আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৮৮ টি
হাদীস নং: ৯৭৭১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ ملتزم میں ٹھہرنے کا بیان
(٩٧٦٦) ابن عباس (رض) رکن اور دروازے کی درمیانی جگہ کو لازم پکڑتے اور فرماتے : رکن اور دروازے کی درمیانی ملتزم نامی جگہ کو جو شخص بھی چمٹ کر اللہ سے کچھ بھی مانگے تو اللہ اس کو ضرور دے دیتے ہیں۔
(۹۷۶۶)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ عَنْ سُلَیْمَانَ یَعْنِی ابْنَ بِلاَلٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ کَانَ یَلْزَمُ مَا بَیْنَ الرُّکْنِ وَالْبَابِ وَکَانَ یَقُولُ : مَا بَیْنَ الرُّکْنِ وَالْبَابِ یُدْعَی الْمُلْتَزَمَ لاَ یَلْزَمُ مَا بَیْنَہُمَا أَحَدٌ یَسْأَلُ اللَّہُ شَیْئًا إِلاَّ أَعْطَاہُ إِیَّاہُ۔ ہَذَا مَوْقُوفٌ وَسَائِرُ الأَحَادِیثِ فِیہِ قَدْ مَضَتْ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৭২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ ملتزم میں ٹھہرنے کا بیان
(٩٧٦٧) امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ میں پسند کرتا ہوں کہ جب وہ بیت اللہ کا الوداعی طواف کرے تو وہ ملتزم میں کھڑا ہو اور یہ دروازے اور رکن کے درمیان ہے اور کہے : اے اللہ ! یہ تیرا گھر ہے اور مجھ پر راضی ہوگیا ہے تو اپنی رضا مندی مزید عطا فرما۔ اگر نہیں تو پھر ابھی سے ہی مجھ پر راضی ہوجا، اس سے پہلے کہ تو مجھے اپنے گھر سے دور کرے۔ اب میرے کوچ کا وقت آپہنچا، اگر تو مجھے اجازت دے، تیرے یا تیرے گھر کے علاوہ کچھ اور نہ چاہنے والاہوں اور نہ ہی تجھ سے یا تیرے گھر سے بےرغبت ہونے والا ہوں، اے اللہ ! تو میرے بدن میں عافیت دے اور دین میں عصمت عطا کر اور میرا لوٹنا اچھا بنا دے اور مجھے اپنی اطاعت کی توفیق دے جب تک تو مجھے زندہ رکھے۔
(۹۷۶۷)أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ: أُحِبُّ لَہُ إِذَا وَدَّعَ الْبَیْتَ أَنْ یَقِفَ فِی الْمُلْتَزَمِ وَہُوَ بَیْنَ الرُّکْنِ وَالْبَابِ فَیَقُولُ : اللَّہُمَّ الْبَیْتُ بَیْتُکَ وَالْعَبْدُ عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ وَابْنُ أَمَّتِکَ حَمَلْتَنِی عَلَی مَا سَخَّرْتَ لِی مِنْ خَلْقِکَ حَتَّی سَیَّرْتَنِی فِی بِلاَدِکَ وَبَلَّغْتَنِی بِنِعْمَتِکَ حَتَّی أَعَنْتَنِی عَلَی قَضَائِ مَنَاسِکِکَ فَإِنْ کُنْتَ رَضِیتَ عَنِّی فَازْدَدْ عَنِّی رِضًا وَإِلاَّ فَمِنَ الآنَ قَبْلَ أَنْ تَنْأَی عَنْ بَیْتِکَ دَارِی فَہَذَا أَوَانُ انْصِرَافِی إِنْ أَذِنْتَ لِی غَیْرَ مُسْتَبْدِلٍ بِکَ وَلاَ بِبَیْتِکَ وَلاَ رَاغِبٍ عَنْکَ وَلاَ عَنْ بَیْتِکَ اللَّہُمَّ فَاصْحَبْنِی بِالْعَافِیۃِ فِی بَدَنِی وَالْعِصْمَۃِ فِی دِینِی وَأَحْسِنْ مُنْقَلَبِی وَارْزُقْنِی طَاعَتَکَ مَا أَبْقَیْتَنِی۔ وَہَذَا مِنْ قَوْلِ الشَّافِعِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَہُوَ حَسَنٌ۔ [صحیح۔ ذکرہ الشافعی فی الام ۲/ ۳۴۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৭৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے حج نہ کیا ہو اس کو بندھا ہوا کہنا مکروہ ہے
(٩٧٦٨) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام میں صرورت نہیں ہے۔
(۹۷۶۸)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ الْبُرْسَانِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عُمَرُ بْنُ عَطَائٍ یُقَالُ ہُوَ عُمَرُ بْنُ عَطَائِ بْنِ وَرَازٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : لاَ صَرُورَۃَ فِی الإِسْلاَمِ ۔أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی کِتَابِ السُّنَنِ۔ [ضعیف۔ ابوداود ۱۷۲۹۔ احمد ۱/ ۳۱۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৭৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے حج نہ کیا ہو اس کو بندھا ہوا کہنا مکروہ ہے
(٩٧٦٩) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا ہے کہ مسلمان کو صرور کہا جائے، اسی کو سفیان بن عیینہ نے عمرو عکرمہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرسل روایت کیا ہے۔ ابن جریج نے عکرمہ کا قول بنا کر نقل کیا ہے اور اس بات سے انکار کیا ہے کہ یہ ابن عباس یا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قول ہے اور ابن عیینہ وغیرہ کی روایت میں عکرمہ سے منقول ہے کہ آدمی جاہلیت میں دوسرے کو تھپڑ مارتا اور کہتا میں صرورہ (بندھا ہوا) ہوں تو اس کو کہا جاتا : اس کی جہالت کے لیے بندھا رہنے دو ، خواہ وہ اپنی لید اپنے پاؤں پر ہی مار لے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام میں بندھا رہنا نہیں ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آدمی اپنے چہرے پر مارتا۔ پھر کہتا کہ میں بندھا ہوا ہوں تو کہا جاتا : اس کے چہرے کو بندھا رہنے دو خواہ یہ اپنا گوبر اپنے پاؤں پر گرا لے۔
نافع بن جبیر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت فرماتے ہیں کہ عمرہ قیامت تک کے لیے حج میں داخل ہوگیا ہے، بندھنا نہیں ہے۔
نافع بن جبیر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت فرماتے ہیں کہ عمرہ قیامت تک کے لیے حج میں داخل ہوگیا ہے، بندھنا نہیں ہے۔
(۹۷۶۹)وَرَوَاہُ عُمَرُ بْنُ قَیْسٍ وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ نَہَی أَنْ یُقَالَ لِلْمُسْلِمِ صَرُورَۃٌ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا طَاہِرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نِزَارٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ قَیْسٍ فَذَکَرَہُ۔
وَقَدْ رَوَاہُ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ مُرْسَلاً وَرَوَاہُ ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِکْرِمَۃَ مِنْ قَوْلِہِ وَنَفَی أَنْ یَکُونَ ذَلِکَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَوْ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ فَاللَّہُ أَعْلَمُ وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ : کَانَ الرَّجُلُ یَلْطِمُ الرَّجُلَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَیَقُولُ : إِنِّی صَرُورَۃٌ فَیُقَالَ لَہُ : دُعُوا الصَّرُورَۃَ لِجَہْلِہِ وَإِنْ رَمَی بِجَعْرِہِ فِی رِجْلِہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : لاَ صَرُورَۃَ فِی الإِسْلاَمِ ۔ وَفِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی : یَلْطِمُ وَجْہَ الرَّجُلِ ثُمَّ یَقُولُ : إِنِّی صَرُورَۃٌ فَیُقَالُ : رُدُّوا صَرُورَۃَ وَجْہِہِ وَلَوْ أَلْقَی سَلْحَہُ فِی رِجْلِہِ۔
وَرُوِیَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِی سُلَیْمٍ تَارَۃً عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ وَتَارَۃً عَنِ ابْنِ جُبَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ وَتَارَۃً عَنِ ابْنِ أَخِی جُبَیْرٍ وَتَارَۃً عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ أُرَاہُ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ دَخَلَتِ الْعُمْرَۃُ فِی الْحَجِّ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لاَ صَرُورَۃَ۔ [ضعیف]
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا طَاہِرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نِزَارٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ قَیْسٍ فَذَکَرَہُ۔
وَقَدْ رَوَاہُ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ مُرْسَلاً وَرَوَاہُ ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِکْرِمَۃَ مِنْ قَوْلِہِ وَنَفَی أَنْ یَکُونَ ذَلِکَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَوْ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ فَاللَّہُ أَعْلَمُ وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ : کَانَ الرَّجُلُ یَلْطِمُ الرَّجُلَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَیَقُولُ : إِنِّی صَرُورَۃٌ فَیُقَالَ لَہُ : دُعُوا الصَّرُورَۃَ لِجَہْلِہِ وَإِنْ رَمَی بِجَعْرِہِ فِی رِجْلِہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : لاَ صَرُورَۃَ فِی الإِسْلاَمِ ۔ وَفِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی : یَلْطِمُ وَجْہَ الرَّجُلِ ثُمَّ یَقُولُ : إِنِّی صَرُورَۃٌ فَیُقَالُ : رُدُّوا صَرُورَۃَ وَجْہِہِ وَلَوْ أَلْقَی سَلْحَہُ فِی رِجْلِہِ۔
وَرُوِیَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِی سُلَیْمٍ تَارَۃً عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ وَتَارَۃً عَنِ ابْنِ جُبَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ وَتَارَۃً عَنِ ابْنِ أَخِی جُبَیْرٍ وَتَارَۃً عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ أُرَاہُ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ دَخَلَتِ الْعُمْرَۃُ فِی الْحَجِّ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لاَ صَرُورَۃَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৭৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے حج نہ کیا ہو اس کو بندھا ہوا کہنا مکروہ ہے
(٩٧٧٠) ابن عباس (رض) مرفوعاً بیان فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی بھی یہ نہ کہے کہ میں بندھا ہوا ہوں۔
(۹۷۷۰)وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أُرَاہُ رَفَعَہُ قَالَ : لاَ یَقُولَنَّ أَحَدُکُمْ إِنِّی صَرُورَۃٌ۔
قَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ لَمْ یَرْفَعْہُ عَنْ سُفْیَانَ إِلاَّ مُعَاوِیَۃُ۔ [حسن۔ طبرانی اوسط ۱۲۹۷۔ دارقطنی ۲/ ۲۳]
قَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ لَمْ یَرْفَعْہُ عَنْ سُفْیَانَ إِلاَّ مُعَاوِیَۃُ۔ [حسن۔ طبرانی اوسط ۱۲۹۷۔ دارقطنی ۲/ ۲۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৭৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے حج نہ کیا ہو اس کو بندھا ہوا کہنا مکروہ ہے
(٩٧٧١) عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی بھی یہ نہ کہے کہ میں بندھا ہوا ہوں۔ مسلمان بندھا ہوا نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی یہ کہے کہ میں حاجی ہوں حاجی تو محرم ہوتا ہے۔
(۹۷۷۱)أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِیُّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ : لاَ یَقُولَنَّ أَحَدُکُمْ إِنِّی صَرُورَۃٌ فَإِنَّ الْمُسْلِمَ لَیْسَ بِصَرُورَۃٍ وَلاَ یَقُولَنَّ أَحَدُکُمْ إِنِّی حَاجٌّ فَإِنَّ الْحَاجَّ ہُوَ الْمُحْرِمُ۔ مُرْسَلٌ وَہُوَ مَوْقُوفٌ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ۔ [ضعیف۔ طبرانی کبیر ۸۹۳۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৭৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کو صفر کہنے کی کراہت اور کمی زیادتی کرنا جاہلیت کا کام ہے
(٩٧٧٢) امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ میں محرم کو صفر کہنا مکروہ خیال کرتا ہوں، اس کو محرم ہی کہا جائے اور صفر کو محرم کہنا صرف اس لیے مکروہ خیال کرتا ہوں کہ جاہلیت والے دو مہینوں یعنی صفر اور محرم کو صفر ہی شمار کرتے تھے اور محرم و صفر کو آگے پیچھے کرلیتے تھے ایک سال حج کے مہینہ میں حج کرتے اور دوسرے سال کسی اور مہینہ میں۔ اور کہتے تھے کہ اس سال محرم کی جگہ پر ہم سے غلطی ہوگی۔ آئندہ سال درست کرلیں گے۔ اللہ فرماتے ہیں : { اِنَّمَا النَّسِیْٓئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ } (التوبۃ : ٣٧) ” مہینہ کا سر کا دینا اور زیادہ کفر ہے۔ “ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمانہ گھوم کر اسی حالت پر آگیا ہے جس دن اللہ رب العزت نے آسمانوں و زمین کو پیدا کیا تھا۔ ابھی کسی مہینہ کو آگے پیچھے نہ کیا جائے گا اور اس کا نام نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے محرم رکھا۔
(۹۷۷۲)أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ : أَکْرَہُ أَنْ یُقَالَ لِلْمُحَرَّمِ صَفَرُ وَلَکِنْ یُقَالُ لَہُ : الْمُحَرَّمُ وَإِنَّمَا کَرِہْتُ أَنْ یُقَالَ لِلْمُحَرَّمِ : صَفَرُ مِنْ قِبَلِ أَنَّ أَہْلَ الْجَاہِلِیَّۃِ کَانُوا یَعُدُّونَ فَیَقُولُونَ صَفَرَانِ لِلْمُحَرَّمِ وَصَفَرَ وَیُنْسِئُونَ فَیَحُجُّونَ عَامًا فِی شَہْرٍ وَعَامًا فِی غَیْرِہِ وَیَقُولُونَ : إِنْ أَخْطَأْنَا مَوْضِعَ الْحَرَمِ فِی عَامٍ أَصَبْنَاہُ فِی غَیْرِہِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ جَلَّ ثَنَاؤُہُ {اِنَّمَا النَّسِیْٓئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ} الآیَۃَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ کَہَیْئَتِہِ یَوْمَ خَلَقَ اللَّہُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ ۔ فَلاَ شَہْرَ یُنْسَأُ وَسَمَّاہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ الْمُحَرَّمَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৭৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کو صفر کہنے کی کراہت اور کمی زیادتی کرنا جاہلیت کا کام ہے
(٩٧٧٣) حضرت ابوبکرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمانہ گھوم کر اسی حالت پر آگیا ہے، جس دن اللہ رب العزت نے آسمان و زمین کو پیدا فرمایا تھا۔ سال بھر میں ١٢ مہینے ہیں : چار مہینے حرمت والے ہیں۔ تین مسلسل ہیں : 1 ذوالقعدہ 2 ذوالحجہ 3 محرم اور 4 رجب قبیلہ مضر کا مہینہ ہے جو جمادی الاخری اور شعبان کے درمیان ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کون سا مہینہ ہے ؟ صحابہ (رض) فرماتے ہیں : ہم نے کہا : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ راوی فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے۔ ہم نے گمان کیا شاید آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا کوئی دوسرا نام رکھیں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے ؟ ہم نے کہا : کیوں نہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کون سا شہر ہے ؟ ہم نے کہا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے۔ ہم نے گمان کرلیا شاید آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا کوئی دوسرا نام رکھیں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا یہ خاص شہر یعنی مکہ نہیں ہے ؟ ہم نے کہا : کیوں نہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا یہ کون سا دن ہے ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے ہم نے گمان کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا کوئی دوسرا نام رکھیں گے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے ؟ ہم نے کہا : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیوں نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے خون و اموال، راوی محمد فرماتے ہیں : میرا گمان ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت تمہارے اس شہر اور مہینہ کے اندر ہے اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے، وہ تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا۔ تم میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارو، یعنی قتل کرو۔ خبردار ! حاضر غائب تک یہ بات پہنچا دے۔ شاید کہ جس کو بات پہنچی ہے وہ زیادہ یاد رکھے سننے والے سے۔ پھر فرمایا : کیا میں نے پہنچا دیا ہے۔ لیکن امام شافعی (رض) نے یہ متن بیان نہیں کیا۔
(ب) عبدالرحمن بن ابی بکرہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمانہ گھوم آیا ہے۔
(ب) عبدالرحمن بن ابی بکرہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمانہ گھوم آیا ہے۔
(۹۷۷۳)أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ عَنْ أَیُّوبَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنِ ابْنِ أَبِی بَکْرَۃَ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ قَالَ : إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ کَہَیْئَتِہِ یَوْمَ خَلَقَ اللَّہُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ السَّنَۃُ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا مِنْہَا أَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ثَلاَثَۃٌ مُتَوَالِیَاتٌ ذُو الْقَعْدَۃِ وَذُو الْحِجَّۃِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبٌ شَہْرُ مُضَرَ الَّذِی بَیْنَ جُمَادَی وَشَعْبَانَ ۔ ثُمَّ قَالَ : أَیُّ شَہْرٍ ہَذَا ؟ ۔ قُلْنَا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ سَیُسَمِّیہِ بِغَیْرِ اسْمِہِ قَالَ : أَلَیْسَ ذُو الْحِجَّۃِ ۔ قُلْنَا : بَلَی قَالَ : فَأَیُّ بَلَدٍ ہَذَا؟ ۔ قُلْنَا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ سَیُسَمِّیہِ بِغَیْرِ اسْمِہِ قَالَ : أَلَیْسَ الْبَلْدَۃَ ۔ قُلْنَا : بَلَی قَالَ : فَأَیُّ یَوْمٍ ہَذَا؟ ۔ قُلْنَا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ سَیُسَمِّیہِ بِغَیْرِ اسْمِہِ قَالَ : أَلَیْسَ یَوْمَ النَّحْرِ ۔ قُلْنَا : بَلَی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : فَإِنَّ دِمَائَ کُمْ وَأَمْوَالَکُمْ ۔ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَحْسِبُہُ قَالَ : وَأَعْرَاضَکُمْ حَرَامٌ عَلَیْکُمْ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہَذَا فِی بَلَدِکُمْ ہَذَا فِی شَہْرِکُمْ ہَذَا وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ فَیَسْأَلُکُمْ عَنْ أَعْمَالِکُمْ فَلاَ تَرْجِعُوا بَعْدِی ضُلاَّلاً یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ أَلاَ لِیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ یُبَلَّغُہُ أَوْعَی لَہُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَہُ ۔ ثُمَّ قَالَ : أَلاَ ہَلْ بَلَّغْتُ۔ لَمْ یَسُقِ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ مَتْنَہُ وَقَالَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ: إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنْ عَبْدِالْوَہَّابِ۔
[صحیح۔ بخاری ۳۰۲۵۔ مسلم۱۶۷۹]
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ عَنْ أَیُّوبَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنِ ابْنِ أَبِی بَکْرَۃَ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ قَالَ : إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ کَہَیْئَتِہِ یَوْمَ خَلَقَ اللَّہُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ السَّنَۃُ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا مِنْہَا أَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ثَلاَثَۃٌ مُتَوَالِیَاتٌ ذُو الْقَعْدَۃِ وَذُو الْحِجَّۃِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبٌ شَہْرُ مُضَرَ الَّذِی بَیْنَ جُمَادَی وَشَعْبَانَ ۔ ثُمَّ قَالَ : أَیُّ شَہْرٍ ہَذَا ؟ ۔ قُلْنَا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ سَیُسَمِّیہِ بِغَیْرِ اسْمِہِ قَالَ : أَلَیْسَ ذُو الْحِجَّۃِ ۔ قُلْنَا : بَلَی قَالَ : فَأَیُّ بَلَدٍ ہَذَا؟ ۔ قُلْنَا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ سَیُسَمِّیہِ بِغَیْرِ اسْمِہِ قَالَ : أَلَیْسَ الْبَلْدَۃَ ۔ قُلْنَا : بَلَی قَالَ : فَأَیُّ یَوْمٍ ہَذَا؟ ۔ قُلْنَا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ سَیُسَمِّیہِ بِغَیْرِ اسْمِہِ قَالَ : أَلَیْسَ یَوْمَ النَّحْرِ ۔ قُلْنَا : بَلَی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : فَإِنَّ دِمَائَ کُمْ وَأَمْوَالَکُمْ ۔ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَحْسِبُہُ قَالَ : وَأَعْرَاضَکُمْ حَرَامٌ عَلَیْکُمْ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہَذَا فِی بَلَدِکُمْ ہَذَا فِی شَہْرِکُمْ ہَذَا وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ فَیَسْأَلُکُمْ عَنْ أَعْمَالِکُمْ فَلاَ تَرْجِعُوا بَعْدِی ضُلاَّلاً یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ أَلاَ لِیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ یُبَلَّغُہُ أَوْعَی لَہُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَہُ ۔ ثُمَّ قَالَ : أَلاَ ہَلْ بَلَّغْتُ۔ لَمْ یَسُقِ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ مَتْنَہُ وَقَالَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ: إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنْ عَبْدِالْوَہَّابِ۔
[صحیح۔ بخاری ۳۰۲۵۔ مسلم۱۶۷۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৭৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کو صفر کہنے کی کراہت اور کمی زیادتی کرنا جاہلیت کا کام ہے
(٩٧٧٤) ابن عباس (رض) اللہ کے ارشاد { اِنَّمَا النَّسِیْٓئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ } (التوبۃ : ٣٧) ” مہینہ کا سر کا دینا اور زیادہ کفر ہے “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جنادہ بن عوف بن امیہ کنانی ہر سال حج کے زمانہ میں آتے، ان کی کنیت ابوثمامہ تھی وہ اعلان کرتے کہ ابو ثمامہ سے نہ تو محبت کی جاتی ہے اور نہ ہی عیب لگایا جاتا ہے۔ خبردار ! وہ صفر کے مہینہ کو لوگوں کے لیے ایک سال حلال قرار دیتے اور ایک سال حرمت والا گردانتے اور ماہ محرم کو ایک سال حرمت والا شمار کرتے تھے۔ اللہ کا فرمان ہے : { اِنَّمَا النَّسِیْٓئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ یُضَلُّ بِہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُحِلُّوْنَہٗ عَامًا۔۔۔ لَایَھْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ } (التوبۃ) ” مہینہ کا سرکا دینا اور زیادہ کفر ہے وہ لوگ گمراہ ہوئے جنہوں نے کفر کیا ، وہ ایک سال اس کو حلال خیال کرتے تھے اور اللہ کافر کو ہدایت نہیں دیتے۔ “
(۹۷۷۴)أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی (إِنَّمَا النَّسِیئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ) قَالَ النَّسِیئُ أَنَّ جُنَادَۃَ بْنَ عَوْفِ بْنِ أُمَیَّۃَ الْکِنَانِیَّ کَانَ یُوَافِی الْمَوْسِمَ کُلَّ عَامٍ وَکَانَ یُکْنَی أَبَا ثُمَامَۃَ فَیُنَادِی أَلاَ إِنَّ أَبَا ثُمَامَۃَ لاَ یُحَابُ وَلاَ یُعَابُ أَلاَ وَإِنَّ عَامَ صَفَرَ الأَوَّلَ الْعَامَ حَلاَلٌ فَیُحِلُّہُ لِلنَّاسِ فَیُحَرِّمُ صَفَرًا عَامًا وَیُحَرِّمُ الْمُحَرَّمُ عَامًا فَذَلِکَ قَوْلِہِ تَعَالَی (إِنَّمَا النَّسِیئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ یُضَلُّ بِہِ الَّذِین کَفَرُوا یُحِلُّونَہُ عَامًا وَیُحَرِّمُونَہُ عَامًا) إِلَی قَوْلِہِ ( لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْکَافِرِینَ)
[ضعیف۔ الطبری فی تفسیرہ ۶/ ۳۶۸]
[ضعیف۔ الطبری فی تفسیرہ ۶/ ۳۶۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৮০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کو صفر کہنے کی کراہت اور کمی زیادتی کرنا جاہلیت کا کام ہے
(٩٧٧٥) ابو نجیح حضرت مجاہد (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ الرفث سے مراد جماع ہے ” الفسوق “ سے مراد نافرمانی ہے اور ایام حج میں جھگڑا نہیں۔ فرماتے ہیں کہ یہ ایسا مہینہ نہیں جس کو مقدم اور موخر کریں ، بلکہ حج کا مہینہ واضح ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ اس وجہ سے تھا کہ وہ محرم کے مہینہ کو ویسے گرا دیتے تھے یعنی ساقط کردیتے۔ پھر وہ کہتے : صفر تو صفر کے بدلے میں ہے اور کبھی ماہ ربیع الاول کو ساقط کردیتے اور ربیع الثانی کا نام دے دیتے۔
شیخ فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے حج کے بارے میں اختلاف ہے کہ انھوں نے ذی قعدہ یا ذی الحجہ میں حج کیا ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں کہ ذی القعدہ میں انھوں نے حج کیا جب کہ بعض کے نزدیک ذوالحجہ ہی میں حج کیا گیا۔
شیخ فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے حج کے بارے میں اختلاف ہے کہ انھوں نے ذی قعدہ یا ذی الحجہ میں حج کیا ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں کہ ذی القعدہ میں انھوں نے حج کیا جب کہ بعض کے نزدیک ذوالحجہ ہی میں حج کیا گیا۔
(۹۷۷۵)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : الرَّفَثُ الْجِمَاعُ وَالْفُسُوقُ الْمَعَاصِی وَلاَ جِدَالَ فِی الْحَجِّ یَقُولُ : لَیْسَ ہُوَ شَہْرٌ یُنْسَأُ قَدْ تَبَیَّنَ الْحَجُّ لاَ شَکَّ فِیہِ وَذَلِکَ أَنَّہُمْ کَانُوا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ یُسْقِطُونَ الْمُحَرَّمَ ثُمَّ یَقُولُونَ صَفَرٌ بِصَفَرٍ وَیُسْقِطَونَ شَہْرَ رَبِیعٍ الأَوَّلِ ثُمَّ یَقُولُونَ شَہْرُ رَبِیعٍ بِشَہْرِ رَبِیعٍ۔
قَالَ الشَّیْخُ : اخْتَلَفُوا فِی حَجِّ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَبْلَ حَجِّ النَّبِیِّ -ﷺ ہَلْ کَانَ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ أَوْ فِی ذِی الْحِجَّۃِ فَذَہَبَ مُجَاہِدٌ إِلَی أَنَّہُ وَقَعَ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ وَذَہَبَ بَعْضُہُمْ إِلَی أَنَّہُ وَقَعَ فِی ذِی الْحِجَّۃِ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن شیبہ ۱۳۲۲۶]
قَالَ الشَّیْخُ : اخْتَلَفُوا فِی حَجِّ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَبْلَ حَجِّ النَّبِیِّ -ﷺ ہَلْ کَانَ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ أَوْ فِی ذِی الْحِجَّۃِ فَذَہَبَ مُجَاہِدٌ إِلَی أَنَّہُ وَقَعَ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ وَذَہَبَ بَعْضُہُمْ إِلَی أَنَّہُ وَقَعَ فِی ذِی الْحِجَّۃِ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن شیبہ ۱۳۲۲۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৮১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کو صفر کہنے کی کراہت اور کمی زیادتی کرنا جاہلیت کا کام ہے
(٩٧٧٦) ابوعبداللہ امام احمد بن حنبل (رح) حضرت مجاہد (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ { اِنَّمَا النَّسِیْٓئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ } [التوبۃ : ٣٧] ” مہینہ کا سر کا دینا اور زیادہ کفر ہے۔ “ انھوں نے ذوالحجہ میں دو سال حج کیا۔ پھر دو سال محرم میں حج کیا۔
پھر انھوں نے ہر سال ایک مہینہ (یعنی محرم یا ذوالحجہ) میں دو سال تک حج کیا، پھر آخری دو سالوں میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا حج ذی القعدہ میں ہوا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج سے ایک سال پہلے، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آئندہ سال ذی الحجہ میں حج ادا کیا، اس وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا تھا کہ زمانہ اپنی اصلی حالت میں واپس آگیا ہے جب سے اللہ رب العزت نے آسمانوں و زمین کو پیدا فرمایا ہے۔
پھر انھوں نے ہر سال ایک مہینہ (یعنی محرم یا ذوالحجہ) میں دو سال تک حج کیا، پھر آخری دو سالوں میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا حج ذی القعدہ میں ہوا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج سے ایک سال پہلے، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آئندہ سال ذی الحجہ میں حج ادا کیا، اس وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا تھا کہ زمانہ اپنی اصلی حالت میں واپس آگیا ہے جب سے اللہ رب العزت نے آسمانوں و زمین کو پیدا فرمایا ہے۔
(۹۷۷۶)أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ حِکَایَۃً عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ (إِنَّمَا النَّسِیئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ) قَالَ : حَجُّوا فِی ذِی الْحِجَّۃِ عَامَیْنِ ثُمَّ حَجُّوا فِی الْمُحَرَّمِ عَامَیْنِ فَکَانُوا یَحُجُّونَ فِی کُلِّ سَنَۃٍ فِی کُلِّ شَہْرٍ عَامَیْنِ حَتَّی وَافَقَتْ حَجَّۃُ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الآخِرَ مِنَ الْعَامِینِ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ قَبْلَ حَجَّۃِ النَّبِیِّ -ﷺ بِسَنَۃٍ ثُمَّ حَجَّ النَّبِیُّ -ﷺ مِنْ قَابِلٍ فِی ذِی الْحِجَّۃِ فَذَلِکَ حِین یَقُولُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ فِی خُطْبَتِہِ : إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ کَہَیْئَتِہِ یَوْمَ خَلَقَ اللَّہُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا بِہَذَا الْحَدِیثِ عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৮২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کو صفر کہنے کی کراہت اور کمی زیادتی کرنا جاہلیت کا کام ہے
(٩٧٧٧) حمید بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ مجھے حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے حج کے موقع پر قربانی کے دن منیٰ کے میدان میں اعلان کرنے کے لیے روانہ کیا کہ آئندہ سال مشرک حج نہ کریں اور نہ ہی برہنہ حالت میں بیت اللہ کا طواف کیا جائے۔
(ب) ابوعبداللہ فرماتے ہیں کہ زہری کی حدیث کی سند جید ہے، لیکن اس میں ہے کہ ابوبکر (رض) کا حج ذی الحجہ میں تھا۔ ابوعبداللہ فرماتے ہیں کہ سورة براء ۃ ابوبکر صدیق (رض) کے حج سے پہلے نازل ہوئی، اس میں ہے : { اِنَّمَا النَّسِیْٓئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ } (التوبۃ : ٣٧) ” مہینہ کا سر کا دینا اور زیادہ کفر ہے “ اس میں ہے :{ اِنَّ عِدَّۃَ الشُّھُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَھْرًا } (التوبۃ : ٣٦) ” اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی بارہ ماہ ہے۔ “ کیا یہ جائز ہے کہ ابوبکر صدیق (رض) نے حج عرب کے (قدیم) طریقہ پر کیا ہو جب کہ اللہ نے ان کے فعل کو کفر قرار دیا ہے۔
(ب) ابوعبداللہ فرماتے ہیں کہ زہری کی حدیث کی سند جید ہے، لیکن اس میں ہے کہ ابوبکر (رض) کا حج ذی الحجہ میں تھا۔ ابوعبداللہ فرماتے ہیں کہ سورة براء ۃ ابوبکر صدیق (رض) کے حج سے پہلے نازل ہوئی، اس میں ہے : { اِنَّمَا النَّسِیْٓئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ } (التوبۃ : ٣٧) ” مہینہ کا سر کا دینا اور زیادہ کفر ہے “ اس میں ہے :{ اِنَّ عِدَّۃَ الشُّھُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَھْرًا } (التوبۃ : ٣٦) ” اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی بارہ ماہ ہے۔ “ کیا یہ جائز ہے کہ ابوبکر صدیق (رض) نے حج عرب کے (قدیم) طریقہ پر کیا ہو جب کہ اللہ نے ان کے فعل کو کفر قرار دیا ہے۔
(۹۷۷۷)قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ فَأَمَّا الزُّہْرِیُّ فَحُکِیَ عَنْہُ قَالَ أَخْبَرَنِی حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ : بَعَثَنِی أَبُو بَکْرٍ فِی تِلْکَ الْحَجَّۃِ فِی مُؤَذِّنِینَ یَوْمَ النَّحْرِ نُؤَذِّنُ بِمِنًی أَنْ لاَ یَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِکٌ وَلاَ یَطُوفَ بِالْبَیْتِ عُرْیَانٌ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدِیثُ الزُّہْرِیِّ إِسْنَادُہُ إِسْنَادٌ جَیِّدٌ وَإِنَّمَا کَانَتْ حَجَّۃُ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی ذِی الْحَجَّۃِ عَلَی مَا ذَکَرَ الزُّہْرِیُّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : قَدْ نَزَلَتْ سُورَۃُ بَرَائَ ۃَ قَبْلَ حَجَّۃِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ وَفِیہَا ( إِنَّمَا النَّسِیئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ) وَفِیہَا (إِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُورِ عِنْدَ اللَّہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا) فَہَلْ کَانَ یَجُوزُ أَنْ یَحُجَّ أَبُو بَکْرٍ عَلَی حَجِّ الْعَرَبِ وَقَدْ أَخْبَرَ اللَّہُ أَنَّ فِعْلَہُمْ ذَلِکَ کَانَ کُفْرًا۔
[صحیح۔ بخاری ۳۶۲۔ مسلم ۱۳۴۷]
[صحیح۔ بخاری ۳۶۲۔ مسلم ۱۳۴۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৮৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج کے مفسدات کا بیان
(٩٧٧٨) یزید بن نعیم یا زید بن نعیم راوی ابو توبہ کو شک ہے، فرماتے ہیں کہ جزام قبیلہ کے ایک مرد نے حالت احرام میں اپنی بیوی سے مجامعت کرلی، پھر اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں سے فرمایا ؟ تم حج کے مناسک پورے کرو اور قربانی کرو۔ پھر تم دونوں واپس پلٹ کر اسی جگہ پہنچ جاؤ جس جگہ تم سے گناہ سرزد ہوا تھا۔ پھر دونوں ایک دوسرے سے جدا ہوجاؤ کہ تم دونوں میں سے کوئی دوسرے کو دیکھ نہ سکے اور آئندہ سال تم پر حج کرنا لازم ہے، پھر آئندہ سال جب تم اسی جگہ پر آجاؤ تو احرام باندھ کر مناسکِ حج ادا کرو اور قربانی دو۔
(۹۷۷۸)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَسَوِیُّ الدَاوُدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ اللُّؤْلُؤْیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَۃَ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ یَعْنِی ابْنَ سَلاَّمٍ عَنْ یَحْیَی قَالَ أَخْبَرَنِی یَزِیدُ بْنُ نُعَیْمٍ أَوْ زَیْدُ بْنُ نُعَیْمٍ شَکَّ أَبُو تَوْبَۃَ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ جُذَامٍ جَامَعَ امْرَأَتَہُ وَہُمَا مَحْرِمَانِ فَسَأَلَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ فَقَالَ لَہُمَا : اقْضِیَا نُسُکَکُمَا وَأَہْدِیَا ہَدْیًا ثُمَّ ارْجِعَا حَتَّی إِذَا جِئْتُمَا الْمَکَانَ الَّذِی أَصَبْتُمَا فِیہِ مَا أَصَبْتُمَا فَتَفَرَّقَا وَلاَ یَرَی وَاحِدٌ مِنْکُمَا صَاحِبَہُ وَعَلَیْکُمَا حَجَّۃٌ أُخْرَی فَتُقْبِلاَنِ حَتَّی إِذَا کُنْتُمَا بِالْمَکَانِ الَّذِی أَصَبْتُمَا فِیہِ مَا أَصَبْتُمَا فَأَحْرِمَا وَأَتَّمَا نُسُکَکُمَا وَأَہْدِیَا ۔ ہَذَا مُنْقَطِعٌ وَہُوَ یَزِیدُ بْنُ نُعَیْمٍ الأَسْلَمِیُّ بِلاَ شَکٍّ وَقَدْ رُوِیَ مَا فِی حَدِیثِہِ أَوْ أَکْثَرَہُ عَنْ جَمَاعَۃٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ -۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود فی المراسیل، رقم ۱۲۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৮৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج کے مفسدات کا بیان
(٩٧٧٩) امام مالک (رض) فرماتے ہیں : انھیں خبر ملی کہ حضرت عمر بن خطاب، حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت ابوہریرہ (رض) سے ایک آدمی کے متعلق سوال کیا گیا جس نے حج کے احرام کی حالت میں اپنی بیوی سے مجامعت کرلی تھی تو انھوں نے فرمایا : یہ دونوں اپنی حالت پر ہی رہیں گے۔ یہاں تک کہ حج کو مکمل کرلیں، لیکن آئندہ سال ان پر دوبارہ حج کرنا لازم ہے اور قربانی کرنا بھی اور حضرت علی بن ابی طالب (رض) فرماتے ہیں : جب وہ آئندہ سال حج کا تلبیہ کہیں گے تو حج مکمل کرنے تک ایک دوسرے سے جدا رہیں گے۔
(۹۷۷۹)أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : إِسْمَاعِیلُ بْنُ نُجَیْدٍ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ : أَنَّہُ بَلَغَہُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَأَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُمْ سُئِلُوا عَنْ رَجُلٍ أَصَابَ أَہْلَہُ وَہُوَ مُحْرِمٌ بِالْحَجِّ فَقَالُوا : یَنْفُذَانِ لِوَجْہِہِمَا حَتَّی یَقْضِیَا حَجَّہُمَا ثُمَّ عَلَیْہِمَا الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ وَالْہَدْیُ۔
وَقَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَإِذَا أَہَلاَّ بِالْحَجِّ عَامَ قَابِلٍ تَفَرَّقَا حَتَّی یَقْضِیَا حَجَّہُمَا۔
[ضعیف جداً۔ ذکرہ مالک ۸۵۴]
وَقَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَإِذَا أَہَلاَّ بِالْحَجِّ عَامَ قَابِلٍ تَفَرَّقَا حَتَّی یَقْضِیَا حَجَّہُمَا۔
[ضعیف جداً۔ ذکرہ مالک ۸۵۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৮৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج کے مفسدات کا بیان
(٩٧٨٠) عطاء حضرت عمر بن خطاب (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ میاں بیوی دونوں احرام کی حالت میں مجامعت کرلیں تو وہ دونوں حج کو پورا کریں گے، لیکن آئندہ سال دوبارہ حج کریں، جہاں سے انھوں نے احرام باندھا تھا اور دونوں جدا رہیں گے جب تک وہ حج کو مکمل نہ کرلیں۔
عطاء فرماتے ہیں کہ اگر عورت نے اطاعت کی یا وہ مجبور ہوئی تب بھی دونوں میاں بیوی پر ایک قربانی ہے۔
عطاء فرماتے ہیں کہ اگر عورت نے اطاعت کی یا وہ مجبور ہوئی تب بھی دونوں میاں بیوی پر ایک قربانی ہے۔
(۹۷۸۰)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَبُو الشَّیْخِ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو یَعْنِی الأَوْزَاعِیَّ عَنْ عَطَائٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ قَالَ فِی مُحْرِمٍ بِحَجَّۃٍ أَصَابَ امْرَأَتَہُ یَعْنِی وَہِی مُحْرِمَۃٌ قَالَ : یَقْضِیَانِ حَجَّہُمَا وَعَلَیْہِمَا الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ مِنْ حَیْثُ کَانَا أَحْرَمَا وَیَفْتَرَقَانِ حَتَّی یُتِمَّا حَجَّہُمَا۔
قَالَ وَقَالَ عَطَائٌ وَعَلَیْہِمَا بَدَنَۃٌ إِنْ أَطَاعَتْہُ أَوِ اسْتَکْرَہَہَا فَإِنَّمَا عَلَیْہِمَا بَدَنَۃٌ وَاحِدَۃٌ۔
[ضعیف۔ جامع التحصیل، ص ۲۳۷]
قَالَ وَقَالَ عَطَائٌ وَعَلَیْہِمَا بَدَنَۃٌ إِنْ أَطَاعَتْہُ أَوِ اسْتَکْرَہَہَا فَإِنَّمَا عَلَیْہِمَا بَدَنَۃٌ وَاحِدَۃٌ۔
[ضعیف۔ جامع التحصیل، ص ۲۳۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৮৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج کے مفسدات کا بیان
(٩٧٨١) یزید بن یزید بن جابر فرماتے ہیں کہ میں نے مجاہد سے محرم کے بارے میں سوال کیا جو اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھتا ہے تو فرمایا : حضرت عمر (رض) کے دور میں ہوا، ، فرماتے ہیں : یہ دونوں (میاں بیوی) اپنے حج کو پورا کریں گے۔ (واللہ اعلم) اللہ ان کے حج کے بارے میں خوب جانتا ہے، پھر جب وہ واپس آئیں گے تو دونوں ایک دوسرے کے لیے حلال ہیں، لیکن جب آئندہ سال ہوگا تو دونوں (میاں، بیوی) دوبارہ حج کریں گے اور قربانی کریں گے اور اسی جگہ سے جدا ہوں گے جس جگہ ان سے گناہ سر زد ہوا تھا۔
(۹۷۸۱)وَفِیمَا أَجَازَ لِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ رِوَایَتَہُ عَنْہُ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ الْفَقِیہِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ ہُوَ ابْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ : سَأَلْتُ مُجَاہِدًا عَنِ الْمُحْرِمِ یُوَاقِعُ امْرَأَتَہُ فَقَالَ : کَانَ ذَلِکَ عَلَی عَہْدِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : یَقْضِیَانِ حَجَّہُمَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ بِحَجِّہِمَا ثُمَّ یَرْجِعَانِ حَلاَلاً کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا لِصَاحِبِہِ فَإِذَا کَانَا مِنْ قَابِلٍ حَجَّا وَأَہْدَی وَتَفَرَّقَا فِی الْمَکَانَ الَّذِی أَصَابَہَا۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبہ ۱۳۰۸۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৮৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج کے مفسدات کا بیان
(٩٧٨٢) ابوطفیل عامر بن واثلہ حضرت ابن عباس (رض) سے ایک شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو حالت احرام میں اپنی بیوی سے مجامعت کرلیتا ہے کہ وہ دونوں حج کے مناسک پورے کر کے اپنے شہر کو واپس پلٹیں، لیکن آئندہ سال دوبارہ حج کے لیے نکلیں، جب دونوں احرام باندھ لیں تو پھر ایک دوسرے سے حج کے پورا کرنے اور قربانی کرنے تک ملاقات نہ کریں۔
(ب) ابوطفیل حضرت ابن عباس (رض) سے اس قصہ کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ پھر وہ وہاں سے تلبیہ کہیں جہاں سے انھوں نے پہلی مرتبہ کیا تھا۔
(ب) ابوطفیل حضرت ابن عباس (رض) سے اس قصہ کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ پھر وہ وہاں سے تلبیہ کہیں جہاں سے انھوں نے پہلی مرتبہ کیا تھا۔
(۹۷۸۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَکَرِیَّا أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ حَدَّثَنَا جَدِّی مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ : عَامِرِ بْنِ وَاثِلَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: فِی رَجُلٍ وَقَعَ عَلَی امْرَأَتِہِ وَہُوَ مُحْرِمٌ قَالَ: اقْضِیَا نُسُکَکُمَا وَارْجِعَا إِلَی بَلَدِکُمَا فَإِذَا کَانَ عَامُ قَابِلٍ فَاخُرْجَا حَاجَّیْنِ فَإِذَا أَحْرَمْتُمَا فَتَفَرَّقَا وَلاَ تَلْتَقِیَا حَتَّی تَقْضِیَا نُسُکَکُمَا وَأَہْدِیَا ہَدْیًا۔
وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ ثُمَّ أَہِلاَّ مِنْ حَیْثُ أَہْلَلْتُمَا أَوَّلَ مُرَّۃٍ۔ [ضعیف]
وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ ثُمَّ أَہِلاَّ مِنْ حَیْثُ أَہْلَلْتُمَا أَوَّلَ مُرَّۃٍ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৮৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج کے مفسدات کا بیان
(٩٧٨٣) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عبداللہ بن عمرو (رض) سے محرم کے بارے میں پوچھا جو اپنی بیوی سے جماع کرلیتا ہے تو انھوں نے عبداللہ بن عمر (رض) کی طرف اشارہ کردیا کہ ان سے پوچھو ! شعیب کہتے ہیں کہ وہ ان کو جانتا نہ تھا، میں اس کے ساتھ گیا تو اس نے ابن عمر (رض) سے پوچھا تو فرمانے لگے : تیرا حج باطل ہے، تو آدمی کہنے لگا : پھر میں کیا کروں ؟ فرمانے لگے : لوگوں کے ساتھ نکل کر ویسا ہی کرو جیسا لوگ کر رہے ہیں۔ جب آئندہ سال ہو تو حج اور قربانی کرنا۔ وہ عبداللہ بن عمرو کی طرف واپس آیا اور میں بھی اس کے ساتھ تھا۔ اس نے ان کو بتایا۔ پھر عبداللہ بن عمرو (رض) نے اس کو ابن عباس کی طرف روانہ کیا کہ ان سے سوال کرو تو شعیب فرماتے ہیں کہ میں ان کے ساتھ ابن عباس (رض) کے پاس گیا۔ اس نے ان سے سوال کیا تو انھوں نے بھی ابن عمر (رض) کی طرح جواب دیا، پھر وہ دوبارہ عبداللہ بن عمرو (رض) کے پاس آئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا تو جو ابن عباس (رض) نے جواب دیا تھا مکمل بتادیا۔ پھر اس نے کہا : آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ تو عبداللہ بن عمرو (رض) فرمانے لگے : جو ان دو (یعنی ابن عمر، ابن عباس (رض) ) نے کہا ، وہی میں کہتا ہوں۔
(۹۷۸۳)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ الأَصْبَہَانِیُّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی وَقَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْفَقِیہُ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَعَلِیُّ بْنُ حَرْبٍ الْمَوْصِلِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرٍو یَسْأَلُہُ عَنْ مُحْرِمٍ وَقَعَ بِامْرَأَۃٍ فَأَشَارَ إِلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ : اذْہَبْ إِلَی ذَلِکَ فَسَلْہُ قَالَ شُعَیْبٌ : فَلَمْ یَعْرِفْہُ الرَّجُلُ فَذَہَبْتُ مَعَہُ فَسَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ : بَطَلَ حَجُّکَ۔ فَقَالَ الرَّجُلُ : فَمَا أَصْنَعُ قَالَ : اخْرُجْ مَعَ النَّاسِ وَاصْنَعْ مَا یَصْنَعُونَ فَإِذَا أَدْرَکْتَ قَابِلاً فَحُجَّ وَأَہْدِ۔ فَرَجَعَ إِلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَا مَعَہُ فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ : اذْہَبْ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَلْہُ قَالَ شُعَیْبٌ : فَذَہَبْتُ مَعَہُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلَہُ فَقَالَ لَہُ کَمَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَرَجَعَ إِلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَا مَعَہُ فَأَخْبَرَہُ بِمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ قَالَ : مَا تَقُولُ أَنْتَ؟ فَقَالَ : قَوْلِی مِثْلَ مَا قَالاَ۔ ہَذَا إِسْنَادٌ صَحِیحٌ وَفِیہِ دَلِیلٌ عَلَی صِحَّۃِ سَمَاعِ شُعَیْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ مِنْ جَدِّہِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو۔ [حسن۔ اخرجہ ابن شیبہ ۱۰۸۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৮৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج کے مفسدات کا بیان
(٩٧٨٤) ابوبشر فرماتے ہیں کہ میں نے بنو عبدالدار قبیلہ کے ایک آدمی سے سنا کہ ایک آدمی عبداللہ بن عمرو (رض) کے پاس آیا، اس نے محرم آدمی کے متعلق پوچھا جو اپنی بیوی سے مجامعت کرلیتا ہے تو انھوں نے کچھ جواب نہ دیا۔ وہ ابن عباس (رض) کے پاس آیا تو عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : اگر اس کے بارے میں کچھ بتادیں تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا کے بیٹے ہیں، راوی بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس (رض) نے فرمایا : وہ حج کے باقی مناسک ادا کریں لیکن آئندہ سال دوبارہ حج کریں، لیکن جب اس جگہ آئیں جہاں پر ان سے گناہ سر زد ہوا تھا تو وہاں سے جدا ہوجائیں اور ان دو میں سے ہر ایک پر قربانی ہے یا فرمایا : ان دونوں پر قربانی لازم ہے۔ ابو بشر فرماتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے بیان کیا تو وہ کہنے لگے : ابن عباس (رض) بھی ایسے ہی فرماتے تھے۔
(۹۷۸۴)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلاً مِنْ بَنِی عَبْدِ الدَّارِ قَالَ: أَتَی رَجُلٌ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرٍو فَسَأَلَہُ عَنْ مُحْرِمٍ وَقَعَ بِامْرَأَتِہِ فَلَمْ یَقُلْ شَیْئًا قَالَ فَأَتَی ابْنَ عَبَّاسٍ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو: إِنْ یَکُنْ أَحَدٌ یُخْبِرُہُ فِیہَا بِشَیْئٍ فَابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : یَقْضِیَانِ مَا بَقِیَ مِنْ نُسُکِہِمَا فَإِذَا کَانَ قَابِلٌ حَجَّا فَإِذَا أَتَیَا الْمَکَانَ الَّذِی أَصَابَا فِیہِ مَا أَصَابَا تَفَرَّقَا وَعَلَی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا ہَدْیٌ أَوْ قَالَ عَلَیْہِمَا الْہَدْیُ قَالَ أَبُو بِشْرٍ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِسَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ فَقَالَ : ہَکَذَا کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَقُولُ۔[صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৯০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج کے مفسدات کا بیان
(٩٧٨٥) ابوزبیر فرماتے ہیں کہ ابن عباس (رض) کے آزاد کردہ غلام نے ان کو خبر دی کہ قریش کا ایک مرد اور عورت مدینہ کے راستہ میں ابن عباس (رض) سے ملے۔ اس شخص نے کہا : میں اپنی بیوی سے مجامعت کرچکا ہوں تو ابن عباس (رض) فرمانے لگے : تمہارا یہ حج باطل ہے اور آئندہ سال حج کرنا، پھر وہیں سے تلبیہ کہنا جہاں سے تم نے شروع کیا تھا ، جب تم اس جگہ پہنچ جاؤ جہاں پر تم سے گناہ سر زد ہوا تھا تو پھر اپنی بیوی سے جدا ہوجانا۔ تو اس کو (بیوی) نہ دیکھے اور تیری بیوی تجھے نہ دیکھ سکے۔ جب تک تم رمی نہ کرلو، پھر ایک قربانی پیش کرنا اور تمہاری بیوی بھی۔
(۹۷۸۵)وَأَنْبَأَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِجَازَۃً أَنَّ أَبَا مُحَمَّدِ بْنَ زِیَادٍ أَخْبَرَہُمْ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَیْسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ یَعْنِی ابْنَ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ أَنَّ عِکْرِمَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَہُ : أَنَّ رَجُلاً وَامْرَأَتَہُ مِنْ قُرَیْشٍ لَقِیَا ابْنَ عَبَّاسٍ بِطَرِیقِ الْمَدِینَۃِ فَقَالَ : أَصَبْتُ أَہْلِی فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَمَّا حَجُّکُمَا ہَذَا فَقَدْ بَطَلَ فَحُجَّا عَامًا قَابِلاً ثُمَّ أَہِلاَّ مِنْ حَیْثُ أَہْلَلْتُمَا حَتَّی إِذَا بَلَغْتُمَا حَیْثُ وَقَعْتَ عَلَیْہَا فَفَارِقْہَا فَلاَ تَرَاکَ وَلاَ تَرَاہَا حَتَّی تَرْمِیَا الْجَمْرَۃَ وَأَہْدِ نَاقَۃً وَلْتُہْدِ نَاقَۃً۔ [حسن]
তাহকীক: