আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৮৮ টি

হাদীস নং: ৯৬৫১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طوافِ افاضہ کا بیان
(٩٦٤٦) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیت اللہ کا طواف ، صفا ومروہ کی سعی اور رمیٔ جمار اللہ کے ذکر کی خاطر ہیں۔
(۹۶۴۶)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّیْرَفِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا مَکِّیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی زِیَادٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی زِیَادٍ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ یَقُولُ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْبَیْتِ وَالسَّعْیُ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَرَمْیُ الْجِمَارِ لإِقَامَۃِ ذِکْرِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ ۔

لَفْظُ حَدِیثِ سُفْیَانَ۔ وَرَوَاہُ أَبُو قُتَیْبَۃَ عَنْ سُفْیَانَ فَلَمْ یَرْفَعْہُ وَرَوَاہُ یَحْیَی الْقَطَّانُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ فَلَمْ یَرْفَعْہُ وَقَالَ قَدْ سَمِعْتُہُ یَرْفَعُہُ وَلَکِنِّی أَہَابُہُ وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ دَاوُدَ وَأَبُو عَاصِمٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ فَرَفَعَاہُ وَرَوَاہُ ابْنُ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَۃَ فَلَمْ یَرْفَعْہُ وَرَوَاہُ حُسَیْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَائِشَۃَ فَلَمْ یَرْفَعْہُ۔

[ضعیف۔ ابوداود ۱۸۸۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৫২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طواف کے ساتھ حلال ہوگا جب سعی طوافِ قدوم کے بعد ہو
(٩٦٤٧) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں : جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ آئے تو طواف کیا ، سب سے پہلے حجر اسود کو بوسہ دیا ، پھر تین چکر تیز قدموں سے لگائے اور چار آہستہ ۔ پھر طواف مکمل کر کے مقام ابراہیم کے پاس دو رکعتیں ادا کیں، جب سلام پھیرا تو صفا پر آئے، صفا ومروہ کے سات طواف کیے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو کچھ حرام تھا اس میں سے کچھ بھی حلال نہ ہوا حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا حج مکمل کرلیا اور قربانی والے دن قربانی کی ، پھر لوٹے اور بیت اللہ کا طواف کیا، پھر ہر وہ چیز جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حرام تھی حلال ہوگئی اور جو لوگ قربانیاں ساتھ لائے تھے، انھوں نے بھی ایسا ہی کیا۔
(۹۶۴۷)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ یَعْنِی ابْنَ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ قَالَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ : وَطَافَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ حِینَ قَدِمَ مَکَّۃَ فَاسْتَلَمَ الرُّکْنَ أَوَّلَ کُلِّ شَیْئٍ ثُمَّ خَبَّ ثَلاَثَۃَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ وَمَشَی أَرْبَعَۃَ أَطْوَافٍ ثُمَّ رَکَعَ حِینَ قَضَی طَوَافَہُ بِالْبَیْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَی الصَّفَا فَوَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ سَبْعَۃَ أَطْوَافٍ ثُمَّ لَمْ یَحْلِلْ مِنْ شَیْئٍ حَرُمَ مِنْہُ حَتَّی قَضَی حَجَّہُ وَنَحَرَ ہَدْیَہُ یَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَیْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ حَرُمَ مِنْہُ وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مَنْ أَہْدَی فَسَاقَ الْہَدْیَ مِنَ النَّاسِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ اللَّیْثِ۔

[صحیح۔ بخاری ۱۶۰۶۔ مسلم ۱۲۲۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৫৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طواف کے ساتھ حلال ہوگا جب سعی طوافِ قدوم کے بعد ہو
(٩٦٤٨) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حج کیا ، ہم یوم نحر کو لوٹے اور صفیہ (رض) حائضہ ہوگئیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے وہ چاہا جو مرد اپنی بیوی سے چاہتا ہے تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! وہ تو حائضہ ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا وہ ہمیں روکنے والی ہے ؟ انھوں نے کہا : اس نے یوم نحر کو افاضہ کرلیا ہے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو نکالو۔
(۹۶۴۸)أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا اللَّیْثُ حَدَّثَنِی جَعْفَرٌ یَعْنِی ابْنَ رَبِیعَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعَرْجِ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فَأَفَضْنَا یَوْمَ النَّحْرِ وَحَاضَتْ صَفِیَّۃُ فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مِنْہَا مَا یُرِیدُ الرَّجُلُ مِنْ أَہْلِہِ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّہَا حَائِضٌ۔ فَقَالَ : أَحَابِسَتِی ہِیَ ۔ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ قَدْ أَفَاضَتْ یَوْمَ النَّحْرِ۔ قَالَ : أَخْرِجُوہَا ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۴۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৫৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طواف کے ساتھ حلال ہوگا جب سعی طوافِ قدوم کے بعد ہو
(٩٦٤٩) اسامہ بن شریک (رض) فرماتے ہیں : میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حج کرنے نکلا، لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے ، کوئی کہتا : میں نے طواف سے پہلے سعی کرلی ہے یا کچھ مقدم و موخر کرلیا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو فرماتے : کوئی حرج نہیں ، کوئی حرج نہیں۔ سوائے اس آدمی کے جس نے مسلمان آدمی کی عزت خراب کی اور وہ ظالم تھا تو یہی ہے جس پر حرج ہے اور وہ ہلاک ہوگیا۔

شیخ (رض) فرماتے ہیں : سَعَیْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ یہ الفاظ غریب ہیں ، ان کو شیبانی سے بیان کرنے میں جریر منفرد ہے ، اگر یہ محفوظ بھی ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا گویا کہ اس نے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جو طواف قدوم کے پیچھے سعی کرے ، طوافِ افاضہ سے پہلے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔ واللہ اعلم
(۹۶۴۹)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالاَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ شَرِیکٍ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ حَاجًّا فَکَانَ النَّاسُ یَأْتُونَہُ فَمِنْ قَائِلٍ : یَا رَسُولَ اللَّہِ سَعَیْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ أَوْ أَخَّرْتُ شَیْئًا أَوْ قَدَّمْتُ شَیْئًا فَکَانَ یَقُولُ لَہُمْ : لاَ حَرَجَ لاَ حَرَجَ إِلاَّ عَلَی رَجُلٍ اقْتَرَضَ عِرْضَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَہُوَ ظَالِمٌ فَذَلِکَ الَّذِی حَرَجَ وَہَلَکَ ۔قَالَ الشَّیْخُ : ہَذَا اللَّفْظُ سَعَیْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ غَرِیبٌ تَفَرَّدَ بِہِ جَرِیرٌ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ فَإِنْ کَانَ مَحْفُوظًا فَکَأَنَّہُ سَأَلَہُ عَنْ رَجُلٍ سَعَی عُقَیْبِ طَوَافِ الْقُدُومِ قَبْلَ طَوَافِ الإِفَاضَۃِ فَقَالَ : لاَ حَرَجَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

[صحیح۔ ابوداود ۲۰۱۴۔ ابن خزیمہ ۲۷۷۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৫৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طواف کے ساتھ حلال ہوگا جب سعی طوافِ قدوم کے بعد ہو
(٩٦٥٠) فقہاء مدینہ فرمایا کرتے تھے : جو طواف افاضہ کیے بغیر اپنے علاقے میں آگیا تو وہ اس وقت سے پھر محرم ہوجائے گا، جب اس کو یاد آیا حتیٰ کہ بیت اللہ میں آکر طواف کرے۔ اگر وہ عورتوں سے ملاپ کرلے تو قربانی دے گا۔
(۹۶۵۰)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّائُ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ الَّذِینَ یُنْتَہَی إِلَی قَوْلِہِمْ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ کَانُوا یَقُولُونَ : مَنْ نَسِیَ أَنْ یُفِیضَ حَتَّی رَجَعَ إِلَی بِلاَدِہِ فَہُوَ حَرَامٌ حِینَ یَذْکُرُ حَتَّی یَرْجِعَ إِلَی الْبَیْتِ فَیَطُوفُ بِہِ فَإِنْ أَصَابَ النِّسَائَ أَہْدَی بَدَنَۃً۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৫৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ منیٰ کی ہر رات بیت اللہ کی زیارت کرنا

امام بخاری (رح) ترجمہ باب میں صیغہ مجہول کے ساتھ ذکر کرتے ہیں : ابن عباس سے منقول ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منی کے ایام میں بیت اللہ کی زیارت کرتے تھے۔
(٩٦٥١) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب تک منیٰ رہے ، ہر رات بیت اللہ کی زیارت کرتے تھے۔

طاؤس سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منیٰ کی راتوں میں ہر رات افاضہ کرتے تھے۔
(۹۶۵۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْمَعْمَرِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ عَرْعَرَۃَ قَالَ : دَفَعَ إِلَیْنَا مُعَاذُ بْنُ ہِشَامٍ کِتَابًا وَقَالَ سَمِعْتُہُ مِنْ أَبِی وَلَمْ یَقْرَأْہُ قَالَ فَکَانَ فِیہِ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی حَسَّانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ نَبِیَّ اللَّہِ -ﷺ کَانَ یَزُورُ الْبَیْتَ کُلَّ لَیْلَۃٍ مَا دَامَ بِمِنًی۔ قَالَ وَمَا رَأَیْتُ أَحَدًا وَاطَأَہُ عَلَیْہِ۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَرَوَی الثَّوْرِیُّ فِی الْجَامِعِ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ طَاوُسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ کَانَ یُفِیضُ کُلَّ لَیْلَۃٍ یَعْنِی لَیَالِیَ مِنًی۔ [ضعیف۔ طبرانی کبیر ۱۲۹۰۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৫৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حاجیوں کو پانی پلانا اور وہاں سے اور آب زم زم سے پینا
(٩٦٥٢) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج کے بارے میں فرماتے ہیں : پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ کی طرف لوٹے ، ظہر کی نماز مکہ میں ادا کی ۔ پھر بنی عبدالمطلب کے پاس آئے اور وہ زمزم پلا رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بنی عبدالمطلب ! پانی کھینچو ، اگر مجھے خدشہ نہ ہوتا کہ لوگ تمہارے پلانے پر غالب آجائیں گے تو میں تمہارے ساتھ مل کر کھینچتا ، انھوں نے آپ کو ایک ڈول دیا تو آپ نے اس میں سے پیا۔
(۹۶۵۲)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ وَأَبُو بَکْرٍ الْوَرَّاقُ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرٍ فِی قِصَّۃِ حَجِّ النَّبِیِّ -ﷺ قَالَ : ثُمَّ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ إِلَی الْبَیْتِ فَصَلَّی بِمَکَّۃَ الظُّہْرَ ثُمَّ أَتَی بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَہُمْ یَسْقُونَ عَلَی زَمْزَمَ فَقَالَ : انْزِعُوا بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَوْلاَ أَنْ یَغْلِبَکُمُ النَّاسُ عَلَی سِقَایَتِکُمْ لَنَزَعْتُ مَعَکُمْ ۔ فَنَاوَلُوہُ دَلْوًا فَشَرِبَ مِنْہُ۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৫৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حاجیوں کو پانی پلانا اور وہاں سے اور آب زم زم سے پینا
(٩٦٥٣) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پانی پلانے والوں کی طرف آئے اور پانی طلب کیا تو عباس (رض) نے کہا : اے فضل ! جا اور جا کر اپنی ماں سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے مشروب لے کر آ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے پلا ، انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ لوگ اس میں اپنے ہاتھ ڈالتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے پلا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پیا ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زمزم پر آئے اور وہ پلا رہے تھے اور اس میں کام کر رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لگے رہو تم نیک کام کر رہے ہو، پھر فرمایا : اگر یہ خدشہ نہ ہو کہ تم مغلوب ہوجاؤ گے تو میں اترتا اور رسی کو یہاں رکھتا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی گردن کی طرف اشارہ کیا۔
(۹۶۵۳)أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْکَرِیمِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاہِینَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ جَائَ إِلَی السِّقَایَۃِ فَاسْتَسْقَی فَقَالَ الْعَبَّاسُ : یَا فَضْلُ اذْہَبْ إِلَی أُمِّکَ فَأْتِ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ بِشَرَابٍ مِنْ عِنْدِہَا فَقَالَ : اسْقِنِی ۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّہُمْ یَجْعَلُونَ أَیْدِیَہُمْ فِیہِ قَالَ : اسْقِنِی ۔ فَشَرِبَ مِنْہُ ثُمَّ أَتَی زَمْزَمَ وَہُمْ یَسْقُونَ وَیَعْمَلُونَ فِیہَا فَقَالَ : اعْمَلُوا فَإِنَّکُمْ عَلَی عَمَلٍ صَالِحٍ ۔ ثُمَّ قَالَ : لَوْلاَ أَنْ تُغْلَبُوا لَنَزَلْتُ حَتَّی أَضَعَ الْحَبْلَ عَلَی ہَذِہِ ۔ یَعْنِی عَاتِقَہُ وَأَشَارَ إِلَی عَاتِقِہِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ شَاہِینَ۔

[صحیح۔ بخاری ۱۵۵۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৫৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حاجیوں کو پانی پلانا اور وہاں سے اور آب زم زم سے پینا
(٩٦٥٤) بکر بن عبداللہ مزنی فرماتے ہیں کہ میں ابن عباس (رض) کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا : کیا وجہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں تمہارے چچا زاد تو دودھ اور شہد پلاتے ہیں اور تم نبیذ پلاتے ہو ؟ کیا تم ضرورت مند ہو یا کنجوسی کی وجہ سے ایسا کرتے ہو ؟ تو ابن عباس (رض) نے فرمایا : اللہ کا شکر ہے ، ہمیں کوئی حاجت یا کمی نہیں ہے اور نہ ہی کنجوسی ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سواری پر تشریف لائے اور ان کے پیچھے اسامہ (رض) تھے، انھوں نے پانی طلب کیا تو ہم نے انھیں نبیذ کا برتن دیا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں سے پیا اور بچا ہوا اسامہ کو دیا اور فرمایا : تم نے اچھا اور خوب کیا ہے۔ اسی طرح کیا کرو۔ ہم نہیں چاہتے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم میں تبدیلی کریں۔
(۹۶۵۴)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ وَأَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ قَالُوا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ الضَّرِیرُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیِّ قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَتَاہُ أَعْرَابِیٌّ فَقَالَ : مَا لِی أَرَی بَنِی عَمِّکُمْ یَسْقُونَ اللَّبَنَ وَالْعَسَلَ وَأَنْتُمْ تَسْقُونَ النَّبِیذَ أَمِنْ حَاجَۃٍ بِکُمْ أَمْ مِنْ بُخْلٍ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : الْحَمْدُ لِلَّہِ مَا بِنَا حَاجَۃٌ وَلاَ بُخْلٌ قَدِمَ النَّبِیُّ -ﷺ عَلَی رَاحِلَتِہِ وَخَلْفَہُ أُسَامَۃُ فَاسْتَسْقَی فَأَتَیْنَاہُ بِإِنَائٍ مِنْ نَبِیذٍ فَشَرِبَ وَسَقَی فَضْلَہُ أُسَامَۃَ وَقَالَ : أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ ۔ کَذَا فَاصْنَعُوا فَلاَ نُرِیدُ تَغْیِیرَ مَا أَمَرَ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِنْہَالٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۴۱۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৬০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حاجیوں کو پانی پلانا اور وہاں سے اور آب زم زم سے پینا
(٩٦٥٥) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زمزم پلایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کر پیا۔

عکرمہ نے قسم کھا کر فرمایا کہ اس روز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اونٹ پر سوار تھے۔ عبدالرحیم کی روایت میں ہے اور انھوں نے کہا کہ عکرمہ فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس دن اونٹنی پر ہی تھے۔
(۹۶۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحِیمِ بْنِ مُنِیبٍ حَدَّثَنَا الْفَزَارِیُّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی ہَارُونُ بْنُ یُوسُفَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ عَنْ عَاصِمٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : سَقَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ وَہُوَ قَائِمٌ قَالَ عَاصِمٌ فَحَلَفَ عِکْرِمَۃُ مَا کَانَ یَوْمَئِذٍ إِلاَّ عَلَی بَعِیرٍ۔ وَفِی رِوَایَۃِ عَبْدِ الرَّحِیمِ وَقَالُوا قَالَ عِکْرِمَۃُ : وَاللَّہِ مَا کَانَ إِلاَّ عَلَی نَاقَۃٍ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ الْفَزَارِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۶۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৬১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حاجیوں کو پانی پلانا اور وہاں سے اور آب زم زم سے پینا
(٩٦٥٦) عثمان بن اسود فرماتے ہیں کہ ہم کو ابن عباس (رض) کے ایک ہم نشین نے کہا کہ مجھے ابن عباس (رض) نے فرمایا : تو کہاں سے آیا ہے ؟ میں نے کہا : میں نے زمزم پیا ہے، تو انھوں نے کہا : کیا تم نے کما حقہ پیا ہے ؟ میں نے کہا : میں کیسے پیوں ؟ انھوں نے کہا : جب تو پینے لگے تو قبلے کی طرف منہ کر ، پھر اللہ کا نام لے، پھر تین سانس لے اور جی بھر کے پی اور جب تو فارغ ہوجائے تو اللہ کی حمدبیان کر، بیشک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے ، ہمارے اور منافقوں کے درمیان نشانی یہ ہے کہ وہ پیٹ بھر کر زمزم نہیں پیتے۔
(۹۶۵۶)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الأَسْوَدِ حَدَّثَنِی جَلِیسٌ لاِبْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ لِی ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : مِنْ أَیْنَ جِئْتَ؟ قُلْتُ : شَرِبْتُ مِنْ زَمْزَمَ قَالَ : شَرِبْتَ کَمَا یَنْبَغِی۔ قُلْتُ : کَیْفَ أَشْرَبُ؟ قَالَ : إِذَا شَرِبْتَ فَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ ثُمَّ اذْکُرْ اسْمَ اللَّہِ ثُمَّ تَنَفَّسَ ثَلاَثًا وَتَضَّلَعْ مِنْہَا فَإِذَا فَرَغْتَ فَاحْمَدِ اللَّہَ فَإِنَّ النَّبِیَّ -ﷺ قَالَ : آیَۃٌ مَا بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْمُنَافِقِینَ أَنَّہُمْ لاَ یَتَضَلَّعُونَ مِنْ زَمْزَمَ ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৬২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حاجیوں کو پانی پلانا اور وہاں سے اور آب زم زم سے پینا
(٩٦٥٧) ایضاً
(۹۶۵۷)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ یَعْقُوبَ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یَحْیَی الْحُلْوَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ زَکَرِیَّا عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَہُ : مِنْ أَیْنَ جِئْتَ؟ قَالَ : شَرِبْتُ مِنْ زَمْزَمَ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ۔

وَرَوَاہُ الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی السِّینَانِیُّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ۔ [انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৬৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حاجیوں کو پانی پلانا اور وہاں سے اور آب زم زم سے پینا
(٩٦٥٨) ایضاً
(۹۶۵۸)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : بَکْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّیْرَفِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا مَکِّیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الأَسْوَدِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : جَائَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَجُلٌ فَذَکَرَ بِمِثْلِہِ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৬৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حاجیوں کو پانی پلانا اور وہاں سے اور آب زم زم سے پینا
(٩٦٥٩) ابوذر (رض) نے اپنے اسلام کا قصہ سنایا ، فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھی آئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجر اسود کا استلام کیا، پھر بیت اللہ کا طواف کیا، پھر نماز پڑھی۔ ابوذر فرماتے ہیں : میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور میں ہی تھا جس نے سب سے پہلے اسلام والاسلام آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وَعَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تو یہاں کب سے ہے ؟ میں نے کہا : میں یہاں تیس دن رات سے ہوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو تجھ کو کھلاتا کون تھا، میں نے کہا : میرا کھانا صرف آب زمزم تھا۔ میں موٹا تازہ ہوگیا حتیٰ کہ میرے پیٹ کا عکن ٹوٹنے لگا اور میں نے ذرا بھی بھوک محسوس نہیں کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کھانے کا کھانا اور بیماری کی شفا ہے۔
(۹۶۵۹)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَجَائٍ وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَی قَالاَ حَدَّثَنَا ہُدْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ ہِلاَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ فِی قِصَّۃِ إِسْلاَمِہِ إِلَی أَنْ قَالَ : فَجَائَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ ہُوَ وَصَاحِبُہُ فَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ ثُمَّ طَافَ بِالْبَیْتِ ہُوَ وَصَاحِبُہُ ثُمَّ صَلَّی فَلَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَأَتَیْتُہُ وَکُنْتُ أَوَّلُ مَنْ حَیَّاہُ بِتَحِیَّۃِ الإِسْلاَمِ فَقَالَ : وَعَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فَقَالَ : مَتَی کُنْتَ ہَا ہُنَا ۔ قُلْتُ : قَدْ کُنْتَ ہَا ہُنَا مُنْذُ ثَلاَثِینَ لَیْلَۃً وَیَوْمًا قَالَ : فَمَنْ کَانَ یُطْعِمُکَ ؟ ۔ قُلْتُ : مَا کَانَ لِی طَعَامٌ إِلاَّ مَائُ زَمْزَمَ فَسَمِنْتُ حَتَّی تَکَسَّرَ عُکَنُ بَطْنِی وَمَا وَجَدْتُ عَلَی کَبِدِی سَخْفَۃَ جُوعٍ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : إِنَّہَا مُبَارَکَۃٌ إِنَّہَا طَعَامُ طُعْمٍ وَشِفَائُ سُقْمٍ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَدَّابِ بْنِ خَالِدٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۳۴۷۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৬৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حاجیوں کو پانی پلانا اور وہاں سے اور آب زم زم سے پینا
(٩٦٦٠) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمزم کا پانی اسی لیے ہے جس کے لیے وہ پیا جائے۔
(۹۶۶۰)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الْبَاغَنْدِیُّ وَأَحْمَدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمَرْوَزِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : مَائُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَہُ ۔ تَفَرَّدَ بِہِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ۔ [ضعیف۔ ابن ماجہ ۳۰۶۲۔ احمد ۳/ ۳۵۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৬৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ ایامِ تشریق میں ہر روز منیٰ جانا اور زوالِ شمس کے بعدرمی کرنا
(٩٦٦١) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دن کے آخر میں ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد لوٹے، پھر آئے اور منیٰ میں ایام تشریق گزارے، جب سورج زائل ہوجاتا تو رمی جمار کرتے، ہر جمرہ کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے۔ پہلی اور دوسری کنکری کے وقت ٹھہرتے ، لمبا قیام کرتے اور عاجزی کرتے۔ پھر تیسری کنکری مارتے اور اس وقت نہ ٹھہرتے۔
(۹۶۶۱)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَہْبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : أَفَاضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مِنْ آخِرِ یَوْمِہِ حِینَ صَلَّی الظُّہْرَ ثُمَّ رَجَعَ فَمَکَثَ بِمِنًی لَیَالِیَ أَیَّامِ التَّشْرِیقِ یَرْمِی الْجَمْرَۃَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ کُلَّ جَمْرَۃٍ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ وَیَقِفُ عِنْدَ الأُولَی وَعِنْدَ الثَّانِیَۃِ فَیُطِیلُ الْقِیَامَ وَیَتَضَرَّعُ ثُمَّ یَرْمِی الثَّالِثَۃَ وَلاَ یَقِفُ عِنْدَہَا۔

[ضعیف۔ ابوداود ۱۹۷۴۔ احمد ۶/ ۹۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৬৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ ایامِ تشریق میں ہر روز منیٰ جانا اور زوالِ شمس کے بعدرمی کرنا
(٩٦٦٢) زہری (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اس جمرہ کو مارتے جو منیٰ کی مسجد کے ساتھ ہے تو اسے سات کنکریاں مارتے، جب بھی کوئی کنکری مارتے تو تکبیر کہتے ، پھر اس کے آگے آتے اور بیت اللہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوجاتے۔ اپنے ہاتھ اٹھاتے دعا کرتے اور لمبا قیام کرتے، پھر دوسرے جمرہ کے پاس آتے اور سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے اور وادی والی جانب بائیں طرف ہٹتے، وہاں قبلہ رو ہو کر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے پھر اس جمرہ کے پاس آتے جو عقبہ کے پاس ہے، اس کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے، پھر چلے جاتے اور اس کے پاس نہ ٹھہرتے۔

زہری کی روایت میں ہے کہ ابن عمر (رض) بھی اسی طرح کرتے تھے۔
(۹۶۶۲)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا یُونُسُ عَنِ الزُّہْرِیِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ کَانَ إِذَا رَمَی الْجَمْرَۃَ الَّتِی تَلِی الْمَسْجِدَ مَسْجِدَ مِنًی رَمَاہَا بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ یُکَبِّرُ کُلَّمَا رَمَی بِحَصَاۃٍ ثُمَّ تَقَدَّمَ أَمَامَہَا فَوَقَفَ مُسْتَقْبِلَ الْبَیْتِ رَافِعًا یَدَیْہِ یَدْعُو وَکَانَ یُطِیلُ الْوُقُوفَ ثُمَّ یَأْتِی الْجَمْرَۃَ الثَّانِیَۃَ فَیَرْمِیہَا بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ یُکَبِّرُ کُلَّمَا رَمَی بِحَصَاۃٍ وَیَنْحَدِرُ ذَاتَ الْیَسَارِ مِمَّا یَلِی الْوَادِیَ فَیَقِفُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ رَافِعًا یَدَیْہِ یَدْعُو ثُمَّ یَأْتِی الْجَمْرَۃَ الَّتِی عِنْدَ الْعَقَبَۃِ فَیَرْمِیہَا بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ یُکَبِّرُ کُلَّمَا رَمَی بِحَصَاۃٍ ثُمَّ یَنْصَرِفُ وَلاَ یَقِفُ عِنْدَہَا۔

قَالَ الزُّہْرِیُّ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یُحَدِّثُ بِمِثْلِ ہَذَا الْحَدِیثِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ قَالَ وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یَفْعَلُہُ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ فَقَالَ وَقَالَ مُحَمَّدٌ یُقَالُ إِنَّہُ ابْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ۔

[صحیح۔ بخاری ۱۶۶۶۔ نسائی ۳۰۸۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৬৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ ایامِ تشریق میں ہر روز منیٰ جانا اور زوالِ شمس کے بعدرمی کرنا
(٩٦٦٣) سالم بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ عبداللہ قریب والے جمرہ کو سات کنکریاں مارتے ہر کنکری کے بعد تکبیر کہتے ، پھر آگے بڑھتے اور قبلہ رو ہو کر طویل قیام کرتے اور ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے ۔ پھر درمیانی جمرہ کو مارتے۔ پھر اسی طرح وہ بائیں جانب قبلہ رو ہو کر کھڑے ہوتے، لمبا قیام کرتے دعا مانگتے ہاتھ اٹھا کر پھر عقبہ والے جمرہ کو مارتے۔ وادی کے درمیان سے کھڑے نہ ہوتے اور فرماتے : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی طرح دیکھا ہے۔
(۹۶۶۳)أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ التِّرْمِذِیُّ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَل حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ یُونُسَ بْنِ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ حَدَّثَہُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ کَانَ یَرْمِی الْجَمْرَۃَ الدُّنْیَا بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ یُکَبِّرُ عَلَی إِثْرِ کُلِّ حَصَاۃٍ ثُمَّ یَتَقَدَّمُ حَتَّی یُسْہِلَ فَیَقُومَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ قِیَامًا طَوِیلاً فَیَدْعُو وَیَرْفَعُ یَدَیْہِ ثُمَّ یَرْمِی الْوُسْطَی کَذَلِکَ فَیَأْخُذُ ذَاتَ الشِّمَالِ فَیُسْہِلُ فَیَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ قِیَامًا طَوِیلاً فَیَدْعُو وَیَرْفَعُ یَدَیْہِ ثُمَّ یَرْمِی الْجَمْرَۃَ ذَاتَ الْعَقَبَۃِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِی فَلاَ یَقِفُ وَیَقُولُ : ہَکَذَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یَفْعَلُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ أَخِیہِ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۶۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৬৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ ایامِ تشریق میں ہر روز منیٰ جانا اور زوالِ شمس کے بعدرمی کرنا
(٩٦٦٤) وبرہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں : میں نے ابن عمر (رض) سے پوچھا کہ میں رمی ٔجمار کب کروں ؟ تو انھوں نے فرمایا : جب تیرا امام رمی کرے تو، تو بھی کر۔ میں نے دوبارہ پوچھا تو انھوں نے فرمایا : ہم اندازہ لگاتے جب سورج زائل ہوتا ہم رمی کرتے تھے۔
(۹۶۶۴)أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ وَبَرَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ مَتَی أَرْمِی الْجِمَارَ؟ قَالَ : إِذَا رَمَی إِمَامُکَ فَارْمِہْ قَالَ فَأَعَدْتُ عَلَیْہِ الْمَسْأَلَۃَ فَقَالَ : کُنَّا نَتَحَیَّنُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ رَمَیْنَا۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۵۹۔ ابوداود ۱۹۷۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৭০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ ایامِ تشریق میں ہر روز منیٰ جانا اور زوالِ شمس کے بعدرمی کرنا
(٩٦٦٥) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلے دن چاشت کے وقت رمی ٔجمار کی، پھر اس کے بعد رمی نہیں کی حتیٰ کہ سورج ڈھل ہوگیا۔
(۹۶۶۵)حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قِرَائَ ۃً وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ رَمَی الْجَمْرَۃَ أَوَّلَ یَوْمٍ ضُحًی ثُمَّ لَمْ یَرْمِ بَعْدَ ذَلِکَ حَتَّی زَالَتِ الشَّمْسُ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۹۹]
tahqiq

তাহকীক: