আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৮৮ টি
হাদীস নং: ৯৭৩১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ بیت اللہ میں داخل ہونے اور اس میں نماز پڑھنے کا بیان
(٩٧٢٦) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ مسلمان آدمی پر تعجب ہے کہ وہ جب کعبہ میں داخل ہوتا ہے تو کیسے اپنی نگاہ چھت کی طرف اٹھاتا ہے وہ اسے اللہ کی جلالت و عظمت کی خاطر چھوڑ دے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی نگاہ سجدہ والی جگہ سے نہ ہٹائی حتیٰ کہ وہاں سے نکل گئے۔
(۹۷۲۶)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِیسَی بْنِ زَیْدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ مَالِکٍ اللَّخْمِیُّ بِتِنِّیسَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ التِّنِّیسِیُّ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَکِّیُّ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّ عَائِشَۃَ کَانَتْ تَقُولُ : عَجَبًا لِلْمَرْئِ الْمُسْلِمِ إِذَا دَخَلَ الْکَعْبَۃَ کَیْفَ یَرْفَعُ بَصَرَہُ قِبَلَ السَّقْفِ یَدَعُ ذَلِکَ إِجْلاَلاً لِلَّہِ وَإِعْظَامًا دَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ الْکَعْبَۃَ مَا خَلَّفَ بَصَرُہُ مَوْضِعَ سُجُودِہِ حَتَّی خَرَجَ مِنْہَا۔ [باطل۔ حاکم ۱/ ۶۵۲۔ ابن خزیمہ۳۰۱۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৩২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ بیت اللہ میں داخل ہونے اور اس میں نماز پڑھنے کا بیان
(٩٧٢٧) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں میں نے کہا میرے سوا آپ کی تمام ازواج بیت اللہ میں داخل ہوئی ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے رشتہ داروں کے پاس جا وہ تیرے لیے بھی دروازہ کھول دیں گے، کہتی ہیں کہ میں گئی اور کہا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو حکم دیتے ہیں میرے لیے دروازہ کھولو۔ تو اس نے چابیاں اٹھائیں اور ان کے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ کی قسم بیت اللہ کا دروازہ رات کے وقت نہ تو جاہلیت میں کھولا گیا ہے نہ اسلام میں۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیدہ عائشہ (رض) کو فرمایا تیری قوم نے جب بیت اللہ تعمیر کیا تو ان کے پاس خرچہ کم ہوگیا تو انھوں نے بیت اللہ کا کچھ حصہ منڈیر میں چھوڑ دیا تو وہاں جا اور دو رکعتیں پڑھ لے۔
(۹۷۲۷)حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ إِمْلاَئً وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قِرَائَ ۃً قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا عَطَائُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ کُلُّ نِسَائِکَ قَدْ دَخَلْنَ الْبَیْتَ غَیْرِی قَالَ : فَاذْہَبِی إِلَی ذِی قَرَابَتِکِ فَلْیَفْتَحْ لَکِ ۔ قَالَتْ فَأَتَیْتُہُ فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یَأْمُرُکَ أَنْ تَفْتَحَ لِی قَالَتْ فَاحْتَمَلَ الْمَفَاتِیحَ ثُمَّ ذَہَبَ مَعَہَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَاللَّہِ مَا فَتَحْتُ الْبَابَ بِلَیْلٍ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَلاَ فِی الإِسْلاَمِ فَقَالَ لِعَائِشَۃَ : إِنَّ قَوْمَکِ حِینَ بَنَوُا الْبَیْتَ قَصَّرَتْ بِہِمُ النَّفَقَۃُ فَتَرَکُوا بَعْضَ الْبَیْتِ فِی الْحِجْرِ فَاذْہَبِی فَصَلِّی فِی الْحِجْرِ رَکْعَتَیْنِ ۔
[صحیح لغیرہ۔ احمد ۶/ ۶۷۔ طبرانی اوسط ۷۰۹۸۔ ابوداود ۲۰۲۸۔ ترمذی ۸۷۶]
[صحیح لغیرہ۔ احمد ۶/ ۶۷۔ طبرانی اوسط ۷۰۹۸۔ ابوداود ۲۰۲۸۔ ترمذی ۸۷۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৩৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس بات سے استدلال کیا جاتا ہے کہ بیت اللہ میں داخلہ ضروری نہیں ہے
(٩٧٢٨) اسماعیل بن خالد فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی سے پوچھا : کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے عمرے کے دوران بیت اللہ میں داخل ہوئے ہیں ؟ تو انھوں نے فرمایا : نہیں۔
(۹۷۲۸)أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا سُرَیْجُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی أَوْفَی : أَدَخَلَ النَّبِیُّ -ﷺ فِی عُمْرَتِہِ الْبَیْتَ ؟ قَالَ : لاَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُرَیْجِ بْنِ یُونُسَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُرَیْجِ بْنِ یُونُسَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৩৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس بات سے استدلال کیا جاتا ہے کہ بیت اللہ میں داخلہ ضروری نہیں ہے
(٩٧٢٩) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس سے نکلے اور آپ خوش وخرم تھے اور جب واپس لوٹے تو غمزدہ تھے تو میں نے پوچھا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جاتے ہوئے تو اس اس طرح گئے ہیں ؟ فرمانے لگے : میں کعبہ میں داخل ہوا تھا اور اب سوچتا ہوں کہ کاش ایسا نہ کرتا، مجھے ڈر ہے کہ میں نے اپنے بعد اپنی امت کو تھکا دیا ہے۔
شیخ صاحب (رض) فرماتے ہیں : یہ حج کی بات ہوگی اور ابن ابی اوفی والی حدیث عمرہ کے بارے میں ہے ، لہٰذا دونوں ایک دوسرے کی مخالف نہیں ہیں۔
شیخ صاحب (رض) فرماتے ہیں : یہ حج کی بات ہوگی اور ابن ابی اوفی والی حدیث عمرہ کے بارے میں ہے ، لہٰذا دونوں ایک دوسرے کی مخالف نہیں ہیں۔
(۹۷۲۹)أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاکِہِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ أَبِی مَسَرَّۃَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی الصَّفِیرَا
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مِہْرَانَ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مِنْ عِنْدِی وَہُوَ قَرِیرُ الْعَیْنِ طَیِّبُ النَّفْسِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَیَّ وَہُوَ حَزِینٌ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ خَرَجْتَ مِنْ عِنْدِی وَأَنْتَ کَذَا وَکَذَا قَالَ : إِنِّی دَخَلْتُ الْکَعْبَۃَ وَوَدِدْتُ أَنِّی لَمْ أَکُنْ فَعَلْتُہُ إِنِّی أَخَافُ أَنْ أَکُونَ قَدْ أَتْعَبْتُ أُمَّتِی بَعْدِی ۔ [ضعیف۔ ترمذی ۸۷۳۔ ابن ماجہ ۳۰۶۴]
قَالَ الشَّیْخُ وَہَذَا یَکُونُ فِی حَجَّتِہِ وَحَدِیثُ ابْنِ أَبِی أَوْفَی فِی عُمْرَتِہِ فَلاَ یَکُونُ أَحَدُہُمَا مُخَالِفًا لِلآخَرِ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مِہْرَانَ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مِنْ عِنْدِی وَہُوَ قَرِیرُ الْعَیْنِ طَیِّبُ النَّفْسِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَیَّ وَہُوَ حَزِینٌ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ خَرَجْتَ مِنْ عِنْدِی وَأَنْتَ کَذَا وَکَذَا قَالَ : إِنِّی دَخَلْتُ الْکَعْبَۃَ وَوَدِدْتُ أَنِّی لَمْ أَکُنْ فَعَلْتُہُ إِنِّی أَخَافُ أَنْ أَکُونَ قَدْ أَتْعَبْتُ أُمَّتِی بَعْدِی ۔ [ضعیف۔ ترمذی ۸۷۳۔ ابن ماجہ ۳۰۶۴]
قَالَ الشَّیْخُ وَہَذَا یَکُونُ فِی حَجَّتِہِ وَحَدِیثُ ابْنِ أَبِی أَوْفَی فِی عُمْرَتِہِ فَلاَ یَکُونُ أَحَدُہُمَا مُخَالِفًا لِلآخَرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৩৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ کعبہ کے مال اور غلاف کا بیان
(٩٧٣٠) شقیق بن سلمہ فرماتے ہیں کہ میں شیبہ بن عثمان کے ساتھ مسجد حرام میں بیٹھا تو انھوں نے کہا : جس طرح تو میرے ساتھ بیٹھا ہے بالکل اسی طرح عمر بن خطاب (رض) بیٹھے تھے اور وہ کہنے لگے کہ میرا ارادہ ہے کہ میں کعبہ کا سارا سونا اور چاندی کچھ بھی نہ چھوڑوں ، سب تقسیم کر دوں، شیبہ کہتے ہیں : میں نے کہا : آپ کے دو ساتھیوں نے تو یہ کام نہیں کیا، یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) نے، تو عمر (رض) نے فرمایا : وہ دونوں ایسے آدمی ہیں کہ میں جن کی اقتدا کرتا ہوں۔
(۹۷۳۰)أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی ہَارُونُ بْنُ یُوسُفَ أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَیَّانَ الأَحْدَبِ عَنْ أَبِی وَائِلٍ : شَقِیقِ بْنِ سَلَمَۃَ قَالَ : جَلَسْتُ إِلَی شَیْبَۃَ بْنِ عُثْمَانَ فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَقَالَ لِی جَلَسَ إِلَیَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَجْلِسَکَ ہَذَا فَقَالَ : لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ لاَ أَتْرُکَ فِیہَا صَفْرَائَ وَلاَ بَیْضَائَ إِلاَّ قَسَمْتُہَا یَعْنِی الْکَعْبَۃَ قَالَ شَیْبَۃُ فَقُلْتُ : إِنَّہُ کَانَ لَکَ صَاحِبَانِ فَلَمْ یَفْعَلاَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ وَأَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ عُمَرُ : ہُمَا الْمَرْآنِ أَقْتَدِی بِہِمَا۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۸۴۷]
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۸۴۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৩৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ کعبہ کے مال اور غلاف کا بیان
(٩٧٣١) شیبہ بن عثمان جعفی سیدہ عائشہ (رض) کے پاس گئے اور کہا : اے ام المومنین ! کعبہ کا غلاف ہمارے پاس جمع ہوتا ہے اور جب وہ زیادہ ہوجائے تو ہم کنویں کھود کر اس میں دفن کردیتے ہیں تاکہ کوئی جنبی یا حائضہ انھیں نہ پہن لے تو سیدہ عائشہ (رض) نے فرمایا : تم نے اچھا نہیں کیا اور بہت برا کام کیا ہے ، کعبہ کا غلاف جب اتار لیا جائے تو جنبی وحائضہ کے پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن تو اس کو بیچ دے اور اس کی قیمت ساکنین اور جہاد میں لگا دے، کہتی ہیں کہ اس کے بعد شیبہ اس غلاف کو یمن بھیجتا، اسے وہاں بیچ دیا جاتا پھر اس کی قیمت مساکین، جہاد اور مسافروں پر خرچ کی جاتی۔
(۹۷۳۱)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْمَعْرُوفِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الإِسْفَرَایِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّائُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمَدِینِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی أَخْبَرَنِی عَلْقَمَۃُ بْنُ أَبِی عَلْقَمَۃَ عَنْ أُمِّہِ قَالَتْ : دَخَلَ شَیْبَۃُ بْنُ عُثْمَانَ الْحَجَبِیُّ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقَالَ : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّ ثِیَابَ الْکَعْبَۃِ تَجْتَمِعُ عَلَیْنَا فَتَکْثُرُ فَنَعْمِدُ إِلَی آبَارٍ فَنَحْتَفِرُہَا فَنُعَمِّقُہَا ثُمَّ نَدْفِنُ ثِیَابَ الْکَعْبَۃِ فِیہَا کَیْلاَ یَلْبَسَہَا الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ فَقَالَتْ لَہُ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : مَا أَحْسَنْتَ وَلَبِئْسَ مَا صَنَعْتَ إِنَّ ثِیَابَ الْکَعْبَۃِ إِذَا نُزِعَتْ مِنْہَا لَمْ یَضُرَّہَا أَنْ یَلْبَسَہَا الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ وَلَکِنْ بِعْہَا وَاجْعَلْ ثَمَنَہَا فِی الْمَسَاکِینِ وَفِی سَبِیلِ اللَّہِ قَالَتْ فَکَانَ شَیْبَۃُ بَعْدَ ذَلِکَ یُرْسِلُ بِہَا إِلَی الْیَمَنِ فَتُبَاعُ ہُنَاکَ ثُمَّ یُجْعَلُ ثَمَنُہَا فِی الْمَسَاکِینِ وَفِی سَبِیلِ اللَّہِ وَابْنِ السَّبِیلِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৩৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ کعبہ کے مال اور غلاف کا بیان
(٩٧٣٢) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے لوگ عاشورا کا روزہ رکھا کرتے تھے اور اسی دن کعبہ کو غلاف پہنایا جاتا تھا۔ جب اللہ نے رمضان کو فرض قرار دے دیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو عاشورا کا روزہ رکھنا چاہتا ہے تو رکھ لے اور جو چھوڑنا چاہتا ہے چھوڑ دے۔
(۹۷۳۲)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ
(ح ) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ یَعْنِی ابْنَ أَبِی حَفْصَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانُوا یَصُومُونَ عَاشُورَائَ قَبْلَ أَنْ یُفْرَضَ رَمَضَانُ وَکَانَ یَوْمًا تُسْتَرُ فِیہِ الْکَعْبَۃُ قَالَتْ فَلَمَّا فَرَضَ اللَّہُ رَمَضَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : مَنْ شَائَ أَنْ یَصُومَہُ فَلْیَصُمْہُ وَمَنْ شَائَ أَنْ یَتْرُکَہُ تَرَکَہُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۱۵]
(ح ) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ یَعْنِی ابْنَ أَبِی حَفْصَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانُوا یَصُومُونَ عَاشُورَائَ قَبْلَ أَنْ یُفْرَضَ رَمَضَانُ وَکَانَ یَوْمًا تُسْتَرُ فِیہِ الْکَعْبَۃُ قَالَتْ فَلَمَّا فَرَضَ اللَّہُ رَمَضَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : مَنْ شَائَ أَنْ یَصُومَہُ فَلْیَصُمْہُ وَمَنْ شَائَ أَنْ یَتْرُکَہُ تَرَکَہُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۱۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৩৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ وادیٔ محصب میں اترنا اور نماز ادا کرنے کا بیان
(٩٧٣٣) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب منیٰ سے نکلنے کا ارادہ کیا تو فرمایا : ہم کل خیف بنی کنانہ میں اترنے والے ہیں ان شاء اللہ ، جہاں انھوں نے کفر پر قسمیں اٹھائی تھیں، یعنی وادی محصب میں اور بات یہ تھی کہ قریش اور بنی کنانہ نے بنی ہاشم اور بنی مطلب کے خلاف قسمیں اٹھائی تھیں کہ وہ ان سے نہ تو نکاح کریں گے اور نہ ہی کوئی اور معاملہ حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے سپرد نہ کردیں۔ [صحیح۔ بخاری ١٥٢٣۔ مسلم ١٣١٤]
(۹۷۳۳)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ أَخْبَرَنِی أَبِی حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی ابْنُ شِہَابٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَالَ حِین أَرَادَ أَنْ یَنْفِرَ مِنْ مِنًی : نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا إِنْ شَائَ اللَّہُ بِخَیْفِ بَنِی کِنَانَۃَ حَیْثُ تَقَاسَمُوا عَلَی الْکُفْرِ ۔ یَعْنِی بِذَلِکَ الْمُحَصَّبَ وَذَلِکَ أَنَّ قُرَیْشًا وَبَنِی کِنَانَۃَ تَقَاسَمُوا عَلَی بَنِی ہَاشِمٍ وَبَنِی الْمُطَّلِبِ أَنْ لاَ یُنَاکِحُوہُمْ وَلاَ یَکُونَ بَیْنَہُمْ شَیْئٌ حَتَّی یُسْلِمُوا إِلَیْہِمْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الأَوْزَاعِیِّ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الأَوْزَاعِیِّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৩৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ وادیٔ محصب میں اترنا اور نماز ادا کرنے کا بیان
(٩٧٣٤) اسامہ بن زید (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حج کے موقع پر کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کہاں اتریں گے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی جگہ چھوڑی ہے ؟ پھر فرمایا : ہم کل خیف بنی کنانہ میں اتریں گے جہاں کافروں نے قسمیں اٹھائی تھیں، یعنی وادی محصب میں اور بات یہ ہے کہ قریش اور کنانہ نے بنی ہاشم پر قسم اٹھائی تھی کہ وہ ان سے نکاح نہیں کریں گے، تجارت نہیں کریں گے اور ان کو پناہ نہیں دیں گے۔ زہری کہتے ہیں کہ خیف کا معنی وادی ہے۔
(۹۷۳۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْمَعْرُوفِ الْفَقِیہُ الْمِہْرَجَانِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ : بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّائُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ ہَمَّامٍ أَخْبَرَنِی مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیْنَ تَنْزِلُ وَذَلِکَ فِی حَجَّتِہِ قَالَ : وَہَلْ تَرَکَ لَنَا عَقِیلٌ مَنْزِلاً ۔ ثُمَّ قَالَ : نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا خَیْفَ بَنِی کِنَانَۃَ حَیْثُ تَقَاسَمُوا الْکُفَّارُ ۔
یَعْنِی بِذَلِکَ الْمُحَصَّبَ وَذَلِکَ أَنَّ قُرَیْشًا وَکِنَانَۃَ تَحَالَفَتْ عَلَی بَنِی ہَاشِمٍ أَنْ لاَ یُنَاکِحُوہُمْ وَلاَ یُبَایِعُوہُمْ وَلاَ یُئْوُوہُمْ۔ قَالَ الزُّہْرِیُّ وَالْخَیْفُ الْوَادِی۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مَحْمُودٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِہْرَانَ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۸۹۳۔ مسلم ۱۳۵۱]
یَعْنِی بِذَلِکَ الْمُحَصَّبَ وَذَلِکَ أَنَّ قُرَیْشًا وَکِنَانَۃَ تَحَالَفَتْ عَلَی بَنِی ہَاشِمٍ أَنْ لاَ یُنَاکِحُوہُمْ وَلاَ یُبَایِعُوہُمْ وَلاَ یُئْوُوہُمْ۔ قَالَ الزُّہْرِیُّ وَالْخَیْفُ الْوَادِی۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مَحْمُودٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِہْرَانَ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۸۹۳۔ مسلم ۱۳۵۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৪০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ وادیٔ محصب میں اترنا اور نماز ادا کرنے کا بیان
(٩٧٣٥) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر و عمر (رض) ابطح میں نہ اترتے تھے۔ صخر بن جویریہ نافع سے نقل فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) محصب میں اترنا سنت سمجھتے تھے اور کوچ والے دن ظہر کی نماز محصب میں ادا کرتے تھے۔ نافع کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے بعد خلفاء نے محصب میں پڑاؤ کیا۔
(۹۷۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنِی أَبِی أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ وَأَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُمَا کَانُوا یَنْزِلُونَ الأَبْطَحَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِہْرَانَ الرَّازِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَہُ أَیْضًا مِنْ حَدِیثِ صَخْرِ بْنِ جُوَیْرِیَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ کَانَ یَرَی التَّحْصِیبَ سُنَّۃً وَکَانَ یُصَلِّی الظُّہْرَ یَوْمَ النَّفْرِ بِالْحَصْبَۃِ۔ قَالَ نَافِعٌ : قَدْ حَصَّبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ وَالخْلَفَائُ بَعْدَہُ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۱۰]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِہْرَانَ الرَّازِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَہُ أَیْضًا مِنْ حَدِیثِ صَخْرِ بْنِ جُوَیْرِیَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ کَانَ یَرَی التَّحْصِیبَ سُنَّۃً وَکَانَ یُصَلِّی الظُّہْرَ یَوْمَ النَّفْرِ بِالْحَصْبَۃِ۔ قَالَ نَافِعٌ : قَدْ حَصَّبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ وَالخْلَفَائُ بَعْدَہُ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۱۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৪১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ وادیٔ محصب میں اترنا اور نماز ادا کرنے کا بیان
(٩٧٣٦) ابن عمر (رض) ظہر و عصر کی نماز محصب میں ادا کرتے تھے اور خالد کہتے ہیں کہ مغرب و عشا بھی اور ہیں سوتے اور کہتے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی طرح کیا کرتے تھے۔
(۹۷۳۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَعْدٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی خَالِدٍ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یُوسُفَ قَالاَ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ مَسْعَدَۃَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ کَانَ یُصَلِّی بِہَا یَعْنِی الْمُحَصَّبَ الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ قَالَ خَالِدٌ : وَأَحْسِبُہُ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ ۔ قَالَ : وَیَہْجَعُ وَیَذْکُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ فَعَلَ ذَلِکَ أَوْ کَانَ یَفْعَلُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَجَبِیِّ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۷۹]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَجَبِیِّ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۷۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৪২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ وادیٔ محصب میں اترنا اور نماز ادا کرنے کا بیان
(٩٧٣٧) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر، عصر، مغرب اور عشا کی نماز محصب میں ادا کی اور وہیں سوئے۔ پھر بیت اللہ کی طرف گئے اور اس کا طواف کیا۔
(۹۷۳۷)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ : أَنَّ قَتَادَۃَ بْنَ دِعَامَۃَ حَدَّثَہُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ صَلَّی الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ وَرَقَدَ رَقْدَۃً بِالْمُحَصَّبِ ثُمَّ رَکِبَ إِلَی الْبَیْتِ فَطَافَ بِہِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ الْمُتَعَالِ بْنِ طَالِبٍ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۷۵]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ الْمُتَعَالِ بْنِ طَالِبٍ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۷۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৪৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ اس بات کی دلیل کہ محصب میں اترنا ایسا رکن نہیں کہ جس کے چھوڑنے پر کچھ فدیہ وغیرہ واجب ہو
(٩٧٣٨) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ محصب کچھ بھی نہیں ہے ، یہ تو صرف اترنے کی جگہ ہے جہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اترے تھے۔
(۹۷۳۸)حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : لَیْسَ الْمُحَصَّبُ بِشَیْئٍ إِنَّمَا ہُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۷۷۔ مسلم ۱۳۱۲]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۷۷۔ مسلم ۱۳۱۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৪৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ اس بات کی دلیل کہ محصب میں اترنا ایسا رکن نہیں کہ جس کے چھوڑنے پر کچھ فدیہ وغیرہ واجب ہو
(٩٧٣٩) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ وہ صرف ایک منزل تھی جہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اترتے تاکہ نکلنے میں آسانی ہو یعنی ابطح میں۔ بعض راویوں نے یہ الفاظ زیادہ کیے ہیں کہ یہ سنت نہیں ہے۔
(۹۷۳۹)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَیُّوبَ اللَّخْمِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : إِنَّمَا کَانَ مَنْزِلاً نَزَلَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ لِیَکُونَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِہِ تَعْنِی الأَبْطَحَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ ہِشَامٍ۔وَزَادَ بَعْضُہُمْ عَنْ ہِشَامٍ وَلَیْسَ بِسُنَّۃٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۷۶۔ مسلم ۱۳۱]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ ہِشَامٍ۔وَزَادَ بَعْضُہُمْ عَنْ ہِشَامٍ وَلَیْسَ بِسُنَّۃٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۷۶۔ مسلم ۱۳۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৪৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ اس بات کی دلیل کہ محصب میں اترنا ایسا رکن نہیں کہ جس کے چھوڑنے پر کچھ فدیہ وغیرہ واجب ہو
(٩٧٤٠) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو محصب میں صرف اس لیے اترے تھے تاکہ وہاں سے نکلنا آسان ہو، یہ سنت نہیں ہے، تو جو چاہے وہاں اترے اور جو چاہے نہ اترے۔
(۹۷۴۰)أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : إِنَّمَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ الْمُحَصَّبَ لِیَکُونَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِہِ وَلَیْسَ بِسُنَّۃٍ فَمَنْ شَائَ نَزَلَہُ وَمَنْ شَائَ لَمْ یَنْزِلْہُ۔
[صحیح۔ ابوداؤد ۲۰۰۸۔ احمد ۶/ ۱۹۰۔ ابن خزیمہ ۲۹۸۷]
[صحیح۔ ابوداؤد ۲۰۰۸۔ احمد ۶/ ۱۹۰۔ ابن خزیمہ ۲۹۸۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৪৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ اس بات کی دلیل کہ محصب میں اترنا ایسا رکن نہیں کہ جس کے چھوڑنے پر کچھ فدیہ وغیرہ واجب ہو
(٩٧٤١) ابورافع (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ساتھیوں کو ابطح میں اترنے کا حکم نہیں دیا ، بلکہ میں نے ہی وہاں خیمہ لگایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں آئے اور پڑاؤ کیا۔
(۹۷۴۱)أَخْبَرَنَا أَبُوالْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُوعَلِیٍّ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّوَّافُ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ کَیْسَانَ أَنَّہُ سَمِعَ سُلَیْمَانَ بْنَ یَسَارٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی رَافِعٍ قَالَ : لَمْ یَأْمُرْنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ أَنْ أَنْزِلَ بِمَنْ مَعِی بِالأَبْطَحِ وَلَکِنْ أَنَا ضَرَبْتُ قُبَّتَہُ ثُمَّ جَاء فَنَزَلَ۔
قَالَ سُفْیَانُ کَانَ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ یُحَدِّثُ بِہَذَا الْحَدِیثِ عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَیْنَا صَالِحٌ قَالَ عَمْرٌو : اذْہَبُوا إِلَیْہِ فَسَلُوہُ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَأَبِی بَکْرٍ وَزُہَیْرٍ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۱۳]
قَالَ سُفْیَانُ کَانَ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ یُحَدِّثُ بِہَذَا الْحَدِیثِ عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَیْنَا صَالِحٌ قَالَ عَمْرٌو : اذْہَبُوا إِلَیْہِ فَسَلُوہُ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَأَبِی بَکْرٍ وَزُہَیْرٍ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۱۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৪৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طوافِ وداع کا بیان
(٩٧٤٢) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حج کی راتوں میں نکلے۔۔۔ انھوں نے حدیث ذکر کی اور فرمایا : حتیٰ کہ اللہ نے حج مکمل کردیا اور ہم منیٰ سے نکلے تو محصب میں پڑاؤ کیا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو بلایا اور فرمایا : اپنی بہن کو لے کر حرم سے نکل جا ، پھر تم دونوں اپنے طواف سے فارغ ہو کر میرے پاس محصب میں آؤ ، کہتی ہیں : اللہ نے عمرہ بھی کروا دیا اور ہم اپنے طواف سے فارغ ہو کر رات کے دوران ہی محصب میں پہنچ گئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم فارغ ہوگئے ہو ؟ ہم نے عرض کیا : جی ہاں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوچ کا اعلان کیا تو بیت اللہ کے پاس سے جب گزرے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا طواف کیا، پھر مدینہ کی جانب چل رہے۔
(۹۷۴۲)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَیْدٍ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فِی لَیَالِی الْحَجِّ وَذَکَرَتِ الْحَدِیثَ وَقَالَتْ : حَتَّی قَضَی اللَّہُ الْحَجَّ وَنَفَرْنَا مِنْ مِنًی فَنَزَلْنَا الْمُحَصَّبَ فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِی بَکْرٍ فَقَالَ : اخْرُجْ بِأُخْتِکَ مِنَ الْحَرَمِ ثُمَّ افْرُغَا مِنْ طَوَافِکُمَا ثُمَّ تَأْتِیَانِی ہَا ہُنَا بِالْمُحَصَّبِ ۔ قَالَتْ : فَقَضَی اللَّہُ الْعُمْرَۃَ وَفَرَغْنَا مِنْ طَوافِنَا مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ فَأَتَیْنَاہُ بِالْمُحَصَّبِ فَقَالَ : فَرَغْتُنَّ ۔ قُلْنَا : نَعَمْ فَأَذَّنَ فِی النَّاسِ بِالرَّحِیلِ فَمَرَّ بِالْبَیْتِ فَطَافَ بِہِ ثُمَّ ارْتَحَل مُتَوَجِّہًا إِلَی الْمَدِینَۃِ۔
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ أَفْلَحَ بْنِ حُمَیْدٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۹۶۔ مسلم ۱۲۱۷]
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ أَفْلَحَ بْنِ حُمَیْدٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۹۶۔ مسلم ۱۲۱۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৪৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طوافِ وداع کا بیان
(٩٧٤٣) افلح نے سابقہ حدیث ہی ذکر کی مگر یوں کہا کہ پھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سحری کے وقت پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ساتھیوں میں کوچ کا اعلان کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نکلے اور صبح کی نماز سے پہلے بیت اللہ کے پاس سے گزرے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا طواف کیا، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے پھر مدینہ کی طرف چل دیے۔
(۹۷۴۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ یَعْنِی الْحَنَفِیَّ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ فَذَکَرَہُ إِلَی أَنْ قَالَ قَالَتْ : ثُمَّ جِئْتُہُ بِسَحَرٍ فَأَذَّنَّ فِی أَصْحَابِہِ بِالرَّحِیلِ فَارْتَحَلَ فَمَرَّ بِالْبَیْتِ قَبْلَ صَلاَۃِ الصُّبْحِ فَطَافَ بِہِ حِین خَرَجَ ثُمَّ انْصَرَفَ مُتَوَجِّہًا إِلَی الْمَدِینَۃِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۴۸۵۔ ابوداؤد ۲۰۰۶]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۴۸۵۔ ابوداؤد ۲۰۰۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৪৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طوافِ وداع کا بیان
(٩٧٤٤) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ لوگ ہر جگہ سے واپس پلٹتے تھے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حاجیوں میں سے کوئی بھی واپس نہ جائے حتیٰ کہ اس کا آخری وقت بیت اللہ کے پاس گزرے۔
(۹۷۴۴)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ الأَحْوَلِ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : کَانَ النَّاسُ یَنْصَرِفُونَ فِی کُلِّ وَجْہٍ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ : لاَ یَنْفِرَنَّ أَحَدٌ مِنَ الْحَاجِّ حَتَّی یَکُونَ آخِرُ عَہْدِہِ بِالْبَیْتِ ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۶۸۔ مسلم ۱۳۲۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৫০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طوافِ وداع کا بیان
(٩٧٤٥) تقریباً اسی کے ہم معنی حدیث زہر بن حرب نے بھی سفیان بن عیینہ سے روایت کی ہے۔
(۹۷۴۵)وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ صَالِحٍ الشِّیرَازِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوٍ مِنْ مَعْنَاہُ
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَنْصُورٍ وَزُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوٍ مِنْ مَعْنَاہُ
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَنْصُورٍ وَزُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
তাহকীক: