আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৮৮ টি

হাদীস নং: ৯৮৫১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے بغیر لڑائی کے بھی مکہ میں بغیر احرام کے داخل ہونے کی اجازت یا رخصت دی ہے
(٩٨٤٦) عبداللہ بن ابوقتادہ کو ان کے والد نے خبر دی کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر غزوہ حدیبیہ میں حصہ لیا۔ میرے علاوہ دوسروں نے عمرہ کا احرام باندھا، تو میں وحشی گدھے کا شکار کیا تو میں نے اپنے محرم ساتھیوں کو کھلا دیا۔ پھر میں نے آکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی اور ہمارے پاس زائد گوشت بھی تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کھاؤ اور وہ سب محرم تھے۔

(ب) ابوقتادہ کے غلام ابو محمد حضرت ابوقتادہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے ۔ جب ہم ” قاحہ “ نامی جگہ آئے تو ہم سے بعض محرم تھے اور بعض غیر محرم۔
(۹۸۴۶)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ سَلاَّمٍ أَخْبَرَنِی یَحْیَی أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی قَتَادَۃَ أَنَّ أَبَاہُ أَخْبَرَہُ: أَنَّہُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ غَزْوَۃَ الْحُدَیْبِیَۃِ فَأَہَلُّوا بِعُمْرَۃٍ غَیْرِی قَالَ فَاصْطَدْتُ حِمَارَ وَحْشٍ فَأَطْعَمْتُ أَصْحَابِی وَہُمْ مُحْرِمُونَ ثُمَّ أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ فَأَنْبَأْتُہُ أَنَّ عِنْدَنَا مِنْ لَحْمِہِ فَاضِلَۃً قَالَ : کُلُوہُ ۔

وَہُمْ مُحْرِمُونَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ۔

وَرَوَاہُ أَبُو مُحَمَّدٍ مَوْلَی أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْقَاحَۃِ وَمِنَّا الْمُحْرِمُ وَغَیْرُ الْمُحْرِمِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۱۹۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮৫২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو بغیر احرام کے مکہ میں داخل ہو اس پر قضا نہیں ہے
(٩٨٤٧) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اقرع بن حابس (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا حج ہر سال ہے ؟ فرمایا : نہیں، بلکہ جس نے ایک حج کے بعد دوسرا کیا تو وہ نفل ہے اور فرمایا : اگر میں کہہ دیتا، ہاں تو واجب ہوجاتا۔ اگر واجب ہوجاتا تو تم سمع و اطاعت کی طاقت نہ رکھتے۔
(۹۸۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْبَزَّازُ الطَّابِرَانِیُّ بِہَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الصَّائِغُّ حَدَّثَنَا رَوْحُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی حَفْصَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِہَابٍ عَنْ أَبِی سِنَانٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ الْحَجُّ کُلَّ عَامٍ؟ قَالَ : لاَ بَلْ حَجَّۃٌ فَمَنْ حَجَّ بَعْدَ ذَلِکَ فَہُوَ تَطَوَّعٌ وَلَو قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَسْمَعُوا وَلَمْ تُطِیعُوا۔ وَقَدْ مَضَی حَدِیثُ سُرَاقَۃَ فِی الْعُمْرَۃِ۔ [صحیح۔ اخرجہ النسائی ۲۶۲۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮৫৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ بچہ بالغ، آزاد غلام اور ذمی مسلمان ہوجائے تو ان کے حج کا حکم
(٩٨٤٨) ابوسفر فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : مجھے اپنی بات سناؤ جو تم کہتے ہو اور اس بات کو سمجھو جو میں تمہیں کہتا ہوں۔ خبردار ! تم نکلو نہیں۔ تم کہتے ہو کہ جس بچہ کے گھر وہ لوں نے اس کی طرف سے حج کیا، پھر وہ بچہ بالغ ہوگیا تو اس پر حج ہے، اگر وہ فوت ہوگیا تو اس کا حج پورا ہوگیا اور جس غلام کی جانب اس کے گھر والوں نے حج کیا وہ آزاد کردیا گیا تو اس پر حج ہے، اگر فوت ہوگیا تو اس کا حج پورا ہوگیا۔
(۹۸۴۸)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِیٍّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَہْبِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ السَّبِیعِیُّ عَنْ أَبِی السَّفَرِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ : أَسْمِعُونِی مَا تَقُولُونَ وَافْہَمُوا مَا أَقُولُ لَکُمْ أَلاَ لاَ تَخْرُجُوا فَتَقُولُوا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَیُّمَا غُلاَمٍ حَجَّ بِہِ أَہْلُہُ فَبَلَغَ مَبْلَغَ الرِّجَالِ فَعَلَیْہِ الْحَجُّ فَإِنْ مَاتَ فَقَدْ قَضَی حَجَّتَہُ ، وَأَیُّمَا عَبْدٍ مَمْلُوکٍ حَجَّ بِہِ أَہْلُہُ فَیُعْتَقُ فَعَلَیْہِ الْحَجُّ وَإِنْ مَاتَ فَقَدْ قَضَی حَجَّتَہُ۔

[صحیح۔ ابن ابی شیبہ ۱۴۱۸۷۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮৫৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ بچہ بالغ، آزاد غلام اور ذمی مسلمان ہوجائے تو ان کے حج کا حکم
(٩٨٤٩) ابو ظبیان ابن عباس (رض) سے مرفوعاًنقل فرماتے ہیں کہ جس بچے نے حج کیا پھر بالغ ہوگیا، اس پر دوسرا حج واجب ہے اور جس دیہاتی نے حج کیا ، پھر ہجرت کی ، اس کے ذمہ بھی دوسرا حج ہے اور جس غلام نے حج کیا پھر آزاد کردیا گیا تو اس پر بھی دوسرا واجب ہے۔
(۹۸۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سُلَیْمَانَ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَہُ قَالَ : أَیُّمَا صَبِیٍّ حَجَّ ثُمَّ بَلَغَ الْحِنْثَ فَعَلَیْہِ أَنْ یَحُجَّ حَجَّۃً أُخْرَی وَأَیُّمَا أَعْرَابِیٍّ حَجَّ ثُمَّ ہَاجَرَ فَعَلَیْہِ أَنْ یَحُجَّ حَجَّۃً أُخْرَی وَأَیُّمَا عَبْدٌ حَجَّ ثُمَّ أُعْتِقَ فَعَلَیْہِ حَجَّۃٌ أُخْرَی قَالَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا بِہِ مَرْفُوعًا قَالَ الشَّیْخُ : تَفَرَّدَ بِرَفْعِہِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ زُرَیْعٍ عَنْ شُعْبَۃَ وَرَوَاہُ غَیْرُہُ عَنْ شُعْبَۃَ مَوْقُوفًا۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنِ الأَعْمَشِ مَوْقُوفًا وَہُوَ الصَّوَابُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮৫৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ بچہ بالغ، آزاد غلام اور ذمی مسلمان ہوجائے تو ان کے حج کا حکم
(٩٨٥٠) حضرت جابر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے چھوٹی عمر میں حج کیا جب وہ بالغ ہوجائے ، اگر زاد راہ کی استطاعت رکھے تو اس پر حج ہے۔

(ب) حسن بصری اور عطاء بن ابی رباح ایک غلام کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس نے حج کیا، پھر آزاد کردیا گیا، فرماتے ہیں : اگر وہ عرفہ میں آزاد کیا گیا تو یہ حج ہی کفایت کر جائے گا۔ اگر مزدلفہ میں آزاد کیا گیا تو پھر دوبارہ عرفہ لوٹے تو یہ حج بھی اس سے کفایت کر جائے گا۔
(۹۸۵۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُوسَعْدٍ الْمَالِینِیُّ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُوأَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا شُرَیْحُ بْنُ عَقِیلٍ حَدَّثَنَا أَبُومَرْوَانَ الْعُثْمَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی حَازِمٍ عَنْ حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُحَمَّدِ ابْنَیْ جَابِرٍ عَنْ أَبِیہِمَا جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَالَ : لَوْ حَجَّ صَغِیرٌ حَجَّۃً لَکَانَتْ عَلَیْہِ حَجَّۃٌ إِذَا بَلَغَ إِنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیلاً ۔ وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ فِی الْعَبْدِ وَالأَعْرَابِیِّ عَلَی ہَذَا النَّسَقِ۔ وَحَرَامُ بْنُ عُثْمَانَ ضَعِیفٌ۔

وَرُوِّینَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ وَعَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ فِی مَمْلُوکٍ أَہَلَّ بِالْحَجِّ ثُمَّ عُتِقَ قَالاَ : إِنْ أُعْتِقَ بِعَرَفَۃَ أَجْزَأَہُ وَإِنْ أُعْتِقَ بِجَمْعٍ فَکَانَ فِی مُہَلٍّ فَلْیَرْجِعْ إِلَی عَرَفَۃَ وَیَجْزِیہِ۔

[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابن عدی فی الکامل ۲/۴۴۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮৫৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ میت اور روکے ہوئے انسان کی جانب سے حج کرنا
(٩٨٥١) عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فضل بن عباس کو سواری کے پیچھے بٹھا لیا اور فضل خوبصورت انسان تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو فتویٰ دینے کی غرض سے رک گئے تو خشعم قبیلہ کی ایک خوبصورت عورت آپ کی جانب متوجہ ہوئی۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فتویٰ پوچھ رہی تھی تو فضل نے ان کی طرف دیکھا تو وہ ان کو اچھی لگی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فضل کی طرف دیکھا کہ اس عورت کو دیکھ رہے ہیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فضل کی ٹھوڑی سے پکڑ کر چہرہ دوسری طرف پھیر دیا۔ یہ خثعمیہ عورت کہنے لگی : اے اللہ کے رسول ! میرے بوڑھے والد کو فریضۂ حج نے پا لیا ہے۔ لیکن وہ سواری پر سوار نہیں ہوسکتا۔ کیا میں اس کی جانب سے حج کروں تو کفایت کر جائے گا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔ [صحیح۔ بخاری ٤١٣٨]
(۹۸۵۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ قَالَ قِرَائَ ۃٌ عَلَی أَبِی الْیَمَانِ أَنَّ شُعَیْبَ بْنَ أَبِی حَمْزَۃَ أَخْبَرَہُ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ یَسَارٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ : أَرْدَفَ النَّبِیُّ -ﷺ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ وَکَانَ الْفَضْلُ رَجُلاً وَضِیئًا فَوَقَفَ النَّبِیُّ -ﷺ لِلنَّاسِ یُفْتِیہِمْ فَأَقْبَلَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ خَثْعَمَ وَضِیئَۃٌ تَسْتَفْتِی النَّبِیَّ -ﷺ فَطَفِقَ الْفَضْلُ یَنْظُرُ وَأَعْجَبَہُ حُسْنُہَا فَالْتَفَتَ النَّبِیُّ -ﷺ إِلَی الْفَضْلِ وَہُوَ یَنْظُرُ إِلَیْہَا فَأَخَذَ بِذَقَنِ الْفَضْلِ فَعَدَلَ وَجْہَہُ عَنِ النَّظَرِ إِلَیْہَا فَقَالَتْ تِلْکَ الْخَثْعَمِیَّۃُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ فَرِیضَۃَ اللَّہِ فِی الْحَجِّ عَلَی عِبَادِہِ أَدْرَکَتْ أَبِی شَیْخًا کَبِیرًا لاَ یَسْتَطِیعُ أَنْ یَسْتَوِیَ عَلَی رَاحِلَتِہِ فَہَلْ یَقْضِی أَنْ أَحُجَّ عَنْہُ؟ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : نَعَمْ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮৫৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ میت اور روکے ہوئے انسان کی جانب سے حج کرنا
(٩٨٥٢) سلیمان بن یسار ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ خثعم قبیلہ کی ایک عورت نے مزدلفہ کی صبح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا اور فضل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے سوار تھے۔ کہنے لگی : میرے بوڑھے والد کو فریضۂ حج نے پا لیا ہے۔ وہ سواری پر سوار بھی نہیں ہوسکتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کیا خیال ہے کہ میں اس کی طرف سے حج کرلوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔

(ب) عمرو بن دینار تو امام زہری سے ، ابن شہاب کو دیکھنے سے پہلیاس میں کچھ اضافہ کرتے ہیں کہ اس عورت نے کہا : کیا یہ اس کو نفع بھی دے گا ؟ فرمایا : ہاں یہ اس طرح کسی پر قرض ہو تو تو اس کو بھی ادا کر۔
(۹۸۵۲)أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَعَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ وَاللَّفْظُ لِعَلِیٍّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ امْرَأَۃً مِنْ خَثْعَمَ سَأَلَتِ النَّبِیَّ -ﷺ غَدَاۃَ جَمْعٍ وَالْفَضْلُ رَدِیفُہُ فَقَالَتْ : إِنَّ فَرِیضَۃَ اللَّہِ عَلَی عِبَادِہِ أَدْرَکَتْ أَبِی شَیْخًا کَبِیرًا لاَ یَسْتَطِیعُ أَنْ یَسْتَمْسِکَ عَلَی الرَّاحِلَۃِ فَہَلْ تَرَی أَنْ أَحُجَّ عَنْہُ ؟ قَالَ: نَعَمْ۔

قَالَ عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ قَالَ سُفْیَانُ وَکَانَ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ یَزِیدُ فِیہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَبْلَ أَنْ یَرَی ابْنَ شِہَابٍ قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیَنْفَعُہُ ذَلِکَ؟ قَالَ : نَعَمْ کَذَلِکَ لَوْ کَانَ عَلَی أَحَدِکُمُ الدَّیْنُ فَقَضَیْتِیہِ ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮৫৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ میت اور روکے ہوئے انسان کی جانب سے حج کرنا
(٩٨٥٣) سعید بن جبیر ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میری بہن نے نذر مانی تھی کہ وہ حج کرے، لیکن وہ فوت ہوگئی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر اس پر قرض ہوتا تو آپ اس کو ادا کرتے ؟ کہنے لگا : جی ہاں، فرمایا : تم اللہ کا حق ادا کرو یہ پورا کرنے کا زیادہ حق دا رہے۔
(۹۸۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ: جَعْفَرُ بْنُ أَبِی وَحْشِیَّۃَ وَہُوَ جَعْفَرُ بْنُ إِیَاسٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَی رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ فَقَالَ لَہُ : إِنَّ أُخْتِی نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ وَإِنَّہَا مَاتَتْ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ : أَرَأَیْتَ لَوْ کَانَ عَلَیْہَا دَیْنٌ أَکُنْتَ قَاضِیَہُ ۔ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : فَاقْضُوا اللَّہَ فَہُوَ أَحَقُّ بِالْوَفَائِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ بُرَیْدَۃَ بْنِ حُصَیْبٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ وَقَدْ مَضَی ذِکْرُہُ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۳۲۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮৫৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ میت اور روکے ہوئے انسان کی جانب سے حج کرنا
(٩٨٥٤) سعید بن جبیر (رض) فرماتے ہیں کہ ابن عباس (رض) کے پاس سے ایک آدمی گزرا جو شبرمہ کی جانب سے حج کا تلبیہ کہہ رہا تھا۔ انھوں نے پوچھا : شبرمہ کون ہے ؟ کہنے لگا : اس نے وصیت کی تھی کہ وہ اس کی طرف سے حج کرے۔ انھوں نے پوچھا : کیا تو نے اپنی طرف سے حج کیا ہوا ہے۔ وہ کہنے لگا : نہیں۔ ابن عباس (رض) فرمانے لگے : پہلے اپنی طرف سے حج کر ، پھر شبرمہ کی جانب سے کرلینا۔

(ب) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ آدمی اپنے والد کی جانب سے حج کرسکتا ہے اگر اس نے وصیت نہ بھی کی ہو۔
(۹۸۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ قَتَادَۃَ بْنِ دُعَامَۃَ أَنَّ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ حَدَّثَہُ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ مَرَّ بِہِ رَجُلٌ یُہِلُّ یَقُولُ : لَبَّیْکَ بِحَجَّۃٍ عَنْ شُبْرُمَۃَ فَقَالَ : وَمَنْ شُبْرُمَۃُ قَالَ : أَوْصَی أَنْ یَحُجَّ عَنْہُ فَقَالَ : أَحَجَجْتَ أَنْتَ؟ قَالَ : لاَ قَالَ : فَابْدَأْ أَنْتَ فَاحْجُجْ عَنْ نَفْسِکَ ثُمَّ احْجُجْ عَنْ شُبْرُمَۃَ۔ کَذَا رَوَاہُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ۔

وَرَوَاہُ ابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَزْرَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْ فِیہِ لَفْظَ الْوَصِیَّۃِ وَرُوِّینَاہُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ : أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یَحُجَّ الرَّجُلُ عَنْ أَبِیہِ وَإِنْ لَمْ یُوصِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮৬০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ میت اور روکے ہوئے انسان کی جانب سے حج کرنا
(٩٨٥٥) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ ایک حج کی وجہ سے تین آدمیوں کے گروہ کو جنت میں داخل فرمائیں گے۔ 1 میت 2 اس کی جانب سے حج کرنے والا۔ 3 اس کی مدد کرنے والا۔
(۹۸۵۵)أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِی عِیسَی حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ یَعْنِی ابْنَ عِیسَی بْنِ الطَّبَاعِ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یُدْخِلُ بِالْحَجَّۃِ الْوَاحِدَۃِ ثَلاَثَۃَ نَفَرٍ الْجَنَّۃَ الْمَیِّتَ وَالْحَاجَّ عَنْہُ وَالْمُنْفِذَ ذَلِکَ ۔

أَبُو مَعْشَرٍ ہَذَا نَجِیحٌ السِّنْدِیُّ مَدَنِیٌّ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الحارث ۳۵۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮৬১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ میت اور روکے ہوئے انسان کی جانب سے حج کرنا
(٩٨٥٦) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کے بارے میں فرمایا کہ اس نے حج کی وصیت کی تھی اس کو چار اشخاص کے حجوں کا ثواب ملے گا۔ 1 وصیت کرنے والے کے لیے 2 عملاً کرنے والے کے لیے 3 اس کو لکھنے والے کے لیے (٤) جو اس کا حکم دینے والا ہے۔
(۹۸۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْمُقْرِئُ الْخَسْرُوجِرْدِیُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ الْخَسْرُوجِرْدِیُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْبَیْہَقِیُّ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا زَاجِرُ بْنُ الصَّلْتِ الطَّاحِیُّ حَدَّثَنَا زِیَادُ بْنُ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَالَ فِی رَجُلٍ أَوْصَی بِحَجَّۃٍ : کُتِبَتُ لَہُ أَرْبَعُ حُجَجٍ حَجَّۃٌ لِلَّذِی کَتَبَہَا وَحَجَّۃٌ لِلَّذِی أَنْفَذَہَا وَحَجَّۃٌ لِلَّذِی أَخَذَہَا وَحَجَّۃٌ لِلَّذِی أَمَرَ بِہَا ۔

زِیَادُ بْنُ سُفْیَانَ ہَذَا مَجْہُولٌ وَالإِسْنَادُ ضَعِیفٌ وَقَدْ رُوِیَ فِی الْحَجِّ عَنِ الأَبَوَیْنِ أَخْبَارٌ بِأَسَانِیدَ ضَعِیفَۃٍ فَتَرَکْتُہَا وَفِی بَعْضِ مَا رُوِّینَا کِفَایَۃٌ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮৬২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کا جان بوجھ کر یا غلطی سے شکار کو قتل کرنا
(٩٨٥٧) عبدالملک بن قریر بصری محمد بن سیرین سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر فاروق (رض) کے پاس آیا، اس نے کہا کہ میں اور میرے ساتھی نے اپنے گھوڑے دوڑائے اور ہم ” ثغرۃ ثنیۃ “ نامی جگہ تک آئے ، وہاں ہم نے ہرن کو پایا اور ہم دونوں محرم تھے، آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے تو حضرت عمر (رض) نے اس آدمی سے کہا، جو ان کے پہلو میں تھا۔ آؤ ہم دونوں مل کر فیصلہ کرلیتے ہیں۔۔۔ تو انھوں نے ایک تیسرے پر فیصلہ کیا۔ وہ عبدالرحمن بن عوف تھے۔
(۹۸۵۷)أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ قُرَیْرٍ الْبَصْرِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ : أَنَّ رَجُلاً جَائَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : إِنِّی أَجْرَیْتُ أَنَا وَصَاحِبِی فَرَسَیْنِ لَنَا نَسْتَبِقُ إِلَی ثُغْرَۃِ ثَنِیَّۃٍ فَأَصَبْنَا ظَبْیًا وَنَحْنُ مُحْرِمَانِ فَمَاذَا تَرَی فِی ذَلِکَ؟ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِرَجُلٍ إِلَی جَنْبِہِ : تَعَالَ حَتَّی أَحْکُمُ أَنَا وَأَنْتَ قَالَ فَحَکَمَا عَلَیْہِ بِعَنْزٍ وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ قَالَ وَہُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ مالک ۹۳۲۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮৬৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کا جان بوجھ کر یا غلطی سے شکار کو قتل کرنا
(٩٨٥٨) ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ محرم نے ایک بورا انڈیلا، اس میں ایک جنگلی چوہا نکلاتو ابن مسعود (رض) نے اس کے بارے میں ایک بکری کے بچے کا فیصلہ کیا۔
(۹۸۵۸)أَخْبَرَنَا أَبُوسَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ الْجَزَرِیِّ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ مُحْرِمًا أَلْقَی جُوَالِقَ فَأَصَابَ یَرْبُوعًا فَقَتَلَہُ فَقَضَی فِیہِ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِجَفْرٍ أَوْ جَفْرَۃٍ۔[ضعیف۔ اخرجہ الشافعی فی الام ۷/ ۴۰۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮৬৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کا جان بوجھ کر یا غلطی سے شکار کو قتل کرنا
(٩٨٥٩) ابن جریج فرماتے ہیں : میں نے عطاء سے کہا : اللہ کا ارشاد ہے : { لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ وَ مَنْ قَتَلَہٗ مِنْکُمْ مُّتَعَمِّدًا } (المائدۃ : ٩٥) ” تم احرام کی حالت میں شکار کو قتل مت کرو اور جس نے جان بوجھ کر قتل کیا تم میں سے۔ “ کہتے ہیں : میں نے کہا : جس نے غلطی سے قتل کیا اس پر چٹی ڈالی جائے گی ؟ فرمایا : ہاں۔ اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کی جائے گی۔ اس کے بارے میں سنتیں اور طریقے گزر چکے۔
(۹۸۵۹)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ ہُوَ ابْنُ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَائٍ قَوْلُ اللَّہِ تَعَالَی ( لاَ تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ وَمَنْ قَتَلَہُ مِنْکُمْ مُتَعَمِّدًا) قَالَ قُلْتُ لَہُ : فَمَنْ قَتَلَہُ خَطَأً أَیُغَرَّمُ؟ قَالَ : نَعَمْ یُعَظِّمُ بِذَلِکَ حُرُمَاتِ اللَّہِ وَمَضَتْ بِہِ السُّنَنُ۔

[حسن۔ اخرجہ الشافعی ۶۲۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮৬৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کا جان بوجھ کر یا غلطی سے شکار کو قتل کرنا
(٩٨٦٠) ابن جریج حضرت عمرو بن دینار سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو دیکھا، وہ غلطی کی وجہ سے بھی چٹی بھرتے تھے۔

(ب) حسن بصری (رض) فرماتی ہیں کہ غلطی اور جان بوجھ کر عمل کرنے میں محرم کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا۔

(ج) ابراہیم کہتے ہیں کہ محرم کے خلاف غلطی کی صورت میں بھی فیصلہ کیا جائے گا۔

(د) حکم بن عتبہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) غلطی اور جان بوجھ کر بھی عمل کرنے کی صورت میں محرم کے خلاففیصلہ کرتے تھے۔

(ح) عطاء بن ابی رباح اللہ تعالیٰ کے ارشاد { عَفَا اللّٰہُ عَمَّا سَلَفَ } ” جو پہلے ہوچکا (جاہلیت میں) اللہ نے معاف کردیا “ اور { وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰہُ مِنْہُ } ” اور جو کوئی پلٹا تو اللہ اس سے انتقام لے گا۔ فرماتے ہیں : جو اسلام میں واپس آیا اللہ اس سے انتقام لے گا، اس پر کفارہ ہے۔

(خ) ابراہیم نخعی فرماتے ہیں کہ جب وہ غلطی کرلے تو ان کو سزا دی جائے گی۔
(۹۸۶۰)قَالَ وَأَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ وَسَعِیدٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ قَالَ : رَأَیْتُ النَّاسَ یَغْرَمُونَ فِی الْخَطَإِ۔

وَرُوِّینَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ أَنَّہُ قَالَ : یُحْکَمُ عَلَیْہِ فِی الْخَطَإِ وَالْعَمْدِ۔ وَعَنْ إِبْرَاہِیمَ قَالَ : یُحْکَمُ عَلَی الْمُحْرِمِ فِی الْخَطَإِ۔

وَعَنِ الْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَحْکُمُ عَلَیْہِ فِی الْخَطَإِ وَالْعَمْدِ۔

وَرُوِّینَا عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ أَنَّہُ قَالَ فِی قَوْلِہِ ( عَفَا اللَّہُ عَمَّا سَلَفَ) قَالَ : عَمَّا کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ (وَمَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللَّہُ مِنْہُ) قَالَ : وَمَنْ عَادَ فِی الإِسْلاَمِ فَیَنْتَقِمُ اللَّہُ مِنْہُ وَعَلَیْہِ فِی ذَلِکَ الْکَفَّارَۃُ ، وَعَنِ الْحَسَنِ وَسَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ وَإِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ یُحْکَمُ عَلَیْہِ کُلَّمَا أَصَابَ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الشافعی ۶۳۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮৬৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ شکار کے بدلے کا بیان

شکار کے بدلے جانوروں میں سے اسی کے مثل ہونا چاہیے مسلمان دو عدل والے فیصلہ کریں گے
(٩٨٦١) عبدالملک بن عمیر نے قبیصہ بن جابراسدی سے سنا، کہتے ہیں : ہم حج کے لیے نکلے اور ہمارے زیادہ بامروت لوگ تھے اور ہم محرم بھی تھے۔ ہرن زیادہ تیز دوڑتا ہے یا گھوڑا ہم یہی باتیں کر رہے تھے کہ ہرن سامنے آگیا اور سنوح کا لفظ بھی اس طرح ہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ ہم سے شمال کی طرف گزر گیا۔ ہارون نے اس کو شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ ہم میں سے کسی ایک آدمی نے اس کو پتھر مارا۔ اس کے تیر کا نشانہ خطا نہ ہوا اور وہ اس کو دھمکا رہا تھا۔ اس نے اس کو قتل کردیا۔ وہ ہمارے سامنے گرگیا، جب ہم مکہ آئے تو حضرت عمر (رض) کے پاس منیٰ میں گئے۔ میں اور ہرن والا حضرت عمر (رض) کے پاس گئے تو اس نے ہرن کے قتل کا قصہ حضرت عمر (رض) کے سامنے بیان کیا اور کبھی کہتے ہیں کہ میں اور ہرن والا آگے بڑھے اور ان پر قصہ بیان کیا تو حضرت عمر (رض) نے پوچھا : جان بوجھ کر ایسا کیا یا غلطی سے ؟ بعض اوقات حضرت عمر (رض) اس سے سوال کرتے کہ کیا تو نے جان بوجھ کر قتل کیا ہی یا غلطی سے ؟ اس نے کہا : تیر تو جان بوجھ کر مارا لیکن قتل کا ارادہ نہ کیا تھا ۔ آدمی نے زائد بیان کیا تو حضرت عمر فرمانے لگے کہ عمداً اور خطا دونوں مل گئے۔ پھر آدمی کی طرف متوجہ ہوئے ، اللہ کی قسم ! اس کا چہرہ چاندی کی طرح چمک رہا تھا۔ بعض اوقات یہ بیان کیا کہ پھر آدمی کو آپ نے بلا کر اس سے کلام کی۔ پھر میرے ساتھی پر متوجے ہوئے اور فرمایا : ایک بکری لے کر ذبح کرو اور اس کا گوشت کھلاؤ۔ کبھی فرماتے : اس کا گوشت صدقہ کرو اور اس کے چمڑے کا مشکیزہ بنا کر پانی پلایا کرو۔ جب ہم ان کے پاس سے نکلے تو میں آدمی پر متوجہ ہوا۔ میں نے ان سے کہا : اے عمر بن خطاب (رض) سے فتویٰ پوچھنے والے ! حضرت عمر (رض) کا فتویٰ اللہ سے تجھے کچھ کفایت نہ کرے گا : کیوں کہ حضرت عمر (رض) تو جانتے نہ تھے بلکہ وہ اپنے قریب بیٹھے ہوئے آدمی سے پوچھتے تھے، اپنی سواری کو ذبح کر اور اس کا گوشت صدقہ کر اور اللہ کے شعائر کی تعظیم کیا کرو۔ کہتے ہیں : وہ چشمہ والا ان کی طرف آگے بڑھا۔ بعض اوقات بیان کرتے ہیں کہ وہ چشمے والا حضرت عمر (رض) کے پاس گیا اور بعض اوقات کہتے ہیں : میں کچھ نہیں جانتا۔ اللہ کی قسم ! میں صرف اس کا شعور رکھتا ہوں، وہ مجھے کوڑے مارتا ہے اور بعض اوقات میرے ساتھی کے رخسار پر مارتا ہے۔ پھر کہا : اللہ تجھے قتل کرے تو نے فتویٰ میں ظلم کیا اور تو نے حرام کو قتل کردیا اور تو کہتا ہے : اللہ کی قسم ! حضرت عمر (رض) جانتے ہی نہیں، جب تک وہ اپنے پہلو میں بیٹھے شخص سے سوال نہ کرلیں۔ کیا آپ نے اللہ کی کتاب نہیں پڑھی ؟ اللہ فرماتے ہیں :{ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ } (المائدۃ : ٩٥) ” کہ فیصلہ دو عادل کریں۔ “ پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور اکٹھی کی ہوئی چادر کو پکڑا اور بعض اوقات کہتے ہیں : میرے کپڑے کو پکڑا۔ میں نے کہا : اے امیرالمومنین ! میں اپنی طرف سے کسی کام کو آپ کے لیے جائز قرار نہ دوں گا، جو اللہ نے آپ کے لیے حرام قرار دیا ہے۔ اس نے مجھے چھوڑ دیا۔ پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے میں تجھے فصیح زبان والا، کشادہ سینے والا نوجوان خیال کرتا ہوں اور کبھی انسان میں نو عادتیں ہوتی ہیں۔ نو تو اچھی ہوتی ہیں یا بعض اوقات صالحہ کا لفظ بولا ہے کہ درست ہوتی ہے اور ایک عادت بری ہوتی ہے۔ وہ بری ایک عادت نو اچھی کو بھی خراب کردیتی ہیں اور جوانی کی آفات سے بچو ۔ ابن ابی عمر اور سفیان کہتے ہیں کہ عبدالملک جب یہ حدیث بیان کرتے تو کہتے کہ میں نے الف اور واؤ کو بھی نہیں چھوڑا۔
(۹۸۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَحْمَدَ الأَدِیبُ الْبِسْطَامِیُّ قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ بِخَسْرُوجِرْدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْغِطْرِیفِ أَخْبَرَنِی ہَارُونُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ ہُوَ ابْنُ عُمَیْرٍ سَمِعَ قَبِیصَۃَ بْنَ جَابِرٍ الأَسَدِیَّ قَالَ : خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَکَثُرَ مِرَاؤُنَا وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ أَیُّہُمَا أَسْرَعُ شَدًّا الظَّبْیُ أَمِ الْفَرَسُ فَبَیْنَمَا نَحْنُ کَذَلِکَ إِذْ سَنَحَ لَنَا ظَبْیٌ وَالسُّنُوحُ ہَکَذَا یَقُولُ : مَرَّ یُجَزُّ عَنَّا عَنِ الشِّمَالِ قَالَہُ ہَارُونُ بِالتَّشْدِیدِ فَرَمَاہُ رَجُلٌ مِنَّا بِحَجَرٍ فَمَا أَخْطَأَ خُشَشَائَ ہُ فَرَکِبَ رَدْعَہُ فَقَتَلَہُ فَأُسْقِطَ فِی أَیْدِینَا فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّۃَ انْطَلَقْنَا إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِمِنًی فَدَخَلْتُ أَنَا وَصَاحِبُ الظَّبْیِ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ فَذَکَرَ لَہُ أَمْرَ الظَّبْیِ الَّذِی قَتَلَ وَرُبَّمَا قَالَ فَتَقَدَّمْتُ إِلَیْہِ أَنَا وَصَاحِبُ الظَّبْیِ فَقَصَّ عَلَیْہِ الْقِصَّۃَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : عَمْدًا أَصَبْتَہُ أَمْ خَطَأً؟ وَرُبَّمَا قَالَ فَسَأَلَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : کَیْفَ قَتَلْتَہُ عَمْدًا أَمْ خَطَأً؟ فَقَالَ : لَقَدْ تَعَمَّدْتُ رَمْیَہُ وَمَا أَرَدْتُ قَتْلَہُ زَادَ رَجُلٌ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لَقَدْ شَرَکَ الْعَمْدُ الْخَطَأَ ثُمَّ اجْتَنَحَ إِلَی رَجُلٍ وَاللَّہِ لَکَأَنَّ وَجْہَہُ قُلْبٌ یَعْنِی فِضَّۃً وَرُبَّمَا قَالَ : ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَی رَجُلٍ إِلَی جَنْبِہِ فَکَلَّمَہُ سَاعَۃً ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی صَاحِبِی فَقَالَ لَہُ : خُذْ شَاۃً مِنَ الْغَنَمِ فَأَہْرِقْ دَمَہَا وَأَطْعِمْ لَحْمَہَا وَرُبَّمَا قَالَ فَتَصَدَّقْ بِلَحْمِہَا وَاسْقِ إِہَابَہَا سِقَائً فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِہِ أَقْبَلْتُ عَلَی الرَّجُلِ فَقُلْتُ لَہُ أَیُّہَا الْمُسْتَفْتِی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ إِنَّ فُتْیَا ابْنِ الْخَطَّابِ لَنْ تُغْنِیَ عَنْکَ مِنَ اللَّہِ شَیْئًا وَاللَّہِ مَا عَلِمَ عُمَرُ حَتَّی سَأَلَ الَّذِی إِلَی جَنْبِہِ فَانْحَرْ رَاحِلَتَکَ فَتَصَدَّقْ بِہَا وَعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّہِ قَالَ فَنَمَا ہَذَا ذُو الْعُوَیْنَتَیْنِ إِلَیْہِ وَرُبَّمَا قَالَ فَانْطَلَقَ ذُو الْعُوَیْنَتَیْنِ إِلَی عُمَرَ فَنَمَاہَا إِلَیْہِ وَرُبَّمَا قَالَ فَمَا عَلِمْتُ بِشَیْئٍ وَاللَّہِ مَا شَعَرْتُ إِلاَّ بِہِ یَضْرِبُ بِالدِّرَّۃِ عَلَیَّ وَقَالَ مَرَّۃً عَلَی صَاحِبِی صُفُوقًا صُفُوقًا ثُمَّ قَالَ : قَاتَلَکَ اللَّہُ تَعَدَّی الْفُتْیَا وَتَقْتُلُ الْحَرَامَ وَتَقُولُ : وَاللَّہِ مَا عَلِمَ عُمَرُ حَتَّی سَأَلَ الَّذِی إِلَی جَنْبِہِ أَمَا تَقْرَأُ کِتَابَ اللَّہِ فَإِنَّ اللَّہَ یَقُولُ (یَحْکُمُ بِہِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْکُمْ) ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیَّ فَأَخَذَ بِمَجَامِعِ رِدَائِی وَرُبَّمَا قَالَ ثَوْبِی فَقُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنِّی لاَ أُحِلُّ لَکَ مِنِّی أَمْرًا حَرَّمَہُ اللَّہُ عَلَیْکَ فَأَرْسَلَنِی ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیَّ فَقَالَ : إِنِّی أَرَاکَ شَابًّا فَصِیحَ اللِّسَانِ فَسِیحَ الصَّدْرِ وَقَدْ یَکُونُ فِی الرَّجُلِ عَشْرَۃُ أَخْلاَقٍ تِسْعٌ حَسَنَۃٌ وَرُبَّمَا قَالَ صَالِحَۃٌ وَوَاحِدَۃٌ سَیِّئَۃٌ فَیُفْسِدُ الْخُلُقُ السَّیِّئُ التِّسْعَ الصَّالِحَۃَ فَاتَّقِ طَیْرَاتِ الشَّبَابِ۔ قَالَ ابْنُ أَبِی عُمَرَ قَالَ سُفْیَانُ : وَکَانَ عَبْدُ الْمَلِکِ إِذَا حَدَّثَ بِہَذَا الْحَدِیثِ قَالَ : مَا تَرَکْتُ مِنْہُ أَلِفًا وَلاَ وَاوًا۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۸۲۴۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮৬৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ شکار کے بدلے کا بیان

شکار کے بدلے جانوروں میں سے اسی کے مثل ہونا چاہیے مسلمان دو عدل والے فیصلہ کریں گے
(٩٨٦٢) عبدالملک بن عمیر حضرت قبیصہ بن جابر اسدی سے نقل فرماتے ہیں کہ میں محرم تھا ، میں نے ہرن کو دیکھا اور تیر مار دیا تو تیر کی دھار اس کو لگی وہ مرگیا، میرے دل میں اس کی وجہ سے کھٹکا محسوس ہوا۔ میں نے حضرت عمر (رض) کے پاس آکر سوال کیا، ان کے پہلو میں سفید رنگت اور نرم چہرے والا ایک آدمی موجود تھا، وہ عبدالرحمن بن عوف (رض) تھے۔ سوال میں نے حضرت عمر (رض) سے کیا تو عبدالرحمن بن عوف (رض) نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگے : ایک بکری کفایت کر جائے گی ؟ اس نے کہا : ہاں تو حضرت عمر (رض) نے مجھے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دے دیا، جب ہم ان کے پاس سے اٹھے تو میرے ساتھی نے مجھے کہا کہ امیرالمومنین مسائل اچھی طرح نہیں بتاسکتے۔ وہ پہلے آدمی سے سوال کرتے ہیں، حضرت عمر (رض) نے ان کی کچھ باتیں سن لیں تو کوڑے سے ان کو مارا۔ پھر میری طرف متوجہ ہوئے تاکہ مجھے بھی ماریں، میں نے کہا : اے امیرالمومنین ! میں نے تو کچھ بھی نہیں کہا۔ اس نے کہا جو کہا۔ کہتے ہیں : انھوں نے مجھے چھوڑ دیا، پھر کہا : تو حرام کے قتل کا ارادہ رکھتا ہے اور فتویٰ میں ظلم چاہتا ہے۔ پھر کہا : اے امیرالمومنین ! انسان میں ١٠ عادات ہوتی ہیں : ٩ اچھی ہوتی ہیں اور ایک بری ہوتی ہے اور یہ بری سب اچھی عادت کو بھی خراب کردیتی ہے پھر فرمایا کہ جوانی کی آفات سے بچو۔
(۹۸۶۲)حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الصَّنْعَانِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الدَّبَرِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ قَبِیصَۃَ بْنِ جَابِرٍ الأَسَدِیِّ قَالَ : کُنْتُ مُحْرِمًا فَرَأَیْتُ ظَبْیًا فَرَمَیْتُہُ فَأَصَبْتُ خُشَّائَ ہُ یَعْنِی أَصْلَ قَرْنِہِ فَمَاتَ فَوَقَعَ فِی نَفْسِی مِنْ ذَلِکَ فَأَتَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَسْأَلُہُ فَوَجَدْتُ إِلَی جَنْبِہِ رَجُلاً أَبْیَضَ رَقِیقَ الْوَجْہِ وَإِذَا ہُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَسَأَلْتُ عُمَرَ فَالْتَفَتَ إِلَیَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ : تَرَی شَاۃً تَکْفِیہِ ؟ قَالَ : نَعَمْ فَأَمَرَنِی أَنْ أَذْبَحَ شَاۃً فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدِہِ قَالَ صَاحِبٌ لِی : إِنَّ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ لَمْ یُحْسِنْ أَنْ یُفْتِیَکَ حَتَّی سَأَلَ الرَّجُلَ فَسَمِعَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعْضَ کَلاَمِہِ فَعَلاَہُ بِالدِّرَّۃِ ضَرْبًا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیَّ لِیَضْرِبَنِی فَقُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنِّی لَمْ أَقُلْ شَیْئًا إِنَّمَا ہُوَ قَالَہُ قَالَ فَتَرَکَنِی ثُمَّ قَالَ : أَرَدْتَ أَنْ تَقْتُلَ الْحَرَامَ وَتَتَعَدَّی الْفُتْیَا ثُمَّ قَالَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ : إِنَّ فِی الإِنْسَانِ عَشْرَۃَ أَخْلاَقٍ تِسْعَۃٌ حَسَنَۃٌ وَوَاحِدَۃٌ سَیِّئَۃٌ وَیُفْسِدُہَا ذَلِکَ السَّیِّئُ ثُمَّ قَالَ : وَإِیَّاکَ وَعَثَرَۃَ الشَّبَابِ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۸۲۳۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮৬৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ شکار کے بدلے کا بیان

شکار کے بدلے جانوروں میں سے اسی کے مثل ہونا چاہیے مسلمان دو عدل والے فیصلہ کریں گے
(٩٨٦٣) ابومحریز کہتے ہیں کہ میں نے ہرن کا شکار کیا اور میں محرم تھا۔ میں نے آکر حضرت عمر (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : تم دو آدمی اپنے بھائیوں سے لاؤ تاکہ وہ آپ کا فیصلہ کریں ۔ میں عبدالرحمن بن عوف اور سعد (رض) کو لے کر آیا تو انھوں نے ایک سالہ بکری کے بچے کا فیصلہ کیا۔

(ب) جریر بن عبدالحمید منصور سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم لوگ احرام کی حالت میں تھے۔
(۹۸۶۳)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِی وَائِلٍ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو حَرِیزٍ قَالَ : أَصَبْتُ ظَبْیًا وَأَنَا مُحْرِمٌ فَأَتَیْتُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ : ائْتِ رَجُلَیْنِ مِنْ إِخْوَانِکَ فَلْیَحْکُمَا عَلَیْکَ فَأَتَیْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَسَعْدًا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَحَکَمَا عَلَیَّ تَیْسًا أَعْفَرَ۔

زَادَ فِیہِ جَرِیرُ بْنُ عَبْدِالْحَمِیدِ عَنْ مَنْصُورٍ وَأَنَا نَاسٍ لإِحْرَامِی۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن سعد فی الطبقات ۶/۱۵۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮৬৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ شکار کے بدلے کا بیان

شکار کے بدلے جانوروں میں سے اسی کے مثل ہونا چاہیے مسلمان دو عدل والے فیصلہ کریں گے
(٩٨٦٤) طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ ہم حج کے لیے نکلے ، ایک آدمی نے ہرن کو روند کر زخمی کردیا۔ اس کا نام اربد تھا۔ ہم حضرت عمر (رض) کے پاس آئے تو اربد نے سوال کیا۔ حضرت عمر (رض) نے اربد کو حکم دیا کہ فیصلہ کرو تو اربد کہنے لگے : اے امیرالمومنین ! آپ مجھ سے بہتر اور زیادہ بڑے عالم ہیں۔ حضرت عمر (رض) فرمانے لگے : میں نے تجھے فیصلہ کا حکم دیا ہے نہ کہ تزکیہ کا تو اربد نے بکری کے بچے کا فیصلہ سنایا۔ گویا کہ انھوں نے پانی اور درخت کو جمع کردیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اسی طرح ہی ہے۔
(۹۸۶۴)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ أَخْبَرَنَا مُخَارِقٌ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ قَالَ : خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَأَوْطَأَ رَجُلٌ مِنَّا یُقَالُ لَہُ أَرْبَدُ ضَبًّا فَفَزَرَ ظَہْرَہُ فَقَدِمْنَا عَلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلَہُ أَرْبَدُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : احْکُمْ یَا أَرْبَدُ فَقَالَ : أَنْتَ خَیْرٌ مِنِّی یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَأَعْلَمُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنَّمَا أَمَرْتُکَ أَنْ تَحْکُمَ فِیہِ وَلَمْ آمُرُکَ أَنْ تُزَکِّیَنِی۔ فَقَالَ أَرْبَدُ : أَرَی فِیہِ جَدْیًا قَدْ جَمَعَ الْمَائَ وَالشَّجَرَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَذَاکَ فِیہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۸۲۲۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮৭০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ شتر مرغ، جنگلی گائے اور نیل گائے کے فدیہ کا بیان
(٩٨٦٥) ابوطلحہ ابن عباس (رض) سے فرماتے ہیں کہ جس نے شتر مرغ ہلاک کیا اس کے ذمہ اونٹ کی قربانی ہے۔
(۹۸۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِنْ قَتَلَ نَعَامَۃً فَعَلَیْہِ بَدَنَۃٌ مِنَ الإِبِلِ۔ [حسن لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক: