আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৬৬ টি
হাদীস নং: ৩৭৫৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سجدہ تلاوت کے واجب نہ ہونے کا بیان
(٣٧٥٦) (ا) حضرت ہشام بن عروۃ (رح) اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے جمعہ کے دن منبر پر آیت سجدہ پڑھی تو منبر سے اتر کر سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی ان کے ساتھ سجدہ کیا۔ انھوں نے پھر دوسرے جمعہ یہی آیت سجدہ تلاوت کی، لوگ سجدہ کرنے کے لیے تیار ہوئے تو حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : ذرا ٹھہرو۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ سجدے فرض نہیں کیے بلکہ یہ ہماری منشا پر موقوف ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے آیت سجدہ پڑھی لیکن سجدہ نہیں کیا اور لوگوں کو بھی سجدے سے روک دیا۔
(ب) امام بخاری (رح) فرماتے ہیں : حضرت عمران بن حصین (رض) سے کسی نے کہا کہ کوئی آدمی آیت سجدہ سن لیتا ہے حالانکہ وہ اس کو سننے کے لیے نہیں بیٹھا تھا تو کیا کرے ؟ انھوں نے فرمایا : پھر تمہارا کیا خیال ہے اگر وہ اسی کے لیے بیٹھا ہو تو پھر ؟ گویا وہ اس پر واجب نہیں کر رہے تھے۔
(ج) سیدنا ابن سیرین (رض) سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ (رض) سے کسی نے قران کے سجدوں کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا : اللہ کا حق ہے اسے تم ادا کردو یا ایک نفلی عبادت ہے جسے تم نفلی ہی رکھو اور جو بھی مسلمان اللہ کے لیے ایک بھی سجدہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کردیتا ہے یا اس کام کوئی گناہ مٹا دیتا ہے یا اللہ تعالیٰ دونوں چیزوں کو جمع کردیتا ہے۔
(ب) امام بخاری (رح) فرماتے ہیں : حضرت عمران بن حصین (رض) سے کسی نے کہا کہ کوئی آدمی آیت سجدہ سن لیتا ہے حالانکہ وہ اس کو سننے کے لیے نہیں بیٹھا تھا تو کیا کرے ؟ انھوں نے فرمایا : پھر تمہارا کیا خیال ہے اگر وہ اسی کے لیے بیٹھا ہو تو پھر ؟ گویا وہ اس پر واجب نہیں کر رہے تھے۔
(ج) سیدنا ابن سیرین (رض) سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ (رض) سے کسی نے قران کے سجدوں کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا : اللہ کا حق ہے اسے تم ادا کردو یا ایک نفلی عبادت ہے جسے تم نفلی ہی رکھو اور جو بھی مسلمان اللہ کے لیے ایک بھی سجدہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کردیتا ہے یا اس کام کوئی گناہ مٹا دیتا ہے یا اللہ تعالیٰ دونوں چیزوں کو جمع کردیتا ہے۔
(۳۷۵۶) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نَجِیدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَرَأَ السَّجْدَۃَ وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَنَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدُوا مَعَہُ ، ثُمَّ قَرَأَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ الأُخْرَی فَتَہَیَّأُوا لِلسُّجُودِ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: عَلَی رِسْلِکُمْ إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ یَکْتُبْہَا عَلَیْنَا إِلاَّ أَنْ نَشَائَ ۔ فَقَرَأَہَا وَلَمْ یَسْجُدْ وَمَنَعَہُمْ أَنْ یَسْجُدُوا۔
قَالَ الْبُخَارِیُّ وَقِیلَ لِعِمْرَانَ بْنِ حَصِینٍ: الرَّجُلُ یَسْمَعُ السَّجْدَۃَ وَلَمْ یَجْلِسْ لَہَا۔ قَالَ: أَرَأَیْتَ لَوْ قَعَدَ لَہَا؟ کَأَنَّہُ لاَ یُوجِبُہُ عَلَیْہِ۔
وَفِی رِوَایَۃِ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنْ عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ قَالَ: سُئِلَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنْ سُجُودِ الْقُرْآنِ فَقَالَتْ: حَقُّ اللَّہِ تُؤَدِّیہِ أَوْ تَطَوُّعٌ تَطَوَّعُہُ ، وَمَا مِنْ مُسْلِمٍ یَسْجُدُ لِلَّہِ سَجْدَۃً إِلاَّ رَفَعَہُ اللَّہُ بِہَا دَرَجَۃً أَوْ حَطَّ عَنْہُ بِہَا خَطِیئَۃً ، أَوْ جَمَعَہُمَا لَہُ کِلْتَیْہِمَا۔ [ضعیف۔ للانقطاع بن عروۃ وعمر، واللہ اعلم]
قَالَ الْبُخَارِیُّ وَقِیلَ لِعِمْرَانَ بْنِ حَصِینٍ: الرَّجُلُ یَسْمَعُ السَّجْدَۃَ وَلَمْ یَجْلِسْ لَہَا۔ قَالَ: أَرَأَیْتَ لَوْ قَعَدَ لَہَا؟ کَأَنَّہُ لاَ یُوجِبُہُ عَلَیْہِ۔
وَفِی رِوَایَۃِ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنْ عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ قَالَ: سُئِلَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنْ سُجُودِ الْقُرْآنِ فَقَالَتْ: حَقُّ اللَّہِ تُؤَدِّیہِ أَوْ تَطَوُّعٌ تَطَوَّعُہُ ، وَمَا مِنْ مُسْلِمٍ یَسْجُدُ لِلَّہِ سَجْدَۃً إِلاَّ رَفَعَہُ اللَّہُ بِہَا دَرَجَۃً أَوْ حَطَّ عَنْہُ بِہَا خَطِیئَۃً ، أَوْ جَمَعَہُمَا لَہُ کِلْتَیْہِمَا۔ [ضعیف۔ للانقطاع بن عروۃ وعمر، واللہ اعلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سجدہ تلاوت کے واجب نہ ہونے کا بیان
(٣٧٥٧) ۔۔۔
Missing
Missing
(۳۷۵۷) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ عَنْ سُفْیَانَ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف۔ ابن سیرین لم یسمع من عائشۃ ولا حداہا]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں آیت سجدہ کے فوراً بعد سجدے کے مستحب ہونے کا بیان
(٣٧٥٨) (ا) حضرت ابورافع (رح) بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) کے ساتھ نماز عشا پڑھی۔ آپ نے سورة انشقاق کی تلاوت کی اور سجدہ کیا۔ میں نے کہا : یہ کون سا سجدہ ہے ؟ انھوں نے فرمایا : میں نے یہ سجدہ ابوالقاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کیا ہے اور میں ہمیشہ کرتا رہوں گا حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جا ملوں۔
(ب) حضرت عیسیٰ بن یونس (رح) کی روایت میں ” العتمۃ “ کی جگہ ” العشاء “ کا لفظ ہے اور فرمایا : جب نماز سے سلام پھیرا تو کہا : اے ابوہریرہ ! یہ کیا ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : یہ سجدہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی کیا ہے۔
(ب) حضرت عیسیٰ بن یونس (رح) کی روایت میں ” العتمۃ “ کی جگہ ” العشاء “ کا لفظ ہے اور فرمایا : جب نماز سے سلام پھیرا تو کہا : اے ابوہریرہ ! یہ کیا ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : یہ سجدہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی کیا ہے۔
(۳۷۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ الطَّیِّبِ الْبَلْخِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیُّ عَنْ أَبِیہِ۔ قَالَ أَبُو بَکْرٍ وَأَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ بْنِ أَبِی إِسْحَاقَ السَّبِیعِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ عَنْ أَبِی رَافِعٍ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الْعَتَمَۃَ فَقَرَأَ {إِذَا السَّمَائُ انْشَقَّتْ} فَسَجَدَ فَقُلْتُ لَہُ: مَا ہَذِہِ السَّجْدَۃُ؟ فَقَالَ: سَجَدْتُ بِہَا مَعَ أَبِی الْقَاسِمِ -ﷺ- فَلاَ أَزَالُ أَسْجُدُ بِہَا حَتَّی أَلْقَاہُ۔
قَالَ عِیسَی بْنُ یُونُسَ: الْعِشَائُ ، وَقَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ أَوْ قُلْتَ: مَا ہَذِہِ؟ قَالَ: سَجَدَ بِہِ فَذَکَرَہُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ کَمَا تَقَدَّمَ۔
[صحیح۔ تقدم برقم ۳۷۱۹]
قَالَ عِیسَی بْنُ یُونُسَ: الْعِشَائُ ، وَقَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ أَوْ قُلْتَ: مَا ہَذِہِ؟ قَالَ: سَجَدَ بِہِ فَذَکَرَہُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ کَمَا تَقَدَّمَ۔
[صحیح۔ تقدم برقم ۳۷۱۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں آیت سجدہ کے فوراً بعد سجدے کے مستحب ہونے کا بیان
(٣٧٥٩) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز کی پہلی رکعت میں سجدہ تلاوت کیا تو صحابہ (رض) نے دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة سجدہ پڑھی ہے۔
(۳۷۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ قَالَ وَلَمْ أَسْمَعْہُ مِنْ أَبِی مِجْلَزٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- سَجَدَ فِی الرَّکْعَۃِ الأُولَی مِنْ صَلاَۃِ الظُّہْرِ ، فَرَأَی أَصْحَابُہُ أَنَّہُ قَرَأَ {تَنْزِیلُ} السَّجْدَۃِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں آیت سجدہ کے فوراً بعد سجدے کے مستحب ہونے کا بیان
(٣٧٦٠) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز میں سجدہ تلاوت کیا۔ پھر کھڑے ہوئے تو صحابہ (رض) نے سمجھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی ایسی سورت پڑھی ہے جس میں سجدہ تلاوت ہے۔
(۳۷۶۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّیَالِسِیُّ أَبُو الْفَضْلِ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ مَیَّۃَ عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- سَجَدَ فِی صَلاَۃِ الظُّہْرِ ، ثُمَّ قَامَ فَیُرَوْنَ أَنَّہُ قَرَأَ سُورَۃً فِیہَا سَجْدَۃٌ ، کَذَا قَالَ: مَیَّۃُ ، وَقَالَ غَیْرُہُ: أُمَیَّۃُ۔ [ضعیف۔ تقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں آیت سجدہ کے فوراً بعد سجدے کے مستحب ہونے کا بیان
(٣٧٦١) ایضاً
(۳۷۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِیہِ عَنْ رَجُلٍ یُقَالُ لَہُ أُمَیَّۃُ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ۔
[وقد تقدم فی الذی قبلہ]
[وقد تقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں اختتامِ سورت پر آیت سجدہ آنے کا حکم
(٣٧٦٢) سیدنا ابوہریرہ (رض) بیان فرماتے ہیں : میں سیدنا عمر بن خطاب (رض) کو دیکھا ، انھوں نے سورة نجم میں فجر کی نماز میں سجدہ کیا ، پھر دوسری سورت شروع کردی۔
(۳۷۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِی الأَعْرَجُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: رَأَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سَجَدَ فِی النَّجْمِ فِی صَلاَۃِ الْفَجْرِ ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ بِسُورَۃٍ أُخْرَی۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں اختتامِ سورت پر آیت سجدہ آنے کا حکم
(٣٧٦٣) سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : جب سجدہ سورت کے اخیر میں ہو تو اگر چاہے تو رکوع کرلے اور اگر چاہے تو سجدہ کرلے۔
(۳۷۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّہُ قَالَ: إِذَا کَانَتِ السَّجْدَۃُ فِی آخِرِ السُّورَۃِ ، فَإِنْ شَائَ رَکَعَ ، وَإِنْ شَائَ سَجَدَ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۵۹۱۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں اختتامِ سورت پر آیت سجدہ آنے کا حکم
(٣٧٦٤) حضرت اسود (رض) ، حضرت عبداللہ (رض) سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو نماز میں ایسی سورت پڑھے جس کے آخر میں سجدہ ہو، وہ اگر چاہے تو رکوع کرلے اور اگر چاہے تو سجدہ کرلے۔ پھر کھڑا ہو کر قراءت کرے، رکوع کرے اور سجدہ کرے۔
(۳۷۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ فِی الرَّجُلِ یَقْرَأُ السُّورَۃَ آخِرُہَا السَّجْدَۃُ قَالَ: إِنْ شَائَ رَکَعَ ، وَإِنْ شَائَ سَجَدَ ، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ وَرَکَعَ وَسَجَدَ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں اختتامِ سورت پر آیت سجدہ آنے کا حکم
(٣٧٦٥) (ا) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : مجھے ایسے دو آدمیوں نے حدیث بیان کی جو مجھ سے بہترین ہیں حضرت ابوبکر صدیق (رض) یا حضرت عمر فاروق (رض) میں سے کسی نے فرمایا : مجھے نہیں یاد کہ کس نے بتایا ؟ ان میں سے کسی ایک نے سورة انشقاق اور سورة علق میں سجدہ کیا۔
(ب) سیدنا ابن عمر (رض) جب اس کے ساتھ کوئی اور قرآن کا حصہ ملاتے تو سجدہ کرتے اور اگر اس کے ساتھ کوئی اور حصہ نہ ملاتے تو رکوع کرلیتے۔
(ج) حضرت عثمان بن عفان (رض) جب اس کو پڑھتے تو سجدہ کرتے، پھر سجدے سے اٹھ کر سورة تین یا اس کے مشابہ کوئی سورت پڑھتے۔
(د) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس کے ساتھ سجدہ کیا ہے اور برتی کی حدیث میں ہے کہ اگرچہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا حضرت عمر بن خطاب (رض) نہ ہوں۔
(ب) سیدنا ابن عمر (رض) جب اس کے ساتھ کوئی اور قرآن کا حصہ ملاتے تو سجدہ کرتے اور اگر اس کے ساتھ کوئی اور حصہ نہ ملاتے تو رکوع کرلیتے۔
(ج) حضرت عثمان بن عفان (رض) جب اس کو پڑھتے تو سجدہ کرتے، پھر سجدے سے اٹھ کر سورة تین یا اس کے مشابہ کوئی سورت پڑھتے۔
(د) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس کے ساتھ سجدہ کیا ہے اور برتی کی حدیث میں ہے کہ اگرچہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا حضرت عمر بن خطاب (رض) نہ ہوں۔
(۳۷۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِیُّ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ: حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّفَّائُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَکْرٍ الْمُزَنِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ حَدَّثَنِی رَجُلاَنِ کِلاَہُمَا خَیْرٌ مِنِّی إِنْ لَمْ یَکُنْ أَظُنُّہُ قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَوْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَلاَ أَدْرِی مَنْ ہُوَ؟ أَنَّ أَحَدَہُمَا سَجَدَ فِی {إِذَا السَّمَائِ انْشَقَّتْ} وَفِی {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ} قَالَ: وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ إِذَا قَرَأَ النَّجْمَ مَعَ الْقَوْمِ سَجَدَ ، وَإِذَا قَرَأَہَا فِی الصَّلاَۃِ ، وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا وَصَلَ إِلَیْہَا قُرْآنًا سَجَدَ ، وَإِذَا لَمْ یَصِلْ إِلَیْہَا قُرْآنًا رَکَعَ ، وَکَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذَا قَرَأَہَا سَجَدَ ، ثُمَّ یَقُومُ فَیَقْرَأُ بِالتِّینِ وَالزَّیْتُونِ أَوْ سُورَۃٍ تُشْبِہُہَا قَالَ: وَسَجَدَ بِہَا النَّبِیُّ -ﷺ- وَفِی حَدِیثِ الْبِرْتِیِّ: إِنْ لَمْ یَکُنِ النَّبِیُّ -ﷺ- أَوْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [حسن]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ: حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّفَّائُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَکْرٍ الْمُزَنِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ حَدَّثَنِی رَجُلاَنِ کِلاَہُمَا خَیْرٌ مِنِّی إِنْ لَمْ یَکُنْ أَظُنُّہُ قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَوْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَلاَ أَدْرِی مَنْ ہُوَ؟ أَنَّ أَحَدَہُمَا سَجَدَ فِی {إِذَا السَّمَائِ انْشَقَّتْ} وَفِی {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ} قَالَ: وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ إِذَا قَرَأَ النَّجْمَ مَعَ الْقَوْمِ سَجَدَ ، وَإِذَا قَرَأَہَا فِی الصَّلاَۃِ ، وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا وَصَلَ إِلَیْہَا قُرْآنًا سَجَدَ ، وَإِذَا لَمْ یَصِلْ إِلَیْہَا قُرْآنًا رَکَعَ ، وَکَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذَا قَرَأَہَا سَجَدَ ، ثُمَّ یَقُومُ فَیَقْرَأُ بِالتِّینِ وَالزَّیْتُونِ أَوْ سُورَۃٍ تُشْبِہُہَا قَالَ: وَسَجَدَ بِہَا النَّبِیُّ -ﷺ- وَفِی حَدِیثِ الْبِرْتِیِّ: إِنْ لَمْ یَکُنِ النَّبِیُّ -ﷺ- أَوْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قاری کے ساتھ لوگ بھی سجدہ کریں نبی (علیہ السلام) کے پیچھے سورة انشقاق میں سجدہ کرنے والی حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی روایت گذر چکی ہے۔
(٣٧٦٦) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة نجم کی تلاوت فرمائی تو سجدہ کیا اور ایک شخص کے سوا پوری قوم نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سجدہ کیا۔ اس شخص نے ہاتھ میں تھوڑی سی کنکریاں یا مٹی لے کر اپنے چہرے کے پاس لے گیا اور کہا : مجھے یہی کافی ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : اس کے بعد میں نے اس کو حالت کفر میں ہی قتل ہوتے ہوئے دیکھا ہے (وہ شخص امیہ بن خلف تھا) ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : اس کے بعد میں نے اس کو حالت کفر میں ہی قتل ہوتے ہوئے دیکھا ہے (وہ شخص امیہ بن خلف تھا) ۔
(۳۷۶۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَرَأَ سُورَۃَ النَّجْمِ فَسَجَدَ فِیہَا ، وَمَا بَقِیَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلاَّ سَجَدَ ، فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ کَفًّا مِنْ حَصًی أَوْ تُرَابٍ فَرَفَعَہُ إِلَی وَجْہِہِ وَقَالَ: یَکْفِینِی ہَذَا۔
قَالَ عَبْدُ اللَّہِ: وَلَقَدْ رَأَیْتُہُ بَعْدَ ذَلِکَ قُتِلَ کَافِرًا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔
[صحیح۔ متفق علیہ۔ وقد تقدم برقم: ۳۷۰۹]
قَالَ عَبْدُ اللَّہِ: وَلَقَدْ رَأَیْتُہُ بَعْدَ ذَلِکَ قُتِلَ کَافِرًا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔
[صحیح۔ متفق علیہ۔ وقد تقدم برقم: ۳۷۰۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قاری کے ساتھ لوگ بھی سجدہ کریں نبی (علیہ السلام) کے پیچھے سورة انشقاق میں سجدہ کرنے والی حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی روایت گذر چکی ہے۔
(٣٧٦٧) (ا) حضرت نافع (رض) ، سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی کبھار دورانِ تلاوت آیت سجدہ سے گزرتے تو ہمارے ساتھ سجدہ کرتے حتیٰ کہ ہم آپ کے پاس ہجوم کرلیتے۔ یہاں تک کہ ہم میں سے کسی کو سجدہ کے لیے جگہ بھی نہ مل پاتی اور ایسا ہر نماز میں نہیں ہوتا تھا۔
(ب) یہ حضرت محمد بن بشر (رح) کی حدیث کے الفاظ ہیں اور حضرت ابن مسہر (رح) کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آیت سجدہ پڑھتے، اگر ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہوتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی سجدہ کرتے اور ہم بھی سجدہ کرتے حتیٰ کہ نماز کے علاوہ ہم میں سے بعض لوگوں کو اپنی پیشانی زمین پر رکھنے کی جگہ بھی نہ ملتی۔
(ب) یہ حضرت محمد بن بشر (رح) کی حدیث کے الفاظ ہیں اور حضرت ابن مسہر (رح) کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آیت سجدہ پڑھتے، اگر ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہوتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی سجدہ کرتے اور ہم بھی سجدہ کرتے حتیٰ کہ نماز کے علاوہ ہم میں سے بعض لوگوں کو اپنی پیشانی زمین پر رکھنے کی جگہ بھی نہ ملتی۔
(۳۷۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عِیسَی بْنُ حَامِدٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا مِنْجَابٌ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: رُبَّمَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْقُرْآنَ فَیَمُرُّ بِالسَّجْدَۃِ فَیَسْجُدُ بِنَا ، حَتَّی ازْدَحَمْنَا عِنْدَہُ حَتَّی مَا یَجِدُ أَحَدُنَا مَکَانًا یَسْجُدُ فِیہِ فِی غَیْرِ الصَّلاَۃِ۔
لَفْظُ حَدِیثِ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ وَفِی حَدِیثِ ابْنِ مُسْہِرٍ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقْرَأُ السَّجْدَۃَ وَنَحْنُ عِنْدَہُ فَیَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَہُ ، فَنَزْدَحِمُ حَتَّی مَا یَجِدُ بَعْضُنَا لِجَبْہَتِہِ مَوْضِعًا فِی غَیْرِ صَّلاَۃٍ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ بِشْرِ بْنِ آدَمَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُسْہِرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۰۷۵]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: رُبَّمَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْقُرْآنَ فَیَمُرُّ بِالسَّجْدَۃِ فَیَسْجُدُ بِنَا ، حَتَّی ازْدَحَمْنَا عِنْدَہُ حَتَّی مَا یَجِدُ أَحَدُنَا مَکَانًا یَسْجُدُ فِیہِ فِی غَیْرِ الصَّلاَۃِ۔
لَفْظُ حَدِیثِ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ وَفِی حَدِیثِ ابْنِ مُسْہِرٍ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقْرَأُ السَّجْدَۃَ وَنَحْنُ عِنْدَہُ فَیَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَہُ ، فَنَزْدَحِمُ حَتَّی مَا یَجِدُ بَعْضُنَا لِجَبْہَتِہِ مَوْضِعًا فِی غَیْرِ صَّلاَۃٍ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ بِشْرِ بْنِ آدَمَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُسْہِرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۰۷۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ آیتِ سجدہ غور سے سننے والے پر سجدے کے واجب ہونے کا بیان یہ سیدنا عثمان بن عفان (رض) سے منقول قول ہے۔
(٣٧٦٨) (ا) حضرت ابوعبدالرحمن (رض) بیان فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان (رض) کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جو سجدے والی آیت پڑھ رہے تھے۔ لوگوں نے کہا : کیا ہم بھی سجدہ کریں ؟ تو انھوں نے فرمایا : نہیں، ہم اس کے لیے نہیں چلے تھے۔
(ب) سیدنا ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ سجدہ کرنا اسی پر واجب ہے جو اس کو سننے کے لیے بیٹھا ہو۔
(ج) حضرت سعید بن مسیب (رض) فرماتے ہیں : سجدہ تو صرف اس پر ہے جو اس کو سن رہا ہے۔
(د) سیدنا عثمان (رض) سے منقول ہے کہ سجدہ تو صرف اس پر ہے جو اس کے لیے بیٹھا ہے اور خاموش ہے۔
(ب) سیدنا ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ سجدہ کرنا اسی پر واجب ہے جو اس کو سننے کے لیے بیٹھا ہو۔
(ج) حضرت سعید بن مسیب (رض) فرماتے ہیں : سجدہ تو صرف اس پر ہے جو اس کو سن رہا ہے۔
(د) سیدنا عثمان (رض) سے منقول ہے کہ سجدہ تو صرف اس پر ہے جو اس کے لیے بیٹھا ہے اور خاموش ہے۔
(۳۷۶۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: مَرَّ سَلْمَانُ بِقَوْمٍ یَقْرَئُ ونَ السَّجْدَۃَ قَالُوا: نَسْجُدُ۔ قَالَ: لَیْسَ لَہَا غَدَوْنَا۔
وَعَنْ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّمَا السَّجْدَۃُ عَلَی مَنْ جَلَسَ لَہَا۔
وَعَنْ سُفْیَانَ عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ: إِنَّمَا السَّجْدَۃُ عَلَی مَنْ سَمِعَہَا۔
وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ عُثْمَانَ قَالَ: إِنَّمَا السَّجْدَۃُ عَلَی مَنْ جَلَسَ لَہَا وَأَنْصَتَ۔ وَیُذْکَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَحْوٌ مِنْ قَوْلِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ نَفْسِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۵۹۰۹]
وَعَنْ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّمَا السَّجْدَۃُ عَلَی مَنْ جَلَسَ لَہَا۔
وَعَنْ سُفْیَانَ عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ: إِنَّمَا السَّجْدَۃُ عَلَی مَنْ سَمِعَہَا۔
وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ عُثْمَانَ قَالَ: إِنَّمَا السَّجْدَۃُ عَلَی مَنْ جَلَسَ لَہَا وَأَنْصَتَ۔ وَیُذْکَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَحْوٌ مِنْ قَوْلِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ نَفْسِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۵۹۰۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ غور سے سننے والا بھی اس وقت تک سجدہ نہ کرے جب تک پڑھنے والے نے نہ کیا ہو
(٣٧٦٩) حضرت زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سورة نجم کی تلاوت کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ نہیں کیا۔
(۳۷۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قُسَیْطٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- النَّجْمَ فَلَمْ یَسْجُدْ فِیہَا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ کَمَا تَقَدَّمَ۔[صحیح۔ وقد تقدم برقم ۳۷۵۳]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ کَمَا تَقَدَّمَ۔[صحیح۔ وقد تقدم برقم ۳۷۵۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ غور سے سننے والا بھی اس وقت تک سجدہ نہ کرے جب تک پڑھنے والے نے نہ کیا ہو
(٣٧٧٠) (ا) حضرت عطاء بن یسار (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ایک شخص نے آیت سجدہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تلاوت کی اور سجدہ کیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس کے ساتھ سجدہ کیا۔ پھر کسی دوسرے شخص نے آیت سجدہ تلاوت کی اور وہ بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سجدے کا انتظار کرتا رہا مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ نہیں کیا تو اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے آیت سجدہ تلاوت کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ نہیں کیا ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو امام تھا اگر تو سجدہ کرتا تو میں بھی تیرے ساتھ سجدہ کرلیتا۔
(ب) حضرت امام شافعی (رح) نے بھی یہ روایت نقل کی اور فرمایا : میرا خیال یہ ہے کہ وہ حضرت زید بن ثابت (رض) تھے کیونکہ وہی روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تلاوت کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ نہیں کیا اور اس لیے بھی کہ دونوں حدیثوں کو روایت کرنے والے حضرت عطاء بن یسار (رض) ہی ہیں۔
(ج) حضرت امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں کہ امام شافعی (رح) نے جو بات ذکر کی ہے یہ بھی درست ہوسکتی ہے۔
(ب) حضرت امام شافعی (رح) نے بھی یہ روایت نقل کی اور فرمایا : میرا خیال یہ ہے کہ وہ حضرت زید بن ثابت (رض) تھے کیونکہ وہی روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تلاوت کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ نہیں کیا اور اس لیے بھی کہ دونوں حدیثوں کو روایت کرنے والے حضرت عطاء بن یسار (رض) ہی ہیں۔
(ج) حضرت امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں کہ امام شافعی (رح) نے جو بات ذکر کی ہے یہ بھی درست ہوسکتی ہے۔
(۳۷۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ وَحَفْصُ بْنُ مَیْسَرَۃَ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ بَلَغَنِی: أَنَّ رَجُلاً قَرَأَ بِآیَۃٍ مِنَ الْقُرْآنِ فِیہَا سَجْدَۃٌ عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَسَجَدَ الرَّجُلُ وَسَجَدَ النَّبِیُّ -ﷺ- مَعَہُ ، ثُمَّ قَرَأَ آخَرُ آیَۃً فِیہَا سَجْدَۃٌ وَہُوَ عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَانْتَظَرَ الرَّجُلُ أَنَّ یَسْجُدَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَلَمْ یَسْجُدْ ، فَقَالَ الرَّجُلُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ قَرَأْتُ السَّجْدَۃَ فَلَمْ تَسْجُدْ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((کُنْتَ إِمَامًا ، فَلَوْ سَجَدْتَ سَجَدْتُ مَعَکَ))۔
وَقَدْ رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَالَ: إِنِّی لأَحْسِبُہُ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ لأَنَّہُ یَحْکِی أَنَّہُ قَرَأَ عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَلَمْ یَسْجُدْ ، وَإِنَّمَا رَوَی الْحَدِیثَیْنِ مَعًا عَطَائُ بْنُ یَسَارٍ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: فَہَذَا الَّذِی ذَکَرَہُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ مُحْتَمَلٌ۔ (ت) وَقَدْ رَوَاہُ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی فَرْوَۃَ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَوْصُولاً۔ (ج) وَإِسْحَاقُ ضَعِیفٌ۔ (ت) وَرُوِیَ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنْ قُرَّۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَہُوَ أَیْضًا ضَعِیفٌ۔
وَالْمُحْفُوظُ حَدِیثُ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ مُرْسَلٌ وَحَدِیثُہُ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ مَوْصُولٌ مُخْتَصَرٌ وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔
[ضعیف۔ انہ من بلاغات او مراسیل عطاء]
وَقَدْ رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَالَ: إِنِّی لأَحْسِبُہُ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ لأَنَّہُ یَحْکِی أَنَّہُ قَرَأَ عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَلَمْ یَسْجُدْ ، وَإِنَّمَا رَوَی الْحَدِیثَیْنِ مَعًا عَطَائُ بْنُ یَسَارٍ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: فَہَذَا الَّذِی ذَکَرَہُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ مُحْتَمَلٌ۔ (ت) وَقَدْ رَوَاہُ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی فَرْوَۃَ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَوْصُولاً۔ (ج) وَإِسْحَاقُ ضَعِیفٌ۔ (ت) وَرُوِیَ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنْ قُرَّۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَہُوَ أَیْضًا ضَعِیفٌ۔
وَالْمُحْفُوظُ حَدِیثُ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ مُرْسَلٌ وَحَدِیثُہُ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ مَوْصُولٌ مُخْتَصَرٌ وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔
[ضعیف۔ انہ من بلاغات او مراسیل عطاء]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ غور سے سننے والا بھی اس وقت تک سجدہ نہ کرے جب تک پڑھنے والے نے نہ کیا ہو
(٣٧٧١) حضرت سلیمان بن حنظلہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود (رض) کے پاس آیت سجدہ تلاوت کی تو انھوں نے میری طرف دیکھ کر فرمایا : تم ہمارے امام ہو تم سجدہ کرو تاکہ ہم بھی تمہارے ساتھ سجدہ کریں۔
(۳۷۷۱) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَنْظَلَۃَ قَالَ: قَرَأْتُ السَّجْدَۃَ عِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ فَنَظَرَ إِلَیَّ فَقَالَ: أَنْتَ إِمَامُنَا ، فَاسْجُدْ نَسْجُدْ مَعَکَ۔ ضعیف۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سجدہ کرتے وقت اور سجدے سے اٹھتے وقت تکبیر کہنا چاہیے سجدہ تلاوت کے بعد سلام بھی پھیرنا چاہیے، بعض عدم تسلیم کے قائل ہیں
(٣٧٧٢) (ا) ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں قرآن سناتے تھے، جب آپ سجدے والی آیت سے گزرتے تو تکبیر کہتے اور سجدہ کرتے۔ ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے۔
(ب) عبدالرزاق بیان کرتے ہیں کہ ثوری کو یہ حدیث اچھی لگتی تھی۔
(ج) امام ابوداؤد (رح) فرماتے ہیں کہ انھیں یہ حدیث اس لیے پسند تھی کہ اس میں تکبیر کا ذکر ہے۔
(ب) عبدالرزاق بیان کرتے ہیں کہ ثوری کو یہ حدیث اچھی لگتی تھی۔
(ج) امام ابوداؤد (رح) فرماتے ہیں کہ انھیں یہ حدیث اس لیے پسند تھی کہ اس میں تکبیر کا ذکر ہے۔
(۳۷۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقْرَأُ عَلَیْنَا الْقُرْآنَ ، فَإِذَا مَرَّ بِالسَّجْدَۃِ کَبَّرَ وَسَجَدَ وَسَجَدْنَا۔ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَکَانَ الثَّوْرِیُّ یُعْجِبُہُ ہَذَا الْحَدِیثُ۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: یُعْجِبُہُ لأَنَّہُ کَبَّرَ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۱۴۱۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سجدہ کرتے وقت اور سجدے سے اٹھتے وقت تکبیر کہنا چاہیے سجدہ تلاوت کے بعد سلام بھی پھیرنا چاہیے، بعض عدم تسلیم کے قائل ہیں
(٣٧٧٣) (ا) حضرت عبداللہ بن مسلم بن یسار اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص آیت سجدہ پڑھے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرے جب تک مکمل آیت نہ پڑھ لے۔ جب وہ آیت مکمل کرلے تو رفع یدین کرے اور تکبیر کہہ کر سجدہ کرے۔ (ب) فرماتے ہیں : میں نے محمد بن سیرین (رح) سے سنا، وہ بھی اسی طرح فرما رہے تھے اور ربیع بن صبیح سے بواسطہ حسن بصری نقل کیا جاتا ہے کہ حسن بصری (رح) جب آیت سجدہ پڑھتے تو تکبیر کہہ کر سجدہ کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی تکبیر کہتے۔ (ج) اور حضرت ابو عبدالرحمن سلمی اور ابواحوص سے بھی نقل کیا جاتا ہے کہ ان دونوں نے سجدہ تلاوت میں صرف دائیں طرف ہی سلام پھیرا۔ (د) بعض نے اس کو ابوعبدالرحمن (رض) کے واسطے سے عبداللہ بن مسعود (رض) تک مرفوع نقل کیا ہے۔ (ہ) ابراہیم نخعی سے بھی منقول ہے کہ انھوں نے سجدہ تلاوت کیا اور سلام نہیں پھیرا۔ (و) حسن بصری فرماتے ہیں کہ سجدہ تلاوت میں سلام پھیرنا ضروری نہیں ہے۔
(۳۷۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنِ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُسْلِمٍ یَعْنِی ابْنَ یَسَارٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: إِذَا قَرَأَ الرَّجُلُ السَّجْدَۃَ فَلاَ یَسْجُدْ حَتَّی یَأْتِیَ عَلَی الآیَۃِ کُلِّہَا ، فَإِذَا أَتَی عَلَیْہَا رَفَعَ یَدَیْہِ وَکَبَّرَ وَسَجَدَ۔ قَالَ: وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا یَعْنِی ابْنَ سِیرِینَ یَقُولُ مِثْلَ ہَذَا۔ (ت) وَیُذْکَرُ عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ صُبَیْحِ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ أَنَّہُ قَالَ: إِذَا قَرَأْتَ سَجْدَۃً فَکَبِّرْ وَاسْجُدْ ، وَإِذَا رَفَعْتَ فَکَبِّرْ۔ وَیُذْکَرُ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیِّ وَأَبِی الأَحْوَصِ: أَنَّہُمَا سَلَّمَا فِی السَّجْدَۃِ تَسْلِیمَۃً عَنِ الْیَمِینِ۔ وَرَفَعَہُ بَعْضُہُمْ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ۔
وَیُذْکَرُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ: أَنَّہُ سَجَدَ وَلَمْ یُسَلِّمَ۔
وَعَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ أَنَّہُ قَالَ: لَیْسَ فِی السَّجْدَۃِ تَسْلِیمٌ۔ [ضعیف]
وَیُذْکَرُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ: أَنَّہُ سَجَدَ وَلَمْ یُسَلِّمَ۔
وَعَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ أَنَّہُ قَالَ: لَیْسَ فِی السَّجْدَۃِ تَسْلِیمٌ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سجدہ تلاوت کی دعا کا بیان
(٣٧٧٤) (ا) ام المومنین سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز تہجد میں سجدہ تلاوت کرتے تو بار بار یہ دعا پڑھتے : سَجَدَ وَجْہِی لِلَّذِی خَلَقَہُ ، وَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ بِحَوْلِہِ وَقُوَّتِہِ ۔ ” میرے چہرے نے اپنے خالق کو سجدہ کیا، جس نے اس کے کان اور آنکھ میں اپنی قدرت و قوت سے مناسب شگاف بنائے۔ “
(ب) حضرت ابوعبداللہ (رض) نے اپنی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے : فَتَبَارَکَ اللَّہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِینَ ۔ ” بڑا بابرکت ہے وہ اللہ جو سب سے اچھا پیدا کرنے والا ہے۔ “
(ج) اس بارے میں سیدنا ابن عباس (رض) سے مروی مرفوع روایات گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔
(ب) حضرت ابوعبداللہ (رض) نے اپنی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے : فَتَبَارَکَ اللَّہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِینَ ۔ ” بڑا بابرکت ہے وہ اللہ جو سب سے اچھا پیدا کرنے والا ہے۔ “
(ج) اس بارے میں سیدنا ابن عباس (رض) سے مروی مرفوع روایات گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔
(۳۷۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِیدِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہَا
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ یَعْنِی ابْنَ عُلَیَّۃَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ فِی سُجُودِ الْقُرْآنِ بِاللَّیْلِ یَقُولُ فِی السَّجْدَۃِ مِرَارًا : ((سَجَدَ وَجْہِی لِلَّذِی خَلَقَہُ ، وَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ بِحَوْلِہِ وَقُوَّتِہِ))۔
زَادَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ فِی رِوَایَتِہِ : ((فَتَبَارَکَ اللَّہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِینَ))۔
وَقَدْ مَضَی مَا رُوِیَ فِی ذَلِکَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۶/ ۳۰]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ یَعْنِی ابْنَ عُلَیَّۃَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ فِی سُجُودِ الْقُرْآنِ بِاللَّیْلِ یَقُولُ فِی السَّجْدَۃِ مِرَارًا : ((سَجَدَ وَجْہِی لِلَّذِی خَلَقَہُ ، وَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ بِحَوْلِہِ وَقُوَّتِہِ))۔
زَادَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ فِی رِوَایَتِہِ : ((فَتَبَارَکَ اللَّہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِینَ))۔
وَقَدْ مَضَی مَا رُوِیَ فِی ذَلِکَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۶/ ۳۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سجدہ تلاوت باوضو ہو کر کرنا چاہیے
(٣٧٧٥) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں : آدمی پاک (باوضو) ہو کر ہی سجدہ کرے۔
(۳۷۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ: شَرِیکُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ بِہَا حَدَّثَنَا أَبُو سَہْلٍ: بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْبَیْہَقِیُّ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ قَالَ: لاَ یَسْجُدُ الرَّجُلُ إِلاَّ وَہُوَ طَاہِرٌ۔ [حسن۔ سندہ متصل بین الثقات]
তাহকীক: