আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৮৮ টি

হাদীস নং: ৯৬১১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کو پہلی کنکری مارنے تک تلبیہ کہنا پھر بند کردینا
(٩٦٠٦) عکرمہ کہتے ہیں : میں حسین بن علی (رض) کے ساتھ لوٹا تو میں انھیں تلبیہ کہتے ہوئے ہی سنتا رہا حتیٰ کہ جمرہ عقبہ کی رمی کی۔ جب اس کی طرف پتھر پھینکا تو خاموش ہوگئے تو میں نے کہا : یہ کیا ہے ؟ انھوں نے بتایا کہ میں نے اپنے والد علی (رض) کو جمرہ کی رمی کرنے تک تلبیہ کہتے ہوئے دیکھا ہے اور انھوں نے مجھے بتایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسا ہی کرتے تھے۔
(۹۶۰۶)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ : أَفَضْتُ مَعَ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ عَلَیْہِمَا السَّلاَمُ فَمَا أَزَالُ أَسْمَعُہُ یُلَبِّی حَتَّی رَمَی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ فَلَمَّا قَذَفَہَا أَمْسَکَ فَقُلْتُ : مَا ہَذَا؟ فَقَالَ : رَأَیْتُ أَبِی عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ یُلَبِّی حَتَّی رَمَی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ وَأَخْبَرَنِی أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ کَانَ یَفْعَلُ ذَلِکَ۔ [حسن۔ احمد ۱/ ۱۱۴۔ ابو یعلی ۳۲۱۔ ابن ابی شیبہ ۱۳۹۸۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬১২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کو پہلی کنکری مارنے تک تلبیہ کہنا پھر بند کردینا
(٩٦٠٧) عطاء کہتے ہیں کہ علی (رض) جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ کہتے رہے۔ ہم صحابہ کی ایک بڑی جماعت سے نقل کرچکے ہیں اور اس کا ذکر گزر چکا ہے۔
(۹۶۰۷)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَحْمُودٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ دَاوُدَ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ الْمَکِّیِّ عَنْ عَطَائٍ : أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَبَّی حَتَّی رَمَی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ۔ وَقَدْ رُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنْ جَمَاعَۃٍ مِنَ الصَّحَابَۃِ قَدْ مَضَی ذِکْرُ ذَلِکَ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬১৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ منیٰ میں اترنے کا بیان
(٩٦٠٨) (الف) عبدالرحمن بن معاذ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے کسی شخص سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے منیٰ میں خطاب فرمایا اور ان کو ان کی جگہوں پر اتارا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مہاجر یہاں پڑاؤ کریں اور قبلہ کی دائیں جانب اشارہ کیا اور انصار یہاں اور قبلہ کی بائیں جانب اشارہ کیا پھر لوگ ان کے اردگرد اتریں۔

اس روایت کو اسی طرح میں نے اپنی، کتاب میں ” عن رجل “ ہی پایا ہے۔

(ب) ابوداود (رض) نے یہ روایت اپنی سند سے بیان کی ” عبدالرحمن بن معاذ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطبہ دیا جب کہ ہم منیٰ میں تھے، ہماری سماعت تیز ہوگئی حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو فرماتے ہم (صحیح صحیح) سن رہے تھے ، حالاں کہ ہم اپنی اپنی جگہوں (مقامات) پر تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں ان کے حج کے طریقے سکھا رہے تھے حتیٰ کہ جمرہ کے قریب پہنچ گئے ۔ آپ نے اپنی دونوں شہادت کی انگلیوں کو رکھا پھر کنکری پھینک کر بتایا ، پھر مہاجرین کو حکم دیا تو وہ مسجد کے سامنے والے حصے میں اترے اور انصار کو حکم دیا کہ وہ مسجد کی پچھلی طرف اتریں ۔ فرماتے ہیں ، پھر اس کے بعد باقی لوگوں نے بھی پڑاؤ ڈال دیا۔
(۹۶۰۸)أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ حُمَیْدٍ الأَعْرَجِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ قَالَ : خَطَبَ النَّبِیُّ -ﷺ النَّاسَ بِمِنًی وَأَنْزَلَہُمْ مَنَازِلَہُمْ فَقَالَ : لِیَنْزِلِ الْمُہَاجِرُونُ ہَا ہُنَا وَأَشَارَ إِلَی مَیْمَنَۃِ الْقِبْلَۃِ وَالأَنْصَارُ ہَا ہُنَا وَأَشَارَ إِلَی مَیْسَرَۃِ الْقِبْلَۃِ ثُمَّ لِیَنْزِلِ النَّاسُ حَوْلَہُمْ ۔ کَذَا وَجَدْتُہُ فِی کِتَابِی عَنْ رَجُلٍ۔

وَقَدْ رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ مُسَدَّدٍ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ عَنْ حُمَیْدٍ الأَعْرَجِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ التَّیْمِیِّ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ وَنَحْنُ بِمِنًی فَفُتِحَتْ أَسْمَاعُنَا حَتَّی کُنَّا نَسْمَعُ مَا یَقُولُ وَنَحْنُ فِی مَنَازِلِنَا وَطَفِقَ یُعَلِّمُہُمْ مَنَاسِکَہُمْ حَتَّی بَلَغَ الْجِمَارَ فَوَضَعَ أُصْبُعَیْہِ السَّبَّابَتَیْنِ ثُمَّ قَالَ بِحَصَی الْخَذْفِ ثُمَّ أَمَرَ الْمُہَاجِرِینَ فَنَزَلُوا مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ وَأَمَرَ الأَنْصَارَ أَنْ یَنْزِلُوا مِنْ وَرَائِ الْمَسْجِدِ قَالَ ثُمَّ نَزَلَ النَّاسُ بَعْدُ۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ فَذَکَرَہُ وَہَذَا ہُوَ الصَّحِیحُ۔ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاذٍ لَہُ صُحْبَۃٌ وَزَعَمُوا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیَّ لَمْ یُدْرِکْہُ وَأَنَّ رِوَایَتَہُ عَنْہُ مُرْسَلَۃٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

وَرُوِّینَا عَنْ طَاوُسٍ وَغَیْرِہِ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ نَزَلَ عَلَی یَسَارِ مُصَلَّی الإِمَامِ بِمِنًی۔

[صحیح۔ ابوداود ۱۹۵۱۔ احمد ۴/ ۱۶۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬১৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ منیٰ میں اترنے کا بیان
(٩٦٠٩) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : کہا گیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے منیٰ میں عمارت نہ بنادیں جو آپ کو سایہ کرے ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں ! منیٰ ہر اس کے لیے اونٹ بٹھانے کی جگہ ہے جو پہلے پہنچ گیا۔
(۹۶۰۹)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَۃَ الشَّیْبَانِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّہْرِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُہَاجِرٍ عَنْ یُوسُفَ بْنِ مَاہَکَ عَنْ أُمِّہِ مُسَیْکَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : قِیلَ یَا رَسُولَ اللَّہِ ألاَ نَبْنِی لَکَ بِمِنًی بِنَائً یُظِلُّکَ قَالَ : لاَ مِنًی مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ ۔ [ضعیف۔ ابوداود ۳۰۱۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬১৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ منیٰ میں اترنے کا بیان
(٩٦١٠) عمران انصاری کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) میری طرف آئے اور میں مکہ کے راستے میں آرام گاہ کے نیچے تھا تو انھوں نے کہا : اس آرام گاہ کے نیچے تجھے کس نے اتارا ہے ؟ میں نے کہا : میں سایہ لینے آیا ہوں تو انھوں نے کہا : اس کے علاوہ ؟ میں نے کہا : صرف سائے کے لیے ہی آیا ہوں ، انھوں نے کہا : اس کے علاوہ ؟ میں نے کہا : کچھ نہیں اس کے علاوہ ادھر آنے کا اور کوئی مقصد نہیں تو عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : جب تو منیٰ سے ان دو ٹیلوں کے درمیان ہو اور اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا تو وہاں پر ایک وادی ہے جس کو سرر کہا جاتا ہے، وہاں ایک آرام گاہ ہے جس کے نیچے ستر نبیوں نے آرام کیا۔
(۹۶۱۰)أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنَ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَۃَ الدِّیلِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ قَالَ : عَدَلَ إِلَیَّ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ وَأَنَا نَازِلٌ تَحْتَ سَرْحَۃٍ بِطَرِیقِ مَکَّۃَ فَقَالَ : مَا أَنْزَلَکَ تَحْتَ ہَذِہِ السَّرْحَۃِ قَالَ فَقُلْتُ : أَرَدْتُ ظِلَّہَا فَقَالَ : ہَلْ غَیْرَ ذَلِکَ؟ فَقُلْتُ : أَرَدْتُ ظِلَّہَا فَقَالَ : ہَلْ غَیْرَ ذَلِکَ؟ فَقُلْتُ : لاَ مَا أَنْزَلَنِی غَیْرُ ذَلِکَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : إِذَا کُنْتَ بَیْنَ الأَخْشَبَیْنِ مِنْ مِنًی وَنَفَخَ بِیَدِہِ نَحْوَ الْمشْرِقِ فَإِنَّ ہَنَالِکَ وَادِی یُقَالُ لَہُ السُّرَرُ بِہِ سَرْحَۃٌ سُرَّ تَحْتَہَا سَبْعُونَ نَبِیًّا۔ [ضعیف۔ نسائی ۱۹۹۵۔ ترمذی ۸۸۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬১৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یوم نحر کو خطبہ دینا اور یوم نحر ہی حج اکبر کا دن ہے
(٩٦١١) عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یوم نحرخطبہ دے رہے تھے، کو تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں تو فلاں فلاں کام فلاں فلاں کام سے پہلے سمجھتا تھا، پھر دوسرا کھڑا ہوا تو اس نے بھی ایسے ہی کہا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تینوں کو فرمایا : کرلے ، کوئی حرج نہیں۔
(۹۶۱۱)أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ شِہَابٍ یَقُولُ حَدَّثَنِی عِیسَی بْنُ طَلْحَۃَ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَہُ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ بَیْنَا ہُوَ یَخْطُبُ یَوْمَ النَّحْرِ فَقَامَ إِلَیْہِ رَجُلٌ فَقَالَ : کُنْتُ أَحْسِبُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَّ کَذَا وَکَذَا قَبْلَ کَذَا وَکَذَا ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ : کُنْتُ أَحْسِبُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَّ کَذَا وَکَذَا قَبْلَ کَذَا وَکَذَا لِہَؤُلاَئِ الثَّلاَثِ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ : افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ ۔

[صحیح۔ بخاری ۱۶۵۰۔ مسلم ۱۳۰۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬১৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یوم نحر کو خطبہ دینا اور یوم نحر ہی حج اکبر کا دن ہے
(٩٦١٢) ایضاً
(۹۶۱۲)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَکْرٍ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الأُمَوِیِّ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ وَتَابَعَہُ صَالِحُ بْنُ کَیْسَانَ فِی ذِکْرِ الْخُطْبَۃِ فِیہِ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬১৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یوم نحر کو خطبہ دینا اور یوم نحر ہی حج اکبر کا دن ہے
(٩٦١٣) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : حجۃ الوداع کے موقع پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمرات کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا : یہ کون سا دن ہے انھوں نے کہا : یومِ نحر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کون سا شہر ہے ؟ انھوں نے کہا : حرم ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کون سا مہینہ ہے ؟ انھوں نے کہا : شہر حرام آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ حج اکبر کا دن ہے تو تمہارے خون، مال اور عزتیں تم پر اس دن میں اس شہر کی حرمت کی طرح حرام ہیں، پھر فرمایا : کیا میں نے تبلیغ کردی ؟ انھوں نے کہا : ہاں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہنے لگے : اے اللہ ! گواہ ہوجا، پھر لوگوں کو الوداع کہا تو انھوں نے کہا : یہ حجۃ الوداع ہے۔
(۹۶۱۳)حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاکِہِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ أَبِی مَسَرَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو جَابِرٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ الْغَازِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ یَوْمَ النَّحْرِ عِنْدَ الْجَمَرَاتِ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فَقَالَ : أَیُّ یَوْمٍ ہَذَا؟ ۔ قَالُوا : یَوْمُ النَّحْرِ قَالَ : فَأَیُّ بَلَدٍ ہَذَا؟ ۔ قَالُوا : الْبَلَدُ الْحَرَامُ قَالَ : فَأَیُّ شَہْرٍ ہَذَا؟ ۔ قَالُوا : الشَّہْرُ الْحَرَامُ قَالَ: ہَذَا یَوْمُ الْحَجِّ الأَکْبَرِ فَدِمَاؤُکُمْ وَأَمْوَالُکُمْ وَأَعْرَاضُکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ ہَذَا الْبَلَدِ فِی ہَذَا الْیَوْمِ۔ ثُمَّ قَالَ : ہَلْ بَلَّغْتُ ۔ قَالُوا : نَعَمْ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ یَقُولُ : اللَّہُمَّ اشْہَدْ ۔ ثُمَّ وَدَّعَ النَّاسَ فَقَالُوا: ہَذِہِ حَجَّۃُ الْوَدَاعِ۔

قَالَ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ وَقَالَ ہِشَامُ بْنُ الْغَازِ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح۔ ابوداود ۱۹۴۵۔ ابن ماجہ ۳۰۵۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬১৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یوم نحر کو خطبہ دینا اور یوم نحر ہی حج اکبر کا دن ہے
(٩٦١٤) ابوبکرہ (رض) فرماتے ہیں : ہمیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نحر والے دن خطبہ دیا تو فرمایا : یہ کون سا دن ہے ؟ ہم نے کہا : اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی بہتر جانتے ہیں، آپ خاموش ہوگئے حتیٰ ہم سمجھنے لگے آپ اس کو کوئی نیا نام دیں گے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا یہ یوم نحر نہیں ہے، ہم نے کہا : کیوں نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کون سا مہینہ ہے، ہم نے کہا : اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی بہتر جانتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے، حتیٰ کہ ہم نے سمجھا شاید اس کا کوئی نیا نام رکھیں گے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا یہ ذوالحجہ نہیں ! ہے ہم نے کہا : کیوں نہیں ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کون سا شہر ہے ؟ ہم نے کہا : اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے حتیٰ کہ ہم نے سمجھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا کوئی اور نام رکھیں گے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا یہ شہر نہیں ہے ! ہم نے کہا : کیوں نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے خون تمہارے اس دن میں اس مہینے میں اس شہر کی حرمت کی طرح محترم ہیں، اے اللہ ! کیا میں نے پہنچا دیا ہے ، انھوں نے کہا : جی ہاں ! پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے جو حاضر ہے وہ غیر حاضر تک پہنچا دے، کتنے ہی وہ لوگ ہیں جن کو بات پہنچائی جاتی ہے سننے والوں سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوتے ہیں، خبردار ! میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔
(۹۶۱۴)أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی الْعَوَّامِ وَعَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی بَکْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ وَرَجُلٌ أَفْضَلُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ یَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ : أَیُّ یَوْمٍ ہَذَا؟ ۔ قُلْنَا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ سَیُسَمِّیہِ بِغَیْرِ اسْمِہِ فَقَالَ : أَلَیْسَ یَوْمَ النَّحْرِ ۔ قُلْنَا : بَلَی قَالَ : فَأَیُّ شَہْرٍ ہَذَا؟ ۔ قُلْنَا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ سَیُسَمِّیہِ بِغَیْرِ اسْمِہِ قَالَ : أَوَلَیْسَ ذَا الْحِجَّۃِ ۔ قُلْنَا : بَلَی۔ قَالَ : فَأَیُّ بَلَدٍ ہَذَا؟ ۔ قُلْنَا : اللَّہُ وَرُسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ سَیُسَمِّیہِ بِغَیْرِ اسْمِہِ قَالَ : أَلَیْسَتِ الْبَلْدَۃُ؟ ۔ قُلْنَا : بَلَی قَالَ : فَإِنَّ دِمَائَ کُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہَذَا فِی شَہْرِکُمْ ہَذَا فِی بَلَدِکُمْ ہَذَا اللَّہُمَّ ہَلْ بَلَّغْتُ ۔ قَالُوا : نَعَمْ قَالَ : لِیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ مِنْکُمُ الْغَائِبَ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَی مِنْ سَامِعٍ أَلاَ لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِی کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۵۴۔ مسلم ۱۶۷۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬২০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یوم نحر کو خطبہ دینا اور یوم نحر ہی حج اکبر کا دن ہے
(٩٦١٥) ابوبکرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نحر والے دن خطبہ دیا اور فرمایا : میرے بعد کفر کی حالت میں نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔
(۹۶۱۵)وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا الْقَاضِی أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ کَامِلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ حَدَّثَنَا قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِیرِینَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی بَکْرَۃَ وَرَجُلٌ فِی نَفْسِی أَفْضَلُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ یَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ : لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِی کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِیِّ عَنْ أَبِی عَامِرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَبَلَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی عَامِرٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬২১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یوم نحر کو خطبہ دینا اور یوم نحر ہی حج اکبر کا دن ہے
(٩٦١٦) ہرماس بن زیاد (رض) فرماتے ہیں کہ میں چھوٹا بچہ تھا، مجھے میرے والد نے اپنے پیچھے سوار کیا ہوا تھا، میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منیٰ میں عیدالاضحی والے دن اپنی اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا۔
(۹۶۱۶)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا حُجَیْنُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ عَنِ الْہِرْمَاسِ بْنِ زِیَادٍ قَالَ : رَأَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ وَأَنَا صَبِیٌّ أَرْدَفَنِی أَبِی یَخْطُبُ النَّاسَ بِمِنًی یَوْمَ الأَضْحَی عَلَی رَاحِلَتِہِ۔

[حسن۔ ابن خزیمہ ۲۹۵۳۔ احمد ۵/ ۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬২২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یوم نحر کو خطبہ دینا اور یوم نحر ہی حج اکبر کا دن ہے
(٩٦١٧) ابوامامہ (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خطبہ منیٰ میں نحر والے دن سنا۔
(۹۶۱۷)أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمُ بْنُ عَامِرٍ الْکِلاَعِیُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَۃَ یَقُولُ : سَمِعْتُ خُطْبَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ بِمِنًی یَوْمَ النَّحْرِ۔ [صحیح۔ ابوداود ۱۹۵۵۔ طبرانی کبیر ۸۶۶۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬২৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یوم نحر کو خطبہ دینا اور یوم نحر ہی حج اکبر کا دن ہے
(٩٦١٨) رافع بن عمرومزنی (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منیٰ میں لوگوں سے اس وقت خطاب کرتے ہوئے سنا جب سورج بلند ہوا ، آپ سفید خچر پر سوار تھے اور علی (رض) آپ کی بات دہرا کر لوگوں تک پہنچا رہے تھے۔
(۹۶۱۸)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَبْدِ الرَّحِیمِ الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ عَامِرٍ الْمُزَنِیِّ حَدَّثَنِی رَافِعُ بْنُ عَمْرٍو الْمُزَنِیُّ قَالَ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یَخْطُبُ النَّاسَ بِمِنًی حِینَ ارْتَفَعَ الضُّحَی عَلَی بَغْلَۃٍ شَہْبَائَ وَعَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ یَعْبُرُ عَنْہُ وَالنَّاسُ بَیْنَ قَائِمٍ وَقَاعِدٍ۔ [صحیح۔ آئندہ کی تخریج دیکھیں]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬২৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یوم نحر کو خطبہ دینا اور یوم نحر ہی حج اکبر کا دن ہے
(٩٦١٩) رافع بن عمرو مزنی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نحر والے دن حجۃ الوداع کے موقع پر سفید خچر پر خطبہ دیتے دیکھا۔
(۹۶۱۹)قَالَ الْبُخَارِیُّ فِی کِتَابِ التَّارِیخِ قَالَ لِی أَبُو جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ حَدَّثَنَا ہِلاَلُ بْنُ عَامِرٍ الْمُزَنِیُّ قَالَ سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْمُزَنِیَّ یَقُولُ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہُ -ﷺ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ یَوْمَ النَّحْرِ یَخْطُبُ عَلَی بَغْلَۃٍ شَہْبَائَ ۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح۔ ابوداود ۱۹۵۶۔ احمد ۳/ ۴۷۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬২৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یومِ نحر کے عمل میں تقدیم و تاخیر
(٩٦٢٠) حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجۃ الوداع والے سال لوگوں کے لیے کھڑے ہوئے، لوگ آپ سے مسائل پوچھ رہے تھے۔ ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! مجھے پتا نہیں تھا، میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کرلی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رمی کرلے کوئی حرج نہیں۔ دوسرے نے کہا : مجھے علم نہیں تھا، میں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ذبح کر، کوئی حرج نہیں۔ کہتے ہیں کہ اس دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی بھی کام کی تقدیم یا تاخیر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہی جواب دیا : کرلے کوئی حرج نہیں۔
(۹۶۲۰)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ : سَعِیدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ وَمَالِکٌ وَغَیْرُہُمَا أَنَّ ابْنَ شِہَابٍ أَخْبَرَہُمْ عَنْ عِیسَی بْنِ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ أَخْبَرَہُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ وَقَفَ لِلنَّاسِ عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ یَسْأَلُونَہُ فَجَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِیَ۔ فَقَالَ : ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ۔ قَالَ آخَرُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ رَأْسِی قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ۔ قَالَ : اذْبَحْ وَلاَ حَرَجَ ۔ قَالَ : فَمَا سُئِلَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یَوْمَئِذٍ عَنْ شَیْئٍ قُدِّمَ وَلاَ أُخِّرَ إِلاَّ قَالَ افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ۔

لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ وَہْبٍ وَحَدِیثُ الشَّافِعِیِّ وَیَحْیَی بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُمَا قَالاَ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ بِمِنًی لِلنَّاسِ یَسْأَلُونَہُ وَقَدَّمَا سُؤَالَ الْحَلْقِ عَلَی سُؤَالِ النَّحْرِ وَلَمْ یَقُولاَ رَأْسِی۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَغَیْرِہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی کُلُّہُمْ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ أَیْضًا عَنْ حَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ عَنْ یُونُسَ بْنِ یَزِیدَ۔ [صحیح۔ بخاری ۸۳۔ مسلم ۱۳۰۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬২৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یومِ نحر کے عمل میں تقدیم و تاخیر
(٩٦٢١) عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں : ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کرلی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رمی کرلے کوئی بات نہیں ۔ ایک دوسرے نے کہا : میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ذبح کرلے کوئی حرج نہیں۔

شافعی اور یحییٰ کی حدیث کے الفاظ بھی اسی طرح ہیں، مگر انھوں نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں لوگوں کے لیے ٹھہرے، لوگ آپ سے سوال کر رہے تھے۔ (شافعی اور یحییٰ ) ان دونوں نے حلق والے سوال کو نحر والے سوال پر مقدم کیا اور اس کا لفظ نہیں کہا۔
(۹۶۲۱)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ قَالَ سَمِعْتُ عِیسَی بْنَ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِیَّ -ﷺ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِیَ۔ قَالَ : ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ۔ قَالَ آخَرُ : حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ قَالَ : اذْبَحْ وَلاَ حَرَجَ ۔ قَالَ أَبُو بَکْرٍ ثُمَّ سَمِعْتُ سُفْیَانَ یُسْأَلُ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَقَالَ لَہُ بُلْبُلٌ : ہَذَا مِمَّا حَفِظْتُ مِنَ الزُّہْرِیِّ یَا أَبَا مُحَمَّدٍ قَالَ : نَعَمْ کَأَنَّکَ تَسْمَعُہُ إِلاَّ أَنَّہُ کَانَ یُطِیلُہُ فَہَذَا الَّذِی حَفِظْتُ مِنْہُ قَالَ وَسَمِعْتُ بُلْبُلَ قَالَ لِسُفْیَانَ : إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَہْدِیٍّ قَالَ إِنَّکَ قُلْتَ لَہُ لَمْ أَحْفَظْہُ فَقَالَ سُفْیَانُ : صَدَقُ ابْنُ مَہْدِیٍّ لَمْ أَحْفَظْہُ بِطُولِہِ فَأَمَّا ہَذَا فَقَدْ أَتْقَنْتُہُ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۰۶]

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ دُونَ قِصَّۃِ بُلْبُلٍ۔

وَرَوَاہُ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَأَحَالَ بِمَتْنِہِ عَلَی رِوَایَۃِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ سِوَی مَا اسْتَثْنَاہُ وَفِی حَدِیثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ زِیَادَۃٌ أُخْرَی لَیْسَتْ فِی رِوَایَۃِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬২৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یومِ نحر کے عمل میں تقدیم و تاخیر
(٩٦٢٢) عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اونٹنی پر سوار دیکھا، آپ ان کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں سمجھتا تھا کہ رمی سے پہلے سرمنڈانا ہے تو میں نے ایسا ہی کرلیا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رمی کر اور کوئی حرج نہیں ۔ ایک دوسرا آدمی آیا اور پوچھا : میں سمجھتا تھا کہ سر منڈانا قربانی سے پہلے ہے تو میں نے ایسا ہی کرلیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قربانی کرلے کوئی بات نہیں، کہتے ہیں کہ اس دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کسی بھی کام کو پہلے یا بعد میں کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کرلے کوئی بات نہیں۔
(۹۶۲۲)أَخْبَرَنَاہُ أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ ابْنِ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ عَلَی نَاقَتِہِ فَجَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی کُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ الْحَلْقَ قَبْلَ الرَّمْیِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِیَ؟ قَالَ : ارْمِ وَلاَ حَرَجَ۔ قَالَ وَجَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی کُنْتُ أَظُنُّ الْحَلْقَ قَبْلَ النَّحْرِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ۔ قَالَ : انْحَرْ وَلاَ حَرَجَ ۔ قَالَ فَمَا سُئِلَ عَنْ شَیْئٍ قَدَّمَہُ رَجُلٌ وَلاَ أَخَّرَہُ إِلاَّ قَالَ : افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔

وَقَدْ رَوَاہُ أَیْضًا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی حَفْصَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ بِزِیَادَۃٍ أُخْرَی۔ [صحیح۔ دارقطنی ۲/ ۲۵۱۔ بزار ۲۴۱۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬২৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یومِ نحر کے عمل میں تقدیم و تاخیر
(٩٦٢٣) عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی نحر والے دن آیا جب کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمرہ کے پاس کھڑے تھے ، اس نے کہا : میں نے رمی کرنے پہلے سرمنڈا لیا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رمی کر کوئی حرج نہیں ۔ ایک دوسرا آیا اور اس نے کہا : میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کرلی ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رمی کرلے کوئی حرج نہیں، ایک اور آیا، اس نے کہا : میں نے رمی کرنے سے پہلے طواف افاضہ کرلیا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رمی کرلے کوئی حرج نہیں، کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سوال کرنے والوں کو آپ کا یہی جواب دیتے سنا ہے، یعنی کرلے کوئی حرج نہیں۔
(۹۶۲۳)أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِیمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِیمِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الصَّائِغُ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی حَفْصَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عِیسَی بْنِ طَلْحَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ وَأَتَاہُ رَجُلٌ یَوْمَ النَّحْرِ وَہُوَ وَاقِفٌ عِنْدَ الْجَمْرَۃِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِیَ قَالَ : ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ۔ وَأَتَاہُ آخَرُ فَقَالَ : إِنِّی ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِیَ قَالَ : ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ۔ وَأَتَاہُ آخَرُ فَقَالَ : أَفَضْتُ إِلَی الْبَیْتِ قَبْلَ أَنْ أَرْمِیَ قَالَ : ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ۔ قَالَ : فَمَا رَأَیْتُہُ سُئِلَ یَوْمَئِذٍ عَنْ شَیْئٍ إِلاَّ قَالَ : افْعَلُوا وَلاَ حَرَجَ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ ہَکَذَا مِنْ حَدِیثِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۰۶۔ احمد ۲/ ۲۱۰۔ دارقطنی ۲/۲۵۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬২৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یومِ نحر کے عمل میں تقدیم و تاخیر
(٩٦٢٤) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قربانی، سرمنڈانے، رمی کرنے اور تقدیم وتأخیر کے بارے میں کہا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی حرج نہیں۔
(۹۶۲۴)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ قِیلَ لَہُ فِی الذَّبْحِ والْحَلْقِ وَالرَّمْیِ وَالتَّقْدِیمِ وَالتَّأْخِیرِ فَقَالَ : لاَ حَرَجَ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ بَہْزٍ عَنْ وُہَیْبٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۴۷۔ مسلم ۱۳۰۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৩০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یومِ نحر کے عمل میں تقدیم و تاخیر
(٩٦٢٥) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حجِ وداع میں پوچھا گیا : میں نے رمی سے پہلے قربانی کرلی ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا : کوئی حرج نہیں ، ایک آدمی نے کہا : میں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا : کوئی حرج نہیں۔ آپ سے اس دن تقدیم و تاخیر کے بارے میں جس چیز کا سوال بھی کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا : کوئی حرج نہیں۔
(۹۶۲۵)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَۃَ : مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا وُہَیْبُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ سُئِلَ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فَقِیلَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِیَ فَأَوْمَأَ بِیَدِہِ وَقَالَ : لاَ حَرَجَ ۔ وَقَالَ رَجُلٌ : حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ فَأَوْمَأَ بِیَدِہِ وَقَالَ : لاَ حَرَجَ ۔ فَمَا سُئِلَ یَوْمَئِذٍ عَنْ شَیْئٍ مِنَ التَّقْدِیمِ وَلاَ التَّأْخِیرِ إِلاَّ أَوْمَأَ بِیَدِہِ وَقَالَ : وَلاَ حَرَجَ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۴۷]
tahqiq

তাহকীক: