আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৬৬ টি
হাদীস নং: ৩৬৭৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ زمین پر تکیہ وغیرہ رکھ کر سجدہ کرنے کا حکم
(٣٦٧٦) حضرت ابواسحق (رح) بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عدی بن حاتم (رح) کو مسجد میں دیوار پر سجدہ کرتے دیکھا جس کی اونچائی تقریباً ایک ہاتھ تھی۔
(۳۶۷۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا بَکْرُ بْنُ بَکَّارٍ أَبُو عَمْرٍو حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ: رَأَیْتُ عَدِیَّ بْنَ حَاتِمٍ یَسْجُدُ عَلَی جِدَارٍ فِی الْمَسْجِدِ ارْتِفَاعُہُ قَدْرُ ذِرَاعٍ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ زمین پر تکیہ وغیرہ رکھ کر سجدہ کرنے کا حکم
(٣٦٧٧) حضرت مجزاۃ بن زاہر (رح) اصحابِ شجرۃ میں سے ایک شخص سے نقل کرتے ہیں جس کا نام حضرت اہبان بن اوس (رض) تھا، وہ اپنے گھنٹوں میں تکلیف محسوس کرتے تو سجدہ کرتے وقت اپنے گھٹنوں کے نیچے تکیہ رکھ لیتے تھے۔
(۳۶۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ ہُوَ ابْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ إِسْرَائِیلَ حَدَّثَنَا مَجْزَأَۃُ بْنُ زَاہِرٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْہُمْ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَۃِ اسْمُہُ أُہْبَانُ بْنُ أَوْسٍ وَکَانَ یَشْتَکِی رُکْبَتَہُ أَوْ رُکْبَتَیْہِ ، فَکَانَ إِذَا سَجَدَ جَعَلَ تَحْتَ رُکْبَتَیْہِ وِسَادَۃً۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ أَبِی عَامِرٍ الْعَقَدِیِّ عَنْ إِسْرَائِیلَ۔[صحیح۔اخرجہ البخاری۳۹۴۰]
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ أَبِی عَامِرٍ الْعَقَدِیِّ عَنْ إِسْرَائِیلَ۔[صحیح۔اخرجہ البخاری۳۹۴۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ پہلو کے بل یا چت لیٹ کر نماز پڑھنے کی کیفیت کا بیان اور یہ محل نظر ہے
(٣٦٧٨) حضرت حسین بن علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مریض اگر قدرت رکھتا ہو تو کھڑا ہو کر نماز پڑھے۔ اگر اتنی قدرت نہیں رکھتا تو بیٹھ کرا ور اگر سجدے کی قدرت نہ ہو تو اشارہ کرلے۔ سجدوں کے اشاروں کو رکوع کے اشاروں سے تھوڑا نیچے رکھے۔ اگر بیٹھ کر نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تو دائیں پہلو پر قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھے اور اگر دائیں پہلو پر لیٹ کر نماز پڑھنے کی ہمت بھی نہیں پاتا تو چت لیٹ کر نماز پڑھ لے، اس صورت میں اس کی ٹانگیں قبلہ کی طرف ہونی چاہئیں۔
(۳۶۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ بَطْحَائَ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَکَمِ الْحِیرِیُّ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ حُسَیْنٍ الْعُرَنِیُّ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ عَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((یُصَلِّی الْمَرِیضُ قَائِمًا إِنِ اسْتَطَاعَ ، فَإِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ صَلَّی قَاعِدًا ، فَإِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ أَنْ یَسْجُدَ أَوْمَأَ ، وَجَعَلَ سُجُودَہُ أَخْفَضَ مِنْ رُکُوعِہِ ، فَإِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ أَنْ یُصَلِّی قَاعِدًا صَلَّی عَلَی جَنْبِہِ الأَیْمَنِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ ، فَإِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ أَنْ یُصَلِّیَ عَلَی جَنْبِہِ الأَیْمَنِ صَلَّی مُسْتَلْقِیًا رِجْلُہُ مِمَّا یَلِی الْقِبْلَۃَ))۔
[ضعیف جدا۔ اخرجہ الدارقطنی ۲/۴۲]
[ضعیف جدا۔ اخرجہ الدارقطنی ۲/۴۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ پہلو کے بل یا چت لیٹ کر نماز پڑھنے کی کیفیت کا بیان اور یہ محل نظر ہے
(٣٦٧٩) سیدنا نافع (رض) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ مریض اپنی گدی پر چت لیٹ کر نماز پڑھے اور اس کے پاؤں قبلہ رخ ہوں۔ یہ روایت موقوف ہے۔
(ب) اور یہ حدیث اس صورت پر محمول ہے جب پہلو پر لیٹنے سے بھی عاجز آجائے۔ وباللہ التوفیق
(ب) اور یہ حدیث اس صورت پر محمول ہے جب پہلو پر لیٹنے سے بھی عاجز آجائے۔ وباللہ التوفیق
(۳۶۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ یَزِیدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ: یُصَلِّی الْمَرِیضُ مُسْتَلْقِیًا عَلَی قَفَاہُ تَلِی قَدَمَاہُ الْقِبْلَۃَ۔ وَہَذَا مَوْقُوفٌ۔
وَہُوَ مَحْمُولٌ عَلَی مَا لَوْ عَجَزَ عَنِ الصَّلاَۃِ عَلَی جَنْبِہِ ، وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ عبدالرزاق ۴۱۳۰]
وَہُوَ مَحْمُولٌ عَلَی مَا لَوْ عَجَزَ عَنِ الصَّلاَۃِ عَلَی جَنْبِہِ ، وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ عبدالرزاق ۴۱۳۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام کے ساتھ قیام کی قدرت نہ ہونے پر تنہا کھڑا ہو کر نماز پڑھنے کا بیان
(٣٦٨٠) حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کھڑا ہو کر نماز پڑھنا افضل ہے اور بیٹھ کر نماز پڑھنے میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی نسبت آدھا ثواب ملتا ہے اور لیٹ کر نماز پڑھنے کی صورت میں بیٹھ کر نماز پڑھنے کی نسبت آدھا ثواب ملتا ہے۔
(۳۶۸۰) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ الْفَحْامُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا حُسَیْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ صَلاَۃِ الْقَاعِدِ فَقَالَ -ﷺ- : ((مَنْ صَلَّی قَائِمًا فَہُوَ أَفْضَلُ ، وَمَنْ صَلَّی قَاعِدًا فَلَہُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ ، وَمَنْ صَلَّی نَائِمًا فَلَہُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ)) ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ حُسَیْنٍ الْمُعَلِّمِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۰۶۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام کے ساتھ قیام کی قدرت نہ ہونے پر تنہا کھڑا ہو کر نماز پڑھنے کا بیان
(٣٦٨١) حضرت انس بن سیرین (رح) بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ انصار کے ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : میں آپ کے ساتھ کھڑا ہو کر (باجماعت) نماز ادا نہیں کرسکتا۔ وہ شخص بھاری جسم والا تھا۔ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کھانا تیار کیا، آپ کو اپنے گھر بلایا اور آپ کے لیے چٹائی بچھائی اور چٹائی کے کنارے کو جھاڑا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر دو رکعتیں ادا کیں۔ آل جارود میں سے ایک آدمی نے سیدنا انس بن مالک (رض) سے کہا : کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چاشت کی نماز پڑھتے تھے ؟ انھوں نے فرمایا : میں نے اس دن کے علاوہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کبھی بھی چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔
(۳۶۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْقَاسِمِ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الأَسَدِیُّ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِیرِینَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- : إِنِّی لاَ أَسْتَطِیعُ الصَّلاَۃَ مَعَکَ۔ قَالَ وَکَانَ رَجُلاً ضَخْمًا فَصَنَعَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- طَعَامًا ، فَدَعَاہُ إِلَی مَنْزِلِہِ وَبَسَطَ لَہُ حَصِیرًا ، وَنَضَحَ طَرَفَ الْحَصِیرِ ، فَصَلَّی عَلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- رَکْعَتَیْنِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُودِ لأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: أَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی الضُّحَی؟ فَقَالَ: مَا رَأَیْتُہُ صَلاَّہَا إِلاَّ یَوْمَئِذٍ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۶۳۹]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۶۳۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب تک کھڑا ہونے کی طاقت ہے تو کھڑا رہے، اگر تھک جائے تو بیٹھ کر پڑھ لے
(٣٦٨٢) ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھ کر نماز پڑھتے اور اسی حالت میں قراءت کرتے رہے، جب تیس یا چالیس آیات باقی رہ جاتیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوجاتے اور حالت قیام میں ان کی تلاوت کرتے، پھر رکوع اور سجدہ کرتے۔ پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے تھے۔
(۳۶۸۲) اسْتِدْلاَلاً بِمَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ وَأَبِی النَّضْرِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یُصَلِّی جَالِسًا فَیَقْرَأُ وَہُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا بَقِیَ مِنْ قِرَائَ تِہِ قَدْرَ مَا یَکُونُ ثَلاَثِینَ أَوْ أَرْبَعِینَ آیَۃً قَامَ فَقَرَأَ وَہُوَ قَائِمٌ ، ثُمَّ رَکَعَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ یَفْعَلُ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ مِثْلَ ذَلِکَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔[اخرجہ البخاری ۱۰۶۷]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔[اخرجہ البخاری ۱۰۶۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ آشوبِ چشم کے مریض کے لیے حکم
(٣٦٨٣) حضرت عمرو (رض) سے روایت ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی آنکھوں سے (بیماری کی وجہ سے) پانی نکلنے لگا تو انھوں نے اس کا علاج کروانا چاہا، انھیں کہا گیا کہ آپ کو اتنے دن بطور پرہیز لیٹ کر نماز پڑھنا ہوگی تو انھوں نے اس سے انکار دیا۔
(۳۶۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ الرَّبِیعِ الْمَکِّیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ: لَمَّا وَقَعَ فِی عَیْنَیِ ابْنِ عَبَّاسٍ الْمَائُ أَرَادَ أَنْ یُعَالَجَ مِنْہُ ، فَقِیلَ لَہُ تَمْکُثُ کَذَا وَکَذَا یَوْمًا لاَ تُصَلِّی إِلاَّ مُضْطَجِعًا فَکَرِہَہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن الجعد ۲۳۳۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ آشوبِ چشم کے مریض کے لیے حکم
(٣٦٨٤) حضرت عکرمہ (رض) بیان فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) کو جب آشوب چشم کا مرض لاحق ہوا تو انھیں کہا گیا کہ آپ کو سات دن آرام کرنا ہوگا اور نماز بھی چت لیٹ کر ہی ادا کرنا ہوگی۔ حضرت ابن عباس (رض) نے اس کو ناپسند کیا اور فرمایا : مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ جو آدمی قدرت رکھنے کے باوجود نماز نہ پڑھے تو جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملے گا تو اللہ اس سے ناراض ہوگا۔
(۳۶۸۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ: أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ لَمَّا سَقَطَ فِی عَیْنَیْہِ الْمَائُ أَرَادَ أَنْ یُخْرِجَہُ مِنْ عَیْنَیْہِ ، فَقِیلَ لَہُ: إِنَّکَ تَسْتَلْقِی سَبْعَۃَ أَیَّامٍ لاَ تُصَلِّی إِلاَّ مُسْتَلْقِیًا۔ قَالَ: فَکَرِہَ ذَلِکَ وَقَالَ: إِنَّہُ بَلَغَنِی أَنَّہُ مَنْ تَرَکَ الصَّلاَۃَ وَہُوَ یَسْتَطِیعُ أَنْ یُصَلِّیَ لَقِیَ اللَّہَ تَعَالَی وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ۔
[حسن لغیرہ۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۶۲۸۵]
[حسن لغیرہ۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۶۲۸۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ آشوبِ چشم کے مریض کے لیے حکم
(٣٦٨٥) (ا) حضرت ابوضحی (رح) سے روایت ہے کہ حضرت عبدالملک (رح) یا کسی اور نے سیدنا ابن عباس (رض) کے پاس طبیبوں کو دھاری دار چادر دے کر بھیجا ان کی آنکھوں میں پانی اتر چکا تھا طبیبوں نے کہا : آپ کو سات دن تک لیٹ کر نماز ادا کرنا ہوگی تو انھوں نے ام المومنین حضرت ام سلمہ اور حضرت عائشہ (رض) سے اس بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے منع کردیا۔
(ب) حضرت مسیب بن رافع (رح) سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اگر موت اس سے پہلے ہی آجائے تو تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے ؟
(ب) حضرت مسیب بن رافع (رح) سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اگر موت اس سے پہلے ہی آجائے تو تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے ؟
(۳۶۸۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِی الضُّحَی: أَنَّ عَبْدَ الْمَلِکِ أَوْ غَیْرَہُ بَعَثَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ بِالأَطِبَّائِ عَلَی الْبُرُدِ وَقَدْ وَقَعَ الْمَائُ فِی عَیْنَیْہِ ، فَقَالُوا: تُصَلِّی سَبْعَۃَ أَیَّامٍ مُسْتَلْقِیًا عَلَی قَفَاکَ ، فَسَأَلَ أُمَّ سَلَمَۃَ وَعَائِشَۃَ عَنْ ذَلِکَ فَنَہَتَاہُ۔
وَعَنْ سُفْیَانَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنِ الْمُسَیَّبِ بْنِ رَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: أَرَأَیْتَ إِنْ کَانَ الأَجَلُ قَبْلَ ذَلِکَ۔
[ضعیف۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۶۲۸۵]
وَعَنْ سُفْیَانَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنِ الْمُسَیَّبِ بْنِ رَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: أَرَأَیْتَ إِنْ کَانَ الأَجَلُ قَبْلَ ذَلِکَ۔
[ضعیف۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۶۲۸۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ دوران قراءت آیت رحمت، آیت عذاب اور آیت تسبیح پر ٹھہرنے کا بیان
(٣٦٨٦) حضرت حذیفہ (رض) بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے سورة بقرہ شروع کی تو میں نے (دل میں) کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو ایک رکعت میں پڑھیں گے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پڑھتے چلے گئے۔ میں نے کہا : اس میں رکوع کریں گے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة نساء شروع کردی اور پوری پڑھ ڈالی، پھر سورة آل عمران شروع کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آہستہ آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ رہے تھے۔ جب کسی ایسی آیت پر پہنچتے جس میں تسبیح ہو تو سبحان اللہ کہتے اور جب کسی سوال والی آیت کے پاس سے گزرتے تو سوال کرتے اور جب پناہ والی آیت آتی تو پناہ مانگتے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکوع کیا تو رکوع میں ( (سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیمِ ) ) پڑھتے رہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رکوع بھی آپ کے قیام کے برابر تھا۔ پھر ( (سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ) ) پڑھا ، پھر جتنی دیر رکوع کیا تھا اس کے قریب قریب قومہ کیا، پھر سجدہ کیا تو یہ پڑھتے رہے : ( (سُبْحَانَ رَبِّیَ الأَعْلَی) ) ۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سجدے بھی تقریباً آپ کے قیام کے برابر تھے۔
(۳۶۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الدَّقْاقُ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ الْفِرْیَابِیُّ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ عَنْ صِلَۃَ بْنِ زُفَرَ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَافْتَتَحَ الْبَقَرَۃَ فَقُلْتُ یُصَلِّی بِہَا فِی رَکْعَۃٍ ، ثُمَّ مَضَی فَقُلْتُ یَرْکَعُ بِہَا ، ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَائَ فَقَرَأَہَا ، ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَہَا ، یَقْرَأُ مُتَرَسِّلاً إِذَا مَرَّ بِآیَۃٍ فِیہَا تَسْبِیحٌ سَبَّحَ ، وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ ، وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ ، ثُمَّ رَکَعَ فَقَالَ : ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیمِ))۔ فَکَانَ رُکُوعُہُ نَحْوًا مِنْ قِیَامِہِ ، ثُمَّ قَالَ : ((سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ))۔ ثُمَّ قَامَ قَرِیبًا مِمَّا رَکَعَ ، ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ : ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الأَعْلَی))۔ فَکَانَ سُجُودُہُ قَرِیبًا مِنْ قِیَامِہِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۷۷۲]
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ عَنْ صِلَۃَ بْنِ زُفَرَ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَافْتَتَحَ الْبَقَرَۃَ فَقُلْتُ یُصَلِّی بِہَا فِی رَکْعَۃٍ ، ثُمَّ مَضَی فَقُلْتُ یَرْکَعُ بِہَا ، ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَائَ فَقَرَأَہَا ، ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَہَا ، یَقْرَأُ مُتَرَسِّلاً إِذَا مَرَّ بِآیَۃٍ فِیہَا تَسْبِیحٌ سَبَّحَ ، وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ ، وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ ، ثُمَّ رَکَعَ فَقَالَ : ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیمِ))۔ فَکَانَ رُکُوعُہُ نَحْوًا مِنْ قِیَامِہِ ، ثُمَّ قَالَ : ((سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ))۔ ثُمَّ قَامَ قَرِیبًا مِمَّا رَکَعَ ، ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ : ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الأَعْلَی))۔ فَکَانَ سُجُودُہُ قَرِیبًا مِنْ قِیَامِہِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۷۷۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ دوران قراءت آیت رحمت، آیت عذاب اور آیت تسبیح پر ٹھہرنے کا بیان
(٣٦٨٧) حضرت شعبہ (رح) بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سلیمان اعمش (رح) سے پوچھا : جب میں نماز کے دوران ڈرانے والی آیت پڑھوں تو کیا دعا کرسکتا ہوں ؟ انھوں نے مجھے اس سند سے حدیث بیان کی۔۔۔
حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رکوع میں ( (سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیمِ ) ) اور سجدوں میں ( (سُبْحَانَ رَبِّیَ الأَعْلَی) ) پڑھتے تھے اور جب کسی رحمت والی آیت پر پہنچتے تو وہاں رک کر رحمت کا سوال کرتے اور جب کسی عذاب والی آیت پر پہنچتے تو وہاں ٹھہر کر عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرتے۔
حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رکوع میں ( (سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیمِ ) ) اور سجدوں میں ( (سُبْحَانَ رَبِّیَ الأَعْلَی) ) پڑھتے تھے اور جب کسی رحمت والی آیت پر پہنچتے تو وہاں رک کر رحمت کا سوال کرتے اور جب کسی عذاب والی آیت پر پہنچتے تو وہاں ٹھہر کر عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرتے۔
(۳۶۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ قُلْتُ لِسُلَیْمَانَ یَعْنِی الأَعْمَشَ: أَدْعُو فِی الصَّلاَۃِ إِذَا مَرَرْتُ بِآیَۃِ تَخَوُّفٍ؟ فَحَدَّثَنِی عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ عَنْ مُسْتَوْرِدٍ عَنْ صِلَۃَ بْنِ زُفَرَ عَنْ حُذَیْفَۃَ: أَنَّہُ صَلَّی مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَکَانَ یَقُولُ فِی رُکُوعِہِ : ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیمِ))۔ وَفِی سُجُودِہِ : ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الأَعْلَی))۔ وَمَا مَرَّ بِآیَۃِ رَحْمَۃٍ إِلاَّ وَقَفَ عِنْدَہَا فَسَأَلَ ، وَلاَ بِآیَۃِ عَذَابٍ إِلاَّ وَقَفَ عِنْدَہَا فَتَعَوَّذَ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ وہذا الفظ ابی داود ۸۷۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ دوران قراءت آیت رحمت، آیت عذاب اور آیت تسبیح پر ٹھہرنے کا بیان
(٣٦٨٨) حضرت مسلم بن مخراق (رح) بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ (رض) سے عرض کیا : کچھ لوگ ایک رات میں دو دو، تین تین مرتبہ مکمل قرآن پڑھتے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا : ان کا پڑھنا اور نہ پڑھنا برابر ہے۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ پوری رات قیام کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة بقرہ، آل عمران اور نساء پڑھیں۔ جب آپ کسی خوشخبری والی آیت سے گزرتے تو دعا اور رغبت کرتے اور جب کسی ایسی آیت پر پہنچتے جس میں ڈرانا ہوتا تو بھی دعا کرتے اور پناہ مانگتے۔
(۳۶۸۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا أَبِی قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ أَیُّوبَ یُحَدِّثُ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ یَزِیدَ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ زِیَادِ بْنِ نُعَیْمٍ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مِخْرَاقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا: إِنَّ رِجَالاً یَقْرَأُ أَحَدُہُمُ الْقُرْآنَ فِی اللَّیْلَۃِ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَقَالَتْ: أُولَئِکَ قَرَئُ وا وَلَمْ یَقْرَئُ وا ، کُنْتُ أَقُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی اللَّیْلِ التَّامِّ فَیَقْرَأُ بِالْبَقَرَۃِ وَآلِ عِمْرَانَ وَالنِّسَائِ ، فَإِذَا مَرَّ بِآیَۃٍ فِیہَا اسْتِبْشَارٌ دَعَا وَرَغَّبَ ، وَإِذَا مَرَّ بِآیَۃٍ فِیہَا تَخْوِیفٌ دَعَا وَاسْتَعَاذَ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابو یعلی ۴۸۴۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ دوران قراءت آیت رحمت، آیت عذاب اور آیت تسبیح پر ٹھہرنے کا بیان
(٣٦٨٩) حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) سے روایت ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ قیام کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیام میں سورة بقرۃ پڑھی، جب رحمت والی آیت سے گذرتے تو رک کر اللہ سے رحمت کا سوال کرتے اور عذاب والی آیت سے گزرتے تو رک کر اللہ سے پناہ مانگتے۔ پھر قیام کے برابر رکوع کرتے اور رکوع میں پڑھتے : سُبْحَانَ ذِی الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَکُوتِ وَالْکِبْرِیَائِ وَالْعَظَمَۃ، ” پاک ہے، بہت غلبے، بڑی بادشاہت، بڑائی اور عظمت والا ہے۔ “ پھر اپنے قیام کے برابر سجدہ کرتے اور اپنے سجدوں میں بھی اسی طرح دعا پڑھتے، پھر کھڑے ہوئے اور (دوسری رکعت میں) آل عمران کی قراءت کی پھر ایک ایک سورت پڑھی۔
(۳۶۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَیْسٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ قَالَ: قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- لَیْلَۃً ، فَقَامَ فَقَرَأَ سُورَۃَ الْبَقَرَۃِ ، لاَ یَمُرُّ بِآیَۃِ رَحْمَۃٍ إِلاَّ وَقَفَ فَسَأَلَ ، وَلاَ یَمُرُّ بِآیَۃِ عَذَابٍ إِلاَّ وَقَفَ فَتَعَوَّذَ - قَالَ - ثُمَّ رَکَعَ بِقَدْرِ قِیَامِہِ یَقُولُ فِی رُکُوعِہِ : ((سُبْحَانَ ذِی الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَکُوتِ وَالْکِبْرِیَائِ وَالْعَظَمَۃِ))۔ ثُمَّ سَجَدَ بِقَدْرِ قِیَامِہِ ، ثُمَّ قَالَ فِی سُجُودِہِ مِثْلَ ذَلِکَ ، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ بِآلِ عِمْرَانَ ، ثُمَّ قَرَأَ سُورَۃً سُورَۃً۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۸۷۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ دوران قراءت آیت رحمت، آیت عذاب اور آیت تسبیح پر ٹھہرنے کا بیان
(٣٦٩٠) حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ (رح) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نفل نماز ادا کر رہے تھے، میں نے سنا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ رہے تھے : اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ النَّارِ ، وَیْلٌ لأَہْلِ النَّارِ ۔ اے اللہ ! میں آگ کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ آگ والوں کے لیے ہلاکت و بربادی ہے۔
(۳۶۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ أَبِیہِ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی تَطَوُّعًا فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ : ((اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ النَّارِ ، وَیْلٌ لأَہْلِ النَّارِ))۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۸۸۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ دوران قراءت آیت رحمت، آیت عذاب اور آیت تسبیح پر ٹھہرنے کا بیان
(٣٦٩١) (ا) حضرت ابن عباس (رض) بیان فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی } [الاعلیٰ : ١] پڑھتے تو ( (سُبْحَانَ رَبِّی الأَعْلَی) ) کہتے۔
(ب) حضرت ابوداؤد (رح) بیان کرتے ہیں : اس حدیث میں حضرت وکیع (رح) کی مخالفت کی گئی ہے اور اس حدیث کو حضرت ابو وکیع (رح) اور حضرت شعبہ (رح) نے حضرت ابواسحق (رح) کے واسطے سے حضرت سعید بن جبیر (رح) اور سیدنا ابن عباس (رض) کی سند سے موقوف روایت کیا ہے۔
(ب) حضرت ابوداؤد (رح) بیان کرتے ہیں : اس حدیث میں حضرت وکیع (رح) کی مخالفت کی گئی ہے اور اس حدیث کو حضرت ابو وکیع (رح) اور حضرت شعبہ (رح) نے حضرت ابواسحق (رح) کے واسطے سے حضرت سعید بن جبیر (رح) اور سیدنا ابن عباس (رض) کی سند سے موقوف روایت کیا ہے۔
(۳۶۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ إِسْرَائِیلَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِینِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ إِذَا قَرَأَ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی} قَالَ : ((سُبْحَانَ رَبِّی الأَعْلَی))۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ: خُولِفَ وَکِیعٌ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ رَوَاہُ أَبُو وَکِیعٍ وَشُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۸۸۳]
قَالَ أَبُو دَاوُدَ: خُولِفَ وَکِیعٌ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ رَوَاہُ أَبُو وَکِیعٍ وَشُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۸۸۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ دوران قراءت آیت رحمت، آیت عذاب اور آیت تسبیح پر ٹھہرنے کا بیان
(٣٦٩٢) حضرت موسیٰ بن ابی عائشہ (رض) بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص اپنے گھر کی چھت پر نماز پڑھ رہا تھا۔ جب اس نے { أَلَیْسَ ذَلِکَ بِقَادِرٍ عَلٰی أَنْ یُحْیِیَ الْمَوْتٰی } [القیامۃ : ٤٠] ” کیا اللہ تعالیٰ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کرے۔ “ پڑھا تو اس نے کہا : سُبْحَانَکَ فَبَلَی ” پاک ہے تو اور قادر ہے۔ لوگوں نے اس سے اس کے متعلق دریافت کیا تو اس نے بتایا : میں نے اسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے۔
(۳۶۹۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِی عَائِشَۃَ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ یُصَلِّی فَوْقَ بَیْتِہِ ، فَکَانَ إِذَا قَرَأَ {أَلَیْسَ ذَلِکَ بِقَادِرٍ عَلَی أَنْ یُحْیِیَ الْمَوْتَی} [القیامۃ: ۴۰] قَالَ: سُبْحَانَکَ فَبَلَی۔ فَسَأَلُوہُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ: سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۸۸۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ دوران قراءت آیت رحمت، آیت عذاب اور آیت تسبیح پر ٹھہرنے کا بیان
(٣٦٩٣) (ا) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے جو شخص { والتین والزتیون۔} (التین : ١) پڑھے اور اس کی آخری آیت { أَلَیْسَ اللَّہُ بِأَحْکَمِ الْحَاکِمِیْنَ } (التین : ٨) ” کیا اللہ تعالیٰ سب فیصلہ کرنے والوں سے بڑھ کر فیصلہ کرنے والا نہیں ہے ؟ “ پر پہنچے تو وہ ” بلی وانا علی ذالک من الشاہدین “ کہے اور جو شخص { لاَ أُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ } (القیامۃ : ١) پڑھے اور اس کی آیت { أَلَیْسَ ذَلِکَ بِقَادِرٍ عَلَی أَنْ یُحْیِیَ الْمَوْتَی } [القیامۃ : ٤٠] ” کیا اللہ تعالیٰ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کرے۔ “ پر پہنچے تو وہ کہے ” بلی “ اور جو شخص { وَالْمُرْسَلاَتِ } پڑھے اور وہ { فَبِأَیِّ حَدِیثٍ بَعْدَہُ یُؤْمِنُونَ } ” اس کے بعد اور کونسی بات پر وہ ایمان لائیں گے ؟ “ پر پہنچے تو وہ کہے ” آمنا باللہ “
(ب) حضرت اسماعیل بن امیہ (رح) بیان فرماتے ہیں : میں اس دیہاتی شخص کے پاس گیا تاکہ اس سے دوبارہ وہ حدیث سن سکوں کہیں وہ غلطی نہ کر دے ۔ اس دیہاتی نے کہا : بھتیجے ! آپ کا کیا خیال ہے مجھے وہ حدیث یاد نہیں میں نے ساٹھ حج کیے ہیں، ان میں سے ایک حج بھی ایسا نہیں کہ جس اونٹ پر میں نے وہ حج کیا ہو اور میں اس اونٹ کو پہچان نہ سکوں۔
(ب) حضرت اسماعیل بن امیہ (رح) بیان فرماتے ہیں : میں اس دیہاتی شخص کے پاس گیا تاکہ اس سے دوبارہ وہ حدیث سن سکوں کہیں وہ غلطی نہ کر دے ۔ اس دیہاتی نے کہا : بھتیجے ! آپ کا کیا خیال ہے مجھے وہ حدیث یاد نہیں میں نے ساٹھ حج کیے ہیں، ان میں سے ایک حج بھی ایسا نہیں کہ جس اونٹ پر میں نے وہ حج کیا ہو اور میں اس اونٹ کو پہچان نہ سکوں۔
(۳۶۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّہْرِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ أُمَیَّۃَ قَالَ سَمِعْتُ أَعْرَابِیًّا یَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ قَرَأَ مِنْکُمْ بِالتِّینِ وَالزَّیْتُونِ فَانْتَہَی إِلَی آخِرِہَا {أَلَیْسَ اللَّہُ بِأَحْکَمِ الْحَاکِمِینَ} فَلْیَقُلْ: وَأَنَا عَلَی ذَلِکَ مِنَ الشَّاہِدِینَ ، وَمَنْ قَرَأَ {لاَ أُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ} فَانْتَہَی إِلَی {أَلَیْسَ ذَلِکَ بِقَادِرٍ عَلَی أَنْ یُحْیِیَ الْمَوْتَی} [القیامۃ: ۴۰] فَلْیَقُلْ بَلَی ، وَمَنْ قَرَأَ {وَالْمُرْسَلاَتِ} فَبَلَغَ {فَبِأَیِّ حَدِیثٍ بَعْدَہُ یُؤْمِنُونَ} فَلْیَقُلْ: آمَنَّا بِاللَّہِ))۔
قَالَ إِسْمَاعِیلُ: ذَہَبْتُ أُعِیدُ عَلَی الرَّجُلِ الأَعْرَابِیِّ وَأَنْظُرُ لَعَلَّہُ ، قَالَ: یَا ابْنَ أَخِی أَتَظُنُّ أَنِّی لَمْ أَحْفَظْہُ ، لَقَدْ حَجَجْتُ سِتِّینَ حَجَّۃً مَا مِنْہَا حَجَّۃٌ إِلاَّ وَأَنَا أَعْرِفُ الْبَعِیرَ الَّذِی حَجَجْتُ عَلَیْہِ۔
[ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۸۸۷]
قَالَ إِسْمَاعِیلُ: ذَہَبْتُ أُعِیدُ عَلَی الرَّجُلِ الأَعْرَابِیِّ وَأَنْظُرُ لَعَلَّہُ ، قَالَ: یَا ابْنَ أَخِی أَتَظُنُّ أَنِّی لَمْ أَحْفَظْہُ ، لَقَدْ حَجَجْتُ سِتِّینَ حَجَّۃً مَا مِنْہَا حَجَّۃٌ إِلاَّ وَأَنَا أَعْرِفُ الْبَعِیرَ الَّذِی حَجَجْتُ عَلَیْہِ۔
[ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۸۸۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ دوران قراءت آیت رحمت، آیت عذاب اور آیت تسبیح پر ٹھہرنے کا بیان
(٣٦٩٤) (ا) حضرت عبد خیر (رح) بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا علی (رض) کو { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلٰی }۔ [الاعلیٰ : ١] پڑھتے سنا تو وہ یہ پڑھ کر کہتے تھے ” سبحان ربی الاعلی “ پاک ہے میرا رب جو بلند تر ہے۔
حضرت عمیر بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ کو جمعہ کی نماز میں { سَبِّحَ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی }۔ [الاعلیٰ : ١] پڑھتے سنا تو انھوں نے ” سُبْحَانَ رَبِّیَ الأَعْلَی “ کہا اور انھوں سورة غاشیہ بھی پڑھی۔
حضرت عمیر بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ کو جمعہ کی نماز میں { سَبِّحَ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی }۔ [الاعلیٰ : ١] پڑھتے سنا تو انھوں نے ” سُبْحَانَ رَبِّیَ الأَعْلَی “ کہا اور انھوں سورة غاشیہ بھی پڑھی۔
(۳۶۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ السُّدِّیِّ عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا یُقْرَأُ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی} فَقَالَ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الأَعْلَی۔
قَالَ وَحَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ عُمَیْرِ بْنِ سَعِیدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُوسَی یَقْرَأُ فِی الْجُمُعَۃِ بِ {سَبِّحَ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی} فَقَالَ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الأَعْلَی وَ {ہَلْ أَتَاکَ حَدِیثُ الْغَاشِیَۃِ}۔ [ضعیف۔ اخرجہ عبدالرزاق۴۰۴۹]
قَالَ وَحَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ عُمَیْرِ بْنِ سَعِیدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُوسَی یَقْرَأُ فِی الْجُمُعَۃِ بِ {سَبِّحَ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی} فَقَالَ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الأَعْلَی وَ {ہَلْ أَتَاکَ حَدِیثُ الْغَاشِیَۃِ}۔ [ضعیف۔ اخرجہ عبدالرزاق۴۰۴۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ دوران قراءت آیت رحمت، آیت عذاب اور آیت تسبیح پر ٹھہرنے کا بیان
(٣٦٩٥) حضرت حجر بن قیس مدری (رح) بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے سیدنا علی بن ابی طالب (رض) کے ہاں رات گزاری تو میں نے انھیں تہجد میں قراءت کرتے سنا، جب وہ اس آیت پر پہنچے { أَفَرَأَیْتُمْ مَا تُمْنُونَ ئَ أَنْتُمْ تَخْلُقُونَہُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ } [الواقعہ : ٥٨۔ ٥٩] ” اچھا پھر یہ تو بتلاؤ کہ جو پانی تم ٹپکاتے ہو۔ کیا اس کا انسان تم بناتے ہو یا پیدا کرنے والے ہم ہیں ؟ “ تو فرمایا ” بل انت یا رب “ بلکہ اے اللہ تو ہی خالق ہے۔ تین مرتبہ کہا۔ پھر پڑھا : { أَفَرَأَیْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ ئَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَہُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ } [الواقعۃ : ٦٣۔ ٦٤] پھر انھوں نے دو بار کہا ” بل انت یا رب۔ “ اے میرے رب ! بلکہ تو ہی ہے، پھر پڑھا : { أَفَرَأَیْتُمُ الْمَائَ الَّذِی تَشْرَبُونَ ئَ أَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوہُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ } [الواقعۃ : ٦٨۔ ٦٩] ” اچھا یہ بتاؤ جس پانی کو تم پیتے ہو اسے بادلوں سے بھی تم ہی اتارتے ہو یا ہم برساتے ہیں ؟ “
انہوں نے تین بار کہا بل انت یا رب، اے میرے پروردگار ! تو ہی تو ہے۔ پھر پڑھتے : ا { أَفَرَأَیْتُمُ النَّارَ الَّتِی تُورُونَ ئَ أَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَہَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ } ” اچھا ذرا یہ تو بتاؤ کہ جو آگ تم سلگاتے ہو۔ اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم اس کے پیدا کرنے والے ہیں۔ “ انھوں نے تین بار کہا : ” بل انت یا رب “ اللہ تو ہی یہ سب کچھ کرنے والا ہے۔
انہوں نے تین بار کہا بل انت یا رب، اے میرے پروردگار ! تو ہی تو ہے۔ پھر پڑھتے : ا { أَفَرَأَیْتُمُ النَّارَ الَّتِی تُورُونَ ئَ أَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَہَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ } ” اچھا ذرا یہ تو بتاؤ کہ جو آگ تم سلگاتے ہو۔ اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم اس کے پیدا کرنے والے ہیں۔ “ انھوں نے تین بار کہا : ” بل انت یا رب “ اللہ تو ہی یہ سب کچھ کرنے والا ہے۔
(۳۶۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الأَسْتَاذُ أَبُوالْوَلِیدِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ بِشْرِ بْنِ جَابَانَ الصَّغَانِیِّ عَنْ حُجْرِ بْنِ قَیْسٍ الْمَدَرِیِّ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ، فَسَمِعْتُہُ وَہُوَ یُصَلِّی مِنَ اللَّیْلِ یَقْرَأُ ، فَمَرَّ بِہَذِہِ الآیَۃِ {أَفَرَأَیْتُمْ مَا تُمْنُونَ ئَ أَنْتُمْ تَخْلُقُونَہُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ} قَالَ: بَلْ أَنْتَ یَا رَبِّ ثَلاَثًا ثُمَّ قَرَأَ {أَفَرَأَیْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ ئَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَہُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ} قَالَ: بَلْ أَنْتَ یَا رَبِّ بَلْ أَنْتَ یَا رَبِّ ثُمَّ قَرَأَ {أَفَرَأَیْتُمُ الْمَائَ الَّذِی تَشْرَبُونَ ئَ أَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوہُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ} قَالَ: بَلْ أَنْتَ یَا رَبِّ ثَلاَثًا ثُمَّ قَرَأَ {أَفَرَأَیْتُمُ النَّارَ الَّتِی تُورُونَ ئَ أَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَہَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ} قَالَ: بَلْ أَنْتَ یَا رَبِّ ثَلاَثًا۔ [ضعیف۔ اخرجہ الحاکم ۲/۵۱۸]
তাহকীক: