আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৮৮ টি

হাদীস নং: ৯৯১১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم شکار سے کیا کھا سکتا ہے
(٩٩٠٦) عطاء بن یسار حضرت ابوقتادہ سے وحشی گدھے کے بارے میں نقل فرماتے ہیں ابو النضر کی حدیث کے طرح۔ لیکن زید کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تمہارے پاس اس کا کوئی گوشت ہے۔
(۹۹۰۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ فِی الْحِمَارِ الْوَحْشِیِّ مِثْلُ حَدِیثِ أَبِی النَّضْرِ إِلاَّ أَنَّ فِی حَدِیثِ زَیْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَالَ : ہَلْ مَعَکُمْ مِنْ لَحْمِہِ شَیْئٌ ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ انظر ماقبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯১২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم شکار سے کیا کھا سکتا ہے
(٩٩٠٧) ابو محمد کہتے ہیں کہ میں نے ابو قتادہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے ، جب ہم قاحۃ نامی جگہ پر آئے تو ہمارے بعض ساتھی محرم تھے اور بعض غیر محرم تھے۔ اچانک میں نے دیکھا کہ میرے ساتھی کسی چیز کو دیکھ رہے ہیں، میں نے بھی دیکھا تو وہ نیل گائے تھی۔ میں نے گھوڑے کی زین کسی اور میں سوار ہوگیا ، میں نے اپنا نیزہ پکڑ لیا اور کوڑا گرگیا۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا : مجھے پکڑا دو اور وہ محرم تھے۔ انھوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم تیری مدد ہرگز نہ کریں گے۔ میں نے اپنا کوڑا پکڑا ۔ پھر گدھے کے پیچھے ہو لیا ، جو ایک ٹیلے کے پیچھے تھا ۔ میں نے اس کو نیزہ مارا اور میں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں۔ میں اس کو لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا۔ بعض تو کہنے لگے : کھالو اور بعض نے کہا : مت کھاؤ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے آگے تھے۔ میں نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پا لیا اور سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حلال ہے تم کھالو۔
(۹۹۰۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ کَیْسَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَۃَ یَقُولُ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْقَاحَۃِ وَمِنَّا الْمُحْرِمُ وَغَیْرُ الْمُحْرِمِ إِذْ بَصُرْتُ بِأَصْحَابِی یَتَرَائَ وْنَ شَیْئًا فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ فَأَسْرَجْتُ فَرَسِی وَرَکِبْتُ فَأَخَذْتُ رُمْحِی فَسَقَطَتْ سَوْطِی فَقُلْتُ لأَصْحَابِی : نَاوِلُونِی وَکَانُوا مُحْرِمِینَ فَقَالُوا : لاَ وَاللَّہِ لاَ نُعِینُکَ عَلَیْہِ بِشَیْئٍ فَتَنَاوَلْتُ سَوْطِی ثُمَّ أَتَیْتُ الْحِمَارَ مِنْ خَلْفِہِ وَہُوَ وَرَائَ أَکَمَۃٍ فَطَعَنْتُہُ بِرُمْحِی فَعَقَرْتُہُ فَأَتَیْتُ بِہِ أَصْحَابِی فَقَالَ بَعْضُہُمْ : کُلُوہُ وَقَالَ بَعْضُہُمْ : لاَ تَأْکُلُوہُ قَالَ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ أَمَامَنَا فَحَرَّکْتُ فَرَسِی فَأَدْرَکْتُہُ فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ : ہُوَ حَلاَلٌ فَکُلُوہُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ سُفْیَانَ۔

[صحیح۔ بخاری ۱۷۲۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯১৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم شکار سے کیا کھا سکتا ہے
(٩٩٠٨) عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ حدیبیہ والے سال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چلے۔ میرے ساتھیوں نے احرام باندھا ہوا تھا جب کہ میں محرم نہ تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے اور میں بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ تھا۔ وہ ایک دوسرے کو ہنسا رہے تھے۔ میں نے دیکھا، اچانک نیل گائے تھی۔ میں نے اپنا نیزہ اٹھایا اور اپنی سواری پر بیٹھ گیا ، میں نے ان سے مدد چاہی تو انھوں نے میری مدد کرنے سے انکار کردیا۔ ہم نے کھایا اور ہم ڈر بھی گئے۔ میں نے اپنے گھوڑے کو دوڑایا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچ گیا، میں غفار قبیلہ کے ایک کو نصف رات کو ملا۔ میں نے کہا : آپ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہاں چھوڑا۔ اس نے کہا : ” سفیا “ نامی جگہ پر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملا تھا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) آپ پر سلام کہتے ہیں اور وہ ڈر محسوس کر رہے ہیں کہ کہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بغیر ان کو نقصان نہ ہوجائے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کا انتظار کرلیں۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے نیل گائے پکڑا ، اس کا کچھ زائد گوشت میرے پاس موجود بھی ہے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے کہا کھاؤ۔ حالاں کہ وہ حالت احرام میں تھے۔
(۹۹۰۸)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ عَامَ الْحُدَیْبِیَۃِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابِی وَلَمْ أُحْرِمْ فَانْطَلَقَ النَّبِیُّ -ﷺ وَکُنْتُ مَعَ أَصْحَابِی فَجَعَلَ بَعْضُہُمْ یَضْحَکُ إِلَی بَعْضٍ فَنَظَرْتُ فَإِذَا حِمَارَ وَحْشٍ فَحَمَلْتُ عَلَیْہِ فَطَعَنْتُہُ فَأَثْبَتُّہُ فَاسْتَعَنْتُ بِہِمْ فَأَبَوْا أَنْ یُعِینُونِی فَأَکَلْنَا مِنْہُ وَخَشِینَا أَنْ نُقْتَطَعَ یَعْنِی فَانْطَلَقَتُ أَرْفَعُ فَرَسِی فَأَطْلُبُ النَّبِیَّ -ﷺ فَلَقِیتُ رَجُلاً مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ مِنْ غِفَارٍ فَقُلْتُ أَیْنَ تَرَکْتَ النَّبِیَّ -ﷺ -؟ قَالَ بِالسُّقْیَا یَعْنِی فَلَحِقْتُ بِہِ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ أَصْحَابَکَ یُقْرِئُونَ عَلَیْکَ السَّلاَمَ وَرَحْمَۃَ اللَّہِ وَقَدْ خَشُوا أَنْ یُقْتَطَعُوا دُونَکَ فَانْتَظِرْہُمْ یَا رَسُولَ اللَّہِ وَقُلْتُ: یَارَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَصَبْتُ حِمَارَ وَحْشٍ وَمَعِی مِنْہُ فَاضِلَۃٌ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ لِلْقَوْمِ: کُلُوا۔ وَہُمْ مُحْرِمُونَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ فَضَالَۃَ عَنْ ہِشَامٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ ہِشَامٍ۔

[صحیح۔ بخاری ۱۷۲۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯১৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم شکار سے کیا کھا سکتا ہے
(٩٩٠٩) عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم ایک دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) کے ساتھ مکہ کے راستہ پر بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے آگے تھے۔ لوگ حالت احرام میں تھے اور میں محرم نہ تھا۔ لوگوں نے نیل گائے دیکھی اور میں اپنی جوتی سی رہا تھا۔ انھوں نے مجھے اطلاع نہ دی۔ میں نے اچانک دیکھا تو میں اپنے گھوڑے کی طرف کھڑا ہوا اور زین کسی اور سوار ہوگیا اور اپنے کوڑے اور نیزے کو بھول گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ میرا کوڑا اور نیزہ پکڑا دو۔ انھوں نے کہا : ہم تیری کچھ بھی مدد نہ کریں گے۔ میں نے نیچے اتر کر پکڑ لیا اور مضبوطی سے سوار ہوا۔ میں نے اس کو قتل کردیا اور کھینچ کر اس کو لے کر آیا وہ مرگیا۔ وہ اس میں واقع ہوگئے۔ اس کو کھا رہے تھے۔ پھر ان کو اپنے کھانے میں شک گزرا۔ کیوں کہ وہ محرم تھے۔ ہم چلے اور میں نے اس کا ایک بازو چھپالیا۔ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک جا پہنچے اور اس کے بارے میں سوال کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تمہارے پاس کوئی چیز اس سے ہے۔ میں نے کہا : جی ہاں میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کا بازو دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھالیا : حالاں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حالتِ احرام میں تھے۔ یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہڈی سے گوشت کو اتارا۔
(۹۹۰۹)أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمِشٍ الْفَقِیہُ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِہِ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عُثْمَانَ : عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَاہُ خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا أَبُوحَازِمِ بْنُ دِینَارٍ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: کُنْتُ یَوْمًا جَالِسًا مَعَ رَہْطٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ فِی مَنْزِلٍ فِی طَرِیقِ مَکَّۃَ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ نَازِلٌ أَمَامَنَا وَالْقَوْمُ مُحْرِمُونَ وَأَنَا غَیْرُ مُحْرِمٍ قَالَ فَأَبْصَرَ الْقَوْمُ حِمَارًا وَحْشِیًّا وَأَنَا مَشْغُولٌ أَخْصِفُ نَعْلِی فَلَمْ یُؤْذِنُونِی بِہِ فَالْتَفَتُّ فَأَبْصَرْتُہُ فَقُمْتُ إِلَی فَرَسِی فَأَسْرَجْتُہُ ثُمَّ رَکِبْتُہُ وَنَسِیتُ السَّوْطَ وَالرُّمْحَ فَقُلْتُ لَہُمْ: نَاوِلُونِی السَّوْطَ وَالرُّمْحَ فَقَالُوا: لاَ نُعِینُکَ عَلَیْہِ بِشَیْئٍ فَنَزَلْتُ فَأَخَذْتُہُمَا وَرَکِبْتُ فَشَدَدْتُ عَلَیْہِ فَقَتَلْتُہُ ثُمَّ جِئْتُ بِہِ أَجُرُّہُ قَدْ مَاتَ فَوَقَعُوا فِیہِ یَأْکُلُونَہُ ثُمَّ إِنَّہُمْ شَکُّوا فِی أَکْلِہِمْ إِیَّاہُ وَہُمْ حُرُمٌ فَرُحْنَا وَخَبَأْتُ الْعَضُدَ مَعِیَ فَأَدْرَکْنَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ فَسَأَلْنَاہُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : مَعَکُمْ مِنْہُ شَیْئٌ ۔قُلْتُ : نَعَمْ فَنَاوَلْتُہُ الْعَضُدَ فَأَکَلَہَا وَہُوَ مُحْرِمٌ حَتَّی تَعَرَّقَہَا۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ أَبِی حَازِمٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۴۳۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯১৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم شکار سے کیا کھا سکتا ہے
(٩٩١٠) عبدالرحمن بن ابی عثمان تیمی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم طلحہ بن عبیداللہ کے ساتھ مکہ کے راستہ پر تھے اور ہم حالت احرام میں تھے۔ انھوں نے ہمیں شکار کے گوشت کا تحفہ دیا اور طلحہ سوئے ہوئے تھے۔ بعض نے کھالیا اور بعض نے نہ کھایا پرہیزگاری اختیار کی۔ جب طلحہ بیدار ہوئے تو ان سے کہا : جنہوں نے کھایا تھا کہ تم نے درست کام کیا اور جنہوں نے نہ کھایا تھا ان سے کہنے لگے : تم نے غلطی کی ہے ، ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھشکار کا گوشت کھایا تھا جب ہم حالت احرام میں تھے۔
(۹۹۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُوأَحْمَدَ: عَبْدُاللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ الْعَدْلُ وَأَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَعَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ عَلِیٌّ حَدَّثَنَا وَقَالَ إِبْرَاہِیمُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ یَعْنِی ابْنَ عُثْمَانَ التَّیْمِیَّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: کُنَّا مَعَ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِاللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی طَرِیقِ مَکَّۃَ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَأَہْدُوا لَنَا لَحْمَ صَیْدٍ وَطَلْحَۃُ رَاقِدٌ فَمِنَّا مَنْ أَکَلَ وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ فَلَمْ یَأْکُلْ فَلَمَّا اسْتَیْقَظَ قَالَ لِلَّذِینَ أَکَلُوا أَصَبْتُمْ وَقَالَ لِلَّذِینَ لَمْ یَأْکُلُوا أَخْطَأْتُمْ فَإِنَّا قَدْ أَکَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ وَنَحْنُ حُرُمٌ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ یَحْیَی الْقَطَّانِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۹۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯১৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم شکار سے کیا کھا سکتا ہے
(٩٩١١) عمیر بن سلمہ بہز قبیلہ کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے ، مکہ کا ارادہ تھا۔ جب وادی روحا میں آئے تو لوگوں نے ایک نیل گائے زخمی دیکھی۔ انھوں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو چھوڑ اس کا زخمی کرنے والا آہی جائے گا تو بہزی آگئے، جنہوں نے زخمی کیا تھا۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کی کیا رائے ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) کو حکم دیا تو انھوں نے ساتھیوں میں تقسیم کردیا۔ حالاں کہ وہ محرم تھے، پھر ہم چلتے رہے یہاں تک کہ ابواء نامی جگہ آگئے۔ اچانک ہرن درخت کے سائے کے نیچے لیٹا ہوا تھا۔ اس میں تیر بھی تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو حکم دیا کہ اس کے پاس ٹھہر جائے تاکہ لوگ گزر جائیں۔
(۹۹۱۱)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عِیسَی بْنِ طَلْحَۃَ عَنْ عُمَیْرِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَہْزٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ خَرَجَ وَہُوَ یُرِیدُ مَکَّۃَ حَتَّی إِذَا کَانَ فِی بَعْضِ وَادِی الرَّوْحَائِ وَجَدَ النَّاسُ حِمَارَ وَحْشٍ عَقِیرًا فَذَکَرُوا ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فَقَالَ : ذَرُوہُ حَتَّی یَأْتِیَ صَاحِبُہُ ۔ فَأَتَی الْبَہْزِیُّ وَکَانَ صَاحِبَہُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ شَأْنَکُمْ بِہَذَا الْحِمَارِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَسَمَہُ بَیْنَ الرِّفَاقِ وَہُمْ مُحْرِمُونَ قَالَ ثُمَّ سِرْنَا حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالأَبْوَائِ فَإِذَا ظَبْیٌ حَاقِفٌ فِی ظِلِّ شَجَرَۃٍ وَفِیہِ سَہْمٌ فَأَمَرَ النَّبِیُّ -ﷺ رَجُلاً یُقِیمُ عِنْدَہُ حَتَّی یُجِیزَ النَّاسُ عَنْہُ۔

[صحیح۔ اخرجہ النسائی ۴۳۴۴۔ احمد ۳/ ۴۱۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯১৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم شکار سے کیا کھا سکتا ہے
(٩٩١٢) ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ اہل شام سے ایک آدمی نے مجھ سے شکار کے گوشت کے بارے میں سوال کیا جو دوسروں کے لیے تھا ، کیا وہ اس سے کھالے جبکہ وہ حالت احرام میں ہو، میں نے اس کو فتویٰ دیا کہ وہ کھالے۔ میں حضرت عمر (رض) کے پاس آیا اور ان کے سامنے تذکرہ کیا۔ تو انھوں نے پوچھا : تو نے کیا فتویٰ دیا ہے۔ کہتے ہیں : میں نے کہا : کھاؤ۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : اگر تو اس کے علاوہ کوئی دوسرا فتویٰ دیتا تو میں تجھے کوڑے مارتا۔ پھر حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ تجھے صرف شکار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
(۹۹۱۲)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ السُّوسِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : مُحمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ ہِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتَوَائِیِّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : سَأَلَنِی رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ عَنْ لَحْمٍ اصْطِیدَ لِغَیْرِہِمْ أَیَأْکُلُہُ وَہُوَ مُحْرِمٌ فَأَفْتَیْتُہُ أَنْ یَأْکُلَہُ فَأَتَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : بِمَا أَفْتَیْتَ قُلْتُ : أَمَرْتُہُ أَنْ یَأْکُلَہُ قَالَ لَوْ أَفْتَیْتَہُ بِغَیْرِ ذَلِکَ لَعَلَوْتُ رَأْسَکَ بِالدِّرَّۃِ قَالَ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنَّمَا نُہِیتَ أَنْ تَصْطَادَہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۸۳۴۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯১৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم شکار سے کیا کھا سکتا ہے
(٩٩١٣) ابو الشعثاء کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) سے شکار کے گوشت کے بارے میں سوال کیا کہ حلال آدمی محرم کو ہدیہ دے فرمانے لگے کہ حضرت عمر (رض) کھالیتے تھے ، میں نے کہا : میں آپ کے متعلق سوال کر رہا ہوں کیا آپ کھالیتے ہیں ؟ فرمانے لگے : حضرت عمر (رض) مجھ سے بہتر تھے۔
(۹۹۱۳)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الشَّعْثَائِ یَقُولُ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ لَحْمِ الصَّیْدِ یُہْدِیہِ الْحَلاَلُ لِلْحَرَامِ قَالَ : کَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَأْکُلُہُ قُلْتُ : إِنَّمَا أَسْأَلُکَ عَنْ نَفْسِکَ أَتَأْکُلُہُ؟ قَالَ : کَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَیْرًا مِنِّی۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯১৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم شکار سے کیا کھا سکتا ہے
(٩٩١٤) حضرت ابوہریرہ (رض) جناب عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک محرم قوم مقام ربزہ سے گزری تو انھوں نے شکار کے گوشت کے بارے میں سوال کیا، جس کو حلال لوگوں نے پایا تھا۔ کیا وہ اس کو کھا لیں تو انھوں نے اس کے کھانے کا فتویٰ دیا ، پھر میں حضرت عمر (رض) کے پاس آیا اور اس کے بارے میں پوچھا تو وہ کہنے لگے : تو نے ان کو کیا فتویٰ دیا ہے ؟ کہتے ہیں : میں نے ان کو کھانے کا فتویٰ دیا ہے۔ حضرت عمر (رض) فرمانے لگے : اگر تو اس کے بغیر کوئی دوسرا فتویٰ دیتا تو میں تجھے تکلیف دیتا۔

(ب) عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ کعب احبار شام سے محرم آدمیوں کے قافلہ میں آئے۔ ابھی کسی راستہ میں ہی تھے۔ انھوں نے شکار کا گوشت پا لیا تو کعب نے ان کو کھانے کا فتویٰ دے دیا، جب وہ حضرت عمر (رض) کے پاس آئے تو انھوں نے ان کے سامنے تذکرہ کیا۔ انھوں نے پوچھا : کس نے تمہیں اس کے بارے میں فتویٰ دیا ہے۔ انھوں نے کہا : کعب نے۔ کہنے لگے : میں نے کعب کو تمہارا امیر مقرر کردیا ہے جب تک تم واپس آؤ۔
(۹۹۱۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْن شِہَابِ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ : أَنَّہُ مَرَّ بِہِ قَوْمٌ مُحْرِمُونَ بِالرَّبَذَۃِ فَاسْتَفْتُوہُ فِی لَحْمِ صَیْدٍ وَجَدَہُ أُنَاسٌ أَحِلَّۃٌ أَیَأْکُلُوہُ فَأَفْتَاہُمْ بِأَکْلِہِ قَالَ : ثُمَّ قَدِمْتُ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلْتُہُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : بِمَا أَفْتَیْتَہُمْ قَالَ قُلْتُ : أَفْتَیْتُہُمْ بِأَکْلِہِ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لَوْ أَفْتَیْتَہُمْ بِغَیْرِ ذَلِکَ لأَوْجَعْتُکَ۔

وَبِإِسْنَادِہِ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ کَعْبَ الأَحْبَارِ أَقْبَلَ مِنَ الشَّامِ فِی رَکْبٍ مُحْرِمِینَ حَتَّی إِذَا کَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِیقِ وَجَدُوا لَحْمَ صَیْدٍ فَأَفْتَاہُمْ کَعْبٌ بِأَکْلِہِ فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ذَکَرُوا ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : مَنْ أَفْتَاکُمْ بِہَذَا؟ قَالُوا : کَعْبٌ قَالَ : فَإِنِّی قَدْ أَمَّرْتُہُ عَلَیْکُمْ حَتَّی تَرْجِعُوا۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۷۸۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯২০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم شکار سے کیا کھا سکتا ہے
(٩٩١٦) ہشام بن عروہ اپنے والد دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ زبیر بن عوام (رض) فرماتے ہیں کہ ہم شکار کا گوشت کھاتے بھی تھے اور زاد راہ کے طور پر ساتھ بھی لیتے تھے اور ہم حالت احرام میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہوتے تھے۔
(۹۹۱۶)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَیْبٍ الْجُلاَبَاذِیُّ حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ عَمَّارٍ الْعَتَکِیُّ حَدَّثَنَا الْجَارُودُ بْنُ یَزِیدَ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو حَنِیفَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ : کُنَّا نَأْکُلُ لَحْمَ الصَّیْدِ وَنَتَزَوَّدُہُ وَنَأْکُلُہُ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ أَبِی حَنِیفَۃَ بِمَعْنَاہُ۔ [باطل۔ فی اللسان ۳/ ۱۲۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯২১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم شکار سے کیا کھا سکتا ہے
(٩٩١٧) عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حج یا عمرہ کرنے کے لیے نکلے ، ہم بھی ساتھ تھے۔ ایک گروہ پھر گیا، میں بھی ان کے ساتھ تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم ساحل سمندر کے راستہ چلو، یہاں تک کہ تم مجھ سے ملو۔ ہم ساحل سمندر کے راستہ پر چل پڑے۔ جب ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے آئے تو سب حالت احرام میں تھے، سوائے ابوقتادہ کے۔ ہم چل رہے تھے کہ اچانک ہم نے نیل گائے دیکھی۔ میں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں ، وہ سب اترے اور اس کا گوشت کھایا۔ انھوں نے کہا : ہم حالت احرام میں شکار کا گوشت کھا رہے ہیں۔ وہ باقی ماندہ گوشت اٹھا کر آپ کے پاس آئے ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تم میں سے کسی نے اس پر ابھارا یا اشارہ کیا ہو۔ انھوں نے کہا : نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو گوشت باقی بچا ہے کھاؤ۔
(۹۹۱۷)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَوْہَبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا وَخَرَجْنَا مَعَہُ فَصَرَفَ طَائِفَۃً مِنْہُمْ وَأَنَا مَعَہُمْ قَالَ خُذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ حَتَّی تَلْقَوْنِی فَأَخَذْنَا سَاحِلَ الْبَحْرِ فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قِبَلَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ أَحْرَمُوا کُلُّہُمْ غَیْرَ أَبِی قَتَادَۃَ فَبَیْنَمَا نَحْنُ نَسِیرُ إِذْ رَأَیْنَا حُمُرَ وَحْشٍ فَعَقَرْتُ مِنْہَا أَتَانًا فَنَزَلُوا فَأَکَلُوا مِنْ لَحْمِہَا فَقَالُوا : نَأْکُلُ لَحْمَ صَیْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَحَمَلُوا مَا بَقِیَ مِنْ لَحْمِہَا حَتَّی أَتَوُا النَّبِیَّ -ﷺ فَقَالُوا : إِنَّا کُنَّا قَدْ أَحْرَمْنَا وَکَانَ أَبُو قَتَادَۃَ لَمْ یُحْرِمْ فَرَأَیْنَا حُمُرَ وَحْشٍ فَعَقَرَ مِنْہَا أَتَانًا فَنَزَلْنَا فَأَکَلْنَا مِنْ لَحْمِہَا ثُمَّ حَمَلْنَا مَا بَقِیَ مِنْ لَحْمِہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : ہَلْ مِنْکُمْ أَحَدٌ أَمَرَہُ أَنْ یَحْمِلَ عَلَیْہَا أَوْ أَشَارَ إِلَیْہَا؟ ۔ فَقَالُوا : لاَ ۔ قَالَ : فَکُلُوا مَا بَقِیَ مِنْ لَحْمِہَا ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ وَلَیْسَ فِی حَدِیثِ الْمُقْرِئِ أَوْ مُعْتَمِرًا۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی کَامِلٍ۔

[صحیح۔ بخاری ۱۷۲۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯২২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کس شکار سے نہیں کھا سکتا
(٩٩١٨) عبداللہ بن ابی قتادہ فرماتے ہیں کہ ابوقتادہ محرم لوگوں کی ایک جماعت میں تھے اور ابوقتادہ حلال تھے۔ لوگوں نے ایک نیل گائے دیکھی۔ انھوں نے ابوقتادہ کو اطلاع نہ دی حتیٰ کہ ابوقتادہ نے خود یکھ لیا۔ ان میں سے کسی کا کوڑا اچک لیا ، پھر اس پر حملہ کر کے اس کو گرا لیا۔ وہ اسے ان کے پاس لے کر آئے۔ انھوں نے کھایا اور اپنے ساتھ بھی لے لیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے بارے میں سوال بھی کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تم میں سے کسی نے اس کی طرف اشارہ کیا یا اس کے شکار کا حکم دیا ہو ؟ انھوں نے کہا : نہیں اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کھاؤ۔
(۹۹۱۸)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ قَالَ : کَانَ أَبُو قَتَادَۃَ فِی نَفَرٍ مُحْرِمِینَ وَأَبُو قَتَادَۃَ مُحِلٌّ فَأَبْصَرَ الْقَوْمُ حِمَارَ وَحْشٍ فَلَمْ یُؤْذِنُوہُ حَتَّی أَبْصَرَہُ أَبُو قَتَادَۃَ فَاخْتَلَسَ مِنْ بَعْضِہِمْ سَوْطًا ثُمَّ حَمَلَ عَلَی الْحِمَارِ فَصَرَعَہُ فَأَتَاہُمْ بِہِ فَأَکَلُوا وَحَمَلُوا فَلَقُوا النَّبِیَّ -ﷺ فَسَأَلُوہُ فَقَالَ : ہَلْ أَشَارَ إِلَیْہِ إِنْسَانٌ مِنْکُمْ أَوْ أَمَرَہُ بِشَیْئٍ ؟ ۔ قَالُوا : لاَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : فَکُلُوا ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۱۹۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯২৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کس شکار سے نہیں کھا سکتا
(٩٩١٩) عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں حدیبیہ کے سال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلا، میرے ساتھیوں نے احرام باندھا ہوا تھا اور میں محرم نہ تھا، میں نے ایک گدھا دیکھا اس پر حملہ کر کے شکار کرلیا، میں نے اس کی حالت کا تذکرہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا اور میں نے بتایا کہ میں محرم نہ تھا، لیکن شکار میں نے آپ کے لیے کیا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کو حکم دیا : کھاؤ لیکن خود نہ کھایا علی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا : میں نے شکار آپ کے لیے کیا ہے کہ یہ قول بھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے کچھ نہ کھایا، میں نہیں جانتا کہ کسی نے اس جملہ کو اس حدیث میں معمر سے نقل کیا ہو۔
(۹۹۱۹)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ الْفَقِیہُ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ زَمَنَ الْحُدَیْبِیَۃِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابِی وَلَمْ أُحْرِمْ فَرَأَیْتُ حِمَارًا فَحَمَلْتُ عَلَیْہِ فَاصْطَدْتُہُ فَذَکَرْتُ شَأْنَہُ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ وَذَکَرْتُ أَنِّی لَمْ أَکُنْ أَحْرَمْتُ وأَنِّی إِنَّمَا اصْطَدْتُہُ لَکَ فَأَمَرَ النَّبِیُّ -ﷺ أَصْحَابَہُ فَأَکَلُوا وَلَمْ یَأْکُلْ مِنْہُ حِینَ أَخْبَرْتُہُ أَنِّی اصْطَدْتُہُ لَہُ قَالَ عَلِیٌّ قَالَ لَنَا أَبُو بَکْرٍ قَوْلَہُ : اصْطَدْتُہُ لَکَ وَقَوْلُہُ : وَلَمْ یَأْکُلْ مِنْہُ لاَ أَعْلَمُ أَحَدًا ذَکَرَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ عَنْ مَعْمَرٍ وَہُوَ مُوَافِقٌ لِمَا رُوِیَ عَنْ عُثْمَانَ۔ [شاذ۔ اخرجہ عبدالرزاق ۸۳۳۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯২৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کس شکار سے نہیں کھا سکتا
(٩٩٢٠) عبداللہ بن ابی قتادہ کی حدیث میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے کھایا ہے اور اس روایت میں ہے کہ نہیں کھایا، حالاں کہ روایات بالکل درست ہیں۔
(۹۹۲۰)وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا أَبُو الشَّیْخِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ۔

قَالَ الشَّیْخُ ہَذِہِ لَفْظَۃٌ غَرِیبَۃٌ لَمْ نَکْتُبْہَا إِلاَّ مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ۔

وَقَدْ رُوِّینَا عَنْ أَبِی حَازِمِ بْنِ دِینَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ أَکَلَ مِنْہَا وَتِلْکَ الرِّوَایَۃُ أَوْدَعَہَا صَاحِبَا الصَّحِیحِ کِتَابَیْہِمَا دُونَ رِوَایَۃِ مَعْمَرٍ وَإِنْ کَانَ الإِسْنَادَانِ صَحِیحَیْنِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [شاذ۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯২৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کس شکار سے نہیں کھا سکتا
(٩٩٢١) جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خشکی کا شکار تمہارے لیے حلال ہے، جب تک تم شکار نہ کرو یا تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے۔
(۹۹۲۱)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَالِمٍ وَیَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّہْرِیُّ أَنَّ عَمْرًا مَوْلَی الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَہُمَا عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْن حَنْطَبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ أَنَّہُ قَالَ : لَحْمُ صَیْدِ الْبَرِّ لَکُمْ حَلاَلٌ وَأَنْتُم حُرُمٌ مَا لَمْ تَصِیدُوہُ أَوْ یُصَادَ لَکُمْ ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۱۱۳۵۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯২৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کس شکار سے نہیں کھا سکتا
(٩٩٢٢) جابر بن عبداللہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خشکی کا شکار تمہارے لیے حلال ہے، جب تک تم شکار نہ کرو یا تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے۔
(۹۹۲۲)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ کَثِیرِ بْنِ عُفَیْرٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِی عَمْرٍو عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ حَنْطَبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : صَیْدُ الْبَرِّ لَکُمْ حَلاَلٌ مَا لَمْ تَصِیدُوہُ أَوْ یُصَادُ لَکُمْ ۔

فَہَؤُلاَئِ ثَلاَثَۃٌ مِنَ الثِّقَاتِ أَقَامُوا إِسْنَادَہُ عَنْ عَمْرٍو۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرٍو وَعَنِ الثِّقَۃِ عِنْدَہُ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ عَمْرٍو وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ أَبِی دَاوُدَ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عَمْرٍو۔ [ضعیف۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯২৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کس شکار سے نہیں کھا سکتا
یہ سابقہ حدیث کی ایک سند ہے
(۹۹۲۳)وَرَوَاہُ عَبْدُ الْعَزِیز بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِی عَمْرٍو عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی سَلِمَۃَ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ فَذَکَرَہُ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ : ابْنُ أَبِی یَحْیَی أَحْفَظُ مِنَ الدَّرَاوَرْدِیِّ وَسُلَیْمَانُ مَعَ ابْنِ أَبِی یَحْیَی قَالَ الشَّیْخُ وَکَذَلِکَ یَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَیَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَالِمٍ وَہُمَا مَعَ سُلَیْمَانَ مِنَ الأَثْبَاتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯২৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کس شکار سے نہیں کھا سکتا
(٩٩٢٤) عبداللہ بن عامر بن ربیعہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان (رض) کو عرج مقام پر صائف کے دن دیکھا ۔ آپ محرم تھے۔ انھوں نے اپنے چہرے کو سرخ چادر سے ڈھانپ رکھا تھا۔ پھر شکار کا گوشت لایا گیا۔ انھوں نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : کھاؤ۔ ساتھی کہنے لگے : کیا آپ نہ کھائیں گے۔ فرمانے لگے : میں تمہاری طرح نہیں کیوں کہ شکار کیا ہی میری وجہ سے گیا ہے۔
(۹۹۲۴)أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیعَۃَ قَالَ : رَأَیْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِالْعَرْجِ فِی یَوْمٍ صَائِفٍ وَہُوَ مُحْرِمٌ وَقَدْ غَطَّی وَجْہَہُ بِقَطِیفَۃِ أُرْجُوَانٍ ثُمَّ أُتِیَ بِلَحْمِ صَیْدٍ فَقَالَ لأَصْحَابِہِ : کُلُوا قَالُوا : أَلاَ تَأْکُلُ أَنْتَ قَالَ : إِنِّی لَسْتُ کَہَیْئَتِکُمْ إِنَّمَا صِیدَ مِنْ أَجْلِی۔

[صحیح۔ اخرجہ مالک ۷۸۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯২৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کس شکار سے نہیں کھا سکتا
(٩٩٢٥) یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے ایک جماعت میں حضرت عثمان بن عفان (رض) کے ساتھ مل کر عمرہ کیا ۔ ان کو پرندے کا گوشت تحفہ میں دیا گیا، حضرت عثمان (رض) نے ان کو اور میرے والد کو کھانے کا حکم دیا تو حضرت عمرو بن عاص (رض) نے کہا : کیا اس سے ہم کھائیں جس سے آپ نہیں کھا رہے، فرمانے لگے : اس میں میں تمہارے جیسا نہیں ہوں، کیوں کہ شکار میرے لیے کیا گیا ہے اور میرے نام پر ہی مارا گیا ہے۔
(۹۹۲۵)وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ وَأَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُ اعْتَمَرَ مَعَ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی رَکْبٍ فَأُہْدِیَ لَہُ طَائِرٌ فَأَمَرَہُمْ بِأَکْلِہِ وَأَبِی أَنْ یَأْکُلَ فَقَالَ لَہُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : أَنَأْکُلُ مِمَّا لَسْتَ مِنْہُ آکِلاً فَقَالَ : إِنِّی لَسْتُ فِی ذَاکُمْ مِثْلُکُمْ إِنَّمَا اصْطِیدَ لِی وَأُمِیتَ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۸۳۴۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৩০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کس شکار سے نہیں کھا سکتا
(٩٩٢٦) ابن عباس (رض) صعب بن جثامہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نیل گائیتحفہ میں دی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابواء یاودان نامی جگہ پر تھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے واپس کردیا ۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے چہرے میں ناراضگی دیکھی تو فرمایا : میں نے صرف محرم ہونے کی وجہ سے واپس کیا ہے۔
(۹۹۲۶)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی الْحِیرِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ مُحَمَّدٍ الذُّہْلِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ : أَنَّہُ أَہْدَی لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ حِمَارًا وَحْشِیًّا وَہُوَ بِالأَبْوَائِ أَوْ بِوَدَّانَ فَرَدَّہُ عَلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ فَلَمَّا رَأَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مَا فِی وَجْہِی قَالَ: إِنَّا لَمْ نَرُدَّہُ عَلَیْکَ إِلاَّ أَنَّا حُرُمٌ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ وَغَیْرِہِ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔

[صحیح۔ بخاری ۲۴۳۴]
tahqiq

তাহকীক: