আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৩৬৫৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مریض کی نماز کا بیان
(٣٦٥٦) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ عیادت کے لیے آئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور صحابہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتدا میں کھڑے ہو کر نماز ادا کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں بیٹھنے کا اشارہ کیا، وہ بیٹھ گئے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : امام صرف اسی لیے ہوتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، لہٰذا جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
(۳۶۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتِ: اشْتَکَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَدَخَلَ عَلَیْہِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِہِ یَعُودُونَہُ ، فَصَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- جَالِسًا فَصَلَّوْا بِصَلاَتِہِ قِیَامًا ، فَأَشَارَ إِلَیْہِمْ أَنِ اجْلِسُوا فَجَلَسُوا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : ((إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہِ ، فَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا ، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا ، وَإِذَا صَلَّی جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ عَنْ ہِشَامٍ۔[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۶۵۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مریض کی نماز کا بیان
(٣٦٥٧) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوئے تو حضرت بلال (رض) آئے۔ انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کی اطلاع دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابوبکر (رض) سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ابوبکر (رض) کمزور دل والے ہیں وہ کیسے آپ کی جگہ پر کھڑے ہوسکتے ہیں اور نہ ہی وہ لوگوں کو (قرآن) سنا سکیں گے۔ اگر آپ عمر (رض) کو حکم دے دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابوبکر (رض) سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : میں نے حضرت حفصہ (رض) سے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہو کہ ابوبکر (رض) نرم دل ہیں، وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جگہ کیسے کھڑے ہوسکتے ہیں اور نہ ہی وہ لوگوں کو (قرائت) سنا پائیں گے، آپ اگر حضرت عمر (رض) کو کہہ دیں تو انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہہ دیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم تو یوسف والیوں کی طرح ہو، چلو جاؤ ابوبکر (رض) سے کہو۔ چنانچہ انھوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : جب آپ (رض) نے نماز شروع کردی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی طبیعت میں کچھ بہتری محسوس کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو آدمیوں کا سہارا لیتے ہوئے نکل پڑے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ٹانگیں زمین پر لگ رہی تھیں۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں داخل ہوئے تو حضرت ابوبکر (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد کو محسوس کیا اور وہ پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اشارہ کر کے کہا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور حضرت ابوبکر (رض) کی بائیں جانب جا بیٹھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے اور حضرت ابوبکر (رض) کھڑے ہو کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر (رض) کی اقتدا کر رہے تھے۔
(۳۶۵۷) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- جَائَ بِلاَلٌ یُؤْذِنُہُ بِالصَّلاَۃِ فَقَالَ : ((مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ))۔ قَالَتْ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ أَسِیفٌ ، وَإِنَّہُ مَتَی یَقُومُ مَقَامَکَ لاَ یُسْمِعِ النَّاسَ ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ۔ قَالَ : ((مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ))۔ قَالَتْ فَقُلْتُ لِحَفْصَۃَ: قُولِی لَہُ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ أَسِیفٌ ، وَإِنَّہُ مَتَی یَقُومُ مَقَامَکَ لاَ یُسْمِعُ النَّاسَ ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ۔ فَقَالَتْ لَہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّکُنَّ لأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ یُوسُفَ ، مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ))۔ قَالَتْ: فَأَمَرُوا أَبَا بَکْرٍ فَصَلَّی بِالنَّاسِ قَالَتْ: فَلَمَّا دَخَلَ فِی الصَّلاَۃِ وَجَدَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ نَفْسِہِ خِفَّۃً - قَالَتْ - فَقَامَ یُہَادَی بَیْنَ رَجُلَیْنِ وَرِجْلاَہُ تَخُطَّانِ فِی الأَرْضِ - قَالَتْ- فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ سَمِعَ أَبُوبَکْرٍ حِسَّہُ ذَہَبَ لِیَتَأَخَّرَ، فَأَوَمَأَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قُمْ مَکَانَکَ، فَجَائَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی جَلَسَ عَنْ یَسَارِ أَبِی بَکْرٍ قَالَتْ: فَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی بِالنَّاسِ جَالِسًا ، وَأَبُوبَکْرٍ قَائِمًا یَقْتَدِی أَبُو بَکْرٍ بِصَلاَۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَیَقْتَدِی النَّاسُ بِصَلاَۃِ أَبِی بَکْرٍ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۶۳۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مریض کی نماز کا بیان
(٣٦٥٨) (ا) سیدہ عائشہ (رض) بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار تھے تو آپ نے حضرت ابوبکر (رض) کو نماز پڑھانے کا حکم دیا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی طبیعت کچھ بہتر محسوس ہوئی تو آئے اور حضرت ابوبکر (رض) کے پہلو میں جا بیٹھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوبکر (رض) کو امامت کروا رہے تھے اور آپ بیٹھے تھے اور حضرت ابوبکر (رض) لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور ابوبکر کھڑے تھے۔

(ب) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایام مرض میں بیٹھ کر نماز ادا کر رہے تھے۔ اس حدیث میں اس چیز کی دلیل ہے جس کا ہم نے باب میں اشارہ کیا ہے۔ حضرت ابوبکر (رض) کے کھڑے ہونے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیٹھ کر نماز پڑھانے میں اس بات کی دلیل ہے کہ پہلا حکم منسوخ ہے اور صحیح یہ ہے کہ مقتدی کھڑا ہو کر پڑھے اگرچہ امام عذر کی وجہ سے بیٹھ کر پڑھ رہا ہو۔ وباللہ التوفیق
(۳۶۵۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ بَیَانٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَیْشِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ وَجِعًا ، فَأَمَرَ أَبَا بَکْرٍ أَنْ یُصَلِّیَ بِالنَّاسِ - قَالَتْ - فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ نَفْسِہِ خِفَّۃً ، فَجَائَ فَقَعَدَ إِلَی جَنْبِ أَبِی بَکْرٍ ، فَأَمَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَبَا بَکْرٍ وَہُوَ قَاعِدٌ ، وَأَمَّ أَبُو بَکْرٍ النَّاسَ وَہُوَ قَائِمٌ۔ لَفْظُ حَدِیثِہِمَا سَوَائٌ۔

وَفِی صَلاَتِہِ -ﷺ- جَالِسًا فِی مَرَضِہِ دِلاَلَۃٌ عَلَی مَا قَصَدْنَاہُ بِہَذَا الْبَابِ وَفِی صَلاَتِہِ بِأَبِی بَکْرٍ وَہُوَ قَاعِدٌ، وَأَبُو بَکْرٍ قَائِمٌ دِلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ الأَمْرَ الأَوَّلَ صَارَ مَنْسُوخًا وَأَنَّ الصَّحِیحَ یُصَلِّی قَائِمًا ، وَإِنْ صَلَّی إِمَامُہُ قَاعِدًا بِالْعُذْرِ ، وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مریض کی نماز کا بیان
(٣٦٥٩) حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھے بواسیر کا مرض لاحق تھا۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (نماز پڑھنے کے بارے میں) دریافت کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کھڑے ہو کر نماز پڑھو۔ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو پر لیٹ کر پڑھ لو۔
(۳۶۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الطَّالَقَانِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ طَہْمَانَ - قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَسَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَکِ یَقُولُ: کَانَ إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ ثَبَتًا فِی الْحَدِیثِ - عَنْ حُسَیْنٍ الْمُکَتِّبِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ: کَانَتْ بِی بَوَاسِیرٌ ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : ((صَلِّ قَائِمًا ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَی جَنْبٍ))۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۰۶۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مریض کی نماز کا بیان
(٣٦٦٠) ایضاً
(۳۶۶۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِیقٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ حُسَیْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- نَحْوَہُ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدَانَ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مریض کے بیٹھنے کی کیفیت کا بیان
(٣٦٦١) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چار زانو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا۔
(۳۶۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ: أَحْمَدُ بْنُ یَعْقُوبَ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ ہَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَقِیقٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی مُتَرَبِّعًا۔

وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ زُہَیْرٍ التُّسْتُرِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ قَالُوا حَدَّثَنَا یُوسُفُ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِیُّ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ عَنْ حُمَیْدٍ الطَّوِیلِ۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ النسائی فی الکبری ۱۳۶۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مریض کے بیٹھنے کی کیفیت کا بیان
(٣٦٦٢) (ا) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کو چار زانو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا۔

(ب) حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے بائیں پاؤں کو (دائیں) ران اور پنڈلی کے درمیان رکھتے اور دائیں پاؤں کو بچھا لیتے اور تشہد میں اس طرح کسی بیماری کی وجہ سے کرتے تھے۔
(۳۶۶۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ الأَصْبَہَانِیِّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَقِیقٍ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ: رَأَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- یُصَلِّی مُتَرَبِّعًا۔

وَقَدْ رُوِّینَا فِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَکِیمٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا قَعَدَ فِی الصَّلاَۃِ جَعَلَ قَدَمَہُ الْیُسْرَی بَیْنَ فَخِذِہِ وَسَاقِہِ ، وَفَرَشَ قَدَمَہُ الْیُمْنَی إِلاَّ أَنَّ ذَلِکَ فِی الْقُعُودِ لِلتَّشَہُّدِ۔ وَلَعَلَّ ذَلِکَ کَانَ مِنْ شَکْوَی وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح لغیرہ۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مریض کے بیٹھنے کی کیفیت کا بیان
(٣٦٦٣) (ا) حضرت عامر بن عبداللہ بن زبیر (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح دعا کرتے ہوئے دیکھا، پھر انھوں نے اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھا اور چار زانو ہو بیٹھے۔

(ب) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : حضرت عقبہ (رح) جو حضرت سعید بن عبید طائی (رح) کے بھائی ہیں، فرماتے ہیں کہ انھوں نے حضرت انس بن مالک (رض) کو چار زانو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا۔
(۳۶۶۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّہْرِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: رَأَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- یَدْعُو ہَکَذَا وَوَضَعَ یَدَیْہِ عَلَی رُکْبَتَیْہِ وَہُوَ مُتَرَبِّعٌ جَالِسٌ۔

قَالَ الشَّیْخُ: وَقَدْ رَوَی عُقْبَۃُ أَخُو سَعِیدِ بْنِ عُبَیْدٍ الطَّائِیِّ: أَنَّہُ رَأَی أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یُصَلِّی مُتَرَبِّعًا۔ وَرَوَاہُ أَیْضًا عَنْہُ عُمَرُ شَیْخٌ مِنَ الأَنْصَارِ۔ [قوی۔ والحدیث شاہد صحیح للذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مریض کے بیٹھنے کی کیفیت کا بیان
(٣٦٦٤) (ا) حضرت حمید طویل (رح) بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے سیدنا انس (رض) کو اپنے بستر پر چار زانو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔

(ب) امام ابو عبداللہ (رح) فرماتے ہیں : میں تو یہی جانتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث ان کے علاوہ کسی اور سے نہیں سنی۔ حضرت عباد (رح) اس حدیث کو روایت کرتے ہیں لیکن اس میں ” متربعا “ کا لفظ نہیں ہے۔
(۳۶۶۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِیٍّ الْمُقَدَّمِیُّ قَالَ سَمِعْتُ حُمَیْدَ الطَّوِیلَ قَالَ: رَأَیْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یُصَلِّی مُتَرَبِّعًا عَلَی فِرَاشِہِ۔

قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: لاَ أَعْلَمُ أَنِّی سَمِعْتُہُ إِلاَّ مِنْہُ ۔ قَالَ: وَکَانَ عَبَّادٌ یَرْوِیہِ لاَ یَقُولُ فِیہِ مُتَرَبِّعًا۔

[صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۶۱۳۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مریض کے بیٹھنے کی کیفیت کا بیان
(٣٦٦٥) (ا) حضرت قتادہ (رح) سیدنا انس (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ وہ نماز میں چار زانو ہو کر بیٹھتے تھے۔

(ب) حضرت شعبہ (رح) بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت قتادہ (رح) سے نماز میں چار زانو بیٹھنے کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا : حضرت محمد بن سیرین (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) اس طرح کرتے تھے۔

(ج) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : ہمیں ابن عمر (رض) کے واسطے سے حدیث بیان کی گئی کہ وہ صرف تشہد میں اس طرح بیٹھتے تھے اور اس میں عذر یہ پیش کیا کہ ان کی ٹانگیں ان کے وزن کی متحمل نہیں تھیں۔ اس کا ذکر ان شاء اللہ آگے آ رہا ہے۔
(۳۶۶۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ بَالَوَیْہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّہُ کَانَ یَتَرَبَّعُ فِی الصَّلاَۃِ۔

وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ: سَأَلْتُ قَتَادَۃَ عَنِ التَّرَبُّعِ فِی الصَّلاَۃِ فَقَالَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِیرِینَ: کَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ یَفْعَلُہُ۔

قَالَ الشَّیْخُ رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّہُ إِنَّمَا قَعَدَ کَذَلِکَ فِی التَّشَہُّدِ، وَاعْتَذَرَ فِی ذَلِکَ بِأَنَّ رِجْلَیْہِ لاَ تَحْمِلاَنِہِ، وَذَلِکَ یَرِدُ إِنَّ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مریض کے بیٹھنے کی کیفیت کا بیان
(٣٦٦٦) (ا) حضرت حمید طویل (رح) بیان کرتے ہیں کہ میں نے بکر بن عبداللہ کو چار زانو سہارا لے کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

(ب) حضرت مجاہد (رح) اور حضرت ابراہیم نخعی (رح) سے مریض کے بارے میں منقول ہے کہ وہ چار زانو بیٹھ کر نماز پڑھ لے۔

(ج) ہمیں ـ یہ بات بیان کی گئی ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے بھی اسی طرح کہا ہے اور حضرت ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ وہ اس کو مکروہ جانتے ہیں۔
(۳۶۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ قَالَ: رَأَیْتُ بَکْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یُصَلِّی مُتَرَبِّعًا وَمُتَّکِئًا۔

وَرُوِّینَا عَنْ مُجَاہِدٍ وَإِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ فِی الْمَرِیضِ یُصَلِّی مُتَرَبِّعًا۔

وَرُوِّینَا عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَنَّہُ فَعَلَہُ۔ وَیُذْکَرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ کَرِہَہُ۔

[صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبہ ۶۱۲۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مریض کے بیٹھنے کی کیفیت کا بیان
(٣٦٦٧) حضرت شعبہ (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے حکم سے نماز میں چار زانو بیٹھنے کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے اسے مکروہ بتایا اور فرمایا : میرا خیال ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے بھی اسے مکروہ کہا ہے۔
(۳۶۶۷) أَخْبَرَنَا الإِمَامُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَیْحِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ قَالَ: سَأَلْتُ الْحَکَمَ عَنِ التَّرَبُّعِ فِی الصَّلاَۃِ فَکَرِہَہُ وَقَالَ: أَحْسَبُ ابْنَ عَبَّاسٍ کَرِہَہُ۔

[صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۶۱۳۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مریض کے بیٹھنے کی کیفیت کا بیان
(٣٦٦٨) (ا) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ میں ایک یا دو انگاروں پر بیٹھ جاؤں یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ نماز میں چار زانو بیٹھوں۔

(ب) امام شافعی (رح) نے حضرت علی (رح) اور حضرت عبداللہ (رح) کی کتاب میں اس کو مطلقاً ذکر کیا ہے۔

(ج) حضرت ابن مسعود (رض) نماز میں چار زانو بیٹھنا ناپسند سمجھتے ہیں اور عراقیین حضرت ابن مسعود (رض) کی مخالفت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کا قیام چار زانو بیٹھنا ہے۔

(د) پھر حضرت بویطی (رح) کی کتاب میں فرماتے ہیں : قیام کی جگہ چار زانو بیٹھنا کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔ گویا انھوں نے اس کو خصوصیت پر محمول کیا ہے یا اس طرف گئے ہیں جو گزر چکا ہے۔ (واللہ اعلم)
(۳۶۶۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ حُصَیْنٍ عَنِ الْہَیْثَمِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ قَالَ: لأَنْ أَقْعُدَ عَلَی جَمْرَۃٍ أَوْ جَمْرَتَیْنِ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَقْعُدَ مُتَرَبِّعًا فِی الصَّلاَۃِ۔

وَہَذَا قَدْ حَمَلَہُ الشَّافِعِیُّ فِی کِتَابِ عَلِیٍّ وَعَبْدِ اللَّہِ عَلَی الإِطْلاَقِ

وَقَالَ: یُکْرَہُ مَا یَکْرَہُ ابْنُ مَسْعُودٍ مِنْ تَرَبُّعِ الرَّجُلِ فِی الصَّلاَۃِ وَہُمْ یَعْنِی الْعِرَاقِیِّینَ یُخَالِفُونَ ابْنَ مَسْعُودٍ وَیَقُولُونَ قِیَامُ صَلاَۃِ الْجَالِسِ التَّرَبُّعُ

ثُمَّ فِی کِتَابِ الْبُوَیْطِیِّ قَالَ: یَقْعُدُ فِی مَوْضِعِ الْقِیَامِ مُتَرَبِّعًا وَکَیْفَ أَمْکَنَہُ۔ وَکَأَنَّہُ حَمَلَہُ عَلَی الْخُصُوصِ أَوْ ذَہَبَ إِلَیْہِ بِبَعْضِ مَا مَضَی وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۶۱۳۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رکوع و سجود سے عاجز کے لیے اشارہ کرنے کا بیان
(٣٦٦٩) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مریض کی عیادت کی تو دیکھا کہ وہ تکیہ پر نماز پڑھ رہا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکیہ لے کر پھینک دیا اور اسے ایک لکڑی پکڑ لی تاکہ اس پر نماز پڑھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے وہ لکڑی بھی لے کر پھینک دی اور فرمایا : اگر طاقت ہو تو زمین پر نماز پڑھ اور اگر اس کی طاقت نہیں ہے تو اشارہ کرلے اور اپنے سجدوں کو رکوع سے نیچا رکھ۔
(۳۶۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِیِّ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْہَاشِمِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَادَ مَرِیضًا ، فَرَآہُ یُصَلِّی عَلَی وِسَادَۃٍ ، فَأَخَذَہَا فَرَمَی بِہَا ، فَأَخَذَ عُودًا لَیُصَلِّیَ عَلَیْہِ فَأَخَذَہُ فَرَمَی بِہِ وَقَالَ : ((صَلِّ عَلَی الأَرْضِ إِنِ اسْتَطَعْتَ ، وَإِلاَّ فَأَوْمِئْ إِیمَائً ، وَاجْعَلْ سُجُودَکَ أَخْفَضَ مِنْ رُکُوعِکَ))۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَحْرَانِیُّ عَنْ أَبِی بَکْرٍ الْحَنَفِیِّ۔

وَہَذَا الْحَدِیثَ یُعَدُّ فِی أَفْرَادِ أَبِی بَکْرٍ الْحَنَفِیِّ عَنِ الثَّوْرِیِّ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابونعیم فی الحلیۃ ۷/۹۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رکوع و سجود سے عاجز کے لیے اشارہ کرنے کا بیان
(٣٦٧٠) حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مریض کی عیادت کی تو دیکھا کہ وہ تکیہ پر نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکیہ پکڑ کر پھینک دیا ۔۔۔بقیہ حدیث اسی طرح ہے صرف اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا : زمین پر نماز پڑھ اگر تو طاقت رکھتا ہے۔
(۳۶۷۰) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ الْمَرْوَزِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ خُبَیْبٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَادَ مَرِیضًا فَرَآہُ یُصَلِّی عَلَی وِسَادَۃٍ ، فَأَخَذَہَا فَرَمَی بِہَا ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : ((صَلِّ بِالأَرْضِ إِنِ اسْتَطَعْتَ))۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رکوع و سجود سے عاجز کے لیے اشارہ کرنے کا بیان
(٣٦٧١) حضرت نافع (رح) سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کہا کرتے تھے : جب مریض سجدہ کرنے کی طاقت نہ رکھے تو اپنے سر سے اشارہ کرلیا کرے اور اپنی پیشانی تک کوئی چیز نہ اٹھائے۔
(۳۶۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُولُ: إِذَا لَمْ یَسْتَطِعِ الْمَرِیضُ السُّجُودُ أَوْمَأَ بِرَأْسِہِ إِیمَائً وَ لَمْ یَرْفَعْ إِلَی جَبْہَتِہِ شَیْئًا۔

کَذَلِکَ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا۔

وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَامِرٍ الأَسْلَمِیُّ عَنْ نَافِعٍ مَرْفُوعًا وَلَیْسَ بِشَیْئٍ ۔

وَقَدْ رُوِیَ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۴۰۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رکوع و سجود سے عاجز کے لیے اشارہ کرنے کا بیان
(٣٦٧٢) حضرت جبلہ (رح) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) سے کسی نے تکیے پر نماز پڑھنے کے بارے میں دریافت کیا، میں بھی سن رہا تھا، انھوں نے فرمایا : اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بناؤ یا فرمایا : اللہ کے ساتھ شریک نہ بناؤ اور بیٹھ کر نماز پڑھو اور زمین پر سجدہ کرو۔ اگر اس کی ہمت نہ ہو تو اشارے سے رکوع و سجود کرو اور سجدوں میں رکوع سے زیادہ نیچے جھکو۔
(۳۶۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ جَبَلَۃَ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ الصَّلاَۃِ عَلَی الْمَرْوَحَۃِ فَقَالَ: لاَ تَتَّخِذُ مَعَ اللَّہِ إِلَہًا آخَرَ ، أَوْ قَالَ: لاَ تَتَّخِذُ لِلَّہِ أَنْدَادًا ، صَلِّ قَاعِدًا وَاسْجُدْ عَلَی الأَرْضِ ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَأَوْمِئْ إِیمَائً ، وَاجْعَلِ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّکُوعِ۔ [صحیح۔ ہذا اسناد صحیح متصل]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رکوع و سجود سے عاجز کے لیے اشارہ کرنے کا بیان
(٣٦٧٣) حضرت علقمہ (رض) بیان فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے ساتھ ان کے بھائی حضرت عتبہ (رض) کے پاس گیا۔ وہ بیمار تھے۔ حضرت عبداللہ (رض) نے اپنے بھائی کو تکیے پر سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تو اس کو کھینچ لیا اور فرمایا : زمین پر سجدہ کرو، اگر اس کی قدرت نہ ہو تو اشارہ کرلو اور سجدوں کو رکوع سے پست رکھو۔
(۳۶۷۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو: مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ زَیْدِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّہِ عَلَی أَخِیہِ عُتْبَۃَ نَعُودُہُ وَہُوَ مَرِیضٌ ، فَرَأَی مَعَ أَخِیہِ مَرْوَحَۃً یَسْجُدُ عَلَیْہَا فَانْتَزَعَہَا مِنْہُ عَبْدُ اللَّہِ وَقَالَ: اسْجُدْ عَلَی الأَرْضِ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَأَوْمِئْ إِیمَائً ، وَاجْعَلِ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّکُوعِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ زمین پر تکیہ وغیرہ رکھ کر سجدہ کرنے کا حکم
(٣٦٧٤) حضرت ام الحسن (رض) سے روایت ہے کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ (رض) کو آشوبِ چشم کے مرض کی وجہ سے چمڑے کے سرہانے پر سجدہ کرتے دیکھا۔

(٣٦٧٥) (ا) حضرت ام الحسن (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے ام المومنین حضرت ام سلمہ (رض) کو آنکھوں کی تکلیف کی وجہ سے تکیہ پر نماز پڑھتے دیکھا۔
(۳۶۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَغَیْرُہُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا الثِّقَۃُ عَنْ یُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّہِ قَالَتْ: رَأَیْتُ أُمَّ سَلَمَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- تَسْجُدُ عَلَی وِسَادَۃٍ مِنْ أَدَمٍ مِنْ رَمَدٍ بِہَا۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابن الجعد ۳۱۸۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ زمین پر تکیہ وغیرہ رکھ کر سجدہ کرنے کا حکم
(٣٦٧٥) (ا) حضرت ام الحسن (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے ام المومنین حضرت ام سلمہ (رض) کو آنکھوں کی تکلیف کی وجہ سے تکیہ پر نماز پڑھتے دیکھا۔

(ب) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے تکیہ اور گدے پر سجدوں کے بارے رخصت دی ہے۔
(۳۶۷۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَیْبَانَ الْہَرَوِیُّ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا کَامِلُ بْنُ طَلْحَۃَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ وَعَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ وَیُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّ الْحَسَنِ: أَنَّہَا رَأَتْ أُمَّ سَلَمَۃَ تُصَلِّی عَلَی وِسَادَۃٍ مِنْ رَمَدٍ کَانَ بِعَیْنِہَا۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا کَامِلٌ حَدَّثَنَا مُبَارَکُ بْنُ فَضَالَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّہِ بِمِثْلِہِ۔

وَرُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّہُ رَخَّصَ فِی السُّجُودِ عَلَی الْوِسَادَۃِ وَالْمِخَدَّۃِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক: