আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৩৬৩৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تنہا نماز ادا کرنے کے بعد جماعت کھڑی ہو تو کیا کرے ؟
(٣٦٣٦) حضرت عبداللہ بن صامت (رح) بیان فرماتے ہیں کہ امراء میں سے ایک شخص نماز کو مؤخر کر کے ادا کرتا تھا۔ میں نے ابو ذر (رض) سے پوچھا تو انھوں نے میری ران پر ہاتھ مارا اور فرمایا : میں نے اپنے خلیل یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری ران پر ہاتھ مار کر فرمایا : نماز کو اس کے وقت پر ادا کر، اس کے بعد اگر تو لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے پالے تو ان کے ساتھ بھی پڑھ لے اور یہ نہ کہہ کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے۔ اب میں تمہارے ساتھ نماز نہیں پڑھوں گا۔
(۳۶۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ: إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ بْنُ عُقْبَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: کَانَ أَمِیرٌ مِنَ الأُمَرَائِ یُؤَخِّرُ الصَّلاَۃَ ، فَسَأَلَتُ أَبَا ذَرٍّ فَضَرَبَ فَخِذِی فَقَالَ: سَأَلْتُ خَلِیلِی یَعْنِیَّ النَّبِیَّ -ﷺ- فَضَرَبَ فَخِذِی فَقَالَ : ((صَلِّ الصَّلاَۃَ لِمِیقَاتِہَا ، فَإِنْ أَدْرَکْتَ فَصَلِّ مَعَہُمْ ، وَلاَ تَقُلْ إِنِّی قَدْ صَلَّیْتُ فَلَنْ أُصَلِّیَ مَعَہُمْ))۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۶۴۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تنہا نماز ادا کرنے کے بعد جماعت کھڑی ہو تو کیا کرے ؟
(٣٦٣٧) حضرت ابوعالیہ (رح) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبیداللہ بن زیاد (رح) نے نماز موخر کر کے ادا کی تو میں حضرت عبداللہ بن صامت (رح) سے ملا، انھوں نے میری ران پر ہاتھ مار کر فرمایا : میں نے اپنے خلیل حضرت ابوذر (رض) سے یہ سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : میں نے اپنے خلیل نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز کو اس کے وقت پر ادا کر، اگر تو جماعت کو پالے تو ان کے ساتھ نماز پڑھ لے اور یہ نہ کہہ کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے اب نہیں پڑھتا۔
(۳۶۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی أَیُّوبُ السَّخْتِیَانِیُّ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ قَالَ: أَخَّرَ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ زِیَادٍ الصَّلاَۃَ ، فَلَقِیتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الصَّامِتِ فَسَأَلْتُہُ ، فَضَرَبَ فَخِذِی وَقَالَ: سَأَلْتُ خَلِیلِی أَبَا ذَرٍّ فَضَرَبَ فَخِذِی، وَقَالَ: سَأَلْتُ خَلِیلِی یَعْنِی النَّبِیَّ -ﷺ- فَضَرَبَ فَخِذِی فَقَالَ: ((صَلِّ الصَّلاَۃَ لِمِیقَاتِہَا، فَإِنْ أَدْرَکْتَ فَصَلِّ مَعَہُمْ ، وَلاَ تَقُلْ إِنِّی قَدْ صَلَّیْتُ فَلاَ أُصَلِّی))۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ إِسْمَاعِیلَ ابْنِ عُلَیَّۃَ عَنْ أَیُّوبَ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تنہا نماز ادا کرنے کے بعد جماعت کھڑی ہو تو کیا کرے ؟
(٣٦٣٨) حضرت بسر بن محجن (رح) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بیٹھے تھے، نماز کے لیے اذان کہی گئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوگئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز ادا کی۔ پھر لوٹے تو حضرت محجن (رض) آپ کی مجلس میں اسی طرح بیٹھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں کہا : تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کون سی چیز نے روکا ہے ؟ کیا تو مسلمان نہیں ہے ؟ انھوں نے عرض کیا : کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ! لیکن میں نے اپنے گھر نماز پڑھ لی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم آؤ تو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرو اگرچہ تم نے نماز پڑھ لی ہو۔
(۳۶۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی الدِّیلِ یُقَالُ لَہُ بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ عَنْ أَبِیہِ مِحْجَنٍ: أَنَّہُ کَانَ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأُذِّنَ بِالصَّلاَۃِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَصَلَّی ، ثُمَّ رَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِی مَجْلِسِہِ کَمَا ہُوَ ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَا مَنَعَکَ أَنْ تُصَلِّیَ مَعَ النَّاسِ؟ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟))۔ قَالَ: بَلَی یَا رَسُولَ اللَّہِ ، وَلَکِنِّی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَدْ کُنْتُ صَلَّیْتُ فِی أَہْلِی۔ قَالَ : ((فَإِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ ، وَإِنْ کُنْتَ قَدْ صَلَّیْتَ))۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ مالک ۲۰۹۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تنہا نماز ادا کرنے کے بعد جماعت کھڑی ہو تو کیا کرے ؟
(٣٦٣٩) حضرت امام شافعی (رح) اپنی سند سے یہی حدیث بیان کرتے ہیں۔
(۳۶۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الشافعی ۱۰۳۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تنہا نماز ادا کرنے کے بعد جماعت کھڑی ہو تو کیا کرے ؟
(٣٦٤٠) حضرت جابر بن یزید بن اسود (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے منیٰ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی تو دو آدمی آئے اور اپنی سواریوں پر ہی رک گئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بلانے کا حکم دیا۔ وہ گھبراہٹ کے عالم میں حاضر ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی ؟ کیا تم مسلمان نہیں ہو ؟ انھوں نے عرض کیا : کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ! لیکن ہم نے تو گھر میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھ بھی لو پھر تم جماعت کو پالو تو جماعت کے ساتھ بھی پڑھو۔ وہ تمہارے لیے نفل ہوجائے گی۔
(۳۶۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِیِّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ یَزِیدَ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: صَلَّیْنَا مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- الْفَجْرَ بِمِنًی ، فَجَائَ رَجُلاَنِ حَتَّی وَقَفَا عَلَی رَوَاحِلِہِمَا ، فَأَمَرَ بِہِمَا النَّبِیُّ -ﷺ- فَجِیئَ بِہِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُہُمَا ، فَقَالَ لَہُمَا : ((مَا مَنَعَکُمَا أَنْ تُصَلِّیَا مَعَ النَّاسِ؟ أَلَسْتُمَا مُسْلِمَیْنِ؟))۔ قَالاَ: بَلَی یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا کُنَّا صَلَّیْنَا فِی رِحَالِنَا۔ فَقَالَ لَہُمَا : ((إِذَا صَلَّیْتُمَا فِی رِحَالِکُمَا ثُمَّ أَتَیْتُمَا الإِمَامَ فَصَلِّیَا مَعَہُ ، فَإِنَّہَا لَکُمَا نَافِلَۃٌ))۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۵۷۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تنہا نماز ادا کرنے کے بعد جماعت کھڑی ہو تو کیا کرے ؟
(٣٦٤١) بنو اسد بن خزیمہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوایوب انصاری (رض) سے پوچھا کہ اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنے گھر میں نماز پڑھ لے پھر مسجد میں آئے اور وہاں نماز ہو رہی ہو تو کیا ان کے ساتھ بھی نماز پڑھے ؟ میرے دل میں اضطراب سا رہتا ہے۔ حضرت ابوایوب (رض) نے جواب دیا : ہم نے اس سے متعلق نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا : اس کے لیے دوہرا ثواب ہے۔
(۳۶۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرٌو عَنْ بُکَیْرٍ أَنَّہُ سَمِعَ عَفِیفَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْمُسَیَّبِ یَقُولُ حَدَّثَنِی رَجُلٌ مِنْ أَسَدِ بْنِ خُزَیْمَۃَ: أَنَّہُ سَأَلَ أَبَا أَیُّوبَ الأَنْصَارِیَّ قَالَ: یُصَلِّی أَحَدُنَا فِی مَنْزِلِہِ الصَّلاَۃَ ثُمَّ یَأْتِی الْمَسْجِدَ وَتُقَامُ الصَّلاَۃُ ، فَأُصَلِّی مَعَہُمْ فَأَجِدُ فِی نَفْسِی مِنْ ذَلِکَ شَیْئًا۔ فَقَالَ أَبُو أَیُّوبَ: سَأَلْنَا عَنْ ذَلِکَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : ((فَذَلِکَ لَہُ سَہْمُ جَمْعٍ))۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۱۷۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تنہا نماز ادا کرنے کے بعد جماعت کھڑی ہو تو کیا کرے ؟
(٣٦٤٢) ایک دوسری سند سے منقول ہے کہ بنو اسد کے ایک شخص سے روایت ہے کہ اس نے حضرت ابو ایوب انصاری (رض) سے پوچھا کہ میں اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہوں، پھر مسجد کو آتا ہوں تو امام کو نماز پڑھاتے ہوئے پاتا ہوں تو کیا میں اس کے ساتھ نماز پڑھ لیا کروں ؟ تو حضرت ابو ایوب (رض) نے فرمایا : ہاں پڑھ لیا کرو، جو اس طرح کرے تو اس کے لیے دگنا اجر ہے یا فرمایا : تمام نمازیوں کے برابر ثواب ہے۔
(۳۶۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَفِیفِ بْنِ عَمْرٍو السَّہْمِیِّ۔ عَنْ رَجُلِ مِنْ بَنِی أَسَدٍ: أَنَّہُ سَأَلَ أَبَا أَیُّوبَ الأَنْصَارِیَّ فَقَالَ: إِنِّی أُصَلِّی فِی بَیْتِی ثُمَّ آتِی الْمَسْجِدَ ، فَأَجِدُ الإِمَامَ یُصَلِّی أَفَأُصَلِّی مَعَہُ؟ فَقَالَ أَبُو أَیُّوبَ: نَعَمْ ، مَنْ صَنَعَ ذَلِکَ فَإِنَّ لَہُ سَہْمَ جَمْعٍ أَوْ مِثْلَ سَہْمِ جَمْعٍ۔ [ضعیف۔ اخرجہ مالک ۲۹۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ان میں کون سی نماز نفل ہوگی
(٣٦٤٣) ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عنقریب تم پر ایسے حکمران ہوں گے جو وقت پر نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔ خبردار ! تم نماز کو اپنے وقت پر ہی پڑھو۔ پھر ان کے پاس آؤ ۔ اگر وہ نماز پڑھ چکے ہیں تو پھر تم اپنی نماز پہلے ہی پڑھ چکے ہو اور اگر انھوں نے نہیں پڑھی تو ان کے ساتھ پڑھ لیاکرو وہ تمہارے لیے نفل ہوجائے گی۔
(۳۶۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنِی أَبُو عِمْرَانَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الصَّامِتِ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((إِنَّہُ سَیَکُونُ أُمَرَائٌ یُؤَخِّرُونَ الصَّلاَۃَ عَنْ مَوَاقِیتِہَا أَلاَ فَصَلِّ الصَّلاَۃَ لِوَقْتِہَا ثُمَّ ائْتِہِمْ ، فَإِنْ کَانُوا قَدْ صَلَّوْا کُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلاَتَکَ ، وَإِلاَّ صَلَّیْتَ مَعَہُمْ فَکَانَتَ نَافِلَۃً))۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ إِدْرِیسَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۶۴۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ان میں کون سی نماز نفل ہوگی
(٣٦٤٤) حضرت یزید بن اسود (رض) بیان فرماتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حج کے لیے حاضر ہوا، میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مسجد خیف میں فجر کی نماز پڑھی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے پچھلے حصے میں دو آدمی بیٹھے ہیں جنہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انھیں میرے پاس لاؤ۔ ان کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا، وحشت و گھبراہٹ سے ان کے جسم کپکپا رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی ؟ انھوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ہم اپنے گھروں میں نماز پڑھ آئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس طرح نہ کیا کرو۔ جب تم گھر میں نماز پڑھ چکے ہو پھر مسجد میں آؤ اور جماعت ہو رہی ہو تو ان کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرو۔ یہ تمہارے لیے نفل ہوجائے گی۔
(۳۶۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عَطَائٍ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ یَزِیدَ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: شَہِدْتُ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- حَجَّتَہُ فَصَلَّیْتُ مَعَہُ صَلاَۃَ الْفَجْرِ فِی مَسْجِدِ الْخَیْفِ - قَالَ - فَلَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ وَانْحَرَفَ ، فَإِذَا ہُوَ بِرَجُلَیْنِ فِی أُخْرَیَاتِ الْقَوْمِ لَمْ یُصَلِّیَا مَعَہُ قَالَ : ((عَلَیَّ بِہِمَا))۔ فَأُتِیَ بِہِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُہُمَا قَالَ : ((مَا مَنَعَکُمَا أَنْ تُصَلِّیَا مَعَنَا؟))۔ قَالاَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ کُنَّا قَدْ صَلَّیْنَا فِی رِحَالِنَا۔ قَالَ : ((فَلاَ تَفْعَلاَ، إِذَا صَلَّیْتُمَا فِی رِحَالِکُمَا ثُمَّ أَتَیْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَۃٍ فَصَلِّیَا مَعَہُمْ ، فَإِنَّہَا لَکُمَا نَافِلَۃٌ))۔

[صحیح۔ مضی تخریجہ فی الحدیث ۳۶۴۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ان میں کون سی نماز نفل ہوگی
(٣٦٤٥) حضرت یزید بن اسود خزاعی (رض) بیان فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ منیٰ میں فجر کی نماز پڑھی جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے پچھلے حصہ میں دو آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں بلوایا۔ انھیں لایا گیا اور وہ ڈرے ہوئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں ادا کی ؟ انھوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ہم گھر سے نماز پڑھ آئے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس طرح نہ کیا کرو، جب تم میں سے کوئی اپنے گھر میں نماز پڑھ لے، پھر امام کے ساتھ باجماعت نماز پالے تو امام کے ساتھ دوبارہ پڑھے، یہ اس کے لیے نفل ہوجائے گی۔
(۳۶۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ قَالَ أَخْبَرَنِی یَعْلَی بْنُ عَطَائٍ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ یَزِیدَ بْنِ الأَسْوَدِ الْخُزَاعِیُّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: صَلَّیْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْفَجْرَ بِمِنًی فَانْحَرَفَ ، فَأَبْصَرَ رَجُلَیْنِ مِنْ وَرَائِ النَّاسِ ، فَدَعَا بِہِمَا فَجِیئَ بِہِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُہُمَا فَقَالَ : ((مَا مَنَعَکُمَا أَنْ تُصَلِّیَا مَعَ النَّاسِ؟))۔ قَالاَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ صَلَّیْنَا فِی الرَّحْلِ۔ قَالَ : ((لاَ تَفْعَلُوا ، إِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ فِی رَحْلِہِ ثُمَّ أَدْرَکَ الصَّلاَۃَ مَعَ الإِمَامِ فَلْیُصَلِّہَا مَعَ الإِمَامِ ، فَإِنَّہَا لَہُ نَافِلَۃٌ))۔

ہَکَذَا رَوَاہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ وَوَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَغَیْرُہُمَا عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ۔ وَخَالَفَہُمْ أَبُو عَاصِمٍ النَّبِیلُ فَرَوَاہُ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ مضی سابقا، وانظر ماقبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ان میں کون سی نماز نفل ہوگی
(٣٦٤٦) (ا) حضرت جابر بن یزید (رض) اپنے والد حضرت یزید بن اسود (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز سے سلام پھیرا تو لوگوں سے پیچھے دو آدمی دیکھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں بلایا۔ وہ وحشت وخوف کے عالم میں حاضر ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی ؟ وہ دونوں گھبرائے ہوئے بولے : اے اللہ کے رسول ! ہم اپنے گھروں میں نماز پڑھ آئے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس طرح نہ کیا کرو بلکہ جب تم میں سے کوئی اپنے گھر نماز پڑھ آیا ہو پھر مسجد میں آئے اور امام نماز پڑھا رہا ہو تو اس کے ساتھ بھی پڑھ لے اور جو نماز اس نے گھر میں پڑھی ہے اس کو نفل نماز بنا لے۔

(ب) حضرت علی (رح) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ثوری (رح) کے تلامذہ نے اس کی مخالفت کی ہے، ان کے ساتھ حضرت یعلی بن عطاء (رح) کے شاگرد بھی ہیں۔ ان میں سے حضرت شعبہ، ہشام بن حسان، شریک، غیلان بن جامع، ابو خالد دالائی، مبارک بن فضالہ، ابوعوانہ اور ہیثم (رض) ہیں۔ انھوں نے حضرت یعلی بن عطاء (رح) سے حضرت وکیع (رح) جیسا قول نقل کیا ہے۔

(ج) حضرت علی (رح) فرماتے ہیں : اس کو حضرت حجاج بن ارطاۃ (رح) نے حضرت یعلی بن عطاء (رح) سے روایت کیا ہے۔ وہ اپنی سند سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کی مثل روایت فرماتے ہیں۔ اس میں یہ ہے کہ نماز تمہارے لیے نفل ہوگی اور جو تم نے گھروں میں پڑھی ہے وہ فرض ہوگی۔
(۳۶۴۶) کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَیْدِ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَلَمَّا انْصَرَفَ رَأَی رَجُلَیْنِ فِی مُؤَخَّرِ الْقَوْمِ - قَالَ - فَدَعَا بِہِمَا فَجَائَ ا تُرْعَدُ فَرَائِصُہُمَا فَقَالَ: مَا لَکُمَا لَمْ تُصَلِّیَا مَعَنَا؟ ۔ قَالاَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ صَلَّیْنَا فِی الرِّحَالِ۔ قَالَ: ((فَلاَ تَفْعَلاَ، إِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ فِی رَحْلِہِ، ثُمَّ جَائَ إِلَی الإِمَامِ فَلْیُصَلِّ مَعَہُ، وَلْیَجْعَلِ الَّتِی صَلَّی فِی بَیْتِہِ نَافِلَۃً))۔

قَالَ عَلِیٌّ: خَالَفَہُ أَصْحَابُ الثَّوْرِیِّ وَمَعَہُمْ أَصْحَابُ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ مِنْہُمْ شُعْبَۃُ وَہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ وَشَرِیکٌ وَغَیْلاَنُ بْنُ جَامِعٍ وَأَبُو خَالِدٍ الدَّالاَنِیُّ وَمُبَارَکُ بْنُ فَضَالَۃَ وَأَبُو عَوَانَۃَ وَہُشَیْمٌ وَغَیْرُہُمْ وَرَوَوْہُ عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ مِثْلَ قَوْلِ وَکِیعٍ یَعْنِی عَنْ سُفْیَانَ۔

قَالَ عَلِیٌّ وَرَوَاہُ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- نَحْوَہُ قَالَ : فَیَکُونُ لَکُمَا نَافِلَۃً ، وَالَّتِی فِی رَوَاحِلِکُمَا فَرِیضَۃً ۔ قَالَ عَلِیٌّ حَدَّثَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ وَغَیْرُہُ قَالُوا حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنْ حَجَّاجٍ بِذَلِکَ۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : أَخْطَأَ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ فِی إِسْنَادِہِ وَإِنْ أَصَابَ فِی مَتْنِہِ ، وَالصَّحِیحُ رِوَایَۃُ الْجَمَاعَۃِ وَذَکَرَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی الْقَدِیمِ احْتِجَاجَ مِنَ احْتَجَّ بِحَدِیثِ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ ثُمَّ قَالَ: وَہَذَا إِسْنَادٌ مَجْہُولٌ۔

وَإِنَّمَا قَالَ ذَلِکَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ لأَنَّ یَزِیدَ بْنَ الأَسْوَدِ لَیْسَ لَہُ رَاوٍ غَیْرُ ابْنِہِ جَابِرِ بْنِ یَزِیدَ ، وَلاَ لِجَابِرِ بْنِ یَزِیدَ رَاوٍ غَیْرُ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ ، وَکَانَ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ وَجَمَاعَۃٌ مِنَ الأَئِمَّۃِ یُوَثِّقُونَ یَعْلَی بْنَ عَطَائٍ ، وَہَذَا الْحَدِیثُ لَہُ شَوَاہِدُ قَدْ تَقَدَّمَ ذِکْرُہَا فَالاِحْتِجَاجُ بِہِ وَبِشَوَاہِدِہِ صَحِیحٌ ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

[شاذ۔ اخرجہ الدار قطنی ۱/ ۴۱۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ دوسری نماز کے فرض شمار ہونے کا بیان اور اس میں اشکال ہے
(٣٦٤٧) (ا) حضرت یزید بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں جب آیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے، میں بیٹھ گیا ، آپ کے ساتھ نماز میں شامل نہیں ہوا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بیٹھا ہوا دیکھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یزید ! کیا تم مسلمان نہیں ہو ؟ میں نے جواب دیا : کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول ! میں مسلمان ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم لوگوں کے ساتھ نماز میں شامل کیوں نہیں ہوئے ؟ میں نے عرض کیا : میں نے گھر میں نماز پڑھ لی تھی، میرا خیال تھا کہ آپ نماز پڑھ چکے ہوں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم مسجد میں آؤ اور لوگوں کو حالت نماز میں پاؤ تو ان کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرو، اگرچہ تم نماز پڑھ چکے ہو۔ یہ دوسری نماز تمہارے لیے نفل بن جائے گی اور پہلی فرض۔

(ب) یہ حدیث اس حدیث کے موافق ہے جو جماعت میں ملنے کی صورت میں نماز کے اعادہ کے بارے میں گزر چکی ہے۔ ان دونوں میں سے فرض نماز میں اس کی مخالف ہے جو اس بارے میں گزر چکی ہے وہ زیادہ مشہور اور راجح ہے۔ واللہ اعلم
(۳۶۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی عَنْ سَعِیدِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ نُوحِ بْنِ صَعْصَعَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: جِئْتُ وَالنَّبِیُّ -ﷺ- فِی الصَّلاَۃِ ، فَجَلَسْتُ وَلَمْ أَدْخُلْ مَعَہُمْ فِی الصَّلاَۃِ - قَالَ - فَانْصَرَفَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَرَأَی یَزِیدَ جَالِسًا فَقَالَ : ((أَلَمْ تُسْلِمْ یَا یَزِیدُ؟))۔ قَالَ: بَلَی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَدْ أَسْلَمْتُ ۔ قَالَ : ((وَمَا مَنَعَکَ أَنْ تَدْخُلَ مَعَ النَّاسِ فِی صَلاَتِہِمْ؟))۔ قَالَ: إِنِّی کُنْتُ صَلَّیْتُ فِی مَنْزِلِی وَأَنَا أَحْسِبُ أَنْ قَدْ صَلَّیْتُمْ۔ فَقَالَ : ((إِذَا جِئْتَ إِلَی الصَّلاَۃِ فَوَجَدْتَ النَّاسَ فَصَلِّ مَعَہُمْ ، وَإِنْ کُنْتَ قَدْ صَلَّیْتَ فَلْتَکُنْ لَکَ نَافِلَۃً وَہَذِہِ مَکْتُوبَۃً))۔

فَہَذَا مُوَافِقٌ لِمَا مَضَی فِی إِعَادَۃِ الصَّلاَۃِ فِی الْجَمَاعَۃِ مُخَالِفٌ لَہُ فِی الْمَکْتُوبَۃِ مِنْہُمَا ، وَمَا مَضَی أَکْثَرُ وَأَشْہَرُ فَہُوَ أَوْلَی ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۵۷۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ دوسری نماز کے فرض شمار ہونے کا بیان اور اس میں اشکال ہے
(٣٦٤٨) حضرت داؤد بن ابی ہند (رح) بیان کرتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب (رح) سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہے۔ پھر جماعت کو بھی پا لیتا ہے تو انھوں نے فرمایا : وہ جماعت کے ساتھ بھی پڑھے۔ میں نے کہا : اس کو کونسی نماز کا بطور فرض ثواب ملے گا ؟ انھوں نے فرمایا : جو اس نے باجماعت پڑھی ہوگی، کیونکہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے ہمیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جماعت کے ساتھ نماز (اجر وثواب کے لحاظ سے) اکیلے کی نماز سے پچیس گنا زیادہ ہوتی ہے۔
(۳۶۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ عَنِ الرَّجُلِ یُصَلِّی فِی بَیْتِہِ ثُمَّ یُدْرِکُ الْجَمَاعَۃَ قَالَ: یُصَلِّیہَا مَعَہُمْ۔ قَالَ قُلْتُ: فَبِأَیِّہِمَا یَحْتَسِبُ؟ قَالَ: بِالَّذِی صَلَّی مَعَ الإِمَامِ فَإِنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((صَلاَۃُ الرَّجُلِ فِی الْجَمِیعِ تَزِیدُ عَلَی صَلاَتِہِ وَحْدَہُ خَمْسًا وَعِشْرِینَ صَلاَۃً))۔ [صحیح۔ اخرجہ النسائی ۴۸۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ان دونوں کا فرض یا نفل ہونا مشیت باری پر موقوف ہے
(٣٦٤٩) حضرت نافع (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے پوچھا : میں اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہوں، پھر جماعت کے ساتھ نماز ہو رہی ہوتی ہے تو کیا میں امام کے ساتھ نماز پڑھ لوں ؟ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : ہاں امام کے ساتھ پڑھ لو۔ اس نے کہا : ان میں سے کونسی نماز کو میں فرض نماز بناؤں ؟ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : کیا یہ تیرے اختیار میں ہے ؟ یہ تو اللہ کی طرف سے ہے جس کو چاہے فرض قرار دے۔
(۳۶۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ: إِنِّی أُصَلِّی فِی بَیْتِی ، ثُمَّ أُدْرِکُ الصَّلاَۃَ مَعَ الإِمَامِ ، أَفَأُصَلِّی مَعَہُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ: نَعَمْ فَصَلِّ مَعَہُ۔ فَقَالَ الرَّجُلُ: فَأَیَّتَہُمَا أَجْعَلُ صَلاَتِی؟ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ: وَذَلِکَ إِلَیْکَ؟ إِنَّمَا ذَلِکَ إِلَی اللَّہِ تَعَالَی یَجْعَلُ أَیَّتَہُمَا شَائَ۔

[صحیح اخرجہ مالک ۹۹۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ان دونوں کا فرض یا نفل ہونا مشیت باری پر موقوف ہے
(٣٦٥٠) (ا) حضرت یحییٰ بن سعید (رح) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت سعید بن مسیب (رح) سے پوچھا : میں گھر میں نماز پڑھ لیتا ہوں، پھر مسجد میں آتا ہوں تو امام کو نماز پڑھتے پاتا ہوں تو کیا میں امام کے ساتھ بھی نماز پڑھ لوں ؟ حضرت سعید بن مسیب (رح) نے فرمایا : ہاں۔ اس نے پھر عرض کیا : میں ان میں سے کس کو فرض سمجھوں ؟ حضرت سعید (رح) نے فرمایا : کیا تو اس کو بنا سکتا ہے ؟ یہ تو اللہ کے اختیار میں ہے ان میں سے جسے چاہے بنا دے۔

(ب) پہلا قول حضرت ابوذر (رض) اور حضرت یزید بن اسود (رض) کی حدیث کے بارے میں زیادہ صحیح ہے۔

(ج) حضرت عثمان بن عبیداللہ بن ابی رافع (رح) بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے نماز کو لوٹانے کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا : پہلی فرض شمار ہوگی۔
(۳۶۵۰) وَبِإِسْنَادِہِ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ: أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ فَقَالَ: إِنِّی أُصَلِّی فِی بَیْتِی ، ثُمَّ آتِی الْمَسْجِدَ فَأَجِدُ الإِمَامَ یُصَلِّی ، أَفَأُصَلِّی مَعَہُ؟ فَقَالَ سَعِیدٌ: نَعَمْ۔ قَالَ الرَّجُلُ: فَأَیَّتَہُمَا أَجْعَلُ صَلاَتِی؟ فَقَالَ سَعِیدٌ: وَأَنْتَ تَجْعَلُہَا إِنَّمَا ذَلِکَ إِلَی اللَّہِ یَجْعَلُ أَیَّتَہُمَا شَائَ۔ وَالْقَوْلُ الأَوَّلُ أَصَحُّ لِحَدِیثِ أَبِی ذَرٍّ وَیَزِیدَ بْنِ الأَسْوَدِ۔ وَیُذْکَرُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ أَنَّہُ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ إِعَادَۃِ الصَّلاَۃِ فَقَالَ: الْمَکْتُوبَۃُ الأُولَی۔ فَکَأَنَّہُ بَلَغَہُ فِی ذَلِکَ مَا لَمْ یَبْلُغْہُ حِینَ لَمْ یَقْطَعْ فِیہَا بِشَیْئٍ ، وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۲۹۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے باوجود جماعت میں شامل ہونے کا بیان (ا) حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھا چکے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کون اس پر صدقہ کرے گا کہ اس کو جماعت کروائے تو ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے اس کے سا
(٣٦٥١) سیدنا حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کے ساتھ آئے۔ انھوں نے مقام ” مربد “ پر ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، پھر ہم مسجد میں پہنچے تو نماز کھڑی تھی۔ ہم نے حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کے ساتھ دوبارہ نماز پڑھی۔
(۳۶۵۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ: عَبْدُوسُ بْنُ الْحُسَیْنِ السِّمْسَارُ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا الأَنْصَارِیُّ یَعْنِی مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِی حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ قَالَ قَالَ أَنَسٌ: قَدِمْنَا مَعَ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ ، فَصَلَّی بِنَا الْغَدَاۃَ بِالْمِرْبَدِ ، ثُمَّ انْتَہَیْنَا إِلَی الْمَسْجِدِ ، فَأُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ فَصَلَّیْنَا مَعَ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۶۶۶۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے باوجود جماعت میں شامل ہونے کا بیان (ا) حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھا چکے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کون اس پر صدقہ کرے گا کہ اس کو جماعت کروائے تو ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے اس کے سا
(٣٦٥٢) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ (رض) اہل بصرہ کے لشکر پر نگران مقرر تھے اور حضرت نعمان بن مقرن (رض) اہل کوفہ کے لشکر پر نگران تھے۔ میں ان دونوں کے درمیان تھا۔ ان دونوں نے وعدہ کیا کہ وہ صبح مجھ سے ملنے آئیں گے۔ پھر ان میں سے ایک نے اپنے مقتدیوں کو نماز پڑھائی، پھر ہمارے پاس آکر ہمارے ساتھ بھی نماز پڑھی۔
(۳۶۵۲) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ قَالَ حَدَّثَنِی حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ قَالَ قَالَ أَنَسٌ: کَانَ أَبُو مُوسَی عَلَی جُنْدِ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ وَالنُّعْمَانُ بْنُ مُقَرِّنٍ عَلَی جُنْدِ أَہْلِ الْکُوفَۃِ ، وَکُنْتُ بَیْنَہُمَا فَتَوَاعَدَا أَنْ یَلْتَقِیَا عِنْدِی غُدْوَۃً ، فَصَلَّی أَحَدُہُمَا بِأَصْحَابِہِ ثُمَّ جَائَ فَصَلَّی مَعَنَا۔ [صحیح۔ ہذا اسناد صحیح متصل]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے بعد جماعت میں شامل نہ ہونے کا بیان اس بارے میں جو احادیث گزر چکی ہیں جن میں اس نماز کو لوٹانے کا حکم ہے جو اکیلے پڑھی گئی ہو نہ کہ اس کا جو پہلے باجماعت ادا کرچکا ہو۔
(٣٦٥٣) حضرت میمونہ (رض) کے آزاد کردہ غلام حضرت سلیمان (رض) بیان فرماتے ہیں کہ انھوں نے حضرت ابن عمر (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دن میں ایک ہی نماز کو دو مرتبہ نہ پڑھو۔
(۳۶۵۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ الْبَزَّازُ وَمُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی الْعَطَّارُ قَالاَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ زَادَ ابْنُ مُکْرَمٍ وَعَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ وَہَذَا حَدِیثُ یَزِیدَ حَدَّثَنَا حُسَیْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ مَوْلَی مَیْمُونَۃَ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((لاَ تُصَلُّوا صَلاَۃً فِی یَوْمٍ مَرَّتَیْنِ))۔

[صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۵۷۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے بعد جماعت میں شامل نہ ہونے کا بیان اس بارے میں جو احادیث گزر چکی ہیں جن میں اس نماز کو لوٹانے کا حکم ہے جو اکیلے پڑھی گئی ہو نہ کہ اس کا جو پہلے باجماعت ادا کرچکا ہو۔
(٣٦٥٤) (ا) حضرت میمونہ (رض) کے آزاد کردہ غلام حضرت سلیمان (رض) بیان فرماتے ہیں کہ میں مدینہ کے قریب بلاط نامی مقام میں حضرت ابن عمر (رض) کے پاس آیا، آپ بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ عصر کی نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے عرض کیا : اے ابوعبدالرحمن ! لوگ نماز پڑھ رہے ہیں اور آپ بیٹھے ہوئے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا : میں نماز پڑھ چکا ہوں اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک دن میں فرض نماز دو بار نہ پڑھو۔

(ب) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : یہ روایت اگر صحیح ہو تو اس کو اس پر محمول کیا جائے گا کہ اگر وہ نماز کو جماعت کے ساتھ ادا کرچکا ہو تو دوبارہ نہ پڑھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان کہ ایک دن میں ایک فرض نماز دو بار نہ پڑھی جائے کا مطلب یہ ہوگا کہ ان دونوں کو فرض سمجھتے ہوئے نہ پڑھے اور اصل بات یہ ہے کہ نماز کے اعادہ کا حکم اختیاری ہے حتمی نہیں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
(۳۶۵۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُہْلُولٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ أَخْبَرَنِی حُسَیْنُ بْنُ ذَکْوَانَ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ أَخْبَرَنِی سُلَیْمَانُ مَوْلَی مَیْمُونَۃَ قَالَ: أَتَیْتُ عَلَی ابْنِ عُمَرَ ذَاتَ یَوْمٍ وَہُوَ جَالِسٌ بِالْبَلاَطِ وَالنَّاسُ فِی صَلاَۃِ الْعَصْرِ فَقُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّاسُ فِی الصَّلاَۃِ۔ قَالَ: إِنِّی قَدْ صَلَّیْتُ ، إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((لاَ صَلاَۃَ مَکْتُوبَۃً فِی یَوْمٍ مَرَّتَیْنِ))۔

قَالَ عَلِیٌّ: تَفَرَّدَ بِہِ الْحُسَیْنُ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔

قَالَ الشَّیْخُ: وَہَذَا إِنْ صَحَّ فَمَحْمُولٌ عَلَی أَنَّہُ قَدْ کَانَ صَلاَّہَا فِی جَمَاعَۃٍ فَلَمْ یُعِدْہَا ، وَقَوْلُہُ : لاَ صَلاَۃَ مَکْتُوبَۃً فِی یَوْمٍ مَرَّتَیْنِ ۔ أَیْ کِلْتَاہُمَا عَلَی وَجْہِ الْفَرْضِ وَیَرْجِعُ ذَلِکَ عَلَی أَنَّ الأَمْرَ بِإِعَادَتِہَا اخْتِیَارٌ أَوْ لَیْسَ بِحَتْمٍ وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مریض کی نماز کا بیان
(٣٦٥٥) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھوڑے پر سوار ہوئے تو گرگئے اور آپ کے داہنے پہلو پر خراشیں آگئیں۔ ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عیادت کے لیے گئے۔ نماز کا وقت ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ہم نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے بیٹھ کر ہی نماز ادا کی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : امام صرف اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ لہٰذا جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو تم سر اٹھاؤ اور جب وہ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو تم رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔
(۳۶۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی: زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیَی الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: سَقَطَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ فَرَسٍ ، فَجُحِشَ شِقُّہُ الأَیْمَنُ فَدَخَلْنَا عَلَیْہِ نَعُودُہُ ، فَحَضَرَتِ الصَّلاَۃُ فَصَلَّی قَاعِدًا ، فَصَلَّیْنَا قُعُودًا ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلاَۃَ قَالَ : ((إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہِ ، فَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوا ، وَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا ، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا ، وَإِذَا صَلَّی قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعِینَ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ عَنْ سُفْیَانُ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ وَأَخْرَجَا ہَذِہِ الْقَصَّۃَ أَیْضًا مِنْ حَدِیثِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۷۱]
tahqiq

তাহকীক: