْنِی لِحِلِّہِ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৯৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ پہلی حلت میں احرام کی وجہ سے ممنوعہ چیزوں میں سے کیا حلال ہوتا ہے
(٩٥٩٢) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خوشبو لگاتی تھی، حِل کے لیے بھی اور احرام کے لیے بھی۔ سالم کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت اتباع کرنے کی زیادہ حق دار ہے۔
(۹۵۹۲)وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ سَالِمٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہَا : أَنَا طَیَّبْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ لِحِلِّہِ وَإِحْرَامِہِ۔ قَالَ سَالِمٌ : وَسُنَّۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ أَحَقُّ أَنْ تُتَّبَعَ۔
[صحیح۔ شافعی ۵۵۱۔ طیالسی ۱۵۵۳]
[صحیح۔ شافعی ۵۵۱۔ طیالسی ۱۵۵۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৯৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ پہلی حلت میں احرام کی وجہ سے ممنوعہ چیزوں میں سے کیا حلال ہوتا ہے
(٩٥٩٣) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ کے حرم کے لیے خوشبو لگاتی احرام کے وقت اور حلال ہونے کے لیے طواف بیت اللہ سے پہلے۔
(۹۵۹۳)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ الأَہْوَازِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَیْدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ قَالَتْ : طَیَّبْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ لِحُرْمِہِ حِینَ أَحْرَمَ وَلِحِلِّہِ حِینَ أَحَلَّ قَبْلَ أَنْ یَطُوفَ بِالْبَیْتِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ وَقَدْ مَضَی فِی أَوَائِلِ ہَذَا الْکِتَابِ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۴۶۵۔ مسلم ۱۱۸۹]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ وَقَدْ مَضَی فِی أَوَائِلِ ہَذَا الْکِتَابِ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۴۶۵۔ مسلم ۱۱۸۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৯৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ پہلی حلت میں احرام کی وجہ سے ممنوعہ چیزوں میں سے کیا حلال ہوتا ہے
(٩٥٩٤) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے ہاتھوں سے حجۃ الوداع کے موقع پر حل اور احرام کے لیے بذریرہ خوشبو لگائی۔
(۹۵۹۴)وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُرْوَۃَ أَنَّہُ سَمِعَ عُرْوَۃَ وَالْقَاسِمَ یُخْبِرَانِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : طَیَّبْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ بِیَدَیَّ بِذَرِیرَۃٍ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ لِلْحِلِّ وَالإِحْرَامِ۔
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۴۸۶۔ مسلم ۱۱۸۹]
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۴۸۶۔ مسلم ۱۱۸۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৬০০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ پہلی حلت میں احرام کی وجہ سے ممنوعہ چیزوں میں سے کیا حلال ہوتا ہے
(٩٥٩٥) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو احرام باندھنے سے پہلے خوشبو لگائی اور یوم نحر کو بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے ، ایسی خوشبو جس میں کستوری تھی۔
(۹۵۹۵)أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الدَّوْرَقِیُّ وَأَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ ابْنُ بِنْتِ أَحْمَدَ بْنِ مَنِیعٍ حَدَّثَنَا جَدِّی قَالاَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ یَعْنِی ابْنَ زَاذَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کُنْتُ أُطَیِّبُ النَّبِیَّ -ﷺ لِحُرْمِہِ قَبْلَ أَنْ یُحْرِمَ وَیَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ یَطُوفَ بِالْبَیْتِ بِطِیبٍ فِیہِ مِسْکٌ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مَنِیعٍ وَیَعْقُوبَ الدَّوْرَقِیِّ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۱۹۱]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مَنِیعٍ وَیَعْقُوبَ الدَّوْرَقِیِّ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۱۹۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৬০১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ پہلی حلت میں احرام کی وجہ سے ممنوعہ چیزوں میں سے کیا حلال ہوتا ہے
(٩٥٩٦) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : جب تم جمرہ کی رمی کرلو تو تم ہر اس چیز کے لیے حلال ہو جو تم پر حرام تھی ، عورتوں کے سوا حتیٰ کہ بیت اللہ کا طواف کرلو، ایک آدمی نے کہا : اے ابوالعباس اور خوشبو ؟ انھوں نے اس کو جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے وہ سر پر کستوری لگاتے تھے تو کیا وہ خوشبو ہے یا نہیں ؟
(۹۵۹۶)أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِیُّ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِیِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِذَا رَمَیْتُمُ الْجَمْرَۃَ فَقَدْ حَلَلْتُمْ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ کَانَ عَلَیْکُمْ حَرَامًا إِلاَّ النِّسَائَ حَتَّی تَطُوفُوا بِالْبَیْتِ۔ فَقَالَ رَجُلٌ : وَالطِّیبُ یَا أَبَا الْعَبَّاسِ فَقَالَ لَہُ : إِنِّی رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یُضَمِّخُ رَأْسَہُ بِالْمِسْکِ أَفَطِیبٌ ہُوَ أَمْ لاَ۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح لغیرہ۔ احمد ۱/ ۲۳۴۔ ابن ماجہ ۳۰۴۱۔ نسائی ۳۰۸۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৬০২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ پہلی حلت میں احرام کی وجہ سے ممنوعہ چیزوں میں سے کیا حلال ہوتا ہے
(٩٥٩٧) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم رمی کرلو اور سر منڈالو تو تمہارے لیے خوشبو اور کپڑے اور ہر چیز حلال ہے عورتوں کے سوا۔
(۹۵۹۷)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ : إِذَا رَمَیْتُمْ وَحَلَقْتُمْ فَقَدْ حَلَّ لَکُمُ الطِّیبُ وَالثِّیَابُ وَکُلُّ شَیْئٍ إِلاَّ النِّسَائَ ۔ [منکر۔ احمد ۶/ ۱۴۳۔ ابن خزیمہ ۲۹۳۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৬০৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ پہلی حلت میں احرام کی وجہ سے ممنوعہ چیزوں میں سے کیا حلال ہوتا ہے
(٩٥٩٨) ایضاً
اور فرماتے ہیں : عن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور یہ (حدیث) حجاج بن ارطاۃ کی خلط ملط روایات میں سے ہے اور عن عمرہ عن عائشہ عن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حدیث اسی طرح ہے جس طرح باقی سارے لوگ عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں۔
اور فرماتے ہیں : عن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور یہ (حدیث) حجاج بن ارطاۃ کی خلط ملط روایات میں سے ہے اور عن عمرہ عن عائشہ عن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حدیث اسی طرح ہے جس طرح باقی سارے لوگ عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں۔
(۹۵۹۸)وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ فَزَادَ فِیہِ : وَذَبَحْتُمْ فَقَدْ حَلَّ لَکُمْ کُلُّ شَیْئٍ الطِّیبُ وَالثِّیَابُ إِلاَّ النِّسَائَ ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ السَّقَّائِ وَأَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ فَذَکَرَہُ وَقَالَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ وَہَذَا مِنْ تَخْلِیطَاتِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاۃَ وَإِنَّمَا الْحَدِیثُ عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ کَمَا رَوَاہُ سَائِرُ النَّاسِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔ [انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৬০৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ پہلی حلت میں احرام کی وجہ سے ممنوعہ چیزوں میں سے کیا حلال ہوتا ہے
(٩٥٩٩) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو احرام کے لیے خوشبو لگائیجب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احرام باندھا اور حلال ہونے کے لیے طواف افاضہ سے پہلے، جو بھی خوشبو مجھے دستیاب ہوئی۔
(۹۵۹۹)أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو عَلِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ شِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی فُدَیْکٍ عَنِ الضَّحَّاکِ یَعْنِی ابْنَ عُثْمَانَ عَنْ أَبِی الرِّجَالِ عَنْ أُمِّہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : طَیَّبْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ لِحُرْمِہِ حِینَ أَحْرَمَ وَلِحِلِّہِ قَبْلَ أَنْ یُفِیضَ بِأَطْیَبِ مَا وَجَدْتُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ ، وَأُمُّ أَبِی الرِّجَالِ ہِیَ عَمْرَۃُ وَقَدْ رَوِیَتْ تِلْکَ اللَّفْظَۃُ فِی حَدِیثِ أُمِّ سَلَمَۃَ مَعَ حُکْمٍ آخَرَ لاَ أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ الْفُقَہَائِ یَقُولُ بِذَلِکَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۱۸۹]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ ، وَأُمُّ أَبِی الرِّجَالِ ہِیَ عَمْرَۃُ وَقَدْ رَوِیَتْ تِلْکَ اللَّفْظَۃُ فِی حَدِیثِ أُمِّ سَلَمَۃَ مَعَ حُکْمٍ آخَرَ لاَ أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ الْفُقَہَائِ یَقُولُ بِذَلِکَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۱۸۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৬০৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ پہلی حلت میں احرام کی وجہ سے ممنوعہ چیزوں میں سے کیا حلال ہوتا ہے
(٩٦٠٠) ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ نحر والی رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باری میرے پاس تھی تو میرے پاس وہب بن زمعہ اور ابن امیہ کا ایک اور آدمی آیا ، انھوں نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں، ان دونوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم نے طواف افاضہ کرلیا ہے ؟ انھوں نے کہا : نہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اپنی یہ قمیصیں اتار دو تو انھوں نے اتار دیں ۔ وہب نے پوچھا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کس وجہ سے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس دن اللہ تعالیٰ نے تمہیں رخصت دی ہے کہ جب تم رمی کرلو اور اگر قربانی ہے تو وہ بھی کرلو تو پھر تم ہر چیز سے حلال ہو جو تم پر حرام ہوئی تھی عورتوں کے علاوہ حتیٰ کہ بیت اللہ کا طواف کرلو تو جب شام ہوجائے اور تم نے افاضہ نہ کیا ہو تو تم پھر محرم بن جاؤ گے جیسے کہ تم پہلے تھے، حتیٰ کہ طواف افاضہ کرلو۔
(۹۶۰۰)أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَمْعَۃَ عَنْ أُمِّہِ وَأُمُّہُ زَیْنَبُ بِنْتُ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ : کَانَتْ اللَّیْلَۃُ الَّتِی یَدُورُ فِیہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مَسَائَ لَیْلَۃِ النَّحْرِ فَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ عِنْدِی فَدَخَلَ عَلَیَّ وَہْبُ بْنُ زَمْعَۃَ وَرَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِی أُمَیَّۃَ مُتَقَمِّصَیْنِ فَقَالَ لَہُمَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : أَفَضْتُمَا ۔ قَالاَ : لاَ۔ قَالَ : فَانْزِعَا قَمِیصَکُمَا ۔ فَنَزَعَاہَا فَقَالَ لَہُ وَہْبٌ : وَلِمَ یَا رَسُولُ اللَّہِ؟ فَقَالَ : ہَذَا یَوْمٌ أُرْخِصَ لَکُمْ فِیہِ إِذَا رَمَیْتُمُ الْجَمْرَۃَ وَنَحَرْتُمْ ہَدْیًا إِنْ کَانَ لَکُمْ فَقَدْ حَلَلْتُمْ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ حَرُمْتُمْ مِنْہُ إِلاَّ النِّسَائَ حَتَّی تَطُوفُوا بِالْبَیْتِ فَإِذَا أَمْسَیْتُمْ وَلَمْ تُفِیضُوا صِرْتُمْ حُرُمًا کَمَا کُنْتُمْ أَوَّلَ مُرَّۃٍ حَتَّی تَطُوفُوا بِالْبَیْتِ ۔ [حسن۔ ابوداود ۱۹۹۹۔ احمد ۶/ ۲۹۵۔ ابن خزیمہ ۲۹۵۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৬০৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ پہلی حلت میں احرام کی وجہ سے ممنوعہ چیزوں میں سے کیا حلال ہوتا ہے
(٩٦٠١) (الف) ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ یوم نحر کی شام کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی میرے گھر باری تھی ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے اور وہب بن زمعہ اور آل ابی امیہ کا ایک شخص قمیص پہنے ہوئے داخل ہوئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہب سے پوچھا : ابوعبداللہ ! تو نے افاضہ کرلیا ہے ؟ کہنے لگا نہیں اللہ کی قسم ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی قمیص اتار دے تو اس نے سر کی جانب سے اتار دی اور اس کے ساتھی نے بھی۔ ان دونوں نے کہا : اس کی کیا وجہ ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس دن تمہیں رخصت دی گئی ہے کہ جب تم رمی جمار کرلو تو ہر وہ چیز جو تم پر حرام تھی تمہارے لیے عورتوں کے سوا حلال ہوجائے گی۔ لیکن جب شام ہوجائے اور بیت اللہ کا طواف ابھی تک نہ کیا ہو تو تم پہلے کی طرح پھر حرام ہوجاؤ گے۔ جس طرح تم رمیٔ جمار کرنے سے پہلے تھے، حتیٰ کہ طواف کرلو۔
(ب) ابوعبیدہ فرماتے ہیں : مجھے ام قیس بنت محصن نے حدیث بیان کی اور وہ ان کی پڑوسن تھیں فرماتی ہیں کہ عکاشہ بن محصن یوم النحر کی شام میرے پاس سے بنو اسد کے ایک قافلہ میں روانہ ہوئے ، ان سب نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں، پھر جب عشاء کے وقت میرے پاس واپس لوٹے تو وہ اپنی قمیصوں کو ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے تھے ۔ فرماتی ہیں : میں نے کہا : اے عکاشہ ! یہ کیا ماجرا ہے کہ تم قمیصیں پہن کر گئے تھے لیکن جب واپس پلٹے ہو تو اپنی قمیصوں کو ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے ہو ؟ تو انھوں نے فرمایا : خیریت ہے اے ام قیس ! یہ وہ دن تھا جس کے بارے میں ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رخصت دی تھی کہ جب ہم رمی جمار سے فارغ ہوجائیں تو ہر وہ چیز ہمارے لیے حلال ہوگئی تھی جو ہم پر حرام تھی سوائے عورتوں کے۔ یہاں تک کہ ہم بیت اللہ کا طواف نہ کرلیں، پس جب شام ہوگئی جب کہ ہم نے بیت اللہ کا طواف (ابھی تک) نہیں کیا تھا تو ہم نے قمیصوں کو اتار کر ہاتھوں میں رکھ لیا ہے۔
اسی طرح اس کو ابوداؤد (رض) نے کتاب السنن میں احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین سے پہلی سند کے ساتھ روایت کیا ہے نہ کہ دوسری سند کے ساتھ ام قیس سے اور انھوں نے بھی (اسی طرح) ذبح (قربانی) کا ذکر نہیں کیا۔
(ب) ابوعبیدہ فرماتے ہیں : مجھے ام قیس بنت محصن نے حدیث بیان کی اور وہ ان کی پڑوسن تھیں فرماتی ہیں کہ عکاشہ بن محصن یوم النحر کی شام میرے پاس سے بنو اسد کے ایک قافلہ میں روانہ ہوئے ، ان سب نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں، پھر جب عشاء کے وقت میرے پاس واپس لوٹے تو وہ اپنی قمیصوں کو ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے تھے ۔ فرماتی ہیں : میں نے کہا : اے عکاشہ ! یہ کیا ماجرا ہے کہ تم قمیصیں پہن کر گئے تھے لیکن جب واپس پلٹے ہو تو اپنی قمیصوں کو ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے ہو ؟ تو انھوں نے فرمایا : خیریت ہے اے ام قیس ! یہ وہ دن تھا جس کے بارے میں ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رخصت دی تھی کہ جب ہم رمی جمار سے فارغ ہوجائیں تو ہر وہ چیز ہمارے لیے حلال ہوگئی تھی جو ہم پر حرام تھی سوائے عورتوں کے۔ یہاں تک کہ ہم بیت اللہ کا طواف نہ کرلیں، پس جب شام ہوگئی جب کہ ہم نے بیت اللہ کا طواف (ابھی تک) نہیں کیا تھا تو ہم نے قمیصوں کو اتار کر ہاتھوں میں رکھ لیا ہے۔
اسی طرح اس کو ابوداؤد (رض) نے کتاب السنن میں احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین سے پہلی سند کے ساتھ روایت کیا ہے نہ کہ دوسری سند کے ساتھ ام قیس سے اور انھوں نے بھی (اسی طرح) ذبح (قربانی) کا ذکر نہیں کیا۔
(۹۶۰۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنِی أَبُو الْمُثَنَّی الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَمْعَۃَ عَنْ أَبِیہِ وَعَنْ أُمِّہِ زَیْنَبَ بِنْتِ أَبِی سَلَمَۃَ یُحَدِّثَانِہِ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ : کَانَتْ لَیْلَتِی الَّتِی یَصِیرُ إِلَیَّ فِیہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ تَعْنِی مَسَائَ یَوْمِ النَّحْرِ فَصَارَ إِلَیَّ فَدَخَلَ عَلَیَّ وَہْبُ بْنُ زَمْعَۃَ وَمَعَہُ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِی أُمَیَّۃَ مُتَقَمِّصَیْنِ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ لِوَہْبٍ : ہَلْ أَفَضْتَ أَبَا عَبْدِ اللَّہِ ۔ قَالَ : لاَ وَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : انْزِعْ عَنْکَ الْقَمِیصَ ۔ فَنَزَعَہُ مِنْ رَأْسِہِ وَنَزَعَ صَاحِبُہُ قَمِیصَہُ مِنْ رَأْسِہِ قَالاَ : وَلِمَ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ : إِنَّ ہَذَا یَوْمٌ رُخِّصَ لَکُمْ إِذَا رَمَیْتُمُ الْجَمْرَۃَ أَنْ تَحِلُّوا مِنْ کُلِّ مَا حَرُمْتُمْ مِنْہُ إِلاَّ النِّسَائَ فَإِذَا أَمْسَیْتُمْ قَبْلَ أَنْ تَطُوفُوا بِہَذَا الْبَیْتِ صِرْتُمْ حُرُمًا کَہَیْئَتِکُمْ قَبْلَ أَنْ تَرْمُوا الْجَمْرَۃَ حَتَّی تَطُوفُوا ۔
قَالَ أَبُوعُبَیْدَۃَ وَحَدَّثَتْنِی أُمُّ قَیْسٍ بِنْتُ مِحْصَنٍ وَکَانَتْ جَارَۃً لَہُمْ قَالَتْ: خَرَجَ مِنْ عِنْدِی عُکَّاشَۃُ بْنُ مِحْصَنٍ فِی نَفَرٍ مِنْ بَنِی أَسَدٍ مُتَقَمِّصِینَ عَشِیَّۃَ یَوْمِ النَّحْرِ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَیَّ عِشَائً وَقُمُصُہُمْ عَلَی أَیْدِیہِمْ یَحْمِلُونَہَا قَالَتْ فَقُلْتُ : أَیْ عُکَّاشَۃُ مَا لَکُمْ خَرَجْتُمْ مُتَقَمِّصِینَ ثُمَّ رَجَعْتُمْ وَقُمُصُکُمْ عَلَی أَیْدِیکُمْ تَحْمِلُونَہَا فَقَالَ : خَیْرٌ یَا أُمَّ قَیْسٍ کَانَ ہَذَا یَوْمًا رَخَّصَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ لَنَا فِیہِ إِذَا نَحْنُ رَمَیْنَا الْجَمْرَۃَ حَلَلْنَا مِنْ کُلِّ مَا حَرُمْنَا مِنْہُ إِلاَّ مَا کَانَ مِنَ النِّسَائِ حَتَّی نَطُوفَ بِالْبَیْتِ فَإِذَا أَمْسَیْنَا وَلَمْ نَطُفْ جَعَلْنَا قُمُصَنَا عَلَی أَیْدِینَا۔
ہَکَذَا رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ فِی کِتَابِ السُّنَنِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَیَحْیَی بْنِ مَعِینٍ بِالإِسْنَادِ الأَوَّلِ دُونَ الإِسْنَادِ الثَّانِی عَنْ أُمِّ قَیْسٍ وَلَمْ یَذْکُرِ الذَّبْحَ أَیْضًا۔ [حسن۔ انظر قبلہ]
قَالَ أَبُوعُبَیْدَۃَ وَحَدَّثَتْنِی أُمُّ قَیْسٍ بِنْتُ مِحْصَنٍ وَکَانَتْ جَارَۃً لَہُمْ قَالَتْ: خَرَجَ مِنْ عِنْدِی عُکَّاشَۃُ بْنُ مِحْصَنٍ فِی نَفَرٍ مِنْ بَنِی أَسَدٍ مُتَقَمِّصِینَ عَشِیَّۃَ یَوْمِ النَّحْرِ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَیَّ عِشَائً وَقُمُصُہُمْ عَلَی أَیْدِیہِمْ یَحْمِلُونَہَا قَالَتْ فَقُلْتُ : أَیْ عُکَّاشَۃُ مَا لَکُمْ خَرَجْتُمْ مُتَقَمِّصِینَ ثُمَّ رَجَعْتُمْ وَقُمُصُکُمْ عَلَی أَیْدِیکُمْ تَحْمِلُونَہَا فَقَالَ : خَیْرٌ یَا أُمَّ قَیْسٍ کَانَ ہَذَا یَوْمًا رَخَّصَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ لَنَا فِیہِ إِذَا نَحْنُ رَمَیْنَا الْجَمْرَۃَ حَلَلْنَا مِنْ کُلِّ مَا حَرُمْنَا مِنْہُ إِلاَّ مَا کَانَ مِنَ النِّسَائِ حَتَّی نَطُوفَ بِالْبَیْتِ فَإِذَا أَمْسَیْنَا وَلَمْ نَطُفْ جَعَلْنَا قُمُصَنَا عَلَی أَیْدِینَا۔
ہَکَذَا رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ فِی کِتَابِ السُّنَنِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَیَحْیَی بْنِ مَعِینٍ بِالإِسْنَادِ الأَوَّلِ دُونَ الإِسْنَادِ الثَّانِی عَنْ أُمِّ قَیْسٍ وَلَمْ یَذْکُرِ الذَّبْحَ أَیْضًا۔ [حسن۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৬০৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کو پہلی کنکری مارنے تک تلبیہ کہنا پھر بند کردینا
(٩٦٠٢) فضل (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تلبیہ کہتے رہے حتیٰ کہ جمرہ کو رمی کی۔
جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس تھا، پس آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں ان میں سے ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے۔ اسی طرح ابن مسعود (رض) سے ثابت روایت میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے۔
جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس تھا، پس آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں ان میں سے ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے۔ اسی طرح ابن مسعود (رض) سے ثابت روایت میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے۔
(۹۶۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ لَمْ یَزَلْ یُلَبِّی حَتَّی رَمَی الْجَمْرَۃَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ۔
وَفِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ أَتَی الْجَمْرَۃَ الَّتِی عِنْدَ الشَّجَرَۃِ فَرَمَاہَا بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ مِنْہَا ، وَکَذَلِکَ فِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ : یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۰۱]
وَفِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ أَتَی الْجَمْرَۃَ الَّتِی عِنْدَ الشَّجَرَۃِ فَرَمَاہَا بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ مِنْہَا ، وَکَذَلِکَ فِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ : یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۰۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৬০৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کو پہلی کنکری مارنے تک تلبیہ کہنا پھر بند کردینا
(٩٦٠٣) عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھتا رہا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمرہ عقبہ کو پہلی کنکری مارنے تک تلبیہ کہتے رہے۔
(۹۶۰۳)وَأَخْبَرَنَا الإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرِ بْنُ خُزَیْمَۃَ أَخْبَرَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِیقٍ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : رَمَقْتُ النَّبِیَّ -ﷺ فَلَمْ یَزَلْ یُلَبِّی حَتَّی رَمَی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ بِأَوَّلِ حَصَاۃٍ۔ [صحیح لغیرہ۔ ابن خزیمہ ۲۸۸۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৬০৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کو پہلی کنکری مارنے تک تلبیہ کہنا پھر بند کردینا
(٩٦٠٤) فضل فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عرفات سے لوٹا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمرہ عقبہ کو رمی کرنے تک تلبیہ کہتے رہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے تھے۔ پھر آخری کنکری کے ساتھ تلبیہ ختم کیا۔
(ب) شیخ (رض) فرماتے ہیں : ان کا ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہنا پہلی کنکری کے ساتھ تلبیہ کے ختم کرنے پر دلالت کرتا ہے، جیسا کہ ہم نے عبداللہ بن مسعود (رض) کی حدیث میں روایت کیا ہے اور ان کا قول : یلبی۔۔۔ کہ وہ تلبیہ کہتے حتیٰ کہ رمی جمار کرلیتے، اس سے ان کی مراد یہ ہے ” حتی اخذ فی رمی الجمرۃ “
اور باقی فضل بن عباس والی روایت میں جو اضافہ ہے وہ غریب ہے۔
شیخ صاحب (رض) فرماتے ہیں : ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہنا تلبیہ قطع کرنے پر دلالت کرتا ہے۔ پہلی کنکری پر ہی جیسا کہ حدیث سے واضح ہوتا ہے لیکن جو دوسری روایت کے آخر میں جو الفاظ زائد ہیں یہ تو انوکھے ہی ہیں۔
(ب) شیخ (رض) فرماتے ہیں : ان کا ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہنا پہلی کنکری کے ساتھ تلبیہ کے ختم کرنے پر دلالت کرتا ہے، جیسا کہ ہم نے عبداللہ بن مسعود (رض) کی حدیث میں روایت کیا ہے اور ان کا قول : یلبی۔۔۔ کہ وہ تلبیہ کہتے حتیٰ کہ رمی جمار کرلیتے، اس سے ان کی مراد یہ ہے ” حتی اخذ فی رمی الجمرۃ “
اور باقی فضل بن عباس والی روایت میں جو اضافہ ہے وہ غریب ہے۔
شیخ صاحب (رض) فرماتے ہیں : ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہنا تلبیہ قطع کرنے پر دلالت کرتا ہے۔ پہلی کنکری پر ہی جیسا کہ حدیث سے واضح ہوتا ہے لیکن جو دوسری روایت کے آخر میں جو الفاظ زائد ہیں یہ تو انوکھے ہی ہیں۔
(۹۶۰۴)وَأَخْبَرَنَا الإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ أَخْبَرَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَفَضْتُ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ مِنْ عَرَفَاتٍ فَلَمْ یَزَلْ یُلَبِّی حَتَّی رَمَی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ ثُمَّ قَطَعَ التَّلْبِیَۃَ مَعَ آخِرِ حَصَاۃٍ۔
قَالَ الشَّیْخُ : تَکْبِیرُہُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ کَالدِّلاَلَۃِ عَلَی قَطْعِہِ التَّلْبِیَۃَ بِأَوَّلِ حَصَاۃٍ کَمَا رُوِّینَا فِی حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَقَوْلُہُ : یُلَبِّی حَتَّی رَمَی الْجَمْرَۃَ أَرَادَ بِہِ حَتَّی أَخَذَ فِی رَمْیِ الْجَمْرَۃِ وَأَمَّا مَا فِی رِوَایَۃِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ مِنَ الزِّیَادَۃِ فَإِنَّہَا غَرِیبَۃٌ أَوْرَدَہَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ وَاخْتَارَہَا وَلَیْسَتْ فِی الرِّوَایَاتِ الْمَشْہُورَۃِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ فَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ نسائی ۳۰۷۹۔ بزار: ۲۱۴۲]
قَالَ الشَّیْخُ : تَکْبِیرُہُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ کَالدِّلاَلَۃِ عَلَی قَطْعِہِ التَّلْبِیَۃَ بِأَوَّلِ حَصَاۃٍ کَمَا رُوِّینَا فِی حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَقَوْلُہُ : یُلَبِّی حَتَّی رَمَی الْجَمْرَۃَ أَرَادَ بِہِ حَتَّی أَخَذَ فِی رَمْیِ الْجَمْرَۃِ وَأَمَّا مَا فِی رِوَایَۃِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ مِنَ الزِّیَادَۃِ فَإِنَّہَا غَرِیبَۃٌ أَوْرَدَہَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ وَاخْتَارَہَا وَلَیْسَتْ فِی الرِّوَایَاتِ الْمَشْہُورَۃِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ فَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ نسائی ۳۰۷۹۔ بزار: ۲۱۴۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৬১০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کو پہلی کنکری مارنے تک تلبیہ کہنا پھر بند کردینا
(٩٦٠٥) عبداللہ بن سخبرہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود (رض) کے ساتھ منیٰ سے عرفہ تک گیا اور عبداللہ گندم گوں رنگ کے آدمی تھے، ان کی دو مینڈھیاں تھیں، ان پر اہل بادیہ والی چادر تھی اور وہ تلبیہ کہہ رہے تھے کہ لوگوں کا ایک جمگٹھا آپ کے پاس جمع ہوا تو انھوں نے کہا : اے اعرابی ! یہ تلبیہ کا دن نہیں ہے ، بلکہ یہ تو تکبیرات کا دن ہے تو اس وقت انھوں نے میری طرف جھانکا اور فرمایا : لوگ یا تو جاہل ہیں یا بھول گئے ہیں۔ اس ذات کی قسم جس نے محمد کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ منیٰ سے عرفہ کی طرف نکلا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جمرہ کی رمی کرنے تک تلبیہ منقطع نہ فرمایا ، درمیان میں تکبیر و تہلیل بھی کہہ لیتے تھے۔
(۹۶۰۵)أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرَۃَ : بَکَّارُ بْنُ قُتَیْبَۃَ الْقَاضِی بِمِصْرَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی ذُبَابٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَخْبَرَۃَ قَالَ : غَدَوْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ مِنًی إِلَی عَرَفَۃَ وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ رَجُلاً آدَمَ لَہُ ضَفِیرَتَانِ عَلَیْہِ مَسْحَۃُ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ وَکَانَ یُلَبِّی فَاجْتَمَعَ عَلَیْہِ غَوْغَائٌ مِنْ غَوْغَائِ النَّاسِ فَقَالُوا : یَا أَعْرَابِیُّ إِنَّ ہَذَا لَیْسَ بِیَوْمِ تَلْبِیَۃٍ إِنَّمَا ہُوَ التَّکْبِیرُ قَالَ فَعِنْدَ ذَلِکَ الْتَفَتَ إِلَیَّ فَقَالَ : جَہِلَ النَّاسُ أَمْ نَسُوا وَالَّذِی بَعَثَ مُحَمَّدًا -ﷺ بِالْحَقِّ لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ مِنْ مِنًی إِلَی عَرَفَۃَ فَمَا تَرَکَ التَّلْبِیَۃَ حَتَّی رَمَی الْجَمْرَۃَ إِلاَّ أَنْ یَخْلِطَہَا بِتَکْبِیرٍ أَوْ تَہْلِیلٍ۔
وَقَدْ رُوِّینَا مَعْنَی ہَذَا مُخْتَصَرًا فِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ۔
[حسن۔ ابن خزیمہ ۲۸۰۶۔ حاکم ۱/ ۶۳۲]
وَقَدْ رُوِّینَا مَعْنَی ہَذَا مُخْتَصَرًا فِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ۔
[حسن۔ ابن خزیمہ ۲۸۰۶۔ حاکم ۱/ ۶۳۲]
তাহকীক: