আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৮৮ টি
হাদীস নং: ৯৮৩১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یومِ عرفہ کے بارے میں لوگوں کا غلطی کرنا
(٩٨٢٦) حضرت ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرفوعاً نقل فرماتے ہیں کہ تمہاری عیدالفطر کا دن وہ ہے جس دن تم افطار کرتے ہو اور تمہاری عید الاضحی کا دن وہ ہے جس دن تم قربانی کرتے ہو اور تمام عرفہ کا میدان وقوف کی جگہ ہے اور تمام مزدلفہ کا میدان بھی وقوف کی جگہ ہے اور منیٰ کا پورا میدان قربانی کی جگہ ہے اور مکہ کے تمام راستے قربانی کی جگہ ہیں۔
(۹۸۲۶)أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ الْبَشِیرِیُّ مِنْ أَوْلاَدِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّفَّائُ الْہَرَوِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَفَعَہُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ قَالَ : فِطْرُکُمْ یَوْمَ تُفْطِرُونَ وَأَضْحَاکُمْ یَوْمَ تُضَحُّونَ کُلُّ عَرَفَۃَ مَوْقِفٌ وَکُلُّ جَمْعٍ مَوْقِفٌ وَکُلُّ مِنًی مَنْحَرٌ وَکُلُّ فِجَاجِ مَکَّۃَ مَنْحَرٌ ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَرْفُوعًا وَرَوَاہُ ابْنُ عُلَیَّۃَ وَعَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَوْقُوفًا وَرُوِیَ بَعْضُہُ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَرْفُوعًا وَرُوِیَ عَنِ الثَّوْرِیِّ عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔
[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابوداود ۲۳۲۴]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَرْفُوعًا وَرَوَاہُ ابْنُ عُلَیَّۃَ وَعَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَوْقُوفًا وَرُوِیَ بَعْضُہُ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَرْفُوعًا وَرُوِیَ عَنِ الثَّوْرِیِّ عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔
[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابوداود ۲۳۲۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৩২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یومِ عرفہ کے بارے میں لوگوں کا غلطی کرنا
(٩٨٢٧) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عرفہ کا دن وہ ہے جب امام وقوف عرفہ کرتا ہے اور عید الاضحی کا دن جس دن امام قربانی کرتا ہے اور عیدالفطر جس دن امام افطار کرے۔
(۹۸۲۷)أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَاتِمٍ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ أَبُو إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : عَرَفَۃُ یَوْمَ یُعَرِّفُ الإِمَامُ وَالأَضْحَی یَوْمَ یُضَحِّی الإِمَامُ وَالْفِطْرُ یَوْمَ یُفْطِرُ الإِمَامُ ۔
مُحَمَّدُ ہَذَا یُعْرَفُ بِالْفَارِسِیِّ وَہُوَ کُوفِیٌّ قَاضِی فَارِسَ تَفَرَّدَ بِہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [منکر]
مُحَمَّدُ ہَذَا یُعْرَفُ بِالْفَارِسِیِّ وَہُوَ کُوفِیٌّ قَاضِی فَارِسَ تَفَرَّدَ بِہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [منکر]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৩৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یومِ عرفہ کے بارے میں لوگوں کا غلطی کرنا
(٩٨٢٨) خالد بن اسید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عرفہ کا دن وہ ہوتا ہے جب لوگ عرفہ میں قیام کرتے ہیں۔
(۹۸۲۸)وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَیْدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَۃَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنِ السَّفَّاحِ بْنِ مَطَرٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أُسَیْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : یَوْمُ عَرَفَۃَ الْیَوْمُ الَّذِی یُعَرِّفُ النَّاسُ فِیہِ ۔
ہَذَا مُرْسَلٌ جَیِّدٌ أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود فی المراسیل ۱۳۸]
ہَذَا مُرْسَلٌ جَیِّدٌ أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود فی المراسیل ۱۳۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৩৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ یومِ عرفہ کے بارے میں لوگوں کا غلطی کرنا
(٩٨٢٩) ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے عطا سے کہا : ایک شخص نے حج کیا ، پھر یوم النحر یعنی قربانی کے دن کو بھول گیا۔ کیا ان سے کفایت کر جائے گا۔ فرماتے ہیں : میری عمر کی قسم ! اس سے کفایت کر جائے گا۔ میرا گمان ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہاری عیدالفطر کا دن وہ ہے جس دن امام افطار کرے اور تمہاری عیدالاضحی کا دن جب تم قربانی کرو اور میرا خیال ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اور عرفہ کا وہ دن ہے جب لوگ قیام کریں۔
(۹۸۲۹)أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَائٍ : رَجُلٌ حَجَّ أَوَّلَ مَا حَجَّ فَأَخْطَأَ النَّاسُ بِیَوْمِ النَّحْرِ أَیَجْزِئُ عَنْہُ قَالَ : نَعَمْ إِی لَعَمْرِی إِنَّہَا لَتَجْزِئُ عَنْہُ قَالَ وَأَحْسِبُہُ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ : فِطْرُکُمْ یَوْمَ تُفْطِرُونَ وَأَضْحَاکُمْ یَوْمَ تُضَحُّونَ ۔ وَأُرَاہُ قَالَ : وَعَرَفَۃُ یَوْمَ تَعَرِّفُونَ ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الشافعی فی لام ۱/ ۳۸۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৩৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج وعمرہ کے ارادہ کے بغیر مکہ میں داخل ہونا
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا } (البقرۃ : ١٢٥) ” اور جس وقت ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ثواب اور امن کی جگہ بنادیا۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عربی زبان میں
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا } (البقرۃ : ١٢٥) ” اور جس وقت ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ثواب اور امن کی جگہ بنادیا۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عربی زبان میں
(٩٨٣٠) ابو حجاج مجاہد بن جبر سے اللہ کے اس قول کے بارے میں منقول ہے : { وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا } ” اور جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لییلوٹنے کی جگہ (یا ثواب کی جگہ) اور امن کی جگہ بنایا۔ “ فرماتے ہیں : وہ اس سے ثواب حاصل کرتے ہیں اور جاتے ہیں اور واپس آتے ہیں لیکن دنیوی مقصد حاصل نہیں کرتے۔
(۹۸۳۰)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ السَّقَّائِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ بَطَّۃَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ یَحْیَی الأَمَوِیُّ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِیُّ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدِ بْنِ جَبْرٍ أَبِی الْحَجَّاجِ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی (وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا) قَالَ : یَثُوبُونَ إِلَیْہِ وَیَذْہَبُونَ وَیَرْجِعُونَ لاَ یَقْضُونَ مِنْہُ وَطَرًا۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن جریر فی تفسیرہ ۱/ ۵۸۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৩৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج وعمرہ کے ارادہ کے بغیر مکہ میں داخل ہونا
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا } (البقرۃ : ١٢٥) ” اور جس وقت ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ثواب اور امن کی جگہ بنادیا۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عربی زبان میں
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا } (البقرۃ : ١٢٥) ” اور جس وقت ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ثواب اور امن کی جگہ بنادیا۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عربی زبان میں
(٩٨٣١) ابن ابی نجیح حضرت مجاہد سے نقل فرماتے ہیں کہ { مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ } (البقرۃ : ١٢٥) سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے (دنیاوی) مقاصد حاصل نہیں کرتے۔ اور امنا سے مراد یہ ہے کہ شہر مکہ میں داخل ہوجاتا ہے وہ خوف نہیں کھاتا۔
(۹۸۳۱)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ {مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ} یَقُولُ : لاَ یَقْضُونَ مِنْہُ وَطَرًا أَبَدًا (وَأَمْنًا) یَقُولُ : لاَ یَخَافُ مَنْ دَخَلَہُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৩৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج وعمرہ کے ارادہ کے بغیر مکہ میں داخل ہونا
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا } (البقرۃ : ١٢٥) ” اور جس وقت ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ثواب اور امن کی جگہ بنادیا۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عربی زبان میں
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا } (البقرۃ : ١٢٥) ” اور جس وقت ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ثواب اور امن کی جگہ بنادیا۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عربی زبان میں
(٩٨٣٢) سعید بن جبیر ابن عباس (رض) سے اللہ کے ارشاد { وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ } (الحج : ٢٧) کہ متعلق نقل فرماتے ہیں کہ جب اللہ نے ابراہیم کو حکم دیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کردیں کو انھوں نے فرمایا : اے لوگو ! تمہارے رب نے گھر بنوایا ہے اور وہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم اس کا حج کرو۔ ان کی آواز یا دعوت کو ہر پتھر، درخت، گھاس، مٹی اور ہر چیز جس نے بھی سنا قبول کیا۔ انھوں نے کہا : اے اللہ ! ہم حاضر ہیں۔ اے اللہ ! ہم حاضر ہیں۔
(۹۸۳۲)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ (وَأَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ) قَالَ : لَمَّا أَمَرَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ إِبْرَاہِیمُ -ﷺ أَنَّْ یُؤَذِّنَ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ قَالَ : یَا أُیَّہَا النَّاسُ إِنَّ رَبَّکُمُ اتَّخَذَ بَیْتًا وَأَمَرَکُمْ أَنْ تَحُجُّوہُ فَاسْتَجَابَ لَہُ مَا سَمِعَہُ مِنْ حَجَرٍ أَوْ شَجَرٍ أَوْ أَکَمَۃٍ أَوْ تُرَابٍ أَوْ شَیْئٍ فَقَالُوا : لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ۔ [حسن لغیرہ۔ ابن عساکر فی تاریخہ ۶/ ۲۰۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৩৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج وعمرہ کے ارادہ کے بغیر مکہ میں داخل ہونا
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا } (البقرۃ : ١٢٥) ” اور جس وقت ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ثواب اور امن کی جگہ بنادیا۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عربی زبان میں
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا } (البقرۃ : ١٢٥) ” اور جس وقت ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ثواب اور امن کی جگہ بنادیا۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عربی زبان میں
(٩٨٣٣) ابن ابی ظبیان اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کو بنانے سے فارغ ہوئے تو کہنے لگے : اے میرے رب ! میں فارغ ہوگیا ہوں تو اللہ رب العزت نے فرمایا : لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔ کہنے لگے : اے میرے رب ! میری آواز نہ پہنچ سکے گی ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اعلان تم کرو آواز میں پہنچا دوں گا۔ کہنے لگے : اے میرے ! رب میں کیا کہوں ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہو : اے لوگو ! اللہ نے تمہارے اوپر بیت اللہ کے حج کو فرض کردیا ہے۔ ان کی آواز کو آسمان و زمین کے درمیان رہنے والوں نے سن لیا، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ لوگ زمین کے کناروں سے تلبیہ کہتے ہوئے آتے ہیں۔
(۹۸۳۳)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنْ قَابُوسٍ یَعْنِی ابْنَ أَبِی ظَبْیَانَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا فَرَغَ إِبْرَاہِیمُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ مِنْ بِنَائِ الْبَیْتِ قَالَ : رَبِّ قَدْ فَرَغْتُ فَقَالَ : أَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ قَالَ : رَبِّ وَمَا یَبْلُغُ صَوْتِی قَالَ أَذِّنْ وَعَلَیَّ الْبَلاَغُ قَالَ : رَبِّ کَیْفَ أَقُولُ قَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْحَجُّ حَجُّ الْبَیْتِ الْعَتِیقِ فَسَمِعَہُ مَنْ بَیْنَ السَّمَائِ وَالأَرْضِ أَلاَ تَرَی أَنَّہُمْ یَجِیئُونَ مِنْ أَقْصَی الأَرْضِ یُلَبُّونَ۔
[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الحاکم ۲/ ۴۲۱]
[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الحاکم ۲/ ۴۲۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৩৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج وعمرہ کے ارادہ کے بغیر مکہ میں داخل ہونا
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا } (البقرۃ : ١٢٥) ” اور جس وقت ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ثواب اور امن کی جگہ بنادیا۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عربی زبان میں
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا } (البقرۃ : ١٢٥) ” اور جس وقت ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ثواب اور امن کی جگہ بنادیا۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عربی زبان میں
(٩٨٣٤) مجاہد فرماتے ہیں کہ ہم ابن عباس (رض) کے پاس موجود تھے ، لوگوں نے دجال کا تذکرہ کیا اور کہنے لگے : اس کی آنکھوں کے درمیان (ک ف ر) لکھا ہوگا۔ ابن عباس (رض) فرمانے لگے : میں نے یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس طرح نہیں سنی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بہرحال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو تم اپنے ساتھی کی جانب دیکھو اور موسیٰ (علیہ السلام) تو وہ گندمی رنگ، گھنگریالے بالوں والے، سرخ اونٹ پر سوار تھے جس کو کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی مضبوط رسی سے لگام دی ہوئی ہے گویا میں ان کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ وادی سے نیچے اتر رہے ہیں اور تلبیہ پکار رہے ہیں۔
(۹۸۳۴)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَابْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : کُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَکَرُوا الدَّجَّالَ فَقَالُوا : إِنَّہُ مَکْتُوبٌ بَیْنَ عَیْنَیْہِ ک ف ر فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لَمْ أَسْمَعْہُ یَقُولُ ذَلِکَ وَلَکِنَّہُ قَالَ : أَمَّا إِبْرَاہِیمُ فَانْظُرُوا إِلَی صَاحِبِکُمْ وَأَمَّا مُوسَی فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ عَلَی جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَۃٍ کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَیْہِ قَدِ انْحَدَرَ مِنَ الْوَادِی یُلَبِّی ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی مُوسَی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی عَدِیٍّ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۵۹۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৪০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج وعمرہ کے ارادہ کے بغیر مکہ میں داخل ہونا
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا } (البقرۃ : ١٢٥) ” اور جس وقت ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ثواب اور امن کی جگہ بنادیا۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عربی زبان میں
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا } (البقرۃ : ١٢٥) ” اور جس وقت ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ثواب اور امن کی جگہ بنادیا۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عربی زبان میں
(٩٨٣٥) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آدم کے دور میں بیت اللہ کی جگہ ایک بالشت یا زیادہ تھی بطور علامت و نشانی، فرشتے آدم (علیہ السلام) سے پہلے اس کا حج کرتے تھے۔ پھر آدم (علیہ السلام) نے اس کا حج کیا تو فرشتے آدم (علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا : اے آدم ! آپ کہاں سے آئے ؟ فرمانے لگے : میں نے بیت اللہ کا حج کیا ہے، انھوں نے کہا : آپ سے پہلے فرشتوں نے اس کا حج کیا ہے۔
(۹۸۳۵)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَیْسَرَۃَ الْبَکْرِیِّ حَدَّثَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَالَ : کَانَ مَوْضِعُ الْبَیْتِ فِی زَمَنِ آدَمَ شِبْرًا أَوْ أَکْثَرَ عَلَمًا فَکَانَتِ الْمَلاَئِکَۃُ تَحُجُّہُ قَبْلَ آدَمَ ثُمَّ حَجَّ آدَمُ فَاسْتَقْبَلَتْہُ الْمَلاَئِکَۃُ فَقَالُوا : یَا آدَمُ مِنْ أَیْنَ جِئْتَ؟ قَالَ : حَجَجْتُ الْبَیْتَ فَقَالُوا : قَدْ حَجَّتْہُ الْمَلاَئِکَۃُ قَبْلَکَ۔ [منکر۔ اخرجہ المولف فی الشعب ۳۹۸۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৪১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج وعمرہ کے ارادہ کے بغیر مکہ میں داخل ہونا
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا } (البقرۃ : ١٢٥) ” اور جس وقت ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ثواب اور امن کی جگہ بنادیا۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عربی زبان میں
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا } (البقرۃ : ١٢٥) ” اور جس وقت ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ثواب اور امن کی جگہ بنادیا۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عربی زبان میں
(٩٨٣٦) محمد بن کعب قرظی یا ان کے علاوہ کوئی بیان کرتا ہے کہ آدم (علیہ السلام) نے بیت اللہ کا حج کیا، ان سے فرشتوں نے ملاقات کی اور کہا کہ آدم (علیہ السلام) کا حج قبول کیا گیا، حالاں کہ ہم نے آپ سے دو ہزار سال پہلے اس کا حج کیا تھا۔
(۹۸۳۶)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ حَدَّثَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ أَبِی لَبِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ الْقُرَظِیِّ أَوْ غَیْرِہِ قَالَ : حَجَّ آدَمُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَلَقِیَتْہُ الْمَلاَئِکَۃُ فَقَالُوا : بُرَّ نُسُکُکَ آدَمُ لَقَدْ حَجَجْنَا قَبْلَکَ بِأَلْفَیْ عَامٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ الشافعی ۵۳۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৪২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج وعمرہ کے ارادہ کے بغیر مکہ میں داخل ہونا
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا } (البقرۃ : ١٢٥) ” اور جس وقت ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ثواب اور امن کی جگہ بنادیا۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عربی زبان میں
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا } (البقرۃ : ١٢٥) ” اور جس وقت ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ثواب اور امن کی جگہ بنادیا۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عربی زبان میں
(٩٨٣٧) مقسم حضرت ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ٧٠ نبی روحا کے راستے حج کے لیے چلے، انھوں نے روئی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور مسجد ” خیف “ میں ٧٠ نبیوں نے نماز ادا کی۔
(ب) عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ ہر نبی نے بیت اللہ کا حج کیا، لیکن ہود، صالح (علیہ السلام) کے سوا اور نوح (علیہ السلام) نے بھی بیت اللہ کا حج کیا، جب زمین پر طوفانِ نوح نہ آیا تھا، یعنی سیلاب، جب زمین پر پانی، سیلاب آیا تو بیت اللہ کا بھی نقصان ہوا اور بیت اللہ ایک سرخ ٹیلے پر تھا۔ اللہ رب العزت نے ہود کو مبعوث فرمایا : وہ اپنی قوم کے معاملہ میں مصروف ہوگئے۔ یہاں تک کہ اللہ نے ان کو فوت کرلیا لیکن وہ حج نہ کرسکے۔ پھر جب اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو جگہ عطا فرمائی تو اس نے حج کیا۔ پھر ہر نبی نے اس کا حج کیا۔
(ب) عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ ہر نبی نے بیت اللہ کا حج کیا، لیکن ہود، صالح (علیہ السلام) کے سوا اور نوح (علیہ السلام) نے بھی بیت اللہ کا حج کیا، جب زمین پر طوفانِ نوح نہ آیا تھا، یعنی سیلاب، جب زمین پر پانی، سیلاب آیا تو بیت اللہ کا بھی نقصان ہوا اور بیت اللہ ایک سرخ ٹیلے پر تھا۔ اللہ رب العزت نے ہود کو مبعوث فرمایا : وہ اپنی قوم کے معاملہ میں مصروف ہوگئے۔ یہاں تک کہ اللہ نے ان کو فوت کرلیا لیکن وہ حج نہ کرسکے۔ پھر جب اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو جگہ عطا فرمائی تو اس نے حج کیا۔ پھر ہر نبی نے اس کا حج کیا۔
(۹۸۳۷)حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ : لَقَدْ سَلَکَ فَجَّ الرَّوْحَائِ سَبْعُونَ نَبِیًّا حُجَّاجًا عَلَیْہِمْ ثِیَابُ الصُّوفِ وَلَقَدْ صَلَّی فِی مَسْجِدِ الْخَیْفِ سَبْعُونَ نَبِیًّا۔وَبِہَذَا الإِسْنَادِ قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی ثِقَۃٌ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّہُ قَالَ : مَا مِنْ نَبِیٍّ إِلاَّ وَقَدْ حَجَّ الْبَیْتَ إِلاَّ مَا کَانَ مِنْ ہُودٍ وَصَالِحٍ وَلَقَدْ حَجَّہُ نُوحٌ فَلَمَّا کَانَ مِنَ الأَرْضِ مَا کَانَ مِنَ الْغَرَقِ أَصَابَ الْبَیْتَ مَا أَصَابَ الأَرْضَ وَکَانَ الْبَیْتُ رَبْوَۃً حَمْرَائَ فَبَعَثَ اللَّہُ ہُودًا عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَتَشَاغَلَ بِأَمْرِ قَوْمِہِ حَتَّی قَبَضَہُ اللَّہُ إِلَیْہِ فَلَمْ یَحُجَّہُ حَتَّی مَاتَ فَلَمَّا بَوَّأَہُ اللَّہُ لإِبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ حَجَّہُ ثُمَّ لَمْ یَبْقَ نَبِیٌّ بَعْدَہُ إِلاَّ حَجَّہُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الحاکم ۲/ ۶۵۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৪৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج وعمرہ کے ارادہ کے بغیر مکہ میں داخل ہونا
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا } (البقرۃ : ١٢٥) ” اور جس وقت ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ثواب اور امن کی جگہ بنادیا۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عربی زبان میں
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا } (البقرۃ : ١٢٥) ” اور جس وقت ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ثواب اور امن کی جگہ بنادیا۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عربی زبان میں
(٩٨٣٨) عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ بن عمران نے بنی اسرائیل کے ٥٠ ہزار آدمیوں میں حج کیا۔ ان کے اوپر دو روئی کی چادریں تھیں۔ اور وہ تلبیہ پکار رہے تھے۔ اے اللہ ! حاضر ہوں، اے اللہ ! حاضر ہوں عبادت کے اعتبار سے۔ اے اللہ میں تیرا بندہ ہوں۔ میں تیرے پاس ہوں۔ اے مصائب کو دور ہٹانے والے، اس کا پہاڑوں نے بھی جواب دیا۔
قالشافعی کسی نبی یا امتی سے حکایت نہیں کی گئی۔ جو بھی بیت اللہ میں آیا احرام کی حالت میں آیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی مکہ میں داخل ہوئے تو احرام کی حالت میں سوائے فتح مکہ کے موقع پر۔
قالشافعی کسی نبی یا امتی سے حکایت نہیں کی گئی۔ جو بھی بیت اللہ میں آیا احرام کی حالت میں آیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی مکہ میں داخل ہوئے تو احرام کی حالت میں سوائے فتح مکہ کے موقع پر۔
(۹۸۳۸)أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاہِدُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَوْسٍ أَبُو زَیْدٍ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : حَجَّ مُوسَی بْنُ عِمْرَانَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فِی خَمْسِینَ أَلْفًا مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ وَعَلَیْہِ عَبَائَ تَانِ قَطَوَانِیَّتَانِ وَہُوَ یُلَبِّی لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ تَعَبُّدًا وَرِقًّا لَبَّیْکَ أَنَا عَبْدُکَ أَنَا لَدَیْکَ لَدَیْکَ یَا کَشَّافَ الْکُرَبِ قَالَ فَجَاوَبَتْہُ الْجِبَالُ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَلَمْ یُحْکَ لَنَا عَنْ أَحَدٍ مِنَ النَّبِیِّینَ وَلاَ الأُمَمِ الْخَالِینَ : أَنَّہُ جَائَ الْبَیْتَ أَحَدٌ قَطُّ إِلاَّ حَرَامًا وَلَمْ یَدْخُلْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مَکَّۃَ عَلِمْنَاہُ إِلاَّ حَرَامًا إِلاَّ فِی حَرْبِ الْفَتْحِ۔ [ضعیف جداً]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَلَمْ یُحْکَ لَنَا عَنْ أَحَدٍ مِنَ النَّبِیِّینَ وَلاَ الأُمَمِ الْخَالِینَ : أَنَّہُ جَائَ الْبَیْتَ أَحَدٌ قَطُّ إِلاَّ حَرَامًا وَلَمْ یَدْخُلْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مَکَّۃَ عَلِمْنَاہُ إِلاَّ حَرَامًا إِلاَّ فِی حَرْبِ الْفَتْحِ۔ [ضعیف جداً]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৪৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج وعمرہ کے ارادہ کے بغیر مکہ میں داخل ہونا
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا } (البقرۃ : ١٢٥) ” اور جس وقت ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ثواب اور امن کی جگہ بنادیا۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عربی زبان میں
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا } (البقرۃ : ١٢٥) ” اور جس وقت ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ثواب اور امن کی جگہ بنادیا۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عربی زبان میں
(٩٨٣٩) عطاء حضرت ابن عباس (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ مکہ کا رہنے والا یا کوئی دوسرا مکہ میں احرام کی حالت میں داخل ہوتا تھا۔
(ب) عطاء ابن عباس (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف حج یا عمرہ کے لیے مکہ میں داخل ہوئے۔
(ب) عطاء ابن عباس (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف حج یا عمرہ کے لیے مکہ میں داخل ہوئے۔
(۹۸۳۹)أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ : مَا یَدْخُلُ مَکَّۃَ أَحَدٌ مِنْ أَہْلِہَا وَلاَ مِنْ غَیْرِ أَہْلِہَا إِلاَّ بِإِحْرَامٍ۔
وَرَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَوَاللَّہِ مَا دَخَلَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ إِلاَّ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا۔ [صحیح]
وَرَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَوَاللَّہِ مَا دَخَلَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ إِلاَّ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৪৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے ڈر سے مکہ میں بغیر احرام کے داخل ہونے کی اجازت
(٩٨٤٠) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح مکہ والے سال داخل ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر پر خود تھی، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اتاری تو ایک شخص آیا۔ اس نے کہا کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لٹکا ہوا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قتل کر دو۔ مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت احرام کی حالت میں نہ تھے۔
(۹۸۴۰)أَخْبَرَنَا أَبُو الْخَیْرِ : جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَہْدِیٍّ المُحَمَّدَابَاذِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ المُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ : عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ بِہَرَاۃَ فِی سَنَۃِ تِسْعٍ وَسَبْعِینَ وَمِائَتَیْنِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مَکَّۃَ وَعَلَی رَأْسِہِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَہُ جَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنَّ ابْنَ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْکَعْبَۃِ فَقَالَ : اقْتُلُوہُ ۔ قَالَ مَالِکٌ : وَلَمْ یَکُنِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ یَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ وَغَیْرِہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَیَحْیَی وَغَیْرِہِمَا کُلُّہُمْ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۷۴۹]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ وَغَیْرِہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَیَحْیَی وَغَیْرِہِمَا کُلُّہُمْ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۷۴۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৪৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے ڈر سے مکہ میں بغیر احرام کے داخل ہونے کی اجازت
(٩٨٤١) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح والے سال مکہ میں داخل ہوئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر پر سیاہ پگڑی تھی اور بغیر احرام کے تھے۔
(۹۸۴۱)أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمَّارٍ الدُّہْنِیُّ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ دَخَلَ مَکَّۃَ یَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَیْہِ عِمَامَۃٌ سَوْدَائُ بِغَیْرِ إِحْرَامٍ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۵۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৪৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے ڈر سے مکہ میں بغیر احرام کے داخل ہونے کی اجازت
(٩٨٤٢) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح والے سال مکہ میں داخل ہوئے۔ آپ کے سر پر سیاہ رنگ کی پگڑی تھی۔
(۹۸۴۲)أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ مِنْ أَصْلِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ دَخَلَ مَکَّۃَ یَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَیْہِ عِمَامَۃٌ سَوْدَائُ ۔ [صحیح۔ ابن ماجہ ۲۸۲۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৪৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے ڈر سے مکہ میں بغیر احرام کے داخل ہونے کی اجازت
(٩٨٤٣) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ فتح مکہ والے سال آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور فرمایا : اللہ نے مکہ سے ہاتھیوں کو روک لیا اپنے رسول اور مومنوں کو مسلط کردیا۔ یہ نہ تو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال تھا اور نہ ہی میرے بعد اور میرے لیے بھی دن کی اس گھڑی میں جائز قرار دیا گیا ہے اور یہی وہ گھڑی ہے۔
(۹۸۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ السُّوسِیُّ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ أَخْبَرَنَا أَبِی حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ حَدَّثَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِی أَبُو ہُرَیْرَۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فِی فَتْحِ مَکَّۃَ قَالَ فَقَامَ فَقَالَ : إِنَّ اللَّہَ حَبَسَ عَنْ مَکَّۃَ الْفِیلَ وَسَلَّطَ عَلَیْہَا رَسُولَہُ وَالْمُؤْمِنِینَ وَإِنَّہَا لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِی وَلاَ لأَحَدٍ بَعْدِی وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِی سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ وَإِنَّہَا سَاعَتِی ہَذِہِ ۔ وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الأَوْزَاعِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۳۰۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৪৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے بغیر لڑائی کے بھی مکہ میں بغیر احرام کے داخل ہونے کی اجازت یا رخصت دی ہے
(٩٨٤٤) نافع فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) مکہ آئیجب، ” قدید “ نامی جگہ آئے تو ان کو مدینہ سے کوئی خبر ملی تو واپس لوٹ گئے اور مکہ میں بغیر احرام کے داخل ہوئے۔
(۹۸۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُونَصْرٍ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِالْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُوعَمْرٍو: إِسْمَاعِیلُ بْنُ نُجَیْدٍ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ أَقْبَلَ مِنْ مَکَّۃَ حَتَّی إِذَا کَانَ بِقُدَیْدٍ جَائَ ہُ خَبَرٌ مِنَ الْمَدِینَۃِ فَرَجَعَ فَدَخَلَ مَکَّۃَ بِغَیْرِ إِحْرَامٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۹۴۷۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৫০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے بغیر لڑائی کے بھی مکہ میں بغیر احرام کے داخل ہونے کی اجازت یا رخصت دی ہے
(٩٨٤٥) امام مالک ابن شہاب سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو بغیر احرام کے مکہ میں داخل ہوتا ہے تو فرمانے لگے : میں اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتا۔
(۹۸۴۵) قَالَ وَحَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ : أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ یَدْخُلُ مَکَّۃَ بِغَیْرِ إِحْرَامٍ فَقَالَ : لاَ أَرَی بِذَلِکَ بَأْسًا۔ [صحیح]
তাহকীক: