আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৮৮ টি
হাদীস নং: ৯৮১১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کرنے والا بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کرنے سے پہلے اپنی بیوی کے قریب نہ جائے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ سر منڈوائے یا بال کتروائے
(٩٨٠٦) حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میاں بیوی نے عمرہ کا احرام باندھا۔ انھوں نے عمرہ کے مناسک ادا کرلیے، لیکن بال کتروانے باقی تھے۔ مرد نے بیوی سے بال کتروانے سے پہلے مجامعت کرلی تو ابن عباس (رض) سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا۔ فرمانے لگے : یہ تو کثیر الشہوت ہے۔ جب ان سے کہا گیا : وہ سن کر حیا محسوس کر رہے تھے اور فرمانے لگے : کیا تم مجھے اس کے بارے میں بتاتے ہو۔ فرمانے لگے : قربانی دو۔ عورت نے کہا : کیا ؟ فرمایا : اونٹ یا گائے یا بکری کی قربانی کرو۔ کہنے لگی : افضل کیا ہے ؟ فرمایا : اونٹنی شاید یہ زیادہ مناسب ہو۔
(۹۸۰۶)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی تَوْبَۃَ الصُّوفِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ حَاتِمٍ النَّجَّارُ الآمُلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاوِیَۃَ الْجُمَحِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ : أَنَّ رَجُلاً أَہَلَّ ہُوَ وَامْرَأَتُہُ جَمِیعًا بِعُمْرَۃٍ فَقَضَتْ مَنَاسِکَہَا إِلاَّ التَّقْصِیرَ فَغَشِیَہَا قَبْلَ أَنْ تُقَصِّرَ فَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : إِنَّہَا لَشَبِقَۃٌ فَقِیلَ لَہُ : إِنَّہَا تَسْمَعُ فَاسْتَحْیَا مِنْ ذَلِکَ وَقَالَ أَلاَ أَعْلَمْتُمُونِی وَقَالَ لَہَا : أَہْرِیقِی دَمًا قَالَتْ : مَاذَا؟ قَالَ : انْحَرِی نَاقَۃً أَوْ بَقَرَۃً أَوْ شَاۃً قَالَتْ : أَیُّ ذَلِکَ أَفْضَلُ؟ قَالَ : نَاقَۃٌ وَلَعَّلَ ہَذَا أَشْبَہُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮১২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کرنے والا بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کرنے سے پہلے اپنی بیوی کے قریب نہ جائے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ سر منڈوائے یا بال کتروائے
(٩٨٠٧) حکم حضرت سعید بن جبیر سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی عورت سے حالت عمرہ میں مجامعت کرلی اس نے کہا : میں بال نہ کترواؤں گی تو وہ اپنے دانتوں سے اس کے بال کاٹنے لگے۔ فرمانے لگے : یہ کثیر الشہوۃ ہے وہ ایک خون بہائے۔ اس میں ابن عباس کا تذکرہ نہیں ہے۔
(۹۸۰۷) فَقَدْ أَخْبَرَنَا الشَّرِیفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی شُرَیْحٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی امْرَأَتَہُ فِی عُمْرَۃٍ فَقَالَتْ : إِنِّی لَمْ أُقَصِّرْ فَجَعَلَ یَقْرِضُ شَعَرَہَا بِأَسْنَانِہِ قَالَ إِنَّہُ لَشَبِقٌ یُہَرِیقُ دَمًا۔ کَذَا قَالَ لَمْ یَذْکُرْ فِیہِ ابْنَ عَبَّاسٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن الجعد ۱۵۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮১৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کرنے والا بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کرنے سے پہلے اپنی بیوی کے قریب نہ جائے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ سر منڈوائے یا بال کتروائے
(٩٨٠٨) حمیر نے حضرت حسن سے بیان کیا کہ ایک عورت عمرہ کے لیے آئی ، اس نے بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کرلیا، لیکن بال کٹوانے سے پہلے اس کے خاوند نے اس سے ہمبستری کرلی۔ فرمانے لگے : وہ ایک گائے یا اونٹ کی قربانی دے۔
(ب) حمید بیان کرتے ہیں کہ بکری بن عبداللہ نے ابن عباس (رض) سے اس کے بارے میں سوال کیا، فرمانے لگے : یہ کثیر الشہوۃ ہے۔ ان سے کہا گیا کہ عورت موجود ہے، وہ خاموش ہوگئے۔ پھر فرمایا کہ وہ اونٹ یا گائے کی قربانی پیش کرے۔
(ب) حمید بیان کرتے ہیں کہ بکری بن عبداللہ نے ابن عباس (رض) سے اس کے بارے میں سوال کیا، فرمانے لگے : یہ کثیر الشہوۃ ہے۔ ان سے کہا گیا کہ عورت موجود ہے، وہ خاموش ہوگئے۔ پھر فرمایا کہ وہ اونٹ یا گائے کی قربانی پیش کرے۔
(۹۸۰۸)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَکَرِیَّا أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ حَدَّثَنَا جَدِّی مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ہُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ : أَنَّہُ سَأَلَ الْحَسَنَ عَنِ امْرَأَۃٍ قَدِمَتْ مُعْتَمِرَۃً فَطَافَتْ بِالْبَیْتِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَوَقَعَ عَلَیْہَا زَوْجُہَا قَبْلَ أَنْ تُقَصِّرَ قَالَ لِتُہْدِی ہَدْیًا بَعِیرًا أَوْ بَقَرَۃً۔ قَالَ حُمَیْدٌ وَذَکَرَ بَکْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : إِنَّہَا لَشَبِقَۃٌ قَالَ فَقِیلَ لَہُ : إِنَّ الْمَرْأَۃَ شَاہِدَۃٌ قَالَ : فَسَکَتَ ثُمَّ قَالَ : لِتُہْدِیَنَّ ہَدْیًا بَعِیرًا أَوْ بَقَرَۃً۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮১৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ اپنے عمرہ کو فاسد کرنے والا وہاں سے پورا کرے گا جہاں سے اس نے خراب کیا تھا، اس طرح اپنے حج کو باطل کرنے والابھی
حضرت عطاء عمر بن خطاب (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے حج کا احرام باندھا اور اپنی بیوی سے مجامعت کرلی، فرمانے لگے : وہ اپنا حج پورا کریں اور آئندہ
حضرت عطاء عمر بن خطاب (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے حج کا احرام باندھا اور اپنی بیوی سے مجامعت کرلی، فرمانے لگے : وہ اپنا حج پورا کریں اور آئندہ
(٩٨٠٩) عطاء حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیدہ عائشہ (رض) سے فرمایا : بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی تیرے حج و عمرہ کے لیے کافی ہے۔
(۹۸۰۹)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الشَّیْخِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ہُوَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ قَالَ لِعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : طَوَافُکِ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ یَکْفِیکِ لِحَجِّکِ وَعُمْرَتِکِ ۔
[صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۱۸۹۷]
[صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۱۸۹۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮১৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ اپنے عمرہ کو فاسد کرنے والا وہاں سے پورا کرے گا جہاں سے اس نے خراب کیا تھا، اس طرح اپنے حج کو باطل کرنے والابھی
حضرت عطاء عمر بن خطاب (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے حج کا احرام باندھا اور اپنی بیوی سے مجامعت کرلی، فرمانے لگے : وہ اپنا حج پورا کریں اور آئندہ
حضرت عطاء عمر بن خطاب (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے حج کا احرام باندھا اور اپنی بیوی سے مجامعت کرلی، فرمانے لگے : وہ اپنا حج پورا کریں اور آئندہ
(٩٨١٠) حضرت عطاء سیدہ عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے ایک طواف کافی ہے حج و عمرہ کی پہچان کے بعد۔
(۹۸۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّیُّ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ہُوَ الثَّوْرِیُّ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ قَالَ : یَکْفِیکِ طَوَافٌ وَاحِدٌ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ لِحَجِّکِ وَعُمْرَتِکِ۔ [صحیح۔ اخرجہ الدارقطنی ۲/ ۲۶۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮১৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ اپنے عمرہ کو فاسد کرنے والا وہاں سے پورا کرے گا جہاں سے اس نے خراب کیا تھا، اس طرح اپنے حج کو باطل کرنے والابھی
حضرت عطاء عمر بن خطاب (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے حج کا احرام باندھا اور اپنی بیوی سے مجامعت کرلی، فرمانے لگے : وہ اپنا حج پورا کریں اور آئندہ
حضرت عطاء عمر بن خطاب (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے حج کا احرام باندھا اور اپنی بیوی سے مجامعت کرلی، فرمانے لگے : وہ اپنا حج پورا کریں اور آئندہ
(٩٨١١) ابن طاؤس اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) نے عمرہ کا احرام باندھا، لیکن بیت اللہ کے طواف سے پہلے حائضہ ہوگئیں، باقی سارے مناسک ادا کیے۔ انھوں نے حج کا تلبیہ کہا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نفر کے دن ان سے فرمایا کہ حج و عمرہ کے لیے ایک طواف کافی ہے لیکن اس نے انکار کردیا، تب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ساتھ ان کے بھائی عبدالرحمن کو تنعیم مقام تک روانہ کیا، پھر انھوں نے حج کے بعد عمرہ کیا۔
(۹۸۱۱)وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا مُوسَی یَعْنِی ابْنَ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہَا أَہَلَّتْ بِعُمْرَۃٍ وَحَاضَتْ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَیْتِ حِینَ حَاضَتْ فَنَسَکَتِ الْمَنَاسِکَ کُلَّہَا وَقَدْ أَہَلَّتْ بِالْحَجِّ فَقَالَ لَہَا النَّبِیُّ -ﷺ یَوْمَ النَّفْرِ : سَعْیُکِ لِحَجَّتِکِ وَعُمْرَتِکِ ۔ فَأَبَتْ فَبَعَثَ مَعَہَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِلَی التَّنْعِیمِ فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ وُہَیْبٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۱۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮১৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ قربانی کے دن طلوع فجر سے پہلے وقوف عرفہ کو پالینا حج کو مکمل کرنا ہے
(٩٨١٢) عبدالرحمن بن یعمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ حج عرفہ کا ہی نام ہے، جس نے وقوف عرفہ کو طلوع فجر سے پہلے پا لیا اس نے حج کو پا لیا یا اس کا مکمل ہوگیا اور منیٰ کے تین دن ہیں۔ جو پہلے دو دنوں میں جلدی کرلیتا ہے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے اور جو موخر کر دے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔
(۹۸۱۲)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَطَائٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ یَعْمُرَ یَقُولُ شَہِدْتُ النَّبِیَّ -ﷺ یَقُولُ : الْحَجُّ عَرَفَۃُ الْحَجُّ عَرَفَاتٌ مَنْ أَدْرَکَ عَرَفَۃَ قَبْلَ أَنْ یَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَکَ الْحَجَّ أَوْ تَمَّ حَجُّہُ أَیَّامُ مِنًی ثَلاَثَۃُ أَیَّامٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِی یَوْمَیْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَیْہِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلاَ إِثْمَ عَلَیْہِ ۔
[صحیح۔ اخرجہ الترمذی ۲۹۸۵]
[صحیح۔ اخرجہ الترمذی ۲۹۸۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮১৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ قربانی کے دن طلوع فجر سے پہلے وقوف عرفہ کو پالینا حج کو مکمل کرنا ہے
(٩٨١٣) عبدالرحمن بن یعمردیلمی (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفات میں تھے، صحابہ (رض) کا ایک گروہ آپ کے پاس آیا، انھوں نے ایک آدمی کو حکم دیا۔ اس نے آواز دی : اے اللہ کے رسول ! ، حج کیسے ہوتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ اعلان کرے کہ حج عرفہ کا دن ہے۔ جو عرفات میں رات کو صبح کی نماز سے پہلے آگیا۔ اس کا حج مکمل ہے۔ منیٰ کے تین دن ہیں۔ جو دو دن میں جلدی کرے (کنکر مارنے میں) اس پر کوئی گناہ نہیں۔ پھر اس کے بعد ایک آدمی آیا اس نے یہ اعلان کیا۔
(۹۸۱۳)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَیُّوبَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ أَبِی مَسَّرَۃَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی وَعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ حَدَّثَنَا بُکَیْرُ بْنُ عَطَائٍ اللَّیْثِیُّ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یَعْمُرَ الدِّیلِیُّ قَالَ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ وَہُوَ بِعَرَفَاتٍ فَأَتَاہُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِہِ فَأَمَرُوا رَجُلاً فَنَادَی : یَا رَسُولَ اللَّہِ کَیْفَ الْحَجُّ کَیْفَ الْحَجُّ؟ قَالَ فَأَمَرَ رَجُلاً فَنَادَی : الْحَجُّ یَوْمُ عَرَفَۃَ مَنْ جَائَ قَبْلَ صَلاَۃِ الصُّبْحِ مِنْ لَیْلَۃِ جَمْعٍ فَقَدْ تَمَّ حَجُّہُ أَیَّامُ مِنًی ثَلاَثٌ مَنْ تَعَجَّلَ فِی یَوْمَیْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَیْہِ ۔ ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلاً مِنْ خَلْفِہِ فَنَادَی بِذَلِکَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮১৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ قربانی کے دن طلوع فجر سے پہلے وقوف عرفہ کو پالینا حج کو مکمل کرنا ہے
(٩٨١٤) حارثہ بن لام (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مزدلفہ میں آیا، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں طی کے دو پہاڑوں کے درمیان سے آیا ہوں، قسم بخدا ! میں اپنے آپ کو تھکا کر آیا ہوں اور اپنی سواری کو بھی۔ میں نے کوئی پہاڑ نہیں چھوڑا مگر میں نے اس پر ضرور وقوف کیا ہے۔ کیا میرے لیے حج ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو بندہ مزدلفہ میں نماز فجر میں ہمارے ساتھ حاضر ہوجاتا ہے اور اس نے وقوف عرفہ دن یا رات کے حصہ میں کیا ہوا ہے۔ اس کا حج مکمل ہوگیا اور میل کچیل ختم ہوگئی۔ سفیان کہتے ہیں کہ زکریا نے اس میں کچھ اضافہ کیا ہے، وہ تینوں سے اس حدیث کو زیادہ یاد رکھنے والے ہیں، کہتے ہیں : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں اس وقت طی کے پہاڑوں سے آیا ہوں۔ میں نے اپنی سواری اور اپنے آپ کو بھی تھکا دیا ہے، کیا میرے لیے حج ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو ہمارے ساتھ اس نماز میں حاضر ہوا اور ہمارے ساتھ وقوف کیا اور رات و دن کے حصہ میں عرفہ کے اندر وقوف کیا اس کا حج مکمل ہوگیا ، گندگی دور ہوگئی ۔ سفیان کہتے ہیں کہ داود بن ابی معسر نے کچھ اضافہ کیا ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا جب فجر طلوع ہوئی۔
(۹۸۱۴)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ أَبُو الزِّنْبَاعِ حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ وَزَکَرِیَّا وَدَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَۃَ بْنَ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَۃَ بْنِ لاَمٍ یَقُولُ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ بِالْمُزْدَلِفَۃِ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ جِئْتُ مِنْ جَبَلَیْ طَیِّئٍ فَوَاللَّہِ مَا جِئْتُ حَتَّی أَتْعَبْتُ نَفْسِی وَأَنْضَیْتُ رَاحِلَتَی وَمَا تَرَکْتُ مِنْ ہَذِہِ الْحِبَالِ شَیْئًا إِلاَّ وَقَفْتُ عَلَیْہِ فَہَلْ لِی مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : مَنْ شَہِدَ مَعَنَا ہَذِہِ الصَّلاَۃَ صَلاَۃَ الْفَجْرِ بِالْمُزْدَلِفَۃِ وَکَانَ قَدْ وَقَفَ بِعَرَفَۃَ قَبْلَ ذَلِکَ مِنْ لَیْلٍ أَوْ نَہَارٍ فَقَدْ تَمَّ حَجُّہُ وَقَضَی تَفَثَہُ ۔ قَالَ سُفْیَانُ وَزَادَ زَکَرِیَّا فِیہِ وَکَانَ أَحْفَظُ الثَّلاَثَۃِ لِہَذَا الْحَدِیثِ قَالَ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتَیْتُ ہَذِہِ السَّاعَۃَ مِنْ جَبَلَیْ طَیِّئٍ قَدْ أَکْلَلْتُ رَاحِلَتَی وَأَتْعَبْتُ نَفْسِی فَہَلْ لِی مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ : مَنْ شَہِدَ مَعَنَا ہَذِہِ الصَّلاَۃَ وَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّی یُفِیضَ وَکَانَ قد وَقَفَ قَبْلَ ذَلِکَ بِعَرَفَۃَ مِنْ لَیْلٍ أَوْ نَہَارٍ فَقَدْ تَمَّ حَجُّہُ وَقَضَی تَفَثَہُ ۔ قَالَ سُفْیَانُ وَزَادَ دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ قَالَ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ حِیْنَ بَرَقَ الْفَجْرُ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ بِشْرَانَ۔
[صحیح۔ ابوداود ۱۹۶۰۔ ابن ماجہ ۳۰۱۶]
[صحیح۔ ابوداود ۱۹۶۰۔ ابن ماجہ ۳۰۱۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮২০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ قربانی کے دن طلوع فجر سے پہلے وقوف عرفہ کو پالینا حج کو مکمل کرنا ہے
(٩٨١٥) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو عرفات سے صبح سے پہلے واپس پلٹ آیا اور جس کا وقوف عرفہ رہ گیا تو اس کا حج بھی رہ گیا۔
(۹۸۱۵)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سَوْرَۃُ بْنُ الْحَکَمِ صَاحِبُ الرَّأْیِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَالَ : مَنْ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ قَبْلَ الصُّبْحِ فَقَدْ تَمَّ حَجُّہُ وَمَنْ فَاتَہُ فَقَدْ فَاتَہُ الْحَجُّ ۔ [صحیح لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮২১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ قربانی کے دن طلوع فجر سے پہلے وقوف عرفہ کو پالینا حج کو مکمل کرنا ہے
(٩٨١٦) ابن جریج حضرت عطاء بن ابی رباح سے نقل فرماتے ہیں کہ حج فوت نہیں ہوتا یعنی نہیں رہ جاتا جب تک کہ مزدلفہ کی رات کے بعد فجر طلوع نہ ہوجاتی۔ کہتے ہیں : میں نے عطاء سے کہا : کیا یہ بات آپ کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہنچی ہے ؟ فرمانے لگے : ہاں۔
(۹۸۱۶)وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ قَالَ : لاَ یَفُوتُ الْحَجُّ حَتَّی یَنْفَجِرَ الْفَجْرُ مِنْ لَیْلَۃِ جَمْعٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَائٍ : أَبْلَغَکَ ذَلِکَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ قَالَ عَطَائٌ : نَعَمْ۔ [صحیح لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮২২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ قربانی کے دن طلوع فجر سے پہلے وقوف عرفہ کو پالینا حج کو مکمل کرنا ہے
(٩٨١٧) ایضا۔
(۹۸۱۷) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ: أَنَّہُ قَالَ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮২৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ قربانی کے دن طلوع فجر سے پہلے وقوف عرفہ کو پالینا حج کو مکمل کرنا ہے
(٩٨١٨) عبداللہ بن عمر (رض) حضرت عمر بن خطاب (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے قربانی کی رات طلوع فجر سے پہلے پالی، اس نے حج کو پالیا اور جس نے صبح سے پہلے وقوف نہ کیا اس کا حج رہ گیا ، نہ ہوسکا۔
(۹۸۱۸) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَہُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَنْ أَدْرَکَ لَیْلَۃَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ یَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَکَ الْحَجَّ وَمَنْ لَمْ یَقِفْ حَتَّی یُصْبِحَ فَقَدْ فَاتَہُ الْحَجُّ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮২৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ قربانی کے دن طلوع فجر سے پہلے وقوف عرفہ کو پالینا حج کو مکمل کرنا ہے
(٩٨١٩) ایضا۔
(۹۸۱۹) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ وَغَیْرُہُمَا أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَہُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ مِثْلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮২৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس کا حج رہ جائے وہ کیا کرے
(٩٨٢٠) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ حاجیوں میں سے جس نی قربانی کی رات کو پا لیا اور طلوع فجر سے پہلے عرفہ کے پہاڑوں میں وقوف کیا، اس نے حج کو پا لیا اور جو طلوع فجر سے پہلے وقوف عرفہ کو نہ پاسکا اس کا حج رہ گیا۔ وہ بیت اللہ میں آکر سات چکر لگائے اور صفا و مروہ کی سعی کرے پھر سر منڈوائے یا بال کتروائے، پھر اپنے گھر واپس لوٹ جائے۔ اگر آئندہ سال حج کے ایام اس کو پالیں اور اس میں طاقت ہو یعنی زادہ راہ ہو تو حج اور قربانی کرے ۔ اگر قربانی میسر نہ ہو تو تین دن کے روزے ایام حج میں رکھے اور سات روزے گھر واپس آکر رکھ لے۔
(۹۸۲۰)أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ ہَاشِمٍ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ حَدَّثَنِی عَمِّی جُوَیْرِیَۃُ بْنُ أَسْمَائَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ کَانَ یَقُولُ
(ح)وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ قَالَ : مَنْ أَدْرَکَ لَیْلَۃَ النَّحْرِ مِنَ الْحَاجِّ فَوَقَفَ بِجِبَالِ عَرَفَۃَ قَبْلَ أَنْ یَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَکَ الْحَجَّ وَمَنْ لَمْ یُدْرِکْ عَرَفَۃَ قَبْلَ أَنْ یَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ فَاتَہُ الْحَجُّ فَلْیَأْتِ الْبَیْتَ فَلْیَطُفْ بِہِ سَبْعًا وَیَطُوفُ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ سَبْعًا ثُمَّ لْیَحْلِقْ أَوْ یُقَصِّرْ إِنْ شَائَ وَإِنْ کَانَ مَعَہُ ہَدْیُہُ فَلْیَنْحَرْہُ قَبْلَ أَنْ یَحْلِقَ فَإِذَا فَرَغَ مِنْ طَوَافِہِ وَسَعْیِہِ فَلْیَحْلِقْ أَوْ یُقَصِّرْ ثُمَّ لْیَرْجِعْ إِلَی أَہْلِہِ فَإِنْ أَدْرَکَہُ الْحَجُّ قَابِلً فَلْیَحُجَّ إِنِ اسْتَطَاعَ وَلْیُہْدِ فِی حَجَّہِ فَإِن لَمْ یَجِدْ ہَدْیًا فَلْیَصُمْ عَنْہُ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَسَبْعَۃً إِذَا رَجَعَ إِلَی أَہْلِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ الشافعی ۵۸۱]
(ح)وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ قَالَ : مَنْ أَدْرَکَ لَیْلَۃَ النَّحْرِ مِنَ الْحَاجِّ فَوَقَفَ بِجِبَالِ عَرَفَۃَ قَبْلَ أَنْ یَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَکَ الْحَجَّ وَمَنْ لَمْ یُدْرِکْ عَرَفَۃَ قَبْلَ أَنْ یَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ فَاتَہُ الْحَجُّ فَلْیَأْتِ الْبَیْتَ فَلْیَطُفْ بِہِ سَبْعًا وَیَطُوفُ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ سَبْعًا ثُمَّ لْیَحْلِقْ أَوْ یُقَصِّرْ إِنْ شَائَ وَإِنْ کَانَ مَعَہُ ہَدْیُہُ فَلْیَنْحَرْہُ قَبْلَ أَنْ یَحْلِقَ فَإِذَا فَرَغَ مِنْ طَوَافِہِ وَسَعْیِہِ فَلْیَحْلِقْ أَوْ یُقَصِّرْ ثُمَّ لْیَرْجِعْ إِلَی أَہْلِہِ فَإِنْ أَدْرَکَہُ الْحَجُّ قَابِلً فَلْیَحُجَّ إِنِ اسْتَطَاعَ وَلْیُہْدِ فِی حَجَّہِ فَإِن لَمْ یَجِدْ ہَدْیًا فَلْیَصُمْ عَنْہُ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَسَبْعَۃً إِذَا رَجَعَ إِلَی أَہْلِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ الشافعی ۵۸۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮২৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس کا حج رہ جائے وہ کیا کرے
(٩٨٢١) سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ ابو ایوب انصاری حج کے لیے نکلے ، جب وہ مکہ کے راستے میں نازیہ مقام تک آئے تو ان کی سواری گم ہوگئی۔ پھر وہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس قربانی کے دن آئے اور ان کے سامنے واقعہ ذکر کیا تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ویسا کرو جیسے عمرہ کرنے والے کرتے ہیں ، پھر آپ حلال ہو جائو۔ اگر آئندہ سال آپ کو حج پالے تو حج کرنا اور قربانی کرنا جو میسر ہو۔
(۹۸۲۱)وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا وَأَبُو بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُاللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ أَنَّہُ قَالَ أَخْبَرَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ یَسَارٍ : أَنَّ أَبَا أَیُّوبَ الأَنْصَارِیَّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَرَج حَاجًّا حَتَّی إِذَا کَانَ بِالنَّازِیَۃِ مِنْ طَرِیقِ مَکَّۃَ أَضَلَّ رَوَاحِلَہُ ثُمَّ أَنَّہُ قَدِمَ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَوْمَ النَّحْرِ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ لَہُ عُمَرَ : اصْنَعْ کَمَا یَصْنَعُ الْمُعْتَمِرُ ثُمَّ قَدْ حَلَلْتَ فَإِذَا أَدْرَکَکَ الْحَجُّ قَابِلً فَاحْجُجْ وَأَہْدِ مَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ مالک ۸۵۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮২৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس کا حج رہ جائے وہ کیا کرے
(٩٨٢٢) سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ ہبار بن اسود قربانی کے دن آئے اور حضرت عمر (رض) قربانی کر رہے تھے۔ کہنے لگے : اے امیرالمومنین ! ہم سے غلطی ہوگئی ، ہم تو آج عرفہ کا دن خیال کر رہے تھے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مکہ جاؤ اور بیت اللہ کے سات چکر کاٹ کر طواف کرو۔ صفا و مروہ کی سعی کرو۔ پھر قربانی کرو ۔ اگر قربانی موجود ہے۔ پھر سر منڈواؤ یا بال کٹاؤ اور واپس پلٹ جاؤ۔ جب آئندہ سال حج ہو تو حج اور قربانی کرو اور اگر قربانی نہ ہو تو تین دن کے روزے حج کے ایام میں اور سات روزے واپس لوٹ کررکھو۔
(۹۸۲۲)وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَغَیْرُہُمَا أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَہُمْ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ ہَبَّارَ بْنَ الأَسْوَدِ جَائَ یَوْمَ النَّحْرِ وَعُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَنْحَرُ فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَخْطَأْنَا کُنَّا نَرَی أَنَّ ہَذَا الْیَوْمَ یَوْمُ عَرَفَۃَ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: اذْہَبْ إِلَی مَکَّۃَ فَطُفْ بِالْبَیْتِ سَبْعًا وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ أَنْتَ وَمَنْ مَعَکَ ثُمَّ انْحَرْ ہَدْیًا إِنْ کَانَ مَعَکَ ثُمَّ احْلِقُوا أَوْ قَصِّرُوا وَارْجِعُوا فَإِذَا کَانَ حَجٌّ قَابِلٌ فَحُجُّوا وَأَہْدُوا فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَسَبْعَۃٍ إِذَا رَجَعَ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ جُوَیْرِیَۃُ بْنُ أَسْمَائَ عَنْ نَافِعٍ۔ [ضعیف۔ اخرجہ مالک ۸۵۷]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ جُوَیْرِیَۃُ بْنُ أَسْمَائَ عَنْ نَافِعٍ۔ [ضعیف۔ اخرجہ مالک ۸۵۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮২৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس کا حج رہ جائے وہ کیا کرے
(٩٨٢٣) (الف) ابراہیم حضرت اسود سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ایسے آدمی کے متعلق حضرت عمر (رض) سے سوال کیا جس کا حج رہ گیا تھا، فرمانے لگے : وہ عمرہ کا تلبیہ کہے اور آئندہ سال اس پر حج ہے۔ پھر آئندہ سال میں نکلا تو زید بن ثابت سے ملاقات ہوگئی۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ جس شخص کا حج رہ جائے ؟ وہ فرمانے لگے کہ وہ عمرہ کا احرام باندھے اور آئندہ سال حج کرے۔
(ب) اعمش اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ عمرہ سے حلال ہوگا اور آئندہ سال حج کرے گا۔ اس پر قربانی نہیں ہے۔
(ج) ادریس اودی ان سے روایت کرتے ہیں کہ وہ قربانی کرے۔
(ب) اعمش اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ عمرہ سے حلال ہوگا اور آئندہ سال حج کرے گا۔ اس پر قربانی نہیں ہے۔
(ج) ادریس اودی ان سے روایت کرتے ہیں کہ وہ قربانی کرے۔
(۹۸۲۳)أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیُّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ قَالَ : سَأَلْتُ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ فَاتَہُ الْحَجُّ قَالَ : یُہِلُّ بِعُمْرَۃٍ وَعَلَیْہِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ ثُمَّ خَرَجْتُ الْعَامَ الْمُقْبِلَ فَلَقِیتُ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَأَلْتُہُ عَنْ رَجُلٍ فَاتَہُ الْحَجُّ قَالَ : یُہِلُّ بِعُمْرَۃٍ وَعَلَیْہِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ کَذَا رَوَاہُ أَبُو مُعَاوِیَۃَ۔
وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ أَبِیہِ عَنْہُ وَرُوِیَ عَنْ إِدْرِیسَ الأَوْدِیِّ عَنْہُ فَقَالَ : وَیُہْرِیقُ دَمًا۔ وَرَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنِ الأَعْمَشِ بِإِسْنَادِہِ وَقَالَ : یَحِلُّ بِعُمْرَۃٍ وَیَحُجُّ مِنْ قَابِلٍ وَلَیْسَ عَلَیْہِ ہَدْیٌ۔
قَالَ فَلَقِیتُ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ بَعْدَ عِشْرِینَ سَنَۃٍ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ سُفْیَانُ عَنِ الْمُغِیرَۃِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ وَرَوَاہُ شُعْبَۃُ ۔ [صحیح]
وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ أَبِیہِ عَنْہُ وَرُوِیَ عَنْ إِدْرِیسَ الأَوْدِیِّ عَنْہُ فَقَالَ : وَیُہْرِیقُ دَمًا۔ وَرَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنِ الأَعْمَشِ بِإِسْنَادِہِ وَقَالَ : یَحِلُّ بِعُمْرَۃٍ وَیَحُجُّ مِنْ قَابِلٍ وَلَیْسَ عَلَیْہِ ہَدْیٌ۔
قَالَ فَلَقِیتُ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ بَعْدَ عِشْرِینَ سَنَۃٍ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ سُفْیَانُ عَنِ الْمُغِیرَۃِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ وَرَوَاہُ شُعْبَۃُ ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮২৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس کا حج رہ جائے وہ کیا کرے
(٩٨٢٤) ابراہیم نخعی حضرت ساود سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر (رض) کے پاس آیا ، جس کا حج رہ گیا تھا تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اس کو عمرہ بنا لو اور آئندہ سال آپ کے اوپر حج ہے۔ اسود کہتے ہیں : میں ٢٠ سال تک ٹھہرا رہا۔ پھر میں نے زید بن ثابت سے اس کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے بھی حضرت عمر (رض) کی طرح فرمایا۔
(۹۸۲۴)کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُغِیرَۃِ الضَّبِّیِّ عَنْ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ عَنِ الأَسْوَدِ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَدْ فَاتَہُ الْحَجُّ قَالَ عُمَرُ : اجْعَلْہَا عُمْرَۃً وَعَلَیْکَ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ قَالَ الأَسْوَدُ : مَکَثْتُ عِشْرِینَ سَنَۃً ثُمَّ سَأَلْتُ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُمَرَ۔ [صحیح لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৩০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس کا حج رہ جائے وہ کیا کرے
(٩٨٢٥) حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ کہتے ہیں : میں نے حضرت عمر (رض) سے سنا کہ ایک آدمی ایام تشریق کے درمیان میں آیا جس کا حج رہ گیا تھا تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : بیت اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی کرو اور آئندہ سال آپ پر حج ہوگا لیکن قربانی کا تذکرہ نہیں کیا۔
(ب) ادریس اودی کی روایت میں ہے ، اگر وہ روایت صحیح ہے تو پھر وہ قربانی کرے اور یہ سلیمان بن یسار کی روایت کے صحیح ہونے پر دلالت کرتی ہے ۔
(ج) سلیمان بن یسار حضرت ھبار بن اسود سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا حج رہ گیا۔ وہ اسے موصول ذکر کرتے ہیں۔
(د) حزابہ کا قصہ جو ابن عمر اور ابن زبیر سے منقول ہے وہ قربانی کے وجوب پر دلالت کرتا ہے۔
(ر) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جو مناسکِ حج میں سے کوئی چیز بھول جائے یا چھوڑ دے تو وہ قربانی دے۔
(ب) ادریس اودی کی روایت میں ہے ، اگر وہ روایت صحیح ہے تو پھر وہ قربانی کرے اور یہ سلیمان بن یسار کی روایت کے صحیح ہونے پر دلالت کرتی ہے ۔
(ج) سلیمان بن یسار حضرت ھبار بن اسود سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا حج رہ گیا۔ وہ اسے موصول ذکر کرتے ہیں۔
(د) حزابہ کا قصہ جو ابن عمر اور ابن زبیر سے منقول ہے وہ قربانی کے وجوب پر دلالت کرتا ہے۔
(ر) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جو مناسکِ حج میں سے کوئی چیز بھول جائے یا چھوڑ دے تو وہ قربانی دے۔
(۹۸۲۵)وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَجَائَ ہُ رَجُلٌ فِی وَسَطِ أَیَّامِ التَّشْرِیقِ وَقَدْ فَاتَہُ الْحَجُّ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : طُفْ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَعَلَیْکَ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ وَلَمْ یَذْکُرْ ہَدْیًا۔
ہَذِہِ الرِّوَایَۃُ وَمَا قَبْلَہَا عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُوتَصِلَتَانِ وَرِوَایَۃُ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْہُ مُنْقَطِعَۃٌ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : الْحَدِیثُ الْمُوتَصِلُ عَنْ عُمَرَ یُوَافِقُ حَدِیثَنَا عَنْ عُمَرَ وَیَزِیدُ حَدِیثُنَا عَلَیْہِ الْہَدْیَ وَالَّذِی یَزِیدُ فِی الْحَدِیثِ أَوْلَی بِالْحِفْظِ مِنَ الَّذِی لَمْ یَأْتِ بِالزِّیَادِۃِ۔
وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ کَمَا قُلْنَا مُوتَصِلاً۔
وَفِی رِوَایَۃِ إِدْرِیسَ الأَوْدِیِّ إِنْ صَحَّتْ وَیُہْرِیقُ دَمًا وَہِیَ تَشْہَدُ لِرِوَایَۃِ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ بِالصَّحَۃِ۔
وَرَوَی إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ ہَبَّارِ بْنِ الأَسْوَدِ أَنَّہُ حَدَّثَہُ أَنَّہُ فَاتَہُ الْحَجُّ فَذَکَرَہُ مَوْصُولاً۔ وَرُوِّینَا فِی قِصَّۃِ حُزَابَۃَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ الزُّبَیْرِ مَا دَلَّ عَلَی وُجُوبُ الْہَدْیِ۔ وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ : مَنْ نَسِیَ شَیْئًا مِنْ نُسُکِہِ أَوْ تَرَکَہُ فَلْیُہْرِقْ دَمًا۔
[حسن۔ اخرجہ ابن الجعد: ۲۳۴۰]
ہَذِہِ الرِّوَایَۃُ وَمَا قَبْلَہَا عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُوتَصِلَتَانِ وَرِوَایَۃُ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْہُ مُنْقَطِعَۃٌ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : الْحَدِیثُ الْمُوتَصِلُ عَنْ عُمَرَ یُوَافِقُ حَدِیثَنَا عَنْ عُمَرَ وَیَزِیدُ حَدِیثُنَا عَلَیْہِ الْہَدْیَ وَالَّذِی یَزِیدُ فِی الْحَدِیثِ أَوْلَی بِالْحِفْظِ مِنَ الَّذِی لَمْ یَأْتِ بِالزِّیَادِۃِ۔
وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ کَمَا قُلْنَا مُوتَصِلاً۔
وَفِی رِوَایَۃِ إِدْرِیسَ الأَوْدِیِّ إِنْ صَحَّتْ وَیُہْرِیقُ دَمًا وَہِیَ تَشْہَدُ لِرِوَایَۃِ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ بِالصَّحَۃِ۔
وَرَوَی إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ ہَبَّارِ بْنِ الأَسْوَدِ أَنَّہُ حَدَّثَہُ أَنَّہُ فَاتَہُ الْحَجُّ فَذَکَرَہُ مَوْصُولاً۔ وَرُوِّینَا فِی قِصَّۃِ حُزَابَۃَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ الزُّبَیْرِ مَا دَلَّ عَلَی وُجُوبُ الْہَدْیِ۔ وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ : مَنْ نَسِیَ شَیْئًا مِنْ نُسُکِہِ أَوْ تَرَکَہُ فَلْیُہْرِقْ دَمًا۔
[حسن۔ اخرجہ ابن الجعد: ۲۳۴۰]
তাহকীক: