আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৮৮ টি

হাদীস নং: ৯৭৯১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج کے مفسدات کا بیان
(٩٧٨٦) مجاہد ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب وہ (محرم) مجامعت کرلیتا ہے تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے ذمہ قربانی ہے۔
(۹۷۸۶)قَالَ وَأَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِذَا جَامَعَ فَعَلَی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا بَدَنَۃٌ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭৯২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج کے مفسدات کا بیان
(٩٧٨٧) عطاء بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ان دونوں (میاں بیوی) کی طرف سے ایک اونٹنی کفایت کر جائے گی۔
(۹۷۸۷) قَالَ وَأَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : یُجْزِی بَیْنَہُمَا جَزُورٌ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭৯৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج کے مفسدات کا بیان
(٩٧٨٨) سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ایک شخص ابن عباس (رض) کے پاس آیا اور کہنے لگا : میں طواف زیارت کرنے سے پہلے ہی اپنی بیوی پر واقع ہوگیا، یعنی مجامعت کرلی تو ابن عباس (رض) فرمانے لگے : اگر تیری بیوی نے اس معاملہ میں تیری مدد کی ہے تو پھر تم دونوں پر ایک بہترین خوبصورت اونٹنی کی قربانی ہے۔ اگر تیری بیوی نے اس معاملہ میں تیرا تعاون نہیں کیا تو پھر صرف تیرے ذمہ ایک خوبصورت اور بہترین اونٹنی کی قربانی ہے۔

(ب) جابر بن زید ابو شعثاء سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اس حج کو پورا کریں اور آئندہ سال ان پر دوبارہ حج کرنا لازم ہے۔ اگر وہ مال دار ہیں تو ایک اونٹ کی قربانی بھی کریں۔

(ج) ابراہیم نخعی فرماتے ہیں کہ وہ دونوں جدا ہوں گے اور حج کو مکمل کرنے تک اکٹھے نہ ہوں گے۔
(۹۷۸۸) قَالَ وَأَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ خُثَیْمٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : جَائَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَجُلٌ فَقَالَ : وَقَعْتُ عَلَی امْرَأَتِی قَبْلَ أَنْ أَزُورَ فَقَالَ : إِنْ کَانَتْ أَعَانَتْکَ فَعَلَی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْکُمَا نَاقَۃٌ حَسْنَائُ جَمْلاَئُ وَإِنْ کَانَتْ لَمْ تُعِنْکَ فَعَلَیْکَ نَاقَۃٌ حَسْنَائُ جَمْلاَئُ ۔

(ت) وَرُوِّینَا عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ : أَبِی الشَّعْثَائِ أَنَّہُ قَالَ : یُتِمَّانِ حَجَّہُمَا وَعَلَیْہِمَا الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ وَإِنْ کَانَ ذَا مَیْسَرَۃِ أَہْدَی جَزُورًا۔ وَعَنْ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ یَفْتَرِقَانِ وَلاَ یَجْتَمِعَانِ حَتَّی یَفْرُغَا مِنْ حَجِّہِمَا۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭৯৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج کے مفسدات کا بیان
(٩٧٨٩) یحییٰ بن سعید نے حضرت سعید بن مسیب سے سنا کہ اس شخص کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جو حالت احرام میں اپنی بیوی سے مجامعت کرلیتا ہے ؟ تو لوگوں نے کچھ جواب نہ دیا۔ سعید کہتے ہیں کہ ایک محرم آدمی نے اپنی بیوی سے مجامعت کرلی تو اس نے ان کو مدینہ روانہ کیا کہ اس کے بارے میں سوال کرے تو کچھ لوگوں نے جواب دیا کہ آئندہ سال تک ان میں کروا دی جائے تو سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ وہ اپنی حالت پر ہی رہیں گے۔ لیکن وہ حج پورا کریں گے جو ان دونوں نے خراب کیا، پھر جب ان کو حج کا فریضہ پالے تو ان پر حج اور قربانی کرنا ہے، پھر وہاں سے حج کا تلبیہ کہنا شروع کریں جہاں سے پہلے حج کا تلبیہ کہنا شروع کیا تھا، جس کو انھوں نے باطل کردیا اور وہ دونوں جدا رہیں گے کہ یہاں تک حج مکمل کرلیں۔
(۹۷۸۹)وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ أَنَّہُ سَمِعَ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ یَقُولُ : کَیْفَ تَرَوْنَ فِی رَجُلٍ وَقَعَ بِامْرَأَتِہِ وَہُوَ مُحْرِمٌ؟ فَلَمْ یَقُلْ لَہُ الْقَوْمُ شَیْئًا قَالَ سَعِیدٌ : إِنَّ رَجُلاً وَقَعَ بِامْرَأَتِہِ وَہُوَ مُحْرِمٌ فَبَعَثَ إِلَی الْمَدِینَۃِ یَسْأَلُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ لَہُ بَعْضُ النَّاسِ : یُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا إِلَی عَامٍ قَابِلٍ۔ قَالَ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ : لِیُنْفِذَانِ لِوُجُوہِہِمَا فَلْیُتِّمَا حَجَّہُمَا الَّذِی أَفْسَدَا فَإِذَا فَرَغَا رَجَعَا وَإِذَا أَدْرَکَہُمَا الْحَجُّ فَعَلَیْہِمَا الْحَجُّ وَالْہَدْیُ وَیُہِلاَّ مِنْ حَیْثُ کَانَا أَہَلاَّ بِحَجِّہِمَا الَّذِی کَانَا أَفْسَدَا وَیَتَفَرَّقَا حَتَّی یَقْضِیَا حَجَّہُمَا۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۸۵۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭৯৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جب محرم اپنی بیوی سے مجامعت کے علاوہ کوئی اور حرکت کر بیٹھے
(٩٧٩٠) ابوجعفر حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے حالت احرام میں اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا تو وہ قربانی دے۔

(ب) ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ وہ اپنا حج پورا کرے۔
(۹۷۹۰)أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ خُرَّزَاذَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَنْ قَبَّلَ امْرَأَتَہُ وَہُوَ مُحْرِمٌ فَلْیُہْرِقْ دَمًا۔ ہَذَا مُنْقَطِعٌ۔

وَقَدْ رُوِیَ فِی مَعْنَاہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: وَأَنَّہُ یُتِمُّ حَجَّہُ وَہُوَ قَوْلُ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ وَقَتَادَۃَ وَالْفُقَہَائِ۔ [ضیعف جداً]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭৯৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ اپنے حج کو باطل کرنے والا اگر اونٹ نہ پائے تو گائے ذبح کرے۔ اگر گائے بھی میسر نہ ہو تو اس کی جگہ سات بکریاں قربان کردے
(٩٧٩١) ابوزبیر حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے قربانی کیا اور گائے کو بھی سات آدمیوں کی جانب سے قربان کیا۔

(ب) ابن وہب کی روایت میں ہے کہ حدیبیہ کے سال۔
(۹۷۹۱)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْمَعْرُوفِ الْفَقِیہُ الْمِہْرَجَانِیُّ بِہَا حَدَّثَنَا أَبُو سَہْلٍ : بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْبَیْہَقِیُّ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ بِالْحُدَیْبِیَۃِ الْبَدَنَۃَ عَنْ سَبْعَۃٍ وَالْبَقَرَۃَ عَنْ سَبْعَۃٍ وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ وَہْبٍ عَامَ الْحُدَیْبِیَۃِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۱۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭৯৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ اپنے حج کو باطل کرنے والا اگر اونٹ نہ پائے تو گائے ذبح کرے۔ اگر گائے بھی میسر نہ ہو تو اس کی جگہ سات بکریاں قربان کردے
(٩٧٩٢) عطاء خراسانی ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا : میں نے اونٹ کی قربانی کی نذر مانی ہے لیکن میرے پاس موجود نہیں ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سات بکریاں اس کی جگہ ذبح کر دو۔
(۹۷۹۲)أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِیِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ فَقَالَ : إِنِّی نَذَرْتُ بَدَنَۃً فَلَمْ أَجِدْہَا فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ : اذْبَحْ سَبْعًا مِنَ الْغَنَمِ ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِیِّ أَوْرَدَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ لأَنَّ عَطَائً الْخُرَاسَانِیَّ لَمْ یُدْرِکْ ابْنَ عَبَّاسٍ وَقَدْ رُوِیَ مَوْقُوفًا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭৯৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ تکلیف کی صورت میں فدیہ دینے میں اختیار
(٩٧٩٣) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ حضرت کعب بن عجرہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی : میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قریب ہوجاؤ۔ میں دو یا تین مرتبہ قریب ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تجھے تیری جوئیں تکلیف دے رہی ہیں ؟ میں یہی گمان کرتا ہوں کہ آپ نے فرمایا : ہاں۔

(ب) ایوب مجاہد سے یہ الفاظ نقل فرماتے ہیں کہ کیا تجھے تیرے سر کی جو ئوں نے تکلیف دی ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے روزہ، صدقہ یا قربانی کا حکم دیا جو بھی میسر ہو۔ ابن عون کہتے ہیں کہ مجاہد نے مجھے تفسیر بیان کی تھی لیکن میں بھول گیا۔ ایوب نے مجھے خبر دی کہ اس نے مجاہد سے س ناکہ تین دن کے روزے یا چھ مساکین کو صدقہ یا ایک بکری کی قربانی دے۔
(۹۷۹۳)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا السَّکَنُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَوْنٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ قَالَ : فِیَّ أُنْزِلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ قَالَ فَأُتِیتُ النَّبِیَّ -ﷺ فَقَالَ لِی : ادْنُ ۔ فَدَنَوْتُ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَقَالَ : أَیُؤْذِیکَ ہَوَامُّکَ ۔ أَظُنُّہُ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَقَالَ أَیُّوبُ عَنْ مُجَاہِدٍ : أَیُؤْذِیکَ ہَوَامُّ رَأْسِکَ ۔ فَأَمَرَنِی بِصَوْمٍ أَوْ بِصَدَقَۃٍ أَوْ بِنُسُکِ مَا تَیَسَّرَ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَفَسَّرَ لِی مُجَاہِدٌ فَنَسِیتُ فَأَنْبَأَنِی أَیُّوبُ أَنَّہُ سَمِعَہُ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : صِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ أَوْ صَدَقَۃُ سِتَّۃِ مَسَاکِینَ أَوْ نُسُکُ شَاۃٍ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عَوْنٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۷۲۰۔ مسلم ۱۲۰۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭৯৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ تکلیف کی صورت میں فدیہ دینے میں اختیار
(٩٧٩٤) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ حضرت کعب بن عجرہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ احرام کی حالت میں تھے۔ جوئوں، نے ان کو تکلیف دی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں سر منڈوانے کا حکم دے دیا اور فرمایا : تین دن کے روزے رکھ یا چھ مساکین کو دو دو مد کھانا دو یا ایک بکری قربان کرو۔ جوں سا کام بھی آپ نے کرلیا آپ سے کفایت کر جائے گا۔
(۹۷۹۴)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ الْجَزَرِیِّ عَنْ مُجَاہِدِ بْنِ جَبْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ : أَنَّہُ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ مُحْرِمًا فَآذَاہُ الْقَمْلُ فَأَمَرَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ أَنْ یَحْلِقَ رَأْسَہُ وَقَالَ : صُمْ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّۃَ مَسَاکِینَ مُدَّیْنِ مُدَّیْنِ أَوِ انْسُکْ شَاۃً أَیَّ ذَلِکَ فَعَلْتَ أَجْزَأَ عَنْکَ ۔ ہَذَا ہُوَ الصَّحِیحُ۔

وَقَدْ رَوَاہُ مَالِکٌ مَرَّۃً أُخْرَی عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ الْجَزَرِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی دُونَ ذِکْرِ مُجَاہِدٍ فِی إِسْنَادِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۹۳۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮০০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ تکلیف کی صورت میں فدیہ دینے میں اختیار
(٩٧٩٥) عبدالرحمن بن لیلیٰ حضرت کعب بن عجرہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ اس میں ہے کہ تین صاع کھجور کے۔

(ب) حکم بن عتیبہ حضرت عبدالرحمن سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک فرق (یہ پیمانہ ہے) خشک انگور سے۔

(ج) عبداللہ بن معقل حضرت کعب سے نقل فرماتے ہیں کہ ہر مسکین کے لیے نصف صاع کھانے کا۔
(۹۷۹۵)أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ

وَأَخْبَرَنَاہُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ دُونَ ذِکْرِ مُجَاہِدٍ فِی إِسْنَادِہِ وَفِی بَعْضِ ہَذِہِ الْعَرْضَاتِ سَمِعَہُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی جَمَاعَۃٍ مِنْ أَصْحَابِ الْمُوَطَإِ دُونَ الْعَرْضَۃِ الَّتِی شَہِدَہَا ابْنُ وَہْبٍ ثُمَّ إِنَّ الشَّافِعِیَّ تَنَبَّہَ لَہُ فِی رِوَایَۃِ الْمُزَنِیِّ وَابْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ عَنْہُ فَقَالَ غَلِطَ مَالِکٌ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ۔ الْحُفَّاظُ حَفِظُوہُ عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ قَالَ الشَّیْخُ: وَإِنَّمَا غَلِطَ فِی ہَذَا بَعْضُ الْعَرْضَاتِ وَقَدْ رَوَاہُ فِی بَعْضِہَا عَلَی الصِّحَّۃِ۔

وَرَوَاہُ أَیْضًا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ وَعُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ کَعْبٍ وَرُوِّینَاہُ فِیمَا مَضَی مِنْ حَدِیثِ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ قَالَ فِیہِ ثَلاَثَۃُ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ وَمِنْ حَدِیثِ الْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : فَرَقًا مِنْ زَبِیبٍ وَمِنْ حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَعْقِلٍ عَنْ کَعْبٍ : لِکُلِّ مِسْکِینٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ طَعَامٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۹۳۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮০১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حجِ تمتع اور کسی رکن کو چھوڑنے کی وجہ سے واجب ہونے والی قربانی کی ترتیب کا بیان
(٩٧٩٦) سالم بن عبداللہ فرماتے ہیں : عبداللہ بن عمر (رض) نے ایک حدیث ذکر کی کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے فرمایا : جو تم میں سے قربانی ساتھ لے کر آیا ہے وہ حج کو مکمل کرنے تک حلال نہ ہوگا اور جو قربانی ساتھ نہیں لایا وہ بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کرے اور بال کٹواکر حلال ہوجائے ، پھر دوبارہ حج کا احرام باندھے اور قربانی کرے۔ جس کو قربانی میسر نہ ہو وہ تین دن کے روزے ایام حج میں رکھے اور سات روزے گھر واپس آکر رکھ لے۔

(ب) نافع ابن عمر سے اس شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں : جس کا حج رہ جائے، اگر آئندہ سال حج اس کو پالے اگر طاقت ہو (خرچہ موجود ہو) تو حج کرے اور قربانی بھی دے۔ اگر قربانی میسر نہ ہو تو ایام حج میں تین روزے رکھے اور سات روزے گھر واپس آکر۔

(ج) سلیمان بن یسارنے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے ھبار کے قصہ کے بارے میں نقل کیا جس وقت اس کا حج رہ گیا۔
(۹۷۹۶)أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَیْبِ بْنِ اللَّیْثِ حَدَّثَنِی أَبِی أَخْبَرَنِی أَبِی حَدَّثَنِی عُقَیْلٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ قَالَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ : فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مَکَّۃَ قَالَ لِلنَّاسِ : مَنْ کَانَ مِنْکُمْ أَہْدَی فَإِنَّہُ لاَ یَحِلُّ مِنْ شَیْئٍ حَرُمَ مِنْہُ حَتَّی یَقْضِیَ حَجَّہُ وَمَنْ لَمْ یَکُنْ مِنْکُمْ أَہْدَی فَلْیَطُفْ بِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَلْیُقَصِّرْ وَلْیَحْلِلْ ثُمَّ لِیُہِلَّ بِالْحَجِّ وَلْیُہْدِ فَمَنْ لَمْ یَجِدْ ہَدْیًا فَلْیَصُمْ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَسَبْعَۃً إِذَا رَجَعَ إِلَی أَہْلِہِ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ شُعَیْبٍ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنِ ابْنِ بُکَیْرٍ عَنِ اللَّیْثِ۔

وَرُوِّینَا عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِی الَّذِی یَفُوتُہُ الْحَجُّ : فَإِنْ أَدْرَکَہُ الْحَجُّ قَابِلاً فَلْیَحُجَّ إِنِ اسْتَطَاعَ وَلْیُہْدِ فِی حَجِّہِ فَإِنْ لَمْ یَجِدْ ہَدْیًا فَلْیَصُمْ عَنْہُ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَسَبْعَۃً إِذَا رَجَعَ إِلَی أَہْلِہِ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ یَسَارٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ فِی قِصَّۃِ ہَبَّارٍ حِینَ فَاتَہُ الْحَجُّ۔

[صحیح۔ بخاری ۱۶۰۶۔ مسلم ۱۲۲۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮০২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ قربانی اور کھانا مکہ اور منیٰ میں پہنچانا ہے اور روزے جہاں چاہو رکھو
(٩٧٩٧) حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے یہاں منی میں قربانی کی ہے جب کہ منیٰ پوراہی قربانی کی جگہ ہے۔ چاہے تم اپنے خیموں میں ہی قربانی کرو۔
(۹۷۹۷)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ قَالَ : نَحَرْتُ ہَا ہُنَا بِمِنًی وَمِنًی کُلُّہَا مَنْحَرٌ فَانْحَرُوا فِی رِحَالِکُمْ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ عَنْ أَبِیہِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۱۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮০৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ قربانی اور کھانا مکہ اور منیٰ میں پہنچانا ہے اور روزے جہاں چاہو رکھو
(٩٧٩٨) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مکہ کی ہر گلی اور راستہ قربانی کی جگہ ہے۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابوداود ١٩٣٧)
(۹۷۹۸)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ أَنَّ عَطَائَ بْنَ أَبِی رَبَاحٍ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : کُلُّ فِجَاجِ مَکَّۃَ طَرِیقٌ وَمَنْحَرٌ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮০৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنی بیوی سے مجامعت کرنا پہلی حلت کے بعد (یعنی حج سے پہلے عمرہ کے بعد ) دوسری حلت سے پہلے
(٩٧٩٩) عطاء بن ابی رباح حضرت ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے کہا : جس نے بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کرلی تھی، فرمایا : تو کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے ؟ وہ کہنے لگا : میں مالدار ہوں۔ ابن عباس (رض) نے فرمایا : ایک موٹی تازی اونٹنی ذبح کر کے مساکین کو کھلا دو۔
(۹۷۹۹)أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنِ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ وَعَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ : وَطِئْتُ امْرَأَتِی قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَیْتِ قَالَ : عِنْدَکَ شَیْئٌ قَالَ : نَعَمْ إِنِّی مُوسِرٌ قَالَ فَانْحَرْ نَاقَۃً سَمِینَۃً فَأَطْعِمْہَا الْمَسَاکِینَ۔ [حسن لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮০৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنی بیوی سے مجامعت کرنا پہلی حلت کے بعد (یعنی حج سے پہلے عمرہ کے بعد ) دوسری حلت سے پہلے
(٩٨٠٠) ایضاً
(۹۸۰۰) وَرَوَاہُ حَبِیبُ بْنُ أَبِی ثَابِتٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی رَجُلٍ قَضَی الْمَنَاسِکَ کُلَّہَا إِلاَّ الطَّوَافَ بِالْبَیْتِ ثُمَّ وَاقَعَ قَالَ : عَلَیْہِ بَدَنَۃٌ وَتَمَّ حَجُّہُ أَنْبَأَنِیہِ أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَنَّ أَبَا مُحَمَّدِ بْنَ زِیَادٍ أَخْبَرَہُمْ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ سُفْیَانَ وَشُعْبَۃَ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ فَذَکَرَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮০৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنی بیوی سے مجامعت کرنا پہلی حلت کے بعد (یعنی حج سے پہلے عمرہ کے بعد ) دوسری حلت سے پہلے
(٩٨٠١) عطاء حضرت ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے قربانی کے دن بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کرلی۔ آپ نے فرمایا : وہ دو اونٹنیاں قربان کریں۔ لیکن آئندہ سال ان پر حج نہ ہوگا۔
(۹۸۰۱)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ الأَصْبَہَانِیُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا عَبِیدَۃُ حَدَّثَنَا الْعَلاَئُ بْنُ الْمُسَیَّبِ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَجُلاً أَصَابَ مِنْ أَہْلِہِ قَبْلَ أَنْ یَطُوفَ بِالْبَیْتِ یَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ : یَنْحَرَانِ جَزُورًا بَیْنَہُمَا وَلَیْسَ عَلَیْہِمَا الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ۔ [حسن۔ اخرجہ الدار قطنی ۲/ ۲۷۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮০৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنی بیوی سے مجامعت کرنا پہلی حلت کے بعد (یعنی حج سے پہلے عمرہ کے بعد ) دوسری حلت سے پہلے
(٩٨٠٢) ابن زیددیلمی حضرت عکرمہ جو ابن عباس کے آزاد کردہ غلام ہیں ان سے بیان کرتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ وہ ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو طواف افاضہ کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کرے تو وہ فرمانے لگے : وہ عمرہ کرے گا اور قربانی کرے گا۔
(۹۸۰۲)أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَیْدٍ الدِّیلیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لاَ أَظُنُّہُ إِلاَّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ فِی الَّذِی یُصِیبُ أَہْلَہُ قَبْلَ أَنْ یُفِیضَ : یَعْتَمِرُ وَیُہْدِی۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ کَانَ یَقُولُ مِثْلَ ذَلِکَ قَالَ مَالِکٌ : وَذَلِکَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۸۵۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮০৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنی بیوی سے مجامعت کرنا پہلی حلت کے بعد (یعنی حج سے پہلے عمرہ کے بعد ) دوسری حلت سے پہلے
(٩٨٠٣) عطاء بن ابی رباح حضرت ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے سوال ہوا کہ محرم آدمی جو منیٰ میں ہے طواف افاضہ سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کرلیتا ہے انھوں نے حکم دیا کہ وہ ایک اونٹ قربان کرے۔

امام شافعی اسی چیز کو ہم اختیار کریں گے، امام مالک فرماتے ہیں کہ اس کے ذمہ عمرہ، اونٹ کی قربانی اور مکمل حج ہے۔

(ب) ربیعہ سے منقول ہے اور انھوں نے ربیعہ کی رائے کی وجہ سے ابن عباس کے قول کو چھوڑ دیا ہے۔

ثور بن یزید جو عکرمہ سے نقل فرماتے ہیں : ان کا قول کوئی بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
(۹۸۰۳)أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ وَقَعَ عَلَی أَہْلِہِ وَہُوَ مُحْرِمٌ وَہُوَ بِمِنًی قَبْلَ أَنْ یُفِیضَ فَأَمَرَہُ أَنْ یَنْحَرَ بَدَنَۃً قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَبِہَذَا نَأْخُذُ قَالَ مَالِکٌ : عَلَیْہِ عُمْرَۃٌ وَبَدَنَۃٌ وَحَجُّہُ تَامٌّ۔ وَرَوَاہُ عَنْ رَبِیعَۃَ فَتَرَکَ قَوْلَ ابْنِ عَبَّاسٍ لِرَأْیِ رَبِیعَۃَ وَرَوَاہُ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ یَظُنُّہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَہُوَ سَیِّئُ الْقَوْلِ فِی عِکْرِمَۃَ لاَ یَرَی لأَحَدٍ أَنْ یَقْبَلَ حَدِیثَہُ وَہُوَ یَرْوِی بِیَقِینٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ خِلاَفَہُ ، وَعَطَائٌ الثِّقَۃُ عِنْدَہُ وَعِنْدَ النَّاسِ قَالَ الشَّیْخُ وَرُوِّینَاہُ عَنِ الْفُقَہَائِ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ۔ [صحیح۔ لغیرہ: ۸۵۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮০৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کرنے والا بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کرنے سے پہلے اپنی بیوی کے قریب نہ جائے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ سر منڈوائے یا بال کتروائے
(٩٨٠٤) عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ ہم نے ابن عمر (رض) سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا، جس نے بیت اللہ کا طواف کرلیا لیکن صفا ومروہ کا طواف نہ کیا بلکہ وہ اپنی بیوی سے مجامعت کرلی ؟ ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو بیت اللہ کا سات مرتبہ طواف کیا پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کی۔ اور صفا و مروہ کا طواف کیا، اور اللہ نے فرمایا : { لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} (الاحزاب : ٢١) ” تمہارے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں نمونہ ہے۔ “ عمرو کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ سے سوال کیا تو وہ کہنے لگے کہ صفا و مروہ کا طواف کرنے سے پہلے وہ اپنی بیوی سے مجامعت نہ کرے۔
(۹۸۰۴)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ قَالَ : سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ اعْتَمَرَ فَطَافَ بِالْبَیْتِ وَلَمْ یَطُفْ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ أَیَقَعُ بِامْرَأَتِہِ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ فَطَافَ بِالْبَیْتِ سَبْعًا وَصَلَّی خَلْفَ الْمَقَامِ رَکْعَتَیْنِ وَطَافَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَقَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ (لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ قَالَ عَمْرٌو سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ فَقَالَ : لاَ یَقْرَبُہَا حَتَّی یَطُوفَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحُمَیْدِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۸۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮১০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کرنے والا بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کرنے سے پہلے اپنی بیوی کے قریب نہ جائے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ سر منڈوائے یا بال کتروائے
(٩٨٠٥) ابو بشر حضرت سعید بن جبیر سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عمرہ کیا بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد اور صفا ومروہ کے طواف سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کرلی۔ ابن عباس (رض) سے سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : روزے یا صدقہ یا قربانی کا فدیہ دے۔ میں نے پوچھا : افضل کون سا ہے۔ فرمانے لگے : اونٹ یا گائے۔ میں نے کہا : پھر کون سا افضل ہے ؟ فرمانے لگے : اونٹ۔ ایوب نے حضرت سعید سے مخالفت کی ہے۔
(۹۸۰۵)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ أَنَّ رَجُلاً اعْتَمَرَ فَغَشِیَ امْرَأَتَہُ قَبْلَ أَنْ یَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ بَعْدَ مَا طَافَ بِالْبَیْتِ فَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ : فِدْیَۃٌ مِنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نَسَکٍ فَقُلْتُ : فَأَیُّ ذَلِکَ أَفْضَلُ؟ قَالَ : جَزُورٌ أَوْ بَقَرَۃٌ۔ قُلْتُ : فَأَیُّ ذَلِکَ أَفْضَلُ؟ قَالَ : جَزُورٌ۔ خَالَفَہُ أَیُّوبُ عَنْ سَعِیدٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক: