আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৩৭৭৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سوار اشارے سے سجدہ کرے اور پیدل زمین پر سجدہ کرے
(٣٧٧٦) (ا) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے سال آیت سجدہ تلاوت کی تو سب لوگ سجدہ ریز ہوگئے ، ان میں سوار بھی تھے اور زمین پر سجدہ کرنے والے بھی تھے۔ جو سوار تھے انھوں نے اپنے ہاتھ پر سجدہ کیا۔

(ج) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ان سے کسی نے جانور یعنی سواری پر سجدہ کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا : سجدہ اشارے سے کرو۔

(د) حضرت امام زہری (رح) بیان کرتے ہیں کہ باوضو ہو کر ہی سجدہ کرو، جب حالتِ حضر میں سجدہ کرے تو قبلہ رخ ہوجا اور اگر تو کسی سواری وغیرہ پر سوار ہو تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں جدھر بھی تیرا چہرہ ہو (ادھر ہی سجدہ کرلے) ۔
(۳۷۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْجُمَاہِرِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ یَعْنِی ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَرَأَ عَامَ الْفَتْحِ سَجْدَۃً فَسَجَدَ النَّاسُ کُلُّہُمْ ، مِنْہُمُ الرَّاکِبُ وَالسَّاجِدُ فِی الأَرْضِ حَتَّی إِنَّ الرَّاکِبَ لَیَسْجُدُ عَلَی یَدِہِ۔

وَیُذْکَرُ عَنْ عَلِیٍّ وَابْنِ الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُمَا سَجَدَا وَہُمَا رَاکِبَانِ بِالإِیمَائِ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ السُّجُودِ عَلَی الدَّابَۃِ فَقَالَ: اسْجُدْ وَأَوْمِئْ۔

وَقَالَ الزُّہْرِیُّ: لاَ تَسْجُدْ إِلاَّ أَنْ تَکُونَ طَاہِرًا ، فَإِذَا سَجَدْتَ وَأَنْتَ فِی حَضَرٍ فَاسْتَقْبَلِ الْقِبْلَۃَ ، وَإِنْ کُنْتَ رَاکِبًا فَلاَ عَلَیْکَ حَیْثُ کَانَ وَجْہُکَ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداؤد ۱۴۱۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سوار اشارے سے سجدہ کرے اور پیدل زمین پر سجدہ کرے
(٣٧٧٧) حضرت ام سلمہ ازدیہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ (رض) کو مصحف میں سے قراءت کرتے دیکھا، جب وہ آیت سجدہ سے گزرتی تھیں تو ٹھہر کر سجدہ کرتیں۔
(۳۷۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ شُعْبَۃَ بْنِ الْحَجَّاجِ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ الأَزْدِیَّۃِ قَالَتْ: رَأَیْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَقْرَأُ فِی الْمُصْحَفِ ، فَإِذَا مَرَّتْ بِسَجْدَۃٍ قَامَتْ فَسَجَدَتْ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۸۵۶۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ صبح کی نماز کے بعد طلوع آفتاب تک سجدہ نہ کرے
(٣٧٧٨) (ا) ابوتمیمہ ہجیمی بیان کرتے ہیں : میں فجر کی نماز کے بعد وعظ و نصیحت کیا کرتا تھا اور آیت سجدہ کے وقت سجدہ کرتا تھا۔ ابن عمر (رض) نے مجھے تین بار منع کیا، لیکن میں نہ رکا تو انھوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ابوبکر، عمر اور عثمان (رض) کے ساتھ نماز پڑھی ہے، انھوں نے سورج کے بلند ہونے تک کوئی سجدہ نہیں کیا۔

(ب) اگر یہ روایت مرفوع ثابت ہو تو سجدے کو مؤخر کرنا مستحب ہے، حتیٰ کہ مکروہ وقت ختم ہوجائے اور اگر یہ حدیث مرفوع ثابت نہ ہو تو گویا اس کو نفلی نماز پر قیاس کیا جائے گا اور عنقریب ہم ان شاء اللہ ” نہی مطلق “ پر دلیلیں پیش کریں گے کہ مطلق منع کرنے کا سبب کیا ہے۔

(ج) عطاء، سالم، قاسم اور عکرمہ (رض) سے منقول ہے کہ انھوں نے فجر اور عصر کے بعد سجدہ تلاوت میں رخصت دی ہے۔

(د) اور کعب بن مالک (رض) نے سجدہ شکر فجر کی نماز کے بعد کیا تھا جب انھوں نے توبہ کی بشارت سنی تھی اور یہ عمل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے کا ہے۔
(۳۷۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو تَمِیمَۃَ الْہُجَیْمِیُّ قَالَ: کُنْتُ أَقُصُّ بَعْدَ صَلاَۃِ الصُّبْحِ فَأَسْجُدُ ، فَنَہَانِی ابْنُ عُمَرَ فَلَمْ أَنْتَہِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ عَادَ فَقَالَ: إِنِّی صَلَّیْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَمَعَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ ، فَلَمْ یَسْجُدُوا حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔

وَہَذَا إِنْ ثَبَتَ مَرْفُوعًا فَیُخْتَارُ لَہُ تَأْخِیرُ السَّجْدَۃِ حَتَّی یَذْہَبَ وَقْتُ الْکَرَاہَۃِ ، وَإِنْ لَمْ یَثْبُتْ رَفْعُہُ فَکَأَنَّہُ قَاسَہَا عَلَی صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ ، وَسَنَدُلُّ إِنْ شَائَ اللَّہُ عَلَی تَخْصِیصِ مَا لَہُ سَبَبٌ عَنِ النَّہْیِ الْمُطْلَقِ۔

وَیُذْکَرُ عَنْ عَطَائٍ وَسَالِمٍ وَالْقَاسِمِ وَعِکْرِمَۃَ: أَنَّہُمْ رَخَّصُوا فِی السُّجُودِ بَعْدَ الصُّبْحِ وَبَعْدَ الْعَصْرِ ، وَثَابِتٌ عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّہُ سَجَدَ لِلشُّکْرِ بَعْدَ صَلاَۃِ الْفَجْرِ حِینَ سَمِعَ الْبُشْرَی بِالتَّوْبَۃِ ، وَکَانَ ذَلِکَ فِی زَمَانِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۱۴۱۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ باب (بلا عنوان)
(٣٧٧٩) حضرت سعید بن جبیر (رض) ابن عباس (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ وہ حم سجدہ کی آخری دو آیتوں میں سجدہ کرتے تھے اور ابوعبدالرحمن، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) ان سے پہلی دو میں سجدہ کرتے تھے۔
(۳۷۷۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ إِسْحَاقَ الْخَطْمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ حَدَّثَنَا عَطَائُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّہُ کَانَ یَسْجُدُ بِآخِرِ الآیَتَیْنِ مِنْ {حم} السَّجْدَۃِ ، وَکَانَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ یَسْجُدُ بِالأُولَی مِنْہُمَا۔ [ضعیف۔ اخرجہ الحاکم فی المستدرک ۳۶۵۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کعبہ میں نماز پڑھنے کا بیان
(٣٧٨٠) (ا) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کے اندر تشریف لے گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بلال، اسامہ اور عثمان بن طلحہ (رض) بھی تھے، میں نے بلال سے پوچھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کعبہ کے اندر کیا کیا ؟ انھوں نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ستون کو اپنی بائیں طرف کیا اور ایک کو اپنی دائیں طرف اور بقیہ تین ستونوں کو اپنے پیچھے کی طرف کیا پھر نماز پڑھی۔ ان دنوں خانہ کعبہ کے اندر چھ ستون تھے۔

(ب) امام بخاری (رح) کی روایت میں ہے کہ دو ستون آپ کی بائیں جانب تھے۔

(ج) اسی طرح امام شافعی (رح) نے بھی کہا ہے، دو جگہوں میں سے ایک میں۔

(د) امام مالک (رح) بیان کرتے ہیں کہ دوستون آپ کے دائیں طرف تھے۔
(۳۷۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- دَخَلَ الْکَعْبَۃَ وَمَعَہُ بِلاَلٌ وَأُسَامَۃُ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَۃَ - قَالَ ابْنُ عُمَرَ - فَسَأَلْتُ بِلاَلاً مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-؟ قَالَ: جَعَلَ عَمُودًا عَنْ یَسَارِہِ ، وَعَمُودًا عَنْ یَمِینِہِ ، وَثَلاَثَۃَ أَعْمِدَۃٍ وَرَائَ ہُ ، ثُمَّ صَلَّی - قَالَ - وَکَانَ الْبَیْتُ یَوْمَئِذٍ عَلَی سِتَّۃِ أَعْمِدَۃٍ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ وَقَالَ: عَمُودَیْنِ عَنْ یَسَارِہِ۔

وَکَذَلِکَ قَالَہُ الشَّافِعِیُّ فِی أَحَدِ الْمَوْضِعَیْنِ۔

قَالَ الْبُخَارِیُّ وَقَالَ لَنَا إِسْمَاعِیلُ حَدَّثَنِی مَالِکٌ وَقَالَ: عَمُودَیْنِ عَنْ یَمِینِہِ۔

قَالَ الشَّیْخُ وَکَذَلِکَ قَالَہُ ابْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مَالِکٍ وَہُوَ الصَّحِیحُ۔

[صحیح۔ اخرجہ الشافعی فی الام ۱/ ۹۹۔ بخاری ۵۰۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کعبہ میں نماز پڑھنے کا بیان
(٣٧٨١) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ میں داخل ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حضرت بلال بن رباح، اسامہ بن زید اور عثمان بن طلحہ عجبی (رض) بھی داخل ہوئے۔ انھوں نے دروازے کو بند کردیا اور کچھ دیر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے اندر رہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان فرماتے ہیں : جب وہ باہر نکلے تو میں نے حضرت بلال (رض) سے پوچھا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کعبہ کے اندر کیا کام کیا ؟ انھوں نے بتایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ستون کو بائیں طرف رکھا اور دو ستون اپنی دائیں جانب اور تین ستونوں کو پیچھے کی طرف رکھا اور نماز پڑھی۔ ان دنوں میں خانہ کعبہ چھ ستونوں پر قائم تھا۔
(۳۷۸۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- دَخَلَ الْکَعْبَۃَ ہُوَ وَأُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَۃَ الْحَجَبِیُّ وَبِلاَلُ بْنُ رَبَاحٍ ، فَأَغْلَقَہَا عَلَیْہِ ، وَمَکَثَ فِیہَا قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ: فَسَأَلْتُ بِلاَلاً حِینَ خَرَجَ مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-؟ فَقَالَ: جَعَلَ عَمُودًا عَنْ یَسَارِہِ ، وَعَمُودَیْنِ عَنْ یَمِینِہِ ، وَثَلاَثَۃَ أَعْمِدَۃٍ وَرَائَ ہُ ، وَکَانَ الْبَیْتُ یَوْمَئِذٍ عَلَی سِتَّۃِ أَعْمِدَۃٍ ثُمَّ صَلَّی۔

وَکَذَلِکَ قَالَہُ الْقَعْنَبِیُّ فِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک فی الموطا ۱۳۸۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کعبہ میں نماز پڑھنے کا بیان
(٣٧٨٢) یہ حدیث حضرت عبدالرحمن بن مہدی (رح) نے حضرت امام مالک (رح) سے روایت کی ہے اور فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو ستون اپنی دائیں جانب چھوڑے اور ایک بائیں جانب اور تین ستون آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پچھلی طرف تھے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور قبلہ کی دیوار کے درمیان تین ہاتھ کا فاصلہ تھا۔
(۳۷۸۲) وَرَوَاہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ مَالِکٍ وَقَالَ: تَرَکَ عَمُودَیْنِ عَنْ یَمِینِہِ ، وَعَمُودًا عَنْ یَسَارِہِ ، وَثَلاَثَۃَ أَعْمِدَۃٍ خَلْفَہُ ثُمَّ صَلَّی وَبَیْنَہُ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ ثَلاَثَۃُ أَذْرُعٍ۔

أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ مَالِکٍ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کعبہ میں نماز پڑھنے کا بیان
(٣٧٨٣) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قصوا نامی اونٹنی پر حضرت اسامہ (رض) کے پیچھے بیٹھے ہوئے تشریف لائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حضرت بلال اور عثمان ابن ابی طلحہ (رض) بھی تھے حتیٰ کہ سوار کو بیت اللہ کے پاس باندھ دیا گیا۔ پھر حضرت عثمان (رض) کو فرمایا : چابی لاؤ۔ انھوں نے چابی لا کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے دروازہ کھول دیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت اسامہ، بلال اور عثمان (رض) آپ کے ساتھ داخل ہوئے۔ پھر انھوں نے دروازہ بند کردیا اور دن کا بیشتر حصہ وہاں گزارا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے تو لوگ داخل ہونے کے لیے جلدی کرنے لگے، میں ان سب سے سبقت لے گیا وہاں میں نے حضرت بلال (رض) کو دروازے کے پیچھے کھڑے پایا تو میں نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہاں نماز پڑھی ہے ؟ انھوں نے فرمایا : اگلے دو ستونوں کے درمیان اور بیت اللہ کے ان دنوں چھ ستون تھے، دونوں حصوں میں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اگلے نصف حصہ میں جو ستون ہیں ان کے درمیان نماز ادا کی اور بیت اللہ کا دروازہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیٹھ کی طرف تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا رخ انور اس طرف کیا جس طرف بیت اللہ میں داخل ہونے والا جب داخل ہوتا ہے تو اس کے بالکل سامنے جو جگہ آتی ہے وہاں اپنے اور دیوار کے درمیان نماز ادا کی۔

سیدنا ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : میں حضرت بلال (رض) سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتنی نماز پڑھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس جگہ نماز پڑھی تھی وہاں پر سرخ سنگ مرمر لگا ہوا تھا۔
(۳۷۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ فِیمَا قَرَأْتُ عَلَیْہِ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا سُرَیْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا فُلَیْحٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَقْبَلَ النَّبِیُّ -ﷺ- عَامَ الْفَتْحِ وَہْوَ مُرْدِفٌ أُسَامَۃَ عَلَی الْقَصْوَائِ ، وَمَعَہَ بِلاَلٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَۃَ حَتَّی أَنَاخَ عِنْدَ الْبَیْتِ ، ثُمَّ قَالَ لِعُثْمَانَ : ائْتِنَا بِمِفْتَاحٍ ۔ فَجَائَ ہُ بِالْمِفْتَاحِ فَفَتَحَ لَہُ الْبَابَ ، فَدَخَلَ النَّبِیُّ -ﷺ- وَأُسَامَۃُ وَبِلاَلٌ وَعُثْمَانُ ، ثُمَّ أَغْلَقُوا عَلَیْہِمُ الْبَابَ ، فَمَکَثَ نَہَارًا طَوِیلاً ، ثُمَّ خَرَجَ وَابْتَدَرَ النَّاسُ الدُّخُولَ ، فَسَبَقْتُہُمْ فَوَجَدْتُ بِلاَلاً قَائِمًا وَرَائِ الْبَابِ فَقُلْتُ لَہُ: أَیْنَ صَلَّی النَّبِیُّ -ﷺ-؟ قَالَ: صَلَّی بَیْنَ الْعَمُودَیْنِ الْمُقَدَّمَیْنِ۔ وَکَانَ الْبَیْتُ عَلَی سِتَّۃِ أَعْمِدَۃٍ شَطْرَیْنِ ، صَلَّی بَیْنَ الْعَمُودَیْنِ مِنَ الشَّطْرِ الْمُقَدَّمِ ، وَجَعَلَ بَابَ الْبَیْتِ خَلْفَ ظَہْرِہِ ، فَاسْتَقْبَلَ بِوَجْہِہِ الَّذِی یَسْتَقْبِلُکَ حِینَ تَلِجُ الْبَیْتَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجِدَارِ۔ قَالَ: وَنَسِیتُ أَنْ أَسْأَلَہُ کَمْ صَلَّی ، وَعِنْدَ الْمَکَانِ الَّذِی صَلَّی فِیہِ مَرْمَرَۃٌ حَمْرَائُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ سُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۴۰۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کعبہ میں نماز پڑھنے کا بیان
(٣٧٨٤) حضرت موسیٰ بن عقبہ (رح) بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت نافع (رض) نے خبر دی کہ سیدنا ابن عمر (رض) جب بیت اللہ میں داخل ہوئے اور دروازہ اپنی پیٹھ کے پیچھے چھوڑ دیا۔ آپ چلتے گئے حتیٰ کہ ان میں اور سامنے والی دیوار میں تقریباً تین ہاتھ جگہ رہ گئی۔ سیدنا ابن عمر (رض) کو اس جگہ کی خواہش تھی جس کے بارے میں انھیں سیدنا بلال (رض) نے بتایا تھا کہ اس جگہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز ادا کی ہے۔ بیت اللہ کے اندر کوئی حرج نہیں ہے، آدمی جس کونے میں چاہے نماز ادا کرسکتا ہے۔
(۳۷۸۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ: أَحْمَدُ بْنُ عَبْدُوسٍ السِّجِسْتَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مِہْرَانَ حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ: إِسْمَاعِیلُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِیُّ حَدَّثَنَا الْفُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ النُّمَیْرِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ قَالَ أَخْبَرَنِی نَافِعٌ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا دَخَلَ الْکَعْبَۃَ مَشَی قِبَلَ وَجْہِہِ حِینَ یَدْخُلُ وَیَجْعَلُ الْبَابَ قِبَلَ ظَہْرِہِ ، فَیَمْشِی حَتَّی یَکُونَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجِدَارِ الَّذِی قِبَلَ وَجْہِہِ قَرِیبٌ مِنْ ثَلاَثَۃِ أَذْرُعٍ یُصَلِّی ، یَتَوَخَّی الْمَکَانَ الَّذِی أَخْبَرَہُ بِلاَلٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَلَّی فِیہِ ، وَلَیْسَ عَلَی أَحَدٍ بَأْسٌ أَنْ یُصَلِّی مِنْ أَیِّ نَوَاحِی الْبَیْتِ شَائَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَبِی ضَمْرَۃَ عَنْ مُوسَی۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۵۹۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کعبہ میں نماز پڑھنے کا بیان
(٣٧٨٥) حضرت سالم (رح) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ (رض) بیت اللہ میں داخل ہوئے اور انھوں نے دروازہ بند کردیا، جب انھوں نے دروازہ کھولا تو سب سے پہلے داخل ہونے والا میں تھا، میں حضرت بلال (رض) سے جا ملا میں نے ان سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی ہے ؟ انھوں نے بتایا : جی ہاں پڑھی ہے، دو یمنی ستونوں کے درمیان پڑھی ہے۔
(۳۷۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ: سَعِیدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ وَمُحَمَّدُ بْنُ نُعَیْمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ قَالُوا حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْبَیْتَ ہُوَ وَأُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ وَبِلاَلٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَۃَ ، فَأَغْلَقُوا عَلَیْہِمْ ، فَلَمَّا فَتَحُوا کُنْتُ فِی أَوَّلِ مَنْ وَلَجَ ، فَلَقِیتُ بِلاَلاً فَسَأَلْتُہُ ہَلْ صَلَّی فِیہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-؟ قَالَ: نَعَمْ صَلَّی بَیْنَ الْعَمُودَیْنِ الْیَمَانِیَیْنِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ جَمِیعًا عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۵۹۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کعبہ میں نماز پڑھنے کا بیان
(٣٧٨٦) حضرت سیف (رح) بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد (رح) سے سنا کہ سیدنا ابن عمر (رض) کے گھر کوئی شخص آیا تو اس سے کہا گیا : یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہوئے تھے ؟ فرماتے ہیں : میں جب آیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جا چکے تھے البتہ مجھے حضرت بلال (رض) دروازے کے پاس کھڑے مل گئے تو میں نے کہا کہ اے بلال ! کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے ؟ انھوں نے فرمایا : ہاں پڑھی ہے۔ میں نے پوچھا : کہاں پڑھی ہے ؟ انھوں نے بتایا کہ دو ستونوں کے درمیان دو رکعتیں پڑھی ہیں، پھر نکل کر دو رکعتیں بیت اللہ کے سامنے پڑھی ہیں۔

(ب) حضرت ابونعیم (رح) سے منقول ہے کہ آپ نے کعبہ میں دو رکعتیں ادا کی ہیں۔ حضرت ایوب سختیانی، عبیداللہ بن عمر، فلیح بن سلیمان، ابن عون (رض) کی روایتیں جو انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل کی ہیں تمام اس پر متفق ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) یہ پوچھنا بھول گئے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتنی رکعتیں نماز ادا کیں ؟ اس حدیث میں تعداد کی تعیین ہو رہی ہے کہ آپ نے دو رکعتیں ادا کی ہیں۔

(ج) یہ احتمال ہوسکتا ہے کہ انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کی کم سے کم مقدار بیان کی ہو اور دو رکعتوں سے زیادہ جو آپ نے ادا کی ہیں ان پر سکوت اختیار کیا ہو؛ کیونکہ انھوں نے حضرت بلال (رض) سے نہیں پوچھا تھا۔
(۳۷۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا سَیْفٌ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاہِدًا یَقُولُ: أُتِیَ ابْنُ عُمَرَ فِی مَنْزِلِہِ فَقِیلَ لَہُ: ہَذَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَدْ دَخَلَ الْکَعْبَۃَ۔ قَالَ: فَأَقْبَلْتُ فَأَجِدُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدْ خَرَجَ وَأَجِدُ بِلاَلاً عَلَی الْبَابِ قَائِمًا فَقُلْتُ: یَا بِلاَلُ ہَلْ صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی الْکَعْبَۃِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ۔ فَقُلْتُ: أَیْنَ؟ قَالَ: بَیْنَ الأُسْطُوَانَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ فِی وَجْہِ الْکَعْبَۃِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ عَنْ یَحْیَی عَنْ سَیْفِ بْنِ سُلَیْمَانَ۔

وَیُقَالَ قَدْ رَوَاہُ أَیْضًا عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَفِیہِ: أَنَّہُ صَلَّی فِی الْکَعْبَۃِ رَکْعَتَیْنِ۔

وَقَدِ اتَّفَقَتْ رِوَایَۃُ أَیُّوبَ السَّخْتِیَانِیِّ وَعُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ وَفُلَیْحِ بْنِ سُلَیْمَانَ وَابْنِ عَوْنٍ وَغَیْرِہِمْ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّہُ نَسِیَ أَنْ یَسْأَلَہُ کَمْ صَلَّی؟ وَفِی ہَذَا الْحَدِیثِ: أَنَّہُ صَلَّی فِیہَا رَکْعَتَیْنِ۔

فَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ أَخْبَرَ عَنْ أَقَلِّ مَا یَکُونُ صَلاَّہُ ، وَسَکَتَ عَمَّا زَادَ عَلَیْہِمَا لأَنَّہُ لَمْ یَسْأَلْ بِلاَلاً۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۱۷۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کعبہ میں نماز پڑھنے کا بیان
(٣٧٨٧) حضرت عبدالرحمن بن صفوان (رح) بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے پوچھا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ نے کیا کیا تھا ؟ انھوں نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعتیں ادا کی تھیں۔
(۳۷۸۷) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ قَالَ قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: کَیْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ دَخَلَ الْکَعْبَۃَ؟ قَالَ: صَلَّی رَکْعَتَیْنِ۔

[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ احمد ۳/ ۴۳۰/ ۱۵۶۳۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کعبہ میں نماز پڑھنے کا بیان
(٣٧٨٨) حضرت سماک حنفی (رح) بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کعبۃ اللہ میں نماز ادا کی، عنقریب ایک آدمی آئے گا اور تمہیں اس سے روکے گا تم نے اس کی بات نہیں ماننی، ان کی مراد سیدنا ابن عباس (رض) تھے۔
(۳۷۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سِمَاکٍ الْحَنَفِیِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ یَقُولُ: صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی الْکَعْبَۃِ ، وَسَیَأْتِی مَنْ یَنْہَاکَ عَنْ ذَلِکَ فَلاَ تُطِعْہُ یَعْنِی ابْنَ عَبَّاسٍ۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابن الجعد ۱۵۰۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کعبہ میں نماز پڑھنے کا بیان
(٣٧٨٩) (ا) سیدنا ابن جریج (رح) بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء (رح) سے کہا : کیا تم نے سیدنا ابن عباس (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” تمہیں صرف خانہ کعبہ کا طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے نہ کہ اس کے اندر داخل ہونے کا ؟ تو انھوں نے بتایا کہ وہ داخل ہونے سے تو نہیں روکتے تھے لیکن میں نے انھیں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے حضرت اسامہ بن زید (رض) نے خبر دی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس کے چاروں کونوں میں دعا کی اور اس کے اندر نماز نہیں پڑھی اور نکل گئے، پھر باہر جا کر بیت اللہ کے سامنے دو رکعتیں ادا کیں اور فرمایا : یہ ہے قبلہ میں نے کہا : اس کی جوانب کونسی ہیں کیا اس کے کنارے مراد ہیں ؟ انھوں نے بتایا : بیت اللہ کی ہر سمت قبلہ ہے۔

(ب) امام شافعی (رح) بیان کرتے ہیں : جو کہتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی وہ خود اس کا گواہ ہے اور جو کہتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں پڑھی اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پڑھتے نہیں دیکھا اور ہم حضرت بلال (رض) کا قول لیں گے اور وہی ہمارے نزدیک حجت ہے۔

(ج) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : اسی طرح کی روایت حضرت عمر بن خطاب (رض) کے واسطے سے بھی ہمیں پہنچی ہے۔

(د) اور یہ حضرت شیبہ بن عثمان بن طلحہ اور عثمان بن طلحہ حجبی (رض) سے بھی منقول ہے۔
(۳۷۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ

(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَہْلِ بْنِ بَحْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِیٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَائٍ : أَسَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِہِ؟ فَقَالَ: لَمْ یَکُنْ یَنْہَی عَنْ دُخُولِہِ وَلَکِنِّی سَمِعْتُہُ یَقُولُ: أَخْبَرَنِی أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- لَمَّا دَخَلَ الْبَیْتَ دَعَا فِی نَوَاحِیہِ کُلِّہَا وَلَمْ یُصَلِّ فِیہِ حَتَّی خَرَجَ ، فَلَمَّا خَرَجَ رَکَعَ فِی قِبَلِ الْبَیْتِ رَکْعَتَیْنِ وَقَالَ : ہَذِہِ الْقِبْلَۃُ ۔ قُلْتُ: مَا نَوَاحِیہَا أَفِی زَوَایَاہَا؟ قَالَ: فِی کُلِّ قِبْلَۃٍ مِنَ الْبَیْتِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ کَمَا تَقَدَّمَ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: مَنْ قَالَ صَلَّی شَاہِدٌ ، وَمَنْ قَالَ لَمْ یُصَلِّ لَیْسَ بِشَاہِدٍ ، فَأَخَذْنَا بِقَوْلِ بِلاَلٍ ، وَکَانَتْ ہَذِہِ الْحُجَّۃُ الثَّابِتَۃُ عِنْدَنَا۔

قَالَ الشَّیْخُ: وَقَدْ رُوِّینَا أَیْضًا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔

وَرُوِیَ ذَلِکَ عَنْ شَیْبَۃَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَۃَ الْحَجَبِیِّ۔ وَرُوِیَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَۃَ الْحَجَبِیِّ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۹۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کعبہ میں نماز پڑھنے کا بیان
(٣٧٩٠) حضرت عثمان بن طلحہ (رض) سے منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کعبہ میں نماز پڑھی۔
(۳۷۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَلَّی فِی الْکَعْبَۃِ۔ تَفَرَّدَ بِہِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ وَفِیہِ إِرْسَالٌ بَیْنَ عُرْوَۃَ وَعُثْمَانَ۔ [ضعیف۔ للانقطاع بین عروۃ وعثمان]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کعبہ میں نماز پڑھنے کا بیان
(٣٧٩١) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ میں داخل ہوئے پھر باہر نکل آئے اور حضرت بلال (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ میں نے حضرت بلال (رض) سے پوچھا : کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی ہے ؟ انھوں نے فرمایا : نہیں۔ پھر جب اگلے دن داخل ہوئے تو میں نے حضرت بلال (رض) سے پوچھا : کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی ہے ؟ انھوں نے فرمایا : جی ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعتیں پڑھی ہیں، آپ ایک جانب کی جانب متوجہ ہوئے اور دوسرے ستون کو اپنی دائیں طرف رکھا۔
(۳۷۹۱) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ جَعْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: دَخَلَ النَّبِیُّ -ﷺ- الْبَیْتَ ، ثُمَّ خَرَجَ وَبِلاَلٌ خَلْفَہُ ، فَقُلْتُ لِبِلاَلٍ: ہَلْ صَلَّی؟ قَالَ: لاَ۔ قَالَ فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ دَخَلَ فَسَأَلْتُ بِلاَلاَ ہَلْ صَلَّی؟ قَالَ: نَعَمْ صَلَّی رَکْعَتَیْنِ اسْتَقْبَلَ الْجَذَعَۃَ وَجَعَلَ السَّارِیَۃَ الثَّانِیَۃَ عَنْ یَمِینِہِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الدار قطنی فی سننہ ۲/ ۵۲/۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کعبہ میں نماز پڑھنے کا بیان
(٣٧٩٢) (ا) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ میں داخل ہوئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو ستونوں کے درمیان دو رکعت نماز ادا کی، پھر نکل گئے۔ پھر دروازے اور حجراسود کے درمیان دو رکعتیں ادا کیں اور فرمایا : یہی قبلہ ہے۔ پھر دوسری مرتبہ داخل ہوئے تو کھڑے ہو کر دعا کرتے رہے، پھر نکل گئے اور نماز نہیں پڑھی۔

(ب) یہ دونوں روایتیں اگر صحیح ثابت ہوجائیں تو ان میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیت اللہ میں دو بار داخل ہونے کی دلیل ہے۔ ایک مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی ہو اور ایک مرتبہ نہ پڑھی ہو۔ مگر یہ ان دونوں حدیثوں کو ثابت کرنا بھی محل نظر ہے اور جو روایت سیدنا بلال (رض) سے منقول ہے یہ ثابت ہے اور سیدنا اسامہ (رض) کی روایت سے زیادہ بہتر ہے اور حضرت اسامہ (رض) سے منقول روایت اس کی نفی کرتی ہے۔
(۳۷۹۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ أَبِی حَرْبٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ عَنْ عَبْدِ الْغَفَّارِ بْنِ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنِی حَبِیبُ بْنُ أَبِی ثَابِتٍ قَالَ حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْبَیْتَ ، فَصَلَّی بَیْنَ السَّارِیَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی بَیْنَ الْبَابِ وَالْحِجْرِ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ قَالَ : ہَذِہِ الْقِبْلَۃُ ۔ ثُمَّ دَخَلَ مَرَّۃً أُخْرَی فَقَامَ فِیہِ یَدْعُو ثُمَّ خَرَجَ وَلَمْ یُصَلِّ۔

وَہَاتَانِ الرِّوَایَتَانِ إِنْ صَحَّتَا فَفِیہِمَا دِلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّہُ -ﷺ- دَخَلَہُ مَرَّتَیْنِ ، فَصَلَّی مَرَّۃً وَتَرَکَ مَرَّۃً ، إِلاَّ أَنَّ فِی ثُبُوتِ الْحَدِیثَیْنِ نَظَرًا ، وَمَا ثَبَتَ عَنْ بِلاَلٍ وَہُوَ مُثْبَتٌ أَوْلَی مِمَّا ثَبَتَ عَنْ أُسَامَۃَ وَہُوَ نَافِی وَمَعَ بِلاَلٍ غَیْرُہُ۔ [ضعیف جدا۔ اخرجہ الدار قطنی فی سننہ ۲/ ۵۲/۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کعبہ میں نماز پڑھنے کا بیان
(٣٧٩٣) سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔ پہلے نبی کسی ایک قوم کی طرف خاص طور پر بھیجے جاتے تھے اور مجھے سرخ و سیاہ سب لوگوں کی طرف بھیجا گیا، میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئی ہیں جب کہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں کی گئی تھیں۔ میرے لیے زمین کو نماز کے لیے پاک جگہ اور پاک کرنے والی بنادیا گیا، میری امت کے کسی بھی شخص کو جہاں بھی نماز کا وقت ہوجائے وہیں نماز پڑھ لے اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی کہ ایک ماہ کی مسافت سے دشمنوں پر میرا رعب پڑتا ہے اور مجھے شفاعت کاملہ دی گئی۔
(۳۷۹۳) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: الْعَلاَئُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْمِہْرَجَانِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ: بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ الذُّہْلِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ سَیَّارٍ عَنْ یَزِیدَ الْفَقِیرَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أُعْطِیتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ أَحَدٌ قَبْلِی: کَانَ کُلُّ نَبِیٍّ یُبْعَثُ إِلَی قَوْمِہِ خَاصَّۃً ، وَبُعِثْتُ إِلَی کُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ ، وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِی ، وَجُعِلَتْ لِیَ الأَرْضُ طَیِّبَۃً وَطَہُورًا وَمَسْجِدًا ، وَأَیُّمَا رَجُلٍ أَدْرَکَتْہُ الصَّلاَۃُ صَلَّی حَیْثُ کَانَ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ بَیْنَ یَدَیَّ مَسِیرَۃَ شَہْرٍ ، وَأُعْطِیتُ الشَّفَاعَۃَ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَغَیْرِہِ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ وَغَیْرِہِ عَنْ ہُشَیْمٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۳۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بیت اللہ کی چھت پر نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان
(٣٧٩٤) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سات مقامات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے : کوڑا کرکٹ (ڈالنے) کی جگہ، ذبح خانہ، قبرستان، شارع عام، حمام، اونٹ باندھنے کی جگہ اور بیت اللہ کی چھت پر۔
(۳۷۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنْ زَیْدِ بْنِ جُبَیْرَۃَ الأَنْصَارِیِّ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَیْنِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ: نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ الصَّلاَۃِ فِی سَبْعَۃِ مَوَاطِنَ: الْمَقْبُرَۃِ وَالْمَجْزَرَۃِ ، وَالْمَزْبَلَۃِ وَالْحَمَّامِ ، وَمَحَجَّۃِ الطَّرِیقِ ، وَظَہْرِ بَیْتِ اللَّہِ تَعَالَی ، وَمَعَاطِنِ الإِبِلِ۔ [باطل۔ اخرجہ الطبرانی فی الاوس ۲۶۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بیت اللہ کی چھت پر نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان
(٣٧٩٥) (ا) ایک دوسری سند سے اسی کی مثل روایت منقول ہے۔

(ب) حضرت ابوداود (رح) کی حدیث اس کے زیادہ مشابہ ہے۔ واللہ اعلم

یہ حضرت ابوعیسیٰ (رح) کا قول ہے۔

(ج) سیدنا ابن عباس اور اسامہ بن زید (رض) سے ہمیں حدیث بیان کی گئی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ کی طرف (منہ کر کے) دو رکعت ادا کی اور فرمایا : یہ ہے قبلہ۔
(۳۷۹۵) وَحَدَّثَنَا أَبُومُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الْہِلاَلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ۔ تَفَرَّدَ بِہِ زَیْدُ بْنُ جُبَیْرَۃَ۔

وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ الْمِہْرَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَامِدٍ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الرَّاوَسَانِیُّ قَالَ سَمِعْتُ الْبُخَارِیُّ یَقُولُ: زَیْدُ بْنُ جُبَیْرَۃَ أَبُو جُبَیْرَۃَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَیْنِ مُنْکَرُ الْحَدِیثِ۔

وَرُوِیَ ہَذَا الْحَدِیثُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ الْعُمَرِیِّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔

وَحَدِیثُ دَاوُدَ أَشْبَہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ قَالَہُ أَبُو عِیسَی ، وَقَدْ رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- صَلَّی فِی قِبَلِ الْبَیْتِ رَکْعَتَیْنِ وَقَالَ : ہَذِہِ الْقِبْلَۃُ۔ [باطل۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক: