আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৮৮ টি
হাদীস নং: ৯৮৯১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ خرگوش کے فدیہ کا بیان
(٩٨٨٦) نعمان بن حمید حضرت عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے خرگوش کے عوض بکری کے بچہ کا فیصلہ دیا جب محرم خرگوش کو قتل کرے۔
(۹۸۸۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ قَضَی فِی الأَرْنَبِ بِحُلاَّنِ یَعْنِی إِذَا قَتَلَہُ الْمُحْرِمُ۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ قَالَ الأَصْمَعِیُّ وَغَیْرُہُ : قَوْلُہُ الْحُلاَّنُ یَعْنِی الْجَدْیَ۔ [ضعیف]
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ قَالَ الأَصْمَعِیُّ وَغَیْرُہُ : قَوْلُہُ الْحُلاَّنُ یَعْنِی الْجَدْیَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৯২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ چوہے کے فدیہ کا بیان
(٩٨٨٧) حضرت جابر (رض) حضرت عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے ایک گوہ کے عوض ایک مینڈھے کا فیصلہ کیا اور ہرن کے عوض ایک بکری اور چوہے کے عوض ایک بکری یا بھیڑ کے بچے کا۔
ابوعبیدکہتے ہیں کہ الجعفر، یہ بھیڑ کی اولاد سے ہے جس کی عمر ١٤ ماہ ہو اور ماں سے جدا ہو۔
ابوعبیدکہتے ہیں کہ الجعفر، یہ بھیڑ کی اولاد سے ہے جس کی عمر ١٤ ماہ ہو اور ماں سے جدا ہو۔
(۹۸۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ حَدَّثَنِی ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ قَضَی فِی الضَّبُعِ کَبْشًا وَفِی الظَّبْیِ شَاۃً وَفِی الْیَرْبُوعِ جَفْرًا أَوْ جَفْرَۃً۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ قَالَ أَبُو زَیْدٍ : الْجَفْرُ مِنْ أَوْلاَدِ الْمَعِزِ مَا بَلَغَ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَفُصِلَ عَنْ أُمِّہِ۔[صحیح۔ مضی قریباً]
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ قَالَ أَبُو زَیْدٍ : الْجَفْرُ مِنْ أَوْلاَدِ الْمَعِزِ مَا بَلَغَ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَفُصِلَ عَنْ أُمِّہِ۔[صحیح۔ مضی قریباً]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৯৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ چوہے کے فدیہ کا بیان
(٩٨٨٨) مجاہد فرماتے ہیں کہ چوہے کے عوض ایک سالہ بھیڑ کا بچہ قربان کیا جائے۔
(۹۸۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ الْجَزَرِیِّ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِیہِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّہُ قَضَی فِی الْیَرْبُوعِ بِجَفْرٍ أَوْ جَفْرَۃٍ۔وَبِإِسْنَادِہِ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ حَکَمَ فِی الْیَرْبُوعِ بجَفْرٍ أَوْ جَفْرۃٍ۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَہَاتَانِ الرِّوَایَتَانِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُرْسَلَتَانِ وَإِحْدَاہُمَا تُؤَکِّدُ الأُخْرَی۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ الشافعی ۱۶۸۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৯৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ لومڑی کے فدیہ کا بیان
(٩٨٨٩) ابن سیرین قاضی شریح سے نقل فرماتے ہیں کہ اگر میرے پاس کوئی فیصلہ ہو تو میں لومڑی کے عوض ایک بکری کے بچے کا فیصلہ کروں گا۔
(ب) عطاء فرماتے ہیں کہ لومڑی کے عوض ایک بکری ہے۔
(ب) عطاء فرماتے ہیں کہ لومڑی کے عوض ایک بکری ہے۔
(۹۸۸۹)أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ عَنْ أَیُّوبَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ شُرَیْحٍ أَنَّہُ قَالَ : لَوْ کَانَ مَعِیَ حَکَمٌ حَکَمْتُ فِی الثَّعْلَبِ بِجَدْیٍ۔
وَرُوِیَ عَنْ عَطَائٍ أَنَّہُ قَالَ : فِی الثَّعْلَبِ شَاۃٌ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۸۲۲۷]
وَرُوِیَ عَنْ عَطَائٍ أَنَّہُ قَالَ : فِی الثَّعْلَبِ شَاۃٌ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۸۲۲۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৯৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ گوہ کے فدیہ کا بیان
(٩٨٩٠) طارق فرماتے ہیں کہ اربد نے گوہ کو کمر سے روند کر زخمی کردیا، پھر حضرت عمر (رض) کے پاس آئے۔ اس نے سوال کیا تو حضرت عمر (رض) نے پوچھا : تیرا کیا خیال ہے ؟ کہنے لگے : ایک بکری کا بچہ۔ اس نے پانی اور درخت کو جمع کردیا تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اس میں یہی ہے۔
(۹۸۹۰)أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُخَارِقٍ عَنْ طَارِقٍ : أَنَّ أَرْبَدَ أَوْطَأَ ضَبًّا فَفَزَرَ ظَہْرَہُ فَأَتَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلَہُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : مَا تَرَی فَقَالَ : جَدْیًا قَدْ جَمَعَ الْمَائَ وَالشَّجَرَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَذَلِکَ فِیہِ۔
[صحیح۔ تقدم برقم ۹۷۶۴]
[صحیح۔ تقدم برقم ۹۷۶۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৯৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ (ام حبین) گرگٹ کے مشابہ ایک جانور کے فدیہ کا بیان
(٩٨٩١) مطرف ابو سفر سے نقل فرماتے ہیں کہ عثمان بن عفان نے (ام حبین) گرگٹ کے مشابہ جانور کے عوض ایک بکری کے بچے کا فیصلہ دیا۔
(۹۸۹۱)أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِی السَّفَرِ : أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَضَی فِی أُمِّ حُبَیْنٍ بِحُلاَّنِ مِنَ الْغَنَمِ۔
[ضعیف۔ اخرجہ الشافعی۱۶۸۴]
[ضعیف۔ اخرجہ الشافعی۱۶۸۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৯৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کے چھوٹا یا ناقص شکار کرنے اور کاٹنے کا بیان
قال اللہ تعالیٰ { فَجَزَآئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ } (المائدۃ : ٩٥) ” پس اس کا بدلہ مانند اس کے ہے جو مارا جانوروں سے۔ “ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : مثل سے مراد جس صفت کا قتل کیا ویسا ہی جانوروں سے۔
قال اللہ تعالیٰ { فَجَزَآئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ } (المائدۃ : ٩٥) ” پس اس کا بدلہ مانند اس کے ہے جو مارا جانوروں سے۔ “ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : مثل سے مراد جس صفت کا قتل کیا ویسا ہی جانوروں سے۔
(٩٨٩٢) حضرت عطاء فرماتے ہیں : اگر محرم نے کانا یا ناقص شکار کیا تو اس کا فدیہ بھی کانا اور ناقص جانور سے دیا جائے گا۔ اس کا مکمل فدیہ مجھے زیادہ محبوب ہے اور اگر شکار کا چھوٹا بچہ قتل کرتا ہے تو اس کے عوض بکری کا چھوٹا بچہ دیا جائے گا۔
(۹۸۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ وَسَعِیدُ بْنُ سَالِمٍ عَنِ ابْن جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ أَنَّہُ قَالَ : إِنْ قَتَلَ صَیْدًا أَعْوَرَ أَوْ مَنْقُوصًا فَدَاہُ بِأَعْوَرَ مِثْلَہُ أَوْ مَنْقُوصٍ وَوَافٍ أَحَبُّ إِلَیَّ وَإِنْ قَتَلَ صِغَارَ أَوْلاَدِ الصَّیْدِ فَدَاہُ بِصِغَارِ أَوْلاَدِ الْغَنَمِ۔
[حسن۔ اخرجہ الشافعی فی الام ۷/۴۰۷]
[حسن۔ اخرجہ الشافعی فی الام ۷/۴۰۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৯৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کے چھوٹا یا ناقص شکار کرنے اور کاٹنے کا بیان
قال اللہ تعالیٰ { فَجَزَآئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ } (المائدۃ : ٩٥) ” پس اس کا بدلہ مانند اس کے ہے جو مارا جانوروں سے۔ “ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : مثل سے مراد جس صفت کا قتل کیا ویسا ہی جانوروں سے۔
قال اللہ تعالیٰ { فَجَزَآئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ } (المائدۃ : ٩٥) ” پس اس کا بدلہ مانند اس کے ہے جو مارا جانوروں سے۔ “ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : مثل سے مراد جس صفت کا قتل کیا ویسا ہی جانوروں سے۔
(٩٨٩٣) مجاہد ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوجہل کو ایک اونٹ تحفہ میں دیا، اس کے ناک میں چاندی کی نکیل تھی تاکہ مشرکین کو غصہ آئے۔
(۹۸۹۳)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَہْدَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ فِی ہَدْیِہِ جَمَلاً لأَبِی جَہْلٍ فِی أَنْفِہِ بُرَۃُ فِضَّۃٍ لِیَغِیظَ بِہِ الْمُشْرِکِینَ۔
[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابوداود ۱۷۴۹۔ احمد ۱/ ۲۶۱]
[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابوداود ۱۷۴۹۔ احمد ۱/ ۲۶۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৯৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ کیا محرم شکار کرنے والا بکری کے علاوہ بھی فدیہ دے سکتا ہے
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { ھَدْیًا بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ اَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِکَ صِیَامًا } (المائدۃ : ٩٥) ” جو نیاز کے طور پر کعبہ کو بھیج دیا جائے یا کفارہ دے، مسکینوں کو
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { ھَدْیًا بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ اَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِکَ صِیَامًا } (المائدۃ : ٩٥) ” جو نیاز کے طور پر کعبہ کو بھیج دیا جائے یا کفارہ دے، مسکینوں کو
(٩٨٩٤) عمرو بن دینار اللہ تعالیٰ کے ارشاد { فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ } (البقرۃ : ١٩٦) ” روزے یا صدقہ یا قربانی کا فدیہ دے۔ “ جو چیز چاہے دے۔
عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ ہر چیز قرآن میں موجود ہے جو پسند کرے دے دے۔
ابن جریج کا قول سوائے اللہ کے اس فرمان کے : { اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ } (المائدۃ : ٣٣) ” جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں۔ “ اس میں اختیار ہے۔
عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ ہر چیز قرآن میں موجود ہے جو پسند کرے دے دے۔
ابن جریج کا قول سوائے اللہ کے اس فرمان کے : { اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ } (المائدۃ : ٣٣) ” جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں۔ “ اس میں اختیار ہے۔
(۹۸۹۴)وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ فِی قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ} لَہُ أَیَّتُہُنَّ شَائَ
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ قَالَ : کُلُّ شَیْئٍ فِی الْقُرْآنِ أَوْ أَوْ لَہُ أَیُّہُ شَائَ
قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ إِلاَّ قَوْلَ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ} فَلَیْسَ بِمُخَیَّرٍ فِیہَا۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ کَمَا قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ وَغَیْرُہُ فِی الْمُحَارِبِ وَغَیْرِہِ فِی ہَذِہِ الْمَسْأَلَۃِ أَقُولُ۔
[ضعیف۔ اخرجہ الشافعی ۶۳۳]
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ قَالَ : کُلُّ شَیْئٍ فِی الْقُرْآنِ أَوْ أَوْ لَہُ أَیُّہُ شَائَ
قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ إِلاَّ قَوْلَ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ} فَلَیْسَ بِمُخَیَّرٍ فِیہَا۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ کَمَا قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ وَغَیْرُہُ فِی الْمُحَارِبِ وَغَیْرِہِ فِی ہَذِہِ الْمَسْأَلَۃِ أَقُولُ۔
[ضعیف۔ اخرجہ الشافعی ۶۳۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯০০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ کیا محرم شکار کرنے والا بکری کے علاوہ بھی فدیہ دے سکتا ہے
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { ھَدْیًا بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ اَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِکَ صِیَامًا } (المائدۃ : ٩٥) ” جو نیاز کے طور پر کعبہ کو بھیج دیا جائے یا کفارہ دے، مسکینوں کو
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { ھَدْیًا بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ اَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِکَ صِیَامًا } (المائدۃ : ٩٥) ” جو نیاز کے طور پر کعبہ کو بھیج دیا جائے یا کفارہ دے، مسکینوں کو
(٩٨٩٥) کعب بن عجرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر چاہو تو قربانی کرو ، اگر چاہو تو تین دن کے روزے رکھو اور اگر چاہو تو چھ مساکین کو تین صاع کھانا کھلاؤ۔
(۹۸۹۵)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِیَاثٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَالَ لَہُ : إِنْ شِئْتَ فَانْسُکْ نَسِیکَۃً وَإِنْ شِئْتَ فَصُمْ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ وَإِنْ شِئْتَ فَأَطْعِمْ ثَلاَثَۃَ آصُعٍ سِتَّۃَ مَسَاکِینَ ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯০১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ ایک دن کے روزے کے برابر مسکین کا کھانا ہونا چاہیے
(٩٨٩٦) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول ! میں ہلاک ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تو برباد ہو، کیا ہوا ؟ اس نے کہا : میں رمضان المبارک میں اپنی بیوی سے مجامعت کرچکا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غلام آزاد کر۔ اس نے کہا : میرے پاس غلام موجود نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو ماہ کے لگاتار روزے رکھ۔ اس نے کہا : میں طاقت نہیں رکھتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔ وہ کہنے لگا : میں نہیں پاتا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا آیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لو اور صدقہ کر دو۔ اس نے کہا : اپنے گھر والوں سے غریب لوگوں پر ! اللہ کی قسم ! مدینہ کے دونوں پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ غریب کوئی نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرا دیے ، جس کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لو اللہ سے استغفار کرو اور اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔
(۹۸۹۶)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : بَکْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّیْرَفِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ ہِلاَلٍ الْبُوزَنْجَرْدِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِیقٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ : حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلَکْتُ قَالَ : وَیْحَکَ وَمَا ذَاکَ ۔ قَالَ : وَقَعْتُ عَلَی أَہْلِی فِی یَوْمٍ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ قَالَ : أَعْتِقْ رَقَبَۃً ۔ قَالَ : مَا أَجِدُہَا قَالَ : فَصُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ۔قَالَ : مَا أَسْتَطِیعُ قَالَ : أَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا ۔ قَالَ : مَا أَجِدُ قَالَ فَأُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ بِعَرَقٍ فِیہِ تَمْرٌ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا قَالَ : خُذْہُ فَتَصَدَّقْ بِہِ ۔ قَالَ : عَلَی أَفْقَرَ مِنْ أَہْلِی فَوَاللَّہِ مَا بَیْنَ لاَبَتَیِ الْمَدِینَۃِ أَحْوَجُ مِنْ أَہْلِی قَالَ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ حَتَّی بَدَتْ أَنْیَابُہُ فَقَالَ : خُذْہُ وَاسْتَغْفِرِ اللَّہَ وَأَطْعِمْ أَہْلَکَ ۔وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَہِقْلُ بْنُ زِیَادٍ وَمَسْرُورُ بْنُ صَدَقَۃَ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۸۱۲]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ : حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلَکْتُ قَالَ : وَیْحَکَ وَمَا ذَاکَ ۔ قَالَ : وَقَعْتُ عَلَی أَہْلِی فِی یَوْمٍ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ قَالَ : أَعْتِقْ رَقَبَۃً ۔ قَالَ : مَا أَجِدُہَا قَالَ : فَصُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ۔قَالَ : مَا أَسْتَطِیعُ قَالَ : أَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا ۔ قَالَ : مَا أَجِدُ قَالَ فَأُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ بِعَرَقٍ فِیہِ تَمْرٌ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا قَالَ : خُذْہُ فَتَصَدَّقْ بِہِ ۔ قَالَ : عَلَی أَفْقَرَ مِنْ أَہْلِی فَوَاللَّہِ مَا بَیْنَ لاَبَتَیِ الْمَدِینَۃِ أَحْوَجُ مِنْ أَہْلِی قَالَ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ حَتَّی بَدَتْ أَنْیَابُہُ فَقَالَ : خُذْہُ وَاسْتَغْفِرِ اللَّہَ وَأَطْعِمْ أَہْلَکَ ۔وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَہِقْلُ بْنُ زِیَادٍ وَمَسْرُورُ بْنُ صَدَقَۃَ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۸۱۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯০২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ ایک دن کے روزے کے برابر مسکین کا کھانا ہونا چاہیے
(٩٨٩٧) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں ہلاک ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھ پر افسوس ! تو نے کیا کیا ہے ؟ کہنے لگا : اپنی بیوی سے ہمبستری کرچکا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک گردن یعنی غلام آزاد کرو۔ کہنے لگا : میں پاتا نہیں ہوں۔ فرمایا : دو مہینوں کے مسلسل روزے رکھو۔ کہنے لگا : میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو۔ اس نے کہا : میں نہیں پاتا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لو اور صدقہ کر دو۔ اس نے کہا : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اپنے گھر والوں کے علاوہ دوسروں پر، اللہ کی قسم ! مدینہ میں مجھ سے زیادہ فقیر کوئی نہیں اور عمرو بن شعیب کہتے ہیں کہ مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان مجھ سے زیادہ فقیر اور ضرورت مند کوئی نہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرا دیے یہاں تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دانت مبارک ظاہر ہوگئے۔ پھر فرمایا : لو اور اللہ سے استغفار کرو۔ عمرو بن شعیب فرماتے ہیں کہ ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں۔
ہقل کہتے ہیں : اس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں۔ دحیم نے کہا : تجھ پر افسوس ! وہ کیا ہے ؟ اس نے کہا : ماہ رمضان میں میں اپنی بیوی سے ہمبستری کرچکا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں۔
ہقل کہتے ہیں : اس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں۔ دحیم نے کہا : تجھ پر افسوس ! وہ کیا ہے ؟ اس نے کہا : ماہ رمضان میں میں اپنی بیوی سے ہمبستری کرچکا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں۔
(۹۸۹۷)وَقَدْ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی ابْنُ شِہَابٍ
قَالَ الشَّیْخُ أَبُو بَکْرٍ وَأَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْحَاسِبُ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا ہِقْلٌ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی حَسَّانَ حَدَّثَنَا دُحَیْمٌ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ وَہَذَا حَدِیثُ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلَکْتُ قَالَ : وَیْحَکَ مَا صَنَعْتَ ۔ قَالَ : وَقَعْتُ عَلَی أَہْلِی فِی رَمَضَانَ قَالَ : أَعْتِقْ رَقَبَۃً ۔ قَالَ : مَا أَجِدُہَا قَالَ : صُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ۔ قَالَ : لاَ أَسْتَطِیعُ قَالَ : فَأَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا ۔ قَالَ : مَا أَجِدُ فَأُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ بِعَرَقٍ فَقَالَ : خُذْہُ فَتَصَدَّقْ بِہِ ۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَعَلَی غَیْرِ أَہْلِی فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ مَا بَیْنَ طُنُبَیِ الْمَدِینَۃِ وَقَالَ عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ مَا بَیْنَ لاَبَتَیِ الْمَدِینَۃِ أَحَدٌ أَحْوَجُ مِنِّی فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ حَتَّی بَدَتْ أَسْنَانُہُ ثُمَّ قَالَ : خُذْہُ وَاسْتَغْفِرِ رَبَّکَ ۔
وَقَالَ عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ فَأُتِیَ بِمِکْتَلٍ فِیہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا۔
قَالَ الإِسْمَاعِیلِیُّ لَمْ یَذْکُرْ أَحَدٌ مِنْہُمْ عَمْرَو بْنَ شُعَیْبٍ غَیْرَ ابْنِ الْمُبَارَکِ
وَقَالَ الْہِقْلُ : بِعَرَقٍ فِیہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا۔
قَالَ دُحَیْمٌ : وَیْحَکَ وَمَا ذَاکَ؟ قَالَ : وَقَعْتُ عَلَی أَہْلِی فِی یَوْمٍ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ فَأُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ بِعَرَقٍ فِیہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا۔
قَالَ الشَّیْخُ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الأَدَبِ عَنِ ابْنِ مُقَاتِلٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ إِلَی قَوْلِہِ مَا بَیْنَ طُنُبَیِ الْمَدِینَۃِ لَمْ یَذْکُرْ مَا بَعْدَہُ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۸۱۲]
قَالَ الشَّیْخُ أَبُو بَکْرٍ وَأَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْحَاسِبُ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا ہِقْلٌ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی حَسَّانَ حَدَّثَنَا دُحَیْمٌ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ وَہَذَا حَدِیثُ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلَکْتُ قَالَ : وَیْحَکَ مَا صَنَعْتَ ۔ قَالَ : وَقَعْتُ عَلَی أَہْلِی فِی رَمَضَانَ قَالَ : أَعْتِقْ رَقَبَۃً ۔ قَالَ : مَا أَجِدُہَا قَالَ : صُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ۔ قَالَ : لاَ أَسْتَطِیعُ قَالَ : فَأَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا ۔ قَالَ : مَا أَجِدُ فَأُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ بِعَرَقٍ فَقَالَ : خُذْہُ فَتَصَدَّقْ بِہِ ۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَعَلَی غَیْرِ أَہْلِی فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ مَا بَیْنَ طُنُبَیِ الْمَدِینَۃِ وَقَالَ عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ مَا بَیْنَ لاَبَتَیِ الْمَدِینَۃِ أَحَدٌ أَحْوَجُ مِنِّی فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ حَتَّی بَدَتْ أَسْنَانُہُ ثُمَّ قَالَ : خُذْہُ وَاسْتَغْفِرِ رَبَّکَ ۔
وَقَالَ عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ فَأُتِیَ بِمِکْتَلٍ فِیہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا۔
قَالَ الإِسْمَاعِیلِیُّ لَمْ یَذْکُرْ أَحَدٌ مِنْہُمْ عَمْرَو بْنَ شُعَیْبٍ غَیْرَ ابْنِ الْمُبَارَکِ
وَقَالَ الْہِقْلُ : بِعَرَقٍ فِیہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا۔
قَالَ دُحَیْمٌ : وَیْحَکَ وَمَا ذَاکَ؟ قَالَ : وَقَعْتُ عَلَی أَہْلِی فِی یَوْمٍ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ فَأُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ بِعَرَقٍ فِیہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا۔
قَالَ الشَّیْخُ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الأَدَبِ عَنِ ابْنِ مُقَاتِلٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ إِلَی قَوْلِہِ مَا بَیْنَ طُنُبَیِ الْمَدِینَۃِ لَمْ یَذْکُرْ مَا بَعْدَہُ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۸۱۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯০৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے ایک دن کے روزے کے برابر مد کھانے کے دوشمار کیے
(٩٨٩٨) مقسم ابن عباس (رض) سے اللہ کے ارشاد { فَجَزَآئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ } (المائدۃ : ٩٥) ” پس بدلہ مثل اس کے جو شکار کو قتل کیا جو پاؤں میں سے ہے۔ “
جب محرم آدمی شکار کرلے تو اس کے خلاف اس کی مثل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر اس کے پاس اس کا بدلہ اور مثل موجود ہو تو اس کو ذبح کرے اور اس کا گوشت صدقہ کر دے۔ اگر اس کے پاس اس کا بدل اور مثل موجود نہ ہو تو درہم کی قیمت مقرر کی جائے۔ پھر کھانے کی قیمت لگائی جائے۔ پھر وہ نصف صاع کے عوض ایک دن کا روزہ رکھے۔ طعام سے میرا ارادہ روزہ کا تھا۔ جب اس نے کھانا پا لیا تو اس نے اس کا بدلہ بھی پا لیا۔
جب محرم آدمی شکار کرلے تو اس کے خلاف اس کی مثل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر اس کے پاس اس کا بدلہ اور مثل موجود ہو تو اس کو ذبح کرے اور اس کا گوشت صدقہ کر دے۔ اگر اس کے پاس اس کا بدل اور مثل موجود نہ ہو تو درہم کی قیمت مقرر کی جائے۔ پھر کھانے کی قیمت لگائی جائے۔ پھر وہ نصف صاع کے عوض ایک دن کا روزہ رکھے۔ طعام سے میرا ارادہ روزہ کا تھا۔ جب اس نے کھانا پا لیا تو اس نے اس کا بدلہ بھی پا لیا۔
(۹۸۹۸)أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ زَکَرِیَّا الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْن عَبَّاسِ فِی قَوْلِہِ ( فَجَزَائٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ) قَالَ إِذَا أَصَابَ الْمُحْرِمُ الصَّیْدَ یُحْکَمُ عَلَیْہِ جَزَاؤُہُ فَإِن کَانَ عِنْدَہُ جَزَاؤُہُ ذَبَحَہُ وَتَصَدَّقَ بِلَحْمِہِ فَإِنْ لَمْ یَکُنْ عِنْدَہُ جَزَاؤُہُ قُوِّمَ جَزَاؤُہُ دَرَاہِمَ ثُمَّ قُوِّمَتِ الدَّرَاہِمُ طَعَامًا فَصَامَ مَکَانَ کُلِّ نِصْفِ صَاعٍ یَوْمًا وَإِنَّمَا أُرِیدَ بِالطَّعَامِ الصِّیَامُ أَنَّہُ إِذَا وَجَدَ الطَّعَامَ وَجَدَ جَزَائَ ہُ۔
[صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبہ ۱۳۳۶۰]
[صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبہ ۱۳۳۶۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯০৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے ایک دن کے روزے کے برابر مد کھانے کے دوشمار کیے
(٩٨٩٩) حکم فرماتے ہیں کہ میں نے مقسم سے اس شخص کے بارے میں سنا جو شکار کو کرلیتا ہے لیکن اس کا بدلہ نہیں پاتا، اس پر شکار کی قیمت مقرر کی جائے گی درہموں میں اور درہموں سے کھانا خریدا جائے گا، یعنی اس کی قیمت مقرر کی جائے گی اور وہ ہر نصف صاع کے عوض روزہ رکھے گا۔
(ب) شعبہ کی روایت میں ہے کہ شکار کی قیمت لگائی جائے۔
(ج) منصور کی روایت میں ہے کہ اس کے بدلہ یا مثل کی قیمت لگائی جائے۔
(د) ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ وہ برابر ہو مثل کے یا بدلہ کے، جب بکری ہو تو ایک دن کا روزہ دو مسکینوں کے کھانے کے عوض ہے، لیکن جب اونٹ یا گائے ہو تو ایک دن کا روزہ ایک مسکین کے کھانے کے عوض ۔ فرماتے ہیں : وہ مد، مد ہوا کرتا ہے۔
(ب) شعبہ کی روایت میں ہے کہ شکار کی قیمت لگائی جائے۔
(ج) منصور کی روایت میں ہے کہ اس کے بدلہ یا مثل کی قیمت لگائی جائے۔
(د) ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ وہ برابر ہو مثل کے یا بدلہ کے، جب بکری ہو تو ایک دن کا روزہ دو مسکینوں کے کھانے کے عوض ہے، لیکن جب اونٹ یا گائے ہو تو ایک دن کا روزہ ایک مسکین کے کھانے کے عوض ۔ فرماتے ہیں : وہ مد، مد ہوا کرتا ہے۔
(۹۸۹۹)وَأَخْبَرَنَا الشَّرِیفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی شُرَیْحٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ قَالَ سَمِعْتُ مِقْسَمًا فِی الَّذِی یُصِیبُ الصَّیْدَ لاَ یَکُونُ عِنْدَہُ جَزَاؤُہُ قَالَ : یُقَوَّمُ الصَّیْدُ دَرَاہِمَ وَتُقَوَّمُ الدَّرَاہِمُ طَعَامًا فَیَصُومُ لِکُلِ نِصْفِ صَاعٍ یَوْمًا۔
قَالَ شُعْبَۃُ وَقَالَ لِی أَبَانُ وَأَبُو مَرْیَمَ إِنَّہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ یَعْنِی أَبَانَ بْنَ تَغْلِبَ کَذَا فِی رِوَایَۃِ شُعْبَۃَ تَقْوِیمُ الصَّیْدَ وَفِی رِوَایَۃِ مَنْصُورٍ یُقَوَّمُ الْجَزَائُ وَمَنْصُورٌ أْحَسَنُہُمَا سِیَاقَۃً لِلْحَدِیثِ۔
وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ عَدَلَ فِی الْجَزَائِ إِذَا کَانَتْ شَاۃً صِیَامَ یَوْمٍ بِإِطْعَامِ مِسْکِینَیْنِ فَإِذَا کَانَتْ بَدَنَۃً أَوْ بَقَرَۃً صِیَامَ یَوْمٍ بِإِطْعَامِ مِسْکِینٍ وَاحِدٍ وَقَالَ مُدٌّ مُدٌّ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن الجعد ۱۵۵]
قَالَ شُعْبَۃُ وَقَالَ لِی أَبَانُ وَأَبُو مَرْیَمَ إِنَّہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ یَعْنِی أَبَانَ بْنَ تَغْلِبَ کَذَا فِی رِوَایَۃِ شُعْبَۃَ تَقْوِیمُ الصَّیْدَ وَفِی رِوَایَۃِ مَنْصُورٍ یُقَوَّمُ الْجَزَائُ وَمَنْصُورٌ أْحَسَنُہُمَا سِیَاقَۃً لِلْحَدِیثِ۔
وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ عَدَلَ فِی الْجَزَائِ إِذَا کَانَتْ شَاۃً صِیَامَ یَوْمٍ بِإِطْعَامِ مِسْکِینَیْنِ فَإِذَا کَانَتْ بَدَنَۃً أَوْ بَقَرَۃً صِیَامَ یَوْمٍ بِإِطْعَامِ مِسْکِینٍ وَاحِدٍ وَقَالَ مُدٌّ مُدٌّ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن الجعد ۱۵۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯০৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے ایک دن کے روزے کے برابر مد کھانے کے دوشمار کیے
(٩٩٠٠) ابوطلحہ ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب محرم کسی شکار کو قتل کرے تو اس کی مثل کا فیصلہ کیا جائے ، اگر اس نے ہرن یا اس کی مثل کو قتل کیا ہے تو محرم کے ذمہ بکری ہے جو مکہ میں ذبح کرے گا۔ اگر محرم بکری نہ پائے تو پھر چھ مساکین کو کھانا کھلانا ہے۔ اگر کھانا بھی موجود نہ ہو تو پھر تین دن کے روزے رکھنے ہیں۔ اگر وہ بارہ سنگھا یا اس کی مثل کو قتل کرتا ہے تو پھر محرم کے ذمہ گائے ہے، اگر گائے موجود نہ ہو تو پھر بیس مسکینوں کا کھانا ہے۔ اگر کھانا میسر نہ ہو تو پھر بیس دنوں کے روزے ۔ اگر اس نے شتر مرغ یا نیل گائے یا اس کی مثل چیز کو قتل کردیا تو پھر محرم کے ذمہ اونٹ کی قربانی ہے۔ اگر نہ پائے تو تیس مسکینوں کا کھانا ہے۔ اگر کھانا نہ ہو تو تیس ایام کے روزے رکھنا ہے اور کھانا ایک ایک مد ان کی سیرابی یا پیٹ کا بھرنا ہے یہ اور اس سے پہلے والی روایات ترتیب کا تقاضا کرتی ہیں۔
(۹۹۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُوزَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ بْنُ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِذَا قَتَلَ الْمُحْرِمُ شَیْئًا مِنَ الصَّیْدِ حُکِمَ عَلَیْہِ فِیہِ فَإِنْ قَتَلَ ظَبْیًا أَوْ نَحْوَہُ فَعَلَیْہِ شَاۃٌ تُذْبَحُ بِمَکَّۃَ فَإِنْ لَمْ یَجِدْ فَإِطْعَامُ سِتَّۃِ مَسَاکِینَ فَإِنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ وَإِنْ قَتَلَ إِیلاً أَوْ نَحْوَہُ فَعَلَیْہِ بَقَرَۃٌ فَإِنْ لَمْ یَجِدْ أَطْعَمَ عِشْرِینَ مِسْکِینًا فَإِنْ لَمْ یَجِدْ صَامَ عِشْرِینَ یَوْمًا وَإِنْ قَتَلَ نَعَامَۃً أَوْ حِمَارَ وَحْشٍ أَوْ نَحْوَہُ فَعَلَیْہِ بَدَنَۃٌ مِنَ الإِبِلِ فَإِنْ لَمْ یَجِدْہُ أَطْعَمَ ثَلاَثِینَ مِسْکِینًا فَإِن لَمْ یَجِدْ صَامَ ثَلاَثِینَ یَوْمًا وَالطَّعَامُ مُدٌّ مُدٌّ شِبْعُہُمْ۔وَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ وَمَا قَبْلَہَا تَدُلُّ عَلَی أَنَّ ذَلِکَ عِنْدَہُ عَلَی التَّرْتِیبِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔[ضعیف۔ اخرجہ الطبری فی تفسیر ۵/۴۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯০৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ شکار وغیرہ کے عوض والی قربانی کہاں پہنچائی جائے
اللہ کا فرمان : { ھَدْیًا بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ } (المائدۃ : ٩٥) ” قربانی کعبہ پہنچنے والی۔ “
اللہ کا فرمان : { ھَدْیًا بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ } (المائدۃ : ٩٥) ” قربانی کعبہ پہنچنے والی۔ “
(٩٩٠١) کعب بن عجرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا کہ جوئیں اس کے چہرہ پر گر رہی ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا یہ جوئیں تجھے تکلیف دیتی ہیں ؟ کہنے لگے : ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ سر منڈوا دو اور وہ حدیبیہ میں تھے اور وضاحت نہ کی گئی کہ وہ حلال ہیں ، حالاں کہ وہ تو لالچ کیے بیٹھے تھے کہ وہ مکہ میں داخل ہوں۔ اللہ نے یہ آیت نازل کی : { فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ } کہ فدیہ روزے ، صدقہ یا قربانی ہے ایک فرق چھ مسکینوں کے درمیان یا ایک بکری کی قربانی اور وہ مکہ میں ہو۔
(ب) شبل کی حدیث میں النسک بمکۃ کے الفاظ موجود نہیں۔
(ب) شبل کی حدیث میں النسک بمکۃ کے الفاظ موجود نہیں۔
(۹۹۰۱)أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُوسَعِیدٍ: أَحْمَدُ بْنُ یَعْقُوبَ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنْبَرِیُّ
(ح)وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الْمُکْتِبُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحَسَنُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو حُذَیْفَۃَ حَدَّثَنَا شِبْلُ بْنُ عَبَّادٍ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ قَالَ وَقَالَ مُجَاہِدٌ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی لَیْلَی عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ رَأَی قَمْلَۃً سَقَطَتْ عَلَی وَجْہِہِ فَقَالَ : أَیُؤْذِیکَ ہَوَامُّکَ ۔ قَالَ : نَعَمْ فَأَمَرَہُ أَنْ یَحْلِقَ وَہُوَ بِالْحُدَیْبِیَۃِ وَلَمْ یُبَیِّنْ لَہُمْ أَنَّہُمْ یَحِلُّونَ بِہَا وَہُمْ عَلَی طَمَعٍ أَنْ یَدْخُلُوا مَکَّۃَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ (فِدْیَۃٌ مِنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ) فَرَقٌ بَیْنَ سِتَّۃَ مَسَاکِینَ أَوْ نُسُکٌ شَاۃٌ وَالنُّسُکُ بِمَکَّۃَ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شِبْلٍ دُونَ قَوْلِہِ وَالنُّسُکُ بِمَکَّۃَ۔
[صحیح۔ بخاری ۱۷۲۲]
(ح)وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الْمُکْتِبُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحَسَنُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو حُذَیْفَۃَ حَدَّثَنَا شِبْلُ بْنُ عَبَّادٍ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ قَالَ وَقَالَ مُجَاہِدٌ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی لَیْلَی عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ رَأَی قَمْلَۃً سَقَطَتْ عَلَی وَجْہِہِ فَقَالَ : أَیُؤْذِیکَ ہَوَامُّکَ ۔ قَالَ : نَعَمْ فَأَمَرَہُ أَنْ یَحْلِقَ وَہُوَ بِالْحُدَیْبِیَۃِ وَلَمْ یُبَیِّنْ لَہُمْ أَنَّہُمْ یَحِلُّونَ بِہَا وَہُمْ عَلَی طَمَعٍ أَنْ یَدْخُلُوا مَکَّۃَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ (فِدْیَۃٌ مِنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ) فَرَقٌ بَیْنَ سِتَّۃَ مَسَاکِینَ أَوْ نُسُکٌ شَاۃٌ وَالنُّسُکُ بِمَکَّۃَ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شِبْلٍ دُونَ قَوْلِہِ وَالنُّسُکُ بِمَکَّۃَ۔
[صحیح۔ بخاری ۱۷۲۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯০৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ شکار وغیرہ کے عوض والی قربانی کہاں پہنچائی جائے
اللہ کا فرمان : { ھَدْیًا بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ } (المائدۃ : ٩٥) ” قربانی کعبہ پہنچنے والی۔ “
اللہ کا فرمان : { ھَدْیًا بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ } (المائدۃ : ٩٥) ” قربانی کعبہ پہنچنے والی۔ “
(٩٩٠٢) عکرمہ فرماتے ہیں کہ مروان نے ابن عباس (رض) سے سوال کیا اور ہم وادیٔ ازرق میں تھے ہم نے پوچھا : اگر ہم شکار کرلیں اور چو پاؤں میں سے ان کا بدل نہ پائیں ؟ تو ابن عباس (رض) نے جواب دیا : اس کی قیمت کا انداز کر کے مکہ کے مساکین پر تقسیم کر دو۔
(۹۹۰۲)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنِی سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ : سَأَلَ مَرْوَانُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَنَحْنُ بِوَادِی الأَزْرَقِ أَرَأَیْتَ مَا أَصَبْنَا مِنَ الصَّیْدِ لاَ نَجِدُ لَہُ بَدَلاً مِنَ النَّعَمِ؟ قَالَ : تَنْظُرَ مَا ثَمَنُہُ فَتَتَصَدَّقَ بِہِ عَلَی مَسَاکِینِ أَہْلِ مَکَّۃَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯০৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ شکار وغیرہ کے عوض والی قربانی کہاں پہنچائی جائے
اللہ کا فرمان : { ھَدْیًا بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ } (المائدۃ : ٩٥) ” قربانی کعبہ پہنچنے والی۔ “
اللہ کا فرمان : { ھَدْیًا بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ } (المائدۃ : ٩٥) ” قربانی کعبہ پہنچنے والی۔ “
(٩٩٠٣) ابن جریج کہتے ہیں : میں نے عطاء سے کہا : { فَجَزَآئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ } الی { ھَدْیًا بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ اَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیْنَ } (المائدۃ : ٩٥) ” بدلہ اس کی مثل جو شکار کیا چو پاؤں میں سے ہے۔ قربانی کا کعبہ پہنچانا یا مساکین کا کھانا۔ “ فرماتے ہیں کہ اس نے حرم کے اندر یہ کام کیا تھا اس لیے کفارہ بھی بیت اللہ میں ادا کیا جائے گا۔
(۹۹۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَائٍ {فَجَزَائٌ مِثْلَ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ} إِلَی {ہَدْیًا بَالِغَ الْکَعْبَۃِ أَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسَاکِینَ} قَالَ : مِنْ أَجْلِ أَنَّہُ أَصَابَہُ فِی حَرَمٍ یُرِیدُ الْبَیْتَ کَفَّارَۃُ ذَلِکَ عِنْدَ الْبَیْتِ۔[حسن۔ اخرجہ الشافعی ۶۳۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯০৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم شکار سے کیا کھا سکتا ہے
(٩٩٠٤) ابو قتادہ انصاری فرماتے ہیں کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مکہ کے کسی راستے میں تھے۔ وہ اپنے محرم ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے اور وہ محرم نہ تھے۔ انھوں نے نیل گائے دیکھی۔ اپنے گھوڑے پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ اپنے ساتھیوں سے کہا : مجھے کوڑا ہی پکڑا دو۔ انھوں نے انکار کردیا۔ اس نے نیزہ مانگا تب بھی انھوں نے انکار کردیا۔ ابوقتادہ نے اپنا نیزہ پکڑا اور سوار ہوگئے۔ جنگلی گدھے کا پیچھا کیا اور اس کو قتل کردیا۔ بعض صحابہ (رض) نے اس سے کھایا اور بعض نے کھانے سے انکار کردیا۔ جب وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تو کھانا ہے جو اللہ رب العزت نے تمہیں کھلایا ہے۔
(۹۹۰۴)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِی النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ التَّیْمِیِّ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیِّ : أَنَّہُ کَانَ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ حَتَّی إِذَا کَانَ بِبَعْضِ طَرِیقِ مَکَّۃَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَہُ مُحْرِمِینَ وَہُوَ غَیْرُ مُحْرِمٍ فَرَأَی حِمَارًا وَحْشِیًّا فَاسْتَوَی عَلَی فَرَسِہِ فَسَأَلَ أَصْحَابَہُ أَنْ یُنَاوِلُوہُ سَوْطَہُ فَأَبَوْا فَسَأَلَہُمْ رُمْحَہُ فَأَبَوْا فَأَخَذَ رُمْحَہُ فَشَدَّ عَلَی الْحِمَارِ فَقَتَلَہُ فَأَکَلَ مِنْہُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ وَأَبَی بَعْضُہُمْ فَلَمَّا أَدْرَکُوا النَّبِیَّ -ﷺ سَأَلُوہُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : إِنَّمَا ہِیَ طُعْمَۃٌ أَطْعَمَکُمُوہَا اللَّہُ ۔
[صحیح۔ بخاری ۵۱۷۲]
[صحیح۔ بخاری ۵۱۷۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯১০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم شکار سے کیا کھا سکتا ہے
یہ سابقہ حدیث کی سند ہے
(۹۹۰۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی : ہَارُونُ بْنُ مُوسَی الزَّاہِدُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ فَذَکَرَہُ
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَغَیْرِہِ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَقُتَیْبَۃَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَغَیْرِہِ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَقُتَیْبَۃَ۔
তাহকীক: