আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৮৮ টি

হাদীস নং: ৯৬৭১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ ایامِ تشریق میں ہر روز منیٰ جانا اور زوالِ شمس کے بعدرمی کرنا
(٩٦٦٦) عبداللہ بن عمر (رض) فرمایا کرتے تھے : تینوں دنوں میں رمیٔ جمار نہیں کی جائے گی حتیٰ کہ سورج زائل ہوجائے اور نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر پہلے دو جمروں کے پاس لمبی دیر تک رکتے ، اللہ کی حمد و تسبیح و تکبیر بیان کرتے اور جمرہ عقبہ کے پاس نہ ٹھہرتے اور جب بھی جمروں کو کنکری مارتے تو تکبیر کہتے۔

نافع سے منقول ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رمیٔ جمار کے وقت جب بھی کوئی کنکری مارتے ، ساتھ ساتھ تکبیر بھی کہتے۔
(۹۶۶۶)أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُولُ : لاَ یَرْمِی الْجِمَارَ فِی أَیَّامِ الثَّلاَثَۃِ حَتَّی تَزُولَ الشَّمْسُ۔

وَعَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَقِفُ عِنْدَ الْجَمْرَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ فَیَقِفُ وُقُوفًا طَوِیلاً وَیُکَبِّرُ اللَّہَ وَیُسَبِّحُہُ وَیَحْمَدُہُ وَیَدْعُو اللَّہَ لاَ یَقِفُ عِنْدَ جَمْرَۃِ الْعَقَبَۃِ۔

وَعَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یُکَبِّرُ عِنْدَ رَمْیِ الْجِمَارِ کُلَّمَا رَمَی بِحَصَاۃٍ۔ [صحیح۔ مالک ۹۱۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৭২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ ایامِ تشریق میں ہر روز منیٰ جانا اور زوالِ شمس کے بعدرمی کرنا
(٩٦٦٧) (الف) وبرہ کہتے ہیں کہ جب ابن عمر (رض) نے جمرہ کو مارا تو اتنی دیر تک اس کے پاس رکے کہ اگر تو چاہے تو سورة بقرہ پڑھ سکتا ہے۔

(ب) ابو مجلز سے ابن عمر کے قیام کے اندازے کے بارے میں منقول ہے فرماتے ہیں کہ ابن عمر سورة یوسف کی قراءت کے اندازے کے برابر ٹھہرتے اور ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ وہ دو سو آیات والی سورت پڑھنے کے اندازے کے برابر کھڑے رہتے۔

عطا بن ابی رباح (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دونوں جمروں میں اونچے مقام پر رہتے، جب انھیں کنکریاں مارتے۔

(ج) اور ابن مسعود (رض) سے وادی کے وسط سے جمرۂ عقبہ کو رمی کرنے کے بارے میں مرفوع روایت منقول ہے۔

(د) اور سیدنا عمر (رض) سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں اس وقت تک جمرہ و کنکریاں نہ مارو حتیٰ کہ دن ڈھل جائے۔
(۹۶۶۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الأَحْمَسِیُّ حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِیُّ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ وَبَرَۃَ قَالَ : قَامَ ابْنُ عُمَرَ حِینَ رَمَی الْجَمْرَۃَ عَنْ یَسَارِہَا نَحْوَ مَا لَوْ شِئْتَ قَرَأْتَ سُورَۃَ الْبَقَرَۃِ۔ [صحیح]

وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ فِی حَزَرِ قِیَامِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : فَکَانَ قَدْرَ قِرَائَ ۃِ سُورَۃِ یُوسُفَ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ کَانَ یَقُومُ بِقَدْرِ قِرَائَ ۃِ سُورَۃٍ مِنَ الْمِئِینَ وَرُوِّینَا عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ کَانَ یَعْلُو فِی الْجَمْرَتَیْنِ إِذَا رَمَاہُمَا۔

وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مَرْفُوعًا فِی رَمْیِ جَمْرَۃِ الْعَقَبَۃِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِی

وَرُوِّینَا عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : لاَ تَرْمِی الْجَمْرَۃَ حَتَّی یَمِیلَ النَّہَارُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৭৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جسے ماری گئی کنکریوں کی تعداد میں شک ہوا
(٩٦٦٨) ابومجلز فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر (رض) سے پوچھا کہ میں نے جمرہ کو رمی کی ہے ، لیکن یاد نہیں کہ چھ کنکریاں ماری ہیں یا سات۔ انھوں نے کہا : اس آدمی یعنی علی (رض) کے پاس جاؤ۔ وہ گیا اور اس نے ان سے پوچھا تو وہ فرمانے لگے : اگر میرے ساتھ نماز میں یہ معاملہ بنے تو میں اپنی نماز دھراؤں گا۔ اس نے واپس آکر انھیں (ابن عمر) کو بتایا تو انھوں نے کہا : اس نے سچ کہا یا اچھا کیا۔

شیخ صاحب (رض) فرماتے ہیں : شاید واللہ اعلم ! انھوں نے مشکوک کو دھرانے کا ارادہ کیا ہے اسی طرح رمی میں بھی جس میں شک ہے، اس کو دھرایا جائے گا۔
(۹۶۶۸)أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِیُّ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ : إِنِّی رَمَیْتُ الْجَمْرَۃَ وَلَمْ أَدْرِ رَمَیْتُ سِتًّا أَوْ سَبْعًا۔ قَالَ : ائْتِ ذَاکَ الرَّجُلَ یُرِیدُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَہَبَ فَسَأَلَہُ فَقَالَ : أَمَّا أَنَا لَوْ فَعَلْتُ فِی صَلاَتِی لأَعَدْتُ الصَّلاَۃَ۔ فَجَائَ فَأَخْبَرَہُ بِذَلِکَ فَقَالَ : صَدَقَ أَوْ أَحْسَنَ۔

قَالَ الشَّیْخُ : وَکَأَنَّہُ أَرَادَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ لأَعَدْتُ الْمَشْکُوکَ فِی فِعْلِہِ کَذَلِکَ فِی الرَّمْیِ یُعِیدُ الْمَشْکُوکَ فِی رَمْیِہِ وَقَدْ مَضَی فِی کِتَابِ الصَّلاَۃِ حَدِیثُ أَبِی سَعِیدٍ وَغَیْرِہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ فِی الْبِنَائِ عَلَی الْیَقِینِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৭৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جسے ماری گئی کنکریوں کی تعداد میں شک ہوا
(٩٦٦٩) ابن ابی نجیح فرماتے ہیں کہ طاوس سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے ایک کنکری چھوڑ دی تو انھوں نے کہا : وہ ایک لقمہ کھلائے تو میں نے یہ بات مجاہد کو ذکر کی تو ابوعبدالرحمن نے کہا : اس نے سعد (رض) کی بات نہیں سنی، سعد بن مالک (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج کے بارے میں فرماتے ہیں، ہم سے کوئی کہتا تھا، میں نے چھ کنکریاں ماری ہیں اور کوئی کہتا تھا : میں نے سات کنکریاں ماری ہیں تو کوئی بھی ایک دوسرے پر عیب نہ لگاتا۔ [ضعیف۔ نسائی ٣٠٧٧، احمد ١/ ١٦٨، مجاہد نے سعد سے نہیں سنا۔
(۹۶۶۹)وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ قَالَ : سُئِلَ طَاوُسٌ عَنْ رَجُلٍ تَرَکَ حَصَاۃً قَالَ : یُطْعِمُ لُقْمَۃً قَالَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِمُجَاہِدٍ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَن : لَمْ یَسْمَعْ قَوْلَ سَعْدٍ قَالَ سَعْدُ بْنُ مَالِکٍ : رَجَعْنَا فِی حَجَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فَمِنَّا مَنْ یَقُولُ : رَمَیْتُ بِسِتٍّ وَمِنَّا مَنْ یَقُولُ : رَمَیْتُ بِسَبْعٍ فَلَمْ یَعِبْ ذَاکَ بَعْضُنَا عَلَی بَعْضٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৭৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ رمی کو شام تک مؤخر کرنے کا بیان
(٩٦٧٠) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ میں نے ذبح کرنے سے پہلے ہی سر منڈوالیا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی حرج نہیں، ایک دوسرے نے پوچھا : میں نے شام کے بعد رمی کی ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی حرج نہیں، مجھے نہیں معلوم کہ آپ سے اس دن کسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہو اور آپ نے ” کوئی حرج نہیں “ کے علاوہ کوئی اور جواب دیا ہو اور نہ ہی آپ نے کسی کو کچھ کفارہ دینے کو کہا۔
(۹۶۷۰)حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَیْبٍ الْبَزْمَہْرَانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ فَقَالَ : إِنِّی حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ فَقَالَ : لاَ حَرَجَ ۔ فَقَالَ الآخَرُ : إِنِّی رَمَیْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَیْتُ قَالَ : لاَ حَرَجَ ۔ فَمَا عَلِمْتُہُ سُئِلَ عَنْ شَیْئٍ یَوْمَئِذٍ إِلاَّ قَالَ : لاَ حَرَجَ ۔ وَلَمْ یَأْمُرْ بِشَیْئٍ مِنَ الْکَفَّارَۃِ۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ یَزِیدَ بْنِ زُرَیْعٍ وَغَیْرِہِ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ ۔

[صحیح۔ بخاری ۸۴ آخری جملہ کے علاوہ، اس آخری جملہ پر کلام حدیث نمبر: ۹۶۲۶ میں گزر چکی ہے۔]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৭৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ رمی کو شام تک مؤخر کرنے کا بیان
(٩٦٧١) نافع فرماتے ہیں کہ صفیہ بنت ابی عبید کی بھتیجی مزدلفہ میں حائضہ ہوگئی تو وہ اور صفیہ پیچھے رہ گئیں حتیٰ کہ سورج غروب ہونے کے بعد یوم نحر کو منیٰ پہنچیں ، عبداللہ بن عمر (رض) نے ان کو حکم دیا کہ وہ جب بھی پہنچیں ہیں : جمرہ کو کنکریاں ماریں اور انھوں نے ان دونوں پر کوئی کفارہ نہیں سمجھا۔
(۹۶۷۱)أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ نَافِعٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنَۃِ أَخٍ لِصَفِیَّۃَ بِنْتِ أَبِی عُبَیْدٍ امْرَأَۃِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّہَا نَفِسَتْ بِالْمُزْدَلِفَۃِ فَتَخَلَّفَتْ ہِیَ وَصَفِیَّۃُ حَتَّی أَتَتَا مِنًی بَعْدَ أَنْ غَرَبَتِ الشَّمْسُ مِنْ یَوْمِ النَّحْرِ فَأَمَرَہُمَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ أَنْ تَرْمِیَا الْجَمْرَۃَ حِینَ قَدِمَتَا وَلَمْ یَرَ عَلَیْہِمَا شَیْئًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৭৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ رمی کو شام تک مؤخر کرنے کا بیان
(٩٦٧٢) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : جو شخص رمیٔ جمار بھول گیا اور رات ہوگئی تو وہ اگلے دن زوال شمس سے پہلے رمی نہ کرے۔
(۹۶۷۲)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : مَنْ نَسِیَ أَیَّامَ الْجِمَارِ أَوْ قَالَ رَمْیَ الْجِمَارِ إِلَی اللَّیْلِ فَلاَ یَرْمِی حَتَّی تَزُولَ الشَّمْسُ مِنَ الْغَدِ۔

وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ رَجُلٍ عَنْ نَافِعٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ : إِذَا نَسِیتَ رَمْیَ الْجَمْرَۃِ یَوْمَ النَّحْرِ إِلَی اللَّیْلِ فَارْمِہَا بِاللَّیْلِ وَإِذَا کَانَ مِنَ الْغَدِ فَنَسِیتَ الْجِمَارَ حَتَّی اللَّیْلِ فَلاَ تَرْمِہِ حَتَّی یَکُونَ مِنَ الْغَدِ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ ثُمَّ ارْمِ الأَوَّلَ فَالأَوَّلَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৭৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ اونٹوں کے چرواہوں کے لیے یوم نحر کی رمی واپسی تک موخر کرنے اور منیٰ میں رات نہ گزارنے کی رخصت کا بیان
(٩٦٧٣) عاصم بن عدی (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹوں کے چرواہوں کو رات کی رخصت دی کہ وہ یوم نحر کو رمی کریں اور اگلے دن یا اس کے بعد والے دن ، پھر کوچ والے دن۔
(۹۶۷۳)أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ أَبَا الْبَدَّاحِ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عَدِیٍّ أَخْبَرَہُ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ رَسُولَ -ﷺ أَرْخَصَ لِرِعَائِ الإِبِلِ فِی الْبَیْتُوتَۃِ یَرْمُونَ یَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ یَرْمُونَ الْغَدَ أَوْ مِنْ بَعْدِ الْغَدِ لِیَوْمَیْنِ ثُمَّ یَرْمُونَ یَوْمَ النَّفْرِ وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ وَہْبٍ أَنَّ أَبَا الْبَدَّاحِ أَخْبَرَہُ عَنْ أَبِیہِ عَاصِمِ بْنِ عَدِیٍّ أَخْبَرَہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ أَنَّہُ أَرْخَصَ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ۔ [صحیح۔ مالک ۹۱۹۔ ابوداود ۱۹۷۵۔ ترمذی ۹۵۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৭৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ اونٹوں کے چرواہوں کے لیے یوم نحر کی رمی واپسی تک موخر کرنے اور منیٰ میں رات نہ گزارنے کی رخصت کا بیان
(٩٦٧٤) عاصم بن عدی (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چرواہوں کو رخصت دی کہ وہ تاخیر سے آئیں اور نحر والے دن رمی کریں، پھر ایک دن رات چھوڑ کر اگلے دن رمی کریں۔
(۹۶۷۴)وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ الْخَلِیلِ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی الْبَدَّاحِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِیٍّ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ رَخَّصَ لِلرِّعَائِ أَنْ یَتَعَاقَبُوا فَیَرْمُوا یَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ یَدَعُوا یَوْمًا وَلَیْلَۃً ثُمَّ یَرْمُوا الْغَدَ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৮০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ اونٹوں کے چرواہوں کے لیے یوم نحر کی رمی واپسی تک موخر کرنے اور منیٰ میں رات نہ گزارنے کی رخصت کا بیان
(٩٦٧٥) عاصم بن عدی (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چرواہوں کو ایک دن چھوڑ کر ایک دن رمی کرنے کی رخصت دی۔
(۹۶۷۵)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ وَمُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِمَا عَنْ أَبِی الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِیٍّ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ رَخَّصَ لِلرِّعَائِ أَنْ یَرْمُوا یَوْمًا وَیَدَعُوا یَوْمًا ہَکَذَا قَالَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ۔

وَکَذَلِکَ قَالَہُ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ وَکَأَنَّہُمَا نَسَبَا أَبَا الْبَدَّاحِ إِلَی جَدِّہِ وَأَبُوہُ عَاصِمُ بْنُ عَدِیٍّ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৮১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ اگر چاہیں تو دن کی بجائے رات کو رمی کرنے کی رخصت
(٩٦٧٦) عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹوں کے چرواہوں کو رات کے وقت رمی جمار کرنے کی رخصت دی۔
(۹۶۷۶)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ رَخَّصَ لِرِعَائِ الإِبِلِ أَنْ یَرْمُوا الْجِمَارَ بِاللَّیْلِ۔ [صحیح لغیرہ۔ مالک ۹۲۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৮২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ اگر چاہیں تو دن کی بجائے رات کو رمی کرنے کی رخصت
(٩٦٧٧) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چرواہا رات کو رمی کرے اور دن کو اونٹ چرائے۔
(۹۶۷۷)وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ وَأَبُو زَکَرِیَّا قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عُمَرُ بْنُ قَیْسٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : الرَّاعِی یَرْمِی بِاللَّیْلِ وَیَرْعَی بِالنَّہَارِ ۔ [ضعیف۔ عمرو بن قیس متروک ہے]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৮৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ اگر چاہیں تو دن کی بجائے رات کو رمی کرنے کی رخصت
(٩٦٧٨) ایضاً
(۹۶۷۸)وَبِہَذَا الإِسْنَادِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ غَزِیَّۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ مِثْلَہُ۔ [ضعیف۔ مرسل ہے]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৮৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ اگر چاہیں تو دن کی بجائے رات کو رمی کرنے کی رخصت
(٩٦٧٩) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چرواہوں کو رات کے وقت رمی کرنے کی رخصت دی۔
(۹۶۷۹)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ رَخَّصَ لِلرِّعَائِ أَنْ یَرْمُوا بِاللَّیْلِ۔ [ضعیف۔ مسلم بن خالد زنجی کثیر الاوہام ہے]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৮৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ ایامِ تشریق کے دوران امام کا منیٰ میں خطبہ دینا
(٩٦٨٠) ابو نجیح بنی بکر کے دو آدمیوں سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایام تشریق کے درمیان خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ، جب کہ ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری کے پاس تھے اور یہی وہ خطبہ ہے جو آپ نے منیٰ میں ارشاد فرمایا۔
(۹۶۸۰)أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ رَجُلَیْنِ مِنْ بَنِی بَکْرٍ قَالاَ : رَأَیْنَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یَخْطُبُ بَیْنَ أَوْسَطِ أَیَّامِ التَّشْرِیقِ وَنَحْنُ عِنْدَ رَاحِلَتِہِ وَہِیَ خُطْبَۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ الَّتِی خَطَبَ بِمِنًی۔ [صحیح۔ ابوداؤد ۱۹۵۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৮৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ ایامِ تشریق کے دوران امام کا منیٰ میں خطبہ دینا
(٩٦٨١) سراء بنت نہبان فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حجۃ الوداع میں یہ کہتے ہوئے سنا : ” کیا تم جانتے ہو یہ کون سا ہے ؟ “ اور یہ وہ دن تھا جسے یوم الرؤس کہا جاتا تھا، لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہ ایام تشریق کا افضل دن ہے۔ کیا تم جانتے ہو یہ کون سا شہر ہے۔ “ انھوں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ مشعر حرام ہے ، پھر فرمایا : ” مجھے معلوم نہیں شاید میں تمہیں اس کے بعد مل سکوں یا نہ، خبردار ! تمہارے مال، خون اور عزتیں تم پر تمہارے اس شہر میں اس دن کی طرح حرام ہیں حتیٰ کہ تم اپنے رب سے جا ملو تو وہ تمہارے اعمال کے بارے میں تم سے سوال کرے گا، خبردار ! تمہارے قریب والے دور والے تک یہ بات پہنچا دیں، خبر دار ! کیا میں نے پہنچا دیا ہے ؟ “ جب ہم مدینہ پہنچے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کچھ ہی مدت بعد وفات پا گئے۔
(۹۶۸۱)أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ النُّعْمَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : إِسْمَاعِیلُ بْنُ نُجَیْدٍ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حِصْنٍ الْغَنَوِیِّ حَدَّثَتْنِی سَرَّائُ بِنْتُ نَبْہَانَ وَکَانَتْ رَبَّۃَ بَیْتٍ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یَقُولُ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ : ہَلْ تَدْرُونَ أَیُّ یَوْمٍ ہَذَا؟ ۔ قَالَ وَہُوَ الْیَوْمُ الَّذِی یَدْعُونَ یَوْمَ الرُّئُ وسِ قَالُوا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ : ہَذَا أَوْسَطُ أَیَّامِ التَّشْرِیقِ ہَلْ تَدْرُونَ أَیُّ بَلَدٍ ہَذَا؟ ۔ قَالُوا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ۔ قَالَ : ہَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ ۔ ثُمَّ قَالَ : إِنِّی لاَ أَدْرِی لَعَلِّی لاَ أَلْقَاکُمْ بَعْدَ ہَذَا أَلاَ وَإِنَّ دِمَائَ کُمْ وَأَمْوَالَکُمْ وَأَعْرَاضَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہَذَا فِی بَلَدِکُمْ ہَذَا حَتَّی تَلْقَوْا رَبَّکُمْ فَیَسْأَلَکُمْ عَنْ أَعْمَالِکُمْ أَلاَ فَلْیُبْلِغْ أَدْنَاکُمْ أَقْصَاکُمْ أَلاَ ہَلْ بَلَّغْتُ ۔ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ لَمْ یَلْبَثْ إِلاَّ قَلِیلاً حَتَّی مَاتَ -ﷺ -۔

وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ بِہَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ قَالَتْ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ یَوْمَ الرُّئُ وسِ۔

[ضعیف۔ ابوداؤد ۱۹۵۳۔ ابن خزیمہ ۲۹۷۳۔ طبرانی کبیر ۷۷۷۔ طبرانی اوسط: ۲۴۳۰۔ ربیعہ مجہول الحال ہے]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৮৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ ایامِ تشریق کے دوران امام کا منیٰ میں خطبہ دینا
(٩٦٨٢) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : جب یہ سورت ” اذا جاء نصر اللہ والفتح “ (جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے) نازل ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جان لیا کہ یہ الوداع ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی اونٹنی قصواء کا حکم دیا اس پر کجاوا کسا گیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوار ہوئے عقبہ کے پاس ٹھہرے ، لوگ جمع ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو !۔۔۔ الخ
(۹۶۸۲)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَزِیدَ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنِی مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ الرَّبَذِیُّ أَخْبَرَنِی صَدَقَۃُ بْنُ یَسَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : أُنْزِلَتْ ہَذِہِ السُّورَۃُ (إِذَا جَائَ نَصْرُ اللَّہِ وَالْفَتْحُ) عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فِی وَسَطِ أَیَّامِ التَّشْرِیقِ وَعَرَفَ أَنَّہُ الْوَدَاعُ فَأَمَرَ بِرَاحِلَتِہِ الْقَصْوَائِ فَرُحِلَتْ لَہُ فَرَکِبَ فَوَقَفَ بِالْعَقَبَۃِ وَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی خُطْبَتِہِ۔ [ضعیف۔ عبد بن حمید فی المنتخب: ۸۵۸۔ موسی بن عبیدہ الربذی ضعیف ہے]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৮৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے یوم نحر کے بعد دو دنوں میں جلدی کی
(٩٦٨٣) عبدالرحمن بن یعمردیلی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عرفات میں کھڑے دیکھا، آپ کے پاس اہل نجد میں سے کچھ لوگ آئے ، انھوں نے حج کے بارے میں پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حج یوم عرفہ ہے جس نے صبح کی نماز سے پہلے اسے پا لیا اس نے حج کو پا لیا، ایامِ منیٰ تین ایام تشریق ہیں، جس نے دو دن میں جلدی کی، اس پر کوئی گناہ نہیں اور جس نے تاخیر کی اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔
(۹۶۸۳)أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قُوہِیَارَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَطَائٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَعْمُرَ الدِّیلِیِّ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ وَاقِفًا بِعَرَفَاتٍ فَأَقْبَلَ أُنَاسٌ مِنْ أَہْلِ نَجْدٍ فَسَأَلُوہُ عَنِ الْحَجِّ فَقَالَ : الْحَجُّ یَوْمَ عَرَفَۃَ مَنْ أَدْرَکَ قَبْلَ صَلاَۃِ الصُّبْحِ فَقَدْ أَدْرَکَ الْحَجَّ أَیَّامُ مِنًی ثَلاَثَۃُ أَیَّامِ التَّشْرِیقِ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِی یَوْمَیْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَیْہِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلاَ إِثْمَ عَلَیْہِ ۔ [صحیح۔ ابوداود ۱۹۴۹۔ ترمذی ۸۸۹۔ نسائی ۳۰۱۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৮৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے یوم نحر کے بعد دو دنوں میں جلدی کی
(٩٦٨٤) ابن عباس (رض) اللہ رب العالمین کے فرمان { فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ } کے بارے میں فرماتے ہیں : جس نے دو دن میں جلدی کی اس کو بھی معاف کردیا جائے گا اور جس نے تین دنوں تک تاخیر کی اس کو بھی معاف کردیا جائے گا۔ ضعیف، قدامہ مجہول الحال ہے اور ضحاک کی ابن عباس سے ملاقات نہیں۔
(۹۶۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ ہِلاَلٍ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا قُدَامَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِیُّ حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ یَعْنِی فِی قَوْلِہِ { فَمَنْ تَعَجَّلَ فِی یَوْمَیْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَیْہِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلاَ إِثْمَ عَلَیْہِ} قَالَ : مَنْ تَعَجَّلَ فِی یَوْمَیْنِ غُفِرَ لَہُ وَمَنْ تَأَخَّرَ إِلَی ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ غُفِرَ لَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৯০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے یوم نحر کے بعد دو دنوں میں جلدی کی
(٩٦٨٥) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : { فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ } یعنی وہ اس حال میں لوٹے گا کہ اس کے گناہ معاف کردیے جائیں گے یا اس کو معاف کردیا جائے گا۔
(۹۶۸۵)قَالَ وَحَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ ہِلاَلٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا (فَمَنْ تَعَجَّلَ فِی یَوْمَیْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَیْہِ) قَالَ رَجَعَ مَغْفُورًا لَہُ أَوْ قَالَ غُفِرَ لَہُ۔

[ضعیف۔ طبرانی فی تفسیرہ ۲/ ۳۱۴۔ اس میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہے]
tahqiq

তাহকীক: